اردو انسیسٹ سیکس کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/اردو-انسیسٹ-سیکس-کہانی/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Sun, 26 Apr 2026 03:43:18 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png اردو انسیسٹ سیکس کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/اردو-انسیسٹ-سیکس-کہانی/ 32 32 راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/feed/ 0
بیتے لمحے قسط 16 17 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16-17/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16-17/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16-17/   میں فارغ ہوتے ہی امی پہ گرتا گیا اور ان کا جسم بھی ڈھیلا پڑتا گیا مجھے لن کے ارد گرد ان کی پھدی کی چکناہٹ واضح محسوس ہو رہی تھی میں نے امی کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہاں ایک شرمیلی سی آسودگی رقص کر رہی تھی اور ان کی بند آنکھیں […]

The post بیتے لمحے قسط 16 17 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں فارغ ہوتے ہی امی پہ گرتا گیا اور ان کا جسم بھی ڈھیلا پڑتا گیا مجھے لن کے ارد گرد ان کی پھدی کی چکناہٹ واضح محسوس ہو رہی تھی میں نے امی کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہاں ایک شرمیلی سی آسودگی رقص کر رہی تھی اور ان کی بند آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں ۔ میں نے چھوٹی بہن کی طرفدیکھا تو وہ سو رہی تھی میں ابھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ امی بولیں بڑی جلدی خیال آیا ہے کہ کوئی اور بھی اس کمرےمیں ہے اگر وہ دیکھ لیتی تو ۔ان کی آنکھیں بند ہی تھیں اور سانس نارمل انداز سے چل رہی تھی میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو بھی نہیں یاد رہا نا اور اگر دیکھ بھی لیتی تو یہی سمجھتی کہ میں آپ سے پیار کر رہا ہوں اور اس میں کوئی جھوٹ تو نہیں ہے ۔ امی نے شرمیلی مسکان سے کہا بدتمیز بس باتیں ہی بناتے ہو چلو اب نیچے اترو میں نہا لوں تمہارے ابا بھی آتے ہوں گے میرا لن ابھی ان کی پھدی میں تھا اور آہستہ سے سکڑ رہا تھا۔ میں نے ان کے چہرے کو ہاتھ میں تھام کر کہا کیا اب بھی آپ یہی کہو گی کہ مجھے کچھ نہیں آتا؟ امی نے میری طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے بولیں بدتمیز کنجر زیادہ باتیں نا کرو اور نیچے اترو اب گدھے کہیں کے۔ میں بھی ہنس پڑا اور ہاتھ آگے بڑھا کر ان کے ایک ممے کو ہاتھ میں پکڑ کر ہلکا سا دبا دیا اور ان کے اوپر سے نیچے اترنے کے لیے لن کو ان کی پھدی سےباہر کھینچا جیسے ہی میرا لن ان کی ہھدی سے باہر نکلا انہوں نے تیزی سے ایک ہاتھ نیچے کر کہ اپنی پھدی پہ رکھا اور جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئیں میں نے ان کی طرف دیکھا تو بولیں اب جلدی سے نہا لو اور دیکھو کوئی نشان تو نہیں اور خود بھی مڑ کہ بیڈ کی طرف دیکھنے لگ گئیں ۔ان کے ننگے وجود کو دیکھتے میرا پھر موڈ بن رہا تھا جیسے ہی میں نے ان کی طرف اس نظر سے دیکھا وہ ایک دم میرھ طرف مڑتے ہوئے بولیں بدتمیز چلو بس اب اور کچھ بھی نہیں کرنا اور باتھ کی طرف دوڑنے کے انداز میں گھس گئیں میں بھی ان کے پیچھے پیچھے باتھ کی طرف بڑا تو انہوں نے مجھے دیکھ کر ہنستے ہوئے باتھ کا دروازہ بند کرنے کی کوشش کی مگر میں نے آرام سے وہ کوشش ناکام بنا دی اور دروازہ کھول کر اندر جانے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ دروازے کے پیچھے کھڑی ہو کہ ہنستے ہوئے دروازہ بند کرنے کی کوشش کرنے لگیں اور بولین بھ شرم سب کچھ تو کر چکے ہو اب مجھے نہانے دو مجھے تنگ کرو گے تو اگلی باد کچھ نہیں دوں گی۔ میں نے دروازہ اندر کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا امی تنگ کون حرامی کر رہا ہے میں تو سب کچھ کھولنے کے چکر میں ہوں ۔ اندر سے امی نے ہنستے ہوئے کہا اففف کتنا بدتمیز بیٹا ہے کاش اس رات میں چوپا لگا لیتی یا گانڈ ہی مروا لیتی تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔ میں نے دروازے کو زور لگاتے ہوئے کہا افسوس کیوں کر رہی ہیں یہ دونوں کام آپ اب بھی کر سکتی ہو اور میں پوری مدد کروں گاامی دروازے کو دھکیل کر بند کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور میں دروازے کو اندر دھکیل کر کھول رہا تھا دروازے کو دھکا دیتے دیتے میں نے کہا امی کھول دو نا اب اندر آنے دو میری مراد دروازہ کھولنے سے تھی امی نے جواب دیا کھول بھی دی ہے اور ایک بار اندر بھی لے لیا ہے اب اور نہیں کرنے دوں گی اور بات ختم کر کے ہنسنے لگ گئی اور دروازے کو بند کرنے کے لیے اسی طرح دھکا لگانا جاری رکھا ۔ میں نے دروازے کو دھکیلتے ہوئے کہا امی جتنی دیر ادھر لگا رہی ہیں اتنی دیر میں پھر کام ہو بھی گیا ہوتا دروازہ کھول دیں نا پلیز میں نے باہر سے پھر آواز دی ۔ انہوں نے کہا بدتمیز اب بس بھی کر دو ایک بار بہت ہے پھر جب موقع ملے گا تو دیکھیں گے ۔ میں نے پھر منت بھرے لہجے میں کہا امی پلیزصرف دیکھنے دیں میں اور کچھ بھی نہیں کروں گا انہوں نے کہا مجھے پتہ ہے سب کچھ تم نہیں رہ سکو گے اور پھر انہوں نے دروازہ کھول دیا میں تیزی سے اندر داخل ہوا کہ ان کا ارادہ نا بدل جائے انہوں نے جب مجھے دوڑ کہ باتھ میں گھستے دیکھا تو منہ پہ ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگ گئیں اور بولیں علی بہت احتیاط کرنا کسی کو شک ہو گیا تو ہم جیتے جی مر جائیں گے اپنی کسی بھی حرکت سے ہماری یہ بے تکلفی کبھی ظاہر نا ہونے دینا میں نے ان کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں پریشانی کے آثار تھے اور کیوں نہ ہوتے کہ یہ کوئی عام بات تو نا تھی کہ مان اور بیٹے کا یوں تعلق بن جائے میں ان کے قریب ہوا اور ان کے ننگے جسم سے لپٹ گیا اور ان کے بھاری بھرکم متناسب بدن کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں بھر لیا اور ان کے گال چومتے ہوئے کہا امی جیسا آپ کہو گی ویسا ہی ہو گا آپ بالکل بے فکر ہو جائیں کبھی کسی کو کچھ بھی پتہ نہیں چلے گا اور نا میری حرکت سے ایسا کچھ ظاہر ہو گا وہ میرے بازوں میں کسمساتے ہوئے بولیں میرا بچہ میرے لرل مجھے تم سے امید بھی یہی ہے کہ ماں کی لاج رکھو گے اور یہ راز راز ہی رہے گا جیسے میں نے تمہارا اور کلثوم کا رکھا تھا ۔میں نے امی کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی میں نے منہ اوپر کرتے ہوئے ان کے ہونٹ چوسنے چاہے تو انہوں نے اپنا چہرہ نیچے کرتے ہوئے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں میں پیوست کر دیے اور میرا نچلا ہونٹ اپنے سرخ میٹھے موٹے ہونٹوں میں بھر بھر کہ چوسنے لگیں میں نے بھی ان کے اوپری ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور اسے آب حیات سمجھ کر چوسنے لگ گیا اور ہونٹ چوستے چوستے میں ان کے گورے ننگے بدن کو سہلاتا گیا میں اپنے ہاتھ ان کے کندھوں کے نیچے تک لاتا اور پوری کمر پہ پھیرتے ہوئے ان کی گانڈ کی پہاڑیوں تک لے جاتا اور گانڈ کی پہاڑیوں کو ہاتھ میں دبا کر دبوچتا ان پہ ہلکا سا تھپڑ مارتا اور پھر دونوں ہاتھ اوپر لے آتا انہوں نے بھی اپنے بازو میرے گرد حائل کیے ہوئے تھے اور مجھے بے تحاشہ چومے جا رہی تھیں ان کی آنکھیں بند تھیں اور چہرے پہ ہلکا ہلکا پسینہ آیا ہوا تھا اور ان کے ممے تیز سانس لینے کی وجہ سےمجھے اپنی چھاتی پہ پھولتے محسوس ہو رہے تھے یہ وہ لزت کی ابتدا تھی کہ جس کی کوئی انتہا نہ تھی یہ وہ سرور تھا جس کے آگے تمام نشے ہار مان چکے تھے میں دیوانوں کی طرح ان کے ہونٹ چوستا جا رہا تھا اور وہ میرا ساتھ دئیے جا رہی تھیں کافی دیر ہونٹ چوسنے کے بعد میں نے ان کے ہونٹوں سے ہونٹ الگ کئیے اور ان کے مموں پہ ٹوٹ پڑا میں نے ان کا ایک مما منہ میں بھرنے کی ناکام کوشش کے بعد جتنا بھی منک میں آیاتھا اسے چوسنے لگ گیا اور دوسرے ممے کو ہاتھ میں لیکر مسلنے لگ گیا۔ امی کے ممے کلثوم آنٹی کی نسبت ٹھوس اور اچھی حالت میں تھے شائد ایک ہاتھ میں رہنے والی عورت کے جسم پہ کبھی خزاں نہیں آتی اس میں ایک کشش ہمیشہ رہتی ہے امی کی سسکیاں تیز ہوتی گئیں اور وہ مجھے اپنے ممے چوستے ہوئے بھاری پلکوں سے دیکھ رہی تھیں ان کی آنکھوں میں ایک خماری ایک مستی سی چھائی ہوئی تھی اور وہ میرا سر سہلاتی جا رہی تھیں اور تیز تیز سسکیاں بھر رہی تھیں اور میں ہوش ہ ہواس سے بےگانہ ہو کر ان کے ممے چوستا جا رہا تھا۔ اففف اب بس بھی کرو میرے دیوانے امی نے سسکتے ہوئے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنے آپ سے جوڑنے کی کوشش کی میں سمجھ گیا کہ اب وہ گرم ہو چکی ہیں میں نے ممے کی نپل کو دانت سے ہلکا سا کاٹا اور پھر دونوں ہونٹوں کے درمیاں ہلکا سا دبا کہ اپنے ہاتھ ان کے گانڈ کے گرد رکھتے ہوئے کہا امی جی ۔۔ اور گانڈ کو ہلکا سا دبا دیا ۔ امی نے ہلکی سی سسکی بھری اور بولیں بیٹا یہ بہت سکون کا کام ہے یہ گھر جا کہ دوں گی ابھی پلیز یہ گانڈ نہیں دے سکتی ۔ میں ان کی بات سے حیران رہ گیا کہ وہ میرے کہے بغیر ہی میری بات سمجھ گئی ہیں ۔ میں نے امی کو بانہوں میں بھرتے ہوئے کہا جیسے میری امی کہیں گی ویسا ہی ہو گا اور میں نے اوپر ہوتے ہوئے ان کے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے اور انہوں نے بھی میرے ہونٹوں کو اپنے نرم ہونٹوں میں دبا لیا میں نے ان کے ہونٹ چوستے ہوئے پھر ان کی کمر کو سہلانا شروع کیا تو ان کی سانسیں تیز ہوتی گئیں تھوڑی سی مزید لپس کسنگ کے بعد وہ اپنا منہ مجھ سے چھڑاتے ہوئے بولیں چھوٹی جاگ جائے گی اب بس بھی کر دو میرے دیوانے اور ان کے چہرے پہ عجیب سی مسکان تھی میں نے ان کی طرف دیکھا اور پھر اپنے اکڑے ہوئے لن کی جانب دیکھا اور ان کی طرف دیکھا تو وہ بھی میرے اکڑے ہوئے لن کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں ۔ میں نے کہا وہ ابھی سوئی ہوئی ہے آپ بھی دیکھ لیں امی نے اپنا نچلا ہونٹ ایک سائیڈ سے دانتوں کے نیچے دبایا اور دونوں بازو گردن کے پیچھے کر کہ بالوں کو سیٹ کرنے لگیں ان کے اس انداز سے ان کے ممے ابھر کر اور سامنے آ گئے میں نے جلدی سے آگے ہوتے ہوئے ان کا مما منہ میں بھر لیا ان کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکلی لیکن ان کے چہرے پہ غصے کے بجائے مسکراہٹ تھی میں ان کا مما چوسنے لگا تو وہ بولیں ٹھہرو زرا اب مجھے چھوٹی کو دیکھنے دو اور اپنا مما میرے منہ سے نکالتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئیں اور دروازے کو ہلکا سا کھول کر باہر جھانکنے لگیں انہوں نے صرف چہرہ ہی دروازے کی جھری سے باہر نکالا اور باقی وجود دروازے کے پیچھے چھپاتے ہوئے باہر دیکھنے لگیں ان کے اس طرح دیکھنے سے وہ تھوڑی سی جھک گئیں اور میری نظر ان کے بھاری سڈول چوتڑوں پہ پڑی جو ان کی متناسب کمر سے نیچے پھولے ہوئے تھے اور اپنی حشر سامانیاں سامنے رکھے دعوت نظارہ دے رہے تھے میں امی کے قریب ہوا اور ان کے پیچھے سے ساتھ چپکتے ہوئے لن کو ان کی گانڈ میں پھنسا کر بازو ان کے بغلوں کے نیچے سے گزارتے ہوئے ان کے ممے ہاتھ میں پکڑ کر کھڑا ہو گیا امی کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور وہ دروازے سے پیچھے ہوتے ہوئے بولیں اففف میرے عاشق اب بس بھی کر دے لیکن یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے بھاری چوتڑ میرے لن پہ اس طرح دبائے کہ لن ان کی گانڈ کی گہرائی میں لگتا ہوا نیچے پھدی کے ہونٹوں کی طرف بڑھا اور پھدی کے ہونٹوں سے ٹکرتا ہوا ان کی رانوں میں دب گیا لن کی اس حرکت سے ان کے ساتھ ساتھ میرے منہ سے بھی سسکی نکل گئی اور میں نے جزبات میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا امی جی ایک بار پھر پلیز ۔۔ انہوں نے کچھ جواب دئیے بغیر آگے سے نیچے جھکنا شروع کر دیا اور بھاری وجود میرے بازوں سے چھڑواتے ہوئے اپنے گھٹنے زمیں پہ ٹیک کر اپنی گانڈ ہوا میں اٹھا دی اففففف کیا غضب کا نظارہ تھا گوری موٹی پھولی ہوئی گانڈ کے دو الگ الگ حصے اور درمیاں میں گہرا براون گول شکل کا سوراخ اور نیچے پھدی کے موٹے موٹے گہری گلابی ہونٹ اور اس پہ ہلکی ہلکی نمی ۔ میرے لن نے یہ منظر دیکھ کر ایک زوردار جھٹکا لیا اور مجھے لعن طعن کرنے لگا کہ اتنا حسین نظارہ سامنے ہے اور تم پھدو کھڑے دیکھ رہے ہو جلدی سے مجھے اپنی جائے پیدائش میں گھساو میں نے بھی لن کی فریاد پہ آگے ہوتے ہوئے اسے پھدی کے دہانہ پہ رکھ کر ہلکا سا دھکیلا تو وہ دیوانہ وار پھدی کی نرمی اور گرمی میں اترتا چلا گیا اور پورا اندر جا کہ مجھے بھی ساتھ اندر گھسنے کی ترغیب دینے لگا ادھر امی نے بھی جب لن کو پورا اپنے اندر محسوس کیا تو مڑ کر ایک قربان ہونے والے نظر سے میری طرف دیکھا اور مسکرا دیں اور آنکھ سے اشارہ کیا جیسے پوچھ رہی ہوں کیسا لگا؟؟ میں نے ان پہ صدقے واری ہوتے ہوئے لن کو باہر کھینچا اور پھر ایک زوردار جھٹکے سے پھدی میں اتار دیا میرا لن اندر جانے سے پچک اور میرا جسم ان کی گانڈ سے ٹکرانے سے تھپ کی آواز آئی اور ساتھ امی کی منہ سے اوئی کی آواز نکلی مجھے تو یہ آوازیں سن کر جیسے کچھ نشہ ہو گیا میں نے لن کو باہر کھینچا اور پھر اندر کیا تو پھر وہی پچک تھپ کی آواز گونجی اور ساتھ امی کی رسیلی آواز میں اوئی ۔۔ میں نے تو سب کچھ فراموش کرتے ہوئے امی میں دھکوں کی مشین چلا دی اور باتھ پچک تھپ اوئی پچک تھپ اوئی کی آوازوں سے گونجنے لگا میں سرور کی اس منزل پہ تھا جہاں سارے لطف ختم ہو جاتے ہیں وہ ایک انوکھا مزہ تھا میری امی گھٹنوں کے بل فرش پہ تھیں اور انہوں نے ہاتھ فرش پہ ٹیکے ہوئے تھے اور میں گھٹنوں کے بل ان کی کمر پکڑے ان کی پھدی میں لن اندر باہر کر رہا تھا ان کے گانڈ کی موری کھل اور بند ہو رہی تھی اور میرے جھٹکا لگانے سے ان کی موٹی گانڈ کی پھاڑیاں لرز اٹھتیں امی کی سسکیاں بھی جاری تھیں اور ہر جھٹکے پہ ان کے منہ سے اوئی اوئی نکل جاتا میں بھی لن کو لگاتار ان کی پھدی میں گھسائے جا رہا تھا لیکن کب تک۔۔ آخر کار مجھے اپنا سارا خون ٹانگوں کے درمیان سفر کرتا محسوس ہوا اور اس سے پہلے ہی امی کے منہ سے ہلکی سی غراہٹ نکلی اور ان کی گانڈ اچھل کر میرے ساتھ لگی اور ان کی پھدی نے میرے لن کو اپنی اندرونی دیواروں سے بھینچنا شروع کر دیا اور ان کے منہ سے مسلسل غراہٹیں نکلتی گئیں میرا لن بھی ان کی پھدی کے دباو سے ہار مان بیٹھا اور اس نے بھی امی کی پھدی کے اندر پچکاریاں مارنی شروع کی اور میں ان کی پھدی کے اند ر فارغ ہوتا گیا ہوتا گیا ہوتا گیابیتے لمحے

قسط 17

.امی نے میرے فارغ ہوتے ہی مڑ کر میری طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولیں اففف بدتمیز زرا بھی لحاظ اور شرم نہیں کی کہ تمہاری ماں ہو مجھے تو ایسے چود رہے تھے کہ جیسے تمہاری ہی بیوی ہوں ان کی آنکھوں سے چھلک رہا تھا کہ وہ بہت مزے میں ہیں میرا نیم اکڑا لن ان کی پھدی کے اندر موجود تھا جس کے گرد اب چپچپاہٹ ہو چکی تھی میں نے ان کی کمر کو پکڑتے ہوئے لن کو پھر ان کی پھدی میں ہلایا اور ہلکا سا دھکا مارا اور کہا آپ پہ ہزار بیویاں قربان مجھے آپ کی چاہت ہے مجھے اور کوئی نہیں چاہیے ہے ۔ امی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اوئے اب بس اب نا ہلانا یہ پھر کھڑا ہو جائے گا اور آگے ہو کر لن کو پھدی سے نکال دیا لن پھدی سے باہر نکلتے ہی مجھے امی کی پھدی کا کھلا سوراخ نظر آیا جس سے ہلکا ہلکا سفید پانی رس رہا تھا اور میرا لن بھی اسی پانی سے لتھڑا ہوا تھا امی نے لن کو باہر نکالا اور اوپر اٹھ گئیں میں نے بھی ان کی گانڈ پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور اٹھ کھڑا ہوا امی اٹھ کر میری طرف مڑیں اور بے ساختہ مجھے گلے سے لگا کر میرے گال پہ ایک پیار دیا اور پھت مجھ سے الگ ہوتے ہوئے بولیں چلو اب دیر ہو گئی ہے جلدی سے نہا لو باقی لوگ آ جائیں گے اور جلدی سے اپنے آپ کو صاف کرنے لگیں میں نے بھی شاور چلا دیا اور پھر خود کو صاف کرنے لگا ساتھ ان کے ہلکی چھیڑ چھاڑ بھی کرتا رہا نئا دھو کر ہم باہر نکلے اور کمرے میں آ گئے اور امی تولیہ سے بال خشک کرنے لگیں اور میں فرش پہ بچھے گدے پہ لیٹ گیا اور لیٹتے ہج میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا۔ جب میری آنکھ کھلی تو شام کا اندھیرا چھا چکا تھا اور باقی لوگ بھی آ چکے تھے میں اٹھ کر فریش ہوا اور سب سے گپ لگانے لگ گیا اور گپ لگاتے میں نے ایک دو بار امی کی طرف دیکھا لیکن وہ بالکل نارمل تھیں اور میں بھی نارمل انداز میں بیٹھا باتیں کرتا رہا اسی طرح ہمارا مری کا ٹرپ بہت شاندار رہا اور ہم گھوم پھر کر اپنےشہر واپس آ گئے اور پھر وہی روٹین شروع ہو گئی ۔ میں اور امی جب گھر اکیلے ہوتے تو ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ میں ان سے کر بھی لیتا لیکن کھل کر کچھ کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا اسی کشمکش میں مہینے سے اوپر ہو گیا کہ مجھے امی سے کھل کر کچھ کرنے کا موقع نا ملا ہونٹ چوس لینا ممے دبا لینا یا ان کے جسم کو چھو لینا اب یہ عام سی بات تھی جو ہم ہر روز موقع دیکھ کر کر لیا کرتے تھے لیکن کھل کر سیکس کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ پھر ایک دن ابو جب شام کو دفتر سے گھر واپس آئےتو انہوں نے بتایا کہ وہ دفتری کام کے سلسلہ میں کل کراچی جا رہے ہیں اور تین دن وہاں رہنا ہو گا تو یہ بات سنتے ہی میرے من میں لڈو پھوٹنے لگے لیکن میں اوپر سے معصوم بنا چپ چاپ ان کی باتیں سنتا رہا کھانا کھانے کے بعد امی نے ان کے کپڑے وغیرہ ایک بیگ میں ڈال دئیے اور پھر ہم سو گئے صبح سویرے جب میں جاگا تو ابو تیار تھے اور ناشتہ بھی کر چکے تھے مجھے دیکھ کر انہوں نے مجھے گھر اور امی کا خیال رکھنے کی ہدائت کی اور اسی دوران ان کی گاڑی اور باقی دفتری لوگ گیٹ پہ آ گئے اور ابو ان کے ساتھ گھر سے نکل پڑے۔ ہم نے ابو کو گیٹ سے الوداع کیا اور جب وہ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو ہم اندر کی طرف مڑے میں نے گیٹ بند کیا تو امی چلتی ہوئی اندر کی طرف جا رہی تھیں میں گیٹ بند کر کہ دوڑا اور ان کے پیچھے سے جپھی ڈال لی اور اپنے بازو ان کے پیٹ کے گرد باندھ لیے میرا نیم اکڑا لن ان کی گانڈ کی گئرائی میں رگڑ کھانے لگا امی ہنستے ہوئے بولیں بدتمیز کچھ حیا کر باقی بچے بھی گھر ہیں سب اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا آپ میری گرفت سے نکالنے کی کوشش کی حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے میں نے بھی انہیں چھوڑ دیا اور کہا امی ابھی تو دن ہے رات کے بارے میں کیا خیال ہے میں نے ان کے پیچھے چلتے ہوئے ان کی گانڈ پہ ہلکی سی تھپکی دی ۔ امی نے مسکراتے ہوئے میری طرف مڑ کہ دیکھا اور بولیں اوئے بچت کا کوئی زریعہ نہیں ہے ان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی میں نے بھی سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا جی بالکل بھی کوئی بچت نہیں ہو سکتی ۔ امی نے کہا اچھا چلو ابھی تو سب ناشتہ کرو اور نکلو شام میں دیکھیں گے کیا کرنا ہے اس کے بعد ہم نے ناشتہ کیا اور سکول کیطرف نکل گئے ۔ سکول سے واپسی پہ ہم نے کھانا کھایا اور پھر میں نے امی کے ساتھ برتن اٹھائے اس دوران ان سے چھیڑ چھاڑ چلتی رہی لیکن کوئی قابل زکر بات نا ہوئی کیونکہ امی نے کہا رات جب باقی بچے سو جائین گے تو پھر دیکھا جائے گا مجھے بھی امید تھی کہ ایسا ہی ہو گا اور میں بہت خوش تھا اسی طرح شام ہو گئی میں نے سکول کا کام کیا اور پھر شام میں ٹی وی دیکھتا امی اور باقی بہن بھائیوں سے روٹین کی گپ ہوتی رہی پھر ہم نے رات کا کھانا کھایا اور میں اپنے کمرے میں آ گیا اور امی کا انتظار کرنے لگا میرے زہہن میں یہی تھا کہ باقی بہن بھائی سو جائیں گے تو پھر امی کےپاس چلا جاؤں گا اور میں بستر پہ لیٹ کر امی کے فری ہونے کا انتظار کرنے لگا لیکن میری بدقسمتی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی تو میں تیزی سے اٹھا اور وقت دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے میں جلدی سے امی کے کمرے کی طرف گیا اور ان کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ بے سدھ سو رہی تھیں ان کی ایک سائیڈ پہ چھوٹی اور دوسری سائیڈ پہ میرے دوسری بہن سوئی ہوئی تھیں امی بیڈ کے کونے پہ تھیں اور کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھیں پہلے تو میرا دل کیا کہ ان کو نا چھیڑوں مگر لن نے مجھے مجبور کیا اور میں نے ہاتھ آگے بڑھا کہ ان کی بھاری گانڈ کے اوپر رکھا اور اسے تھپتپھایا امی کے جسم میں ہلکی سی لرزش ہوئی اور وہ نیند میں ہی بولیں نہیں کریں نا مجھے سونے دیں اور اسی طرح کروٹ کے بل لیٹی رہیں میں سمجھ گیا کہ وہ نیند میں ابو کا سمجھ رہی ہیں میں ان کے پیچھے بیٹھا اور ان کے چوتڑوں سے شلوار اتار کر نیچے کرنے کی کوشش کی شلوار کچھ تو اتری کچھ ان کے بھاری وجود کے نیچے دب گئی اور میں نے جب شلوار کھینچی تو انہوں نے اسی طرح بند آنکھوں سے کہا افف نہیں کریں نا یار سونے دیں مجھے نیند آئی ہوئی ہے لیکن انہوں نے اپنا وجود اوپر اٹھایا تا کہ میں شلوار کو اتار سکوں میں نے شلوار ان کے گھٹنوں تک اتار دی اور کچھ بولے بغیر ان کی گانڈ اور کمر پہ ہاتھ پھیرنے لگ گیا انہوں نے کروٹ بدلی اور الٹی لیٹ گئیں اور پھر بولیں نہیں کریں نا یار اب سونے بھی دیں مجھے ۔ میں نے ان کی ٹانگوں کو تھوڑا پھیلایا اور ان کی گانڈ کے بھاری چوتڑوں کو ہاتھ سے کھولا اور زیروبلب کی روشنی میں ان کے حسین سراپے پہ ایک نظر دالتے ہوئے ان کے ایک چوتڑ کو چوم لیا اور پھر چوتڑوں کو کھولتے ہوئے منہ ان کی گانڈ کے درمیان گھسا کر زبان باہر نکالی اور ان کی پھدی اور گانڈ کے درمیانی حصہ پہ لگا دی میری زبان اپنے جسم پہ لگتے ہی امی ایک جھٹکے سے اوپر ہوئیں اور انہوں نے مجھے دیکھا اور اوپر اٹھ کر بیٹھ گئیں اور سرگوشی میں بولیں بدتمیز ادھر کیا کر رہے ہو ؟؟ میں نے ان کی طرف دیکھا اور ہونٹوں پہ زبان پھیری اور ساتھ اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف دیکھ کر کہا امی وہ میں سو گیا تھا کہیں ۔ انہوں نے اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے لیے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا اور بولیں تو اچھا ہو گیا تھا نا میں آگے ہوا اور ان کے ممے پکڑنے کی کوشش کی امی نے مصنوعی غصے سے میری طرف دیکھا اور پھر سوئی ہوئی بہنوں کی طرف اشارہ کیا اور بیڈ سے نیچے اترنے لگیں میں ان کو نیچے اترتا دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا میں نے امی کو بیڈ سے نیچے اترتے دیکھا تو پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا وہ بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے بہنوں کی طرف دیکھ کر سیدھی ہوئیں اور اپنی گھٹنوں تک اتری ہوئی شلوار کو اپنے پاوں سے باہر نکالتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتر آئیں مجھے ان سے یہ توقع بالکل بھی نا تھی کہ وہ اتنی اسانی سے یہ سب کریں گی امی میرے پاس سے گزریں اور ڈریسنگ ٹیبل سے ایک شیشی اٹھا کر میری طرف دیکھا اور بولیں اے مسٹر اب وہاں کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو چلو باہر آو میں تھوڑا شرمندہ بھی ہوا اور امی کے پیچھے چلتا ہوا باہر نکل آیا وہ لاونج میں کھڑی تھیں میں جیسے ہی ان کے کمرے سے باہر نکلا انہوں نے کمرے کو باہر سے کنڈی لگا دی میں نے امی کو کنڈی لگاتے دیکھا تو جھپٹ کر ان کو پیچھے سے جھپی ڈال لی اور ہاتھ ان کے پیٹ کے گرد باندھتے ہوئے ان کی گردن پہ پیار کرنے لگا امی نے ہلکی سی سسکی بھری اور بولیں بدتمیز صبر تو کرو میں بھاگ تو نہیں رہی اور ہاتھ میں پکڑی شیشی سائیڈ ٹیبل پہ رکھنے لگیں وہ شیشی کو ٹیبل پہ رکھنے لگیں تو میں نے ان کو چھوڑا اور جلدی سے اپنا لباس اتار دیا امی نے مجھے بے لباس ہوتے دیکھا تو شرماتے ہوئے ہونٹ کاٹنے لگیں اور نظریں کمرے کے فرش پہ گاڑھ دیں ۔ میں نے لباس اتارنے کے بعد ایک نظر انہیں دیکھا اور ان کے قریب ہوتے ہوئے انہیں بانہوں میں بھر لیا وہ بھاری بھرکم وجود ہونے کے باوجود ایک موم کی گڑیا کی طرح میرے سینے سے لگ گئیں ان کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں میں نے ان کی لرزتی پلکوں کو ہونٹ سے زرا سا چھوا اور آنکھوں کے اوپر ہونٹ رکھتے ہوئے پیار کر دیا ۔ بدتمیز شرم کرو انہوں نے ہلکی سی سرگوشی کرتے ہوئے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا میں نے ان کے گال چوستے ہوئے کہا اب تو شرم تبھی آئے گا جب یہ پورا آپ کی پھدی میں چلا جائے گا یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا اکڑا ہوا لن ان کی قمیض کے دامن کو اٹھاتے ہوئے ان کی رانوں کے درمیان رگڑ دیا ۔ بےشرم بے حیاان کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور وہ مجھ سے چپکتی گئیں۔ میں نے ان کی قمیض کے دامن پکڑ کر آگے سے اوپر کیا تو انہوں نے بازو اوپر کر کہ قمیض نکالنے میں میری پوری مدد کی۔ قمیض اترتے ہی ان کا مہکتا بدن پوری آب وتاب سے میرے سامنے آ گیا گول گول موٹے ممے سڈول پیٹ اور بھری بھری رانیں دیکھ کر میں نے ابو کے ساتھ اپنی قسمت پہ بھی رشک کیا اور آگے بڑھ کر ان کے ننگے وجود کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور ان کے رسیلے ہونٹ چوسنے لگ گیا ہمارے ننگے وجود آپس میں جڑتے ہوئے ہمیں ایک کرنٹ سا لگا اور میرا اکڑا ہوا لن ان کی پھدی سے رگڑ کھاتا ہوا ان کی رانوں کے درمیاں دھنس گیا کہ لن کے اوپری حصے پہ مجھے ان کی نرم پھدی کے ہونٹ اور ن کا گیلا پن واضح محسوس ہوا جہاں لن نے ان کی پھدی کے ہونٹوں کو چھوا وہیں ان کی پھدی کے ہونٹ بھی جوش سے میرے لن کے اوپر لگے اور اوپر ہمارے چہرے پہ لگے ہونٹ بھی جوش سے ایک دوسرے میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ امی بیتابی سے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیئے جا رہی تھیں اور میں بھی اس میں ان کا ساتھ دینے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ امی کے ہونٹ چوسنے کا انداز بہت ہی نرالا تھاوہ میرے اوپر والے ہونٹ کو اپنے دونوں ہونٹوں مین رکھ کہ چوستیں اور پھر اسے بالکل چھوڑ کر نچلے ہونٹ کو اپنے دونوں ہونٹوں سے چوسنے لگ جاتیں ان کا ایک ہاتھ میری گردن میں تھا دوسرا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے انہوں نے میرا لن پکڑ لیا اور لن کو پکڑ کر مٹھی بند کر لی اور اسے آگے پیچھے کرتے ہوئے لن کو ہلانے لگیں ان کی اس حرکت نے تو میرے ہوش اڑا دئیے مجھے امی کے نرم ہاتھوں کے لمس نے ایک عجیب سا مزہ اور سرور دیا میں نے ایک کے بھاری چوتڑوں کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے ایک ہاتھ کو گانڈ پہ رکھا اور دوسرا آگے لاتے ہوئے ان کا ایک مما ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دبانے لگ گیا امی کے منہ سے سسکی نکلی لیکن نکلنے سے پہلے ہی ہمارے ہونٹوں کے درمیان دب گئی ہم دنیا و مافیا سے بے خبر ایک دوسرے کے ہونٹوں سے مزہ کشید کر رہے تھے اور ہم ایک دوسرے کے جسموں میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ کم از کم مجھے تو یہ یاد نہیں تھا یہ عورت میری ماں ہے اس وقت بس صرف جسم ت

جاری ہے

The post بیتے لمحے قسط 16 17 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16-17/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 1 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/#respond Mon, 08 Dec 2025 13:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

The post راز محبت جب کھلا قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 1 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1-2/#respond Mon, 08 Dec 2025 13:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1-2/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

The post راز محبت جب کھلا قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1-2/feed/ 0
بیٹے لمحے 14,15 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1415/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1415/#respond Mon, 08 Dec 2025 13:13:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1415/   بیتے لمحے قسط 14 15 میں نے امی کے چوتڑوں پہ ہلکا ہلکا کاٹنا شروع کیا تو امی کے منہ سے سسکی نکلی اور انہوں نے جسم کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور بولیں اوئے کنجر اب اس عمر میں ماں کو طلاق دلوایا گا کمینے ۔۔مجھے ان کی یہ بات بالکل سمجھ نہ […]

The post بیٹے لمحے 14,15 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

  • بیتے لمحے
قسط 14 15
میں نے امی کے چوتڑوں پہ ہلکا ہلکا کاٹنا شروع کیا تو امی کے منہ سے سسکی نکلی اور انہوں نے جسم کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور بولیں اوئے کنجر اب اس عمر میں ماں کو طلاق دلوایا گا کمینے ۔۔مجھے ان کی یہ بات بالکل سمجھ نہ آئی میں نے پھر ہلکا سا کاٹا اور چومتا گیا وہ پھر بولیں علی بیٹا کاٹو نہیں نا دانت کے نشان پڑ جائیں گے اور تیرے باپ نے مجھے گھر سے نکال دینا ہے مجھے پھر ان کی اس بات کی سمجھ آئی اور مین ان کی کمر کو پکڑے چوم رہا تھا کہ وہ سیدھی ہو گئین اور اپنی شلوار کھینچ کر اوپر کر لی اور پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگیں میری حالت یوں ہو گئی جیسے بچے سے اس کا من پسند کھلونا چھین لیا گیا ہو میں نے اسی طرح پاؤں کے بل بیٹھے ان کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی مجھے اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر وہ بولیں گندہ بچہ ماں اور رکھیل کے فرق کو ہی بھول گیا ہے بدتمیز انسان ۔ امی آپ میری رکھیل کیسے ہو سکتی ہو میں نے اس طرح ظاہر کیا کہ مجھے ان کی بات بری لگی ہو اور واقعی مجھے ان کی بات بہت بری لگی تھی مجھ میں ان کے لیے ہوس یا پیار تو تھا لیکن اس گندے الفاظ کے ساتھ تو بالکل بھی نہین ۔ میرے ردعمل پہ وہ ہنس کہ بولیں یہ گندے کام کوئی اپنی ہی ماں سے کرتا ہے جو جناب کر رہے ہیں اور شرما بھی نہیں رہے بدتمیز۔ میں اوپر اٹھا اور اپنے بازو ان کے کندھوں پہ رکھ دیئے اور ان کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ان کی بڑی بڑی جھیل سی آنکھوں میں محبت اور ممتا کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا ان کے موٹے موٹی سرخ ہونٹ اور پھولے ہوئے گلابی گال بہت ہی پیارے لگ رہے تھے ۔ میں نے آگے ہو کر ان کے گال پہ پیار دینے کی کوشش کی تو وہ چہرہ پیچھے کرتے ہوئے ہنستی ہوئی بولیں گندے ابھی بنڈ چاٹ رہے تھے ابھی وہی ہونٹ میرے چہرے پہ مت لگاو بدتمیز اور ہنسنے لگ گئیں ۔ میں بھی تھوڑا شرمسار ہوا اور ان کو چھوڑ دیا اور واش بیسن کے پاس جا کہ منہ دھعنے اور کلی کرنے لگ گیا وہ بھی باتھ میں کھڑی مجھے دیکھتی رہیں جب میں منہ دھو کر فارغ ہوا اور ان کی طرف دیکھا تو وہ وہیں خاموش کھڑی تھیں اور میری جانب دیکھ رہی تھیں میں نے بھی ان کی طرف دیکھا اور ان کے قریب ہونے لگا انہوں نے مجھے پاس آتا دیکھا اور بھاگ کر کمرے میں چلی گئیں ان کے اس طرح بھاگنے سے ان کے گداز وجود میں جو ہلچل ہوئی اس نے میرے سارے وجود کو ایک تازگی کا احساس دے دیا اور میں بھی ان کے پیچھے چلتا ہوا کمرے میں آ گیا۔ وہ صوفے پہ گرنے کے انداز میں بیٹھ گئیں اور ایک انگلی سے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں اوئے بدتمیز خبردار میرے قریب نا آنا لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ ان کے چہرے پہ غصے کا نام و نشان تک نا تھا
میں ان کی طرف دیکھتے ان کی طرف بڑھتا گیا اور ان کی بات کا کوئی جواب نا دیا مجھے اپنے طرف بڑھتا دیکھ کر وہ پھر بولیں اوئے بے شرم میں نے تجھے منع کیا ہے مجھ سے دور رہو ورنہ میں ماروں گی انہوں نے پھر انگلی میری طرف کرتے ہوئے تنبہیہ کی لیکن میں ان کی طرف بڑھتا گیا انہوں نے جب دیکھ کہ میں ان کی طرف مسلسل بڑھا چلا جا رہا ہوں تو وہ صوفے پہ پاوں اوپر کر کہ کھڑی ہو گئیں اور صوفے کا چھوٹا کشن ہاتھ میں اٹھا لیا اور دھمکی بھرے انداز میں بولیں بدتمیز اب مجھ سے مار کھائے گا جو مجھے ہاتھ لگایا تو ۔ لیکن مجھے ان کا غصہ بناوٹی لگ رہا تھا تو میں ان کی طرف بڑھتا گیا اور ان کے قریب پہنچ کر ان کی طرف دیکھا وہ صوفے پہ کھڑی تھیں اس لیے وہ مجھ سے کافی اونچی لگ رہی تھیں میں نے آنکھیں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور اپنے بازو وا کرتے ہوئے ان کی گانڈ کے گرد لپیٹ لیے میری کوشش تو کمر سے پکڑنے کی تھی لیکن کیونکہ وہ صوفے پہ تھیں تو میرے ہاتھ ان کی گانڈ کے گرد کس گئے اور میرا منہ سیدھا ان کےمموں کے درمیان لگ گیا میں نے اپنا منہ مموں کے درمیان رکھتے ہی ان کے مموں کو چومنا شروع کر دیا اور زبان درمیانی جگہ پہ رکھ کہ پھیری اور پھر ایک مما قمیض کے اوپر سے منہ میں لینے کی کوشش کی جیسے ہی میں نے ان کا مما منہ میں لیا وہ اچھل پڑین اور بولی گدھے اس عمر مین اب ماں کا طلاق دلوا کے رہے گا کیوں میرے کپڑے خراب کر رہا ہے اس سے تمہارے باپ کو ایک دم شک ہو جانا ہے ۔ سچ تو یہ کہ میں ہوش سے بیگانہ ہو چکا تھا اور اگر ہوش ہوتا بھی تو یہ باریکیاں ایک جوان ہوتے بچے کی پہنچ سے بہت باہر کی بات تھی تو میں نے منہ پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا امی تو قمیض اتار دو پھر خراب نہیں ہو گی نا اور ان کی آنکھ میں دیکھا تو انہوں نے ہاتھ میں سے کشن پھینکا اور بولی توبہ بدتمیزی کی بھی انتہا ہو گئی ہے امی بھی کہتے ہو اور ڈیمانڈ بھی دیکھو اپنی او لڑکے کچھ تو حیا کر لے ۔ میں نے کہا اب میرا اور کون ہے میں سبھی فرمائشیں آپ سے نا کروں اور کس سے کرون یہ کہتے ہوئے میں نے ایک ہاتھ سے ان کی موٹی گانڈ کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ ظاہر ہے بہت موٹی تھی اس کوشش میں ناکسمی کے بعد میں نے ہاتھ کو ان کی گانڈ کی دراڑ میں گھسایا اور منہ اوپر کر کہ ممے کو پھر منہ میں لینے کی کوشش کی انہون نے پھر اپنا مما میرے منہ سے چھڑا لیا اور بولیں بدتمیز سمجھا کرو نا کپڑے خراب ہو رہے ہیں ان کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے ان کی قمیض کا دامن اوپر کرناچاہا لیکن انہوں نے ہاتھ آگے کر کہ میری اس کوشش کو ناکام کر دیا اور بولیں علی بیٹا نہیں تمہارے ابو کسی بھی وقت آ سکتے ہیں اور پھر یہ چھوٹی بھی سوئی ہے یہ بھی اٹھ گئی تو مسئلہ بن سکتا ہے پلیز حد پار مت کرو ان کے لہجے میں لاچاری تھی ۔ میں نے امی کی طرف دیکھ کر کہا جتنی دیر آپ روکنے میں لگا رہی ہیں اتنی دیر میں تو میں دیکھ بھی لیتا ۔ میری یہ بات سن کر انہوں نے ایک ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیا اور بولیں ہائے او ربا یہ لڑکا تو انتہائی گندہ ہو گیا ہے اس نے تو شرم و حیا ہی اتار کہ رکھ دی ہے میں نے ایک بار پھر ان کو گانڈ کے زرا نیچے سے بازو ڈال کر پکڑا اور اٹھانے کی کوشش کی انہوں نے توازن بگڑتے ہی میرے کندھوں پہ ہاتھ رکھ لیے اور بولیں اوئے بدتمیز کچھ حیا کر میرے بازو ان کی گانڈ کے گرد تھے اور ممے منہ پہ رگڑ کھا رہے تھے میں نے ان کو صوفے سے اٹھایا اور نیچے اس طرح چھوڑا کہ ان کی قمیض کا اگلا پچھلا دامن اوپر اٹھتا ان کے پیٹ اور کمر تک پہنچا اور میں نے بجلی کی تیزی سے ان کے دامن پکڑے اور ان کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی مگر امی نے بازو اوپر نا کیے اور پھر بولیں علی بچے یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے بہت غلط ہے پلیز رک جاو لیکن میں کیسے رکتا اس وقت تو مجھے یہی لگا اب کچھ نا کیا تو ساری عمر کچھ نہیں ملے گاامی پلیز کچھ نہیں ہوتا بس دو منٹ دیکھنے دیں میں نے ان کی منت کرتے ہوئے قمیض اتارنی چاہی۔ لیکن ان کے لہجے میں عجب سی بے بسی آ گئی اور بولین بیٹا تیرے لیے دو ہی منٹ ہیں مگر میری ہوری زندگی کی شرم و حیا ہے ساری زندگی میں ایک یہی عزت تو ہے اور یہی ۔۔ میں نے ان کی بات کاٹ دی اور کہا امی مجھ سے کیا چھپائیں گی میں نے تو سب دیکھ رکھا ہے اور ویسے بھی ہماری عزت تو سانجھی ہے مجھے آپ سے پہلے کون ہے اور پھر ان کی قمیض کو اوپر کرنا چاہا لیکن انہوں نے اپنے بازو اوپر نا کئیے مگر چپ ہو گئیں میں نے ان کی قمیض کے دامن کو اوپر کیا اور نیچے بیٹھتے ہوئے ان کے سڈول پیٹ پہ ناف سے زرا اوپر ایک پیار کیا اور پیٹ کو چومنے لگ گیا۔ امی نے ہلکی سی سسکی بھری اور ہاتھ میرے سر پہ رکھ لیا لیکن مجھے خود سے الگ نا کیا میں نے ہاتھ سے قمیض اوپر کرتے ہوئے ان کے پیٹ کو چومنے کا سفر جاری رکھا اور اسی طرح دامن اوپر اٹھاتے اٹھاتے ان کے گول مموں تک پہنچ گیا جو برا میں کسی بے بس قیدی کی طرح قید تھے۔ امی نے ہلکی سی سسسی کی اور ان کے منہ سے مسلسل نہیں نہیں کی آواز نکل رہی تھی میں نے دامن اوپر کرتے ہوئے ایک نظر ان کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں میں ان کا پیٹ چومتے چومتے ساتھ ان کے مموں سے ہلکی چھیڑ خوانی کرتے ان کو بیڈ کی طرف لاتا گیا اور اپنے ہاتھ سے ان کی کمر کو سہلاتا گیا بیڈ کے قریب پہنچ کر میں اوپر ہوا اور ان کی قمیض کو پکڑ کر اتارنا چاہا تو انہوں نے اپنے بازو اوپر کر دئیے اور ان کی قمیض اتر گئی امی نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پہ رکھ لیے اور ہلکی ہلکی سانسیں لیتے ہوئے بولیں بدتمیز باز آ جاو تم ۔ میں آگے بڑھا اور ان کے ننگے بدن کو یون دیکھنے لگا جیسے میرے سامنے کوئی الپسرا کھڑی ہوں اور مجھے ایسا کیوں نا لگتا آخر وہ میری زندگی کی بڑی خواہش تھیں میں ان کے قریب ہوا اور ان کے ننگے بدن کو اپنی بانہوں میں بھر لیا انہوں نے چہرا ڈھانپا ہوا تھا اور ہلکے سے کسمسائی میں نے ہاتھ پیٹھ پہ پیچھے کیے اور برا کے ہک کھولنے کی کوشش کی لیکن میں اس میں ناکام رہا میں نے جب دیکھا کہ میرے سے ان کی برا کے ہک نہیں کھل رہے تو میں نے ان کو بازووں میں کستے ہوئے ان کے گال کو چوم لیا اور ایک ہاتھ سے ان کا بھاری مما دبانے لگ گیا میرے مما پکڑنے اور پیار کرنے سے امی نے ایک سسکی بھری اور میرے سے چپک گئیں نیچے میرے لن نے بھی ان کی ران سے گلے ملتے ان کو سلامی پیش کی میرا لن جیسے ان کی ران سے ٹکرایا انہوں نے ایک جھٹکے سے اپنی ران پیچھے کی میں ان کے گال ہونٹوں کے درمیان بھر کہ باری باری چوس رہا تھا اور ایک ہاتھ سے انکا مما باری باری دباتا جا رہا تھا امی کی آنکھیں بند تھیں ۔ انہوں نے اپنا ایک ہاتھ غیر محسوس انداز میں نیچے کیا اور میرے لن کو ہاتھ سے ٹٹول کر پکڑا انہوں نے جیسے ہی میرے لن کو ہاتھ میں پکڑا تو میرے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو بھی ایک جھٹکا لگا اور انہوں نے پکڑتے ہی میرے لن کو چھوڑ دیا لیکن مزے کی اس لہر نے میرے سارے وجود کو جکڑ لیا مجھے بے انتہا مزہ ملا تھا۔ میں نے ان کے گال چومتے ان کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کی مگر انہوں نے اپنے ہونٹ آپس میں جوڑ کر سختی سے بند کر لیے لیکن میں نے ہونٹوں کے اوپر اپنے ہونٹ رکھ کر چوسنے شروع کر دئیے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن کی طرف کرنے کی کوشش کی جیسے ہی ان کا ہاتھ میرے لن سے ٹکرایا انہوں نے اپنا ہاتھ مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی تا کہ میرا لن اس سے ٹچ نا ہو۔ ان کی حالت عجیب تھی وہ مجھے کچھ کرنے بھی نہین دے رہی تھیں مگر مجھے اس طرح روک بھی نہیں رہی تھیں مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ چاہتی کیا ہیں مگر میں یہ سوچنے کے بجائے جو مل رہا ہے اس سے لطف لو کی تھیوری پہ عمل پیرا ان کے ہونٹ چوستا جا رہا تھا اور ان کے ممے مسل رہا تھا ان کے جسم پہ شلوار اور برا تھی اور میں بھی مکمل لباس میں تھا اور مجھے جو مسئلہ درپیش تھا وہ لباس سے چھٹکارہ پانے کا تھا مجھے یہ خطرہ تھا کہ ایسا نا ہو وہ بے لباس ہونے سے منع کر دیں اور مجھے جو مل رہا ہے اس سے بھی جاؤں لیکن وہ کہتے ہیں کہ انسان زیادہ سے زیادہ کی طلب کرتا ہے تو میں نے بھی ان کے ہونٹ اور گال چومتے چومتے دونوں ہاتھ ان کی سائیڈز سے شلوار کو پکڑا اور ایک دم نیچے بیٹھتے ہوئے شلوار کو نیچے کرتا گیا اس طرح نیچے ہوتے ہوئے میں ان کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھتا گیا اور ان کی گوری سڈول رانیں اور بالوں سے صاف ستھری پھولی ہوئی پھدی دیکھ کر میں اپنے ہواس کھو بیٹھا اور پھدی کو سامنے پا کر میں نے اپنے ہونٹ پھدی کے ہونٹوں سے ملا دئیے۔ امی ابھی شلوار اترنے کے حملے سے نہیں سنبھلی تھیں اوپر سے اس وار نے تو ان کو چاروں شانے چت کر دیا ان کے منہ سے تیز سسکی نکلی اور انہوں نے میرا سر اپنی ٹانگوں میں دباتے ہوئے کہا افففف علی یہ کیا کر رہا ہے گندے پیچھے ہٹو لیکن ان کے ہاتھ میرے سر کو اپنی ٹانگوں کے درمیان دبا رہے تھے اور میں ان کی پھدی سے ہونٹ جوڑے یہ سوچ رہا تھا ان کی کس بات پہ یقین کروں اب جو اوپر والے ہونٹوں سے کہہ رہی ہیں یا جو نیچے والے لب بول رہے ہیں 
بیتے لمحے
قسط 15
سامنے کھڑی تھیں اور میں ان کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا ان کی پھدی کے اوپر حصے پہ پیار کیے جا رہا تھا اور یہ مجھ سمجھ آ گئی تھی کہ یہاں سے جڑے رہنے سے ہی کچھ ملنے کی امید ہے کیونکہ ان کا ری ایکشن پہلی بار ساتھ دینے والا بن رہا تھا اور وہ میرا سر اپنی ٹانگوں میں دبا رہی تھیں میں نے ہاتھ ان کی گانڈ کی گرد کستے ہوئے ان کی پھدی کے اوپری حصے کو چومنا اور زبان سے چاٹنا شروع کر دیا اور ایک ہاتھ سے ان کی گانڈ کے ایک حصے کو کھولتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے گانڈ کی گلی کے درمیانی حصہ کو ٹٹولنے لگ گیا امی کے منہ سے اففففف ہائےےےے اففف علی نہینننننن کی آوازیں نکل رہی تھیں اور وہ میرے سر کو اپنی ٹانگوں میں دبا رہی تھیں مجھے ان کی پھدی کے اوپری حصے کو چومتے اور ان کی گانڈ سے کھیلتے دو سے تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ امی کی سسکیوں اور آہوں کے درمیان ان کی لرزتی ہوئی آواز آئی علی پلیز مجھے بیڈ پہ بیٹھنے دو میری ٹانگوں سے جان نکل رہی ہے میں نے ان کی پھدی کو چومتے ہوئے ان کی شلوار کو پکڑا اور ان کے پاوں اوپر اٹھاتے ہوئے شلوار کو ان کے پاؤں سے نکال باہر کیا اور ان کی رانوں اور پھر پیٹ پہ پیار کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور ان کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے ان کی کمر کے گرد بازو ڈال کر انہیں دیکھا۔ میری پیاری امی کےمنہ پہ پسینہ چمک رہا تھا اور ان کی پلکیں اور ہونٹ لرز رہے تھے ان کا چہرہ گلابی ہو رہا تھا مجھے اپنی طرف دیکھتے ہی انہوں نے زیر لب کہا گندہ بدتمیز اور پھر شرما کہ آنکھیں بند کر لیں میں نے امی کو اسی طرح پکڑے بیڈ کے قریب کیا اور انہیں کہا کہ بیڈ پہ بیٹھ جائین اور ان کو چھوڑ دیا امی گرنے والے انداز میں بیڈ پہ بیٹھیں اور پھر بیڈ پہ لیٹتی چلی گئیں کہ ان کی گانڈ بیڈ کے کونے پہ تھی لیکن اوپری حصہ سارا بیڈ پہ اور ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھیں امی نے گہرے گہرے سانس لینا شروع کر دئیے اور سانس کے ساتھ ہی ان کے موٹے ممے اوپر نیچے ہونے لگےمیں نے اپنا لباس جلدی سے اتارا اور ننگا ہوتے ہی ان کے اوپر چڑھ گیا جیسے ہی امی نے مجھے اپنے اوپر محسوس کیا ان کے جسم کو ہلکا سا جھٹکا لگا اور وہ بولیں علی پلیز اپنی حد مت پار کرنا ایک حد میں ہی رہنا ۔ مجھے ان کی بات پہ ہنسی تو بہت ہوئی لیکن میں نے فرمانبرداری سے کہا اچھا امی بس تھوڑا ساپیار اور کرنا ہے اور یہ کہتے ہوئے ان کے مموں کے اوپری حصے پہ پیار دیا اور ساتھ ایک ہاتھ سے ان کے چہرے کو سہلانے لگا امی کے جسم پہ ایک برا تھی اور میرا سارا جسم ننگا تھا میں نے ہاتھ سے برا کو پکڑکر اوپر کیا تو مجھے یقین تھا وہ اوپر نہیں ہو گی لیکن مجھے حیرت کا جھٹکا لگا کہ برا ایک دم اترتی چلی گئی اور میں ایک لمحے کو حیران ہوا کہ اس کے ہک کیسے کھلے لیکن وقت کا تقاضا تھا کہ اسے حیرت میں ضائع نا کیا جائے تو میں نے ایک نظر مموں پہ ڈالی جو گنبد کی طرح امی کے سڈول پیٹ پہ اکڑے ہوئے تھے اور ان کے درمیان نپل پوری طرح اکڑے ہوئے تھے میں نے بھوکوں کی طرح جھپٹ کر ان کے ممے کی ایک نپل کو منہ میں بھرا تو امی نے ایک زوردار سسکی بھری اور بولیں علی پلیز کوئی نشان نا ڈالنا میرے جسم پہ فورا نشان پڑ جاتے ہیں اور میرے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں میں نے ان کی بات کا جواب نا دیا اور مما اسی طرح چوستا گیا وہ پھر بولیں بدتمیز میں کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی آرام سے کرو ان کی اس بات نے مجھے حوصلہ دیا کہ اب معاملات کسی حد تک قابو میں آ چکے ہیں میں نے مما منہ سے باہر نکالا اور ان کے چہرے کی طرف دیکھا جو کہ سرخ ہو رہا تھا اور انہوں نے نچلے ہونٹ کو دانتوں کے نیچے دبا رکھا تھا مجھے اپنی طرف دیکھتے وہ شرما گئیں اور بولیں بدتمیز کچھ تو حیا کر لو تمہاری ماں ہوں میں ۔ میں نے ان کی طرف دیکھ کر کہا امی یہ شرم ہی تو کر رہا ہوں ساتھ ہی میں نے اپنے لن کو جو ان کی نرم رانوں کے درمیان دھنسا ہوا تھا ہلکا سا دھکا لگایا کیونکہ وہ بیڈ کے کونے پہ تھیں اور ان کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھیں اور میں ان کے اوپر تھا تو وہ مجھے بولیں علی میں تھک گئی ہوں اس طرح اور مجھے بھی احساس ہوا کہ وہ آرام دہ پوزیشن میں نہیں ہیں تو میں ان کے اوپر سے کھسکتا ہوا نیچے ہوا اور ان کے کچھ کرنے سے پہلے ان کی دونوں ٹانگیں پنڈلیوں کے پاس سے پکڑ کر اوپر اٹھائیں اور ان کے گھٹنے فولڈ ہوتے ہوئے ان کے پیٹ سے لگے اور امی کے منہ سے نکلا اوئے بدتمیز بیغرت یہ کیا کر رہا ہے ۔ ان کی ٹانگیں اوپر ہوتے ہی ان کی رسیلی پھدی کا دلکش نظارہ میرے سامنے آیا اور ان کے دونوں سوراخ کھل کر سامنے آ گئے میں نے ان کی بات کا جواب دئیے بغیر اپنا منہ بجلی کی سی تیزی سے نیچے کیا اور ان کی پھدی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر کہ چوسنے لگ گیا امی کے منہ سے ایک زوردار سسسسسی پورے کمرے میں گونجی اور ان کا جسم لرز اٹھا میں نے اس ردعمل کو دیکھتےہوئے ان کی پھدی کے چوسنے کو تیز تر کر دیا اور پھدی کے ہونٹ چوستے چوستے زبان باہر نکالی اور پھدی کے ہونٹ پہ پھیری امی کے جسم کو ایک اور جھٹکا لگا اور ان کی گانڈ اور اوپر اٹھ گئی میں نے زبان پھدی کے دونون ہونٹوں پہ رگڑی اور پھر زبان کو گانڈ کے سوراخ پہ پھیرا جدھر سوراخ کا دہانہ تھا اس پہ زبان کو زور سے پھیرتے ہوئے پھدی کے سوراخ تک لایا امی کا جسم زور سے کانپا اور انہوں نے گانڈ کو اور اوپر اٹھا دیا اور سسکتے ہوئے بولیں علی یہ کیا کر رہا ہے گندے بچے کدھر زبان گھسا رہا ہے یہاں سے کیا پیار کر رہا ہے ایسا مت کر ۔ لیکن ان کا جسم یوں ردعمل دے رہا تھا کہ ان کو بہت مزہ مل رہا ہے میں نے زبان باہر نکالتے ہوئے اسے تھوڑا گول کیا اور امی کی پھدی کے سوراخ پہ رکھتے ہوئے اندر دھکیلا تو زبان پھسلتی ہوئی ان کی پھدی میں اترتی گئی اور ان کے جسم کو ایک اور جھٹکا لگا اور وہ کانپ اور لرز اٹھیں اور لرزتی آواز میں بولیں اففف گندے یہ کیا کر رہے ہو میری جان نکل جائے گی اور ان کے ہاتھ میرے سر کے پیچھے سے مجھے اپنی پھدی پہ دباتے گئے اور ان کی ٹانگیں اور اوپر اٹھتی گئیں اور ان کا جسم کمان کی طرح مڑتا گیا میں نے ہاتھ ان کی گانڈ کی سائیدزپہ رکھے اور ان کی پھدی میں زبان کو اندر باہر کرتا گیا میری ناک ان کی پھدی کے اوپری حصے سے لگتی اور ٹھوڑی ان کی گانڈ کی موری پہ لگتی اور زبان پھدی کے لبعں سے رگڑ کھاتی ان کے اندر گھس جاتی ان کی پھدی گیلی ہو رہی تھی اور مجھے اس کا بہت مزہ آ رہا تھا میں نے جب دیکھا کہ امی اس کو بہت انجوائے کر رہی ہیں تو میں اور تیزی سے زبان کو حرکت دینے لگا اور ان کی پھدی کو چاٹنے لگا اور زبان کو پھدی کے اندر سے باہر نکالتا اور پھر پھدی کے ہونٹوں پہ پھیرتے ہوئے پھر پھدی میں گھسا دیتا اسی طرح کرتے میں نے زبان کو باہر نکالا اور پھر گانڈ کے سوراخ کے دھانے پہ رکھ کہ زبان کو دبایا تو زبان کی نوک گانڈ کی موری کو کھولتی ہوئی تھوڑی سی اندر گئی امی نے جیسے ہی زبان کو اپنی گانڈ کی موری میں اترتے محسوس کیا تو ان کے بھاری وجود میں ایک بھونچال آ گیا اور وہ زور سے بولیں افففف علی گندے بدتمیز ادھر تو زبان نا ڈال اب گندے۔ میں نے زبان کو اور زور سے ان کی موری میں گھسیڑنے کی کوشش جاری رکھی اور ان کی بات کا کوئی جواب نا دیا ۔ میں نے گانڈ کو چاٹتے ہوئے پھر پھدی پہ حملہ کیا اور چاٹنے لگا امی نے اب اپنی ٹانگیں خود اٹھا رکھی تھیں اور وہ مجھے کسی کام سے نہیں روک رہی تھیں میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور وہ پسینے سے بری طرح بھیگ چکی تھیں ۔ میں پھدی چوستے چوستے ان کے پیٹ کی طرف بڑھا اور اس پہ پیار کرتے کرتے ان کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں بند تھیں میں نے اپنا لن ان کی پھدی پہ رکھا اور امی کے پاوں کو اپنے چہرے کے قریب کیا اور پاوں کے تلوے چاٹنے لگ گیا امی مدہوش ہو چکی تھیں میں نے اپنا لن ان کی پھدی پہ رکھا اور امی کے چہرے کی طرف دیکھ کر پھدی پہ لن کا دباو ایک دم بڑھا دیا اور میرا لن ان کی گیلی پھدی کی دیواریں کھولتا ہوا آدھے سے زیادہ اندر دھنس گیا امی کا جسم ایک دم لرزا اور ان کے منہ سے نہیں کی چیخ نکلی اور انہوں نے تڑپ کر میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ان کی ٹانگیں میرے ہاتھ میں تھیں اور ان کے چوتڑ بیڈ کے کونے پہ تھے ان کو اس کوشش میں کوئی کامیابی نا ملی امی کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں ان کے چہرے پہ درد اور کرب کے تاثرات تھے اور انہوں نے میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا اور کپکپاتی آواز میں بولیں علی بہت غلط ہو گیا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا پلیز اسے باہر نکال لو میں ماں ہوں تمہاری ۔ ان کی بات سن کہ میں نے صورتحال کا جائزہ لیا تو وہ اگر چاہتیں تو میرے نیچے سے نکل بھی سکتی تھیں لیکن انہوں نے لن اندر جاتے ہوئے مزاحمت تو کی تھی لیکن اب ان کی پھدی مجھے اپنے لن کے گرد کھلتی اور بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی اور ان کے ہاتھ بھی میرے کندھوں پہ تھے جب کہ ان کے چہرے سے تھوڑی پشیمانی جھلک رہی تھی میں نے ان کی بات سن کر لن کو تھوڑا پیچھے کھینچا جس سے ان کی پھدی کی دیواروں سے لن رگڑ کھاتا ہوا باہر کی طرف نکلا اس سے پہلے کہ لن کی ٹوپی باہر نکلتی میں نے پھر ایک زوردار دھکا لگا کہ لن ان کی پھدی میں اتار دیا میرا یہ دھکا لگنے سے ان کے ممے اوپر کی طرف اچھل کر واپس جگہ پہ آئے اور ان کے منہ سے بھی ہلکی سی سسکی نکلی میں نے مموں کی اچھل کود کے نظارے کو بہت انجوائے کیا اور پھر ایک دھکا لگایا ممے پھر اسی طرح اچھلے تو مجھے بہت مزہ آنے لگا میں نے پھر دھکوں کی سپیڈ تیز کرنا شروع کر دی اور ہر دھکے پہ ممے اچھلتے جاتے مجھے یہ منظر اتنا دلکش لگا کہ میں کچھ بولے بغیر ان کے مموں کو دیکھتے جھٹکے لگانے لگا امی ہلکی ہلکی سسک رہی تھیں اور ان کے ممے ہر دھکے پہ اچھلتے جا رہے تھے مجھے سرور کی ایک نئی منزل مل چکی تھی جس کی مجھے کوئی توقع نہ تھی اور برسوں پہلے امی کے جسم سے لزت کشید کرنے کا خواب اب جا کر شرمندہ تعبیر ہوا تھا سچ کہتے ہیں کہ لگن سچی ہو تو منزلیں خود قدم چومتی ہیں یہ الگ بات کہ لن کی لگن کو یہاں پھدی چوسے جا رہی تھی اور ماں بیٹا ایک نئے رشتے کے بندھن میں جکڑے جا چکے تھے لزتوں کی ایک انوکھی منزل تھی جس نے میری روح تک کو سرشار کر دیا تھا کلثوم آنٹی کے ساتھ جو مزہ ملا تھا وہ مجھے اس مزے کے مقابلے کچھ نہیں لگ رہا تھا یہ تو شائد روح کی تکمیل تھی ادھر امی کی سسکیاں تیز ہو چکی تھی ان کے گھٹنے فولڈ ہو کر ان کے پیٹ سے لگے ہوئے تھے اور میں کی پھدی میں لن گھسائے انہیں چودتا جا رہا تھا شائد اس چودائی کو پانچ منٹ گزرے یا اس سے بھی زیادہ کہ مجھے یوں لگا میرے جسم جا سارا خون سمٹ کر میری ٹانگوں کے درمیان جا رہا ہے ابھی میں اس سرور کو سوچ ہی رہا تھا کہ امی کے منہ سے کچھ بے معنی غراہٹین نکلنے لگیں اور انہوں نے مجھے اپنی ٹانگوں میں کس لیا اور بازو میرے گلے میں ڈالتے ہوئے مجھے اپنے اوپر دبوچ لیا ادھر میری بھی بس ہو گئی اور میں بھی ایک جھٹکا لگاتے ہوئے ان کی پھدی میں فارغ ہوتا گیا

The post بیٹے لمحے 14,15 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1415/feed/ 0
بیتے لمحے 13 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-13/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-13/#respond Mon, 10 Nov 2025 16:21:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-13/   بس ڈرامہ ہی کرتے رہنا اور کچھ نا سوچنا کبھی یہ دماغ سوچنے کے لیے ہوتا ہے نا کبھی اسے استعمال بھی کیا کرو امی نے مجھے زرا تیز لہجے میں کہا۔ کیا سوچا کروں آپ ہی بتا دو نا مجھے میں نے بھی ہلکی ٹون میں کہا۔ امی نے ایک نظر میری طرف […]

The post بیتے لمحے 13 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

بس ڈرامہ ہی کرتے رہنا اور کچھ نا سوچنا کبھی یہ دماغ سوچنے کے لیے ہوتا ہے نا کبھی اسے استعمال بھی کیا کرو امی نے مجھے زرا تیز لہجے میں کہا۔ کیا سوچا کروں آپ ہی بتا دو نا مجھے میں نے بھی ہلکی ٹون میں کہا۔ امی نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولیں اپنا اور بندر کا مقابلہ تو کر رہے ہو کہ میں نے بندر کو کچھ نہیں کہا لیکن یہ بھی غور کرو کہ کیوں کچھ نہیں کہا ۔ میں نے نا سمجھنے والے انداز میں ان کی طرف دیکھا تو امی نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا بندر نے مجھ سے کوئی اجازت نہیں لی تھی اور میری طرف دیکھ کر نظر جھکا لی۔ اب یہ صورتحال بہت عجیب تھی میں سوچ میں پڑ گیا کہ امی کیا کہنا چاہتی ہیں کیا میں ان سے نا پوچھا کروں؟؟ کیا مجھے سب کرنے کی اجازت دے رہی ہیں لیکن یہ وہ سوال تھے جن کا جواب میرے پاس نہیں تھا اور نا ہی میں امی سے پوچھ سکتا تھا اپنی تمام تر فرینکنس کے باوجود امی سے یہ بات پوچھنی آسان نا تھی ہلکی پھلکی چھیڑ خانی تو ہو بھی جاتی تھی اور مزاق بھی مگر اس حد تک کیا میں جا سکتا ہوں یہ مجھے یقین نہیں تھا ۔ میں نے امی کی گرف دیکھا اور سر جھکا کہ چلنے لگا امی بھی ہلکی سی مسکرا کہ چلنے لگیں اور ہماری درمیان ایک چپ سی چھا گئی۔ کچھ دیر چلنے کے بعد امی بولیں یہ بندر والی بات کسی کو نا بتانا بس اپنے تک رکھنا میں نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا ۔تھوڑا ہی آگے جا کہ دیکھا تو ابو لوگ بھی کھڑے تھے اور چھوٹی بہن کو الٹیاں ہو رہی تھیں ہم جلدی سے ان کے پاس پہنچے اور امی اس کے پاس بیٹھ گئیں۔ تھوڑی دیر میں جب اس کی طبعیت سنبھلی تو ابو نے ہوٹل چلنے کا کہا کہ سب ہوٹل چلتے ہیں تو امی نے انہیں منع کر دیا اور کہا کہ نہیں آپ بچوں کے ساتھ انجوائے کرو میں اس کو ہوٹل لے جاتی ہوں لیکن ابو امی کو اکیلے بھیجنے پہ راضی نہ ہوئے تو میں نے کہا ابو میں بھی ہوٹل چلا جاتا ہوں امی کے ساتھ اور امی کی طرف دیکھا۔ ابو یہ بات سن کہ چپ ہوئے تو امی نے بھی ان کو کہا کہ آپ انجوائے کرو میں اور علی چلے جاتے ہیں اس کی طبعیت سنبھلی تو پھر نکل آئیں گے ۔ اس بات پہ ابو نے اتفاق کر لیا اور ہم واپس ہوٹل کی طرف لوٹ آئے ۔ ہوٹل تک پہنچتے پہنچتے چھوٹی سو چکی تھی ہم باری باری اسے اٹھا کر ہوٹل کے کمرے میں پہنچ گئے ہم نے کمرے کی چابی لی اور کمرے میں داخل ہو کہ میں نے دروازہ بند کر دیا اور امی چھوٹی کو بیڈ پہ لیٹا کر اس کے ساتھ بیڈ پہ لیٹ گئیں

امی چھوٹی کے ساتھ بیڈ پہ لیٹ گئیں اور میں جوتے اتار کر کمرے میں سنگل صوفے پہ بیٹھ گیا ہمارے درمیان ایک چپ سی چھائی ہوئی تھی مین نے امی کی طرف دیکھا تو ان کا لباس بے ترتیب ہو رہا تھا اور وہ چپ لیٹی ہوئی تھیں میں بھی تھوڑی دیر چپ رہا اور پھر اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کی طرف چلا گیا اور پردہ ہٹا کر باہر دیکھنے لگ گیا۔ ہوٹل ایک پہاڑی پہ بنا ہوا تھا اور کھڑکی کھولتے ہی ایک حسین منظر سامنے تھا اونچی اونچی پہاڑیاں درختوں اور سبزے سے ڈھکی ہوئی تھیں اور نیلے نیلے آسمان پہ ہلکے ہلکے بادل تیر رہے تھے اور انتہائی تازہ تازہ مہکی ہوا چل رہی تھی ۔ میں نے اس تازہ ہوا کو اپنے منہ پہ محسوس کیا اور گہری سانس لینے لگا۔ اسی دوران مجھے پیچھے کمرے میں ہلکی سی آواز آئی تو میں نے دیکھا کہ امی اٹھ کر باتھ کی طرف جا رہی ہیں اور ان کی قمیض ان کے بھاری چوتڑوں میں پھنسی ہوئی ہے میں نےجب دیکھا تو وہ باتھ کے دروازے سے اندر ہو رہی تھیں اور باتھ میں داخل ہوتے انہوں نے دروازے کو پیچھے دھکیل دیا لیکن انہوں نے دروازے کو کنڈی نا لگائی ۔ انہوں نے شائد یہی سوچا ہو گا میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں لیکن میں نے دیکھا کہ جب انہوں نے دروازہ نہیں بند کیا تو میرے زہہن میں شرارت آ گئی ۔ میں دبے قدموں سے باتھ کی طرف بڑھا اور اس سے پہلے ایک نظر سوتی ہوئی چھوٹی بہن کو دیکھا اور پھر قدم بڑھاتا باتھ کی طرف بڑھتا گیا اور باتھ کے دروازے کو ہلکا سا پش کیا اور دروازہ نے آواز کھلتا گیا ۔ دروازے کے بالکل قریب ٹوائلٹ سیٹ تھی اور امی اس پہ بیٹھی خود کو دھو رہی تھیں ان کی پشت میری طرف تھی اور ان کی شلوار نیچے تھی اور قمیض بھی چوتڑوں سے بہت اوپر تھی اور وہ پاوں کے بل بیٹھی ہوئی تھیں ان کا منہ دوسری طرف تھا میں نے دروازہ بغیر کوئی آہٹ پیدا کیے بہت احتیاط سے کھولا تھا اور چپکے سے ان کو دیکھا لیکن میری نظر پڑتے ہی وہ میری طرف دیکھے بغیر بولیں سچ ہی کہا تھا کسی سائنسدان نے کہ انسان پہلے بندر تھا اور بندر سے انسان بنا لیکن تم انسان سے اب بندر والی حرکت کر رہے ہو بدتمیز اور یہ بھول گئے کہ میں تمہاری ماں ہوں ۔ میں یہی سمجھ رہا تھا کہ ان کو میرے دیکھنے کا علم نہیں ہو گا لیکن اس بات نے میرا زہہن فورا بدلا دیا اور میں نے دیکھا کہ ان کی بات میں غصہ نہیں ہے تو میرا بھی ڈر ختم ہو گیا۔ میں نے بھی وہیں کھڑے کھڑے ان کے ننگے بدن کو دیکھتے ہوئے کہا۔ مجھے کوئی افسوس نہیں ہے نا ہی شرم ہے جس چیز کو دیکھ کر جانور نا صبر کر سکیں تو میں کیسے کروں۔ امی نے اوپر اٹھتے ہوئے کہا یہی تو فرق ہوتا ہے ایک انسان اور جانور میں کہ انسان خود کو قابو میں رکھے اور وہ اوپر اٹھیں اور پھر نیچے جھک کہ اپنی شلوار کو اوپر کرنے لگیں اور انہوں نے اپنی گانڈ ساری میری طرف موڑ کر ہاتھ نیچے شلوار کی طرف کئیے تو ان کی گول موٹی گانڈ ان کے جھکنے سے اس طرح کھلی کہ گانڈ کے سوراخ کے ساتھ مجھے ان کی پھدی کا بھی اچھے سے دیدار ہو گیا ۔ امی نے جب شلوار اوپر کرنے میں تاخیر کی تو میں کچھ سمجھتے کچھ نا سمجھتے ہوئے اندر داخل ہو گیا امی نے میرے قدموں کی چاپ سن کر میری طرف مڑ کہ دیکھا تو ان کے چہرے پہ شرم کے تاثرات تھے لیکن یہ بات مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ شلوار پوری اوپر کیوں نہیں کر رہی ہیں انہوں نے شلوار ایسے اوپر کر کہ چھوڑ دی تھی کہ ان کی گانڈ کی ادھ ننگی پہاڑیاں نظر آ رہی تھیں وہ میری طرف مڑیں تو ان کے سینے پہ میری نظر پڑی جو کہ ادھے سے زیادہ گلے سے باہر جھانک رہے تھے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئین اور میری کنپٹیاں سلگنے لگیں امی نے میری طرف دیکھا اور بولیں مجھ میں اور کلثوم میں فرق ہے اور ہمارا کوئی رشتہ بھی ہے یہ بات ہم دونوں اگر یاد رکھیں تو فائدے کی ہے لیکن یہ بات کرتے ہوئے ان کے چہرے پہ کوئی غصہ نہیں تھا۔ کلثوم آنٹی کے حوالہ سے مجھے ایک دم شرمندگی سی محسوس ہوئی اور میری آنکھیں ایک لمحے کو جھک گئیں اور مجھے تھوڑی چپ سی لگ گئی۔ میں نے کچھ پلان تو کیا ہوا نہیں تھا بس وقت کے ساتھ ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا اسے گزار رہا تھا ہم باتھ میں اتنے قریب کھڑے تھے کہ مجھے امی کی بدن کی مہک محسوس ہو رہی تھی۔ امی نے پھر بات شروع کی اور بولیں ۔ دیکھ علی میں جانتی ہوں تم جوان ہو چکے ہو اور یہ بھی سمجھتی ہوں کہ جوانی کے بہت تقاضے ہوتے ہیں لیکن ہم پہ بھی کچھ زمہ داریاں ہوتی ہیں میں تمہاری ابھی شادی کرا سکتی ہوں جہاں تم چاہو گے وہیں پہ لیکن اس کے لیے تمہیں خود پہ قابو رکھنا ہو گا اوراب تم بچے تو ہو نہیں کہ یہ باتیں نا سمجھ سکو میں ایک دوست بن کہ تمہارا ساتھ تو دے سکتی ہوں لیکن ہم کچھ حدود کے پابند بھی تو ہیں جہاں ہمیں اس رشتے کی لاج رکھنی ہے میں سر جھکائے ان کی باتیں سن رہا تھا اور میرے دل میں جو امیدوں کے چراغ تھے ایک ایک کر کہ بجھتے جا رہے تھے کبھی مجھے لگتا تھا امی مجھے اپنا آپ سونپ دیں گی اور اگلے ہی لمحے وہ مجھ سے ہزاروں میل دور ہو جاتیں تھیں۔ زبانی کلامی یہ باتیں سوچنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن کسی خونی رشتے سے جسمانی تعلق بنا لینا ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے جس کے لیے تو سالوں گزر جاتے ہیں ۔ میں نے امی کی طرف دیکھا تو شائد میرے چہرے پہ لکھی ہوئی مجبوری واضح نظر آ رہی تھی میں نے ایک طرح ٹوٹے دل سے ان کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پہ عجیب سی مسکراہٹ تھی امی واش بیسن کی طرف مڑیں اور جھک کر منہ دھونے لگیں ۔ میں نے ایک نظر امی کے پیچھے سے جھانک کر امی کا چہرہ شیشے میں دیکھا تو وہ منہ پہ صابن لگا رہی تھیں ان کی قمیض چوتڑوں سے ہٹی ہوئی اور چوتڑ بھی ادھے ننگے تھے اور میں اب ان کے پیچھے کھڑا تھا ۔ میں نے جب دیکھا کہ امی منہ پہ صابن لگا رہی ہیں تو میں فورا پاوں کے بل امی کے پیچھے نیچے بیٹھا اور ان کی شلوار کو پکڑ کر ان کے گھٹنوں تک اتار دیا اور ان کے بھاری چوتڑ سائیڈوں سے پکڑ کر اپنا منہ ان پہ رگڑنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی میں نے ان کی شلوار اتاری ان کے منہ سے بے ساختہ ہلکی سی چیخ نکلی اور بولیں اوئے بدتمیز ابھی اتنا کچھ سمجھایا تھا مگر تمہیں کوئی اثر نہیں ہے لیکن یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا آپ مجھ سے چھڑانے کی کوئی کوشش نہ کی اور ہاتھ آگے واش بیسن پہ رکھ کہ جھک گئین میں نے اپنا منہ ان کے چوتڑوں کے ساتھ رگڑتے ہوئے کہا بس امی جتنی دیر آپ منہ دھو رہی ہیں اتنی دیر دیکھنے دو پلیز ۔۔ میری سانس اکھڑ چکی تھی اور جزبات کی شدت سے میں ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔ انہوں نے کچھ بولے بغیر اپنا منہ دھونا شروع کر دیا میں نے اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹانگوں کے درمیاں سے گزارتےہوئے ان کی پھدی کے موٹے ہونٹوں پہ رکھ دیا اور وہاں رگڑنے لگا جو کہ گیلی ہوئی تھی امی کے جسم کو ایک جھٹکا لگا مگر وہ کچھ نا بولیں اور اپنا منہ دھونے میں مصروف رہیں میں نے بھی نیچے سے ہاتھ گھسا کہ ان کی پھدی کو ہاتھ سے مسلنے کے عمل کو تیز کر دیا اور ان کی موٹی گوری گانڈ کو چومتا اور دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹنے لگ گیا

The post بیتے لمحے 13 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-13/feed/ 0
شریف بہن 12 https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-12/ https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-12/#respond Sat, 08 Nov 2025 17:10:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-12/         انسان بن جاؤ۔۔۔۔۔ صبح صبح کیا موت پڑگئی تم کو ہاں۔ اب جاؤ یہاں سے کیوں مرواؤ گے مجھے بھی۔ خدا کیلئے چلے جاؤ۔۔۔ تو میں نے ایک شیطانی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ ایک شرط پر جاؤں گا۔۔۔۔ تو وہ حیرت اور خوف بھرے لہجے میں بولیں ،،،، شرط […]

The post شریف بہن 12 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

   

 

انسان بن جاؤ۔۔۔۔۔ صبح صبح کیا موت پڑگئی تم کو ہاں۔ اب جاؤ یہاں سے کیوں مرواؤ گے مجھے بھی۔ خدا کیلئے چلے جاؤ۔۔۔ تو میں نے ایک شیطانی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ ایک شرط پر جاؤں گا۔۔۔۔ تو وہ حیرت اور خوف بھرے لہجے میں بولیں ،،،، شرط ،،،،

ہاں آپی مجھے بس ایک دفعہ اپنے پیارے مموں کا دیدار کروا دو میں چلا جاؤں گا۔ تو آپی بولیں اس وقت ایسی کیا آگ لگی ہے تمہیں۔ آپی نے اپنی کیفیت پر قابو پا لیا تھا اور اب خوف کا اثر نہیں تھا ان پر لیکن ان کے چہرے پر ابھی بھی جھنجھلاہٹ موجود تھی۔ میں نے آپی کی منت سماجت کرتے ہو کہا۔ میری پیاری بہنا نہیں پھر ۔۔۔۔۔۔ جلدی سے دکھا دو نا۔ آپی بولیں کمینے بہنا کیا صرف اس کام کیلئے رکھی ہوئی ہے۔ میں نے کہا چلو نا یار اب دکھا بھی دو۔ تو وہ سراسیمگی سے بولیں اگر عین اسی وقت ناز آگئی تو ۔۔۔۔۔ میں نے کہا دیکھو ابھی شاور چل رہا ہے اس کے باہر آنے سے پہلے شاور بند ہو گا۔

چلو اب ضد مت کرو جلدی ممے نکالو۔ تو آپی نے واش روم کی طرف دیکھتے ہوئے آواز بلند کی۔۔۔۔ ناز اور کتنی دیر لگاؤ گی۔ بس آپی صرف پانچ منٹ میں آتی ہوں ناز نے اندر سے ہانک لگائی۔۔۔ میں مسکرا کر آپی کے پاس ہوا اور کہا پانچ منٹ کافی ہیں ہمارے پاس۔ تو آپی کمرے کے دروازے کے ساتھ اپنی کمر دبا کر کھڑی ہوئیں اور اپنی قمیض اٹھا دی۔ آپی نے برا نہیں پہنی ہوئی تھی۔ لو خبیث دیکھ لو اپنی سگی بہن کے ممے اور جاؤ یہاں سے آپی دانت پیستے ہوئے بولیں۔ میں نے آگے بڑھ کر مموں کو پکڑا اور ایک دم نیچے ہو کر ایک نپل منہ میں لیکر چوسنے لگا۔ میری زبان لگنے کی دیر تھی کہ آپی کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولیں۔۔۔۔ 

یہ کیا ہے یار کہتے کچھ ہو اور کرتے کچھ ہو۔ دیکھنے کی بات ہوئی تھی تم تو چوسنے لگے۔ ہٹو پیچھے جلدی بس اب ناز آنے ہی والی ہے۔ میں نے فٹافٹ دونوں مموں کو چند بار چوسا اور ایک نظر مموں پر ڈال کر کہا کہ اب یہ میرا روز کا ناشتہ ہوا کرے گا تیاری میں رہا کریں۔ آپی نے اپنی قمیض سیدھی کرتے ہوئے کہا۔۔۔ بکواس مت کرو میں خواہ مخواہ ایسے رسک نہیں لوں گی سمجھے !!!؟؟ میں ہنستا ہوا باہر کی طرف جانے لگا ابھی دو قدم ہی بٹھائے تھے کہ واش روم کا دروازہ کھلا اور ناز اپنے مموں سے لیکر گانڈ تک تولیہ لپیٹے باہر نکلی۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر میرے لن نے ایک جھٹکا کھایا۔ 

اور میری نظریں اس کے مموں کے ابھاروں پر ہی جم گئیں۔ ناز بھی چار قدم باہر آئی ہی تھی کہ مجھے پر نظر پڑتے ہی اچھلی اور چلاتے ہوئی بولی بھائی آپ یہاں اور بھاگتے ہوئے واپس واشروم میں گھس گئی۔ میں اور آپی دونوں اس سیچویشن پر کنفیوز ہو چکے تھے تبھی میں بے ساختہ بولا سوری ناز وہ اوپر ناظم اور نیچے ابو واش روم میں ہیں تو میں ادھر چلا آیا۔۔۔۔۔ لیکن آپ مجھے بتا تو دیتے کہ آپ یہاں کمرے کے اندر ہیں۔ وہ بدستور غصے سے بولی۔ اچھا میری ماں غلطی ہو گئی مجھ سے۔۔۔ اب جا رہا ہوں باہر۔ یہ کہہ کر میں نے آپی کو دیکھا اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر ایسے اشارہ کیا جیسے ممے ہوں اور پھر واش روم کی جانب انگلی کر کے اشارہ کرتے ہوئے انگلی اور انگوٹھے کا سر کل بنا کر ایسے ہاتھ ہلایا جیسے کہہ رہا ہوں کہ دیکھے ناز کے ممے کیا مست لگ رہے

ہیں۔ 

آپی میری بات سمجھ کر مسکرا دیں اور مجھے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ ناز باہر آ جاؤ ساگر جا چکا ہے یہ آخری جملہ میں نے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے سنا اور سیدھا باہر والے مین واشروم میں گھس گیا۔ ناز کو پہلی بار اتنے غور سے اتنے قریب اس حالت میں دیکھ کر میرا لن فل تنا ہوا تھا اور بیٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ناز کے ممے بھی کافی پیار تھے اور اس کے کولہوں کی شیپ بھی بہت پیاری تھی۔ ناز کے مموں کا سائز تقریباً32 اس کی رنگت آپی کی نسبت تھوڑی سانولی تھی۔ اس کا قد تقریباً چار فٹ آٹھ انچ تھا۔ اور جسامت کے لحاظ سے وہ دبلی پتلی ہے خیر کسی نا کسی طرح میں نے اپنے دماغ کو کنٹرول کیا اور لن کو بٹھا کر واشروم سے فارغ ہو کر باہر آیا۔

ابو کا لیپ ٹاپ ان کے حوالے کیا اور ناشتہ کر کے کالج نکل گیا۔ اگلے دو دن تک آپی کی پریزنٹیشن چلتی رہی جس کی وجہ سے وہ ہمارے کمرے میں نہیں آسکیں اور ہم لوگوں نے بھی آپس میں کچھ نہیں کیا۔ پھر تیسرے دن میں نے کالج سے آکر تھوڑا آرام کیا آج آپی کی سخت ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ شام کی چائے پینے کیلئے میں نیچے گیا تو آپی نے بھی نظریں بچا کر سیکس کی حدت سے بوجھل لہجے میں مجھے بتایا کہ آج رات وہ ہمارے کمرے میں ضرور آئیں گی۔ رات کو کمرے میں دو دن اور دو رات کے انتظار کے بعد آج آپی کے آنے کی خوشی میں ہم دونوں کپڑے اتار کر اپنے لن ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھے آپی کا شدت سے انتظار کر رہے تھے کہ آپی کمرے میں داخل ہوئی اور ہمارے کھڑے لن دیکھ کر ان کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ 

فور کمرہ لاک کیا اور اپنی قمیض اور برا نکال پھینکی۔ اتنی دیر میری ہمت جواب دے گئی اور میں بھاگتا ہوا آپی کے پاس گیا اور اپنے دونوں بازوؤں کو ان کی کمر سے لپٹ کر اپنے ہونٹوں سے ان کے چہرے کو چاٹنے لگا۔ آپی بھی دو دن سے اپنے جسم کی آگ دبائے بیٹھی تھیں۔ اس لیے جیسے ہی ان کے ممے اور نپلز میرے بالوں بھرے سینے سے ٹچ ہوئے ان کے منہ سے سسکاری سنائی دی اور ساتھ ہی ان کی آنکھیں بند ہو گئیں اور انہوں نے بھی اپنے بازو میرے گرد لپیٹ کر مجھے اپنے ساتھ دبانا شروع کر دیا اور ساتھ ہی میری کمر کو اپنے ہاتھوں سے سہلانے لگیں۔ کچھ دیر میں اور آپی ایسے ہی کھڑے ایک دوسرے کے جسموں کو محسوس کرتے رہے۔ 

پھر میں نے اپنے ہونٹ آپی کی گردن سے ہٹا کر ان کے لبوں پر رکھے اور ان کو چومتے اور چوستے ہوئے آپی کو تقریباً گھسیٹ کر بیڈ پر لے گیا۔ ناظم ہم دونوں کی حرکات دیکھ کر دم بخود بیٹھا تھا۔ کیونکہ میں نے اسے دو دن پہلے آپی کے ساتھ ہوئے سیکس کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔ میں آپی کو لیکر بیڈ پر لیٹ گیا۔ آج آپی کے انداز میں بہت گرم جوشی تھی وہ بہت ہی بے چینی سے کبھی میرے ہونٹوں کو چوسنے لگتیں اور کبھی اپنے ممے میرے سینے پر رگڑنے لگتیں۔ کچھ دیر ایسے ہی میرے ہونٹوں اور زبان کو چوسنے کے بعد آپی سیدھی لیٹ گئیں اور میں آپی کے اوپر آ کے گردن سے ان کو چاٹنا شروع ہوا اور چاٹتے ہوئے نیچے آنے لگا۔

اب میرا منہ ان کے سینے پر تھا اور میں آپی کے سینے کی دھک دھک صاف سن رہا تھا آپی کا سانس تیز چل رہا تھا۔ میں نے آپی کے ایک ممے کو چوسنا شروع کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے بڑے غیر محسوس طریقے سے آپی کی شلوار کو نیچے سر کانے لگا وہ تو شکر ہے کہ آپی کی شلوار میں الاسٹک تھا۔ جب آپی کو محسوس ہوا کہ میں ان کی شلوار اتار رہا ہوں تب تک آپی کی شلوار اتنی اتر چکی تھی کہ ان کی پھدی کے اوپری حصے پر موجود دانے کو دیکھا جا سکتا تھا۔ آپی نے فٹافٹ اپنا ہاتھ اپنی پھدی پر رکھ لیا اور بولیں نہیں ساگر پلیز شلوار مت اتارو جو کرنا ہے اوپر اوپر سے ہی کر لو میں نے آپی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اس ہاتھ کو اپنی کمر پر رکھ دیا اور دونوں ہاتھوں سے ان کے ممے دباتے ہوئے چوستا رہا۔ 

اسی دوران میری نظر ناظم پر پڑی تو میں نے اسے اشارہ کیا کہ وہ آ کر آپی کے دوسرے ممے کو چوسنا شروع کرے۔ وہ تو جیسے میرے اشارے کا ہی انتظار کر رہا تھا ایک دم سے آگے آیا اور آپی کے دوسرے ممے پر ٹوٹ پڑا۔ میں بائیں سائیڈ پر تھا اور ناظم آپی کے دائیں ممے کو ہاتھ میں پکڑ کر دباتے ہوئے نپل کو جنگلیوں کی طرح چوسنے لگا۔ آپی نے آنکھیں کھول کر اپنے دونوں سگے بھائیوں کو اپنے ممے چوستے دیکھا تو مچل سی گئیں اور اپنے دونوں ہاتھ ہمارے سروں کے اوپر رکھ کر مموں پر دبانے لگیں۔ آپی کی سانسیں بہت تیز ہو گئی تھیں اور اب وہ مدہوش ہو رہی تھیں۔ 

میں نے ایک بار پھر اپنے ہاتھ کو ان کی شلوار پر رکھ کر دوسرے ہاتھ کو ان کی کمر میں ڈال کر تھوڑا اٹھایا اور ایک جھٹکے سے ان کی شلوار گانڈ سے نیچے کر دی۔ آپی نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ میں نے آپی کے ہونٹوں کو دبوچ کر آپی کا منہ بند کر دیا۔ ناظم کے انداز میں جنگلی پن نمایاں تھا وہ بری طرح سے آپی کے ممے کو بھنبھوڑ رہا تھا جیسے ہی میں نے مے سے منہ ہٹایا اس نے دوسرے ہاتھ سے اس ممے کو بھی جھپٹ لیا اور بے دردی سے دبانے لگا۔ میں نے آپی کے ہونٹوں کو چھوڑا اور آپی کو اشارہ کیا تو وہ میرے اشارے کو سمجھ گئیں اور اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی۔ 

میں آپی کی زبان کو شدت سے چوسنے لگا۔ آپی کو زبان چسوانے میں بہت مزہ آتا تھا اور اسی چیز کا میں نے فائدہ اٹھایا اور اپنا ہاتھ آہستہ سے نیچے لیجا کر آپی کی پھدی پر رکھ کر پھدی کو اپنی مٹھی میں جھکڑ لیا۔۔۔۔ پھدی پر میرا ہاتھ محسوس ہوتے ہی آپی مچل اٹھیں لیکن زبان میرے منہ میں ہونے کیوجہ سے کچھ بول نا سکیں اور میں زور زور سے ان کی زبان چوستا رہا اور ہاتھ سے پھدی کو دبوچتا اور چھوڑتا رہا۔۔۔۔۔۔

میں نے کچھ دیر تیزی سے آپی کی پھدی کے دانے کو مسلا اور پھر میری انگلیاں آپ کی چوت کی انٹرنس پر آ کر رک گئیں۔ آپی کی حالت بن پانی مچھلی جیسی ہو گئی تھی۔ اور آپی نے خود ہی اپنی تیز سانسوں کے دوران اپنی شلوار کو پاؤں کی مدد سے ہی بلکل آخر تک پہنچایا اور اپنی ٹانگیں کھول دیں۔ آپی کی پھدی بہت گیلی ہو رہی تھی۔ میں نے ان کی ٹانگوں کو کھلتا محسوس کر لیا تھا اور پھدی سے نکلتے ہوئے پانی نے بھی مجھے سمجھا دیا تھا کہ اب آپی کا دماغ پھدی کے کنٹرول میں آگیا ہے تبھی میں نے آپی کی زبان کو آزاد کر دیا تو آپی نے بھی آنکھیں کھول دیں۔ 

میں نے آپی کی پھدی پر رکھا ہوا ہاتھ اٹھایا جو کہ پھدی کے جوس سے لتھڑا ہوا تھا اور آپی کو دکھاتے ہوئے اپنی ساری انگلیاں چاٹ گیا اور آپی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراتے ہوئے بولا۔ واہ کا ٹیسٹی جوس ہے میری بہنا کی پھدی کا ۔ آپی نے شرم سے منہ دوسری طرف کر لیا۔ اور میں آہستہ سے نیچے سرکا اور اپنی زبان آپی کی ناف میں ڈال دی۔ ناظم نے بھی اسی وقت آپی کے نپل کو زور سے کاٹا اور اوپر کھینچا تو آپی کے منہ سے تکلیف دہ کراہ نکلی اور آپی نے دونوں ہاتھوں سے ناظم کے سر کو ممے پر واپس دبا دیا۔ میں ناف کے اندر زبان پھیرنے کے بعد پورا پیٹ چاٹتا ہوا نیچے رانوں کی طرف جانے لگا۔ 

پھر پوری ران کے اندرونی اور بیرونی حصے پر لپلپاتی زبان کو محسوس کر کے آپی کا جسم تھر تھرانے لگا۔ میں ران کو چاہتے ہوئے نیچے پنڈلیوں سے ہوتا ہوا پاؤں تک پہنچا اور آپی کی شلوار اتار کر سائیڈ پر کر دی۔ پھر پاؤں کو اوپر سے چاٹنے کے بعد تلوے کو چاٹا اور پاؤں کی ساری انگلیاں باری باری چوستا گیا۔ اس کے بعد میں نے آپی کے دوسرے پاؤں کو پکڑا اور اسی طرح ایک ایک انچ کو چاہتے ہوئے آپی کی ناف تک آیا۔۔۔۔

پھر میں اٹھ کر آپی کی ٹانگوں کے درمیان لیٹ گیا۔ اور پھدی کے بالوں والی جگہ کو چومتے ہوئے آپی اور ناظم کی طرف دیکھا۔ تو آپی آنکھیں بند کیے ہوئے ناظم کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں جبکہ ناظم آپی کے مموں کو ایسے جھنجھوڑ رہا تھا کہ جیسے زندگی میں کبھی دوبارہ نصیب ہی نہیں ہوں گے۔۔۔ میں آپی کی پھدی کے بالوں والے حصے کو چومنے کے بعد تھوڑا اٹھا اور آپی کی رانوں کے نیچے سے ہاتھ گزار کے ٹانگوں کو تھوڑا اٹھایا اور ٹانگیں کھول دیں۔ اور اپنا منہ پھدی کے پاس لا کر ایک انچ کے فاصلے پر رک گیا اور غور سے پھدی کو دیکھنے لگا۔۔ 

میری بہنا کی پھدی پوری طرح گیلی ہو رہی تھی اور پھدی کے

پانی سے چمک رہی تھی۔ آپی کی چوت کے دونوں گلابی خوبصورت ہونٹوں میں چھپے دو گلاب کی پنکھڑیوں جیسے پردے پھڑکتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ اور گوشت کا وہ لٹکا ہو ا حصہ جس میں دانہ چھپا ہوتا ہے کانپ رہا تھا۔۔

آپی نے اپنی پھدی پر میری تیز اور گرم سانسیں محسوس کر لیں تھی تبھی انہوں نے ناظم کے سر کو پکڑ کر مموں سے ہٹایا اور کہنیوں کے بل تھوڑا اوپر اٹھ کر نشیلی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگیں۔ میں نے ایک نظر آپی کو دیکھنے کے بعد اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے ناک کے ذریعے ایک لمبا سانس اندر کھینچا اور آپی کی پھدی سے اٹھتی ہوئی مدھر مہک میری سانسوں کے ساتھ سیدھا میرے دل و دماغ پر اثر کر گئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں نے ڈرگز کی بھاری مقدار اپنے اندر اتار لی ہو۔ مجھ پر ایک نشہ سا طاری ہو گیا۔ میری تمام سوچیں اور احساسات اپنی بہن کی پھدی پر ہی مرکوز ہو گئے تھے۔ 

آپی کے چہرے پر بے تابی ظاہر ہو رہی تھی کیونکہ وہ سمجھ گئی تھیں کہ میرا اگلا عمل کیا ہوگا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں تو آپی نے سر سے مجھے آگے ہونے کا اشارہ کیا۔ لیکن میں چپ چاپ پھدی کی مہک لیتا رہا۔ تبھی آپی کی آواز سنائی دی، ساگر اب اور نہ تڑپاؤ چوسو نا یار پلیز… لیکن مجھے گم صم دیکھ کر آپی کی برداشت جواب دے گئی۔ آپی نے اپنی گانڈ کو آگے جھٹکا مارتے ہوئے اپنی پھدی کو میرے منہ سے لگا دیا۔ اور میں ایک دم ہوش میں آگیا۔ اور اپنا منہ جتنا کھول سکتا تھا کھول کر اپنی بہن کی پھدی کو اپنے منہ میں بھر لیا اور اپنی پوری طاقت سے پھدی کو چوسنے لگا۔ اور ساتھ ہی اپنے دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں آپی کے منہ میں دیں تو آپی نے چوس کر اپنے تھوک سے انگلیاں گیلی کر دیں اور انہیں انگلیوں کی مدد سے میں نے پھدی کے دانے کو سہلانا شروع کر دیا۔ 

آپی کی چوت کے رس کی وجہ سے مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میری منہ میں نمک کھل گیا ہو۔ پھر میں نے اپنے ہونٹوں سے پھدی کے دانے کو پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ میں نے جیسے ہی آپی کے دانے کو چوسا تو۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔اف ففف۔۔۔۔ ساگر رررر۔۔۔۔۔۔ میرے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔ کہہ کر آپی نے ایک جھٹکے سے خود کو بیڈ پر گرا دیا اور اپنا سر ادھر ادھر مارنے لگیں۔ میں نے اپنی انگلیوں کی مدد سے آپی کی چوت کے پردوں کو ہٹایا اور پھدی کے نچلے سرے پر زبان رکھ کر اوپر کی طرف ایک زور دار چاٹا لگایا۔ اور پھر اوپر سے نیچے کی طرف اسی طرح چاٹنے لگا۔ 

پھر میں اپنی زبان کو رول کر کے آپی کی پھدی میں ڈال کر اسے زبان سے چودنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی آپی کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور آپی نے اپنی گانڈ اوپر اٹھا کر لرزتے، کانپتے ہوئے منی چھوڑ دی۔ میں لپا لپ سارا جوس اپنی زبان سے اکٹھا کر کے اپنے منہ میں جمع کرتا گیا۔ دو منٹ بعد ہی آپی سکون سے لیٹ گئیں اور میں اٹھ کر آپی کے سامنے بیٹھ کر بولا آپی آنکھیں کھول کر دیکھو۔ آپی نے دیکھا تو میرے منہ میں آپی کی چوت کا رس نظر آیا اور میں نے بڑے سیکسی انداز میں منہ کھول کر دکھایا۔۔۔۔۔ آکھ ہی گندے۔۔۔۔۔ 

اور آپی منہ دوسری طرف کرنے ہی لگی تھیں کہ میں نے اپنے ہاتھ کے شکنجے میں ان کا جبڑا کس لیا اور ان کا منہ کھلا رہ گیا ساتھ ہی میں نے اپنا منہ آپی کے منہ سے جوڑ دیا اور ان کی چوت کے رس کو ان کے ہی منہ میں انڈیل دیا۔ ساتھ ہی میں آپی کے ہونٹ چوسنے لگا کچھ دیر تو آپی اپنا منہ چھڑوانے کی کوشش کرتی رہی پھر وہ بھی میرے ہونٹوں کو چوسنے لگیں سارا پانی ہم دونوں کے گالوں پر پھیل گیا تھا لیکن اب آپی کو اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ ناظم ہم دونوں سے بے پرواہ آپی کے جسم میں ہی کھویا ہوا تھا کبھی ان کے ممے چوستا تو کبھی ان کی ناف میں زبان گھماتا۔ 

پھر جب اس نے آپی کی پھدی کو خالی دیکھا تو اٹھ کر اپنا منہ پھدی سے لگا کر چاٹنے لگا۔ میں اور آپی کچھ دیر یونہی کسنگ کرتے رہے پھر میں نے ان کے منہ سے اپنا منہ ہٹایا تو ان کا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی اور میں نے کہا۔۔۔ کیوں بہنا جی۔۔۔۔۔ مزہ آیا اپنی ہی پھدی کا جوس چکھ کر۔۔ آپی نے بھی مسکرا کر مجھے دیکھا اور کہا۔ تم تو گندے ہو ہی اپنے ساتھ مجھے بھی گندہ بنا دیا۔۔۔ اور پھر ناظم کی طرف دیکھ کر کہنے لگیں۔ تم سے ذرا بھی صبر نہیں ہوا۔۔۔ مجھے سانس تو لینے دو۔۔۔ ایسے تو تم لوگ میری جان ہی نکال دو گے۔۔۔۔۔ لیکن ناظم آپی کی بات پر کان دھرے بغیر اپنے کام میں مگن رہا۔۔۔ 

آپی نے اپنے ہاتھوں پر زبان پھیر کر ایک بار پھر اپنی منی کو چاٹا اور شرارت سے مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ ویسے اتنا برا بھی نہیں تھا اس کا ٹیسٹ۔۔۔۔ اور میں کھکھلا کر ہنس پڑا۔ پھر میں نے آپی کو کہا ، آپی کھڑی ہو جاؤ،،، آپی نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے ناظم کو ہٹا کر آپی کو کھڑا کر دیا۔ جیسے ہی آپی کھڑی ہوئی ناظم تیر کی طرح پھر سے ٹانگوں میں بیٹھ کر پھدی چاٹتے ہوئے بولا آپی پلیز اپنی ٹانگیں تو تھوڑی کھولیں نا۔ آپی نے اپنی ٹانگیں تھوڑی کھول دیں اب وہ پھر سے گرم ہونے لگی تھیں۔ میں آپی کے پیچھے آیا اور اپنے کھڑے لن کو آپی کے چوتڑوں میں پھنسا دیا اور دونوں ہاتھ آگے لیجا کر ان کے مموں کو پکڑ کر دبانے لگا۔ 

جیسے ہی آپی نے میرا ننگا لن اپنی گانڈ پر محسوس کیا تو۔۔ ایک آہ بھرتے ہوئے اپنے ہاتھ میرے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے اپنے سر کو پیچھے میرے کندھے پر لگایا اور اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دبا دیا۔ ناظم مسلسل پھدی کو ایسے چاٹ رہا تھا جیسے کل کبھی نہیں آئے گی۔ میں نے آپی کا ہاتھ پکڑ کر

اپنے لن پر رکھ دیا جسے آپی نے فوراً آگے کھینچ لیا۔ میں نے پھر ایسی کوشش نہیں کی اور آپی کی گردن سے چاٹنا شروع ہوا اور چاہتے چاہتے کمر سے ہوتا ہوا سیدھا آپی کی گانڈ پر آیا اور آپی کے چوتڑوں کو چاٹنے لگا۔ پھر میں نے آپی کے چوتڑ تھوڑا کھولے تو اندر گانڈ کا سوراخ دکھائی دیا۔ 

یہ سوراخ باقی جسم کی مانند گلابی نہیں تھا بلکہ اس کا رنگ گہرا براؤن تھا۔ آپی دو طرفہ مزے کے تحت آہیں بھرتے ہوئے لمبے لمبے سانس کھینچ رہی تھی جس سے آپی کی گانڈ کا سوراخ کبھی کھل رہا تھا تو کبھی بند ہو رہا تھا۔ وہاں بہت باریک باریک اور ابھری ہوئی رگیں تھیں جو کہ گانڈ کے سوراخ میں جا رہی تھیں۔ میں نے بغور دیکھنے کے بعد آگے ہو کر سوراخ کو چاٹنا شروع کر دیا اور میری زبان کا لمس اپنی گانڈ پر محسوس کرتے ہی آپی نے ایک جھرجھری سی لی اور لذت کی ایک شدید لہر ان کے جسم میں سراہت کر گئی اور وہ آگے جھکتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔

اف فف ساگر رررررر۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ،،،، میں نے گانڈ کے سوراخ کو چاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی زبان نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے گانڈ کی دراڑ میں پھرنا شروع کی۔ آپی کے بے ساختہ انداز نے مجھے سمجھا دیا تھا کہ ان کو بھی گانڈ چٹوانے میں بہت مزہ آرہا ہے۔ آپی کے آگے جھکنے کی وجہ سے میرا کام اور آسان ہو گیا تھا۔ اب میری زبان بڑی آسانی سے آپی کی گانڈ کی دراڑ میں گھوم رہی تھی۔ جبکہ ناظم ابھی تک پھدی چاٹ رہا تھا۔ آپی کی خواری اور بڑھتی چلی جا رہی تھی۔۔۔ تبھی میرے ذہن میں آیا کہ لوہا پھر سے گرم ہے اب دوبارہ کوشش کرنی چاہیے۔ 

یہ سوچ کر میں اٹھا اور آپی کے سامنے آکر ان کو سیدھا کر کے آپی کے ہونٹ چوسنے لگا ساتھ ہی میں نے ایک ہاتھ سے ان کے ممے کو پکڑا اور دباتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے آہستگی سے لیجا کر اپنے لن پر رکھ دیا۔ آپی نے اس بار آرام سے میرا لن پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ سے اپنی مٹھی میں دبانے لگیں۔ میں نے آپی کی گردن کو چاٹتے ہوئے دوبارہ ان کے ہاتھ کو پکڑا اور اپنے لن پر آگے پیچھے کرنے لگا تین چار بار ایسا کرنے سے آپی خود ہی سمجھ گئیں کہ میں کیا چاہتا ہوں تو اب وہ بڑے پیار سے اپنے نرم ہاتھوں کے ساتھ میرا لن پکڑے مٹھ مار رہی تھیں۔ 

ناظم مسلسل آپی کے چوت چاٹ رہا تھا اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ بڑی تیزی سے اس کے لن کو سہلا رہا تھا۔ اب آپی کا جسم پھر سے اکڑنے لگا تھا میں سمجھ گیا کہ وہ ایک بار پھر منزل پر ہیں تو میں نے ان کے نپلز کو زور زور سے چوسنا چاٹنا شروع کر دیا۔ آپی کا ہاتھ بھی تیز تیز میرے لن کو ہلا رہا تھا مجھے لگا کہ اب میں روک نہیں پاؤں گا اور ساتھ ہی میرے لن سے منی کی آبشار نکلی اور آپی کے پیٹ پر گرتی ہوئی نیچے پھدی کی طرف جانے لگی۔ میری منی اپنے پیٹ پر محسوس کرتے ہی آپی کو ایک اور جھٹکا لگا اور ان کی پھدی نے بھی پانی چھوڑ دیا۔۔۔ 

اور آپی تیز تیز سانسیں لینے لگی۔ اب حالت یہ تھی کہ میرا اور آپی کا پانی آپی کی پھدی پر مکس ہو کر ناظم کے منہ میں جا رہا تھا۔ اسی دوران ناظم کا لن بھی دھار میں چھوٹنے لگا۔ اور جوش جوش میں ناظم نے آپی کی پھدی سے شروع ہو کر آپی کے پیٹ تک سارا منی چاٹ لیا۔۔۔۔۔۔۔

ہم تینوں ہی اپنی منزل تک پہنچ چکے تھے۔ کچھ دیر بعد ہم ایک دوسرے سے الگ ہوئے تو آپی نے اپنے پیٹ پر لگی میری منی کو دیکھا تو بولیں۔۔۔ایسیسیسیسی کتنی گندگی پھیلاتے ہو تم دونوں۔ ناظم چلو اٹھو اور مجھے کوئی ٹشو دو تا کہ میں اپنے آپ کو صاف کر سکوں تو ناظم چونک کر بولا اوہ سوری آپی چند قطرے رہ گئے تھے اور ساتھ ہی زبان نکال کر وہ بھی چاٹ گیا۔۔۔ آپی نے بولا کمینے تیرے سر پر بھی گندگی ہے وہاں بھی میرے منی کے چند قطرے گرے تھے تو ناظم نے ہاتھ پھیرا تو منی اس کی انگلیوں کو لگ گئی تو ناظم آگے بڑھتے ہوئے بولا آپی آپ بھی ٹیسٹ کر لو بہت مزیدار ہے۔ شٹ اپ ناظم ۔ 

تم دونوں ہی بہت گندے ہو۔ ناظم نے آپی کو ایک آنکھ ماری اور مزے سے اپنا ہاتھ بھی چاٹ گیا۔ پھر آپی نے اپنے زمین پر بکھرے ہوئے کپڑے اکٹھے کیسے اور ساتھ ساتھ پہنا شروع کر دیے۔ میں اور ناظم آپی کو کپڑے پہنتے دیکھتے رہے۔۔۔۔ کپڑے پہن کر آپی ہمیں شب بخیر کہہ کر ہمارے کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔۔۔۔ آپی کے جانے کے بعد میں نے مسکراتے ہوئے ناظم کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔۔ مزہ آیا آج میرے چھوٹو کو۔۔۔۔۔۔۔۔ ناظم خوشی سے بھر پور انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے بولا ، بہت زیادہ بھائی ، میں تو بس خواب ہی دیکھتا رہتا تھا۔۔ 

مجھے یقین نہیں تھا کہ میں کبھی بھی کسی لڑکی کے ننگے ممے دیکھ پاؤں گا۔ لیکن آپی کی وجہ سے دیکھنا تو ایک طرف میں نے مموں کو چوس بھی لیا اور تو اور لزیز پھدی بھی چاٹنے کو ملی۔ وہ بھی اپنی حسین اور سگی بہن کی۔ میں نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ صبر کرو میرے بھائی اور بس دیکھتے جاؤ کہ آگے آگے میں تمہیں کیا دکھاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری بات سن کر ناظم بہت خوش ہوا پھر ایک دم چونک گیا جیسے کچھ یاد آیا ہو اور کہنے لگا بھائی کچھ ایسا کریں نا کہ ناز بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جائے قسم سے ایسا ہو گیا تو بس دنیا کی ساری حسرتیں پوری ہو جائیں گی۔ اس دن بھی نانی گھر جاتے وقت میں نے اس کے مموں پر غور کیا تھا کافی بڑے بڑے سے لگتے ہیں۔۔۔۔ میں نے کہا تم فکر مت کرو اور اپنا دماغ مت لگانا بس جیسے میں کہتا جاؤں کرتے جانا۔۔۔ باقی سب مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔ چلو اب رات بہت ہو گئی ہے تم سو جاؤ صبح سکول بھی جانا ہے۔۔ اور ہم دونوں ہی سونے کی کوشش کرنے لگے۔

صبح میں اٹھا تیار ہو کر ناشتہ کیا اور کالج کیلئے نکل گیا۔ واپسی پر بھی عام سی روٹین رہی اور کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ رات کے 11 بجے تھے۔ میں اور ناظم آپی کے انتظار میں ادھر ادھر کی باتیں کر کے اپنا ٹائم کاٹ رہے تھے کہ دروازہ کھلا اور آپی اندر داخل ہوئیں۔ آپی کو دیکھتے ہی میں اور ناظم دونوں نے بیڈ سے جمپ کیا اور آپی کی طرف بڑھے۔ آپی نے اپنے دونوں ہاتھ سامنے لا کر ہمیں روکتے ہوئے کہا آرام سے آرام سے جنگلی ہی ہو دونوں۔۔۔۔۔ میں نے تو جیسے آپی کی بات سنی ہی نہیں اور انہیں اپنے بازوؤں میں جھکڑ کر اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور چوسنے لگا۔ 

آپی نے بھی بھر پور رسپانس دیا۔ اور میری زبان اور ہونٹوں کو چوسنے کے بعد پیچھے ہٹ گئیں اور اپنی قمیض اتارنے لگیں۔ قمیض کے نیچے آپی نے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا۔ آپی کے گلابی نپلز کو دیکھتے ہی میں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن آپی نے مجھے روک دیا۔۔۔ نہیں ساگر تم پیچھے رہو آج میرے چھوٹو کی باری ہے۔۔۔

جاری ہے

The post شریف بہن 12 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-12/feed/ 0
بیتے لمحے 11&12 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1112/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1112/#respond Sat, 08 Nov 2025 17:07:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1112/   آگے کیا کرنا ہے امی؟ میں نے خوش ہوتے ہوئے امی کی طرف دیکھا اور ندیدوں کی طرح ان کو تکنے لگا ۔ آگے یہ کرنا ہے کہ اب تمہیں بچا کہ رکھنا ہے کہ کلثوم جیسی کوئی ڈائن تمہارا خون نا پی جائے امی نے مسکراتے ہوئے کہا اور ایک ہاتھ میرے سر […]

The post بیتے لمحے 11&12 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

آگے کیا کرنا ہے امی؟ میں نے خوش ہوتے ہوئے امی کی طرف دیکھا اور ندیدوں کی طرح ان کو تکنے لگا ۔ آگے یہ کرنا ہے کہ اب تمہیں بچا کہ رکھنا ہے کہ کلثوم جیسی کوئی ڈائن تمہارا خون نا پی جائے امی نے مسکراتے ہوئے کہا اور ایک ہاتھ میرے سر سے گزارتے ہوئے میری گردن پہ رکھ دیا میں نے ان کے بھاری جسم سے خود کو جوڑتے ہوئے ان میں پیوست کر لیا اور کہا آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی اور کچھ نہیں کہہ سکتی امی کوئی ڈائن میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ وہ ہلکی سی ہنسیں تو ان کے جسم کی لرزش مجھے اپنے سارے وجود پہ محسوس ہوئی اور وہ بولیں شکر ہے کہ مجھے وقت پہ پتہ چل گیا ورنہ تو حالات بڑے خراب ہو رہے تھے میرا بچہ مجھے ہی ننگا کروانے کے چکر میں تھا ۔ میں امی کی یہ بات سن کہ شرمندہ ہوا اور میری گرفت ان سے ڈھیلی ہو گئی ۔ انہوں نے بھی مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگیں چلو اب میں کپڑے تبدیل کر لوں میں نے امی کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں۔ امی نے ایک بھرپور نظر مجھ پہ ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑیں میں نے بھیایک لمحے کو سوچا اور پھر امی کے پیچھے ان کے کمرے کی طرف چل پڑا باقی بہن بھائی لاوئنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ میں امی کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تو امی بھی الماری سے کپڑے نکالنے لگیں میں ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا امی نے کپڑے نکال کہ میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے بولیں اوئے بدتمیز کیا بات ہے ؟؟ میں نے جب دیکھا امی غصے میں نہیں ہیں تو میں نے دل بڑا کر کہ کہا وہ میں فری ہینڈ کا مطلب پوچھنے آیا تھا ۔ امی نے سر کو جھٹک کر زیر لب کہا چل بدتمیز نا ہو تو اور اپنی قمیض کے دامن اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑے اور اوپر کرنے لگیں لیکن اوپر کرتے کرتے رک گئیں اور میری طرف دیکھنے لگیں اور پھر بولیں ویسے یہ بہت بدتمیزی والی بات ہو جائے گی چلو بھاگو یہاں سے ۔ میں جو خوش ہو رہا تھا ایک دم میرا چہرہ اداس ہو گیا کیونکہ سارے ارمانوں پہ پانی پڑ چکا تھا میں مرے ہوئے قدموں سے اٹھا اور باہر نکلنے لگا میں دروازے سے باہر نکل ہی رہا تھا کہ امی کی آواز آئی علی۔ میں پیچھے مڑا اور دیکھا کہ امی دوسری طرف مڑی ہوئی ہیں اور ان کی قمیض اتری ہوئی ہے البتہ نچلے جسم پہ شلوار تھی میں نے امی کی گوری چکنی کمر کو دیکھا تو مجھے بہت انوکھا سا احساس ہوا بہت الگ کہ جس کےلیے کوئی الفاظ نہیں تھے۔ میں نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جی امی؟؟ امی کی آواز تھوڑی بھاری لگی انہوں نے پیچھے دیکھے بغیر مجھے کہا علی یہ برا کے ہک کھول دو اور اپنے ہاتھ سے ان کی کمر پہ لگی برا کی طرف اشارہ کیا ۔ میں تھوڑا کنفیوز ہو چکا تھا کہ امی یہ کیا کہہ رہی ہیں کیونکہ اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور نا ہی مجھے یہ توقع تھی مین حیران سا ان کے پیچھے پہنچا اور ان کی گوری سفید کمر کو دیکھا اور کمر سے نیچے ان کے بھاری چوتڑوں پہ بھی نظر ڈالی۔ میں نے ان کی برا کے ہک کو پکڑنا چاہا تو میرا ہاتھ ان کی ننگی کمر سے ہلکا سا مس ہوا تو میرے جسم میں بجلی کی ایک لہر دوڑ گئی میں ان کے قریب ہوتے ان کی گردن کے اوپر سے ان کے ادھ ننگے مموں کو دیکھنے لگا اور برا کے ہکس کو مخالف سمت میں کھینچا جس سے ان کی برا ایک جھٹکے سے کھل گئی۔ امی سامنے کی طرف دیکھ رہی تھیں اور ان کے موٹے ممے ان کی سانس کے ساتھ ساتھ اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ برا کے ہکس کھلتے ہی ان کی برا ڈھیلی ہوئی اور ان کے ممے آدھے سے زیادہ ننگے ہو گئے اور گورے گورے گول مموں کے اوپر براون رنگ کے نپلز پہ میری نظر پڑی تو مجھے ایک عجیب اور میٹھا سا احساس ہوا۔ امی نے برا کے اترتے ایک گہری سانس لی اور نظریں ترچھی کر کہ مجھے دیکھا اور برا کو سامنے بیڈ پہ چھوڑتے ہوئے قمیض کو اٹھانے کے لیے جھک گئیں۔ میں امی کے پیچھے کھڑا تھا تو ان کے جھکنے سے ان کی موٹی گداز گانڈ میری ٹانگوں کے ساتھ ٹکرائی اور میری للی اپنی ناتوانی کے باوجود ان کی گانڈ کے درمیان زور سے رگڑنے ہوئی جتنی اس میں ہمت تھی اور للی تقریبا ساری ان کی گانڈ کی گولائیوں کے درمیاں غائب ہو گئی۔ امی نے اسی طرح جھکے ہوئے اپنی گانڈ کی گولائیوں کو بھینچا تو میری ساری للی کو ان کی گانڈ کی نرمی اور گرمی محسوس ہوئیلیکن اپنے اناڑی پن کی وجہ سے میں کوئی بھی مزید حرکت نا کر سکا ۔

امی نے قمیض اٹھائی اور بازووں میں لیکر اسے پہننے لگیں تو میں ان کے پیچھے سے سائیڈ سے ہو کر ان کے ممے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا جو ان کے بازو کے نیچے سے سائیڈ سے نظر آ رہے تھے مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا لیکن امی کے چپ ہونے کی وجہ سے ایک ہمت بھی مل رہی تھی کہ وہ کچھ بھی نہیں کہہ رہی ہیں انہوں نے جب قمیض پہننی شروع کی تو وہ سیدھی کھڑی ہو گئیں اور میری للی ان کی گانڈ سے باہر نکل گئی اور میں ان کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔ امی نے قمیض پہنی لیکن اس کا دامن پیچھے سے مکمل نیچے نہ کیا اور ان کی کمر کا کچھ حصہ ننگا رہ گیا کمرے میں بالکل خاموشی تھی صرف امی کے کپڑے بدلنے کی سرسراہٹ کمرے میں گونج رہی تھی یا پھر امی کی سانسیں مجھے محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے ہاتھ آگے بڑھائے اور پیچھے سے امی کی کمر کو پکڑا ان کے جسم کو ہلکا سا جھٹکا لگا اور انہوں نے اپنی شلوار کو سائیڈوں سے پکڑ کہ نیچے کیا اور جھک کہ شلوار اتارنے لگیں ۔۔۔ افففف امی کے اس طرح جھک کہ ننگا ہونے کا تو میں نے کبھی سوچا تک نا تھا ان کی بھاری سفید گول گانڈ ایک دم ایک جھٹکے سے اچھل کر سامنے آئی اور گانڈ کی سفید گہری پہاڑیوں کے درمیان (. ) شیپ کا گہرے براون رنگ کا سوراخ اور اس کے بالکل نیچے موٹے گہرے گلابی ہونٹوں والی پھدی جس پہ ہلکے ہلکے بال نمایاں تھے سامنے نظر آئی ۔ میں تو اس قاتلانا نظارے کی تاب نا لاتے ہوئے ایک طرح سے کومے کی حالت میں جا چکا تھا امی اسی طرح جھکی ہوئی آگے ہوئیں اور شلوار اٹھا کر پہننے لگیں اور میں پیچھے ہونق بنا ہوا ان کو دیکھتا رہا ۔ امی نے شلوار پہنی اور قمیض کا دامن کھینچ کر سیدھا کیا اور میری طرف دیکھ کہ بولیں چل ڈرپوک کہیں کا۔ اور اپنے بالوں کو ٹھیک کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکلتی گئیں اور مجھے سمجھ ہی نہ آ رہی تھی میرے ساتھ یہ سب ہوا کیا ہے۔ امی کچن کی طرف چل پڑیں اور میں بھی کچھ لمحے سوچنے کے بعد ان کی طرف چل پڑا اور کچن میں انہیں کام کرتا دیکھنے لگ گیا

قسط 12

میں امی کے پاس کچن میں چلا گیا اور جا کر ان سے باتیں کرنے لگا پھر ہم نے کھانا کھایا اور اس کے بعد عام روٹین چلتی رہی ۔ اس واقعہ کے بعد میری اور امی کی دوستی ہو گئی ہم کھل کہ بات کرنے لگے امی بھی مجھ سے مختلف باتیں شئیر کر لیتیں اور ہمارے درمیان ہنسی مزاق بھی چلتا رہتا ۔ کچھ دن بعد ہی مجھے پتہ چلا کہ ہم یہ گھر بیچ کر کسی اور جگہ منتقل ہو رہے ہیں اور ایسا ہی ہوا کہ امی ابو نے گھر تبدیل کر لیا اور اس طرح ہمارا محلہ بدل گیا اور نئے محلے میں امی مجھے زیادہ باہر نہیں گھومنے دیتی تھیں اسی طرح وقت گزرتا گیا اور ہمارے پیپر آ گئے امی اسی طرح چادر لیکر جاتی تھیں اور بڑی کلاسسز کو نہیں پڑھاتی تھیں میرے پیپرز کے بعد امی نے میرا سکول تبدیل کروا دیا اور ہم سب ایک نئے سکول میں داخل ہو گئے اس طرح میرے وہ کلاس فیلو بھی بدل گئے ۔ اب ہم ایک نئے ماحول میں تھے اسی طرح عام روٹین میں امی سے ہنسی مزاق میں سال اور گزر گیا اب میری للی بھی بڑی ہو کہ لن کی شکل اختیار کر چکی تھی اور اس کی سائیڈوں پہ ہلکے ہلکے بال بھی نمودار ہو چکے تھے اور مجھے دو تین بار اختلام بھی ہو چکا تھا اور سکول فیلوز سے بہت کچھ ہنسی مزاق میں پتہ بھی چل چکا تھا ۔ امی کے جسم سے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ بھی چلتی رہتی تھی لیکن ایک حد ہمارے درمیان قائم تھی ایک پردہ درمیان میں حائل تھا۔ پھر کرتے کرتے گرمیوں میں ہمارا پروگرام مری جانے کا بن گیا اور ہم سب اپنی گاڑی میں مری روانہ ہو گئے ۔ ہمارا ارادہ وہاں تین دن رہنے کا تھا۔ ایک لمبے سفر کے بعد ہم لوگ مری پہنچے اور وہاں ایک ہوٹل میں قیام کیا ۔ تھکاوٹ کی وجہ سے پہلے دن تو ہم پہنچتے ہی مشکل سے کھانا کھا کہ لیٹ گئے اور آرام کیا۔ صبح جب ہم جاگے تو ایک حسین منظر ہماری نگاہوں کے سامنے تھا سر سبز پہاڑ اور آسمان کو چھوتے ہوئے درخت اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ایک عجیب سماں باندھ رہی تھی۔ امی ابو بھی بہت خوش تھے اور ہم بچے بھی سب بہت خوش تھے۔ ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ہم لوگ پیدل ہی پہاڑوں میں گھومنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ ہمارے ہوٹل کے قریب سے ہی ایک واکنگ ٹریک جنگل کی طرف بنا ہوا تھا جو اوپر پہاڑی کی طرف جا رہا تھا ہم نے اس ٹریک پہ چلنا شروع کر دیا اور سب اس ماحول سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ باقی بہن بھائی ابو کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے چلتے جا رہے تھے جبکہ امی کی رفتار بھاری ہونے کی وجہ سے کچھ کم تھی اور میں ان سے آگے مگر ان کے قریب قریب چل رہا تھا۔ وہاں ٹریک کے ارد گرد جو چیز ہمیں حیران کر رہی تھی وہ بندروں کی موجودگی تھی جہاں بندر درختوں پہ اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔ ابو لوگ ہم سے آگے آگے چل رہے تھے ہم نے پاس پانی اور دیگر سامان بھی رکھا ہوا تھا اور ہم پہاڑی پہ چڑھ رہے تھے امی بھی میرے ساتھ ماحول درختوں کی باتیں کرتی اوپر چڑھی جا رہی تھیں ان کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے ابو لوگ ہم سے کافی آگے نکل چکے تھے۔ ہم اوپر جنگل میں ایک جگہ پہنچے تو امی کچھ بے چین نظر آنے لگیں میں تھوڑی دیر تو چپ رہا لیکن پھر ان سے پوچھاکہ کیا ہوا ہے کیوں پریشان ہیں تو امی کے چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور بولیں ایویں شودا نا بنا کرو مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے اور میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے میرے بازو پہ ہلکا سا مکا مارا اور پھر خود بولیں یار مجھے سُوسُو آیا ہے یہی سوچ رہی تھی کہ کدھر کروں یہاں تو ٹائلٹ مشکل ہی ہو اس جنگل میں۔ میں ان کی بات پہ ہنس پڑا اور کہا ارے امی یہ پورا جنگل ہی ٹائلٹ سمجھ لیں یہاں کون ہے اور رک کر پیچھے کی طرف دیکھا تو واکنگ ٹریک بالکل ویران تھا اسی طرح میں نے پھر اوپر نظر دواڑائی اور پھر دائیں بائیں دیکھا تو صرف پرندوں اور ان کی چہکار کے سوا کوئی انسان نظر نا آیا ۔ امی نے بھی میری نظر کے تعاقب میں نظریں دوڑائی اور کہا ہاں کہتے تو تم ٹھیک ہو یہاں تو کوئی نہیں ہے ۔

یہاں کوئی نہیں ہے آپ ادھر سائیڈ پہ کر لیں میں یہاں کھڑا ہو جاتا ہوں میں نے امی کو تجویز پیش کی انہوں نے ایک بار پھر چاروں طرف دیکھا اور مطمئن ہو کر سائیڈ کی طرف چل پڑیں اور میں نے ان سے پشت کر لی اور دوسری طرف دیکھنے لگ گیا جدھر وہ گئی تھیں میں نے اس طرف اپنی کمر کر لی تا کہ ان پہ نظر نا پڑے۔ ابھی انہیں گئے ایک یا دو منٹ ہی ہوئے تھے کہ مجھے امی کی تیز چیخ سنائی دی ان کی چیخ سنتے ہی میں بجلی کی تیزی سے مڑا اور امی کی طرف دیکھا تو دوسری طرف ایک عجیب منظر تھا ایک موٹا تازہ بڑے قد کا بندر امی کے پیچھے تھا اور امی جھک کہ پاؤں سے شلوار اوپر کرنے کی

کوشش کر رہی تھیں اور بندر ان کے پیچھے لگا ہوا دھکے مار رہا تھا جیسے انہیں چود رہا ہو امی چیختے ہوئے شلوار اوپرکرنے کی کوشش کر رہی تھیں میں یہ منظر دیکھ کر ان کی طرف دوڑا اور بندر کو مارنے کے لیے کوئی چیز بھی ساتھ ڈھونڈنے لگا اور ساتھ شش شش کرتا ہوا ان کی طرف بھاگا۔ بندر نے مجھے اپنی طرف بھاگتے دیکھا تو امی کے پیچھے سے ہٹ گیا اور مجھے دیکھ کر دانت نکالتا ہوا ایک طرف اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے بھاگ گیا۔ میں جلدی سے امی کے قریب پہنچا جو بندر سے جان چھوٹنے کے بعد اپنی شلوار اوپر کر رہی تھیں اور ایک بات پھر بہت مدت بعد مجھے امی کے جسم کا دیدار حاصل ہوا موٹی تازی سفید گانڈ دن کے اجالے میں اپنی بھرپور آب وتاب کے ساتھ چمک رہی تھی اور ان کے حصوں کے درمیان گئرے براون رنگ کی کھلی سی موری خود میں گزرے ہوئے لن کی داستان سنا رہی تھی اور سامنے ہی میری جائے پیدائش کہ جس کے ہونٹ بھی شدت استعمال سے موٹے ہو چکے تھے لیکن کچش کی بات یہ تھی کہ ان پہ کوئی بال نہیں تھا۔ میں نے ایک طویل نظر ان کے جسم پہ ڈالی جس وقت تک نظارہ سامنے تھا پھر امی نے جلدی سے شلوار اوپر کر لی ان کے بال بکھر چکے تھے انہوں نے میری طرف دیکھا اور شرمندہ ہوتے ہوئے اپنا حلیہ درست کرنے لگ گئیں اور بولیں پتہ نہیں یہ جنگلی کدھر سے آ گیا تھا افففف یہ کتنا گندہ جانور ہے۔ میں اس صورتحال پہ پہلے بوکھلایا ہوا تھا لیکن جب دیکھا کہ امی شرمندہ ہیں تو مجھے بھی ہمت مل گئی میں نے بھی امی کی طرف دیکھا اور کہا قصور جانور کا نہیں ہے اور اتنی بات کر کہ چپ ہو گیا۔ امی نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولیں تو؟؟ میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ساری غلطی آپ کے حسن کی ہے آپ کی خوبصورتی کی ہے کہ انسان تو فدا ہوتے ہیں جانور بھی نہیں رہ سکتے۔ بدتمیز انسان چپ کرتے ہو یا لگاؤں ایک امی نے مصنوعی غصے سے میری طرف آنکھیں نکالیں تو میں نے دل پہ ہاتھ رکھ کہ کہا اے خدا یہ بھی کیا انصاف ہے کہ بندر تو حسن کے نظارے سے جسم کی نرمی سے فیضیاب ہو کہ بھی بچ نکلا اور یہاں تعریف پہ بھی مار پڑنے والی ہے ۔ امی اس بات پہ پھر ہنس پڑیں اور بولیں بدتمیزی مت کرو تم بیوقوف اب ماروں گی لیکن ان کے غصے میں کوئی اصلیت نہ تھی بلکہ وہ بناوٹی غصہ کر رہی تھیں ہم نے پھر آگے کی طرف چلنا شروع کر دیا اور امی میرے آگے چلنے لگیں میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا پیچھے چلتے چلتے میری نظر جب ان کی کمر اور چوتڑوں پہ پڑی تو واپس پلٹنا جیسے بھول ہی گئی درمیانی سی کمر کے نیچے اچانک انتہائی پھیلی ہوئی چوڑی گانڈ اور اس کے موٹے الگ الگ حصے ان کے پہاڑی پہ چڑھنے کی وجہ سے باہر کو ابھرے ہوئے تھے بلکہ الگ الگ نظر بھی آ رہے تھے۔ میری نظر میں ابھی کچھ لمحے پہلے کا منظر یوں واضح ہوا کہ مجھے لگنے لگا کہ امی نے شلوار ہی نہیں پہنی ہوئی ہے ۔ میں اس نظارے میں ڈوبا ہوا ان کے پیچھے چلنے لگا اور میری نگاہ مسلسل انہی پہ تھی امی نے شاہد چلتے ہوئے کوئی بات کی لیکن میں جس نظارے میں کھویا ہوا تھا وہ میرے لیے سب سے اہم تھا اور اس سے ہٹ کر مجھے کچھ نظر ہی نہیں آ رہا تھا مجھے دنیا کی سبھی رنگینیاں امی کے وجود سے لگ رہی تھیں اور میں جسم کی کشش میں کھویا ہوا تھا۔ امی چلتے چلتے رکیں اور فورا پیچھے ہی مڑیں ان کے اس طرح پیچھے مڑنے سے میں ان کو دیکھتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گیا امی نے میری طرف دیکھا اور ماتھے پہ بل ڈالتے ہوئے بولیں اوہے مار کھانی ہے کیا مجھ سے؟؟ میں نے امی کی طرف دیکھا اور کہا اگر میری اوقات بندر سے بھی گئی گزری ہے تو بیشک مار لیں ۔ بدتمیز انسان کچھ شرم کرو کیوں خود کو بندر سے ملا رہے ہو امی نے اسی لہجے میں کہا۔ بندر تو مجھ سے اچھا ہے وہ اتنا کچھ کر بھی گیا مجھے دیکھنے پہ بھی ڈانٹ پڑ رہی ہے میں نے چہرے پہ مظلومیت طاری کرتے ہوئے کہا دیکھیں نا میری آنکھوں کے سامنے وہ کیا کچھ کر گیا اور اسے کچھ نہیں کہا جب کہ میں تو صرف ایک نظر دیکھتے ہی مجرم بن جاتا ہوں ۔۔ ہائے یہ کتنا ظلم ہے میرے ساتھ میں نے ڈرامہ کرنا شروع کر دیا

The post بیتے لمحے 11&12 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%92-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%92-1112/feed/ 0