انسیسٹ سیکس کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/انسیسٹ-سیکس-کہانی/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Sun, 26 Apr 2026 03:45:44 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png انسیسٹ سیکس کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/انسیسٹ-سیکس-کہانی/ 32 32 سوتیلی ماں اور بہن قسط 7 https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/ https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/#respond Sat, 27 Sep 2025 19:55:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/   میرے پورے جسم میں مزے کی لہریں دوڑ رہی تھیں…. پھر سمرا چاچی نے میرے آدھے لن کو منہ میں لیا اور اپنی زبان کو میرے لن کی ٹوپی پر گول گول گھمانا شروع کر دیا… جیسے ہی سمرا چاچی کی زبان میرے لن کی ٹوپی پر پیشاب والے سوراخ پر رگڑ کھاتی، تو […]

The post سوتیلی ماں اور بہن قسط 7 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرے پورے جسم میں مزے کی لہریں دوڑ رہی تھیں…. پھر سمرا چاچی نے میرے آدھے لن کو منہ میں لیا اور اپنی زبان کو میرے لن کی ٹوپی پر گول گول گھمانا شروع کر دیا… جیسے ہی سمرا چاچی کی زبان میرے لن کی ٹوپی پر پیشاب والے سوراخ پر رگڑ کھاتی، تو میں مستی میں مچل اٹھتا… میرے لن کی رگیں پوری طرح پھول چکی تھیں… سمرا چاچی نے میرے لن کو منہ سے باہر نکالا اور میری کمر کے دونوں طرف ٹانگیں کر کے میرے اوپر آ گئیں… میرا لن سمرا چاچی کے تھوک سے پوری طرح گیلا ہو چکا تھا… سمرا چاچی نے ہاتھ نیچے لا کر میرا لن پکڑا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی، “چل تجھے میں دکھاتی ہوں کہ عورتیں لن کی سواری کیسے کرتی ہیں…” سمرا چاچی نے لن کو پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا اور جیسے ہی اس نے پھدی کو لن پر دبایا تو میرا لن سمرا چاچی کی پھدی کے اندر گھسنے لگا… “آہ… ہائے… بڑا تگڑا ہے تیرا لن…” سمرا نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا…

اور آہستہ آہستہ اپنی پھدی کو میرے لن پر دباتے ہوئے پورا لن پھدی میں لے لیا… سمرا نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر تیزی سے اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا… میں بیڈ پر پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا… سامنے سمرا میرا لن پھدی میں لیے اوپر نیچے ہو رہی تھی… اس کی موٹی بنڈ میری رانوں سے ٹکرا کر شڑپ شڑپ کی آوازیں کرنے لگی… اس کے بڑے بڑے ممّے ایسے ہل رہے تھے… سمرا نے جب دیکھا کہ میں حسرت بھری نظروں سے اس کے اوپر نیچے ہوتے ممّوں کو دیکھ رہا ہوں، تو اس نے میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے ممّوں پر رکھ دیا… “تُو کیوں فارغ بیٹھا ہے… چل اپنی گشتی سمرا کے ممّے دبا…” سمرا نے تیزی سے اپنی بنڈ ہلاتے ہوئے کہا…

میں نے بغیر کچھ کہے سمرا کے ممّے دبانے شروع کر دیے…سمرا پوری رفتار سے اپنی بنڈ ہلائے جا رہی تھی… میرا لن پھر سے سمرا کی پھدی کے پانی سے گیلا ہو کر اندر باہر ہو رہا تھا… سمرا پاگلوں کی طرح آہ اوہ کیے جا رہی تھی… “ہائے سمیر… اب تو مجھے تیرا لن روز چاہیے اپنی پھدی میں… آہ… سی… اوہ… مزا آ گیا… بول روز میری پھدی مارے گا نا…” سمرا نے پوری رفتار سے اپنی بنڈ کو اوپر نیچے کرتے ہوئے کہا… پورے کمرے میں سُرپ سُرپ، تھپ تھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں… سمرا کا جسم پھر سے اکڑنے لگا… سمرا کی پھدی سے مزید پانی بہہ کر باہر آ رہا تھا… سمرا نے مستی میں آ کر جھک کر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے… اور پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنی کمر کو ہلانے لگی… اب سمرا کی آہ و پکار ہم دونوں کے منہ کے اندر گھٹ کر رہ جا رہی تھی…

جیسے ہی سمرا کیپھدی نے پانی چھوڑا… سمرا نے تیزی سے سانس لیتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے ہٹا لیا… “آہ… آج پوری ہوئی تسلی۔۔۔” چاچی میرے اوپر سے اٹھ کر بستر پر سائیڈ میں لیٹ گئیں۔۔۔لیکن میں ابھی راستے میں ہی تھا۔۔۔چاچی کو بھی اس بات کا اندازہ تھا۔۔۔چاچی نے دو تین لمبی سانسیں لیں۔۔۔اور پھر اٹھ کر ڈاگی سٹائل میں آ گئیں۔۔۔یہ سب میرے لیے ایک دم نیا تھا۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔”سمیر چل پیچھے آ کر دے اپنی چاچی کی پھدی میں لن اور جلدی سے اپنا پانی نکال لے۔۔۔” چاچی کی بات سنتے ہی میں چاچی کے پیچھے گھٹنوں کے بل آ گیا۔۔۔چاچی نے اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے ایک بازو نکال کر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کر دیا۔۔۔

اب مجھے چاچی کے آگے ہکمی بولنے ضرورت نہیں تھی۔۔۔جیسے ہی میرے لن کا ٹوپی چاچی کی پھدی پر لگا تو، میں نے پورے جوش سے ایک زبردست جھٹکا مارا۔۔۔”آہہہہہ ایسے ہی ۔۔۔ہاں۔۔۔جان ۔۔۔” چاچی نے پیچھے گردن گھما کر کہا۔۔۔”ہاں میری بنڈ کو پکڑ کر زور زور سے شاٹ مار۔۔۔” میں نے ایسے ہی کیا۔۔۔چاچی کی موٹی بنڈ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر دباتے ہوئے زور زور سے شاٹ لگانے شروع کر دیے۔۔۔اس پوزیشن میں چاچی کو چودتے ہوئے میں بہت زیادہ جوش میں آ چکا تھا۔۔۔اس لیے مزید 1-2 منٹ میں ہی میں نے چاچی کی پھدی میں اپنا پانی نکالنا شروع کر دیا۔۔۔

جب میں دوسری بار جھڑا تو میں بری طرح تھک چکا تھا۔۔۔میرا لن جیسے ہی ڈھیلا ہو کر چاچی کی پھدی سے باہر آیا۔۔۔میں پیچھے بستر پر لیٹ گیا۔۔۔چاچی بھی ایک لمبی سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئیں۔۔۔

ان پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے میری بری حالت ہو رہی تھی۔۔۔دوپہر کے 3 بج چکے تھے۔۔۔اس بار میں خیالوں سے باہر آیا۔۔۔جب باہر ڈور بیل بجی۔۔۔میرا لن اس وقت تک ٹائٹ تھا۔۔۔میں نے باہر جا کر گیٹ کھولا تو دیکھا کہ، باہر نجیبہ اپنے مامی کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔”کیا ہوا تم اتنی جلدی کیسے آ گئیں۔۔۔۔؟” میں نے گیٹ سے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا تو، نجیبہ اندر آ گئی۔۔۔اسکے ہاتھ میں کچھ شاپنگ بیگز تھے۔۔۔”اچھا نجیبہ اب میں جاتی ہوں۔۔۔” نجیبہ کی مامی نے مڑتے ہوئے کہا تو، نجیبہ نے پیچھے مڑ کر اپنی مامی سے کہا۔۔۔

نجیبہ: مامی پانی تو پی لیں۔۔۔”

“نہیں بہت دیر ہو رہی ہے۔۔۔پھر کبھی آؤں گی۔۔۔”

اسکی مامی کے جانے کے بعد میں نے گیٹ بند کیا اور جیسے ہی مڑا تو دیکھا کہ، نجیبہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔ اور اسکے کمرے کا دروازہ بند تھا۔۔۔میں نے سوچا شاید وہ تھک گئی ہوں گی۔۔۔اس لیے میں وہاں سے اپنے کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔لیٹے لیٹے مجھے نیند آنے لگی۔۔۔ابھی میری آنکھ لگے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ، مجھے کسی نے ہلایا۔۔۔جب میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو، بستر کے پاس نجیبہ کھڑی تھی۔۔۔”کھانا کھا لو۔۔۔” نجیبہ باہر چلی گئیں۔۔۔میں بستر سے اٹھا اور ہاتھ منہ دھونے کے لیے باتھ روم میں چلا گیا۔۔۔جب واپس آیا تو دیکھا نجیبہ برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔اسنے اپنے سامنے دو پلیٹیں رکھی ہوئی تھیں۔۔۔میں اسکے سامنے چارپائی پر بیٹھ گیا۔۔۔

جب میں نے پلیٹ میں کھانے کو دیکھا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ، نجیبہ باہر ہوٹل سے ہی کھانا لے کر آئی تھیں۔۔۔”تم تو شام کو آنے والی تھیں۔۔۔پھر اتنی جلدی کیسے آ گئیں۔۔۔” میں نے کھانا کھانا شروع کر دیا۔۔۔

“ایسے ہی میرا من نہیں لگا شاپنگ میں۔۔۔”

میں:اچھا۔۔۔پر میں نے تو سنا ہے کہ، لڑکیوں کو شاپنگ کرنا بہت پسند ہوتا ہے۔۔۔پھر تمہارا من کیسے نہیں لگا شاپنگ میں۔۔۔

نجیبہ:اب نہیں لگا تو نہیں لگا۔۔۔اس میں ایسی بتانے والی بات نہیں ۔۔۔

میں نے دیکھا کہ نجیبہ کا موڈ تھوڑا آف تھا۔۔۔اس لیے میں چپ ہو گیا۔۔۔اور کھانا کھانے لگا۔۔۔نجیبہ نے بھی کوئی بات نہ کی۔۔۔ میں نے کھانا کھا کر اپنی پلیٹ اٹھا کر کچن میں چلا گیا۔۔۔وہاں جا کر میں نے سنک میں پلیٹ کو دھونا شروع کیا تھا کہ، نجیبہ کچن میں آ گئیں۔۔۔”پلیٹ یہاں دے دو میں دھو دیتی ہوں۔۔۔” نجیبہ نے اپنی پلیٹ شیلف پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔مجھے اسکے اکھڑے ہوئے موڈ کا احساس تھا۔۔۔”مجھے اپنے کام خود کرنے کی عادت ہے۔۔۔میں اپنی عادت خراب نہیں کرنا چاہتا۔۔۔” میں نے پلیٹ کو دھو کر رکھا اور باہر آ گیا۔۔۔اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

نجیبہ بھی پلیٹ دھو کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔۔ابھی کچھ ہی وقت گزرا ہوگا کہ، باہر ڈور بیل بجی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں اٹھ کر باہر جاتا۔۔۔میں ابھی دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ، میں نے دیکھا نجیبہ اپنے کمرے سے نکال کر گیٹ کی طرف جا رہی ہیں۔۔۔نجیبہ نے گیٹ کھولا تو سامنے ردا کھڑی تھیں۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اندر آ گئیں۔۔۔ان دونوں میں کچھ بات ہوئی، لیکن وہ دونوں دور کھڑی تھیں۔۔۔عام طور پر دونوں باہر برآمدے میں بیٹھ کر کافی دیر تک باتیں کرتی رہتی تھیں۔۔۔لیکن آج نجیبہ نے گیٹ بند کیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔اور ردا میرے کمرے کی طرف آ گئیں۔۔۔”آج نجیبہ کو کیا ہوا۔۔۔؟” ردا نے اندر آ کر پوچھا۔۔۔”پتہ نہیں صبح اپنے ماما کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھیں۔۔۔جب سے واپس آئی ہیں ایسے ہی موڈ آف کیے گھوم رہی ہیں۔۔۔تم جا کر ان سے پوچھو کہ آخر بات کیا ہے۔۔۔”

ردا:اچھا جاتی ہوں۔۔۔

ردا نجیبہ کے کمرے میں چلی گئیں۔۔۔میں وہیں بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہ، کب ردا باہر آئیں۔۔۔اور مجھے بتائیں کہ، آخر نجیبہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد ردا کمرے میں آئیں۔۔۔اور میرے پاس آ کر بستر پر بیٹھ گئیں۔۔۔”کیا ہوا کچھ بتایا اس نے۔۔۔؟” میں نے ردا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔تو ردا نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔”کیا ہوا اسے۔۔۔۔۔”

ردا:عشق۔۔۔

میں: کیا کہا عشق۔۔۔کس سے۔۔۔

ردا: (مسکراتے ہوئے۔۔۔) تم سے اور کس سے۔۔۔

میں: تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔۔۔تم جانتی ہو نا۔۔۔ہمارا کیا رشتہ ہے۔۔۔اور تم یہ کیا فضول باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔؟

ردا: اب جو سچ ہے وہ سچ ہی رہے گا۔۔۔آج جب وہ اپنے مامی اور مامے کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھیں۔۔۔تو اسکی مامی کا بھتیجا بھی وہاں آیا ہوا تھا۔۔۔ اسکی مامی چاہتی ہیں کہ، نجیبہ اور اسکی بڑی بہن کے بیٹے کا رشتہ ہو جائے۔۔۔

میں: لیکن وہ ہوتے کون ہیں۔۔۔نجیبہ کے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ لینے والے۔۔۔

ردا: ایسے فیصلے سب کی رضامندی کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔۔۔نجیبہ کی مامی نے نجیبہ کی امی نازیہ سے پہلے ہی بات کر رکھی تھی۔۔۔نجیبہ کی امی کے ہاں کے بعد ہی، اسکی مامی نے آگے قدم اٹھایا ہے۔۔۔

میں: لگتا ہے نجیبہ کی امی پاگل ہو گئی ہیں۔۔۔ابھی نجیبہ کی عمر بھی کیا ہے۔۔۔ابھی اسکول بھی پاس نہیں کیا اسنے۔۔۔اور اسے اپنی بیٹی بولی لگانے لگیں۔۔۔

ردا: بات بولی کے نہیں ہے سمیر۔۔۔دراصل نجیبہ کی مامی کی بہن کا بیٹا ہے، کچھ مہینے پہلے ہی پولیس میں نوکری لگی ہے۔۔۔اچھی پوسٹ پر بھی ہے۔۔۔اسکی عمر بھی 20 سال ہے۔۔۔خاندان بھی رئیس ہے۔۔۔اس لیے سگائی کے لیے راضی ہو گئی ہوں گی اسکی امی۔۔۔اب ایسے رشتے تو بار بار نہیں ملتے نا۔۔۔

میں نے دیکھا کہ، ردا مجھے ایسے سب سنا رہی تھیں۔۔۔جیسے مجھے بھڑکانا چاہتی ہوں۔۔۔”اچھا پھر وہ اتنی اداس کیوں ہیں۔۔۔اتنا اچھا رشتہ آیا ہے۔۔۔اسے سگائی کر لینی چاہیے۔۔۔”

ردا: کیوں تمہیں برا نہیں لگے گا۔۔۔اگر نجیبہ کی شادی اس سے ہو گئی تو۔۔۔

میں: کیوں مجھے کیوں برا لگنا۔۔۔

ردا: دفاع کرو ان باتوں کا۔۔۔میں یہاں تم سے ملنے آئی تھی۔۔۔اور تم دونوں نے مجھے کون سی باتوں میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔۔۔

ردا نے میرے پیجامے کے اوپر سے میرے لن کو ہاتھ میں لے کر دبانا شروع کر دیا۔۔۔لیکن نجیبہ کے رشتے کی بات سن کر میرا موڈ اتنا اپسیٹ ہو گیا تھا کہ، میں نے ردا کا ہاتھ پکڑ کر ہٹا دیا۔۔۔”کیا ہوا۔۔۔۔؟” ردا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔

میں: کچھ نہیں تم جاؤ یہاں سے۔۔۔

ردا: کمال ہے غصہکسی کا نکل رہے کسی پر۔۔۔اب اس میں میرا کیا قصور۔۔۔ رشتہ تو اسکی امی کرنا چاہتی ہیں وہاں پر۔۔۔

میں: میں نے اب اور کچھ نہیں سننا۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔

ردا: جا رہی ہوں۔۔۔اگر اتنا ہی شوق ہے تو، جا کر اسے چود کیوں نہیں دیتے۔۔۔ جب پیٹ سے ہو جائے گی تو، نازیہ آپی کو اسکی شادی تمہارے ساتھ ہی کرنی پڑے گی۔۔۔

ردا اٹھ کر باہر چلی گئیں۔۔۔ردا کی بات سن کر میرا خون کھول اٹھا۔۔۔میرے اندر مانو شیطان گھر کر چکا تھا۔۔۔میں تیزی سے باہر نکل کر ردا کے پیچھے جانے لگا۔۔۔ ابھی ردا گیٹ تک ہی پہنچی تھیں کہ، میں نے پیچھے سے ردا کے بالوں کو پکڑتے ہوئے اسے سائیڈ میں دیوار کے ساتھ لگا دیا۔۔۔ردا کی فرنٹ سائیڈ دیوار سے دب گئی۔۔۔”آہہہہہ سمیر یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔” اس سے پہلے کہ ردا کو کچھ سمجھ آتا۔ میں نے جھٹکا دے کر ردا کی ایلاسٹک والی شلوار کو نیچے کھینچ دیا۔۔۔”پاگل مت بنو سمیر اگر یہی سب کرنا ہے تو کمرے میں چلو۔۔۔” ردا نے مجھے الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔

لیکن اب تک میں جھٹکے سے پیجامے کو نیچے سرکا چکا تھا۔۔۔میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں لے کر دو تین بار ہی ردا کی بنڈ کی لائن میں رگڑا تھا کہ، میرا لن پوری سختی سے کھڑا ہو گیا۔۔۔میرے ساڑھے 8 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا لن ہوا میں پوری شدت کے ساتھ جھٹکے کھانے لگا۔۔۔میں نے اپنے لن کے ٹوپی کو ردا کی بنڈ کی لائن میں رگڑتے ہوئے، تھوڑا سا گھٹنوں کو بینڈ کیا۔۔۔اور پھر اسکی ٹانگوں کے درمیان سے اپنے لن کو گزارتے ہوئے، اپنے لن کے ٹوپی کو ردا کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کر کے زور دار دھکا مارا۔۔۔میرا لن ردا کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا ایک ہی بار میں پورا کا پورا اندر جا گھسا۔۔۔

ردا کی پھدی یک دم خشک تھی۔ جیسے میرا لن ردا کی پھدی کو چیرتا ہوا اندر گھسا ردا درد سے ایک دم چیخ اٹھیں۔۔۔”****** مر گئی۔۔۔۔” لیکن میرے سر پر تو، وحشی جانور سوار ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ردا کے بالوں کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا اور دوسرے ہاتھ سے ردا کے بائیں ممے کو قمیض کے اوپر سے دباتے ہوئے دھکے لگانے شروع کر دیے۔۔۔ردا نے اپنے چہرے کو گھما کر میری طرف دیکھا تو، اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔”**** کے لیے مجھ پر ترس کھاؤ۔۔۔آہہہہہ سمیر دھیرے۔۔۔اوہہہہ ہائے امی۔۔۔کڈ لے۔۔۔سمیر۔۔۔۔” ردا نے درد سے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔

اسکی پھدی ایک دم خشک تھی۔۔۔جسکی وجہ سے اسے بہت درد ہو رہا تھا۔۔۔لیکن مجھ پر اسکی درد بھری آوازوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔میں اپنی ہی دھن میں لگاتار اپنے لن کو ردا کی چوت کے اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ، دو قدم پر نجیبہ کا کمرہ بھی ہے۔۔۔تبھی میری نظر نجیبہ کے کمرے کے دروازے پر پڑی۔۔۔نجیبہ کمرے کے دروازے پر کھڑی حیرت بھری نظروں سے مجھے اس روپ میں دیکھ رہی تھیں۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔۔۔جب میں نجیبہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، مجھے پتا نہیں کیا ہوا، میں نے اور زور سے نجیبہ کے بالوں کو پکڑ کر کھینچا تو اسکا سر پیچھے کی طرف ہو گیا۔۔۔میں نے لن کو پوری رفتار سے ردا کی پھدی میں اندر باہر کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

ردا کی نظر بھی نجیبہ پر پڑ گئی۔۔۔لیکن وہ بے بسی سے بھری ہوئی آنکھوں سے نجیبہ کو دیکھتی رہی۔۔۔پر پھر بھی کچھ نہ بولی۔۔۔آخر کار جب میرے وحشی پن کی انتہا ہو گئی تو۔۔۔نجیبہ آگے بڑھ کر مجھے دھکا دے دیا۔۔۔میں پیچھے کی دیوار سے جا ٹکرایا۔۔۔”ہوش میں آؤ۔۔۔یہ کیا وحشی پن ہے۔۔۔” میرا لن ردا کی پھدی سے باہر آ چکا تھا۔۔۔جو اب نجیبہ کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظریں میرے لمبے موٹے عضو پر پڑیں تو، اس نے نظریں جھکا لیں۔۔۔میں نے ردا کی طرف دیکھا، جو وہیں دیوار کے ساتھ پیٹھ ٹکائے کبھی میری طرف تو کبھی نجیبہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔”اور تم کیو بیٹھی ہو۔۔۔” نجیبہ نے گرجیلی آواز میں ردا سے کہا۔۔۔تو ردا فوراً وہاں سے کھڑی ہو گئی۔۔۔اس نے اپنی شلوار کو درست کیا۔۔۔”اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔اور آئندہ ۔۔۔یہاں کبھی بھی نہیں آنا۔۔۔نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔” نجیبہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

ردا نے ایک بار میرے طرف حیرت بھری نظروں سے دیکھا اور گیٹ کھول کر باہر جانے لگی تو، میں نے بھی جلدی سے اپنے پاجامے کو اوپر کر لیا۔۔۔ردا کے جانے کے بعد میں نے گیٹ بند کیا۔۔۔تو میرا غصہ تھوڑا کم ہوا۔۔۔لیکن اب مجھے غصہ ردا پر نہیں نجیبہ پر آ رہا تھا۔۔۔میں اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔اس کے بعد اور کوئی خاص بات نہ ہوئی، رات کو سات بجے میری سوتیلی ماں اور ابّو ادھر واپس آ گئے ۔۔۔اس دن میرا موڈ بہت خراب رہا۔۔۔میں کھانا کھائے بغیر سو گیا۔۔۔اگلی صبح میں اٹھا اور تیار ہو کر کالج کے لیے چلا گیا۔۔۔صبح بھی ناشتہ نہیں کیا۔۔۔پورا دن موڈ خراب رہا۔۔۔

کالج سے آف کے بعد میرے گھر جانے کا بھی موڈ نہیں تھا۔۔۔میں کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا سوچ رہا تھا کہ، گھر جاؤں یا نہ جاؤں۔۔۔تبھی پیچھے سے ہارن کی آواز سنائی دی۔۔۔فیاض اپنی بائیک لے کر میرے پاس آیا۔۔۔”کیا ہوا یہاں ایسے کیوں کھڑا ہے۔۔۔چل بیٹھ۔۔۔”

میں: نہیں یار تم جاؤ۔۔۔میں بعد میں آؤں گا۔۔۔

فیاض: ہوا کیا میرے سرکار۔۔۔تمہارا موڈ آف لگ رہا ہے۔۔۔

میں: یار ایسے ہی۔۔۔کل نجیبہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔۔۔میرا دل نہیں کر رہا گھر جانے کا۔۔۔

فیاض: اوہ اور کہاں جانا ہے تم۔۔۔چل بیٹھ گاؤں چلتے ہیں۔۔۔میرے گھر چل۔۔۔

اور کہیں جا بھی تو نہیں سکتا تھا۔۔۔اس لیے فیاض کی بائیک پیچھے بیٹھ گیا۔۔۔اور ہم گاؤں کی طرف چل پڑے۔۔۔”دیکھ یار ایسی چھوٹی موٹی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں گھر خاندان میں۔۔۔پھر اس طرح اپنا موڈ کیوں خراب کر رہے ہو۔۔۔”

میں: یار توں نہیں سمجھے گا۔۔۔

فیاض: دیکھ تیرا دوست ہوں۔۔۔اسلیے تجھے سمجھا رہا ہوں۔۔۔تمہاری سوتیلی ماں اور بہن تو یہی چاہیں گی نہ کہ، تم ایسے ہی ناراض ہو کر کہیں دور چلے جاؤ۔۔۔اور بعد میں تمہارے حصے کی جائیداد بھی سنبھال لیں۔۔۔دیکھ اس گھر پر سب سے زیادہ تیرا حق ہے۔۔۔وہ تیرا ہے۔۔۔پھر کیوں ایسے باہر گھومنا۔۔۔

میں: ہاں شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔

ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ہم گاؤں پہنچ گئے۔۔۔فیاض نے بائیک کو میرے گھر کے سامنے روک دیا۔۔۔”لے یار تیرا گھر آ گیا۔۔۔اب مرد بن اور حالات کا سامنا کرنا سیکھ۔۔۔” فیاض بائیک لے کر چلا گیا۔۔۔میں نے ڈور بیل بجائی تو تھوڑی دیر بعد نجیبہ نے گیٹ کھولا۔۔۔وہ مجھ سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ، میں اسے ایگنور کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔میں نے کپڑے بدلے اور باتھ روم میں جا کر ہاتھ منہ دھو کر اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔

میں نے ٹی وی آن کیا اور بستر پر بیٹھا ہی تھا کہ نجیبہ اندر آ گئیں۔۔۔”آپ کے لیے کھانا لگا دوں۔۔۔”

میں: مجھے اپنے کام خود کرنے کا عادی ہو ۔۔۔مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں جاؤ یہاں سے۔۔۔

نجیبہ: تھوڑا سا کھا لیں۔۔۔آپ نے کل رات بھی کچھ نہیں کھایا۔۔۔اور صبح بھی کچھ کھا کر نہیں گئے۔۔۔

میں: تو تمہیں کیوں اتنی فکر ہو رہی ہے میرے کھانے کی، تم جاؤ یہاں سے۔۔۔مجھے کوئی کھانا وانا نہیں کھانا۔۔۔

نجیبہ: میں دیکھتی ہوں کیسے نہیں کھاتے آپ۔۔۔میں لے کر آتی ہوں۔۔۔

میں: تمہیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔تمہیں میری پرواہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

نجیبہ: مجھے ضرورت نہ ہوگی تو اور کسے ہوگی۔۔۔

میں: دیکھو میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ غلط بول دوں جاؤ یہاں سے۔۔۔

نجیبہ: نہیں جاتی اور میں بھی دیکھتی ہوں آپ کھانا کیسے نہیں کھاتے۔۔۔

نجیبہ کمرے سے باہر نکل کر کچن میں چلی گئیں۔۔۔مجھے اب نجیبہ پر بہت غصہ آ رہا تھا۔۔۔مجھے پتہ نہیں کیا ہوا، میں اٹھ کر کچن میں چلا گیا۔۔۔ نجیبہ پلیٹ میں کھانا ڈال رہی تھیں۔۔۔میں نے اس کے ہاتھ سے پلیٹ ہٹا کر شیلف پر پھینک دی۔۔۔”تمہیں ایک بار میں میری بات سمجھ نہیں آتی کیا۔۔۔میرا تم لوگوں کے ساتھ نہ کوئی رشتہ تھا۔۔۔اور نہ کوئی ہو سکتا ہے۔۔۔خواہ مخواہ رشتہ بنانے کی کوشش نہ کرو۔۔۔”

نجیبہ: معاف کر دوں۔۔۔صبح امی ابو دونوں مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ آپ کھانا کیوں نہیں کھا کر گئے۔۔۔میں انہیں کیا جواب دیتی۔۔۔آپ کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔۔۔

میں: میری بیوی نہیں ہو تم۔۔۔جو میں تمہاری ہر بات مانتا رہوں۔۔۔

The post سوتیلی ماں اور بہن قسط 7 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/feed/ 0
ماں کا بدلہ قسط 4 https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/#respond Thu, 25 Sep 2025 16:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/ ماں کا بدلہ پارٹ 4 آنٹی نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا اب تم جاو اور جیسا کہا ہے ویسا ہی کرنا اس سے ہٹ کہ کچھ نہ کرنا میں نے آنٹی کی طرف دیکھا اور ہاتھ اوپر کر کہ ان کے دونوں ممے پکڑنے کی ناکام کوشش کی آنٹی میری اس کوشش پہ ہنس […]

The post ماں کا بدلہ قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>

ماں کا بدلہ

پارٹ 4

آنٹی نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا اب تم جاو اور جیسا کہا ہے ویسا ہی کرنا اس سے ہٹ کہ کچھ نہ کرنا میں نے آنٹی کی طرف دیکھا اور ہاتھ اوپر کر کہ ان کے دونوں ممے پکڑنے کی ناکام کوشش کی آنٹی میری اس کوشش پہ ہنس پڑیں اور بولیں بدمعاش اتنے دن آیا نہیں اور جب وقت نہیں ہے تو اب کھینچنے لگا ہے اتنے دن کیوں نہیں آیا ماں چود ۔ میں شرمندہ سا ہو کہ ہنس پڑا کیونکہ مجھے آنٹی کی طرف آنے میں ایک جھجھک تھی اور اگر وہ نا بلاتیں تو شائد میں آج بھی ان کی طرف نا آتا۔ وہ خود ہی بولیں اچھا اب جاو دیر ہو رہی ہے رات شادی پہ ملتے ہیں ۔ میں نے ان سے کہا آنٹی بس خیال رکھنا مجھے مار نا پڑے ایسا نا ہو مجھے امی ماریں تو وہ ہنس پڑیں اور بولیں اس عورت کے حسن کے لیے لوگ کیا کیا کر جائیں اور تم مار سے ڈرتے ہو اور ڈرنے والے کو کچھ نہیں ملتا اور ہنسنے لگیں۔ پھر بولیں کچھ نہیں ہو گا ابھی تو یہ پہلا ٹیسٹ ہے اس پہ دیکھ کہ آگے عمل کریں گے اور میرے گال اپنے ہاتھ میں لیکر کھینچنے لگیں ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے جیسا آپ کہتی ہو وہی ہوگا میں ویسا ہی کروں گا۔ وہ بولیں تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے تم بھی یاد کرو گے مجھے کہ کس سے دوستی کی تھی اور پھر بولیں اب جاو گھر جلدی سے مجھے بھی دیر ہو رہی ہے میں پھر ان سے مل کہ گھر کی طرف نکل پڑا۔ گھر پہنچا تو امی نے کھانا وغیرہ تیار کیا ہوا تھا مجھے گھر آتے دیکھ کہ انہوں نے کہا کہ جلدی آو کھانا کھا لو پھر ہم نے شادی پہ بھی جانا ہے میں ان کی آواز سن کہ کچن کی طرف بڑھ گیا اور امی نے مجھے کھانا دیا اور میں کھانا کھانے لگا امی مجھے کھانا دے کر کچن سے باہر نکل گئیں ۔ کھانا کھانے کے بعد میں نے برتن واش بیسن میں رکھے اور باہر نکلا تو دیکھا امی لاونج میں نہ تھیں تو میں ان کے کمرے کی طرف چل پڑا کہ اپنے کپڑون کا ان سے پوچھ لوں کہ کون سے پہنوں ۔ میں ان کے کمرے میں داخل ہوا تو ایک لمحے کے لیے مجھے سکتہ ہو گیا امی نے ہلکے گلابی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان کے بال کھلے ان کی کمر تک تھےاور وہ شیشے کے آگے جھکی میک اپ کر رہی تھیں ۔ دروازہ کھلنے سے انہوں نے شیشے میں ہی مجھے آتے دیکھا اور پھر میک اپ میں مشغول ہو گئیں ۔ میں نے شیشے میں انہیں دیکھا تو ان کے کھلے گلے کی وجہ سے ان کے ممے آدھ ننگے شیشے میں سامنے نظر آ رہے تھے اور میں ان کے پاس کھڑا تھا ان کے جسم سے ہلکی ہلکی مہک نکل رہی تھی۔ انہوں نے اسی طرح برش چہرے پہ چلاتے ہوئے پوچھا ہاں کیا مسئلہ ہے ؟ میں نے شیشے میں انہیں دیکھا اور پھر نظر جھکا کہ کہا وہ میرے کپڑے کون سے ہیں میں کون سے کپڑے پہنوں تو امی نے ایک ادا سے سر کو جھٹکا جس سے ان کے بال ایک سائیڈ پہ ہوئے اور کندھے کے دوسری طرف سے اپنا تھا کرتے ہوئے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں بالوں کو پکڑا اور سیدھی کھڑی ہوئیں تو ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ ابھی امی کی قمیض پھٹ جائے گی اور یہ ممے اچھل کر باہر آ جائیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ امی نے مجھے یوں تاڑتے دیکھا تو اسی انداز میں بولیں مجھے ہی دیکھتے رہو گے یا اب جا کہ تیار بھی ہو گے؟ میں نے ان کی طرف ایک ستائش بھری نظر ڈالی اور کہا امی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں ماشااللہ کہیں نظر ہی نا لگ جائے۔ میرے انداز میں اتنی بے ساختگی تھی کہ امی بھی ہنس پڑین اور مڑ کہ خود کو شیشے میں دیکھنے لگ گئین اور میں نے کہا دیکھ لیں آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں آج، انہوں نے ماتھے پہ ہلکی سی سلوٹ ڈال کر کہا کیا مطلب آج پیاری لگ رہی ہوں کیا میں روز پیاری نہیں ہوتی؟؟ میں نے جلدی سے کہا ارے نہیں آپ تو روز ہی پیاری لگتی ہو آج بہت زیادہ پیاری لگ رہی ہو میں نے اس لیے جلدی جلدی کہا کہ وہ ناراض نا ہو جائیں لیکن اس بات کو وہ پکڑ کر بولیں تو اچھا جناب مجھے روز پھر اسی طرح دیکھتے ہیں کہ میں پیاری لگ رہی ہوں یا نہین اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے پیٹ کے گرد رکھ لیے مطلب اپنی سائیڈوں پہ جیسے بندہ لڑائی کے لیے تیار ہو رہا ہو 

میں امی کی بات سن کر بوکھلا گیا کیونکہ آنٹی کلثوم نے کہا تھا کہ امی کو شک نہ ہونے دینا کہ تم اس کو دیکھتے ہو جب کہ یہاں معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تھا میں نے امی کی طرف دیکھا تو مجھے اور تو کچھ نا سوجھا میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا وہ آپ اتنی پیاری لگ رہی ہوتی ہو کہ بس خود ہی پیاری لگ جاتی ہو میں جان کہ تو نہیں دیکھتا۔ امی نے سنجیدہ ہونے کی کوشش کی لیکن ان کے منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹ گیا اور وہ ہنستے ہوئے دوہری ہوتی گئیں ان کے اس طرح جھکنے سے ان کے گول مٹول ممے آدھے سے زیادہ ان کے گلے سے جھانکنے لگے اور میں سب کچھ بھول کر ان کے موٹے رسیلے ممے دیکھنے لگ گیا وہ اسی طرح ہنستے ہنستے اوپر ہوئیں اور میری آنکھوں میں دیکھا اور بولیں ارے میرا منا تو جوان ہو گیا ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ میں شرمندہ ہو گیا اور میں نے آنکھیں جھکا لین وہ اسی طرح مسکراتے چہرے سے بولیں چلو جاو اور سٹور سے کپڑے پہنو پھر ہم چلتے ہیں ۔ میں نے ایک نظر امی کی طرف دیکھا اور ان کے بھرپور سراپے سے اپنی نظر سینکتا ہوا واپس باہر کی طرف مڑ گیا اور سٹور کیطرف چل پڑا۔ سٹور سے کپڑے تبدیل کر کہ میں باہر نکلا تو ابو بھی لاوئنج میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے میں نے ان کو سلام کیا اور ان کے پاس ہی بیٹھ گیا اتنے میں امی کمرے سے نکلیں تو اب انہوں نے گلے میں دوپٹہ ڈالا ہوا تھا لیکن اس سے انہوں نے کچھ بھی چھپایا ہوا نہیں تھا۔ ابو نے امی کی طرف دیکھا اور بولے بیگم اطمینان سے آ جانا میں بچوں کو دیکھ لوں گا اور علی کا دھیان رکھنا۔ امی نے تشکر بھری نظروں سے ان کو دیکھا اور کہا چلیں یہ تو اچھا ہے اب میں اطمینان سے شادی میں شرکت کر لوں گی ویسے بھی بچے سو جائیں گے ۔ ابو نے کہا بیگم تم ان کی فکر مت کرو میں گھر ہوں بس علی کا دھیان رکھنا اور پھر مجھ سے بھی مخاطب ہوتے ہوئے بولے بیٹا باہر آوارہ مت پھرنا اور ماں کے پاس ہی رہنا اور اکھٹے گھر آنا ماں کے ساتھ اور ایسا نا ہو کہ آوارہ گردی کرتے رہو۔ میں نے سعادت مندی سے سر ہلا دیا اور کہا ٹھیک ہے ابو ایسا ہی ہو گا۔ ابھی ہم بات کر ہی رہے تھے کہ باہر گھنٹی بجنے کی آواز آئی تو میں اٹھ کر باہر کی طرف گیا اور دروازہ کھولا تو سامنے کلثوم آنٹی کھڑی تھیں ۔ میں نے ان کو سلام کیا اور اندر آنے کا راستہ دیا تو وہ میرے سلام کا جواب دیتی ہوئی مجھے نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئیں میں حیران سا رہ گیا اور دروازہ بند کرتے ہوئے پیچھے مڑا تو وہ امی سے گلے مل رہی تھیں اور اس طرح کہ ان کا چہرہ اور امی کی کمر میری طرف تھی۔ انہوں نے امی کے کندھے پہ چہرہ رکھتے ہوئے مجھے آنکھ ماری اور امی سے مخاطب ہوتے ہوئے بولیں اف بنو آج تو محلے والوں کی خیر نہیں ہے اتنی پیاری لگ رہی ہو اور ایک ہاتھ نیچے کرتے ہوئے ان کے کولہوں کو ایک سائیڈ سے دبایا امی ان کے ایسا کرنے سے ایک دم ان سے الگ ہوئیں اور ان کے بازو پہ ایک مکا مار کہ پیچھۓ مڑ کہ مجھے دیکھا اور پھر ان کی طرف مڑ کہ بولیں بدتمیز کچھ شرم کرو بچہ سامنے کھڑا ہے ۔ کلثوم آنٹی ہنستے ہوئے بولیں ارے یہ تو بچہ ہے قیامت تو جوانوں پہ گزرے گی جانے کتنے کو صبح اٹھ کہ نہانا پڑے گا امی ان کی بات پہ شرمندہ سی ہو گئیں اور وہیں سے تھوڑا آگے ہو کر ابو کو آواز لگائی کہ ہم جا رہی ہیں اور پھر دروازے کی طرف چل پڑیں اور مجھے بھی چلنے کا اشارہ کیا اور میں ان کے پیچھے پیچھے دروازے کی سمت چل پڑا جیسے ہی امی دروازے سے باہر نکلنے لگیں کلثوم آنٹی نے میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھ ماری اور ہاتھ آگے بڑھا کہ امی کے کولہوں کے درمیان ہلکا سا گھسا دیا اور ان کے پیچھے ہو گئیں۔ امی دروازے سے باہر نکلین اور ان کو گھور کہ میری طرف اشارہ کیا مگر کلثوم آنٹی ہنس کہ آگے چل پریں اور میں بھی ان کے ساتھ چلنے لگ

میں امی اور کلثوم آنٹی چلتے ہوئے شادی والے گھر کی طرف بڑھتے گئے بلکہ وہ دو چلتی گئیں میں ان کے ساتھ چلتا گیا ان کی آپس میں گپ شپ لگی ہوئی تھی اور میں ان کے ساتھ چپ چپ چل رہا تھا اسی طرح ہم شادی والے گھر میں پہنچے تو اس گھر میں داخل ہوتے ہی امی نے پلٹ کر میری طرف دیکھا اور اس سے پہلے وہ کچھ بولتیں تو کلثوم آنٹی نے ان سے پہلے کہا علی تم یہیں کہیں بیٹھ جاو اور دور نہ جانا رات کا معاملہ ہے بچے تم ادھر عورتوں والی طرف ہی کہیں بیٹھ جاو اور پھر یہ کہتے ہوئے انہوں نے امی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو امی نے بھی ان پہ ایک ستائشی نظر ڈالی اور کہا ہاں بیٹا کلثوم ٹھیک بول رہی ہے تم باہر کہیں نا جانا یہیں بیٹھ جاو اور ادھر ادھر نا گھومنا ہم بھی جلدی نکلنے کی کوشش کریں گی ۔ مجھے پتہ تو تھا کہ یہ جلدی اتنی بھی جلدی نہیں ہو گی اور کلثوم آنٹی کیونکہ ساری پلاننگ ڈسکس کر چکی تھیں اس لیے میں دل ہی دل مین سب سمجھ گیا اور اوپر سے ایک معصوم شکل بنا لی اور کہا ٹھیک ہے امی میں ادھر ہی بیٹھ جاتا ہوں ۔ مجھے پتہ تھا کہ تھوڑی دیر میں یاسر بھی آئے گا تو اس سے گپ شپ ہو جائے گی اور پھر مجھے سٹیج پہ بھی جانا ہے ۔ امی اور کلثوم آنٹی اندر کی طرف بڑھ گئیں اور میں ادھر ہی پڑی کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھ گیا ۔ تھوڑی ہی دیر میں یاسر بھی اپنی امی اور بہنوں کے ساتھ آیا اور مجھ پہ نظر پڑتے ہی وہ میری طرف آ گیا میں نے اس کی امی اور بہنوں کو سلام کیا اور پھر یاسر سے ملنے لگا اور مل کہ ہم وہیں بیٹھ کر گپیں لگانے لگے۔ میں وقت پورا ہونے کا انتظار کر رہا تھا اور پھر جب میں نے دیکھا کہ گیارہ بجنے میں پندرہ منٹ رہ گئے ہیں تو میں نے یاسر سے کہا کہ یار مجھے امی نے کہا تھا گیارہ سے پہلے اندر آنا تو میں ان کی بات سن کہ آتا ہوں اگر ہم گھر گئے تو یہیں سے تمہیں ملتا چلوں گا۔ یاسر نے بھی کہا ٹھیک ہے اب اس کے وہم و گماں میں بھی اصلی بات تو نہیں ہو سکتی تھی تو مین اندر گھستا گیا جہاں رنگے برنگے لباس میں ہر عمر اور ہر سائز کی لڑکیاں اور عورتیں اپنے ادھ ننگے وجود لیے گھوم رہی تھیں میں سٹیج کر قریب پہنچا تو دیکھا امی اور کلثوم آنٹی سٹیج پہ ہی صوفے کے پیچھے کھڑی تھیں ان کے ساتھ اس گھر اور محلے کی کچھ اور خواتین بھی تھیں اور وہ سب ہنسی مزاق کر رہی تھیں میں کیونکہ بچہ تھا اس لیے کسی نے میری طرف توجہ نہ دی اور میں آرام سے چلتا ہوا سٹیج پہ ان کےپیچھے پہنچ گیا اور کلثوم آنٹی اور امی کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ ان کو کیسے متوجہ کروں اور پھر دیکھا کہ جب کوئی میری طرف متوجہ نہیں تو آگے ہو کہ میں نے کلثوم آنٹی کے بھاری بھرکم چوتڑوں کو ہلکا سا دبایا وہ تھوڑی سی ہلیں لیکن پیچھے نہ مڑیں میں پھر پیچھے ہٹ گیا کوئی پندرہ بیس سیکنڈ بعد انہوں نے ترچھی سی نظر سر گھماتے ہوئے پیچھے کی اور مجھے دیکھ کر اگے مڑ گئین ۔ پھر وہ تھوڑا سا کھسک کہ پیچھے ہوئیں اور میرے اور امی کے درمیان اس طرح کھڑی ہو گئیں کہ امی کا آدھا جسم ان کے آگے چھپ گیا اور انہوں نے مجھے ہاتھ کے اچارے سے امی کو دیکھنے کا کہا۔ میں کیونکہ ان کے پیچھے کھڑا تھا اور ان کی ساری حرکات دیکھ رہا تھا ۔ کلثوم آنٹی نے ہلکا سا ہاتھ امی کی بنڈ پہ پھیرا تو امی نے ایک دم ان کی طرف مڑ کہ دیکھا کیونکہ میرا قد بھی کلثوم آنٹی سے چھوٹا تھا تو مجھے امی کی حرکت سے اندازہ ہوا کہ وہ پیچھے مڑی ہیں لیکن وہ مجھے نہ دیکھ سکیں 

کلثوم آنٹی آگے ہوئیں اور امی نے تھوڑا پیچھے مڑتی ہوئے ان سے کوئی سرگوشی کی جو مجھے سمجھ نہ آئی لیکن کلثوم آنٹی نے بھی ان کے کان میں کوئی سرگوشی کی اور اس دوران ان کا ہاتھ امی کی گانڈ کو سہلاتا رہا انہوں نے امی کے بھاری چوتڑوں کو سہلاتے ہوئے ایک ہاتھ ان کی گانڈ کی دراڑ میں رکھ کہ دبایا اور ادھر ادھر دیکھا اور کسی کو متوجہ نا پا کر پھر سے گانڈ کی دراڑ میں ہاتھ پھیرنے لگیں امی بھی چوکنا ہو کہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں ساتھ دولہن کے سامنے کھڑی خواتین سے باتیں بھی کیے جا رہی تھین اور کلثوم آنٹی بھی ان کے ساتھ باقی عورتوں سے ہنسی مزاق میں مصروف تھیں لیکن ان کا ایک ہاتھ اپنی کاروائی میں لگا ہوا تھا۔ وہ امی کے گانڈ کی گلی میں ہاتھ گھسا کر اسے رگڑ رہی تھیں جس سے ان کی قمیض ان کی دراڑ میں پھنس چکی تھی میں ان کے پیچھے کھڑا ہوا یہ سب دیکھ رہا تھا کلثوم آنٹی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پیچھے میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھ مارتے ہوئے قریب ہونے کا اشارہ کیا اور میں دبے پاوں ان کے قریب ہوا۔ میں امی کے قریب پہنچا تو انہوں نے امی کی گانڈ کو ہلکا سا تھپتپھایا اور ہاتھ قمیض کے دامن میں سے سائیڈ کی طرف سے اندر گھسا کہ ان کی گانڈ کو ٹٹولنے لگیں اس سے ان کا ہاتھ تو امی کی قمیض میں چھپ گیا لیکن گانڈ کے اوپر ایک شلوار ہی تھی۔میں اس نظارے کی خوبصورتی میں ڈوبا ہوا تھا اور مجھے حیرت امی پہ تھی جو بالکل نارمل انداز میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں ۔ کلثوم آنٹی نے ایک نظر مجھے پھر دیکھا اور قریب ہونے کا اشارہ کیااور اپنا ہاتھ امی کی گانڈ سے نکال لیا تو میں ان کے قریب ہوا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کہ امی کی گانڈ سے ہلکا سا ٹچ کیا مجھے بہت مزہ آیا اور مجھے امی کے جسم کی نرمی اور ملائمت اپنے ہاتھ پہ محسوس ہوئی انہوں نے میرا ہاتھ بار بار پکڑ کہ امی کی گانڈ پہ لگانا شروع کر دیا۔ انہوں نے تین چار بار یہ حرکت کی اور پھر اچانک لائٹ چلی گئی جیسے ہی لائٹ گئی تو کلثوم آنٹی نے میرا ہاتھ زور سے امی کی گانڈ میں دبایا اور پھر میرے ہاتھ کو ہلکا سا دبا کر چھوڑ دیا اور میں اپنا ہاتھ ان کی گانڈ میں پھیرنے لگا۔ میں نے ہاتھ گلی میں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیرا اور کلثوم آنٹی کی طرح ہی امی کے بھاری چوتڑوں کو درمیان سے ٹٹولا اور انگلی پھیرنی چاہیئ تو اندھیرے میں مجھے امی آگے اچھلتی محسوس ہوئیں اور انہوں نے بے ساختہ اونچی آواز میں کہا اوئے کون بدتمیز ہے اور انہوں نے پیچھے مڑ کہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن کلثوم آنٹی ایک دم ان کے پیچھے ہو گئیں اور ہنسنے لگ گئیں اور ساتھ اپنی ٹانگ پیچھے کر کہ مجھے پیچھے دھکیلا میں سمجھ گیا کہ اب بھاگ جانا ہی بہتر اور مناسب ہے کیونکہ مجھے امی کی آواز میں شدید غصہ محسوس ہوا تھا میں فورا بھاگتا ہوا باہر نکل گیا اور ایک جگہ جا کر اپنی سانس بحال کرنے لگ گیا اور سوچنے لگا کہ غلطی کہاں ہوئی ہے ۔ میں ابھی وہاں کھڑا سانس ہی بحال کر رہا تھا کہ بجلی بھی آ گئی اور بجلی کے آتے ہی مجھے امی اندر سے تیز تیز چلتی ہوئی نظر آئیں جن کے چہرے پہ بہت سنجیدگی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور کہا چلو علی گھر چلیں ان کا سنجیدہ موڈ دیکھ کر میں بھی کان دبائے ان کے ساتھ ہو گیا اور پھر میں نے تھوڑا سا چل کہ پوچھا امی وہ کلثوم آنٹی؟؟ مگر میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ غصے سے بولیں دفع کرو اس لعنتی عورت کو اور چل چاپ چلتے جاو مجں ان کی اس گھرکی سے سہم گیا اور چپ چاپ چلتا ہوا ان کے ساتھ گھر کی طرف رواں ہو گی

میں امی کے ساتھ چلتا ہوا گھر کی طرف روانہ ہوا اور امی بھی سنجیدہ موڈ میں چل رہی تھیں میں سمجھ گیا وہ سٹیج پہ ہوئی حرکتوں کی وجہ سے موڈ میں ہیں اور انہیں برا لگا ہے لہزا چور کی داڑھی میں تنکا تھا تو میں بھی چپ چاپ چلتا ہوا ان کے ساتھ گھر داخل ہوا گھر داخل ہوتے ہی انہوں نے اپنے اوپر سے چادرین اتار دیں اور اپنے بھاری کولہے مٹکاتی ہوئی اندر کی طرف چلنے لگیں ان کے اوپر سے چادر اترتے ہی میں نے دیکھا کہ ان کی گانڈ میں اسی طرح قمیض پھنسی ہوئی تھی اور ان کی گانڈ ہچکولے کھا رہی تھی میں کلثوم آنٹی کی نصیحت کو بھول کر ان کو تکنے لگ گیا اور انہوں نے چار پانچ قدم اٹھائے اور ایک دم پلٹ کر مجھے دیکھا تو ان کا بھاری سینہ بھی ادھ ننگا مجھے نظر آیا میں نے فورا ان کی گانڈ سے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو ہماری نگاہین چار ہوئیں تو مجھے ان کی نگاہ مین ناگواری سی محسوس ہوئی ۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا چلو جاو چینج کرو اور کمرے میں جا کہ سو جاو ان کے انداز میں سختی تھی تو میں ان کے کہنے پہ سر جھکائے تیزی سے سٹور روم میں گیا اور کپڑے تبدیل کر کہ کمرے میں سونے چلا گیا۔ کلثوم آنٹی کا یہ مشن کامیاب رہا یا ناکام میں اتنا تو سمجھ نہیں سکا تھا بس مجھے یہ تھا کہ امی کو غصہ تھا اور اس کے بعد کچھ دن مجھے کلثوم آنٹی نظر نا آئیں اور ہم بھی سکول اور گھر کی روٹین میں مشغول ہو گئے اس کے بعد بھی کلاس میں امی کو تاڑنا اور دوسرے لڑکوں کا تاڑنا بھی میں دیکھتا اور برداشت کرتا رہا تو اس واقعہ کے کوئی بیس دن بعد یا زیادہ دن سمجھ لیں میں کھیل کر گراونڈ سے واپس آ رہا تھا تو کلثوم آنٹی اپنے گھر کے دروازے میں کھڑی تھیں مجھے دیکھتے ہی وہ کھل سی اٹھیں اور میرے سلام کرنے پہ گھر کے اندر کی طرف داخل ہو کر مجھے گھر میں آنے کا راستہ دیا۔ میں جیسے ہی ان کے گھر داخل ہوا تو انہوں نے مجھے دروازہ بند کرتے ہوئے فورا جپھی ڈال لی اور مجھے چومتے ہوئے بولیں کدھر رہ گئے تھے تم اتنے دن سے؟؟ میں نے کہا وہ مجھے ڈر لگ رہا تھا اس دن امی اتنے غصے میں تھیں تو مجھے لگا وہ کسی کو مارنے نا لگ جائیں ۔ کلثوم آنٹی نے اسی طرح مجھے چومتے ہوئے کہا ارے اس کنجری کی فکر ہی نہ کرو اس گشتی کو تیرے نیچے نا لٹایا تو میرا نام بھی کلثوم نہیں بس تم دیکھتے جاو میں کیا کرتی ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے وہ پاوں کے بل فرش پہ بیٹھ گئیں اور میرے ٹراوزر کو نیچے کرتے ہوئے میری للی کو نکال کر دیوانہ وار چومنے لگ گئیں میری للی کا اچھی طرح چوپا لگانے کے بعد انہوں نے اپنی شلوار اتاری اور صحن میں پڑی چارپائی پہ ہاتھ رکھ کہ نیچے جھک گئیں اور مجھے پیچھے مڑ کہ دیکھتے ہوئے کہا چل پھر ڈال دے ابھی ادھر پھر دیکھ تجھے ماں کی پھدی کیسے لیکر دیتی ہوں میرا دل تو ان کو دیکھ کر نہیں چاہ رہا تھا لیکن امی کا سن کہمیں ان کے قریب ہوا تو انہوں نے ایک ہاتھ سے اپنی گانڈ کو کھولا جس سے ان کی پھدی کے کالے ہونٹ سامنے نظر آئے اور میں نے اپنی للی ان کی پھدی میں گھسا کہ جھٹکے مارنے شروع کر دئیے اور وہ سیکس انجوائے کرنے لگیں اور میں بھی یہ ناگوار فریضہ سرانجام دینے لگا کچھ ہی دیر میں وہ فارغ ہو گئیں اور سیدھی ہو کر مجھے چومنے لگیں اور پھر بولیں کل چھٹی ہے کل صبح میں تم لوگوں کے گھر آوں گی اور تمہیں ایک سرپرائز دوں گی

کیسا سرپرائز؟ میں نے آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں دیکھو بتا رہی ہو لیکن تم بیچ میں کچھ بھی نہ کرنا اور صرف مجھے دیکھ کر بتا دینا میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے کیا دیکھنا ہے؟ وہ بولیں دیکھو کل صبحیہ کے گھر سے تمہاری امی کو لسی بھیجی جائے گی اس کا ایک گلاس اگر وہ پی لے تو تم مجھے فورا آ کر بتا دینا ۔ میں جو کچھ اور سوچ رہا تھا میرے ارمان پہ تو پانی پھر گیا کہ یہ کیا بکواس ہوئی بھلا؟ اب لسی پینے کا بھی آ کر اس کلموہی کو بتاؤں گا۔ مجھے دل ہی دل میں یہ بات بہت بری لگی لیکن میں نے اوپری دل سے ہاں کر دی کہ چلو آپ کو بتا دوں گا۔ آنٹی جاہندیدہ عورت تھی ایک دم یہ بات سمجھ گئی اور بولی دیکھو پوری بات تمہیں کل سمجھ آئے گی تم یہ لازمی کرو اگر وہ لسی پی جائے تو سمجھو تمہاری کل عید ہے اور تم بھول کہ بھی لسی نہ پینا۔ مجھے سمجھ تو کچھ نہ آئی لیکن آنٹی سے وعدہ کر کہ گھر آ گیا اور کھانا کھا کر سو گیا صبح چھٹی تھی میں جاگا ناشتہ کیا اور پھر گھر میں ہی بیٹھ گیا کہ کب لسی آتی ہے اور اسی انتظار میں گھر ادھر ادھر بیٹھتا اور گھومتا رہا آخر کوئی گیارہ بجے کے قریب صبحیہ آنٹی کے گھر سے لسی کی بوتل آ گئی اور پھر میں کچن میں امی کے آس پاس ہی گھومنے لگا امی نے بھی کھانا پکایا اور تقریبا بارہ کے قریب انہوں نے کھانا خود بھی کھایا اور ہمیں بھی کھلایا اور ساتھ لسی کے دو گلاس بھی پی لیے ۔ کھانا کھانے کے بعد امی نے مجھے کہا کہ برتن اٹھا دو مجھے ہمت نہیں لگ رہی ہے میں نے برتن اٹھائے اور کچن میں رکھے تو جب واپس آیا تو امی کا سر دائیں بائیں جھوم رہا تھا اور ان کی آنکھیں کھل اور بند ہو رہی تھیں ۔ میں ان کے پاس سے گزرا تو وہ بالکل اپنے حواس میں نہیں لگ رہی تھیں میں نے چھوٹے بہن بھائیون کو امی کے کمرے میں کارٹون لگا کہ دئیے اور خود بھاگ کر کلثوم آنٹی کو بتانے چلا گیا۔ میں نے کلثوم آنٹی کو بتایا کہ امی نے دو گلاس پیے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئیں اور مجھے کہا تو گھر پہنچ تو میں آتی ہوں ۔ مین دوڑتا ہوا گھر پہنچا اور اندر داخل ہواتو امی لاونج میں پڑی ہوئی تھیں جیسے مدہوش سو رہی ہوں میں امی کے پاس پہنچا اور ان کو ہلکے سے آواز دی مگر وہ کچھ نہ بولیں تو پھر میں نے بازو سے پکڑ کر ہلایا تو امی نے کوئی حرکت نہ کی میں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی اور میں دروازے پہ گیا تو کلثوم آنٹی دروازے پہ تھی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بولیں کدھر ہے وہ نیک پروین کمینی؟ میں نے کہا وہ لاوئنج میں بے ہوش ہو گئی ہیں میرے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات تھے کلثوم آنٹی یہ دیکھ کر مسکرائی اور بولی فکر نہ کرو تم سے دوستی نبھا رہی ہوں اسے بھی کچھ نہیں ہو گا اور ہم باتیں کرتے کرتے لاوئنج میں پہنچے تو آنٹی نے باقی بہن بھائیوں کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ ٹی وی دیکھ رہے ہیں آنٹی نے اس کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا اور پھر امی کی طرف متوجہ ہوئیں جو نیچے قالین پہ بے سدھ سو رہی تھیں امی بالکل سیدھی لیٹی ہوئی تھیں اور ان کے اوپر دوپٹہ ایک سائیڈ سے ان کے ممے اور پیٹ کور کر رہا تھا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The post ماں کا بدلہ قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/feed/ 0
سوتیلی ماں اور بہن قسط 1 https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/ https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/#respond Tue, 23 Sep 2025 22:05:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/   میرا نام سمیر ہے۔میں اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ باہر صحن میں میری سوتیلی بہن نجیبہ چارپائی پر بیٹھی اپنی کتاب پڑھ رہی تھی اور میں بارہویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ نجیبہ پر جوانی اور حسن اس قدر چڑھا تھا کہ پوچھو مت۔ ایک دم گورا رنگ، اس کی ہائٹ […]

The post سوتیلی ماں اور بہن قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرا نام سمیر ہے۔میں اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ باہر صحن میں میری سوتیلی بہن نجیبہ چارپائی پر بیٹھی اپنی کتاب پڑھ رہی تھی اور میں بارہویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ نجیبہ پر جوانی اور حسن اس قدر چڑھا تھا کہ پوچھو مت۔ ایک دم گورا رنگ، اس کی ہائٹ پانچ فٹ تین انچ تھی۔ سامنے اورنج کلر کی قمیض اور سفید رنگ کی سویٹر پہنے وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ میں اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھا ہوا اپنی سوتیلی بہن کے جسم کو گھور رہا تھا۔ جی ہاں سوتیلی بہن۔ بات اس وقت کی جب میں نے ہوش سنبھالنا شروع کیا تھا، تب میری زندگی میں بہت خوفناک حادثہ پیش آیا۔ میری امی کی بائیک حادثے میں وفات ہو گئی۔ حالات کے ساتھ ساتھ سب نارمل ہونے لگا۔ ابّو گورنمنٹ بینک میں نوکری کرتے تھے جو پاس ہی کی سٹی میں تھا۔ میں صبح ان کے ساتھ ہی تیار ہو کر اسکول جاتا کیونکہ میرا ایڈمیشن ابّو نے گاؤں کے سرکاری اسکول میں نہ کرواکر سٹی کے پرائیویٹ اسکول میں کروایا تھا۔ اسکول سے چھٹی کے بعد میں سیدھا بینک ہی چلا جاتا تھا اور اس کے بعد شام کو ابّو کے ساتھ ہی گھر واپس آتا تھا۔ زندگی اسی طرح گزر رہی تھی۔ کئی رشتہ دار ابّو کو دوسری شادی کرنے کے لیے کافی عرصے سے زور لگا رہے تھے لیکن ابّو کا کہنا تھا کہ جب تک میں خود کو سنبھالنے لائق نہیں ہو جاتا، وہ دوسری شادی کے بارے میں سوچیں گے بھی نہیں۔ میں تھوڑا بڑا ہو چکا تھا۔ اب میں خود اکیلے اسکول آنے جانے لگا تھا تو رشتہ داروں کے بار بار کہنے پر ابّو نے دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں اسکول کے بعد بینک نہ جا کر اکیلے گھر آ جانے لگا تھا اور خود ہی اکیلے صبح بس سے اسکول بھی جانے لگا تھا۔ اس سے ابّو کی پریشانی کافی حد تک کم ہو چکی تھی کیونکہ پہلے انہیں بھی میرے ساتھ بینک کے وقت سے پہلے ہی گھر سے نکلنا پڑتا تھا۔ جب میں دسویں جماعت میں ہوا تو ابّو اور ان کے بینک میں ہی کام کرنے والی ایک بیوہ عورت کے درمیان افئیر ہو گیا۔ رشتہ دار بھی ابّو کو دوسری شادی کرنے کے لیے بات بات پر کہتے تھے، اس لیے انہوں نے نازیہ نام کی اس بیوہ سے شادی کر لی۔ نازیہ میری سوتیلی امی، بینک میں اونچے عہدے پر تھیں۔ بالکل خوبصورت عورت تھیں۔ اس وقت اس کی عمر تیس سال تھی جب اس کی اور ابّو کی شادی ہوئی تھی۔ کئی بار تو مجھے ابّو کی قسمت سے بھی جلن ہونے لگتی تھی۔ خیر اب کہانی پر آتے ہیں۔ میں اور نجیبہ گھر میں اکیلے تھے۔ ہمارے گھر میں پیچھے کی طرف دو کمرے تھے۔ ایک طرف کچن تھا۔ کچن اور کمرے آگے سے برآمدے سے ڈھکے ہوئے تھے۔ آگے کھلا صحن تھا اور پھر آگے دو کمرے اور تھے جن میں سے ایک ڈرائنگ روم اور دوسرا کمرے نجیبہ کا تھا۔ گیٹ کے دوسری طرف باتھ روم تھا۔ میں اپنی ہوس بھری نظروں سے نجیبہ کی طرف دیکھ رہا تھا اور نجیبہ بھی بیچ بیچ میں سر اٹھا کر میری طرف دیکھتی اور جب ہم دونوں کی نظریں آپس میں ملتیں تو وہ شرما کر نظریں جھکا لیتی۔ حیرت ہے کہ ابّو کی شادی کو دو سال ہو چکے تھے اور نجیبہ اور نازیہ دونوں شادی کے بعد یہاں رہنے آ گئی تھیں لیکن پہلے ایسا کچھ نہیں ہوا تھا جو پچھلے چند دنوں سے ہو رہا تھا۔ نجیبہ بھی بہانے بہانے سے میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اس کی نظروں میں بہت کچھ چھپا ہوا تھا لیکن ہمارا رشتہ ایسا تھا کہ میں چاہ کر بھی آگے قدم نہیں بڑھا سکتا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس وقت مجھے سمجھ نہیں تھی، سمجھ تو مجھے بہت پہلے آ چکی تھی کہ ایک عورت اور مرد کے درمیان کیسا رشتہ ہوتا ہے اور میں اس کی نظروں کو کچھ حد تک سمجھ بھی پا رہا تھا لیکن پچھلے کچھ دنوں میں ایسا کیا ہو گیا تھا کہ نجیبہ کا مجھے دیکھنے کا نظریہ ہی بدل گیا تھا۔ یہ میری سمجھ سے باہر تھا۔ وہ مجھے پہلے بھائی کہہ کر بلاتی تھی لیکن پچھلے کچھ دنوں سے میں نے اپنے لیے اس کے منہ سے بھائی کا لفظ نہیں سنا تھا۔ وہ جب بھی مجھ سے کچھ پوچھنے آتی تو صرف ‘آپ’ کہہ کر ہی بات کرتی، مثلاً ‘آپ کو کھانا لا دوں؟’، ‘آپ چائے پیں گے؟’ ایسی ہی بات کر رہی تھی لیکن ایسا کیا ہو گیا تھا جس سے نجیبہ کا رویہ بدل گیا تھا؟ میں اپنے خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ باہر ڈور بیل بجی۔ میں نے دیکھا نجیبہ نے اپنی کتاب چارپائی پر رکھی اور جب وہ چارپائی سے اترنے لگی تو وہ میرے کمرے کی طرف سے اتری۔ حالانکہ وہ دوسری طرف سے بھی اتر سکتی تھی۔ چارپائی سے اترنے کے بعد اس نے اپنی قمیض کے پلے کو نیچے سے پکڑ کر اپنی قمیض کو نیچے کی طرف کھینچا جس سے اس کے ممے اس کی تنگ قمیض میں اور صاف شکل میں نظر آنے لگے۔ وہ ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی جیسے اس کی میری طرف دھیان ہی نہ ہو۔ پھر اس نے اپنا دوپٹہ چارپائی سے اٹھایا اور باہر جا کر گیٹ کھولا تو مجھے باہر سے ردا کی آواز آئی۔ اب یہ، ردا کون ہے؟ اس کے بارے میں اور اس کے خاندان کے بارے میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں۔ بات ابّو کی دوسری شادی سے پہلے کی ہے۔ تب میں اسکول سے گھر آتا اور کھانا کھا کر اپنی گلی کے یار دوستوں کے ساتھ سرکاری اسکول کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے پہنچ جاتا اور جب ابّو کے آنے کا وقت ہوتا تو اس سے تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچ جاتا۔ جس کا اثر میری پڑھائی پر ہونے لگا تھا۔ ستمبر میں جب انٹرنل امتحان ہوئے تو میں بری طرح فیل ہو گیا۔حالانکہ میں پڑھائی میں شروع سے ہی تیز تھا لیکن جب یہ آزادی ملی تھی، میں نے اپنی کتابوں کو اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ جب ابّو نے مارک شیٹ دیکھی تو ابّو مجھ سے سخت ناراض ہوئے، اور غصہ بھی کیا۔ اگلے ہی دن جب میں اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا تو ابّو نے میرے لیے ایک نیا فرمان جاری کر دیا کہ آج سے میں اسکول سے واپس آنے کے بعد سیدھا ابّو کے دوست فاروق کے گھر چلا جاؤں۔ دراصل ابّو اور فاروق قریبی دوست تھے۔ فاروق کے گھر میں رہنے والی بیوی سمرہ اور فاروق کی بیٹی ردا رہتی تھی۔ ردا کی شادی کو تین سال ہو چکے تھے۔ اس کے دو بچے تھے جو کہ جڑواں تھے۔ ردا کا شوہر خلیج میں نوکری کرتا تھا۔ تقریباً ایک سال پہلے ردا کا شوہر فاروق کے بیٹے کو بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ردا کی شادی جس گھر میں ہوئی تھی، ان کی فیملی بہت بڑی تھی۔ ردا کے شوہر کے چار بھائی اور تھے۔ اس لیے جب ردا کا بھائی اپنے جیجے کے ساتھ بیرون ملک گیا تو ردا یہاں آ گئیں۔ اس کے سسرالیوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ ردا اس وقت ہمارے گاؤں میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تھیں۔ انہوں نے انگریزی میں بیچلرز کیا ہوا تھا۔ اسی وجہ سے ابّو نے مجھے یہ فرمان سنایا تھا۔ جیسے کسی نے میری آزادی مجھ سے چھین لی ہو۔ لیکن شاید ابّو نہیں جانتے تھے کہ وہ مجھے کس دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ ایسی دلدل جس نے میرے ذہن میں سارے رشتے ناطے ختم کر دیے تھے۔ میں اس دنیا میں صرف ایک ہی رشتے کو سچ ماننے لگا تھا اور وہ تھا مرد اور عورت کا رشتہ۔

سمرہ فاروق کی دوسری بیوی تھیں۔ اس کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ جب ردا چھ سال کی ہوئیں تو بڑی مشکلوں کے بعد ردا کی امی دوسری بار حمل سے ہوئیں۔ لیکن حمل میں کچھ پیچیدگیاں ہونے کی وجہ سے نہ تو ردا کی امی بچ سکیں اور نہ ہی بچہ بچ سکا۔ رشتہ داروں کے بار بار کہنے اور دباؤ پر فاروق نے اپنی ہی سالی سمرہ سے شادی کر لی کیونکہ سمرہ کے گھر والے نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بچی کی آخری نشانی کو کسی طرح کی مشکلیں پیش آئیں۔ میں سمرہ کو چچی اور فاروق کو چچا کہتا تھا اور ردا کو ردا آپی کہہ کر بلاتا تھا۔ جب میں نے اسکول سے آ کر ان کے گھر جانا شروع کیا تو تب سمرہ چچی پینتیس سال کی ہوں گی۔ ان کی اونچائی پانچ فٹ چار انچ کے قریب تھی۔ سمرہ کی رنگت ایسی تھی جیسے کسی نے دودھ میں زعفران ملا دیا ہو۔ بالکل گورا رنگ، لال سرخ گال، ان کی شخصیت بہت پُرکشش تھی۔ سمرہ کی جو چیز سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنتی تھی، وہ تھی ان کی گول مٹول اور بھرے ہوئے خدوخال۔ جب وہ کبھی گھر سے باہر نکل کر دکان تک جاتی تھیں تو دیکھنے والے حیران رہ جاتے تھے۔ یہی حال ردا کا بھی تھا۔ اس کی عمر اس وقت قریب بائیس سال کے قریب تھی۔ شادی اور بچوں کے بعد اس کے جسم کے خدوخال بھی پختہ ہو چکے تھے۔ ان کی شخصیت دیکھ کر لوگوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو جاتی تھی۔ اور فاروق چچا اس وقت اڑتالیس سے پچاس کے درمیان کے ہوں گے۔ جب میں نے چچی سمرہ کے گھر جانا شروع کیا تو وہاں میں ایسی دلدل میں پھنسا کہ پھر کبھی باہر نکل نہیں پایا۔ میرے اندر آج جو شیطان ہے، وہ سمرہ چچی اور ردا آپی کی وجہ سے ہی ہے۔ اس دور میں کیا ہوا، کیسے ہوا، وہ بعد میں آپ کے سامنے آ جائے گا۔

فی الحال تو ردا آپی، جسے میں اب صرف ردا کہہ کر بلاتا ہوں جب ہم اکیلے ہوتے ہیں، وہ گھر آ چکی تھیں۔ ردا اور نجیبہ دونوں وہی چارپائی پر بیٹھ گئیں۔ ردا کی نظر جب مجھ پر پڑی تو اس نے اشارے سے مجھے سلام کہا۔ میں نے بھی جواب میں اشارہ کیا اور ساتھ ہی محسوس کیا کہ جب ردا نے سلام کے بعد نجیبہ کی طرف دیکھا تو دونوں کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ اِس دن سے نجیبہ کے رنگ ڈھنگ بدلے تھے۔ اُس دن بھی ردا گھر پر آئی ہوئی تھیں۔ ابّو اور میری سوتیلی امی شام کو سات بجے سے پہلے گھر نہیں آتے تھے، اسی لیے میں اور نجیبہ دونوں گھر پر اکیلے ہوتے تھے۔ وہ دونوں چارپائی پر بیٹھی آگے باتیں کر رہی تھیں۔ بیچ بیچ میں کبھی ردا تو کبھی نجیبہ میری طرف دیکھتی اور پھر سر نیچے کر کے مسکرانے لگتی۔ مجھے ان دونوں کی باتیں سننی نہیں آ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد نجیبہ اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جب وہ کمرے سے باہر آئیں تو اس نے اپنے کپڑوں پر تولیہ رکھا ہوا تھا۔ “آپی آپ بیٹھیے، میں ابھی نہا کر آتی ہوں۔” یہ کہہ کر نجیبہ باتھ روم میں چلی گئی۔ جیسے ہی نجیبہ باتھ روم میں گئیں، تو ردا چارپائی سے کھڑی ہوئیں۔ اس نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ اور پھر ایک بار باتھ روم کی طرف دیکھا۔ اور پھر وہ کمرے کی طرف آنے لگیں۔ اسے اندر آتا ہوا دیکھ کر میں بھی چوکنا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔ جیسے ہی ردا میرے قریب آئیں، چونکہ وہ مجھ سے 6 سال بڑی تھیں، میں نے آگے بڑھ کر ردا کا ہاتھ پکڑا اور اسے دروازے کے ساتھ دیوار سے لگا دیا۔ تاکہ اگر نجیبہ باہر آئے تو اس کی نظر سیدھا ہم دونوں پر نہ پڑے۔ جیسے ہی ہم دروازے کے پیچھے ہوئے، ردا نے اپنی باہوں کو میری گردن میں ڈال کر اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں کی طرف بڑھا دیا۔ میں نے بھی ایک پل کی بھی پرواہ کیے بغیر ردا کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔ اور اپنی باہوں کو اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیا۔ میں نے ردا کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اس کے کندھوں پر رکھا، تو ردا پاگلوں کی طرح مجھ سے لپٹ گئی۔

اس نے اپنی کمر کو آگے کی طرف پیش کیا تو، میرا لن اسکی شلوار کے اوپر سے اسکی پھدی پر جا لگا۔ میرے سخت لن کو اپنی پھدی پر محسوس کر کے ردا کا پورا جسم کانپ گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔ “سمیر اب دیر نہ کرو۔ تمہارا لن بھی تیار ہے۔ اور میری پھدی پانی چھوڑ رہی ہے۔” یہ کہتے ہوئے ردا نے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا اور بیڈ کے کنارے پر بیٹھتے ہوئے، اس نے اپنی شلوار کو اپنے گھٹنوں تک اتار دیا۔ پھر اس نے اپنی ٹانگوں کو گھٹنوں سے موڑ کر اوپر اٹھا لیں۔ تب تک میں بھی اپنی ہاف پینٹ اتار چکا تھا۔ میرا لن ایک دم سخت کھڑا تھا۔ میں نے اپنے لن کو ہاتھ سے پکڑا اور اسکی ٹانگوں کے درمیان آتے ہوئے لن کے ٹوپے کو جیسے ہی اسکی پھدی کے سوراخ پر لگایا، تو ردا نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ “سمیر جلدی کرو۔۔۔ پلیز مجھ سے صبر نہیں ہو رہا۔۔۔”

میں نے ردا کی بات سنتے ہی ایک زوردار جھٹکا مارا جس سے میرا لن ایک ہی بار میں پورا کا پورا ردا کی پھدی کے بیچ میں سما گیا۔ “ہائے ۔۔۔۔۔ جان کڈ دیتی۔۔۔ ” ردا نے بیڈ پر بچھی ہوئی بیڈشٹ کو دونوں ہاتھوں سے کس کے پکڑ لیا۔ میں نے بہت تیزی سے لن کو فل سپیڈ سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ اسکی قمیض میں اس کے ممے میرے جھٹکے لگانے کے باعث اوپر نیچے جھول رہے تھے۔ ہم دونوں خاموشی سے چدائی کر رہے تھے، تاکہ ہماری آواز کمرے سے باہر نہ جائے۔ تقریباً 6-7 منٹ بعد ردا کا جسم اکڑنے لگا۔ اس نے نیچے لیٹے ہوئے اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف پش کرنا شروع کر دیا۔ اور پھر ایک دم سے مچلتے ہوئے اسکی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا، اور ساتھ ہی میرے لن سے بھی پانی نکلنے لگا۔ جیسے ہی میں نے اپنا لن ردا کی پھدی سے باہر نکالا، تو ردا بیڈ سے کھڑی ہو گئی۔ اس نے دروازے سے باہر دیکھتے ہوئے اپنی شلوار کا ناڑا باندھنا شروع کر دیا۔ “کیا بات ہے سمیر ۔۔۔۔ آج کل تم ہماری طرف نہیں آ رہے۔۔۔ ” ردا نے شلوار کا ناڑا باندھا اور اپنی قمیض ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔۔۔

میں: ایسے ہی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔۔

ردا: اچھا میں باہر جا کر بیٹھتی ہوں۔۔۔۔ نجیبہ باہر آنے والی ہے۔

ردا کے باہر جانے کے بعد میں صرف انڈرویئر ہی میں بستر پر لیٹ گیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ مجھے باہر سے ردا اور نجیبہ دونوں کی باتیں کرنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں یہ تو نہیں سن پا رہا تھا کہ وہ آپس میں کیا بات کر رہی ہیں۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا تھا۔۔۔ جیسے ردا اور نجیبہ میرے بارے میں ہی بات کر رہی ہوں گی۔۔۔ جب دونوں کے ہنسنے کی آواز آتی تو میرے دل میں بے چینی سی اٹھتی کہ میں ان کی بات کسی طرح سنوں۔ میں بستر سے اٹھا اور دروازے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ لیکن وہاں سے بھی کچھ بھی ٹھیک سے سن نہیں پا رہا تھا۔ میں نے تھوڑا سا سر باہر نکال کر چھپ کر دیکھا تو، دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ کیے ہوئے بیٹھی تھیں۔۔۔ دونوں کی سائیڈ میری طرف تھی۔۔۔

تبھی میری نظر کچن کے دروازے پر پڑی۔۔۔ جو میرے کمرے کے بالکل ساتھ تھا۔۔۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔ مجھے اپنے کمرے سے نکل کر کچن کے اندر جانے میں چند سیکنڈ کا وقت ہی چاہیے تھا۔۔۔ بس مسئلہ یہ تھا کہ، کہیں دونوں میں سے کوئی بھی مجھے کچن کے اندر جاتے ہوئے نہ دیکھ لے۔۔۔ نہیں تو، دونوں مجھے کچن میں جاتے دیکھ کر باتیں بند کر دیتیں۔۔۔ بالآخر میں نے ہمت کر کے باہر کی طرف قدم رکھا۔۔۔ دونوں باتوں میں مصروف تھیں۔۔۔ اور میں نے بڑی تیزی سے بغیر آواز کیے کچن کے اندر چلا گیا۔۔۔ اندر لائٹ آف تھی۔۔۔ کچن میں باہر گیٹ کی طرف ایک ونڈو تھی۔۔۔ جو کھلی ہوئی تھی۔۔۔ ونڈو کے آگے جالی لگی ہوئی تھی۔

میں دھیرے دھیرے بغیر شور کیے ونڈو کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اب مجھے ان دونوں کی باتیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔۔۔ لیکن جو میں سوچ رہا تھا۔۔۔ دونوں اس کے الٹ بات کر رہی تھیں۔۔۔ ردا نجیبہ سے کہہ رہی تھی اتوار کے دن شہر میں جا کر شاپنگ کرنے کی بات کر رہی تھی۔۔۔ “اپی میں آپ کو پکا نہیں کہہ سکی۔۔۔ امی کو آنے دینا۔۔۔ میں ان سے بات کر کے آگے کو بتا دوں گی۔۔۔ اگر امی ابو راضی ہو گئے تو، پھر آپ کے ساتھ ضرور چلوں گی۔۔۔ مجھے بھی شاپنگ کا بہت شوق ہے۔۔۔”

ردا: اچھا ٹھیک ہے امی سے پوچھ کر بتا دینا۔۔۔ اور اگر وہ نہ مانے تو، تمہیں جو چاہیے مجھے بتا دینا۔۔۔ میں وہاں سے لا دوں گی۔

نجیبہ: جی اپی۔۔۔

میں سوچنے لگا کہ، جو میں دو دنوں سے سوچ رہا تھا۔۔۔ شاید وہ میرے من کا وہم تھا۔۔۔ یہ مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ جو ہر وقت میرا دماغ صرف سیکس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔۔۔ مجھے یاد ہے۔۔۔ جب شادی کے بعد نجیبہ اپنی امی کے ساتھ یہاں رہنے آئی تھیں تو، میں اس بات سے کس قدر خفا تھا۔۔۔ میں کیسے سارا دن اپنے ذہن میں اس کی امی اور اس کے لیے نفرت لیے پھرتا رہتا تھا۔۔۔ وہ نجیبہ ہی تھی۔۔۔ جس نے میرے غصے اور نفرت کو سہا۔۔۔ اس کی ہر ایک کے ساتھ گھل مل جانے والی خصوصیت کے سبب ہی۔۔۔ میں اپنے آپ کو اپنی سوتلی بہن اور سوتلی ماں کے ساتھ اس گھر میں ایڈجسٹ کر پا تھا۔۔۔ میں ابھی وہاں سے ہٹ کر واپس اپنے کمرے میں جانے ہی والا تھا کہ، ردا نے کچھ ایسا کہا۔۔۔ جس کے سنتے میں وہیں رک گیا۔۔۔

“نجیبہ۔۔۔ ویسے آج تو نے جو طریقہ اپنایا ہے وہ ہے ایک دم سیٹ۔۔۔ ایسے ہی اپنی اپی کا خیال رکھنا۔۔۔” پھر دونوں ہنسنے لگیں۔۔۔ پھر مجھے نجیبہ کی سرگوشی سے بھری آواز آئی۔۔۔

نجیبہ: اپی آپ سے ایک بات پوچھوں؟

ردا: ہاں پوچھو۔۔۔ تم مجھ سے جو چاہو پوچھ لیا کرو۔۔۔

نجیبہ: اپی آپکو بھائی کے ساتھ وہ سب کرتے ہوئے عجیب نہیں لگتا؟

ردا: کیا عجیب۔۔۔ میں سمجھی نہیں کھل کے بولو نہ کیا پوچھنا چاہتی ہے۔۔۔

نجیبہ: اپی میرا مطلب بھائی آپ سے عمر میں بہت کم ہے۔۔۔ اور آپ ان کے ساتھ وہ سب کچھ کر لیتی ہیں۔۔۔ تو آپ کو عجیب نہیں لگتا ان کے ساتھ۔۔۔

نجیبہ کی بات سن کر ردا ہنستے ہوئے بولی۔۔۔ “عجیب کیوں لگے گا۔۔۔ دیکھ اس میں عمر کا کیا لینا دینا۔۔۔ اس کے پاس وہ گنا ہے جو ایک عورت کو چاہیے ہوتا ہے۔۔۔ اور میرے پاس رس نکالنے والی مشین ہے۔۔۔ تو پھر عجیب کیوں لگے گا۔۔۔” ردا نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہا۔۔۔ “توبہ اپی آپ بھی نہ عجیب عجیب مثالیں دیتی ہیں۔۔۔”

ردا: چھوڑ تو نے میرے دی ہوئی مثال پسند نہیں آتی تو، آگے سے سیدھی بات کیا کرو گی۔۔۔ دراصل تیرے سمیر بھائی کا لن ہے ہی اتنا تگڑا کہ، جب پھدی میں جاتا ہے تو عمر شمار سب بھول جاتی ہوں۔۔۔ پھر تو دل کرتا ہے۔۔۔ وہ میری ٹانگیں اٹھا کر اپنا لن میرے پھدی کے اندر باہر کرتا رہے۔۔۔

نجیبہ: چھی۔۔۔۔۔۔ کیسی گندی باتیں کرتی ہیں آپ۔۔۔

ردا: چھوڑ آگے سے ایسی بات نہیں کرتی تجھ سے۔۔۔

ردا چپ ہو گئیں۔ تھوڑی دیر دونوں خاموش رہیں۔۔۔ “اپی ناراض ہو مجھ سے؟” ردا نے دھیرے سے کہا۔۔۔ “نہیں تو میں کیوں ناراض ہونا۔۔۔”

ردا نے نارمل سی ٹون میں کہا۔۔۔ “تو پھر آپ چپ کیوں ہو گئیں؟”

ردا: اب تم ہی کہہ رہی تھی کہ، ایسی باتیں نہ کریں۔۔۔

پھر تھوڑی دیر کے لیے خامشی چھائی رہی۔۔۔ “اپی ایک بات پوچھوں۔۔۔” ردا نے نجیبہ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ تھوڑی دیر خاموشی کے بعد ردا بولی۔۔۔ “ہاں بول کیا پوچھنا ہے؟”

نجیبہ: اپی آپ کہہ رہی تھیں کہ، بھائی وہ آپکی۔۔۔ (نجیبہ شاید شرما گئی تھی۔۔۔ یا پھر اسکی ہمت نہیں ہو رہی تھی ایسے الفاظ بولنے کے لیے۔۔۔)

ردا: اب بول بھی۔۔۔

نجیبہ: آپ کہہ رہی تھیں کہ، آپکا دل کرتا ہے کہ، بھائی آپکی ٹانگیں اٹھا کر کرتے رہیں۔۔۔ لیکن وہ سب کرنے کے لیے آپکی ٹانگیں کیوں اٹھائیں گے۔۔۔

ردا: (نجیبہ کی بات سن کر ہنستے ہوئے۔۔۔) ہاہاہا پاگل ہے توں بھی میری بھولی نادان بچی۔۔۔ ویسے وہ سب کرتے ہوئے ضروری نہیں ہے کہ، ٹانگیں اٹھی جائیں۔۔۔ پر ٹانگیں اٹھا کر پھدی دینے میں مزا بہت آتا ہے۔۔۔ توں ابھی یہ سب نہیں سمجھے گی۔۔۔ لیکن جب تیری کسی سے یاری لگے گی کی اور تب تیرا یار تیری ٹانگیں اٹھا کر تیری لے گا تو، تجھے میری بات کا یقین ہوگا۔۔۔

نجیبہ: کیا اپی آپ بھی۔۔۔

ردا: (ہنستے ہوئے) ہاہاہا سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔ دیکھنا وقت میری بات کی گواہی دے گا۔۔۔ اور تب توں کہہ گی کہ ردا اپی سچ کہتی تھیں۔۔۔ ہائے توبہ میں تو تمہیں یہاں باتوں میں ہی الجھا گئی۔۔۔ بچوں کو امی کے پاس چھوڑ کر آئی تھی۔۔۔ امی تو میری جان ہی نہیں چھوڑیں گی اب۔۔۔ بہت دیر ہو رہی ہے اب میں چلتی ہوں۔۔۔

ردا چار پائی سے اٹھی اور گیٹ کی طرف جانے لگی۔۔۔ نجیبہ بھی گیٹ بند کرنے کے لیے اس کے پیچھے چلی گئی۔۔۔ موقع اچھا تھا۔۔۔ میں کچن سے باہر نکلا اور اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔ اور بستر پر لیٹ گیا۔۔۔ اب کچھ کچھ میرے سمجھ میں آ رہا تھا کہ، نجیبہ کے رویے میں جو بدلاو آیا ہے۔۔۔ وہ کیوں آیا ہے۔۔۔ تو کیا نجیبہ میرے ساتھ وہ سب نہیں نہیں۔۔۔ نجیبہ میرے بارے میں ایسا کیوں سوچے گی۔۔۔ “پھر سب سوچتے ہوئے میری آنکھ لگ گئیں۔

شام کے 5:30 بج چکے تھے۔۔۔ تب میری نیند کھلی۔۔۔ میرے کمرے میں روشنی کم تھی۔۔۔ باہر سے ہلکی روشنی کمرے میں آ رہی تھی۔۔۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو، نجیبہ مجھے پکار رہی تھی۔۔۔ “ہاں بولو کیا بات ہے۔۔۔” میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ جو کہ مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ “میں چائے بنانے جا رہی تھی۔۔۔ آپ کے لیے بھی بنا دوں۔۔۔” نجیبہ سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔ “ہاں بنا ہی لو۔۔۔” نجیبہ میری بات سن کر باہر جانے لگی تو، میں نے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔ مجھے وقت صحیح سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ شاید ابھی ابھی سو کر اٹھنے کی وجہ سے۔۔۔ “نجیبہ۔۔۔”

نجیبہ: جی۔۔۔

میں: وقت کیا ہوا۔۔۔؟

نجیبہ: جی 5:30 ہوئے ہیں۔۔۔

میں: اوکے۔۔۔

نجیبہ باہر چلی گئی۔۔۔ پتہ نہیں کیوں پر میرا من اٹھنے کا بالکل بھی نہیں کر رہا تھا۔۔۔ میں ویسے ہی بستر پر لیٹا رہا۔۔۔ 10 منٹ بعد نجیبہ چائے کا کپ لے کر اندر آئی۔۔۔ اس نے میز پر کپ رکھا۔۔۔ “پھر سو گئے کیا۔۔۔۔۔؟” نجیبہ نے دھیرے سے کہا۔۔۔ “نہیں جاگ رہا ہوں۔۔۔”

نجیبہ: آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔؟

میں: ہمم ایسے ہی سر میں ہلکا سا درد ہے۔۔۔

نجیبہ: ٹیبلٹ لے لیں چائے کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ میں ابھی ٹیبلٹ لے کر آتی ہوں۔۔۔

The post سوتیلی ماں اور بہن قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/feed/ 0
میری کزن https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:32:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86/   کزن کی چدائی  مکمل کہانی  یہ ایک سچی کہانی ہے جسے میں نے ایک ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے. امید ہے آپکو پسند آے گی میٹرک کے پیپر دینے کے بعد میں فری تھا اور ابھی سواے آرام اور سیر و تفریح کے میں اور کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا […]

The post میری کزن appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

کزن کی چدائی

 مکمل کہانی 

یہ ایک سچی کہانی ہے جسے میں نے ایک ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے. امید ہے آپکو پسند آے گی میٹرک کے پیپر دینے کے بعد میں فری تھا اور ابھی سواے آرام اور سیر و تفریح کے میں اور کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا . لیکن مجے فارغ دیکھ کر گھر والوں کو سب کام مجھ سے ہی کرانا یاد آتے تھے. کبھی سبزی لا دو تو کبھی دودھ ختم ہو گیا ہے. گرمیاں بھی اپنے عروج پر تھیں اور اوپر سے رہی سہی کسر لوڈ شیدڈنگ نے پوری کی ہوئی تھی. میں نے جو جو سوچا ہوا تھا ویسا کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا اور یہ فارغ وقت گزارنا زیادہ مشکل لگ رہا تھا. دوستوں کے ساتھ کچھ سیر و تفریح کا پروگرام بنایا لیکن سب کی کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے وہ بھی نہ بن سکا. ایک دن اماں نے مجھے کہا اپنی خالہ کی طرف چلے جاؤ میں نے کچھ چیزیں بھجوانی ہیں اور ویسے بھی تمہاری خالہ اتنی بار تمہیں آنے کا کہ چکی ہیں لیکن تم ہو کہ جاتے ہی نہیں ہو. میری خالہ گجرات میں رہتی تھی اور مجھے وہاں جانا کبھی بھی اتنا پسند نہیں تھا اس لئے لئے پچھلے 3 – 4 سال سے میں ان کی طرف گیا ہی نہیں تھا. شاید ویسے تو میں انکار کر دیتا لیکن میں نے سوچا موجودہ حالات میں چلو یہی تفریح سہی. دو دن کے بعد میں خالہ کے گھر کے لئے روانہ ہو گیا. خالہ کا گھر گجرات کے ایک گنجان محلے میں تھا. خالہ مجھےدیکھ کر بہت خوش ہوئی اور میری خوب خاطر کی. خالہ کے 2 بچے تھے بڑی بیٹی مہوش جو کہ مجھ سے 3 – 4 چھوٹی ہو گی اور ایک بیٹا جو کہ چھ سات سال کا تھا. دونوں بچے اسکول گئے ہوے تھے اور خالو بھی گھر پر نہیں تھے. خالہ نے بتایا کہ تمھارے خالو کا ایک دوسرے شہر میں تبادلہ ہو گیا ہے اس لئے وہ صرف ہفتہ اور اتوار کو ہی آتے ہیں. کھانے پینے سے فارغ ہو کر میں وقت گزاری کے لئے چھت پر چلا گیا. چھت پر کافی کھلا صحن اور ایک طرف 2 کمرے تھے جس میں سے ایک کو اسٹور بنایا ہوا تھا اور دوسرے کمرے کی حالت سے لگتا تھا کہ اس کو کبھی کبھار سونے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے. اس کمرے کے درمیان میں ایک چھوٹا سا پلنگ بچھا ہوا تھا اور اس پلنگ کے دونو اطراف فرشی بستر لگے ہویے تھے. صحن کے ایک طرف ایک چھوٹا سا واش روم تھا جس کی حالت سے لگتا تھا کہ وہ بہت کم استعمال ہوتا ہے. میں نے چھت کی دیواروں سے ارد گرد تانکا جھانکی کر کے ماحول کا جائزہ لیا لیکن کوئی انٹرسٹنگ چیز نظر نہیں آئی. میں نیچے آ کر خالہ سے باتوں میں مصروف ہو گیا.تھوڑی دیر کے بعد باہر کا دروازہ کھلا اور سفید اسکول یونیفارم میں ملبوس ایک گوری چٹی اور خوبصورت لڑکی گھر میں داخل ہوئی. اس کے آنے کے انداز سے مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ خالہ کی بیٹی مہوش ہی ہے. اگر کہیں اور دیکھا ہوتا تو شاید نہ پہچان سکتا کیوں کہ وہ بلکل بدل چکی تھی. رنگت میں دودھ جیسی سفیدی، بے داغ چہرہ، لمبے گھنے بال جن کو اس نے چٹیا کی صورت میں با ندھا ہوا تھا. دھوپ کی وجہ سے اس کے سفید رنگ میں سرخی آ رہی تھی جسم کے خدوخال اس کی جوانی کے شروعات کا ثبوت دے رہے تھے. اس نے آ کر سرسری سا سلام کیا جس کا میں نے پر تپاک انداز میں جواب دیا لیکن اس نے کوئی خاص پیش رفت نہیں دکھائی اور اندر کمرے کی طرف بڑھ گئی. کپڑے بدلنے اور کھانا کھانے کے بعد وہ اپنی کتابیں کھول کر پڑھائی میں مصروف ہو گئی. میں اس سے پڑھائی کی باتیں کرنے لگ گیا. وہ صرف میری باتوں کا بے رخی سے جواب دے رہی تھی اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کر رہی تھی. میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ نویں جماعت میں پڑھ رہی ہے اور آج کل اس کے اسکول میں ماہانہ ٹیسٹ چل رہے ہیں. میں خالہ اور ان کےبیٹے سے باتوں میں لگ گیا لیکن میرا ذہن بار بار مہوش کی طرف ہی جا رہا تھا وہ مجے جتنا اگنور کر رہی میں اتنا ہی اس کے پاس جانے کے لئے بہانے تلاش کر رہا تھا. میرے ذہن میں اس کے بارے میں کوئی غلط سوچ نہیں تھی لیکن میں اس کی طرف اٹراکٹ ہو رہا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے بات کرے لیکن وہ اپنی پڑھائی میں مگن تھی اور ایسے شو کر رہی تھی جیسے میں وہاں موجود ہی نہ ہوں. رات کو سب لوگ چھت پر سوتے تھے مجے بھی خالہ نے ایک سائیڈ پر چارپائی پر بستر بچھا کر دیا وہ مجھ سے کافی دور خالہ کے قریب والی چارپائی پر سو رہی تھی. سب سو چکے تھے لیکن میں اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا. میں گھر سے تو صرف 2 دن ہی خالہ کے گھر رہنے کا سوچ کر آیا تھا لیکن اب میرا مہوش کی وجہ سے جانے کا دل نہیں کر رہا تھا. سب لوگ سو چکے تھے اور میں لیٹا ہوا دور سے مہوش کو دیکھ رہا تھا جو کہ رات کے اندھیرے میں مجے نظر تو نہیں آ رہی تھی لیکن پھر بھی اس کی طرف دیکھ کر مجھے عجیب سکون مل رہا تھا. نہ جانے رات کے کس پہر مجھے نیند آئی صبح خالہ کے جگانے پر آنکھ کھلی تو میں نے سب سے پہلے مہوش کو دیکھا لیکن تب تک وہ شائد اسکول جا چکی تھی. سارا دن اس کی واپسی کا انتظار کرتا رہا لیکن واپس آ کر اس نے اسی بے رخی کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنی کل والی روٹین جاری رکھی. میں جواد ( خالہ کا بیٹا ) کے ساتھ بازار گیا اور اس کو کچھ چیزیں لے کر دیں وہاں سے مہوش کے لئے بھی ایک چاکلیٹ لی. گھر آ کر میں نے اس کو چاکلیٹ دی لیکن اس نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ مجھے چاکلیٹ پسند نہیں ہیں اور دوبارہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گئی.وہ مجھ سے جتنا اجنبیوں والا برتاؤ کر رہی تھی مجھے اور زیادہ کشش ہو رہی تھی. جواد مجے با ہر جانے کا کہتا لیکن میرا مہوش کے سامنے سے ہٹنے کو دل ہی نہیں کرتا تھا بس دل کرتا تھا ہر وقت اسی کو دیکھتا جاؤں. اس رات سب چھت پر سو رہے تھے کہ اچانک بارش ہونا شروع ہوگئی. خالہ نے مجھے کہا کہ اندر کمرے میں جا کر سو جاؤ. بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا. میں اندھیرے میں ٹٹو لتے ہوے پلنگ کے ایک سائیڈ پر بچھے ہوے فرشی بستر پر دیوار کے ساتھ لگ کر لیٹ گیا. مجھے لیٹتے ہی نیند آ گئی. تھوڑی دیر کے بعد بادل گرجنے کی آواز سے میری آنکھ کھلی تو مجھے محسوس ہوا کہ میرے ساتھ کوئی اور بھی لیٹا ہوا ہے. بجلی ابھی تک نہیں آیی تھی اور کمرے میں گھپ اندھیرا تھا. میرے خیال میں جواد میرے ساتھ آ کر لیٹ گیا ہو گا. اس وقت آسمانی بجلی چمکی جس سے کمرے میں تھوڑی سی روشنی ہوئی اور میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ مہوش لیٹی ہوئی ہے میری تو جیسے سانس رک گئی ہو اور مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسا میرا جسم بلکل حرکت نہیں کر رہا. اس کو اپنے اتنا قریب محسوس کر کے میرے جسم میں جیسے کرنٹ سا دوڑ رہا تھا. میں اسی کی طرف کروٹ لے کر بلکل ساکت لیٹا ہوا تھا جیسے کہ کوئی حرکت کی تو جان نکل جائے گی. مجھے اپنی شلوار میں حرکت محسوس ہو رہی تھی نہ چاہتے ہوے بھی میرا لن کھڑا ہو گیا تھا. میں کافی دیر تک اسی حالت میں لیٹا رہا. تھوڑی دیر میں کچھ نارمل ہوا تو میرا دل اس کو چھونے کو کیا. لیکن مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ اگر اس کی آنکھ کھل گئی تو کہیں کوئی مسلہ نہ ہو جائے. مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ کمرے میں اندھیرے کی وجہ سے وہ یہاں آ کر لیٹ گئی ہے اگر اس کو معلوم ہوتا تو وہ کبھی بھی اس کے ساتھ نہ لیٹتی. میں نے کسی بھی قسم کی حرکت کرنے سے پہلے یہ جاننے کا فیصلہ کیا کہ وہ غلطی سے یہاں لیٹی ہے یا جان بوجھ کر. میں نے نیند میں کروٹ لینے کے انداز میں اپنا ہاتھ اس کے بازو پر اس طرح رکھا کہ اس کی آنکہ کھل جائے. میرا ہاتھ جیسے ہی اس کو چھوا مرے جسم میں ایک عجیب سا کرنٹ لگا. اس کا بازو کسی ریشم کے تکیے کی طرح نرم اور ملائم تھا. میرا لن جو پہلے ہی کھڑا ہوا تھا مزید جھٹکے مارنے لگا. میرے پلان کے مطابق میرا ہاتھ لگنے سے اس کی آنکھ کھل گئی اس نے میرا ہاتھ پیچھے کیا اور اٹھ کر بیٹھ گئی اور اندھیرے میں غور سے میری طرف دیکھنے لگی جیسے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کے ساتھ کون سو رہا ہے . میں ایسے شو کر رہا تھا جیسے گہری نیند میں ہوں اور مجے آس پاس کی دنیا کی کوئی خیر خبر نہیں. مرے ہلکے ہلکے خراٹوں سے اس کو معلوم ہو گیا کہ وہ جواد کی بجاے میرے ساتھ سو رہی تھی. اس سے جلدی سے اپنی چادر اٹھائی اور پلنگ کے دوسری سائیڈ پر جا کر لیٹ گئی. میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ اس کو جگانے کی کیا ضرورت تھی ایسے کم از کم وہ میرے پاس تو لیٹی ہوئی تھی اب پتا نہیں ایسا موقع دوبارہ ملے یا نہ ملے. اگلے دن اس نے پہلے جیسا ہی برتاؤ رکھا ایسا کچھ نہیں لگ رہا تھا کہ رات کی بات پر کچھ ریکٹ کر رہی ہو. آج تو وہ پہلے سے بھی زیادہ پریشانی سے پڑھائی میں مصروف تھی. میں نے تھوڑی ہمت کر کے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس کی بجایے خالہ نے بتایا کہ کل میتھ کا پیپر ہے اور یہ میتھ میں کافی کمزور ہے. میں نے کہا کہ خالہ آپ فکر نہ کریں میں تیاری کرا دیتا ہوں. یہ سن کر اس کو کچھ تسلی ہوئی. میں نے دیر رات تک اس کے ساتھ بیٹھ کر میتھ کی تیاری کرائی . اس دوران کافی بار میرا ہاتھ اس کے ہاتھ کو چھوا تو جیسے کرنٹ سا لگ جاتا تھا،.اس کے بعد وہ میرے ساتھ کچھ حد تک فرینک ہو گئی . اگلے دن پیپر دے کر آیی تو کافی خوش لگ رہی تھی. میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میتھ پیپر بہت اچھا ہو گیا اور آج میرے پیپر بھی ختم ہو گئے ہیں. اس نے مجھ سے ہاتھ ملا کر میرا شکریہ ادا کیا کہ آپ کی وجہ سے میرا پیپر بھی اچھا ہو گیا. اس کا نرم و نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر میں تو اپنے ہوش سے ہی بیگانہ ہو گیا.اس کے بعد تو میں نے اس کا بلکل ہی الگ روپ دیکھا وہ مجھ سے بہت فرینک ہو گیی تھی اور اگلے دو دن ہم لوگوں نے خوب گپ شپ کی اور لڈو، کیرم بھی بہت کھیلا . اگلی رات کو سوتے میں پھر سے بارش ہو گیی اور خالہ نے مجھے جگا کر کہا کہ اندر جا کر سو جاؤ. میں اندھیرے میں ٹٹولتے ہوۓ بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آ کر سو گیا جہاں جواد سویا ہوا تھا. تھوڑی دیر کے بعد میری آنکھ کھل گئی. کمرے میں گھپ اندھیرا تھا. لگ رہا تھا کہ پورے محلے کی لائٹ بند تھی. اسی وقت بجلی چمکی اور اس چند سیکنڈ کی روشنی میں مجھے لگا کہ میرے ساتھ جواد کی بجاے مہوش سو رہی ہے. میں تو جیسے ساکت ہو گیا. تھوڑی دیر ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس دن کی طرح مہوش کو ایک بار پھر جگا دوں ورنہ اگر لائٹ آنے پر یا صبح اٹھنے پر خالہ نے دیکھ لیا تو پتا نہیں کیا سمجھیں گی. میں نے اپنا ہاتھ اس کے بازو پر اس طرح مارا جیسے کہ کروٹ لیتے ہوۓ نیند میں لگ گیا ہو. وہ اٹھ گئی اور بیٹھ کر غور سے میری طرف دیکھا اور پھر دوسری طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی. میں بلکل ساکت لیٹا رہا اور سونے کی ایکٹنگ جاری رکھی. میں دیوار والی طرف تھا اور وہ پلنگ کی طرف تھی. ہمارے درمیان فاصلہ بہت ہی کم تھا. شلوار میں لن بھی اکڑا ہوا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں. میں نے سوچا کہ اٹھ کر دوسری طرف سو جاؤں لیکن پھر وہیں لیٹا رہا . دس منٹ تک تو میں ایسے ہی لیٹا رہا پھر تھوڑی ہمت کر کے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کی کمر پر رکھ دیا. اس کی نرم و ملائم کمر پر ہاتھ رکھتے ہی جیسے مجھے کرنٹ سا لگا. میں تھوڑی دیر تک اس کی کسی حرکت کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے گہری نیند سو رہی تھی. مجھ میں اور ہمت آ گئی اور آرام آرام سے اپنا ہاتھ اس کی کمر اور پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیا. اس نے اپنے اوپر چادر لی ہوئی تھی اور میں چادر کے اوپر سے ہی اسکے جسم پر ہاتھ پھیر رہا تھا. پندرہ منٹ تک میں ایسے ہی چادر کے اوپر سے اس کی کمر اور پیٹ پر ہاتھ پھیرتا رہا لیکن مہوش نے کوئی رسپانس نہیں دیا. کمرے میں ایک تو بہت اندھیرا تھا اور باہر سے تیز بارش کی آواز کا شور تھا. اب مجھ میں مزید ہمت آ گئی اور میں تھوڑا سا آگے کو سرکا. اب اس کے اور میرے درمیان کا فاصلہ مزید کم ہو گیا تھا. اب میں نے اپنا ہاتھ چادر کی اندر ڈالا اور اس کی قمیض کو تھوڑا سا ہٹا کر اس کی ننگی کمر پر ہاتھ رکھا. ہاتھ رکھتے ہی مجھے ایسے لگا کہ جیسے اس کی جسم کو ایک جھٹکا سا لگا. میں نے اسی وقت اپنا ہاتھ وہیں روک لیا. تھوڑی دیر تک اس کی طرف سے کوئی ریکشن نہیں آیا تو میں نے اپنے ہاتھ کو تھوڑی حرکت دینی شروع کی اور پیٹ کی طرف لے گیا. میرا ہاتھ اس کی قمیض میں تھا اور ہاتھ کا نچلا حصہ اس کی شلوار سے لگ رہا تھا. اب میں نے ہاتھ قمیض میں اوپر کی طرف کرنا شروع کر دیا لیکن قمیض تنگ ہونے کی وجہ سے زیادہ اوپر نہیں جا سکا. میں اسی طرح کمر اور پیٹ پر ہلکا ہلکا ہاتھ پھیرتا رہا. وہ بلکل ساکت لیٹی ہوئی تھی. مجھے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے یا سو رہی ہے. لیکن جو بھی تھا میں مزے میں تھا. میرے اندر کا ڈر اب تقریبآ ختم ہو گیا تھا اور میں نے کسی قسم کا کوئی رسپانس نہ پا کر مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا. میں کمر پر ہاتھ پھیرتا ہوا آھستہ آھستہ اس کی ٹانگوں اور پھر گانڈ پر لے آیا. اس کی گانڈ بہت نرم تھی. میں مزے میں مدہوش اس کی گانڈ اور اس کی لکیر پر ہاتھ پھیرتا رہا. اتنی زبردست گانڈ پر تو میرا دل کر رہا تھا کہ زور زور سے دباؤں لیکن جگہ اور حالات کی مناسبت سے اتنا مزہ بھی میرے لئے حد سے زیادہ ہی تھا. میں آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے پھدی کی طرف لے گیا لیکن وہ کروٹ لے کر ایسی پوزیشن میں سوئی ہوئی تھی کہ اس کی پھدی دونوں ٹانگوں میں چھپی ہوئی تھی اور میں کوشش کے باوجود پھدی کو نہیں ٹٹول سکا. میں نے گانڈکا مزہ لینے میں ہی غنیمت جانی. وہ بالکل بے سدھ سونے کے انداز میں پڑی ہوئی تھی لیکن مجھے یقین تھا کہ وہ جاگ رہی ہے.بارش ابھی بھی ہو رہی تھی اور بجلی بھی ابھی تک نہیں آی تھی. اب میں مزید دلیرانہ طریقے سے اس کی گانڈ دبا رہا رہا تھا. اس کی گانڈ کی لکیر کے اندر تک انگلیاں پھیر رہا تھا. میں اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا. اب میں نے شلوار میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت ٹائٹ بند تھی. مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس نے ازار بند ڈالا ہوا ہے. میں نے ہاتھ آگے لےجا کر اس کا ازار بند ٹٹولنا شروع کر دیا. مجھےمحسوس ہوا کہ وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن میں اپنے کام میں لگارہا. آخر کار میرے ہاتھ میں اس کے ازار بند کا ایک سرا آ گیا جسے میں نے آرام سے کھینچ کر کھول دیا. اب اس کی شلوار کی گرفت کافی ڈھیلی ہو گیی تھی اور میں نے پیچھے سے اس کی شلوار میں ہاتھ ڈال دیا. اس کی گانڈ بہت گرم ہو رہی تھی. میں نے ہلکا ہلکا دبانا شروع کر دیا اور لکیر پر بھی ہاتھ پھیرنے لگا. مزے سے میری حالت ایسے ہو رہی تھی جیسے بہت تیز بخار ہو اور میرا لن تو شلوار پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا. پھر میں اپنی انگلی لکیر کے اندر لے گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو دبانے لگا. پھر انگلی کو تھوڑا اور نیچے اس کی پھدی کی طرف لے گیا. گانڈ کے سوراخ کے نیچے تو مجھے ایسے لگا کہ جیسے میں نے کسی بہت چکناہٹ والی جگہ میں انگلی ڈال دی ہو. وہاں سے بہت زیادہ گیلا ہو رہا تھا. تھوڑی سی کوشش کے بعد میں پیچھے سے اپنی انگلی اس کی پھدی کے نچلے حصے پر لگانے میں کامیاب ہو گیا. اس کی پھدی بہت گیلی ہو رہی تھی. اب مجھ سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا. میں نے ہاتھ باہر نکالا اور ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیا. کمرے میں ابھی بھی اندھیرا تھا اور بارش کی آواز سے لگ رہا تھا کہ اب ذرا آھستہ ہو گئی ہے. خالہ کے خراٹوں کی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ دوسری طرف منہ کر کے گہری نیند سو رہی ہیں. میں نے اپنے آپ کو تھوڑا اور آگے سرکایا اور اس کی چادر اپنے اوپر بھی لے لی. اب ہم دونوں ایک ہی چادر میں تھے اس نے دوسری طرف منہ کر کے کروٹ لی ہوئی تھی اور میں اس کے پیچھے اس کی طرف کروٹ لے کر لیٹا ہوا تھا. ہمارے درمیان فاصلہ بہت ہی کم رہ گیا تھا. تھوڑا سا اور آگے ہوا تو لن اس کی گانڈ کی لکیر پر سیٹ کر کے ہلکا ہلکا دبانا شروع کر دیا. میں تو مزے کی کسی اور ہی جہاں میں تھا. پھر میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس کی گانڈ کی لکیر میں اندر تک پھیرنا شروع کر دیا. دو تین منٹ اسی طرح مزے لے کر میں تھوڑا پیچھے ہٹا اور اس کی شلوار کو تھوڑا اور ڈھیلا کر کےگانڈ کے نیچے تک سرکا دیا. اور ساتھ ہی اپنی شلوار کھول کر لن بھی باہر نکال لیا۔اب ہم دونوں چادر میں تھے اور میرا لن اور اس کی گانڈ کے درمیان کوئی کپڑا نہیں تھا. میں نے اس کی گانڈ کو تھوڑا سا کھول کر اس کا سوراخ پر اپنا لن لگا کر ہلکا سا دبایا اور ہاتھ سے اس کی گانڈ کو چھوڑ دیا. اب میرا لن اس کی گانڈ میں پھنسا ہوا اور ٹوپی اس کے سوراخ پر سیٹ تھی. میں نے آہستہ آہستہ دبانا شروع کر دیا. اس کی گانڈ بہت گرم ہو رہی تھی. میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھ کر اپنی طرف کھینچ کر نیچے سے گانڈ پر دھکے لگا رہا تھا. کیوں کہ اب میں مہوش کے بالکل ساتھ لگا ہوا تھا اس لئے اب اس کے تیز سانسوں کی آواز مجھے سنائی دے رہی تھی. پھر میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اوپر نیچے پھیرنا شروع کر دیا. نیچے پھدی پر رکھ کر میں نے جسے ہی دبایا تو وہاں پر چکناہٹ کی وجہ سے لن پھسل کر دونوں ٹانگوں میں گھس گیا. میں نے وہیں دھکے مارنے شروع کر دئے. لن اس کی ٹانگوں میں آگے پیچھے کرنا شروع دیا. ایک بار پھر پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن نا تجربہ کاری اور لیٹنے کی پوزیشن کی وجہ سے ناکام رہا اور لن پھر سے پھسل کر اس کی ٹانگوں میں چلا گیا. اب میں اپنا ہاتھ منہ کے پاس لایا اور اس پر تھوک لگا کر نیچے لے جا کر لن کی ٹوپی اور باقی لن پر لگا دیا. لن پھدی کے پانی سے ویسے ہی گیلا تھا تھوک لگنے سے اور چکنا ہو گیا. میں نے اس کی اوپر والی ٹانگ تھوڑا آگے کر کے پھدی مارنے کی ایک اور کوشش کی لیکن پھر ناکامی ہی ہوئی. پھر میں نے اپنی انگلی پر تھوک لگایا اور اس کی گانڈ کے سوراخ پر اسی انگلی سے تھوک لگا دیا. پھر اپنا چکنا لن اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ کیا اور اس کی کمر سے پکڑ کر آہستہ سے دھکا لگایا تو لن کی ٹوپی اس کی گانڈ میں گھس گیی. میں ابھی مزے کی اس کفیت کو سمجھ ہی نہیں پایا تھا کہ وہ جلدی سے آگے کو ہو کر الٹی لیٹ گی، اسی دوران مجھے اس کے منہ درد بھری سسکی کی آواز سنائی دی. مجھے سمجھ آ گی کہ درد کی وجہ سے وہ الٹی ہو گیی ہے تاکہ میں مزید لن نہ ڈال سکوں. مجھے بہت مایوسی ہوئی کہ اتنا قریب آ کر بھی نہ پھدی ماری اور نہ ہی گانڈ. مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ گانڈ یہ اب دے گی نہیں اور ان حالات اور پوزیشن میں پھدی مارنا مشکل ہے. باہر بارش بھی رک چکی تھی لیکن بجلی ابھی تک نہیں آیی تھی. میرا لن جھٹکے کھا رہا تھا. میں نے کچھ سوچا اور پھر مہوش کے کان میں سرگوشی کرتے ہوے کہا “ساتھ والے کمرے میں جا رہا ہوں تھوڑی دیر کے بعد وہاں آ جانا” میں اتنا کہ کر پیچھے ہو گیا اور بیٹھ کر ارد گرد کا جائزہ لیا. خالہ گہری نیند میں ہی تھی. میں آرام سے اٹھا اور باہر نکل آیا. اسٹور کا دروازہ صحن میں سے ہی تھا. میں دبے قدموں چلتا ہوا وہاں آ گیا. کمرے میں اندھیرا تھا لیکن دروازہ کھلنے کی وجہ سے اندر تھوڑا بہت دکھایی دے رہا تھا. دروازے کے سامنے ہی چارپائی بچھی ہوئی تھی اور باقی کمرے میں پیٹیاں، الماری اور کافی دوسرا سامان پڑا ہوا تھا. میں حالات کا جائزہ لے کر وہیں کھڑا ہو کر اس کا انتظار کرنے لگ گیا. کافی دیر ہو گئی تھی لیکن وہ نہیں آیی. میرا لن بھی اب ڈھیلا ہو چکا تھا. میں نے سوچا وہ نہیں آے گی. آج جتنا مزہ لے لیا ہے وہی کافی ہے. اب مٹھ لگا کر سکون لیتا ہوں اور جا کر سوتا ہوں۔میں نے شلوار کھولی اور ڈھیلے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ہلانا شروع کر دیا. کچھ دیر پہلے والے واقعات یاد کر کے میرا لن پھر سے سخت ہو گیا. اتنی دیر میں مجھے دروازے کے پاس ایک سایہ سا نظر آیا جو اسٹور کے دروازے سے اندر اندھیرے میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا. خدو خال سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ مہوش ہے. میں نے ہلکی سے آواز دی کہ اندر چارپائی پر آ جاؤ. وہ اندر آ گئی میں نے اس کو پکڑا اور گلے لگا کر کہا کہ “مجھے لگا تم نہیں آؤ گی”. وو بس اتنا بولی “جلدی کرو”. میں اس کو چارپائی پر اس طرح لٹایا کہ اس کی گانڈ چارپائی کے کونے پر تھی. میں اس کی ٹانگوں میں چارپائی کے پاس کھڑا ہو گیا. شلوار میری پہلے ہی پاؤں میں تھی قمیض کو بھی گریبان میں پھنسایا اور اپنے لن پر تھوک لگا لیا. اندھیرے میں کچھ زیادہ دکھائی نہیں دے رہا تھا. میں ہاتھ لگا کے چیک کیا تو اس نے ابھی تک شلوار پہنی ہوئی تھی. میں ٹٹولتے ہوتے اس کا ازار بند کھولا اور شلوار نیچے پاؤں تک کر کے اس کی ٹانگیں اوپر کی اور ان کے درمیان کھڑا ہو گیا. ہاتھ پر تھوڑا تھوک لگا کر اس کی پھدی پر لگایا جو پہلے ہی کافی گیلی تھی پھر اندھیرے میں اس کی پھدی کے سوراخ پر انگلی رکھی اور اپنا لن اس انگلی کی جگہ رکھ کر اس کے اوپر لیٹ گیا. اس کی ٹانگیں میرے کندھے پر تھی. میں نے لن کو تھوڑا دبایا تو وہ پھسلتا ہوا پورا پھدی کے اندر چلا گیا. مہوش نے پھر ہلکی سی سسکاری لی. مجھے ایسے لگا کہ میں نے لن کسی گرم اور نرم ملائم چکنی جگہ میں ڈال دیا ہے. اس کی پھدی کی اندرونی دیواروں نے میرے لن کو جکڑا ہوا تھا. اور مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میری ساری جان لن کے اندر آ گئی ہے اور میں فارغ ہونے والا ہوں میں نے جھٹکے لگانے شروع کر دیے. ہر جھٹکے میں جب لن اندر جاتا تو مزے سے میرا پورا جسم کانپ جاتا اور مہوش کے منہ سے بھی سسکاری نکلتی. لیکن افسوس کہ میں پانچ چھ جھٹکوں سے زیادہ کنٹرول نہیں کر سکا اور فارغ ہو گیا. لن باہر نکال کر دوسری طرف منہ کر کے ساری منی نیچے گرا دی. جب میں فارغ ہو کر مڑا تو مہوش کپڑے ٹھیک کر کے دروازے میں سے نکل رہی تھی. میں بھی تھوڑی دیر کے بعد چپکے سے آ کر جواد کے ساتھ سو گیا. اس کے بعد اگلے دو دن میں تین بار موقع ڈھونڈ کر اس کی پھدی لی. دو بار اوپر والے باتھ روم میں اور ایک بار سیڑھیوں میں. اسی دوران مجھے پتا چلا کہ وہ پہلے بھی دو لڑکوں سے مرواتی رہی ہے. ایک تو ہمارا ہی کزن شانی اور دوسرا ان کا ایک ہمسایہ لڑکا جس سے اوپر والے باتھ روم یا اسٹور میں چدواتی رہی ہے. دو دن کے بعد مجھے واپس آنا پڑا لیکن وہ والی رات کا سیکس میری زندگی کا سب سے یادگار سیکس ایکسپیرینس رہا

ختم شدہ

The post میری کزن appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86/feed/ 0
جوان سسر https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/ https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:29:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/   میرا جوان سسر ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے  میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں […]

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرا جوان سسر

ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے

 میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں اور ملتان میں رہتی ہوں میرا شوہر دوسرے ملک میں جاب کرتا ھے۔ اور گھر میں سسر اور میں رہتے ہیں میری شادی سے ایک سال پہلے ساس کا انتقال ھو چکا تھا شوہر سال میں چند دنوں کیلئے آتا اور پھر واپس چلا جاتا تھا اور شوہر چدائی میں بھی سست تھا شادی کی پہلی رات ھی مجھے فارغ نہ کر سکا جب چند دنوں کیلئے آتا تو تب بھی مجھے فاریغ نہ کرپاتا شادی کے بعد شوہر سال بھر کیلئے جاتا اور میں بہت گرم رہتی اور شوہر ایک سال بعد آتا اوپر سے مجھے فاریغ نہیں کرپاتا ویسے تو میرے پاس سب کچھ تھا مگر میرے جسم کی بھوک مٹانے کیلئے کچھ نہ تھا میں اتنی گرم ھو جاتی کے اکثر میں ایک تکیہ کو اپنی ٹانگوں میں لیتی اور دوسرے تکیہ کو اپنی باھوں میں لےکر اپنی چوت رگڑتی اور دوسرے تکیہ کو اپنے مموں پر دباکر تکیہ کو چومتی اور بیڈ پر تڑپتی رہتی اسی طرح مجھے تڑپتے ھوئے چار سال ھو گئے جب میکے جاتی تو بھائی اور بھابھی کو کبھی چمہ چٹی کرتی دیکھتی تو مجھ میں زیادہ گرمی چڑھ جاتی کبھی پاپا مما کو چمہ چٹی کرتی دیکھتی پھر میں گھر آتی اور بیڈ پر تڑپتی ھوئی تکیہ سے مست ھوتی اور اس تڑپ کا کسی سے زکر بھی نہیں کر پاتی ایک رات میں بہت ھوٹ تھی اور اپنے مموں کو دباتی ھوئی تڑپ رھی تھی اور نید میری آنکھوں سے کوسو دور تھی اور رات کا ایک بج رھا تھا اور میرا گلا خشک ھو گیا میں ڈھنڈہ پانی پینے کیلئے روم سے باہر آئی سسر جی کا روم میرے روم کے ساتھ تھا اور سسر کے روم کے ساتھ فریج تھی سسر کے روم سے گزری تو کسی عورت کی آواز سنائی دی میں نے ڈور پہ کان لگا کر سنا تو لڑکی کی آواز آئی آصف آپ فاریغ ھی نہیں ھوتے مجھے بہت تھکا دیتے ھو میں نے سوچا کے کیا اندر لڑکی ھے پھر سوچا نہیں سسر جی ایسے نہیں ہیں من میں آیا ایک بار دیکھ لو ڈور کے ہینڈل کو گھمایا تو لاک تھا پھر میں نے چابی لی اور آہستہ سے لاک کھول کر آرام سے تھوڑا سا ڈور کھول کر دیکھا میں تو دیکھ کے حیران ھوگئی سسر نگا لیٹا ھے اور سسر کا لن مستی میں کھڑا ھے اور ایک لڑکی سسر کے لن کو چوپے لگا رھی ھے سسر کا لن تو شوہر کے لن سے موٹا لمبا اور تگڑا تھا سسر کا لن دیکھتے ھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی یہاں سے ہٹنے کو من ھی نہیں کر رہا تھا پھر سسر لڑکی کی چوت چاٹنے لگا اف میں تو بہت ھوٹ تھی پھر جم کے چدائی کرنے لگے اور دونو فل مستی میں تھے میرے ہاتھ خود اپنے مموں اور چوت پر آئے مموں کو دباتی چوت کو سہلاتی سسر کی چدائی دیکھ رھی تھی سسر جی تو مشین کی طرح چدائی کرتے بھٹکے لگا رھے تھے تقریبآ سسر جی نے دو گھنٹے تک چدائی کی اور لڑکی چار بار فاریغ ھوئی جب لڑکی فاریغ ھوتی تو سسر کبھی گانڈ چودتا کبھی مموں کو چودتا کبھی لڑکی لن کو چوپے لگاتی پھر سسر فاریغ ھوا تو لڑکی واش گئی اور ابھی بھی سسسر کا لن مستی میں کھڑا تھا۔ پھر لڑکی آئی تو سسر نے کہا لائٹ بجھاکر کرتے ہیں لڑکی لائٹ بجھا دی اب مجھے کچھ دیکھائی نہ دیا میں بہت گرم ھو چکی تھی فریج سے ڈھونڈی پانی کی بوتل لے کر اپنے اوپر ڈالا پھر اپنے روم آکر تڑپتی رھی مموں کو نکال کر چومتی چوستی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر چوت میں انگلی کرنے لگی سسر کا لن میرے خیالوں میں ایسا بسا کے مجھے سسر کا لن نظر آنے لگا آنکھیں کھلی ھوتی یا بند ھوتی میں فل تڑپ اٹھی سوچا سسر ابھی بھی شوق رکھتا ھے سسر کا لن تو بہت کیوٹ ھے لڑکی کو چار بار فاریغ کیا ایک میرا شوہر ھے جو فاریغ ھی نہیں کر پاتا اسی طرح صبح ھوگئی میں دیکھنے کیلئے گئی تو ڈور لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو دیکھا سسر اکیلا گہری نید میں سو رھا ھے شائید لڑکی جا چکی تھی سسر کے اوپر سے چادر ہٹاکر کر دیکھا تو سسر نگا سو رھا تھا پھر لن سے چادر ہٹاکر دیکھا تو سسر کا لن ابھی بھی کھڑا تھا مجھ سے رھا نہ گیا تو سسر کے لن کو چھوا پھر لن کو مٹھی میں لےکر سہلایا پھر لن کر ٹوپہ کو چمہ کیا اتنی دیر میں سسر نے کروٹ لےلی من کر رھا تھا ابھی سسر پر چڑھ جاؤ پھر میں روم سے باہر آئی سوچا سسر تو پتا نہیں کتنی لڑکیوں کو چودتا ھوگا کیوں نہ میں لڑکیوں کی جگہ لےلوں پھر میں نے پکا ٹھان لیا کے بس سسر کو کسی طریقے سے راضی کرنا ھوگا۔ پھر سسرجی اٹھے میں نے ناشتہ لگایا اور ھم ناشتہ کرنے لگے سسر پر مجھے بہت پیار آرھا تھا من تو کر رھا تھا ابھی چدائی کی بات کروں پر اچانک میرے منہ سے نکل گیا انکل لگتا ھے رات میں آپ کو نید نہیں آئی کہا ہاں فریحہ دیر سے نید آئی پھر سسر جی ناشتہ کرکے آفس چلا گیا پھر شام کو جلدی گھر آیا اور جاکر اپنے روم میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا اور سسر کی دو دن کی چھٹی تھی میں نے ٹھان لیا کے ابھی سے ھی شروع کروں دو دن چھٹی ھے میں نے ڈور کھولا تو سسر نے مجھے دیکھا میں مسکرائی پھر سسر نے آنکھیں بند کر لی آج سسر کو کیا پتا تھا کے سسر کی بہو سسر کو مزے دینے والی ھے میں جاکر سسر کے ساتھ لیٹ گئی سسر نے مجھے اپنے ساتھ لیٹا ہوا دیکھ کر کہا فریحہ کیا ھوا یہاں کیوں لیٹی ھو میں رونے لگی سسر آٹھ کر کہنے لگا آرے کیوں رو رھی ھو کیا سلیم نے کچھ کہا میں نے کہا سسر جی ایک بات ھے نہ ھی میں کسی سے کچھ کہے سکتی ھوں اور نہ ھی بتا سکتی اور نہ ھی کوئی میرا ساتھ دے گا سسر نے کہا اچھا تم مجھ سے کہے سکتی ھو ھو سکا تو میں تیرا ساتھ دوں۔ یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ھوئی میں نے کہا سسر جی بات یہ ھے کے شادی سے لےکر آج تک سلیم مجھے کبھی خوش نہیں کر پایا میں بہت تڑپتی کبھی من کرتا ھے خودکشی کرلو یاں بھاگ جاؤ یا کسی سے دوستی کر لو پر بدنامی سے ڈر لگتا ھے تو سوچا آپ سے بات کروں اگر مان گئے تو گھر کی بات گھر میں رھے گی اور میں بدنامی سے بچ جاؤں گی میں آٹھ کر سسر کے گلے لگ کر رونے لگی سسر نے کہا فریحہ اچھا تم روؤں نہیں مجھے اپنی باھوں میں بھر کر کہا میں ہمیشہ تیرا ساتھ دونگا میں نے سسر کے سامنے منہ کرکے کہا سچ میں کہا ہاں میرے منہ میں منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے اور میں نے کہا انکل میں بہت گرم ھو کبھی فاریغ نہں ھو پائی سسر نے کہا اب تم یہ سب بھول جاؤ گی۔ میں سسر کو چومتی ھوئی نگا کر لیٹا کر چومنے لگی اور ساتھ میں سسر میرے کپڑے اتارنے لگا پھر میں بھی نگی ھوگئی پھر ھم چومتے ھو کبھی سسر میرے اوپر تو کبھی میں سسر کے اوپر سسر نے کہا اف فریحہ تم بہت کمال کی ھو تیرا سارا جسم کمال کا ھے سسر میرے مموں کو خوب دباتا چومتا منہ کا پیار کرتا میں بھی سسر کو مست چوم رھی تھی سسر اپنے لن کو میری ٹانگوں میں رگڑتا پھر میں نے سسر کو نیچے کیا اوپر آکر سسر کو چومتی ھوئی لن تک پہنچی لن کو زبان سے چاٹتی ھوئی ٹوپہ کو زبان سے چاٹتی ھوئی سارے لن کو چومتی اور چاٹنے لگی سسر مست تھا سسر کے موٹے لمبے لن کو چومنے چاٹنے کا بہت مزہ آرہا تھا پھر ٹوپہ کو ھونٹوں میں لےکر چوپے لگائے سسر مستی میں کہتا فریحہ تم بہت کمال کی ھو پھر سارے لن کو منہ میں لےکر چوپے لگانے لگی کبھی لن ٹوپہ کو چاٹتی کبھی ٹوپہ کو چوپے لگاتی کبھی سارے لن کو چوپے لگاتی ھوئی میں بہت مستی میں تھی جی بھر کے لن کو پیار کیا پھر سسر میرے اوپر آکر میرے مموں کو چودتا اور سسر کا لن میرے مموں کو چودتا ھوا لن سسر کا لن میرے منہ کے پاس آتا تو میں لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹوپہ کو ھونٹوں لیتی چومتی اور ٹوپہ پر زبان پھیرتی پھر سسر مجھے چودا ھوا میری چوت دیکھ کر تعریف کی پھر میری چوت کو چومتا چوستا چاٹتا رھا میں مستی میں سسر کی تعریف کرتی اور آہیں لے رھی تھی پھر سسر نے میری چوت میں لن ڈال کر اور سسر کا لن میری چوت میں بڑی مشکل میں گیا تو سسر نے کہا اف فریحہ تیری چوت اتنی تنگ ھے ایسے لگتا ھے جیسے تم ابھی بھی کنواری ھو پھر سسر نے مست چدائی کی پھر ڈونکی بناکر چدائی کی پھر اپنے اوپر بٹھاکر چدائی کی اور پھر میری چوت سے رس رس کا فوارہ نکل پڑا میں نے کس کے سسر کو باھوں میں بھر لیا اور سسر لگا رھا پھر سسر نے مجھے نیچے لیتا کر میری چوت کا رس چاٹنے لگا پھر چدائی کرنے لگا اور سسر اب فل مستی میں چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی سسر کے لن کو پیار کرنے گی کچھ دیر بعد پھر سسر چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی تو کچھ دیر بعد سسر میری چوت میں فاریغ ھوا مجھے سے کہا مزہ آیا میں سسر کو پیار کرتی کہا بہت مزہ آیا پھر سسر جزبات میں آیا پھر چدائی کی پھر میں فاریغ ھوئی سسر کو میں مستی میں پیار کرتی کہ آپ بہت کمال کی چدائی کرتے ھو میری جان ھو تم پھر کچھ دیر ھم نے بریک کی پھر میں کھانا بنانے لگی ھم دونو نگی تھے سسر تو کھانا بناتے بھی چدائی کرتا رھا مجھے بھی ایسا مرد چاہیئے تھا اف مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا پھر کھانا بناکر زبردس چدائی کی پھر کھانا کھاکر ھم چدائی میں مست ھو گئے پھر رات کا کھانا کھاکر ساری رات چدائی کی اب میں اور سسر ساتھ سوتے اور بس چدائی کرتے سسر مجھے تین سے چار بار فاریغ کرتا پھر سسر نے گانڈ چودنے کو کہا میں نے کہا اب آپ کا ھے پھر سسر نے نے گانڈ کی سیل اس پیار سے کھولی کے مجھے درد کا پتا نہ چلا پھر مجھے ماہواری آئی پھر ھم مست پیار کرتے سسر میرے مموں کو چودتا میں لن کو چوپے لگاتی سسر کے لن کا پانی پیتی جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور مجھے حمل ھوگیا پھر دوسرے دن شوہر آیا شوہر تو بس فاریغ جلدی ھو جاتا موقعہ دیکھ کے میں سسر سے چدائی کرتی چوتھے دن شوہر کو پیٹ سے ھونے کی خوشخبری دی سن کے بہت خوش ھوا ایک بار سسر بہت ھوٹ تھا تو شوہر سے کہا میں اور انکل اوپر والے اسٹور سے کچھ سامان نکالنے جارھے ہیں میں اور سسر اوپر آکر خوب چدائی کی پھر ھم نیچے آئے پھر شوہر چلا گیا پھر مجھے بیٹآ ھوا سسر میرے مموں کا دودھ پیتا اور ھم خوب چدائی کرتے اسی طرح سسر نے مجھے چار بچے دیئے میں اپنے سسر کے ساتھ اب بھی خوش ھوں سسر کا لن آج بھی ویسے کمال کا ھے لن میں کوئی فرق نہیں آیا میں بہت مزے کرتی

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/feed/ 0
جوان سسر https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:29:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/   میرا جوان سسر ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے  میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں […]

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرا جوان سسر

ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے

 میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں اور ملتان میں رہتی ہوں میرا شوہر دوسرے ملک میں جاب کرتا ھے۔ اور گھر میں سسر اور میں رہتے ہیں میری شادی سے ایک سال پہلے ساس کا انتقال ھو چکا تھا شوہر سال میں چند دنوں کیلئے آتا اور پھر واپس چلا جاتا تھا اور شوہر چدائی میں بھی سست تھا شادی کی پہلی رات ھی مجھے فارغ نہ کر سکا جب چند دنوں کیلئے آتا تو تب بھی مجھے فاریغ نہ کرپاتا شادی کے بعد شوہر سال بھر کیلئے جاتا اور میں بہت گرم رہتی اور شوہر ایک سال بعد آتا اوپر سے مجھے فاریغ نہیں کرپاتا ویسے تو میرے پاس سب کچھ تھا مگر میرے جسم کی بھوک مٹانے کیلئے کچھ نہ تھا میں اتنی گرم ھو جاتی کے اکثر میں ایک تکیہ کو اپنی ٹانگوں میں لیتی اور دوسرے تکیہ کو اپنی باھوں میں لےکر اپنی چوت رگڑتی اور دوسرے تکیہ کو اپنے مموں پر دباکر تکیہ کو چومتی اور بیڈ پر تڑپتی رہتی اسی طرح مجھے تڑپتے ھوئے چار سال ھو گئے جب میکے جاتی تو بھائی اور بھابھی کو کبھی چمہ چٹی کرتی دیکھتی تو مجھ میں زیادہ گرمی چڑھ جاتی کبھی پاپا مما کو چمہ چٹی کرتی دیکھتی پھر میں گھر آتی اور بیڈ پر تڑپتی ھوئی تکیہ سے مست ھوتی اور اس تڑپ کا کسی سے زکر بھی نہیں کر پاتی ایک رات میں بہت ھوٹ تھی اور اپنے مموں کو دباتی ھوئی تڑپ رھی تھی اور نید میری آنکھوں سے کوسو دور تھی اور رات کا ایک بج رھا تھا اور میرا گلا خشک ھو گیا میں ڈھنڈہ پانی پینے کیلئے روم سے باہر آئی سسر جی کا روم میرے روم کے ساتھ تھا اور سسر کے روم کے ساتھ فریج تھی سسر کے روم سے گزری تو کسی عورت کی آواز سنائی دی میں نے ڈور پہ کان لگا کر سنا تو لڑکی کی آواز آئی آصف آپ فاریغ ھی نہیں ھوتے مجھے بہت تھکا دیتے ھو میں نے سوچا کے کیا اندر لڑکی ھے پھر سوچا نہیں سسر جی ایسے نہیں ہیں من میں آیا ایک بار دیکھ لو ڈور کے ہینڈل کو گھمایا تو لاک تھا پھر میں نے چابی لی اور آہستہ سے لاک کھول کر آرام سے تھوڑا سا ڈور کھول کر دیکھا میں تو دیکھ کے حیران ھوگئی سسر نگا لیٹا ھے اور سسر کا لن مستی میں کھڑا ھے اور ایک لڑکی سسر کے لن کو چوپے لگا رھی ھے سسر کا لن تو شوہر کے لن سے موٹا لمبا اور تگڑا تھا سسر کا لن دیکھتے ھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی یہاں سے ہٹنے کو من ھی نہیں کر رہا تھا پھر سسر لڑکی کی چوت چاٹنے لگا اف میں تو بہت ھوٹ تھی پھر جم کے چدائی کرنے لگے اور دونو فل مستی میں تھے میرے ہاتھ خود اپنے مموں اور چوت پر آئے مموں کو دباتی چوت کو سہلاتی سسر کی چدائی دیکھ رھی تھی سسر جی تو مشین کی طرح چدائی کرتے بھٹکے لگا رھے تھے تقریبآ سسر جی نے دو گھنٹے تک چدائی کی اور لڑکی چار بار فاریغ ھوئی جب لڑکی فاریغ ھوتی تو سسر کبھی گانڈ چودتا کبھی مموں کو چودتا کبھی لڑکی لن کو چوپے لگاتی پھر سسر فاریغ ھوا تو لڑکی واش گئی اور ابھی بھی سسسر کا لن مستی میں کھڑا تھا۔ پھر لڑکی آئی تو سسر نے کہا لائٹ بجھاکر کرتے ہیں لڑکی لائٹ بجھا دی اب مجھے کچھ دیکھائی نہ دیا میں بہت گرم ھو چکی تھی فریج سے ڈھونڈی پانی کی بوتل لے کر اپنے اوپر ڈالا پھر اپنے روم آکر تڑپتی رھی مموں کو نکال کر چومتی چوستی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر چوت میں انگلی کرنے لگی سسر کا لن میرے خیالوں میں ایسا بسا کے مجھے سسر کا لن نظر آنے لگا آنکھیں کھلی ھوتی یا بند ھوتی میں فل تڑپ اٹھی سوچا سسر ابھی بھی شوق رکھتا ھے سسر کا لن تو بہت کیوٹ ھے لڑکی کو چار بار فاریغ کیا ایک میرا شوہر ھے جو فاریغ ھی نہیں کر پاتا اسی طرح صبح ھوگئی میں دیکھنے کیلئے گئی تو ڈور لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو دیکھا سسر اکیلا گہری نید میں سو رھا ھے شائید لڑکی جا چکی تھی سسر کے اوپر سے چادر ہٹاکر کر دیکھا تو سسر نگا سو رھا تھا پھر لن سے چادر ہٹاکر دیکھا تو سسر کا لن ابھی بھی کھڑا تھا مجھ سے رھا نہ گیا تو سسر کے لن کو چھوا پھر لن کو مٹھی میں لےکر سہلایا پھر لن کر ٹوپہ کو چمہ کیا اتنی دیر میں سسر نے کروٹ لےلی من کر رھا تھا ابھی سسر پر چڑھ جاؤ پھر میں روم سے باہر آئی سوچا سسر تو پتا نہیں کتنی لڑکیوں کو چودتا ھوگا کیوں نہ میں لڑکیوں کی جگہ لےلوں پھر میں نے پکا ٹھان لیا کے بس سسر کو کسی طریقے سے راضی کرنا ھوگا۔ پھر سسرجی اٹھے میں نے ناشتہ لگایا اور ھم ناشتہ کرنے لگے سسر پر مجھے بہت پیار آرھا تھا من تو کر رھا تھا ابھی چدائی کی بات کروں پر اچانک میرے منہ سے نکل گیا انکل لگتا ھے رات میں آپ کو نید نہیں آئی کہا ہاں فریحہ دیر سے نید آئی پھر سسر جی ناشتہ کرکے آفس چلا گیا پھر شام کو جلدی گھر آیا اور جاکر اپنے روم میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا اور سسر کی دو دن کی چھٹی تھی میں نے ٹھان لیا کے ابھی سے ھی شروع کروں دو دن چھٹی ھے میں نے ڈور کھولا تو سسر نے مجھے دیکھا میں مسکرائی پھر سسر نے آنکھیں بند کر لی آج سسر کو کیا پتا تھا کے سسر کی بہو سسر کو مزے دینے والی ھے میں جاکر سسر کے ساتھ لیٹ گئی سسر نے مجھے اپنے ساتھ لیٹا ہوا دیکھ کر کہا فریحہ کیا ھوا یہاں کیوں لیٹی ھو میں رونے لگی سسر آٹھ کر کہنے لگا آرے کیوں رو رھی ھو کیا سلیم نے کچھ کہا میں نے کہا سسر جی ایک بات ھے نہ ھی میں کسی سے کچھ کہے سکتی ھوں اور نہ ھی بتا سکتی اور نہ ھی کوئی میرا ساتھ دے گا سسر نے کہا اچھا تم مجھ سے کہے سکتی ھو ھو سکا تو میں تیرا ساتھ دوں۔ یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ھوئی میں نے کہا سسر جی بات یہ ھے کے شادی سے لےکر آج تک سلیم مجھے کبھی خوش نہیں کر پایا میں بہت تڑپتی کبھی من کرتا ھے خودکشی کرلو یاں بھاگ جاؤ یا کسی سے دوستی کر لو پر بدنامی سے ڈر لگتا ھے تو سوچا آپ سے بات کروں اگر مان گئے تو گھر کی بات گھر میں رھے گی اور میں بدنامی سے بچ جاؤں گی میں آٹھ کر سسر کے گلے لگ کر رونے لگی سسر نے کہا فریحہ اچھا تم روؤں نہیں مجھے اپنی باھوں میں بھر کر کہا میں ہمیشہ تیرا ساتھ دونگا میں نے سسر کے سامنے منہ کرکے کہا سچ میں کہا ہاں میرے منہ میں منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے اور میں نے کہا انکل میں بہت گرم ھو کبھی فاریغ نہں ھو پائی سسر نے کہا اب تم یہ سب بھول جاؤ گی۔ میں سسر کو چومتی ھوئی نگا کر لیٹا کر چومنے لگی اور ساتھ میں سسر میرے کپڑے اتارنے لگا پھر میں بھی نگی ھوگئی پھر ھم چومتے ھو کبھی سسر میرے اوپر تو کبھی میں سسر کے اوپر سسر نے کہا اف فریحہ تم بہت کمال کی ھو تیرا سارا جسم کمال کا ھے سسر میرے مموں کو خوب دباتا چومتا منہ کا پیار کرتا میں بھی سسر کو مست چوم رھی تھی سسر اپنے لن کو میری ٹانگوں میں رگڑتا پھر میں نے سسر کو نیچے کیا اوپر آکر سسر کو چومتی ھوئی لن تک پہنچی لن کو زبان سے چاٹتی ھوئی ٹوپہ کو زبان سے چاٹتی ھوئی سارے لن کو چومتی اور چاٹنے لگی سسر مست تھا سسر کے موٹے لمبے لن کو چومنے چاٹنے کا بہت مزہ آرہا تھا پھر ٹوپہ کو ھونٹوں میں لےکر چوپے لگائے سسر مستی میں کہتا فریحہ تم بہت کمال کی ھو پھر سارے لن کو منہ میں لےکر چوپے لگانے لگی کبھی لن ٹوپہ کو چاٹتی کبھی ٹوپہ کو چوپے لگاتی کبھی سارے لن کو چوپے لگاتی ھوئی میں بہت مستی میں تھی جی بھر کے لن کو پیار کیا پھر سسر میرے اوپر آکر میرے مموں کو چودتا اور سسر کا لن میرے مموں کو چودتا ھوا لن سسر کا لن میرے منہ کے پاس آتا تو میں لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹوپہ کو ھونٹوں لیتی چومتی اور ٹوپہ پر زبان پھیرتی پھر سسر مجھے چودا ھوا میری چوت دیکھ کر تعریف کی پھر میری چوت کو چومتا چوستا چاٹتا رھا میں مستی میں سسر کی تعریف کرتی اور آہیں لے رھی تھی پھر سسر نے میری چوت میں لن ڈال کر اور سسر کا لن میری چوت میں بڑی مشکل میں گیا تو سسر نے کہا اف فریحہ تیری چوت اتنی تنگ ھے ایسے لگتا ھے جیسے تم ابھی بھی کنواری ھو پھر سسر نے مست چدائی کی پھر ڈونکی بناکر چدائی کی پھر اپنے اوپر بٹھاکر چدائی کی اور پھر میری چوت سے رس رس کا فوارہ نکل پڑا میں نے کس کے سسر کو باھوں میں بھر لیا اور سسر لگا رھا پھر سسر نے مجھے نیچے لیتا کر میری چوت کا رس چاٹنے لگا پھر چدائی کرنے لگا اور سسر اب فل مستی میں چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی سسر کے لن کو پیار کرنے گی کچھ دیر بعد پھر سسر چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی تو کچھ دیر بعد سسر میری چوت میں فاریغ ھوا مجھے سے کہا مزہ آیا میں سسر کو پیار کرتی کہا بہت مزہ آیا پھر سسر جزبات میں آیا پھر چدائی کی پھر میں فاریغ ھوئی سسر کو میں مستی میں پیار کرتی کہ آپ بہت کمال کی چدائی کرتے ھو میری جان ھو تم پھر کچھ دیر ھم نے بریک کی پھر میں کھانا بنانے لگی ھم دونو نگی تھے سسر تو کھانا بناتے بھی چدائی کرتا رھا مجھے بھی ایسا مرد چاہیئے تھا اف مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا پھر کھانا بناکر زبردس چدائی کی پھر کھانا کھاکر ھم چدائی میں مست ھو گئے پھر رات کا کھانا کھاکر ساری رات چدائی کی اب میں اور سسر ساتھ سوتے اور بس چدائی کرتے سسر مجھے تین سے چار بار فاریغ کرتا پھر سسر نے گانڈ چودنے کو کہا میں نے کہا اب آپ کا ھے پھر سسر نے نے گانڈ کی سیل اس پیار سے کھولی کے مجھے درد کا پتا نہ چلا پھر مجھے ماہواری آئی پھر ھم مست پیار کرتے سسر میرے مموں کو چودتا میں لن کو چوپے لگاتی سسر کے لن کا پانی پیتی جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور مجھے حمل ھوگیا پھر دوسرے دن شوہر آیا شوہر تو بس فاریغ جلدی ھو جاتا موقعہ دیکھ کے میں سسر سے چدائی کرتی چوتھے دن شوہر کو پیٹ سے ھونے کی خوشخبری دی سن کے بہت خوش ھوا ایک بار سسر بہت ھوٹ تھا تو شوہر سے کہا میں اور انکل اوپر والے اسٹور سے کچھ سامان نکالنے جارھے ہیں میں اور سسر اوپر آکر خوب چدائی کی پھر ھم نیچے آئے پھر شوہر چلا گیا پھر مجھے بیٹآ ھوا سسر میرے مموں کا دودھ پیتا اور ھم خوب چدائی کرتے اسی طرح سسر نے مجھے چار بچے دیئے میں اپنے سسر کے ساتھ اب بھی خوش ھوں سسر کا لن آج بھی ویسے کمال کا ھے لن میں کوئی فرق نہیں آیا میں بہت مزے کرتی

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/feed/ 0
جوان سسر https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:29:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/   میرا جوان سسر ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے  میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں […]

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرا جوان سسر

ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے

 میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں اور ملتان میں رہتی ہوں میرا شوہر دوسرے ملک میں جاب کرتا ھے۔ اور گھر میں سسر اور میں رہتے ہیں میری شادی سے ایک سال پہلے ساس کا انتقال ھو چکا تھا شوہر سال میں چند دنوں کیلئے آتا اور پھر واپس چلا جاتا تھا اور شوہر چدائی میں بھی سست تھا شادی کی پہلی رات ھی مجھے فارغ نہ کر سکا جب چند دنوں کیلئے آتا تو تب بھی مجھے فاریغ نہ کرپاتا شادی کے بعد شوہر سال بھر کیلئے جاتا اور میں بہت گرم رہتی اور شوہر ایک سال بعد آتا اوپر سے مجھے فاریغ نہیں کرپاتا ویسے تو میرے پاس سب کچھ تھا مگر میرے جسم کی بھوک مٹانے کیلئے کچھ نہ تھا میں اتنی گرم ھو جاتی کے اکثر میں ایک تکیہ کو اپنی ٹانگوں میں لیتی اور دوسرے تکیہ کو اپنی باھوں میں لےکر اپنی چوت رگڑتی اور دوسرے تکیہ کو اپنے مموں پر دباکر تکیہ کو چومتی اور بیڈ پر تڑپتی رہتی اسی طرح مجھے تڑپتے ھوئے چار سال ھو گئے جب میکے جاتی تو بھائی اور بھابھی کو کبھی چمہ چٹی کرتی دیکھتی تو مجھ میں زیادہ گرمی چڑھ جاتی کبھی پاپا مما کو چمہ چٹی کرتی دیکھتی پھر میں گھر آتی اور بیڈ پر تڑپتی ھوئی تکیہ سے مست ھوتی اور اس تڑپ کا کسی سے زکر بھی نہیں کر پاتی ایک رات میں بہت ھوٹ تھی اور اپنے مموں کو دباتی ھوئی تڑپ رھی تھی اور نید میری آنکھوں سے کوسو دور تھی اور رات کا ایک بج رھا تھا اور میرا گلا خشک ھو گیا میں ڈھنڈہ پانی پینے کیلئے روم سے باہر آئی سسر جی کا روم میرے روم کے ساتھ تھا اور سسر کے روم کے ساتھ فریج تھی سسر کے روم سے گزری تو کسی عورت کی آواز سنائی دی میں نے ڈور پہ کان لگا کر سنا تو لڑکی کی آواز آئی آصف آپ فاریغ ھی نہیں ھوتے مجھے بہت تھکا دیتے ھو میں نے سوچا کے کیا اندر لڑکی ھے پھر سوچا نہیں سسر جی ایسے نہیں ہیں من میں آیا ایک بار دیکھ لو ڈور کے ہینڈل کو گھمایا تو لاک تھا پھر میں نے چابی لی اور آہستہ سے لاک کھول کر آرام سے تھوڑا سا ڈور کھول کر دیکھا میں تو دیکھ کے حیران ھوگئی سسر نگا لیٹا ھے اور سسر کا لن مستی میں کھڑا ھے اور ایک لڑکی سسر کے لن کو چوپے لگا رھی ھے سسر کا لن تو شوہر کے لن سے موٹا لمبا اور تگڑا تھا سسر کا لن دیکھتے ھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی یہاں سے ہٹنے کو من ھی نہیں کر رہا تھا پھر سسر لڑکی کی چوت چاٹنے لگا اف میں تو بہت ھوٹ تھی پھر جم کے چدائی کرنے لگے اور دونو فل مستی میں تھے میرے ہاتھ خود اپنے مموں اور چوت پر آئے مموں کو دباتی چوت کو سہلاتی سسر کی چدائی دیکھ رھی تھی سسر جی تو مشین کی طرح چدائی کرتے بھٹکے لگا رھے تھے تقریبآ سسر جی نے دو گھنٹے تک چدائی کی اور لڑکی چار بار فاریغ ھوئی جب لڑکی فاریغ ھوتی تو سسر کبھی گانڈ چودتا کبھی مموں کو چودتا کبھی لڑکی لن کو چوپے لگاتی پھر سسر فاریغ ھوا تو لڑکی واش گئی اور ابھی بھی سسسر کا لن مستی میں کھڑا تھا۔ پھر لڑکی آئی تو سسر نے کہا لائٹ بجھاکر کرتے ہیں لڑکی لائٹ بجھا دی اب مجھے کچھ دیکھائی نہ دیا میں بہت گرم ھو چکی تھی فریج سے ڈھونڈی پانی کی بوتل لے کر اپنے اوپر ڈالا پھر اپنے روم آکر تڑپتی رھی مموں کو نکال کر چومتی چوستی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر چوت میں انگلی کرنے لگی سسر کا لن میرے خیالوں میں ایسا بسا کے مجھے سسر کا لن نظر آنے لگا آنکھیں کھلی ھوتی یا بند ھوتی میں فل تڑپ اٹھی سوچا سسر ابھی بھی شوق رکھتا ھے سسر کا لن تو بہت کیوٹ ھے لڑکی کو چار بار فاریغ کیا ایک میرا شوہر ھے جو فاریغ ھی نہیں کر پاتا اسی طرح صبح ھوگئی میں دیکھنے کیلئے گئی تو ڈور لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو دیکھا سسر اکیلا گہری نید میں سو رھا ھے شائید لڑکی جا چکی تھی سسر کے اوپر سے چادر ہٹاکر کر دیکھا تو سسر نگا سو رھا تھا پھر لن سے چادر ہٹاکر دیکھا تو سسر کا لن ابھی بھی کھڑا تھا مجھ سے رھا نہ گیا تو سسر کے لن کو چھوا پھر لن کو مٹھی میں لےکر سہلایا پھر لن کر ٹوپہ کو چمہ کیا اتنی دیر میں سسر نے کروٹ لےلی من کر رھا تھا ابھی سسر پر چڑھ جاؤ پھر میں روم سے باہر آئی سوچا سسر تو پتا نہیں کتنی لڑکیوں کو چودتا ھوگا کیوں نہ میں لڑکیوں کی جگہ لےلوں پھر میں نے پکا ٹھان لیا کے بس سسر کو کسی طریقے سے راضی کرنا ھوگا۔ پھر سسرجی اٹھے میں نے ناشتہ لگایا اور ھم ناشتہ کرنے لگے سسر پر مجھے بہت پیار آرھا تھا من تو کر رھا تھا ابھی چدائی کی بات کروں پر اچانک میرے منہ سے نکل گیا انکل لگتا ھے رات میں آپ کو نید نہیں آئی کہا ہاں فریحہ دیر سے نید آئی پھر سسر جی ناشتہ کرکے آفس چلا گیا پھر شام کو جلدی گھر آیا اور جاکر اپنے روم میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا اور سسر کی دو دن کی چھٹی تھی میں نے ٹھان لیا کے ابھی سے ھی شروع کروں دو دن چھٹی ھے میں نے ڈور کھولا تو سسر نے مجھے دیکھا میں مسکرائی پھر سسر نے آنکھیں بند کر لی آج سسر کو کیا پتا تھا کے سسر کی بہو سسر کو مزے دینے والی ھے میں جاکر سسر کے ساتھ لیٹ گئی سسر نے مجھے اپنے ساتھ لیٹا ہوا دیکھ کر کہا فریحہ کیا ھوا یہاں کیوں لیٹی ھو میں رونے لگی سسر آٹھ کر کہنے لگا آرے کیوں رو رھی ھو کیا سلیم نے کچھ کہا میں نے کہا سسر جی ایک بات ھے نہ ھی میں کسی سے کچھ کہے سکتی ھوں اور نہ ھی بتا سکتی اور نہ ھی کوئی میرا ساتھ دے گا سسر نے کہا اچھا تم مجھ سے کہے سکتی ھو ھو سکا تو میں تیرا ساتھ دوں۔ یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ھوئی میں نے کہا سسر جی بات یہ ھے کے شادی سے لےکر آج تک سلیم مجھے کبھی خوش نہیں کر پایا میں بہت تڑپتی کبھی من کرتا ھے خودکشی کرلو یاں بھاگ جاؤ یا کسی سے دوستی کر لو پر بدنامی سے ڈر لگتا ھے تو سوچا آپ سے بات کروں اگر مان گئے تو گھر کی بات گھر میں رھے گی اور میں بدنامی سے بچ جاؤں گی میں آٹھ کر سسر کے گلے لگ کر رونے لگی سسر نے کہا فریحہ اچھا تم روؤں نہیں مجھے اپنی باھوں میں بھر کر کہا میں ہمیشہ تیرا ساتھ دونگا میں نے سسر کے سامنے منہ کرکے کہا سچ میں کہا ہاں میرے منہ میں منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے اور میں نے کہا انکل میں بہت گرم ھو کبھی فاریغ نہں ھو پائی سسر نے کہا اب تم یہ سب بھول جاؤ گی۔ میں سسر کو چومتی ھوئی نگا کر لیٹا کر چومنے لگی اور ساتھ میں سسر میرے کپڑے اتارنے لگا پھر میں بھی نگی ھوگئی پھر ھم چومتے ھو کبھی سسر میرے اوپر تو کبھی میں سسر کے اوپر سسر نے کہا اف فریحہ تم بہت کمال کی ھو تیرا سارا جسم کمال کا ھے سسر میرے مموں کو خوب دباتا چومتا منہ کا پیار کرتا میں بھی سسر کو مست چوم رھی تھی سسر اپنے لن کو میری ٹانگوں میں رگڑتا پھر میں نے سسر کو نیچے کیا اوپر آکر سسر کو چومتی ھوئی لن تک پہنچی لن کو زبان سے چاٹتی ھوئی ٹوپہ کو زبان سے چاٹتی ھوئی سارے لن کو چومتی اور چاٹنے لگی سسر مست تھا سسر کے موٹے لمبے لن کو چومنے چاٹنے کا بہت مزہ آرہا تھا پھر ٹوپہ کو ھونٹوں میں لےکر چوپے لگائے سسر مستی میں کہتا فریحہ تم بہت کمال کی ھو پھر سارے لن کو منہ میں لےکر چوپے لگانے لگی کبھی لن ٹوپہ کو چاٹتی کبھی ٹوپہ کو چوپے لگاتی کبھی سارے لن کو چوپے لگاتی ھوئی میں بہت مستی میں تھی جی بھر کے لن کو پیار کیا پھر سسر میرے اوپر آکر میرے مموں کو چودتا اور سسر کا لن میرے مموں کو چودتا ھوا لن سسر کا لن میرے منہ کے پاس آتا تو میں لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹوپہ کو ھونٹوں لیتی چومتی اور ٹوپہ پر زبان پھیرتی پھر سسر مجھے چودا ھوا میری چوت دیکھ کر تعریف کی پھر میری چوت کو چومتا چوستا چاٹتا رھا میں مستی میں سسر کی تعریف کرتی اور آہیں لے رھی تھی پھر سسر نے میری چوت میں لن ڈال کر اور سسر کا لن میری چوت میں بڑی مشکل میں گیا تو سسر نے کہا اف فریحہ تیری چوت اتنی تنگ ھے ایسے لگتا ھے جیسے تم ابھی بھی کنواری ھو پھر سسر نے مست چدائی کی پھر ڈونکی بناکر چدائی کی پھر اپنے اوپر بٹھاکر چدائی کی اور پھر میری چوت سے رس رس کا فوارہ نکل پڑا میں نے کس کے سسر کو باھوں میں بھر لیا اور سسر لگا رھا پھر سسر نے مجھے نیچے لیتا کر میری چوت کا رس چاٹنے لگا پھر چدائی کرنے لگا اور سسر اب فل مستی میں چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی سسر کے لن کو پیار کرنے گی کچھ دیر بعد پھر سسر چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی تو کچھ دیر بعد سسر میری چوت میں فاریغ ھوا مجھے سے کہا مزہ آیا میں سسر کو پیار کرتی کہا بہت مزہ آیا پھر سسر جزبات میں آیا پھر چدائی کی پھر میں فاریغ ھوئی سسر کو میں مستی میں پیار کرتی کہ آپ بہت کمال کی چدائی کرتے ھو میری جان ھو تم پھر کچھ دیر ھم نے بریک کی پھر میں کھانا بنانے لگی ھم دونو نگی تھے سسر تو کھانا بناتے بھی چدائی کرتا رھا مجھے بھی ایسا مرد چاہیئے تھا اف مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا پھر کھانا بناکر زبردس چدائی کی پھر کھانا کھاکر ھم چدائی میں مست ھو گئے پھر رات کا کھانا کھاکر ساری رات چدائی کی اب میں اور سسر ساتھ سوتے اور بس چدائی کرتے سسر مجھے تین سے چار بار فاریغ کرتا پھر سسر نے گانڈ چودنے کو کہا میں نے کہا اب آپ کا ھے پھر سسر نے نے گانڈ کی سیل اس پیار سے کھولی کے مجھے درد کا پتا نہ چلا پھر مجھے ماہواری آئی پھر ھم مست پیار کرتے سسر میرے مموں کو چودتا میں لن کو چوپے لگاتی سسر کے لن کا پانی پیتی جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور مجھے حمل ھوگیا پھر دوسرے دن شوہر آیا شوہر تو بس فاریغ جلدی ھو جاتا موقعہ دیکھ کے میں سسر سے چدائی کرتی چوتھے دن شوہر کو پیٹ سے ھونے کی خوشخبری دی سن کے بہت خوش ھوا ایک بار سسر بہت ھوٹ تھا تو شوہر سے کہا میں اور انکل اوپر والے اسٹور سے کچھ سامان نکالنے جارھے ہیں میں اور سسر اوپر آکر خوب چدائی کی پھر ھم نیچے آئے پھر شوہر چلا گیا پھر مجھے بیٹآ ھوا سسر میرے مموں کا دودھ پیتا اور ھم خوب چدائی کرتے اسی طرح سسر نے مجھے چار بچے دیئے میں اپنے سسر کے ساتھ اب بھی خوش ھوں سسر کا لن آج بھی ویسے کمال کا ھے لن میں کوئی فرق نہیں آیا میں بہت مزے کرتی

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/feed/ 0
بدلہ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:24:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81/   بدلہ لیا بے عزتی کا بھائی چارا سے مطلب آپس میں محبت ہوتا ہے مگر یہاں اس کا مطلب بہن کو چارے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ جس طرح شیر کے شکار کے لئے بکری چارا ہوتی ہے۔نینا اور بینا بہنیں تھیں۔ نینا 18 سال کی جب کہ بینا 22 سال کی تھی۔ […]

The post بدلہ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 














بدلہ لیا بے عزتی کا


بھائی چارا سے مطلب آپس میں محبت ہوتا ہے مگر یہاں اس کا مطلب بہن کو چارے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

جس طرح شیر کے شکار کے لئے بکری چارا ہوتی ہے۔نینا اور بینا بہنیں تھیں۔ نینا 18 سال کی جب کہ بینا 22 سال کی تھی۔

نینا ایک دبلی پتلی اور خوبصورت نین نقش والی لڑکی تھی جبکہ بینا بھرے ہوئے گداز جسم کی مالک تھی۔اس کے جسم کی غضب کی تراش خراش اس کی دلکشی میں اضافہ کرتی تھی، اس کی پتلی کمر، بھاری چھاتی اور کولہے مردوں کی نگاہوں کو لبھاتے تھے۔

نینا بھی خوبصورت تو تھی مگر اپنی بہن کی طرح اس میں وہ بےتحاشا جنسی کشش نہ تھی۔

امید کی جا سکتی تھی کہ مزید کچھ عرصے میں نینا بھی اسی طرح خوشبدن ہو جائے۔

یہ بات نینا بڑی شدت سے محسوس کرتی تھی کہ اس کی بہن کے سراپے کے آگے اس کی تمام تر رعنائی ماند پڑ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ جو چیز دونوں میں مختلف تھی وہ تھی مزاج، سوچ اور عادات۔

نینا کسی قدر بولڈ اور خودعرض لڑکی تھی مگر بینا خاموش طبع، نرم فطرت اور باکردار لڑکی تھی۔

اپنی اس قدر جسمانی خوبصورتی سے آگاہی کے باوجود وہ خاصی شریف لڑکی تھی۔ کسی بھی مرد کو اس نے کبھی کوئی حوصلہ افزا رسپانس نہیں دیا تھا۔ جوانی کی ابتدا سے ہی وہ مردوں کی نگاہوں میں چھپی طلب جان چکی تھی اور اس سے بچتی آئی تھی۔

نینا خود تو خیر بہن کے جسم سے متاثر تھی ہی، جب اسے یہ پتہ چلا کہ اس کے اردگرد کا ہر لڑکا بس بینا کے ہی خواب دیکھتا ہے تو وہ حسد کرنے لگی۔

نینا نے جوانی میں قدم رکھا تو اس نے بڑی شدت سے اپنے اندر جنسی طلب محسوس کی۔ اس کی تسکین کے لئے اس نے نیٹ پر ایسا مواد دیکھنا شروع کر دیا۔نیٹ پر وہ سب موجود ہے جو کنوریوں کو بیاہتاؤں سے زیادہ آگاہی دیتا ہے۔

مگر جلد ہی اس سے اکتا گئی اور اب خود بھی اس تجربے سے گزرنے کے لئے تڑپنے لگی۔

گھر میں دو دو جوان بیٹیوں کے ہوتے ہوئے گھر والے بےحد محتاط تھے، کوئی بھی جوان رشتہ دار یا مرد ان کے گھر نہیں آتا تھا۔

مگر چور راستے ہر جگہ ہوتے ہیں۔

ان کی ایک کزن اسی شہر میں بیاہی تھی، وہ کبھی کبھار ان سے ملنے چلی آتی۔ عام طور پر اس کے ساتھ اس کا دیور جمال ہوتا۔


جمال ایک خاصا خوش شکل اور فلرٹ قسم کا لڑکا تھا۔اس کی عمر 29 سال تک ہو گئی تھی مگر وہ ابھی تک غیرشادی شدہ تھا جس کی وجہ اس کی بری عاداتیں تھیں۔

اس کی رال بینا کو دیکھ عرصے سے ٹپک رہی تھی مگر بینا اور اس کے گھر والے دونوں ہی ایسے حالات نہ آنے دیتے کہ جمال اس پر ڈورے ڈال سکتا۔

جمال کی یہ فطرت نینا سے چھپی نہ رہ سکی کیونکہ وہ خود اسی کشتی کی مسافر تھی۔

اس نے جمال سے راہ و رسم بڑھائے اور کسی قدر بےتکلفی قائم کر لی۔

عام حالات میں اگر نینا ایسا کرتی تو جمال پھولا نہ سماتا مگر یہاں وہ جنبیلی کے ان کھلے بھول کی نہیں گلاب کے کھلے پھول کی آس میں تھا۔

جمال فطرتا” بزدل تھا اور اسی لئے کبھی کسی کنوری پر ہاتھ نہیں ڈالتا تھا۔ویسے بھی وہ زیادہ تر شادی شدہ عورتوں کو اپنا نشانہ بناتا تاکہ مزا پورا ہو، کوئی شک نہ ہو اور بچے کا باپ بننے کے لئے کوئی اور موجود ہو۔


وہ نینا کو بینا کی بہن کے طور پر خوش کرنے لگا، مگر اس کی زیادہ تر باتیں ایسی ہوتیں جو نینا سے بینا کی پسند نا پسند پر مبنی ہوتیں۔

بہت جلد ہی نینا سمجھ گئی کہ وہ بینا تک پہنچنے کی سیڑھی ہے، جمال کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔

انھی دنوں بینا کا رشتہ طے ہوا اور چند ہی دنوں میں شادی طے ہو گئی۔

گھر میں افراتفری مچ گئی۔

جمال بھی اپنی بھابھی کے ساتھ اب قریبا” روز آنے لگا اور کئی کاموں کو نپٹانے کے بہانے بہت سا وقت ان کے بیچ بتانے لگا۔

شادی کے دن قریب آ گئے۔ گھر میں کافی مہمان اکٹھا ہو گئے جس میں لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل تھے۔

ایک رات نینا کسی کام سے گھر کے سٹور میں آئی تو ایک سرگوشی سے چونک گئی۔ کنوری ہونے کے باوجود وہ اتنا جانتی تھی کہ ایسی سرگوشی جنسی تعلق کے دوران ہوتی ہے۔کوئی سٹور میں سامان کے پیچھے تھا، وہ دبے پاؤں پہنچی تو دھک رہ گئی۔

سٹور کے آخری کونے میں جمال، نینا کی کزن ریما جو جمال کی بھابھی کی چھوٹی بہن بھی تھی کے ساتھ تھا۔

ریما دیوار کی طرف منہ کئے جھکی کھڑی تھی، اس کی شلوار گھٹنوں تک اتری تھی، جمال اس کے کولہے تھامے، پیچھے سے اس کو چود رہا تھا۔

جمال کا لمبا اور موٹا لن ریما کی چھوٹے چھوٹے بالوں والی کالی اور کھلی سی چوت میں آرام سے جا رہا تھا۔

نینا کے دل میں ٹھیس سی اٹھی، باہر سب لڑکیاں گا بجا رہی تھیں، اور 25 سالہ ریما جسے آئے دو دن نہیں ہوئے تھے، شادی شدہ ہو کر جمال سے یوں چدوا رہی تھی۔

نینا سمجھ گئی کہ ریما اور جمال کا یہ تعلق نیا نہیں ہے، ریما اپنی بہن کے دیور کے ساتھ بہت عرصے سے منہ کالا کر رہی ہے۔

نینا خاموشی سے لوٹ آئی۔

جمال اسے اپنے لئے ہر لحاظ سے موزوں لگا کیونکہ وہ بعد میں بھی اس کی چوت مار سکتا تھا۔


رات کو سب ہنگامہ ختم ہو گیا تو نینا نے جمال کو بلایا: وہاں سٹور میں آؤ کچھ کام ہے۔

جمال کوئی کام سمجھ کر آ گیا، مگر سٹور میں نینا کے تیور دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔

نینا نے اپنے قمیض کا گریبان کھول کر قمیض سینے تک نیچے کر دی اور اپنے سینے کی لکیر جمال کے سامنے کر کے بولی:کیا ہے ریما میں جو مجھ میں نہیں۔

جمال سب سمجھ گیا اور بولا:” ریما میں جو ہے وہ تم میں واقعی نہیں۔ ریما ایک بھرپور عورت کا جسم رکھتی ہے جبکہ تم ابھی بچی ہی ہو۔ اس کے علاوہ ریما اکیلی نہیں ہے، اس کے ساتھ اس کی دو دو نندیں بھی ہیں، جو میرے ساتھ مزے کرتی ہیں۔یہ سب ریما ارینج کرتی ہے، بدلے میں میں اسے بچے دیتا ہوں جو اس کا شوہر نہیں دے پایا۔”


نینا کے لئے یہ سب حیران کن تھا کہ ریما کے دونوں بچوں کا باپ جمال ہے، اور اس کی دونوں شادی شدہ نندیں بھی جمال سے چدواتی ہیں۔وہ خاموش رہی پھر بولی: تم چاہتے کیا ہو۔

جمال بولا: چاہتا جو تھا وہ کسی اور کا ہو گیا ہے، تم کبھی بھی وہ جگہ نہیں پا سکتی جو بینا کی ہے۔بینا جب تک یہاں تھی کوئی تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوا اور جب وہ چلی جائے گی تو اس کے بعد بھی لوگ اس کا مقابلہ تم سے کریں گے اور تم ہمیشہ اسی طرح رہو گی۔ شراب کے سامنے پانی کون پیتا ہے، شراب نہ ہو تو لوگ اسے یاد کر کر مزے لیں گے مگر پانی کو نہیں چھوئیں گے۔


نینا یہ سب جانتی تھی، اس کے اندر ایک آگ جلنے لگی۔ زندگی میں پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ کنوری ہو کر خود ایک مرد کو اپنا جسم دے رہی ہے مگر وہ اس کو اس کی بہن کی وجہ سے ہاتھ نہیں لگا رہا۔


نینا کے دل میں بینا کے لئے نفرت پیدا ہوئی۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا میں اتنی گئی گزری ہوں کہ ننگی ہو کر بھی مرد کو نہ لبھا سکی۔

جمال بولا: اب کپڑے صحیح کرو اور باہر چلو، میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ تمھیں چودوں گا، اگر کبھی تم اس قاپل لگیں تو ٹھیک ہے تمھاری آگ بھی بجھا دونگا۔

جمال باہر کی طرف مڑا تو نینا بولی: ٹھہرو! تمھیں بینا کو چودنا ہے، ٹھیک ہے میں تمھیں بینا کی لے کر دوں گی، اس کے بعد تم مجھے ہمیشہ چودتے رہو گے۔ بولو منظور۔

جمال ہکا بکا رہ گیا اور بولا: تم لے کے دو گی مگر کیسے، پرسوں تو اس کی شادی ہے میرا مطلب۔ ۔ ۔

نینا بولی: ہاں یا نہ۔

جمال بولا: ہاں۔ہاں بالکل

نینا بولی: ٹھیک ہے تم پہلے مجھے ابھی چودو پھر میں بینا کی کوشش کرتی ہوں۔

جمال بولا: نہیں ڈیل از ڈیل، میں تمھیں بینا کی پھدی مارنے کے بعد ہی چودوں گا، مگر یاد رہے، یہ کام تم اپنی ذمہ داری پر کرو گی۔میں تمہارے یا تمہارے بہن کے پیٹ کا ذمہ دار نہیں،کیونکہ تم کنوری ہو اور وہ بھی اتنی جلدی ماں بنی تو کسی کو بھی شک ہو سکتا ہے۔


نینا نے اپنی قمیض صحیح کی اور باہر نکل گئی۔

جب اپنا ہی دشمن ہو تو انسان کیسے بچ سکتا ہے۔

بینا کو کیا پتہ تھا، کہ اس کی سگی بہن نے اپنی چوت مروانے کے لئے اس کی چوت بیچ دی ہے۔

رات کو بینا کے دودھ میں نینا نے نشہ آور گولی ملا دی اور اسی کے کمرے میں سو گئی۔

آدھی رات کو نینا نے جمال کو کمرے میں بلا لیا۔

جمال کمرے میں آیا تو اسے بینا بےہوش پڑی نظر آئی۔

نینا بولی: لو اب تم ساری رات اپنی من مرضی کر سکتے ہو یا کوئی شک ہے۔

جمال جو خوشی سے بےقابو ہوا جا رہا تھا، بولا: ہاں ہاں کوئی شک نہیں اور بینا کے جسم کو ٹٹولنے لگا تو نینا نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی: بینا یہیں ہے صبح تک، تم پہلے میری پھدی مارو، پھر بینا کو ہاتھ لگانا۔


جمال سمجھ گیا کہ نینا کو چودے بغیر وہ اپنی خواہش پوری نہیں کر سکتا۔

وہ بولا؛ ٹھیک ہے، مگر تم بینا کو پہلے پورا ننگا کرو، میں اسے چوموں گا مگر پھدی تمہاری ماروں گا۔

تھوڑی پس و پیش کے بعد نینا مان گئی اور بینا کا پیلا مایوں کا جوڑا اتار دیا۔

کپڑے اترتے ہی وہ جسم جو کپڑوں میں آگ لگاتا تھا آزاد ہو گیا۔

جمال دیوانگی سے اس کے مموں کو چوسنے لگا۔

نینا نے اپنے کپڑے بھی اتار دئیے اس کا اندازہ صحیح نکلا جمال سے صبر کرنا مشکل ہو گیا۔


جمال نے جلدی سے اپنے کپڑے اتارے اور نینا کو لیٹنے کو کہا۔

جمال اوپر لیٹ کر اس کے ہونٹوں اور گالوں کو چومنے لگا۔

جمال کا لمبا لن جو نینا پہلے بھی ریما کی چوت میں دیکھ چکی تھی نینا کی چوت پر پڑا تھا۔

جمال نے جلد ہی لن ڈالنے کی کوشش کی تو نینا بولی: ایڈیٹ میں کنوری ہوں، مجھے مارنا ہے کیا۔

جمال اس کے گورے مگر بینا کی نسبت چھوٹے مموں کو چوسنے لگا اور دل میں بینا کے مموں کا سوچنے لگا۔

تھوڑی دیر میں جمال کو بھی مزا آنے لگا۔ وہ بھی اب دل سے نینا کو چومنے لگا۔

نینا کو جمال کے لن کا اپنی چوت کے لبوں سے ٹکرانا اچھا لگ رہا تھا، وہ کافی انجوائے کر رہی تھی۔

نینا کے بالکل بغل میں بینا بےہوش پڑی تھی۔ نینا کو معلوم تھا کہ جمال بینا کی خاطر اسے چود رہا ہے۔ ایک بار وہ بینا کو چود لیتا تو شاید اپنی بات سے مکر جاتا۔

جمال نے نینا سے کہا: اب تو چوت گیلی ہو گئی ہے، اب لن ڈالوں کیا۔

نینا بولی: ہاں ڈالو، مگر یاد رہے جان چھڑانے کے انداز میں مت چودنا۔

جمال ہنس کر بولا: میری جان ایسا چودوں گا کہ یاد کرو گی، تمہیں بھی اور تمھاری بہن کو بھی۔

نینا نے اپنی ٹانگیں کھول دیں، جمال اس کی چھوٹی اور کنوری گلابی چوت دیکھ کر مسکرایا اور بولا: آج تک اتنی چھوٹی پھدی کبھی نہیں ماری، ہر لڑکی میری ہم عمر ہی تھی۔ بس آج دونوں مجھ سے 5 اور 9 سال چھوٹی لڑکیاں ہیں۔ مزا آ جائے گا۔


جمال نے لن اس کی چوت پر رگڑا اور بولا: واہ آج تو خون کی ندیاں بہیں گی۔

چوت کے سوراخ پر لن کی ٹوپی رکھی۔

ٹوپی سوراخ سے کہیں بڑی تھی۔نینا ڈر رہی تھی، پھدی مروانے کے درد کا اس نے سنا تھا، آج تجربہ کرنا تھا، جبکہ جمال کا لن کافی بڑا تھا۔

جمال اپنا غصہ اس کی چوت پر نکالتا تو کیا ہوتا۔

وہ جمال سے آرام سے ڈالنے کا بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔

اس کی چوت دیکھ کر جمال بھی ذرا پریشان ہو گیا۔ وہ کچھ بھی کرتا مگر نینا کو بہت درد ہوتا، ویسے بھی وہ اسے پوری طاقت سے چودنا چاہتا تھا۔


جمال بولا: نینا بہت درد ہو گا، چیخنا مت کوئی آ جائے گا۔

نینا نے سر ہلا دیا۔

جمال نے اپنی انگلی سے نینا کی چوت کا بہتا پانی ذرا اکٹھا کیا، لن کی ٹوپی پر لگایا اور آرام سے لن گھسایا۔


لن گیلا ہو گیا تھا، مگر گیا نہیں،نینا بولی: اسے میرے منہ میں دو میں اسے گیلا کرتی ہوں۔

جمال نے لن اس کے منہ میں ڈال دیا، وہ کسی منجھی ہوئی گشتی کی طرح چوسنے لگی۔

لن اتنا بڑا تھا کہ منہ میں آدھا ہی جا سکا۔ جمال اپنے لن کی لمبائی پر خوش تھا مگر نینا کا ڈر بڑھتا جا رہا تھا۔

5 منٹ بعد بولی: اب ڈالو۔


ٹوپی کا سرا جاتے ہی نینا تڑپ اٹھی، درد بہت زیادہ تھا، ٹوپی کی موٹائی سے چوت کی دیواریں کھل رہی تھیں۔

نینا نے بستر کی چادر جکڑ لی، جمال نے اس کی کمر پکڑ اور کندھے پکڑ کر زوردار جھٹکا دیا تو نینا کی چیخ نکل گئی۔ خاموشی میں چیخ زور سے سنائی دی۔

جمال سہم گیا اور کچھ وقت انتظار کیا۔ کسی کو نہ پا کر دوبارہ نینا کی طرف متوجہ ہوا۔

لن اندر چلا گیا تھا مگر تنگ چوت میں لن پھنس گیا تھا۔جمال نے لن باہر کھینچا، تو خون کے قطرے بستر کی چادر کو رنگین کر گئے۔

نینا کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔

نینا اور جمال دونوں کو اپنی رانوں پر نینا کا گرم گرم خون محسوس ہونے لگا۔

نینا شدید درد کے باوجود کسی طور پر چدائی سے دستبردار ہونا نہیں چاہتی تھی، جمال بھی کنوری اور کم عمر لڑکی کو چود کر خوش تھا اور مزے لے کر لن کو ہلانے لگا۔

تنگ اور جوان گرم گرم چوت کا مزا اسے باقیوں سے بہت بہتر لگا۔

جمال تیزی سے نینا کی چوت میں لن اندر باہر کرنے لگا۔ نینا شدید درد سے بےحال ہوئی جا رہی تھی مگر پورا لن اندر لئے برداشت کر رہی تھی۔

اسے معلوم تھا کہ یہ درد جلد ختم ہو جائے گا پھر یہی کام مزا دے گا۔

جمال نینا کو تکلیف دینے کے لئے اس کی ٹانگیں اٹھا کر چودنے لگا۔

خون اور نینا کی چوت کا پانی مل کر ہر جھٹکے سے باہر بہتا جا رہا تھا اور ٹانگیں اٹھانے کی وجہ سے گانڈ کے سوراخ کی طرف جانے لگا۔

جمال نے نینا کو مموں کو مٹھی میں پکڑا اور انھیں کے سہارے چوت مارنے لگا۔

جمال کے ھاتھوں میں نینا کے ممے پورے آ گئے تھے، اور اس طرح نوچنے سے نینا کو بہت تکلیف ہونے لگی۔

جمال اس کی تکلیف محسوس کر کے بولا: بیٹا ! اگر چاہو تو کہہ دو میں تمہاری بہن کی پھدی مار لوں۔

نینا جو درد اور تکلیف سے رونے والی ہو چکی تھی پھنسی ہوئی آواز میں بولی: پہلے تم میری تو صحیح طرح چود لو، بینا کی بات بعد میں کرنا، ابھی میں برداشت کر سکتی ہوں۔

اگر جمال اسے نہ چھیڑتا تو شاید وہ جلد ہی رو پڑتی اور لن نکالنے کا کہتی۔

جمال نے تکیہ رکھ کر اس کے کولہے اونچے کئے اور چوت کا رخ اوپر کر لن گہرائی تک پہنچانے لگا۔

پہلے دو تین جھٹکوں پر نینا درد سے چلائی مگر پھر اتنے لمبے لن نے چوت کو آخری حد تک کھول دیا۔

جتنا درد ہونا تھا ہو چکا تھا، نینا کی چوت اب سن ہو گئی تھی اور اسے اب اچھا لگنے لگا۔

تنگ چوت اور زوردار چدائی سے جمال بھی کسی حد تک فارغ ہونے کی کنڈیشن میں تھا۔

نینا کو اب لن گہرائی میں اچھا لگنا لگا، وہ مزے سے چدوانے لگی، جبکہ جمال اب چھوٹنے والا تھا۔

نینا کو مزا آنے لگا تو اس نے چوت کو سکیڑنا شروع کر دیا، جس سے جمال کی ٹوپی زیادہ رگڑ کھانے لگی، وہ ذرا سا رکا تو نینا نے نیچے لیٹے لیٹے چوت آگے پیچھے ہلائی،

اس سے پہلے کہ جمال روکتا، نینا لن چوت میں زور سے بھینچا اور چوت آگے پیچھے کی، جمال کا لن ایک جھٹکے سے چھوٹ گیا۔

جمال نے روکنے کے لئے لن باہر کھینچا اور اس کی نچلی نس کو دبایا مگر منی کا فوارہ نینا کی چھاتی پر جا گرا۔

جمال نینا کے پہلو میں جا گرا اور گہری سانسین لینے لگا۔

جمال کو دوبارہ لن کھڑا کرنے میں ایک گھنٹا لگ گیا۔

اس نے بینا کی جسم کو دیکھا، اس نے سوچا کہ بینا کی صرف پھدی مار دیتا ہوں باقی پھر کبھی موقع ملا تو کروں گا ابھی اتنی سکت نہیں، حرامزادی نے اپنی چوت مروانے میں ساری جان نکال دی۔

نینا کی چوت پھوڑے کی طرح دکھ رہی تھی، اس نے پہلے پانی سے چوت کو اچھی طرح دھویا پھر پین کلر اور مانع حمل گولی کھائی۔

نہا دھو کر بستر پر آئی تو جمال دوبارہ لن کو کھڑا کر چکا تھا، وہ جونہی بینا کی طرف جھکا نینا بولی: ٹھہرو! ابھی میں پوری طرح مطمئن نہیں ہوئی۔

جمال غصے سے پلٹا اور بولا: سالی کتنی پھدی مروائے گی۔

نینا بھی غصے سے بولی: چیخو مت اگر میں چیخی تو مہنگا پڑے گا۔

جمال فورا” ہی سہم گیا اور بولا: دیکھو ایک بار میں اس کی چوت میں بس لن ڈال دوں پھر تمہیں دوبارہ چودتا ہوں۔

نینا بولی: ٹھیک ہے مگر لن پہلے میں چوسوں گی پھر تم ڈالنا۔

نینا نے جمال کو لن منہ میں لے لیا اور اسے زور سے چوسنے لگی، جمال ایک بار پھر بیوقوف بن گیا۔

نینا نے لن اس وقت چھوڑا کہ جونہی منہ سے نکل وہ بینا کی چوت سے ٹکرایا جمال چھوٹ گیا،

سارا منی بینا کی ٹانگوں کے بیچ بہہ گیا۔

نینا کھکھلا کر ہنس پڑی اور بولی: اب چودو میری بہن کو، کیا ہوا۔

جمال نینا کو گالیاں دیتا ہوا کھڑا ہو گیا۔

اب وہ کم از کم آج کی رات تو بینا کو نہیں چود سکتا تھا۔

اس نے خوشامندانہ انداز میں نینا سے کہا: کل کی رات ہے، کیوں نہ کل بھی اسی طرح۔ ۔

نینا بولی: بس جمال، اب اور نہیں۔ تم نے بینا کی وجہ سے مجھے انکار کیا، لو میں تم سے چدوا بھی لیا اور اتنے پاس آ کر بھی تم بینا کی پھدی نہ مار سکے۔ اگر تم ایک بار مجھے چود کر کہتے تو میں خود بینا کو تم سے چدواتی ،مگر مجھے منع کر کے تم نے میری بےعزتی کی یہ اس کا بدلہ ہے۔

جمال مرے مرے قدموں سے باہر نکل گیا اور نینا بینا کو کپڑے پہنانے لگی۔

ختم شد

The post بدلہ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81/feed/ 0
بھائی کی ساس https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b3/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b3/#respond Mon, 22 Sep 2025 07:41:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b3/   بها ئی کی ساس ساہیوال ریلوے اسٹیشن سے میں اور بھابھی ایک ٹیکسی کرا کے بھابھی کے گھر پہنچے ۔ راستے میں بھابھی نے فون کر کے اپنی امی کو بخیریت اپنے ساہیوال پہنچنے پہنچنے کی خبر کر دی تھی ۔ بھابی اپنے والد کی اکلوتی اولاد تھیں ۔ نئی امی سے کوئی اولاد […]

The post بھائی کی ساس appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

بها ئی کی ساس

ساہیوال ریلوے اسٹیشن سے میں اور بھابھی ایک ٹیکسی کرا کے بھابھی کے گھر پہنچے ۔ راستے میں بھابھی نے فون کر کے اپنی امی کو بخیریت اپنے ساہیوال پہنچنے پہنچنے کی خبر کر دی تھی ۔ بھابی اپنے والد کی اکلوتی اولاد تھیں ۔ نئی امی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی ۔ اسی لیے سب یہی سمجھتے تھے کہ بھابھی بی امی کی سگی بیٹی ہیں۔ اور بھابھی کی امی کو بھی بھابھی سے بے حد پیار تھا بهابهی لوگ ساہیوال کے ایک مضافاتی قصبہ کی حویلی میں رہائش پزیر تھے ۔ بھابھی کے گھر والے اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے ۔ اُن کے گھر میں دودھ کے لیے بارہوں مہنے ایک بھینس اور ایک گائے کلے پر بندھی رہا کرتی تھیں . جانوروں کی دیکھ ریکھ کے لیے بھابھی کے والد نے ایک بڑی عمر کے شخص کو حویلی کے بڑے سے صحن میں ایک پکا مکان دے رکھا تھا ۔ جس میں وہ ملازم اپنی بیوی اور جوان لڑکی کے ساتھ رہا کرتا تھا . ہم نے جیسے ہی حویلی میں قدم رکھا بھابھی کی امی نے جلدی سے آکر بھابھی کو گلے سے لگا کر انہیں خوب پیار کیا۔ مجھے بھابھی کے ساتھ دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئیں اور مجھے بھی اپنے سینے سے لگا کر میرا ماتھا نہیں بلکہ میرے ہونٹ چومے ۔ میں اُن کی بیباکی دیکھ کر حیران رہ گیا اور چور نظروں سے بھابھی کی طرف دیکھا مجھے دیکھ کر بھابھی نے آنکھ دبا دی . شاید بھابھی نے اپنی امی کے گلے لگتے ہوئے اُن کے کان میں کوئی بات کہی ہو ۔ لیکن مجھے اس کا علم نہیں ہو سکا ۔ یا شاید بھابی نے ساہیوال آتے ہوئے راستے میں کسی جگہ جب میں اسٹیشن ماسٹر کے پاس شکایت نوٹ کروانے گیا تھا اُس وقت کال کرکے اپنی امی کو ساری کہانی سمجھا دی بو . خیر کچھ بھی تھا اب مجھے بھابی کی امی کو چودنا ہی چودنا تھا ۔ میں نے بھابهی کی امی پر ایک تنقیدی نظر ڈالی ۔ اس وقت وه بهابهی کا ہاتھ تھامے انہیں اس کمرے میں لے جا رہی تھیں ۔ جہاں بھابھی کے والد بیمار حالت میں اُن کی آمد کے منتظر تھے . بهابهی کی امی بھی بھابھی کی طرح گوری چٹی بھری بھری جسامت والی ایک خوبصورت عورت تھیں اُن کے نین نقش ابھی تک کسی بھی مرد کو جذباتی طور پرمتاثر کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھے ۔ خاص کر اُن کی ابھری ہوئی موثى گانڈ اور بڑے بڑے ممے . ان کی متناسب قد و قامت پر خوب جچتے تھے جنھیں دیکھ کر لنڈ کے ٹوپے پر آپ ہی آپ میٹھی میٹھی خارش ہونے لگتی تھی۔

 بھابھی ٹھیک کہتی تھیں کہ اگر خوراک صحیح ہو تو عورت چدائی سے کبھی بوڑھی نہیں ہوتی . ہم سب بهابهی کے والد کے کمرے میں موجود تھے . بھابھی اور میں نے اُن کا حال احوال پوچھا ۔ اور اپنے گھر والوں کی طرف سے دعائیں اور نیک تمنائیں پہچائیں جسے سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور سب کو دعائیں دنے لگے بزرگوں کا سر پر سایا اسی لیے باعث رحمت ہوتا ہے کہ اُن کی دعاؤں سے سب کے سر ڈھکے رہتے ہیں ۔ بھابھی کے والد سے سلام دعا کے بعد بهابهی کی والدہ ہمیں کمرے میں لے آئیں ۔ سب سے پہلے انہیں نے ہم دونوں کو کہا کہ ہم نہا دھو کر سفر کی تھکن اور راستے کے گردو غبار سے نجات حاصل کر لیں تب تک وہ کھانا لگواتی ہیں ۔ اُن کی رائے بہت مناسب تھی میں نے بھابھی سے باتھ روم کا راستہ پوچها تو وہ مسکراتی ہوئی میرے آگے آگے چل دیں ۔ باتھ روم کے پاس پہنچیں تو میں نے کہا بھابھی جان کیوں نہ ہم دونوں اکٹھے ہی نہا لیں ….. آپ میری کمر پر صابن مل ” دینا اور میں آپ کی ……. میری جان تو تو بڑا چالاک ہو گیا ہے گھر میں تیرے منہ سے ایک بات نہیں نکلتی تھی ….. بھابھی نے شوخی سے میرا لنڈ پکڑ لیا . میرا ہاتھ بھی بھابی کی چوت تک جا پہنچا . دیکھ لیں انقلاب اور تبدیلی اسی کا نام ہے ……… دو بی رنگین مالاقاتوں نے مجھے فرش سے اٹھا کر عرش پر لا کھڑا کیا ہے. ابھی تو میں نے تمہارے لیے جانے کیا کیا پلان بنا رکھے ہیں … لذتوں کی ” کتنی منزلوں تک تمہیں لے کر جانا ہے …. میرا ساتھ نہ چھوڑ دینا ….. تھک نہ جانا ابهی تو لذتوں کی الف بے سے میں نے تمہیں واقف کروایا ہی .. “یے تک پہنچتے پہنچتے تمہارا دم نہ کہیں پھول جائے. بهابهي مجھے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھے کا پختہ ارادہ رکھتی تھیں . بهابهی میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔ اور رہوں گا بھی . میرے لہجے میں کوٹ کوٹ کر اعتماد بهرا ہوا تھا جس نے بھابھی کا دل مہو لیا ۔ سچ کو ثابت کرنے کے لیے لفظوں کی حاجت نہیں ہوتی لہجے کا انداز بی اتنا اثر انگیز ہوتا ہے کہ یقین کیے بنا کوئی چارا ہی نہیں ہوتا .

مجھے تم پر یقین ہے خالد کہ اپنے وعدوں پر بھی کھرے اتروگے ۔ اپنے ” اس دوری ڈنڈے جیسے مست لوڑے کا بے حد خیال رکھا کرو ۔ یاد ہے نا اس سے خارج ہونے والی منی کی ایک ایک بوند پر میرا حق ہے …… میں بھابھی کی دوری ڈنڈے والی مثال سن کر ہنسنے لگا . بھابهی جان ڈنڈے کا جو کمال ہے سو وہ تو ہے لیکن اصل کمال تو دوری کا ہے جو اتنے موٹے ڈنڈے کی لگاتار ضربیں جھیل کر بھی اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے ۔ بار ڈنڈے کو بی ماننی پڑتی ہے …. بھابھی نے ہنستے ہوئے مجھے باتھ روم میں دھکیل دیا .

باتیں چھوڑو اور جلدی سے نہا کر کمرے میں آ جاؤ ……. تب تک میں بھی نہا ” دھو کر فارغ ہو جاتی ہوں پھر ہم مل کے کھانا کائیں گے ۔۔۔ “میں نے اپنی بھابھی کے دلکش ہونٹوں کو چوما اور باتھ روم میں گھس گیا .نہا دھو کر کمرے میں آیا تو وہاں بھابھی کی امی پہلے سے موجود تھیں ۔ ڈائننگ ٹیبل پر دیسی گھی کے پراٹھوں کے ساتھ بکرے کے پائیوں کا لذیز شوربا میری اشتها بڑھا رہا تھا . مجھے دیکھ کر بھابھی کی امی مسکرا دیں میں نے اندازے سے ہی سری پائے بنائے تھے ……. پتا نہیں تمہیں پسند بھی آئیں گے یا نہیں .آپ نے جس محبت اور شفقت سے بنائیں ہیں ، اتنے پیار سے تو اگر آپ “

مجھے کچے کریلے بھی کھانا کو کہیں تو میں وہ بھی بخوشی کھا جاؤ گا …… یہ تو پھر میری پسندیدہ ڈش ہے . میری بات بهابهی کی امی کو بھا گئی . خالد تم شكل وصورت ، قد و قامت اور رنگ روپ کے جتنے خوبصورت ہو دل ” کے بھی اتنے ہی پیارے ہو ۔۔۔ میں تو پہلی بی نظر میں تم پر اپنا دل بار بیٹھی روبی بهابهی کی امی مجھے مبہوت ہو کر دیکھے جا رہی تھیں ۔ اُن ہوں کی زبان پر میرے ہی قصیدے تھی ۔ وہ کہہ رہی تھیں

روبی نے جب مجھے بتایا کہ اُس نے تمہیں میرے لیے راضی کر لیا ہے تو ” میرے دل پہلا خیال یہی آیا کہ جانے تم دیکھنے میں کیسے ہو گے ……. کیونکہ میں نے تمہیں روبی کی شادی پر بس سرسری انداز میں دیکھا تھا ……. میں تمہاری شکل و صورت بھول چکی تھی ……. لیکن جب تمہیں میں نے اپنے سامنے موجود پایا تو یقین کرنا مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار ہی نہیں آیا اور میں نے بے خود ہو کر تمہارے ماتھے کی بجائے ہونٹوں کو چوم لیا…… بیخودی میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔ میں توجہ سے روبی بھابی کی امی کو سن رہا تھا ۔ توجہ محبت کی پہلی سیڑھی ہے اور میں پہلی بی سیڑھی پر کھڑا رہنا نہیں چاہتا تھا . میں نے نہایت پیار بھر نظروں سے روبی بھابی کی امی کو دیکھا ۔ اُنھوں نے کافی ڈیپ گلے کی پتلی سی قمیض پہن رکھی تھی ۔ اور گرمیوں تو تو ویسے ہی عورت کا جسم ڈھکا ہوا بھی ہو تو ننگا ننگا دکھائی دیتا ہے جبکہ وہ تو اس بات کا خاص اہتمام کرکے آئی تھیں ۔ گلابی پھول دار لون کی کھلے گلے والی قمیض سے اُن کے گورے گورے مموں کا بھر پور درشن ہو رہا تھا ۔ میں اپنی ترسی ہوئی آنکھیں ابھی سینک بی رہا تھا کہ روبی بهابهی کی مسکراتی ہوئی آواز نے میرے انہماک کا تسلسل منقطع کر دیا .واہ یہاں تو بڑی رونقیں لگی ہوئی ہیں ، ٹیبل کے اوپر بھی اور ٹیبل کے سامنے بھی ۔۔۔ میں نے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بس بهابهی یہ سب آپ ہی کی محبتوں کا صدقہ ہے …… آئیے ہم آپ ہی کے ” منتظر تھے کہ شہزادی صاحبہ غسل سے فراغت پائیں تو دو لقمے ہمیں بھی میرے جملے میں چھپی ہو ذو معنویت روبی بهابی پر

عيان تھی ۔ اور شاید دو لقموں کا بلیغ استعاره بهابهی کی امی جان بھی سمجه گئیں تھیں اسی لیے وہ بھی میری بات پر بے ساختہ ہنس دیں . ” روبی یہ خلد تو بڑی پیاری اور گہری باتیں کرتا ہے

امی جان یہ خالد صرف گہری باتیں ہی نہیں بلکہ بہت گہرائی تک بھی کرتا ہے اس کے گن آپ پر آہستہ آہستہ کھلیں گے . وہ دونوں ماں بیٹی بے حد خوش تھیں ۔ ٹیبل پر سری پائے دیکھ کر روبی بھابھی کہنے لگیں ان پایوں کے لیسدار شوربے کا بھی ذائقہ کم نہیں لیکن جو ذائقہ خالد کے لیس ” دار پانی کا ہے میرا دعوا ہے کہ آپ اُسے ساری عمر فراموش نہیں کر سکیں گی روبی بھابھی کی گفتگو آبتسہ آبستہ رمز و کنایہ سے تجاوز کرتی ہوئی اشاروں اور کھلی سیٹیوں تک آگئی تھی اورامی جان بھی شاید کھلے ڈھنگ سے بات کرنا پسند کرتی تھیں امی جان نے اپنے ہونٹوں گول کر کے سیٹی بجائی اور کہنے لگیں ۔ “روبی ، چکنی لیسدار پانی کو چکھنے کو میری زبان بھی ترس رہی ہے …. بس کبھی کبھی موٹی مولی کو پایوں کے شوربے میں لت پت کر کے چاٹتی رہتی ہوں تسکین کا کوئی تو سامان کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔ عزت بھی بچانی ہے اور گزارا بھی کرنا ہے۔ ان ہی دلچسپ باتوں کے دوران ہم سب نے خوب ڈٹ کر کھانا کھایا . روبی بھابھی اور میں سفر کر کے آئے تھے اس لیے امی نے کہا کہ اب تم دونوں جا کر آرام کر لو ۔ مزے لوٹنے کے لیے رات ہماری ہی ہے ۔ امی جان کی بات سن کر بھابھی نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ ایک روم میں لے کر آ گئیں . کمر ے انتہائی نفاست سے سجایا گیا تھا – فرش پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا جس پر قدم رکھو تو پاؤں ایڑی تک اس میں دھنس جائے ۔ بڑی بڑی کھڑکیوں پر گہرے ڈیپ بلیو کلر کے بھاری پردے لٹک رہے تھے ۔ کھڑکیوں کے سامنے والی دیوار کے ساتھ انتہائی ارام دے صوفے لگے ہوئے تھے ۔ ایک بڑا سا بیڈ جس پر بہت سے نرم نرم تکیے موجود تھے وہ ایک دیوار کے ساتھ ركها بوا تها – بهابهی مجھے اُسی بیڈ پر لے آئیں ۔ ہم دونوں سفر کی تھکان سے بے حال ہو رہے تھے بھابی نے مجھے اپنے سے لپٹا لیا اور اُن کے نرم و نازک بدن کا لمس پاتے ہی میں نیند کی وادیوں میں جا پہنچا جہاں پر چار سو پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے

گنگناتی شفاف پانیوں کے چشمے ، گیت گاتے ہوئے پرندے ، تمام مناظر رقص میں تھے اور میں اپنی بے حد پیاری بھابھی کی باہوں کی جنت میں تھا۔ نہیں معلوم کہ ہم دونوں کتنی دیر تک ایک دوسرے کی بابوں میں اپنے آپ سےبے خبر ہو کر خوابوں کی جنتوں کی سیر کرتے رہے ۔ اچانک بھابی کی امی جان کی آواز نے ہم دونوں کو مدہوشی کی نیند سے جگایا .میرے پیارے بچو کب تک سوتے رہو گے رات کے دس بجنے والے ہیں . ” اور تم دونوں گھوڑے بیچ کر سو رہے ہو … چلو شاباش انه جاؤ .امی جان ابھی تو ہم سوئیں ہیں …… آپ ہمیں جگانے بھی چلی آئیں تھوڑی دی ” ” اور سونے دیں نا…… سچی بڑی میٹھی نید آ رہی ہے …. روبی بیٹے چھ گھنٹے گزر گئے ہیں تم دونوں کو سوتے ہوئے …….. چلو ” شاباش اب اٹھو اور یہ دودھ پی لو ….. تم دونوں کو اپنی صحت کا ذارا خیال نہیں ہے کیا ذرا سا منہ نکل آیا ہے میری بچی کا …… بیٹا جان ہے تو جہان ہے . میں اپنی بیٹی کو چدوانے سے منع نہیں کرتی ، جی بھر کے چدواؤ لیکن اپنی صحت پر دھیان پہلے دو امی جان نے ہم دونوں کو اُٹھا کے ہی دم لیا . موٹی ملائی والے دودھ کا بڑا گلاس پیتے ہی بدن کی ساری سستی رفو چکر ہو گئی ۔ میں اور روبی بهابی بشاش بشاش ہو گئے ۔ لیکن بدن میں ابھی تک کسمایت باقی تهی – روبی بهابی بھی بار بار انگڑائیاں لے رہی تھیں اور میں بھی اپنی گردن کو جھٹک کر اپنی تھکن سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تدبیریں کر رہا تھا . امی جان نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگیں لگتا ہے تم دونوں کے بدن ابھی تک تھکن سے بوجھل ہیں ……. میں شاداں سے کہتی ہوں کہ وہ ہم تینوں کی زیتوں کے تیل سے مالش کر دیتی ہے ، میرا بھی آج بڑا جی چاہ رہا ہے مالش کروانے کو …… بڑے نرم ہاتھ ہیں اُس کے … جب جسم پر پھیرتی ہے تو ساری تھکن اژن چھو ہو جاتی ہے . امی جان کے موڈ سے لگ رہا تھا کہ وہ آج فل چدائی کے موڈ میں ہیں ۔ اسی لیے وہ مالش کروا کے فریش ہونا چاہ رہی تھیں ۔ مجھے روبی بھابھی کی بات یاد آ گئی ۔ اُنھوں نے مجھے کہا تھا کہ مجھے لذتوں کی انتہاؤں تک پہنچانا چاہتی ہیں ۔ میں بھی یہی چاہتا تھا کہ کیا اتنا مزا کیا جا سکتا ہے جتنا میں سوچتا ہوں ؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم جتنا مزا سوچ کر مزا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اتنا مزا حاصل نہیں کر سکتے ۔ خیال اور حقیقت میں یہی بنیادی فرق ہے ۔ لیکن مجھے میری بھابھی جان یہ نایاب موقع فراہم کر رہی تھیں تو میں کیوں نہ اس موقعے سے بھرپور فائدہ أنهاتا – کيونکہ ایسے مواقع زندگی میں بار بار نہیں ملتے . آج کی باتھ آئی ہوئی آسانی کو کل کی مشکل پر قربان کر دینا کوئی دانشمندی نہیں ہے .

امی جان شاداں کو بلانے چلی گئیں تو میں نے روبی بھابھی سے شاداں کے بارے میں پوچھا۔ روبی بھابی نے مجے بتایا کہ شاداں اُن کے گھریلو مازم کی جوان بیٹی ہے ۔ اس کی شادی امی نے کروائی تھی لیکن شادی کے کچھ بی ماہ بعد شاداں کو اس کے گھر والے نے یہ کہہ کر طلاق دے دی کہ اس کی لڑکوں سے یاری ہے ۔ حالانکہ شاداں ایسی نہیں تھی ۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اُس کا گھر بسانا چاہتی تھی ۔ طلاق کے بعد شاداں کو بھی بڑا غصہ آیا کہ اُس پر بلاوجہ کا الزام لگا کر اسے طلاق دی گئی ہے ۔ اسی غصے کی وجہ سے اُس نے ہر اُس لڑکے سے چدوایا جس کے لنڈ میں جان تھی۔ اُس کے بعد شادان نے بیوٹی پالر کا کورس کیا اور اب امی جان اسی سے اپنی مالش اور پورے جسم کی ویکسنگ کرواتی ہیں امی جان نے شاداں کو بہت خوش رکھا ہوا ہے . میں یہی کچھ معلوم کرنا چاہتا تھا ۔ میں دل میں سوچا کہ آج مجھے تین پھدیوں کو چودنا ہے ۔ اب میرا بھی امتحان ہو جائے گا اور امی جان اور شاداں کا بھی ۔ روبی بھابی کی مست چوت تو میری فیورٹ چوت تھی – ان دو نئی پھدیوں کو چیک کرنا تھا۔ کہ یہ کس معیار کی پھدیاں نکلتی ہیں۔ مجھے اپنے لنڈ پر پورا بھروسا تھا کہ وہ مجھے دغا نہیں دے گا ۔ کیونکہ بھابھی کی چدائی کے دوران میں نے اپنے لنڈ کی طاقت کا مظاہرہ دیکھ لیا تھا ۔ میں خاموشی سے آنے والے دلچسپ لمحات کا تصور کر رہا تھا کہ بھابھی نے میرے ہونٹ چومتے ہوئے کہا میری جان ، فکر نہ کر ….. مجھے پکا یقین ہے کہ میرے خالد کے لنڈ کے ” آگے کوئی بھی پھدی دس منٹ نہیں نکال سکتی ……. مت گھبرا دل سے چودنا امی اور شاداں کو مجھے آخر میں چودنا ……… میں اپنے جانی کی منی کا ایک بھی ڈراپ کسی کی پھدی میں نہیں دیکھنا چاہتی. میں روبی بھابھی کے پھول کی پنکھڑیوں جیسے نازک لب چومتے ہوئے بڑے جذباتی انداز میں کہا فکر نہ کریں بھابھی جان میں گھبرایا بالکل بھی نہیں ہو …. آپ میرے ساتھ ہیں تو میں بڑی سے بڑی گشتی کی پھدی سے بھی چیخیں نکلوا سکتا ہوں ……. مجھے صرف اور صرف آپ اور آپ کی بے حد دلکش چوت سے سچا پیار ہے …… میری نظر میں کسی بھی چہرے کا حسن اُس کے ناز نخرے اُس کی پھدی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔۔۔۔ آپ دیکھئے گا کہ میں کیسے امی جان اور شاداں کے کھو جیسے پھدوں کی دس منٹ کے اندر اندر بے جا ہے جا کراتا ہوں ……… چدائی کا مزا تو میں نے آپ کے حسین چوت کو چود کر لینا ہے میری باتیں سن کر بھابھی کی سانسیں تیز ہو گئیں اُن کی آنکھوں جگنوؤں کی طرح جھلمل کرنے لگیں ۔

تو میرا شیر ہے مجھے فخر ہے کہ میں ایک اصلی مرد سے پیار بھی کرتی ہوں اور اسی پر اپنا تن من میں نے وار دیا ہے ۔ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میں اپنے عاشق اپنے دلبر اپنی جان خالد کی باہوں میں ہوں جو مجھے اپنی جان سے بڑھ کر چاہتا ہے . جس کے لنڈ میں اتنی طاقت ہے کہ وہ میرے کہنے پر کسی کی بھی پھدی کا حشر نشر کر سکتا ہے ہم دونوں نے انتہائی جذباتی ہو کر ایک دوسرے کے منہ میں منہ ڈال دیا ۔ بھابھی کے گلابی منہ کی خوشبو کے آگے گلابوں کی خوشبو ماند تھی ۔ اُن کی زبان کے

مصری جیسے میٹھے رس کے آگے شہد کی مٹھاس نے اثر تھی. ہم دونوں ابھی ایک دوسرے میں پیوست ہی تھے کہ امی جان شادان کو لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ لو جی ، میں شاداں کو لے کر آئی تھی وہ ہم سب کی زیتون کے تیل سے مالش ” کرے گی تاکہ آج کی رات یادگار چدائی کی رات ہو لیکن یہاں تو میری بیٹی نے پہلے سے ہی چدائی کی تیاری پکڑ لی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ روبهی بهابهی بنستی ہوئے بولیں امی جان فکر نہ کریں میں نے خالد کی ساری تھکن چوس لی ہے اب یہ سب سے پہلے آپ کی ہی پھدی کو ٹھنڈا کرئے گا ۔۔۔۔ میں شادان کے بعد چدوا لوں گی روبی بهابهی کی بات سن کر شاداں سے خاموش نہ رہا گیا چھوٹی بی بی کیا اس لڑکے کے لوڑے میں اتنتی تر ہے کہ یہ ہم تینوں کی “پھدیوں کو مطمئن کر سکے ۔۔۔۔ روبی” بھابھی نے ہنستے ہوئے کہا آزمانے میں کیا حرج ہے ۔۔۔۔۔ کم سے کم امی جان اور تمہاری پھدی میں ٹھنڈ پڑ ہی جائے گی نا …… میں تو ویسے ہی سب سے آخر میں چدواؤ لوں گی۔ ویسے بھی میں آپ دونوں سے چھوٹی ہوں پہلے بڑوں کا حق بنتا ہے

روبی بھابی کی امی جان کو روبی بھابھی کی بات بے حد پسند آئی دیکها شاداں میری پیاری بیٹی کتنی تابعدار ہے ……… ہم دونوں کی پھدیوں پر اپنی چدائی قربان کر رہی ہے ……. اولاد ہو تو ایسی جیسے بڑوں کی اتنی فکر ہو شاباش بیٹی آفرین ہے تجھ پر نہیں تو آجکل کے زمانے میں اپنا حق کون چھوڑتا ہے . چل خلد آ جا میدان میں میں بھی دیکھوں میری بیٹی کراچی سے میرے لیے کیا سوغات لائی ہے چل شاداں تو بھی تیاری پکڑ لے یہ کہتے ہوئے بھابی کی امی جان خود کو لباس کی پابندیوں آزاد کر لیا . افففففففففف میں کیا بتاؤں کہ وہ چالیس سال کی عمر میں بھی پچیس سال کی بھر پور جوان لڑکی کا چراغ گل کر سکتیں تھیں ۔ ٹیوب لائٹ کی روشنی میں اُن کا جسم سونے کی طرح چمک رہا تھا ۔ اُن کے بڑے بڑے چونسے آموں کی طرح رس کے بوجھ سے بلکے سے لٹکے ہوئے تھے لیکن اُن کا پیٹ بالکل کمر کے ساته تها – بھری بھری رانوں کے درمیان اُن کی ویکس کی ہوئی پھدی بھی اور اُس کا پیڑو پھولا ہوا تھا امی جان کی گانڈ کافی بڑی اور پھیلی ہوئی گانڈ تھی لیکن تھی بے حد مست گانڈ ۔ امی جان کی گانڈ دیکھ کر کسی بھی مرد کا دل للچا سکتا تها .

اُن کے ساتھ بی شاداں الف ننگی کھڑی ہوئی تھی ۔ اُس کا رنگ گندمی تھا لیکن اس کے بدن کی ساخت ایسی تھی جسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ کسی ما برسنگ تراش نے اپنے برسوں کی ریاضت اور دن رات کی مشقت کے بعد ایک پیکرتراشا ہو جس میں کسی بھی قوس کا اضافہ یا کمی کرنے سے وہ سارا پیکر بے ڈول نظر آنے لگتا ۔ شاداں خود بیوٹی پالر چلا چکی تھی اس لیے وہ جسم کے تناسب سے اچھی طرح واقف تھی۔ اپنے بدن کی اضافی چربی اور اضافی گوشت کو ختم کر کے اسے دیدہ زیب انداز میں سنوارنے میں اُسے مہارت حاصل تھی ۔ شادان کے ممے گول گول اور ابھرے ہوئے تھے ۔ بازوؤں ، شانوں ، رانوں اور پنڈلیوں کا ہر ایک ذاویہ ایک شہکار کی صورت میں نظروں کو خیرہ کر رہا تھا۔ اُس کی پھدی سامنے سے چوڑی تھی ۔ گانڈ لڑکوں کی گانڈ کی طرح تنی ہوئی تھی ۔ وہ مجھے ایسے دیکھ رہی تھی جسے وہ منٹوں میں مجھے چٹ کر جائے گی ۔ اس کی آنکھوں میں بوس کے سرخ ڈورے مجھے صاف دکھائی دے رہے تھے میں دل ہی دل میں امی جان اور شادانکا موازنہ کر رہا تھا . مجھے پتا تھا کہ شاداں امی سے زیادہ گرم سے اس لیے وہ زیادہ دیر تک چدوا نہیں سکے گی ۔ جلدی پانی چھوڑ دے گی . عورت جتنی زیادہ گرم ہو گی اتنی جلدی پانی چھوڑ دے گی ۔ اس لیے میں پہلے شاداں کو چودنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔۔ آپ اس وقت اس کھانی کوں آئیینہ کھانیوں کا کی توسل سے پڑھ رہیں ہیں ۔۔۔ اس میں اپنے دوستوں کوں بھی ایڈ کرو تعاون کر نے کا شکریہ

روبی بهابی اس دوران اپنے اور میرے کپڑے اُتار چکی تھیں۔ میرا تنا ہو دس انچ لمبا اور تین انچ موٹا لوڑا دیکھ کر امی جان اور شاداں کی مارے حیرت کے چخیں نکل گیں ۔ وہ دونوں ایک ساتھ ہم آواز ہو کر بولیں ہائے افففففففففففففف اتنا لمبا اور موٹا لنڈ روبی بھابھی نے جھپٹ کر میرے لنڈ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا .

خبردار جو کسی نے میرے خالد کے لوڑے کو بری نظر سے دیکھا . اتنا ” شاندار لنڈ قسمت والیوں کے نصیب میں آتا ہے ۔ امی جان آپ اور شاداں قسمت والی ہیں کہ آج میرے خالد کا لنڈ آپ دونوں کی پھدیوں کو سیراب کرے گا …….. امی جان اور شاداں شرمنده سی ہو گئیں ۔ امی جان اپنی جھیپ مثانے کے لیے بولیں روبی بیتا ، ایسی بات نہیں ہے …….. ہم دونوں نے ساری زندگی ایسا شاندار لنڈ ” خواب میں بھی نہیں دیکھا ……. شاداں اور مجھے اپنے نصیبوں پر بے اندازہ خوشی محسوس ہو رہی ہے اور ہم اپنے جذباتوں پر قابو نہ رکھ سکیں اس لیے بت اختیار ہو کر ہمارے منہ سے ایسا نکل گیا ……….. شادان نے بھی امی جان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا چھوٹی بی بی جی بالکل ایسی ہی بات ہے میں نے ایسا خوبصورت اور مست لوڑا صرف گوروں کی فلموں میں دیکھا ہے حالانکہ میں لا تعداد مردوں سے چدوا چکی ہوں لیکن آپ کے خالد بابو کا لوڑا بے مثال ہے ایپی امی جان اور شاداں کی زبان سے میرے لنڈ کی تعریفیں سن کر میری پیاری بھابھی جان کے گال مارے فخر کے گلابی سیبوں سے قندھاری اناروں کی طرح سرخ ہوگئے انہوں اس بات پر فخر تھا کہ اُن کے جان سے پیارے دیور نے سب کا دل جیت لیا ہے ۔ بھابھی جان نے مجھ سے پوچھا خالد جانی پہلے کس کو چودنا چاہتے ہو ….. میرے خیال سے پہلے تم شاداں کو چودو اس کی پھدی بڑی پھڑک رہی ہے پہلے ذرا اس کی کھرک مٹھی کرو جب تک میں امی جان کی پھدی کو چاٹ کر گرم کرتی ہوں “میں نے مسکرا کر اپنی بھابھی کی طرف دیکھا کہ انہوں نے میرے دل کی بات بوجھ لی تھی۔ پیاری بهابی جان جو حکم آپ کا ……. بنده تو آپ کے تابع فرمان ہے .

بھابھی کی اجازت ملتے ہی شاداں نے بیڈ پر آکر اپنی ٹانگیں پھیلا دیں ۔ میں نے اسکی پھدی کو غور سے دیکھا ۔ اُس کی پھدی پر اور ٹانگوں پر شاید بال زیادہ اور گھنے ہوں گے جن کی بار بار ویکسنگ کرنے کے باعث اس کی پھدی کے لب موٹےے ہو گئے تھے ۔ جو دیکھنے میں خوبصورت لگ رہے تھے ۔ ٹانگیں پھلانے کی وجہ سے شاداں کی کھلی ہوئی پھدی کا سوراخ صاف نظر آ رہا تھا – گندمی رنگ کی مناسبت سے اُس کے پھدی کا اندرونی حصہ بلکا کتھئی سا تها . لیکن جج رہا تها ۔ میں جھک کر شاداں کے ہونٹوں کو چوما تو اُس نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔ وہ شاید چائے پی کر آئی تھی کیونکہ چائے کا ذائقہ اُس وقت بھی اس کی زبان پر موجود تھا . یہ عورت کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے کہ وہ مرد کے پاس جانے سے پہلے نہ تو اپنے دانت برش کرتی ہیں اور نہ ہی اپنی پھدی کو پانی سے دھوتی ہیں جس کی وجہ سے مرد کا دھیان چدائی کی طرف کم اور ناخوشگوار باتونکی طرف زیادہ رہتا ہے اور وہ بس پانی نکالنے والی بات

کرتا ہے ۔ نہ چدائی سے خود لطف حاصل کرتا ہے اور نہ ہی عورت کو صحیح مزا آتا ہے لیکن پانی دونوں کا نکل جاتا ہے ۔جاری ہیے۔

میں نے شاداں کی بے چینی بھانپ لی تھی اس لیے اس کی رانوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا میں أن مست رانوں کے درمیان جا بیٹھا۔ شاداں نے جلدی سے میرے موٹے لنڈ کو پکڑ کر اُس کا ٹوپا اپنی پھدی کے کھلے ہوئے سوراخ پر سیٹ کیا ۔ اُس کی پھدی میں شہوت کا پانی چمکتا ہوا پانی صاف نظر آ رہا تھا ۔ میرے کچھ کرنے سے پیشتر بی اُس نے نیچے سے پوری قوت کے ساتھ اپنی گانڈ کو اوپر کیا ۔ میرا لنڈ فل تنا ہوا تها لیکن خشک تھا جو شاداں کی پھدی میں دھنستا چلا گیا۔ شاداں کوئی پہلی بار اپنی پھدی میں لنڈ نہیں لے رہی تھی ۔ لیکن وہ میرا لمبا اور موٹا لوڑا دیکھ کر چدائی کے لیے اتنی اتاولی ہوئی کے اُسے یہ خیال ہی نہ رہا کہ یہ کوئی عام لنڈ نہیں ہے ۔ اسے احتیاط سے پھدی میں گھسانا پڑتا ہے نہیں تو لوڑے کی غیر معمولی لمبائی اور موٹائی پھدی کو نقصان پہنچا تی ہے ۔ اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا شاداں کے منہ سے بے اختیار ایک کراه بلند ہوئی لاگا ہائے نے نے نے نے نے نے نے مر گئی میں ۔۔۔ اوئی بہت درد ہو رہا ہے ….. جلدی سے اپنا لوڑا باہر نکالو …… میں نے روبی بھابی کی طرف دیکھا انہوں نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا کہ خبردار لوڑا باہر نہیں نکلنا پورا اندا کرو – أن کی آنکھ کا اشارہ پاتے ہی میں نے شاداں کی رانوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر پوری قوت کے سے ساتھ اپنا لنڈ ٹٹوں تک شاداں کی پھدی میں گھسا دیا ۔ شاداں ایک چیخ مار کے تیزی سے کروٹ کے بل ہو گئی اور اپنے گھٹنے جوڑ کر کراہنے لگی . ہائے میں مر گئی . اوئی بہت درد ہو رہا ہے ” میں نے امی جان کی طرف دیکھا جو یہ تمام منظر دیکھ کر بے حد گرم ہو چکی تھیں کیونکہ بھابھی جان نے اُن کے ممے چوس رہی تھیں . روبی بهابهی نے مجھے کہا خالد جانی ، شاداں تو ناک آؤٹ ہو گئی اب تم امی جان کو چود کر ان کی پھدی شهندی کرو . میں نے امی جان کو فل گرم کر دیا ہے ۔۔۔” میں پیار بھری نظروں سے روبی بھابھی کو دیکھ کر سر ہلا دیا ۔ امی جان کہنے لگیں ” خالد بیٹا ، پلیز مجھے فل مزا دینا …… شاداں کی طرح نہ چودنا …… پیار سے چودنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی جاں ، آپ فکر نہ کریں. شاداں کی اپنی غلطی کی وجہ سے اسے تکلفب ہوئی ہے قصور شاداں کا اپنا ہے میرے لوڑے نے اسے کوئی گزند نہیں پہنچائی اس کی تیزی نے اُس کی پھدی کو نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔…” میں نے اپنی صفائی پیش کی تو امی جان کا حوصلہ بڑھا ۔ اور وہ بولیں خالد بیٹا ، میں نے سنا ہے کہ لنڈ اگر خوب تگڑا ہو تو گھوڑی بن کے چدوانےسے پھدی کو زیادہ مزا آتا ہے اور اسے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا .

میں نے اپنی پھدی کے اندر تک زیتون کا تیل ڈالا ہے تاکہ اتنی چکنائی ہو جائے کہ تمہارا لنڈ بنا روک ٹوک کے ایسے پھسلتا ہوا میری پھدی میں گھسے جیسے کیلے کے چھلکے پر پاؤں آنے سے کوئی پھسلتا ہے۔۔۔۔۔۔ ” میں امی جان کی معلومات پر حیران تھا . کام وہی کرنا چاہیے جس کے متعلق معلومات مکمل ہوں . نہیں تو معلومات سے بے خبری کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو شاداں کے ساتھ ہوا تھا مزا تو ایک طرف رہا اب پتا نہیں وہ کتنے دن اپنی پھدی کی ٹکوریں کرتی رہی گی امی جان ڈوگی سٹائل بنا کر بیڈ پر اپنا سر ٹکا کر اور اپنی بھاری گانڈ اٹھا لی . روبی بهابهی میری اور امی جان کی ٹانگوں کے درمیان میں کمر بل سیدھی لیث گئیں۔ میرا لنڈ اور امی جان کی پھدی اُن کے منہ کی پہنچ میں تھی۔ روبی بهابهی نے میرے فل تنے ہوئے لوڑے کے ٹوپے اور سارے لنڈ پر اپنی نرم زبان پھیر پھیر اسے اپنے لواب سے اچھی طرح تر کر دیا تھا . روبی بھابھی نے جب اپنی امی جان کی ڈبل روٹی جیسی گانڈ کے دونوں پاٹوں کو کھولا تو ان کی پھدی اندر تک زیتون کے تیل میں سنی ہوئی تھی اور تیل بارش کی بوندوں کی طرح ان کی غار نما پھدی کے گہرے سوراخ سے قطرہ قطرہ ٹپک رہا تھا – منظر اتنا دلکش تها کہ میں مبہوت ہو کر امی جان کی پھدی دیکنھے لگا . بھابھی نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے کہا شاباش میرے خالد جانی ، میری امی جان کو آج سورگ کی سیر کرا دو… امی جان کو پتا لگے کہ اصل چدائی کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” میں نے جھک کر اپنی جان سے پیاری روبی بھابھی کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے خوشبودا ہونٹوں کا بوسہ لیا اور امی جان کی پھدی کے سوراخ پر اپنے رانی توپ جیسے لوڑے کا ٹوپا رکھ کر بولے دبایا تو وہ بنا کسی رکاوٹ کے پهسلتا ہوا اُن کی پھدی کی گہرائیاں ناپنے لگا .

لذت اور نشے کا ایک جہان تھا جو امی جان کی زیتون کے تیل میں بھگی ہوئی پھدی میں پوشیده لذتوں کی انوکھی منزلوں کو کھوجنے کے سفر پر نکل کھڑا تھا روبي بهابهی نے اس وقت امی جان کی پھدی سے ہاتھ ہٹا کر میرے بڑے بڑے لٹکتے ہوئے ٹٹوں کو میری گانڈ کی طرف کھینچ رکھا تھا تاکہ میرا لوڑا اپنی پوری لمبائی سے امی جان کی پھدی میں جا سکے امی جان نے بھی اپنی کمر اور نیچے کر کے اپنی گانڈ کو مزید باہر نکال لیا ۔ میں ہولے ہولے ، انچ انچ کر کے انتہائی احتیاط کے ساتھ لوڑے کو پھدی کی گہرائیوں میں پیوست کررہا تھا . یہی میری جان سے پیاری بهابهی کاحکم بهی تها اور اُن کے حکم کے خلاف جانے کی میری مجال نہیں تھی ۔ اس لیے میں امی جان کی چدائی میں ذرا زرا سی بات کا دھیان ركه ربا تھا تاکہ ان کو ایسا مزا دوں کہ وہ عمر بھر میری بھابی کے گن گاتی رہیں میں نے آبتسہ آہستہ کر کے اپنا لوڑا جڑ تک امی جان کی پھدی کے انتہائی کونے تک پہنچا دیا ۔ امی جان کے منہ سے متواتر لذت آمیز سسکاریاں نکل رہیں تھیں . وہ اب مزے کی انتہاؤ پر پہنچ چکی تھیں اور میرے گھسوں کا بڑا جاندار رسپانس دے رہی تھیں۔ بھابھی میرے ٹٹوں اور کولہوں پر ہاتھ پھیر پھیر میرے جذبات میں بیجان پیدا کر رہی تھیں ۔ اس دوان امی جان کی پھدی نے دو دفعہ میرے لنڈ کے ٹوپے کو اپنی گرفت میں لیا ۔ اُن کی پھدی سے لیسدار پانی نچڑنے لگا جسے بهابی جان اپنی زبان سے چاٹ جاتیں ۔ بھابھی جان نے میرے ٹٹوں پر چٹکی کاٹ کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا ۔ میں نے گھسے لگاتے ہوئے بھابھی جان کی طرف دیکها تو اُنھوں نے مسکرا کر مجھے آنکھ ماری ۔ میں سمجھ گیا کہ بھابھی چاہ رہی ہیں کہ میں اپنے گھسوں کی رفتار اور قوت میں اضافہ کروں . اپنی جان سے پیاری بھابھی کا اشارہ ملتے ہی میرے گھسوں میں تیزی اور شدت آگئی ۔ ابھی میں نے گن کر مشکل سے بیس ہی گھسے مارے ہوں گے کہ امی جان پائے ے ے ے ے ے ے ے ے ے ، افففففففففففففف اففففففففففففف اففففففففففف کرتی ہوئی بیڈ پر لیٹ گئیں ۔ اُن کا سارا بدن پسینے میں تر بتر تها – سانس پھول گئی تھی اور وہ آنکھیں موندے ذور دور سے لذت بھر سسکاریاں بھر رہیں تھیں

میں اور بھابھی ان کے ممے چوسنے لگے ۔ میرا لوڑا ابھی تک فل تنا ہوا تھا . امی جان نے میرا سر کھینچ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں میں پوست کر دیے ۔ اور اپنی پھولی ہوئی سانسوں مجھے کہنے لگیں خالد بیٹے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں نے بادلوں کے رتھ پر بیٹھ کر دهنک وادیوں کی سیر کی ہے ۔۔۔ میں زندگی بھر تیرا اور اپنی روبی بیٹی کا

احسان نہیں اُتار پاؤں گی …….. ایسی یادگار چدائی بر عورت کو نصیب نہیں ہوتی خوشی میں تم دونوں کی زندگی بھر غلام بن کر خدمت کروں گی اورر مسرت سے امی جان کے منہ سے الفاظ نہیں ادا ہو رہے تھے ۔ میں نے انہیں پیار کرتے ہوئے کہا امی جان میں اپنی جان سے عزیز بھابھی کا ساتھ ساری عمر کے لیے چاہتا ہوں ۔ ہم دونوں زندگی بهراسی طرح آپ کو لذتوں کی حسین سر زمینوں کی سیر کراتے رہیں گے ۔۔۔ میری بات سن کر بھابھی بھی کہنے لگیں امی جان ، میں اور میرا پیارا خالد آپ جب چاہیں گی آپ کے قدموں میں ہوں گے بس میرے خالد کو آپ کوئی ایسا کاروبار کروا دیں کہ ہم دونوں ساری زندگی مزے اور سکون سے ساتھ گزار سکیں …. امی جان نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے سونے میں تول دیں گی ۔ اتنی دولت دیں گی کہ ساری عمر بنا کوئی کام کاج کیے ہم دونوں مزے سے اپنی زندگی گزار لیں گے …..

آج میری پیاری روبی بھابی کے دو بے حد پیارے بیٹے ہیں اور یہ راز صرف مجھے اور بھابھی کو معلوم ہے کہ یہ دونوں بیٹے ہم دونوں کے انمٹ پیار کا نقش ہیں ۔ میرا بڑا بھائی اور میرے گھر والے ان بچوں کو میرے بڑے بھائی سے منسوب کرتے ہیں ۔ وہ اُنہیں میرے بڑے بھائی کی اولاد سمجھے ہیں لیکن میں اور میری جان سے پیاری روبی بھابھی جانتے ہیں کہ یہ بچے میرے نطفے سے ہیں ۔ سمجھنے اور جاننے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے میری کہانی پڑھ کر آپ سب کو پتا لگ گیا ہو گا ۔ اچھا جی ، اب مجھے اجازت دیں میری جان سے پیاری روبی بهابهی بیڈ پر میرے لوڑے کے انتظار میں اپنی دلکش پھدی لیے میری منتظر ہے . پھر کسی ایسی ہی دلچسپ کہانی کے ساتھ آپ کو محظوظ کروں گا ۔ اپنا اچھی طرح خیال رکھئے گا ۔ 

The post بھائی کی ساس appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b3/feed/ 0
ماں کا بدلہ قسط 1 https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/#respond Mon, 22 Sep 2025 07:22:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/   ماں کا بدلہ پارٹ 1 میرے تمام چاہنے والوں کو میرا سلام جن کی محبتیں میرا حوصلہ ہیں۔ ایک نئی کہانی کے ساتھ حاضر ہوئی ہوں امید ہے یہ اپروو ہو جائے گی اور کچھ فن تقسیم ہوگا۔ تو چلتے ہیں کہانی کی طرف اور یہ کہانی بھی جس پہ گزری ہے اسی کے […]

The post ماں کا بدلہ قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

ماں کا بدلہ

پارٹ 1

میرے تمام چاہنے والوں کو میرا سلام جن کی محبتیں میرا حوصلہ ہیں۔ ایک نئی کہانی کے ساتھ حاضر ہوئی ہوں امید ہے یہ اپروو ہو جائے گی اور کچھ فن تقسیم ہوگا۔ تو چلتے ہیں کہانی کی طرف اور یہ کہانی بھی جس پہ گزری ہے اسی کے انداز سے لکھی جائے گی ۔ میرا نام علی ہے اور یہ میری سچی آپ بیتی ہے جو آپ لوگوں تک پہنچے گی ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ابو ایک درمیانے درجے کے کاروباری اور امی ایک بہت اچھے پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی ہیں یہ تب کی بات ہے جب میں کلاس آٹھ میں تھا باقی ایک بھائی اور دو بہنیں مجھ سے چھوٹے ہیں میں سب سے بڑا ہوں۔ ہم سب امی کے سکول میں ہی پڑھتے تھے اور انہی کے ساتھ سکول آتے جاتے تھے ایک وین ہمیں سکول سے پک ڈراپ کرتی تھی جس میں اور بچے اور ٹیچرز بھی ہوتے تھے۔ کہانی تب سے شروع ہوتی ہے جب میں آٹھویں کلاس میں تھا میرا ایک ہی اچھا دوست تھا جس کا نام یاسر تھا۔ ایک دن سکول بریک میں جب میں کینٹین سے واپس کلاس کی طرف جا رہا تھا تو یاسر کے ساتھ ہی میرے کلاس کے دو لڑکے عمیر اور یوسف کھڑے تھے اور کسی بات پہ ہنس رہے تھے مجھے دیکھتے ہی ان کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ کچھ پریشان سے ہو گئے۔ میں جا کر ان سے ملا اور باتیں کرنے لگا لیکن وہ تینوں کچھ الجھے الجھے نظر آئے اور جلد ہی وہ دونوں کھسک گئے اور اب میں اور یاسر اکیلے رہ گئے ۔ پہلی بار میں نے نوٹ کیا کہ یاسر مجھ سے نگاہیں چرا رہا ہے جیسے وہ کچھ بات چھپانا چاہ رہا ہو۔ میں نے یاسر سے پوچھا کیا مسئلہ ہے تم اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہو؟ یاسر ایک دم بوکھلا سا گیا اور بولا کچھ بھی ایسا نہیں ہے ۔ 

لیکن میں شک میں پڑ چکا تھا اور میں نے یاسر سے پوچھا لیکن وہ بات کو ٹالنے لگا۔ میں بار بار اس سے بات کے لیے اسرار کرنے لگا لیکن اس کے بات بتانے سے پہلے ہی بریک ختم ہو گئی اور ہمیں کلاس میں جانا پڑا۔ یاسر کے اس رویے سے مجھے اس پہ بہت غصہ آیا اور میں اس سے ناراض ہو گیا کلاس میں بھی میں نے اس سے کوئی بات نہ کی اور چھٹی کے بعد گھر آ گیا ۔ اس سے ناراضگی کی وجہ سے میں کھیلنے کے لیے گراونڈ میں بھی نہ گیا اور جب شام میں وہ میرے گھر کھلینے کے لیے مجھے لینے آیا تو میں نے اسے منع کر دیا اور اسے واپس بھیج دیا یاسر نے بہت منت سماجت کی لیکن میں نے اس کی کوئی بات نا مانی اور ناراض ہی رہا تھک کہ وہ بھی واپس چلا گیا۔ اگلے دن سکول میں بھی میں نے اس سے کوئی بات نہ کی اور بریک تک وہ مجھے منانے کی کوشش کرتا رہا لیکن میں نے اس سے بات نہ کی۔ جونہی بریک ہوئی میں باہر جانے لگا تو اس نے ایک دم میرا بازو پکڑ لیا اور مجھے کہا دیکھو علی ناراض مت ہو میں وہ سب تمہیں بتا دیتا ہوں لیکن مجھ سے ایک وعدہ کرو پہلے۔ میں نے جب یہ دیکھا کہ وہ مجھے بات بتانے کے لیے راضی ہے تو میرا دل نرم ہوتا گیا ۔ میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے بولو کیا وعدہ کرنا ہے،؟؟ اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ میں نے یاسر کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ مجھے بے بس نظر آیا اور بولا دیکھ علی تم ضد کر رہے ہو اور ناراض ہو لیکن یہ بات جان کہ تم اور ناراض نہ ہونے کا وعدہ کرو تو بتا دوں گا لیکن یہ وعدہ کرو کہ یہ بات کسی کو نہیں بتاو گے اور مجھ سے ناراض بھی نہیں ہو گے۔ یہ وعدہ کرنے میں مجھے تو کوئی مشکل نہ تھی اس لیے میں نے اس کا ہاتھ تھامے اس سے وعدہ کر لیا ۔ سارے بچے کلاس سے نکل چکے تھے میں اور وہ کلاس میں کھڑے تھے۔ یاسر نے میرا ہاتھ چھوڑا اور کلاس روم سے باہر جھانک کہ اندر میری طرف مڑا اس کے چہرے پہ ہوائیں اڑ رہی تھی اور وہ بار بار اپنی زبان ہونٹوں پہ پھیر رہا تھا اور بولنے کی ہمت جمع کر رہا تھا اور میں اس کی طرف مشتاق نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی مجھے کرتب دکھانے والا ہو میرا بھی سسپنس عروج پہ تھا کہ جانے اب کیا بات مجھے پتہ چلے گی میں یاسر کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ بات کرنے کی ہمت جمع کر رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا بات ہے آخر بتاو تو سہی۔ یاسر نے بے بسی سے سر ہلایا اور ہاتھ ملتے ملتے بولا یار علی میں کیسے بتاوں تمہیں یہ بات؟؟ میں نے کہا جس طرح تم ان سے ہنس ہنس کہ بات کر رہے تھے اسی طرح بتا دو مجھے کیونکہ مجھے بھی بہت سسپنس ہو رہا تھا کہ جانے اب بات کیا ہے ۔ یاسر نے اسی طرح الجھے ہوئے لہجے میں کہا یار ناراض نہ ہونا لیکن وہ عمیر کہہ رہا تھا کہ اس کو ٹیچر شازیہ (امی) کے دودھ بہت اچھے لگتے ہیں اور جب وہ جھک کہ پڑھاتی ہیں یا کاپی چیک کرتی ہیں تو گلے سے اندر تک نظر آتے ہیں اور پھر ان کے موٹی بنڈ میں جب قمیض پھنستی ہے تو میری للی کھڑی ہو جاتی ہے یہ سب وہ کہہ رہا تھا یاسر نے یہ ساری بات جلدی جلدی ایک ہی سانس میں کی لیکن میرے کانوں میں جیسے سائیں سائیں ہونے لگا، یہ بات مجھے بہت ہی بری لگی اور میرا سارا وجود جھنجھنا اٹھا میں ایک جھٹکے سے آگے ہوا اور یاسر کا گلہ پکڑا اس سے پہلے کہ میں اسے مارتا اس نے میرے آگے ہاتھ جوڑے اور جلدی سے بولا دیکھ علی تو نے وعدہ کیا تھا کہ ناراض نہیں ہوگا اور کسی کو نہیں بتائے گا۔ دیکھ تو مجھے مارے گا تو بات باہر نکل جائے گی۔ اس کی بات سن کہ میں نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیل دیا لیکن مجھے بہت غصہ آیا ہوا تھا میرا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہو چکا تھا اور مجھے اپنے کان کی لووئیں جلتی محسوس ہو رہی تھیں ۔ میں نے خونخوار نظروں سے یاسر کی طرف دیکھا تو وہ پھر بولا یار وہ یہ بات کہہ رہا تھا میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں نے خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اب اتنی سمجھ مجھے بھی تھی کہ اس بات سے امی کی بدنامی ہو گی میں نے اس لیے اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ یاسر میرے سامنے کھڑا تھا اور میں کرسی پہ بیٹھ چکا تھا میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا اور کیا بکواس اس کمینے نے کی؟ یاسر میرے پاس آیا اور بولا دیکھ علی خود کو کنٹرول کر میں تمہیں سب بتا دوں گا اور اس نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کہ مجھے تھپکی دی اور کہنے لگا دیکھ میں جانتا ہوں یہ بہت بری بات ہے لیکن ہم اس پہ کوئی ایکشن اس طرح نہیں لے سکتے 

میں عمر کے اس دور سے گزر رہا تھا جہاں ابھی ابھی جنس کے فرق کا اندازہ ہونا شروع ہوا تھا مرد اور عورت کے جسمانی اعضا میں فرق ہے یہ علم تو بچپن سے ہی دیکھے گئے کئی مناظر نے بتا دیا تھا ۔ (یہاں ایک بات بتاتی چلوں کہ بہت سی عورتیں چھوٹے بچوں کو معصوم سمجھتے ہوئے ان کے سامنے لباس بدل لیتی ہیں یا ان کو نہلاتے ہوئے نہا لیتی ہیں یا ٹوائلٹ استعمال کر لیتی ہیں جس سے ان کے پوشیدہ حصے اس بچے کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں ایسا بالکل بھی نہیں کرنا چاہیے یہ انتہائی غلط حرکت ہے اور بچے کے زہہن پہ بہت برا اثر ڈالتی ہے اس سے بچنا چاہیے۔ ) تو مجھے یاسر کی بات انتہائی بری لگی کیونکہ اتنا تو میں جانتا تھا کہ امی کے یا ان کے جسم کے بارے میں ایسا بولنا گندی بات ہے جس پہ مجھے غصہ بھی آیا تھا لیکن بچپنا بھی تھا تو اس لیے سوچ وعدے کا پاس رکھنے کی بھی تھی اور یہ بھی کہ اگر لڑائی کی جائے تو بات نکلے گی اور جب امی کو پتہ چلے گا تو کتنا برا لگے گا تو میں غصے کے باوجود چپ ہو گیا۔ یاسر نے مجھے کہا کہ چلو آو باہر چلتے ہیں میرا موڈ تو نا تھا مگر میں یاسر کے ساتھ کینٹین کی طرف چل پڑا۔ میں خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس میں کامیاب بھی رہا۔ کلاس روم سے کینٹین کے راستے کئی بچے ملے لیکن میں خاموش یاسر کے ساتھ چلتا ہوا کینٹین کی طرف چل پڑا۔ ہم نئے نئے جوان ہو رہے تھے تو کینٹین کی رش میں کئی بار ہم نے کلاس کی یا دیگر لڑکیوں کے کولہوں پہ ہاتھ لگانے کی شرارت کی ہوئی تھی اور ہم اسے ایک ایڈونچر کے طور پہ کرتے تھے لیکن کبھی کسی نے اس پہ منع یا شکایت اس لیے نہیں لگائئ تھی کہ وہ چھونا بس ہلکے سے چھونے تک تھا اور کئی بار تو شائد متاثرہ لڑکی نے لمحاتی لمس کے سوا اس پہ سوچا بھی نہ ہو ۔ خیر ہم کینٹین پہ پہنچے تو ہم نے چیزیں لیں اور میرے حصے کے پیسے بھی میرے بہت منع کرنے کے باوجود یاسر نے دئیے۔ ہم چیزیں لیکر باہر گراونڈ کی طرف آئے لیکن اس سے پہلے ہم کوئی بات کرتے تو بریک ختم ہو گئی۔ امی ہماری کلاس میں دو پیریڈز لیا کرتی تھیں اور وہ بہت ہنس مکھ اور نرم دل ٹیچر تھیں کلاس کے سبھی بچے ان سے بہت خوش تھے مجھے حیرت تھی کہ کوئی بچہ ان کے بارے میں غلط بات کیسے کر سکتا ہے؟ میں عمر کے اس دور میں تھا جہاں سسپنس اور سیکھنے کی لگن زیادہ ہوتی ہے تو یہی لگن مجھے بہت کچھ سکھاتی گئی اور میرا سب کچھ بدلتا گیا جیسے ہی ہم کینٹین سے اٹھنھ لگے تو یاسر نے مجھے کہا کہ علی پلیز خود پہ قابو رکھنا اور ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے کوئی معاملہ بگڑ جائے ۔ میں نے نا سمجھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا مطلب ہے ؟ تو اس نے کہا دیکھو اب تمہاری امی بھی کلاس لیں گی اور کلاس کے دوران کوئی لڑکا انہیں دیکھ رہا ہوا تو اسے نارمل لینا پہلے کی طرح جیسے تمہیں علم ہی نہیں ہے پلیز خود پہ کنٹرول کرنا۔ یاسر کی بات مجھے سمجھ آ گئی اور ہم کلاس کی طرف بڑھ گئے۔ اگلی کلاس اور ٹیچر کی تھی اس کے بعد پھر جب امی کلاس میں آئیں تو ہم سب نے کھڑے ہو کہ ان کو ویلکم کیا اور پہلی بار میں نے ان کی طرف ایک ٹیچر کی طرح دیکھا۔ اس سے پہلے تو وہ صرف امی ہی تھیں ان میں عورت کبھی دیکھی ہی نہ تھی نا کبھی ایسی سوچ بنی تھی۔ باقی ٹیچرز کو ہم بھی تاڑتے تھے اور آپس میں ہلکی پھلکی گپ بھی ہو جاتی تھی اور کسی نظارے کو دیکھ کہ اپنی للی کو تنہائی میں سہلا بھی لیتے تھے لیکن انی کے بارے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ایک پیاری سی آنٹی نما ٹیچر کمرے میں داخل ہوئی ہیں جن کا دوپٹہ ان کے گلے میں ہے ان کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ اور کشش ہے اور آنکھوں میں چمک ہے جیسے آنکھیں مسکرا رہی ہوں ۔ گورے گورے پھولے ہوئے شہد سے رنگ کے گال اور سرخ ہونٹ جو کہ اوپر نیچے ایک جتنے موٹے اور شاندار شیپ کے، کالے بالوں کی ایک لٹ ان کے چہرے پہ آئی ہوئی تھی جس کو وہ اپنے خوبصورت مخروطی ہاتھوں سے کان کے پیچھے کر رہی تھیں لیکن وہ کمبخت بار بار چہرہ چومنے کو آگے بھاگ آتی تھی ۔ لمبی سفید گردن اور گردن کے نیچے دو بڑے بڑے گول غبارہ نما ممے جن کی اٹھان ان کو نمایاں کر رہی تھی اور ان کی بلندی بتا رہی تھی کہ یہاں پہنچنا آسان نہیں ہے اور ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ نیچے سڈول سا پیٹ اور گول گول گدرائی ہوئی رانیں۔ میں انہماک سے انہیں دیکھ رہا تھا کہ یاسر نے مجھے ہلکا سا ہلایا تو میں شرمندہ سا ہو کر اس کی طرف مڑا۔ یاسر نے سرگوشی کی کہ پلیز نارمل رہو اس طرح ری ایکٹ کرو گے تو انہیں بھی شک ہو جائے گا۔ یاسر کی بات سنتے ہی میں بھی سیدھا ہوا اور پڑھائی کی طرف متوجہ ہو گیا ۔ امی نے بھی ہمیں پڑھانا شروع کر دیا۔ میں اور یاسر اگلے بینچ پہ سائیڈ دیوار کے ساتھ بیٹھے تھے اور پڑھاتے پڑھاتے امی جب بورڈ کی طرف مڑیں تو پیچھے کا نظارہ دیکھ کہ ایک لمحے کے لیے میرا بھی منہ کھل گیا ۔ امی نے ایک پاوں پہ وزن ڈالا ہوا تھا جس سے ان کا وزن کی سائیڈ والا گانڈ کا بھاری بھر کم حصہ نیچے تھے اور دوسرا حصہ اوپر تھا لکھتے لکھتے جیسے ہی انہوں نے وزن دوسری ٹانگ پہ منتقل کیا تو کولہوں نے اسی طرح اوپر نیچے ہو کر اپنی جگہ تبدیل کی ۔ لیکن جگہ تبدیل ہوتے ہوئے وہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے کے بجائے اور دور ہوئے اور اپنی درمیان وسیع اور عریض وادی کے روبے کو بھی نمایاں کیا۔ یہ منظر دیکھ کہ میں نے فورا عمیر اور یوسف کی طرف دیکھا تو ان کی نظر بھی امی پہ تھی اور پھر میں نے غیر محسوس انداز میں دیکھا تو کلاس کا ہر لڑکا اسی نظارے میں ڈوبا ہوا تھا البتہ لڑکیاں شائد یہ نہیں دیکھ رہی تھیں ۔ مجھے یقین ہو گیا کہ امی اس وقت جو کچھ پڑھا رہی ہیں وہ کلاس کا کوئی بھی لڑکا نہیں سمجھ رہا اور اس کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں ہے ۔ 

(انسانی زہہن بھی ایک مشین کی طرح ہے اس کو جو بات بری لگے وہی سب سے زیادہ سوچتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ جو بات بری لگے اس کو نظر انداز کر دو لیکن بچپن میں سیکھنے کے مراحل میں یہ ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے میں بھی ان چیزوں پہ زیادہ سوچا کرتی تھی )۔ کہانی کی طرف بڑھتے ہیں تو میری نظر امی کے جسم کا احاطہ کر رہی تھی یا میں نگاہوں سے ان کا ایکسرے کر رہا تھا بلکہ کلاس کے شائد سبھی لڑکے توجہ سے ان کو دیکھ رہے تھے اور وہ ہم سب سے بے نیاز پڑھانے میں لگی ہوئی تھیں ۔ کیونکہ میں نے پہلی بار ان کو ایک عورت سمجھ کہ دیکھا تھا اس سے پہلے تو وہ صرف امی تھیں جو شائد پلاسٹک کی یا پتھر کی مورت کی طرح مقدس تھیں جن کے بارے غلط سوچنا تک حرام تھا لیکن بات جاننے کی ضد مجھے یہاں تک لے آئی تھی کہ میں ان کو ایک عورت سمجھ کہ دیکھ رہا تھا اور مجھے اصلی شرمندگی تب ہوئی کہ جب میری ننی منی للی جو اس وقت شائد ان کی انگلی سے کچھ ہی بڑی ہوئی ہو گی جھٹکا کھا کہ کھڑی ہو گئی اور اس کا اکڑاو اپنے انڈر وئیر میں محسوس ہوا تو میں نے ہل کہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں میری نظر یاسر پہ پڑی جو کہ نارمل لگنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ نارمل نہیں تھا۔ میں نے پھر عمیر اور یوسف کی طرف دیکھا تو وہ سب سے بے خبر بس امی پہ فوکس کیے ہوئے تھے۔ میں ساری کلاس کا جائزہ لیتا گیا ہر لڑکا تقریبا یہی کر رہا تھا سوائے دو لڑکوں کے جو کسی دیہات سے آئے ہوئے تھے اور ابھی ہمارے ساتھ اتنے فری نہیں تھے۔ امی نے کیا پڑھایا کچھ علم نہیں تھا پھر وہ کاپیاں چیک کرنے ہر ڈیسک کے پاس آتی گئیں اور ہوم ورک چیک کرنے لگیں وہ ہمارے ڈیسک کے پاس پہنچی اور جھک کہ کاپی چیک کرنے لگیں تو میری نظر ان کے گلے میں اندر گئی اور پھر وہیں کی ہو کہ رہ گئی۔ سفید رنگ کے گول مٹول بڑے بڑے تھن جن میں ایک پہ تل تھا نیلے ہی رنگ کی برا میں تقریبا آدھے ننگے نظر آ رہے تھے وہ کاپی چیک کرتے ہوئے ڈیسک پہ جھکی ہوئی تھیں کہ یوسف نے ان سے پانی پینے کا پوچھا اور ان کے پیچھے سے گزرتا ہوا باہر نکل گیا ۔ جیسے ہی اس نے پانی کا پوچھا تو میں نے بھی ان سے نظر ہٹا لی تھی۔ میری اور یاسر کی کاپی چیک کر کہ وہ پچھلی لائن میں چلی گئیں یاسر نے مجھے سرگوشی کی ایک بات بتاوں؟ میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے میرے کان کے قریب ہوتے ہوئے کہا یہ ٹیچر کو پیچھے سے چھو کہ گزرا ہے اور واپسی پہ بھی ایسا کرے گا ایک کلاس میں عمیر کرتا ہے دوسرے پیریڈ میں یوسف کرتا ہے ابھی دیکھنا۔ مجھے یاسر کی بات پہ زرا یقین نہ آیا کیونکہ میرا تو یہ ماننا تھا کہ ایسی کوئی حرکت ہوئی تو امی اسے تھپڑ ماریں گی لیکن مین چپ رہا اور دیکھنے لگا کہ کب وہ واپس آتا ہے ۔ ایک دو منٹ میں ہی وہ واپس آیا تو میں نے پیچھے مڑ کہ دیکھا کہ امی کھڑی تھیں جیسے ہی اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو امی اسے اجازت دیتے ہوئے جھک گئین اور کاپی چیک کرنے لگیں ان کے جھکنے سے ان کی موٹی گانڈ ابھر کر واضح ہو گئی اور یوسف جب ان کے پیچھے سے گزرا تو میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ہاتھ ایک سائیڈ پہ رکھا اور چلتے چلتے درمیان سے گزارتا ہوا پیچھے لے گیا ان کی موٹی گانڈ اس ٹکراو سے تھر تھرا اٹھی لیکن انہوں نے اس پہ کوئی ری ایکشن نہ دیا اور نہ ہی مڑ کہ یوسف کی طرف دیکھا۔ مجھے یہ بات بہت بری تو لگی لیکن اس سے بھی برا مجھے امی کا چپ رہنا لگا۔ میں نے یاسر کی طرف دیکھا تو وہ بھی اپنی للی ایڈجسٹ کر رئا تھا مجھے دیکھتے ہی بوکھلا کہ اس نے وہاں سے ہاتھ ہٹا لی امی نے کلاس لی اور اسکے بعد وہ کلاس سے نکل گئیں لیکن میری سوچ میرا دماغ بدل چکا تھا میری آنکھوں کے سامنے بار بار وہ امی کی گانڈ پہ ہاتھ لگنا اور اس کا تھرتھرانا اور ہلنا اور پھر امی کا کچھ نہ کہنا مجھے دکھائی دے رہا تھا مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پہ تھی کہ امی نے اس پہ کوئی ردعمل نہ دیا تھا اور وہ یوں چپ رہی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ میرے نزدیک اس حرکت پہ تھپڑ تو مارنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے یوں نظر انداز کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اسی سوچنے کے درمیان ہماری چھٹی کا وقت ہو گیا اور ہم سکول سے نکلے تو گیٹ پہ امی بھی چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی تھیں میں بھی جا کہ کھڑا ہی ہوا تھا کہ وین آ گئی اور سب بچے وین کی طرف لپکے عام طور پہ میں بھی دوڑا کرتا تھا لیکن تب میرا دل کیا کہ آج امی کو پیچھے سے دیکھوں گا۔ سب بچے وین کی طرف دوڑے تو دو تین بچے امی سے ٹکرتے ہوئے وین کی طرف لپکے ان کی دیکھا دیکھی میں بھی دوڑا اور یہ کوشش کی کہ امی کے پیچھے سے ٹکرتا ہوا گزروں لیکن کیونکہ اناڑی پن تھا تو میں نے جو ہاتھ ان کی سائیڈ پہ لگانا تھا میرے اناڑی پن کی وجہ سے ان کے بھاری چوتڑوں کے بالکل درمیان میں زور سے لگا کیونکہ میں بھاگ رہا تھا تو یوں لگا جیسے کسی نے گانڈ پہ تھپڑ دے مارا ہو۔ میرا ہاتھ ان پہ لگتے ہی تھپ کی آواز آئی اور اسکے ساتھ ان کے منہ سے اوئی نکلا اور وہ بھڑک کہ پیچھے مڑی تو وہاں سے میں دوڑ کہ گزر رہا تھا اور میرے اوسان خطا ہو چکے تھے۔ امی نے پہلے تو خونخوار نظروں سے دیکھا لیکن مجھے دیکھ کہ وہ آگے پلٹ گئیں اور چھوٹی کو اٹھا کر وین میں رکھنے لگیں۔ جیسے ہی وہ چھوٹی کو اٹھانے کے لیے جھکیں تو پیچھے ایک دلکش نظارہ تھا جو بڑی بڑی گانڈ کی وسیع پہاڑیوں کو الگ الگ کرتے ہوئے دعوت دے رہا تھا میں پھر ان کے پیچھے سے لگتا ہوا گزرا اور وین میں سوار ہونے کی کوشش کی۔ اب کی بار انہوں نے کہا علی زرا صبر کرو دو منٹ مجھے چھوٹوں کو پہلے بٹھانے دو۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ۔۔ میں نے فورا آگے بڑھتے ہوئے پاوں واپس کھینچ لیے اور پیچھے ہٹ گیا مجھے پیچھے ہٹتا دیکھ کہ وہ بولیں بیٹھ بھی جاو اب لیکن میں فورا پیچھے ہو کر نیچے اترا اور پھر سے دیدار کرنے لگ گیا۔ دل کے کسی کونے میں ہلکی سی یہ آواز ابھری بھی کہ یہ غلط بات ہے لیکن وسوسے نے یہ سمجھا دیا کہ باقی کلاس فیلوز ہاتھ بھی پھیر جاتے ہیں میں تو صرف دیکھ ہی رہا ہوں ۔ امی نے سب کو گاڑی میں سوار کیا اور پھر میری طرف مڑیں اور مجھے گاڑی میں آنے کا اشارہ کر کہ سیڑھی پہ قدم رکھا میں نے سہارا لینے کے بہانے ہاتھ اوپر کیا اور ان کے ایک موٹے چوتڑ پہ لگا دیا انہوں نے دوسرا قدم اٹھایا اور گاڑی میں داخل ہو گئیں میں نے بھی وہاں دو تین بار ہھر ان کو چھو لیا ۔ اس طرح ہم گاڑی میں بیٹھے رہے میں بار بار ان کی طرف دیکھ رہا تھا جب تین چار بار ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی میری طرف دیکھا جیسے ہی ہماری نگاہیں ملی ان کی نگاہ مجھے اندر تک اترتی محسوس ہوئی جیسے میرے دل سے ہر راز کی بات نکال رہی ہوں میں نے گھبرا کہ آنکھیں چرا لیں اور ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا ۔

انی کے دیکھنے سے میں بھی کنفیوز ہو گیا اور ان سے نظر چرا لی لیکن میرا دل کر رہا تھا میں پھر ان کی طرف دیکھوں میں بار بار نظر ان کی طرف کر کہ راستے سے واپس موڑ لیتا لیکن کب تک۔ آخر میں نے امی کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھیں میں نے جیسے ہی ادھر دیکھا تو انہوں نے دانتوں سے نیچے والا ہونٹ دبایا ہوا تھا اور ان کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی۔ ہماری نظرین چار ہوتے ہی انہوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ کیا بات ہے؟ میں نے نظرین چرا کہ پھر سر جھکا لیا گاڑی میں اور بچے بھی تھے سب اپنی اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے میں نے پھر اپنی طرف سے نظر بچا کہ امی کو دیکھا اور پھر دیکھتا رہ گیا انہوں نے ایک ہاتھ اوپر کر کہ وین کی چھت سے لگے ڈنڈے کو پکڑا ہوا تھا جس سے ان کے مموں کی ایک سائیڈ سے چادر ہٹ چکی تھی ان کا ایک موٹا تازہ مما دوپٹے سے بالکل باہر تھا اور ان کے گلے کے درمیان گئری لائن بالکل واضح نظر آ رہی تھی ان کی گردن سے نیچے سفید رنگ میں عجب سی کشش اور جازبیت تھی۔ چلتے چلتے جیسے گاڑی ہلتی تو اسی ردھم میں ان کے ممے میں بھی ہلکی سی تھرتھراہٹ ہوتی۔ ایک بچے کے لیے اس منظر سے الگ ہونا ناممکن ہو چکا تھا ۔ مجھے یوں لگا جیسے میں باقی دنیا سے کٹ چکا ہوں اور دنیا میں امی کے اس ممے کے سوا کچھ بھی حقیقت نہیں ہے میں شاید ایک منٹ ہی یہ نظارہ دیکھ سکا کہ امی نے مجھے دیکھے بغیر اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے ممے کو ڈھانپ لیا لیکن انہوں نے میری طرف نہ دیکھا ۔ مین بھی اپنی طرف سے خوش ہوا کہ ان کو میری اس گستاخی کا علم نہیں ہوا۔ ہم گھر کے قریب سٹاپ پہ پہنچے تو گاڑی سے اترنے لگے میرے آگے جونہی امی کھڑی ہوئین تو بیچاری قمیض ان کے بھاری بھرکم چوتڑوں کے انتہائی اندر تک گھسی ہوئی تھی جس کو انہوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور گاڑی سے نیچے اتر گئی۔ ہم گھر میں داخل ہوئے اور میں اپنے کپڑے تبدیل کرنے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا کپڑے تبدیل کرتے بھی میرے زہہن میں یہی سب چل رہا تھا کہ اچانک مجھے خیال آیا کیوں نا امی کو دیکھا جائے وہ بھی تو کپڑے بدل رہی ہوں گی میں نے جلدی سے کپڑے تبدیل کیے اور ان کے کمرے کی طرف بھاگا میں نے بہانہ سوچ رکھا تھا کہ ان کے کمرے کا دروازہ اگر بند ہوا تو کھول کر کہوں گا مجھے بھوک لگی ہے اور جو بھی نظارہ ہو گا دیکھ لوں گا میں بھاگتا ہوا ان کے کمرے تک پہنچا تو دیکھا دروازہ کھلا تھا میں بے دھڑک اندر داخل ہوا تو امی دوپٹہ بیڈ سے اٹھا رہی تھیں اور وہ کپڑے تبدیل کر چکی تھیں مجھے دیکھ کہ ان کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گئی مگر انہوں نے مجھے کچھ نہ کہا اور میری طرف بڑھتی آئیں میں دروازے پہ کھڑا اپنے پلان کے ناکام ہونے کا ماتم کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں۔ وہ میرے پاس پہنچی میرے گال سہلائے اور کہا چلو آو کچن میں چلتے ہیں کھانا کھا لو دوسرے سب تو لاونج میں بیٹھے ہیں ۔ میں نے سر ہلا دیا اور امی میرے آگے بڑھ گئیں میں ان کے پیچھے چلنے لگا اور پیچھے چلتے چلتے میں نے جب ان کی طرف دیکھا تو میری سانس جیسے گلے میں اٹک گئی 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The post ماں کا بدلہ قسط 1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-1/feed/ 0