انسیسٹ سیکس Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/انسیسٹ-سیکس/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Sun, 26 Apr 2026 03:39:14 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png انسیسٹ سیکس Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/انسیسٹ-سیکس/ 32 32 راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/feed/ 0
انمول رشتہ قسط 01 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/ https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/#respond Tue, 04 Nov 2025 18:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/   میں جنوبی ہندوستان میں ستر کی دہائی میں پیدا ہوا. میرے والد مل میں کام کرنے والے ایک براہ راست سادھے آدمی تھے. ان میں بس ایک خرابی تھی، وہ بہت شراب پیتے تھے. اکثر رات کو بیہوشی کی حالت میں ان کو اٹھا کر بستر پر لٹانا پڑتا تھا. پر ماں کے تئیں […]

The post انمول رشتہ قسط 01 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں جنوبی ہندوستان میں ستر کی دہائی میں پیدا ہوا. میرے والد مل میں کام کرنے والے ایک براہ راست سادھے آدمی تھے. ان میں بس ایک خرابی تھی، وہ بہت شراب پیتے تھے. اکثر رات کو بیہوشی کی حالت میں ان کو اٹھا کر بستر پر لٹانا پڑتا تھا. پر ماں کے تئیں ان کا رویہ بہت اچھا تھا اور ماں بھی انہیں بہت چاہتی تھی اور ان کا احترام کرتی تھی.میں نے بہت پہلے ماں پر ہمیشہ چھائی اداسی محسوس کر لی تھی پر بچپن میں اس کی اداسی کی وجہ سے میں نہیں جان پایا تھا. میں ماں کی ہمیشہ مدد کرتا تھا. سچ بات تو یہ ہے کہ ماں مجھے بہت اچھی لگتی تھی اور اس لئے میں ہمیشہ اس کے پاس رہنے کی کوشش کرتا تھا. ماں کو میرا بہت بنیاد تھا اور اس کا دل بہلانے کے لیے میں اس سے ہمیشہ طرح طرح کی گپپے لڑایا کرتا تھا. اسے بھی یہ اچھا لگتا تھا کیونکہ اس کی اداسی اور بوریت اس سے کافی کم ہو جاتی تھی.میرے والد صبح جلدی گھر سے نکل جاتے تھے اور دیر رات لوٹتے. فر پینا شروع کرتے اور ڈھیر ہو جاتے. ان کی شادی اب صرف برائے نام کو رہ گئی تھی، ایسا لگتا تھا. بس کام اور شراب میں ہی ان کی زندگی گزر رہی تھی اور ماں کی باقی ضروریات کو وہ نظرانداز کرنے لگے تھے. دونوں ابھی بھی باتیں کرتے ہیں، ہنستی پر ان کی زندگی میں اب محبت کے لیے جیسے کوئی مقام نہیں تھا.

میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام کرتا تھا. اس سے کچھ اور آمدنی ہو جاتی تھی. پر یار دوستوں میں اٹھنے بیٹھنے کا مجھے وقت ہی نہیں ملتا تھا، محبت وار تو دور رہا. جب سب سو جاتے تھے تو میں اور ماں کچن میں ٹیبل کے پاس بیٹھ کر گپپے لڑاتے. ماں کو یہ بہت اچھا لگتا تھا. اسے اب بس میرا ہی سہارا تھا اور اکثر وہ مجھے پیار سے باںہوں میں بھر لیتی اور کہتی کہ میں اس کی زندگی کا چراغ ہوں.بچپن سے میں کافی سمجھدار تھا اور دوسروں سے پہلے ہی جوان ہو گیا تھا. سولہ سال کا ہونے پر میں دھیرے دھیرے ماں کو دوسری نظروں سے دیکھنے لگا. بالغ میں داخل کے ساتھ ہی میں یہ جان گیا تھا کہ ماں بہت کشش اور منشیات ناری تھی. اس کے طویل گھنے بال اس کی کمر تک آتے تھے. اور تین بچے ہونے کے باوجود اس کا جسم بڑا کسا ہوا اور جوان عورتوں سا تھا. اپنی بڑی کالی آنکھوں سے جب وہ مجھے دیکھتی تو میرا دل دھڑکنے لگتا تھا.ہم ہر موضوع پر بات کرتے. یہاں تک کہ انفرادی باتیں بھی ایک دوسرے کو بتاتے. میں اسے اپنی عزیز ابینےتریوں کے بارے میں بتاتا. وہ شادی کے پہلے کے آپ کی زندگی کے بارے میں بات کرتی. وہ کبھی میرے والد کے خلاف نہیں بولتا کیونکہ شادی سے اسے کافی مدھر چیزیں بھی ملی تھیں جیسے کہ اس کے بچے.ماں کے تئیں بڑھتے توجہ کی وجہ سے میں اب اسی انتظار میں رہتا کہ کس طرح اسے خوش کروں تاکہ وہ مجھے باںہوں میں بھر کر لاڑ دلار کرے اور پیار سے چومے. جب وہ ایسا کرتی تو اس کے اعلی درجے سینوں کا دباؤ میری چھاتی پر محسوس کرتے ہوئے مجھے ایک عجیب گدگدی ہونے لگتی تھی. میں اس نے پہنی ہوئی ساڑی کی اور اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا جس سے وہ کئی بار شرما کر لال ہو جاتی. کام سے واپس آتے وقت میں نے اس کے لیے اکثر چاکلیٹ اور فولو کی وےي لے آتا. ہر اتوار کو میں نے اسے سنیما اور فر ہوٹل لے جاتا.

سنیما دیکھتے ہوئے اکثر میں بڑے معصوم انداز میں اس سے چپک کر بیٹھ جاتا اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیتا. جب اس نے کبھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا تو ہمت کر کے میں اکثر اپناہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر اسے پاس کھیںچ لیتا اور وہ بھی میرے کندھے پر اپنا سر رکھ کر پکچر دیکھتی. اب وہ ہمیشہ اتوار کی راہ دیکھتی. خود ہی اپنی پسند کی پکچر بھی منتخب کر لیتی.پکچر کے بعد اکثر ہم ایک باغ میں گپپے مارتے ہوئے بیٹھ جاتے. ایک دوسرے سے مذاق کرتے اور كھلكھلاتے. ایک دن ماں بولی. “خوبصورت اب تو بڑا ہو گیا ہے، جلد ہی شادی کے قابل ہو جائے گا. تیرے لئے اب ایک لڑکی تلاش کرنا شروع کرتی ہوں.”

میں نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے فوری طور جواب دیا. “اماں، مجھے شادی وادی نہیں کرنی، میں تو بس آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں.” میری بات سن کر وہ حیرت حیران ہو گئی اور اپنا ہاتھ کھینچ کر سهسا چپ ہو گئی.

“کیا ہوا اماں؟ میں نے کچھ غلط کہا؟” میں نے گھبرا کر پوچھا.

وہ چپ رہی اور کچھ دیر بعد روكھے سورو میں بولی. “چلو، گھر چلتے ہیں، بہت دیر ہو گئی ہے.”

میں نے من ہی من اپنے آپ کو ایسا کہنے کے لیے كوسا پر اب جب بات نکل ہی چکی تھی تو ہمت کرکے آگے کی بات بھی میں نے کہہ ڈالی. “اماں تمہیں برا لگا تو معاف کرو. پر سچ تو یہی ہے کہ میں تمہیں بہت پیار کرتا ہوں. تمہاری خوشی کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں.”

کافی دیر ماں چپ رہی اور پھر اداسی کے لہجے میں بولی. “غلطی میری ہے بیٹے. یہ سب پہلے ہی مجھے بند کر دینا تھا. لگتا ہے کہ اکیلیپن کے احساس سے بچنے کیلئے میں نے تجھے زیادہ چھوٹ دے دی اس لئے تیرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں.”

میں بولا. “غلط ہو یا صحیح، میں تو یہی جانتا ہوں کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو.”

وہ تھوڑا ناراض ہو کر بولی. “پاگلپن کی باتیں مت کرو. سچ تو یہ ہے کہ تو میرا بیٹا ہے، میری کوکھ سے جنما ہے.”

میں نے ادیر ہوکر کہا. “اماں، جو ہوا سو ہوا، پر مجھ ناراض مت ہو. میں اپنا پیار نہیں دبا سکتا. تم بھی ٹھنڈے دماغ سے سوچو اور پھر بولو.”

ماں بہت دیر چپ رہی اور پھر رونے لگی. میرا بھی دل بھر آیا اور میں نے اسے تسلی دینے کو کھینچ کر اپنی باںہوں میں بھر لیا. وہ چھوٹ کر بولی. “چلو، رات بہت ہو گئی ہے، اب گھر چلتے ہیں.”

اس کے بعد ہمارا گھومنے جانا بند ہو گیا. میرے بہت اصرار کرنے پر بھی وہ میرے ساتھ نہیں آتی تھی اور کہتی تھی کہ میں کسی اپنی عمر کی لڑکی کے ساتھ پکچر دیکھنے جاؤں. مجھ وہ اب بھی دور رہتی تھی اور بولتی کم تھی. پر جیسے میرے دل میں ہلچل تھی ویسی ہی اس کی بھی دل میں ہوتی مجھے صاف نظر آتی تھی.

ایک دو ماہ ایسے ہی گزر گئے. اس درمیان میرا ایک چھوٹا بذنےس تھا، وہ کافی کامیاب ہوا اور میں پیسہ کمانے لگا. ایک کار بھی خرید لی. ماں مجھ سے دور ہی رہتی تھی. میرے والد نے بھی ایک بار اس سے پوچھا کہ اب وہ کیوں میرے ساتھ باہر نہیں جاتی تو وہ ٹال گئی. ایک بار اس نے ان سے کہا کہ وہ کیوں نہیں اسے گھمانے لے جاتے تو کام زیادہ ہونے کا بہانہ کر کے وہ مکر گئے. شراب پینا ان کا ویسے ہی چالو تھا. اس دن ان میں خوب جھگڑا ہوا اور آخر ماں روتے ہوئے اپنے کمرے میں گئی اور دھاڑ سے دروازہ لگا لیا.دوسرے دن بدھ کو جب میرے بھائی بہن باہر گئے تھے، میں نے ایک بار پھر ہمت کرکے اسے اتوار کو پکچر چلنے کو کہا تو وہ خاموشی مان گئی. میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں اس سے لپٹ گیا. اس نے بھی میرے سینے پر سر ٹکاکر آنکھیں بند کر لیں. میں نے اسے کس کر باںہوں میں بھر لیا.یہ بڑا مدھر لمحہ تھا. ہمارا تعلق گہرا ہونے کا اور مکمل بدل جانے کا یہ نشان تھا. میں نے پیار سے اس کی پیٹھ اور کندھے پر ہاتھ فےرے اور آہستہ سے اس کے کولہوں کو سہلایا. وہ کچھ نہ بولی اور مجھ اور کس کر لپٹ گی. میں نے اس کی ٹھڈڈي پکڑ کر اس کا سر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا. “اماں، میں تجھے بہت پیار کرتا ہوں، جو بھی ہو، میں تجھے اکیلا نہیں رہنے دوں گا.”

فر جھک کر میں نے اس کے گال اور آنکھیں چومي اور جرات کر کے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے. ماں بالکل نہیں مشغول ہوئی بلکہ میرے بوسہ کا میٹھا پرتساد اس نے مجھے دیا. میری ماں کا وہ پہلا بوسہ میرے لیے امرت سے زیادہ میٹھا تھا.

The post انمول رشتہ قسط 01 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/feed/ 0
شریف بہن اور بھائی قسط 4 https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/ https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/#respond Sat, 25 Oct 2025 18:26:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/   میں دبے پاؤں چلتا ہوا اپنے کمرے کے دروازے تک آیا اور ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔ میں نے سوچا بالکونی بھی ہے میں وہاں سے جاتا ہو اور سٹڈی روم میں آیا اور اس کی ونڈو سے باہر کی طرف بالکونی پر آ گیا […]

The post شریف بہن اور بھائی قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں دبے پاؤں چلتا ہوا اپنے کمرے کے دروازے تک آیا اور ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔ میں نے سوچا بالکونی بھی ہے میں وہاں سے جاتا ہو اور سٹڈی روم میں آیا اور اس کی ونڈو سے باہر کی طرف بالکونی پر آ گیا اور دبے پاؤں ہی جاتا ہوا اپنے روم کی وندو تک جانا کیا اور تیسری وندو کو ہلکا سا دبایا تو لاک کھلا ہوا ہی تھا ہم دونوں بھائی کبھی بھی اس ونڈو کو لاک نہیں کرتے تھے کہ کبھی تو ضرورت پڑ سکتی ہے اور آج ضرورت پڑھ ہی گئی۔۔۔ 

جیسے ہی میں نے اندر دیکھا میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا … آپی روبی اندر کمرے میں موجود تھی اور سامنے چئیر پر بیٹھی تھی جبکہ کمپیوٹر پر رات والی ہی مووی چل رہی تھی آپی نے اپنی قمیض پیٹ تک اٹھائی ہوئی تھی اور ہجاب اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ آپی نے کرسی پر نیم دراز ہو کر اپنی ٹانگیں سائیڈوں پر اٹھا رکھی تھیں اور دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے ساتھ اپنی پھدی کا دانہ زور زور سے مسل رہی تھیں میں نے آپی کو پہلی بار ننگا دیکھا تھا میر لن ایک دم اتنی شدت سے کھڑا ہوا کہ مجبوراً مجھے زپ کھول کر اسے باہر نکالنا پڑا۔۔۔۔

 لیکن میں نے اسے باہر نکال کر ایسے ہی چھوڑ دیا کیو نکہ مجھے پتہ تھا کہ آپی کو اس حالت میں دیکھ کر جتنا میں گرم ہو چکا تھا اگر ایک دفعہ بھی لن کو ٹچ کیا تو وہ منی چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔ آپی کا جسم بہت کمال کا تھا ان کے مے تقریباً چھتیس سائز کے ممے ہوں گے۔۔۔۔ آپی کا بایاں ہاتھ قمیض کے اوپر سے ہی ان کے بائیں مے پر تھا جس کو وہ بڑی بری طرح سے مسل رہی تھیں ان کی ممے تقریباً چھتیس انچ رہے ہونگے اور گانڈ تو یقیناً چالیس کی ہوگی۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے اپنے ممے کو مسل رہی تھیں۔ اور دوسرے ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے سے پھدی کے دانے کو۔۔۔۔   

اب ان کے جسم کو جھٹکے لگنے گئے اور انہوں نے اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ لیے اور ٹیبل کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ لیا اور ان کا جسم کا فوارہ بہنے لگا اور اچانک ان کے جسم نے دو تین زور سے جھٹکے لیئے اور وہ نڈھال سی ہو گئیں میری آپی اپنی منزل تک آ پا چکی تھیں اور اس وقت زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ میرے لن نے بنا چدائی کیے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔۔ پھر میں وہاں سے آہستہ سے کھسک لیا اور جس راستے یہاں تک آیا تھا اسی راستے واپس چلتا ہوا نیچے پہنچ گیا۔۔۔ 

مجھے اندازہ تھا کہ اب آپی سیدھا نیچے ہی آئے گی۔۔ میں گھر کے مین گیٹ کے ساتھ کھڑا ہو گیا کہ آپی سیڑھیاں اترتی نظر آئے تو میں اس کے سامنے گھر میں داخل ہوں ۔۔۔ چند منٹ میں ہی آپی نیچے آتی ہوئی دکھائی دی تو میں جان بوجھ کر ایسے اندر داخل ہوا کہ وہ مجھے صاف دیکھ سکے اور اندر جا کر اس کو بتایا کہ ابھی امی نجمہ خالہ کی طرف گئیں ہیں اور سیدھا اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔

 

کپڑے بدل کر میں باہر نکلا اور سنوکر کلب چلا گیا وقت گزاری کیلئے ۔۔۔۔ سارا دن گھر سے باہر گزارنے کے بعد جب میں گھر میں داخل ہوا تو آٹھ بچھ رہے تھے۔ گھر میں گستے ہی ابو کی آواز نے میرا استقبال کیا۔۔۔ آئیں جناب سارا دن کہاں گزار دیے تمہارے موبائل پر کال بھی کی لیکن نمبر بند جا رہا تھا تو میں نے آئیں بائیں شائیں کر کے ابو کو ٹال دیا اور رات کا کھانا ان کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھایا۔۔ امی کہنے لگیں کہ کھانا کھا لیا ہے تو جلدی سو جانا صبح 5 ہے گاؤں جانا ہے خالہ نجمہ کے ساتھ اور ناظم پہلے ہی خالو کے ساتھ وہاں جا چکا ہے۔۔ 

میں نے سوالیہ نظروں سے ابو کی طرف دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ وہاں ہماری جو زمینیں ہیں ان کا کوئی مسئلہ ہے تم چلے جاؤ دو چار دن تک خالو کے ساتھ مل کر کام پورا کر کے واپس آ جانا اور میں ! اچھا ابو کہ کر اٹھ گیا۔ امی نے کہا تمہارا بیگ روبی تیار کر رہی ہے اپنا جو بھی ضروری سامان ساتھ لے جانا ہے اس کو دے دو وہ ساتھ ہی پیک کر دے گی ۔۔۔ اور روبی آپی کا سن کر ہی میرے لن نے مجھے سلیوٹ کیا۔۔۔ 

میں اوپر اپنے کمرے میں گیا تو روبی وہاں ہی تھی آپی نے ایک آسمانی رنگ کی گھیرے دار چادر کے ساتھ خود کو چھپا رکھا تھا جیسے ہی ہماری نظریں ملیں تو ہم دونوں نے نظریں جھکا لیں آخر کار ان کے دل میں بھی چور تھا۔ میں نے اپنی الماری سے ضروری سامان نکال کر آپی کے سامنے رکھ دیا جو کہ چپ چاپ آپی نے بیگ میں پیک کرنا شروع کر دیا۔۔۔ میں گاؤں چلا گیا اور وہاں کام ختم کر کے پانچ دن بعد واپس لوٹا تھا۔۔۔ راستے میں نجمہ خالہ کو ان کے گھر اتار کر میں ابھی اپنے گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے ڈائٹنگ ٹیل پر امی بیٹی مل گئیں۔۔۔ 

سلام دعا کے بعد امی نے پہلا سوال ناظم کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو میں نے بتایا وہ بھی کل خالو کے ساتھ آ جائے گا۔۔ میرا جواب ختم ہوتے ہی امی نے دوسرا سوال داغ دیا۔۔۔۔ گاؤں جس کام سے گئے تھے وہ ہو گیا۔۔۔۔ تو میں نے جان چھڑانے والے انداز میں بولا سب خیر خیریت سے نپٹ گیا تمام تفصیل نجمہ خالہ کو معلوم ہے اور اوپر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر ابھی رکا تو امی نے سوالوں کا تانتا باندھ دیتا ہے اور فر آخر و آب کے بارے میں پوچھنا ہے، اس لیے میں نے ساری بات نجمہ خالہ پر ڈال دی، 

ابھی میں نے سیڑھیاں چڑھنے کیلئے پہلا قدم اٹھایا ہی تھا کہ امی نے حکم صادر کیا ۔ جاؤ میرا برقع لے کر آؤ ذرا میں ابھی نجمہ کی طرف جاؤں گی۔۔۔ میں نے برقع امی کو پکڑاتے ہوئے ابو کے بارے میں پوچھا تو امی جلدی سے بولیں ۔۔۔ یہ مویا دفتر جان چھوڑے جب نا، آج اتوار ہے چھٹی کا دن ہے تو دختر کے کچھ دوستوں نے پارٹی رکھی ہے جس میں نیلی تھی اور کوئی میجک شو کا انتظام بھی ہے اور وہ کمینی ناز میجک شو کا سن کر مچل گئی اور ساتھ چلی گئی۔ اس سلسلے میں گئے ہیں تھوڑا لیٹ ہی آئیں گے ۔۔۔ 

اور روبی کی تو موئی پڑھائی ہی وبال جان بن چکی ہے اوپر بیٹھی کوئی مضمون لکھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ نقاب اور عورت ۔۔۔۔ اب تو اس نے گھر میں بھی عبایا پیننا شروع کر دیا ہے، صبح آٹھتے ہی اوپر چلی جاتی ہے اور سارا دن وہیں رہتی ہے، اب میں تو گھٹنوں کے درد کی وجہ سے اوپر چڑھ نہیں سکتی تو کھانے کے وقت 1 بچے سے آوازیں دے کہتھک جاتی ہوں لیکن مجال ہے کبھی سن لے، خود ہی اپنی مرضی سے آتی ہے۔۔ ابھی بھی دو منٹ پہلے ہی اوپر گئی ہے۔۔۔ اتنی دیر میں بات کرتے ہوئے امی برقع پہن کر خطاب کر چکی تھیں اور مجھے دروازہ بند کرنے کا اشارہ کر کے باہر نکل گئیں ۔۔۔۔ 

 

امی کی باتوں نے میرے دماغ میں لال بتی جلا دی تھی۔۔۔ میں دبے پاؤ اوپر کی طرف چل پڑا ابھی آخری سیڑھی چڑھنے ہی والا تھا کہ روبی آپی کو سٹڈی روم سے نکتے دیکھا اور وہیں ایک سائیڈ پر رک گیا۔۔۔ جو پہلی چیز میں نے نوٹ کی وہ روبی آپی کا کالے رنگ کا سکسی عبایا تھا جس کی لمبائی اتنی تھی کہ آپی کے پاؤں بھی اس میں چھپے ہوئے تھے۔ آپی کا رخ میرے کمرے کی طرف تھا اور انہوں نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا، چند منٹ بعد میں آگے بڑھا اور سٹڈی روم میں داخل ہو کر اسی پیچھے کے ذریعے اپنے کمرے کی کھڑکی تک پہنچ گیا، 

کمره خالی تھا لیکن اسی وقت روبی آپی واشروم سے باہر آئی اور سیدھا کمپیوٹر کی طرف بڑھی، ان کے چہرے پر بے چینی تھی، مجھے یہاں سے کمپیوٹر صاف نظر آرہا تھا۔ انہوں نے کمپیوٹر آن کیا اور سیدھا ہمارے پورن موویز والے فولڈر پر گئیں اور فائل نمبر 111 کو کلک کیا۔۔۔ اس فولڈر میں ٹوٹل 113 موویز تھیں مطلب آپی نے پچھلے پانچ دنوں میں 110 موویز دیکھ ڈالی تھیں۔۔۔۔ ادھر مودی شروع ہو چکی تھی اور ایک کپل کسنگ میں مصروف تھا، آپی نے نظریں کمپیوٹر پر جما دیں۔۔۔۔۔ جیسے جیسے مووی آگے بڑھتی جا رہی تھی آپی کی سانسیں تیز ہوتی جا رہیں تھی۔۔۔ میں نے اپنے لن کو پینٹ کی قید سے آزاد کروا دیا اور بالکل ہلکے ہاتھ سے اسے سہلانے لگا۔۔۔۔ 

آپی بھی عبایا کے اوپر سے بھی اپنے بائیں مے کو بائیں ہاتھ سے دبوچ چکی تھی اور اور کبھی اس کے نپل کو پکڑ کر مروڑتی اور کبھی زور سے پورا مما دبا دیتی تھی۔۔۔ یہاں میری حالت بھی خراب ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ اور اُدھر آپی نے اب دونوں مموں کو دونوں ہاتھوں میں بہت زور سے دبوچنا اور مسلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔ اذیت اور مکمل تسکین نہ ملنے کا عکس ان کے چہرے پر چھایا ہوا تھا۔۔۔ ان کی حالت عجیب سی ہوتی جارہی تھی اور حرکات میں جیسے جنونیت پیدا ہو رہی تھی۔ 

اچانک آپی نے اپنے دونوں بازو سر سے اوپر کیے ایک مست انگڑائی لی اور سر سے اپنا اسکارف نوچ کر وہیں سائیڈ پر موجود بیڈ پر اچھال دیا ان کے بال کالی گھٹاؤں کی طرح کھل کر ان کی گانڈ تک پھیلتے چلے گئے۔۔۔ اب مووی میں ایک لڑکا سیدھا لیٹا ہوا تھا اور اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے لن کو پکڑ کر سہلا رہا تھا اور دائیں ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کر کے کسی کو اپنی طرف بلا رہا تھا کی اچانک اسکرین پر ایک لڑکی ظاہر ہوئی جو کہ فل ننگی تھی وہ مسلسل کیٹ واک کے انداز میں اپنی بڑی اور سیکسی گانڈ کو مکاتے ہوئے سیدھا لڑکے کے سر کی طرف آئی اور اپنی ایک ٹانگ اس کے اوپر سے گزار کر سیدھی اس کے منہ پر بیٹھ گئی اور لزمڑکا اس کی پھدی چاٹنے لگا۔۔۔

آپی نے اپنا ایک ہاتھ لیجا کر اپنی پھدی کو دبوچ لیا اور زور زور سے مسلنے لگی۔۔۔ ایک ہاتھ میں مما ایک ہاتھ میں پھدی ۔۔۔۔ واہ کیا سین تھا میرے لن نے ایک دم جیسے انگڑائی سی لی اور بلکل اکڑ گیا۔۔۔ اب مووی میں لڑکا لڑکی کی چوت میں لن اندر باہر کر رہا تھا کیمرہ جو پچھلی سائیڈ سے تھا تو پورا لن اندر باہر جاتا نظر آرہا تھا اتنے میں ایک اور لڑکے کی کھڑے اور تیل میں چمکتے لن کے ساتھ انٹری ہوئی اور اس نے آتے ہی پہلے موجود لڑکے کی گانڈ کا نشانہ لیا اور ایک لحمے میں آدھا لن اندر اتار دیا۔۔۔

 اس سین کو دیکھتے ہی آپی کے منہ سے لذت آمیز آواز نکلی اور انہوں نے اپنا پھدی والا ہاتھ اوپر اٹھایا اور دو تین دفعہ اپنی پھدی پر یوں مارا جیسے تھپڑ مار رہی ہوں۔۔۔۔ اور پھر زور زور سے پھدی کو مسلنا شروع کر دیا، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس سین نے آپی پر جادو سا کر دیا ہو، ان کا ہر عمل اس سین کی پسندیدگی کی گواہی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔ اب آپی نے اپنی پھدی پر سے ہاتھ اٹھایا کھڑی ہوئی ایک انگڑائی لی اور جھک کر پاؤں کے بلکل پاس سے اپنا عبایا اٹھانے لگ گئی اور اپنی گانڈ تک عبایا اٹھا دیا میری جیسے سانس رک گئی ہو۔۔۔ ۔ 

آپی نے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری وہ پاکیزہ آپی جس کی پاکیزگی کی خاندان بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں وہ یوں اس حالت میں ہوں گی۔۔۔ آپی نے اپنی ٹانگ اٹھا کر ایسے اینگل سے کمپیوٹر ٹیبل کے کارنر پر رکھی اور نیم دراز ہو گئی کہ ان کا نچلا بدن چھپ گیا بس آپی کے چلتے ہوئے ہاتھ سے اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ اس وقت اپنی پھدی پر ظلم کر رہی ہیں ۔۔۔۔

 اب مجھ سے رہا نہیں گیا میں نے تھوک کا گول بنا کر اپنے لن پر پھینکا اور زور زور سے مٹھ مارنے لگا صرف ایک منٹ بعد ہی میرے لن نے سفید گاڑھا مادہ نکال دیا۔۔۔۔ مزے کی وجہ سے میرے منہ سے ایک آہ بھر آمد ہوئی۔۔۔۔ میری آہ آپی کے کانوں تک بھی پہنچ چکی تھی۔۔۔ آپی ایک دم کرسی سے اچھلی اپنا گاؤن سیدھا کیا اور سیدھا تیزی کی طرح میری طرف آئی۔۔ اس وقت ان کو یہ خیال بھی نہیں رہا کہ سر پر اسکارف اور جسم چھپانے کیلئے بڑی سی چادر بھی نہیں ہے۔

 انہوں نے قریب آ کر کھڑکی پوری کھول کر دیکھا اور چلا کر بولیں ، بےغیرت انسان ، تم نے ثابت کر دیا کہ تم اعلی درجے کے بے غیرت ہو۔۔ پہلے اپنے بھائی کے ساتھ اور اب اپنی سگی بڑھی بہن کو۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے آپی تھوڑا اور آگے ہوئیں تو ان کی نظر میرے ہاتھ میں موجود کھڑے لن اور اس سے باہر نکل کر پھیلے ہوئے منی پر پڑی۔۔۔ تو غصے سے کانپ اٹھیں اور کہا ساگر ، ذلیل انسان کتنے بے حیا ہو اگر تمہیں ایسے کسی نے اس جگہ کھڑے دیکھ لیا تو جانتے ہو کیا ہو گا۔۔۔ آپی کی بات ختم ہوئی تو میں ایک دم جمپ مار کر اندر کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔۔ 

آپی کنفیوز ہو کر دو قدم پیچھے بھی چلی گئی اور بولیں ہی کیا بے ہودگی ہے یہ تم کرنا کیا چاہتے ہو ۔۔۔ میں نے بے پروائی سے مسکراتے ہوئے کہا جیسا کہ آپ نے کہا احتیاط کرو تو احتیاطاً اندر آگیا ہوں کوئی دیکھ نا لے۔ تبھی شاید آپی کی جهاندیدہ نظروں نے میری بے پروائی کو نوٹ کر لیا تھا، وہ انتہا آمیز لہجے میں لن کی طرف اشارہ کر کے بولیں، ساگر کم از کم اپنے جسم کو تو صاف اور کور کر لو ۔۔۔۔۔ 

چھوڑو آپی!

آپ مجھے ایک سے زیادہ بار اس حالت میں دیکھ چکی ہیں تو اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں اپنے لن کو آپ سے چھپاؤں یا کھلا رکھوں۔۔۔۔ وہ میرے منہ سے اس اتنے بے باک انداز میں لفظ لن، سن کر اچھل پڑیں۔۔۔ اور ایک بھر پور نظر میرے لن پر ڈال کر دوسری طرف منہ کر کے کہنے لگیں ساگر یہ میری التجاء ہے کچھ پہن لو پلیز مجھے میری نظروں سے مت گراؤ۔۔ 

میں نے کہا او کے آپی ایک شرط پر آپ کی بات مان لوں گا۔ اب میں لیٹا ہوا تھا اور میرے کھڑے لن کا رخ چھت کی طرف تھا۔۔۔۔

 شرط ۔۔۔۔ ؟انہوں نے حیرت زدہ انداز میں میری بات کو دہرایا اور مڑ کر میری آنکھوں میں دیکھنے لگیں تو میں نے بھی آنکھیں نیچے نہیں کہیں اور ان کو بغور دیکھتا رہا۔ شاید وہ کچھ اندازہ لگانا چاہ رہی تھیں میری آنکھوں میں دیکھ کر کچھ لمحے خاموشی کے گزر گئے پھر وہ بولیں اب بکو بھی کیا شرط ہے تمہاری۔۔۔ 

میں نے اپنے لن کو پکڑا اور آہستگی سے سہلاتے ہوئے بولا کہ مجھے آپ کے دونوں ممے ایک ساتھ کپڑوں کے بنا دیکھنے ہیں کیسے لگتے ہیں۔۔۔۔ شٹ اپ ساگر ، تم ہوش میں تو ہو کچھ بھی سوچے بنا جو منہ میں آئے بکتے جارہے ہو۔۔ آپی مزید کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن میں نے ان کی بات کاٹ دی اور لن کو ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہوا اور سہلاتے ہوئے ان کے چاروں طرف چکر کاٹتے ہوئے کہا میری جانو آپی میں پہلے بھی آپ کو ایک دن اس طرح کرتے دیکھ چکا ہوں اور آج بھی اور ویسے بھی اس چیز کا مجھے اندازہ ہے کہ پچھلے پانچ دنوں سے آپ میرے روم میں کیا دیکھ اور کر رہی ہیں

 تو میری سوہنی آپی جان جب آپ اپنے نپل مسل رہی تھیں، اپنا عبایا اٹھا رہی تھیں، اپنی پھدی کو تھپڑوں سے نواز رہی تھیں تب بھی میں یہیں تھا اور اب آپ زیادہ ہیچر میچر

چھوڑیں اور میری بات مان جائیں کیونکہ میں سب جانتا ہوں کہ آپ کو بھی یہ کام بہت مزہ دیتا ہے۔۔ نہیں نہیں ساگر اس طرح موویز دیکھ لینا اور اپنے ہاتھ سے تسکین لینا اور بات ہے 

لیکن اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ سیکس کرنا نہیں یہ کبھی نہیں ہو سکتا اب تمہیں خدا کا واسطہ ہے کچھ پہن لو اور شدید ذلت اور بے بسی کے احساس سے وہ وہاں بیٹھ کر رونے لگیں۔۔

ان کو روتا دیکھ کر میرا دل پیج گیا جو بھی تھا وہ ہے تو میری سگی بہن نا اور میں اس سے بہت پیار بھی کرتا ہوں تو میں فٹافٹ اٹھا اور اپنی پینٹ پہن کر ان کے پاس آ بیٹھا ان کا اسکارف پکڑا اور ان کے سر پر رکھا اور ان کے پاؤں پکڑ کر بھری ہوئی آواز میں بولا آپی میری آپی مجھے معاف کر دو اور پلیز چپ کر جاؤ رونا بند کر دو آپ جانتی ہیں نا میں آپ کے آنسو کبھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ یہ میرا یعنی آپ کے بھائی کا وعدہ ہے آپ سے آئندہ ایسی کوئی بھی حرکت کم از کم میں نہیں کروں گا۔۔۔ 

اور میں بھی رونے لگا تو وہ تڑپ کر اٹھی اور میرے ماتھے کو چوم کر بولیں، خبر دار ، جو ایک قطرہ آنسو کا بھی نکلا تو ابھی جو کچھ بھی ہوا اس کو ایک برا خواب سمجھ کر بھول جاؤ چاہے اپنے بشری تقاضوں کو پورا کرو لیکن رشتوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔۔۔ اب اٹھو اور نہا کر نیچے آؤ میں بھی نہا کر کھانا لگاتی ہوں یہ کہہ کر آپی چلی گئیں اور میں واش روم میں گھس گیا۔ نہا دھو کر کپڑے پہن کر نیچے آیا تو آپی ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھیں ہم نے چپ چاپ کھانا کھایا اور میں گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔

 پھر رات تک میں سنوکر کلب میں رہا اور رات آٹھ بجے گھر میں داخل ہوا تو سامنے ٹیبل پر ناز، امی، ابو موجود تھے۔۔ ناز اور ابو سے ملنے کے بعد کھانا کھانے لگے تو ابو نے ناز سے پوچھا روبی کہاں ہے بھائی آیا ہے بھائی سے مل لے اسے بلاؤ تو ناز نے بتایا کہ ابو وہ کوئی کتاب پڑھ رہی ہیں اور ویسے بھی بھائی تو دن میں آیا تھا تو مل ہی لیئے ہونگے اور تائید طلب نظروں سے مجھے دیکھا اور میں نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

اور اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر لیٹ گیا اور صبح آپی کے ساتھ گزرے ٹائم کے بارے سوچنے لگا اور جانے کب نیند آگئی۔۔۔ صبح آنکھ کھلی فٹافٹ اٹھا کالج کیلئے تیار ہوا کمرے سے نکلتے وقت کمپیوٹر پر نظر پڑی تو غیر ارادی طور پر بنا کچھ سوچے سمجھے کمپیوٹر کی پاور کیبل نکالی اور اپنی الماری میں لاک کر دی۔۔۔۔ نیچے آیا تو میرا ناشتہ ٹیبل پر تیار تھا پر وہاں نا آپی موجود تھی نا امی، خیر مجھے ویسے بھی دیر ہو رہی تھی تھوڑا سا کھا کر اٹھا اور کالج چلا گیا دو پہر کا کھانا میں عموماً کالج کے دوستوں کے ساتھ باہر ہی کھا لیتا تھا۔۔

شام کے وقت میں دو تین گھنٹے گھر میں گزارتا اور پھر باہر سنوکر کلب میں چلا جاتا تھا جہاں آج کل ایک ٹورنامنٹ چل رہا تھا اور میرا شمار بھی چونکہ وہاں کے پلیئرز میں ہوتا تھا تو اس طرح وہاں ٹائم اچھا گزر جاتا رات کو لیٹ گھر جاتا اور امی ابو کے ساتھ کچھ دیر گپ شپ لگا کر اپنے کمرے میں جا کر سو جاتا اگلے دن پھر یہی روٹین دہرائی جاتی۔۔ آج ابو نے مجھے بتایا کہ ناظم کزنز کے ساتھ ایک مہینے کے ٹور پر شمالی علاقہ جات کی طرف جا رہا ہے ، میں نے ان کی بات سنی اور سونے چلا گیا۔۔۔ 

اسی طرح دن گزرتے گئے اب تو سیکس میں بلکل ہی بھول چکا تھا روٹین وہی تھی صبح ناشتہ ٹیبل پر رکھا ملتا تھا کبھی کبھی ناشتہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا تو میں ایک دو نوالوں کے ساتھ ایک کپ چائے کاپی کر اٹھ جاتا تھا، اس بات کو آپی نے بھی محسوس کر لیا۔۔ آپی کے ساتھ اس دن کے واقعے کا آج ساتواں دن تھا، میں ناشتے کی ٹیبل پر پہنچا تو ٹیبل خالی تھا لیکن کچن سے آتی ہوئی برتن کھڑکنے کی آواز کسی کی موجودگی کا پتہ دے رہی تھی، 

میں چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گیا چند لمحے بعد ہی روبی آپی کچن سے کھانے کا سامان لیکر باہر نکلی اور سارا سامان سجا کر چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ اس دن کے بعد آج میرا آپی سے سامنا ہوا تھا۔ اب روز یہی ہونے لگا میں آکر ناشتے کی میز پر بیٹھ جاتا اور آپی گرما گرم ناشتہ دے کر چلی جاتی۔ اس واقعے کو آج 11واں دن ہو چکا تھا۔ صبح جب آپی ناشتہ لیکر آئیں تو میرے ہاتھ میں ایک پیپر رکھا اور کہنے لگیں اس پر کچھ کتابیں لکھیں ہیں کالج سے واپسی پر لیتے آنا۔ 

میں نے کہا اچھا آپی اور ناشتہ کر کے کالج چلا گیا اب اکثر ہی ایسا ہوتا کہ صبح ناشتے پر کوئی نا کوئی کام کی بات ہو جاتی اور ہمارے درمیان جو جمود قائم ہو گیا تھا وہ اب ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔ اس واقعے کو آج اٹھارواں دن تھا آج آپی جب ناشتہ لیکر آئیں تو انہوں نے ایک پیارا سا سوٹ پہن رکھا تھا عبایا یا چادر آج اتاری ہوئی تھی سر پر صرف اسکارف تھا آج انہوں نے ناشتہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر کیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے خلافِ معمول مسکرا بھی رہیں تھی۔۔ 

میں اس کایا پلٹ پر حیرانگی کے ساتھ خوش بھی بہت تھا کہ چلو آپی اب نارمل روٹین میں واپس آ چکی ہیں۔۔۔۔ آج اس واقعے کو 24 واں دن تھا جب آپی نے صبح مجھے ناشتہ کروایا۔۔ وہ معمول کی طرح اسکارف اور بڑی سی چادر میں ملبوس تھی۔۔۔ میں ناشتہ کر کے اٹھا اور دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ آپی نے مجھے پکارا،، ساگر بات سنو، میں وہیں سے مڑا اور بولا جی آپی۔۔۔۔اس وقت تک وہ میرے قریب آچکی تھی۔۔۔ 

آپی نے بنا کسی ہچکچاہٹ اور شرمندگی کے بڑے نارمل سے انداز میں پوچھا،، پاور کیبل کہاں ہے ،،۔ آپی کا انداز ایسا تھا جیسے وہ کسی عام سی کتاب کے متعلق پوچھ رہی ہوں۔۔۔ میں نے بھی بنا چونکے بلکل میکانکی انداز میں اپنے بیگ کو کھولا اور الماری کی چابی آپی کے ہاتھ میں رکھ کر کہا کہ میری الماری میں پڑی ہے اور گھر سے باہر نکل گیا۔۔

اگلے دن بھی ناشتے کے بعد جب میں گھر سے نکلنے لگا تو آپی نے مجھ سے اسی طرح نارمل انداز میں پوچھا، ساگر تم گھر واپس کتنے بجے آؤ گے ، تو میں نے کچھ نا سمجھنے والے انداز میں جواب دیا کہ دو بجے تک آجاؤں گا کیوں خیریت تو ہے۔ نہیں کچھ خاص نہیں میں بس یہ کہنا چاہتی تھی کہ تم پانچ بجے سے پہلے مت آنا،، میں کچھ زیادہ ٹائم چاہتی ہوں،، او کے میں پانچ بجے سے پہلے نہیں آؤں گا۔ ہمارا بات کرنے کا انداز بلکل نارمل اور سرسری سا تھا۔ آپی بھی جانتی تھی وہ کیا کہہ رہی ہیں اور میں بھی جانتا تھا وہ کس لیے آج زیادہ ٹائم مانگ رہی ہیں۔۔

آپ لوگ بھی سمجھ چکے ہوں کہ آپی یہ جنگ ہار چکی ہے اور اس کی پھدی جیت چکی ہے۔ میں پانچ بج کر بیس منٹ پر گھر میں داخل ہو اتو اتفاقا آپی اسی وقت سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آرہی تھی۔۔۔ آپی نے وہی کالے رنگ کا سلکی عبایا پہنا ہوا تھ پاؤں ننگے تھے اور کھلے بال کو لہوں تک لہرا رہے تھے ۔۔۔ آپی کے کھڑے ہوئے نپلز عبائے سے صاف نظر آ رہے تھے جو کہ اس بات کا مظہر تھے کہ آپی نے عبائے کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا اور بلکل ننگی ہیں۔۔۔ 

جاری ہےشریف بہن اور بھائی

قسط 3

میں دبے پاؤں چلتا ہوا اپنے کمرے کے دروازے تک آیا اور ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔ میں نے سوچا بالکونی بھی ہے میں وہاں سے جاتا ہو اور سٹڈی روم میں آیا اور اس کی ونڈو سے باہر کی طرف بالکونی پر آ گیا اور دبے پاؤں ہی جاتا ہوا اپنے روم کی وندو تک جانا کیا اور تیسری وندو کو ہلکا سا دبایا تو لاک کھلا ہوا ہی تھا ہم دونوں بھائی کبھی بھی اس ونڈو کو لاک نہیں کرتے تھے کہ کبھی تو ضرورت پڑ سکتی ہے اور آج ضرورت پڑھ ہی گئی۔۔۔ 

جیسے ہی میں نے اندر دیکھا میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا … آپی روبی اندر کمرے میں موجود تھی اور سامنے چئیر پر بیٹھی تھی جبکہ کمپیوٹر پر رات والی ہی مووی چل رہی تھی آپی نے اپنی قمیض پیٹ تک اٹھائی ہوئی تھی اور ہجاب اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ آپی نے کرسی پر نیم دراز ہو کر اپنی ٹانگیں سائیڈوں پر اٹھا رکھی تھیں اور دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے ساتھ اپنی پھدی کا دانہ زور زور سے مسل رہی تھیں میں نے آپی کو پہلی بار ننگا دیکھا تھا میر لن ایک دم اتنی شدت سے کھڑا ہوا کہ مجبوراً مجھے زپ کھول کر اسے باہر نکالنا پڑا۔۔۔۔

 لیکن میں نے اسے باہر نکال کر ایسے ہی چھوڑ دیا کیو نکہ مجھے پتہ تھا کہ آپی کو اس حالت میں دیکھ کر جتنا میں گرم ہو چکا تھا اگر ایک دفعہ بھی لن کو ٹچ کیا تو وہ منی چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔ آپی کا جسم بہت کمال کا تھا ان کے مے تقریباً چھتیس سائز کے ممے ہوں گے۔۔۔۔ آپی کا بایاں ہاتھ قمیض کے اوپر سے ہی ان کے بائیں مے پر تھا جس کو وہ بڑی بری طرح سے مسل رہی تھیں ان کی ممے تقریباً چھتیس انچ رہے ہونگے اور گانڈ تو یقیناً چالیس کی ہوگی۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے اپنے ممے کو مسل رہی تھیں۔ اور دوسرے ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے سے پھدی کے دانے کو۔۔۔۔   

اب ان کے جسم کو جھٹکے لگنے گئے اور انہوں نے اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ لیے اور ٹیبل کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ لیا اور ان کا جسم کا فوارہ بہنے لگا اور اچانک ان کے جسم نے دو تین زور سے جھٹکے لیئے اور وہ نڈھال سی ہو گئیں میری آپی اپنی منزل تک آ پا چکی تھیں اور اس وقت زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ میرے لن نے بنا چدائی کیے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔۔ پھر میں وہاں سے آہستہ سے کھسک لیا اور جس راستے یہاں تک آیا تھا اسی راستے واپس چلتا ہوا نیچے پہنچ گیا۔۔۔ 

مجھے اندازہ تھا کہ اب آپی سیدھا نیچے ہی آئے گی۔۔ میں گھر کے مین گیٹ کے ساتھ کھڑا ہو گیا کہ آپی سیڑھیاں اترتی نظر آئے تو میں اس کے سامنے گھر میں داخل ہوں ۔۔۔ چند منٹ میں ہی آپی نیچے آتی ہوئی دکھائی دی تو میں جان بوجھ کر ایسے اندر داخل ہوا کہ وہ مجھے صاف دیکھ سکے اور اندر جا کر اس کو بتایا کہ ابھی امی نجمہ خالہ کی طرف گئیں ہیں اور سیدھا اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔

 

کپڑے بدل کر میں باہر نکلا اور سنوکر کلب چلا گیا وقت گزاری کیلئے ۔۔۔۔ سارا دن گھر سے باہر گزارنے کے بعد جب میں گھر میں داخل ہوا تو آٹھ بچھ رہے تھے۔ گھر میں گستے ہی ابو کی آواز نے میرا استقبال کیا۔۔۔ آئیں جناب سارا دن کہاں گزار دیے تمہارے موبائل پر کال بھی کی لیکن نمبر بند جا رہا تھا تو میں نے آئیں بائیں شائیں کر کے ابو کو ٹال دیا اور رات کا کھانا ان کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھایا۔۔ امی کہنے لگیں کہ کھانا کھا لیا ہے ت

The post شریف بہن اور بھائی قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/feed/ 0
آپ بیتی https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/#respond Mon, 29 Sep 2025 08:07:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/   آب بیتی 🔥 مکمل بولڈ کہانی ۔۔۔۔۔۔۔ یہ واقعہ دو سال پرانے ایک سفر کی ہے جب میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ناران کاغان گھومنے گیا تھا۔ اس ٹرپ میں میرے باقی دوست کافی سست واقع ہوئے تھے، ان کا شوق بس اتنا تھا کہ جہاں جاتے آرام سے بیٹھ کر لطف اندوز […]

The post آپ بیتی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

آب بیتی 🔥

مکمل بولڈ کہانی

۔۔۔۔۔۔۔

یہ واقعہ دو سال پرانے ایک سفر کی ہے جب میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ناران کاغان گھومنے گیا تھا۔ اس ٹرپ میں میرے باقی دوست کافی سست واقع ہوئے تھے، ان کا شوق بس اتنا تھا کہ جہاں جاتے آرام سے بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے۔

خیر، ہم شام ڈھلتے کیوائی پہنچے اور وہاں سے جیپ کے ذریعے شوگران۔ ہمارا قیام پائن پارک سے ذرا آگے ایک ہوٹل میں تھا۔ سفر کی تھکاوٹ تھی، سب سو گئے۔

اگلے دن ہم سری پائے کے لیے نکلے۔ دن کے 10 بجے ہم وہاں پہنچے تو کافی رونق تھی۔ وہاں موجود جیپوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کوئی بڑا گروپ بھی آیا ہوا ہے۔ خیر، باقی دوستوں نے تھوڑا سا اوپر جا کر ایک ٹینٹ ریستوران میں کرسیاں سنبھال لیں اور مجھے انتہائی بے شرمی سے اکیلے جانے کو کہا۔

میں نے بھی ٹھان لیا کہ اب ان کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گا، جہاں جانا ہے اکیلا ہی جاؤں گا۔

خیر، میں آگے چلتا گیا۔ ذرا سا اوپر گیا تو اندازہ ہوا کہ یہاں رنگ برنگے آنچلوں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ کم از کم کوئی تین درجن لڑکیاں ادھر ادھر تتلیوں کی طرح منڈلا رہی تھیں۔ ان کے کچھ گروپس گھاس پر بیٹھ کر کھا پی رہی تھیں، کچھ آنکھ مچولی، بیڈمنٹن وغیرہ جیسے کھیل کھیل رہی تھیں۔ کچھ تصاویر اتار رہی تھیں۔ غرض یہ کہ جنت کا سا سماں تھا۔

میں خاموشی سے ان سے ذرا فاصلے سے گزر گیا۔ مجھے دیکھ کر کچھ نے مسکراہٹ بھی دی مگر میں اس قسم کے کسی ایڈونچر کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ ایک آدمی اور تین درجن لڑکیاں، یہ رسک کوئی دل گردے والا ہی لے سکتا ہے۔ کسی قسم کی پٹائی کی صورت میں ہر ایک کے حصے میں ایک ایک چماٹ بھی آئے تو بہرہ غرق ہو جائے۔

خیر، کوئی دو گھنٹے کی تھکا دینے والی ہائیکنگ کے بعد میں ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں کی آکسیجن مجھ جیسے میدانی انسان کے لیے کم تھی تو میں واپس ہو لیا جو کہ زیادہ محنت والا کام تھا۔

جب میں واپس آیا تو میں نے لڑکیوں کو ادھر ادھر بکھرے ہوئے دیکھا۔ اب میدان ایسا تھا کہ لامحالہ مجھے ان کے بیچ میں سے گزرنا تھا۔ میں سر جھکائے گزرنے لگا۔

اتنے میں آواز آئی: “ایکسکیوز می! کیا آپ ہماری ایک تصویر لے لیں گے؟”

یہ کہنے والی ایک گندمی سی رنگت والی، بھرے ہوئے جسم کی لڑکی تھی، جس کی عمر تقریباً 22-23 سال کے قریب تھی۔ آنکھیں اور ہونٹ بھرے ہوئے اور بھورے رنگ کے بال تھے۔ اس نے ٹائٹ فٹڈ کپڑے پہنے تھے اور ماتھے پر سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔

میں نے اپنے کیمرے کو دیکھا اور کہا: “مگر میں آپ کی تصویر لے کر کیا کروں گا؟”

وہ بولی: “ہیلو، میں اپنے کیمرے سے کہہ رہی ہوں۔”

میں بولا: “اوہ، آئی ایم سوری! میری نظر کیمرے پر گئی ہی نہیں۔ لیجیے۔”

(یہ سچ تھا کیونکہ میں تو اپنی آنکھیں اس کے جسم پر رکھے ہوئے تھا اور وہ بات وہ بھی بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔)

میں نے ان کے گروپ کی کوئی 5-6 تصاویر لیں اور کیمرہ انہیں واپس کر دیا۔ میں ذرا سا آگے ہوا تو اس نے پھر آواز دی: “سنئیں۔”

میں نے کہا: “جی، سنائیے۔”

“شکریہ، آپ نے ہماری مدد کی، یہ لے لیں۔”

اس نے ایک ڈسپوز ایبل گلاس میں مجھے ڈیو دی۔ میں نے شکریہ کہہ کر لے لی اور بولا: “ویسے کاش میں آپ کی ایک تصویر اپنے کیمرے سے لیتا تو شاید اس وادی کی تصاویر میں ایک حسین اضافہ ہوتا۔”

وہ مسکرا دی اور شکریہ کہہ کر چلی گئی۔

جب میں میدان سے گزرا تو اس کے ساتھ کچھ ٹیچرز ٹائپ خواتین مجھے کافی گھور کر دیکھ رہی تھیں۔

جب میں واپس آیا تو میرے دوست کھا پی کر تھک چکے تھے اور اب پھر تھکان اتارنے کے لیے چائے پی رہے تھے۔ اتنے میں وہ سب ہمارے قریب سے گزریں۔

لڑکیوں کو آتا دیکھ کر ان سب کی رال ٹپکنے لگی۔ وہ لڑکیوں کا گروپ بھی ہمارے ساتھ سے گزرا۔ وہ لڑکیاں مجھے دیکھ کر مسکرائیں اور گے چلی گئیں۔ اب میرے دوستوں کو بھی جوش آیا اور وہ ضد کرنے لگے کہ چلو واپس چلیں، یہ سب سری لیک پر ضرور رکیں گی۔

میں نے ان کو جھوٹ بولا کہ نہیں، یہ آتے ہوئے لیک سے ہو کر آئی ہیں۔ مگر وہ بے چین ہی رہے تھے اور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر شوگران پہنچ جائیں۔

ہم کوئی تین بجے کے قریب شوگران پہنچے۔ میں تھک گیا تھا اسی لیے کھانا کھا کر سو گیا۔ شام کو باہر نکلا تو لڑکیاں پورے شوگران میں پھیلی ہوئی تھیں۔ میں بھی ایک ریستوران میں بیٹھ گیا اور چائے منگوائی۔

اس گروپ کی ایک لڑکی وہاں تھی۔ میں نے اسے سر کے اشارے سے وش کیا۔ جواب میں اس نے بھی مجھے مسکرا کر دیکھا۔ دس منٹ کے بعد وہ لڑکی بھی وہاں آ گئی۔ کچھ دیر اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ میرے پاس آ گئی۔

“آپ یہاں بھی؟” وہ بولی۔

“شوگران صرف آدھے کلومیٹر جتنا ہی تو ہے، یہاں ملنا تو ظاہر تھا۔ ویسے آپ کا پلان کیا ہے؟”

وہ بولی: “بس یہاں سے ناران اور وہاں سے مری۔ اور آپ کا؟”

میں نے کہا: “پہلے تو نہیں، اب یہی ہے مس…؟”

“نازش۔” وہ مسکرا کر بولی۔

“فراز خان۔” میں نے اپنا تعارف کروایا۔

مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کام قریب قریب بن گیا ہے۔

ہم نے تھوڑی دیر باتیں کی پھر وہ چلی گئی۔

اگلے دن جب ہم شوگران سے نکلے تو وہ لوگ ناران جا چکے تھے۔

میری اس سے ناران میں دو دن کے قیام کے دوران کئی بار ملاقات ہوئی اور میں نے اسے ڈنر بھی کروایا۔

ان ملاقاتوں میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس کا دماغ تیار ہے اور وہ بھی یہی سب چاہتی ہے۔

پھر وہ مری آ گئی۔ میرے دوست واپس لاہور آ گئے جب میں مری چلا گیا۔

مری میں میں نے کمرہ لیا اور اسے کال کر کے مال پر بلایا۔

وہ سفید کرتے کے ساتھ سیاہ جینز پہن کر آئی۔

ہم نے ساتھ کھانا کھایا پھر میں نے اس سے پوچھا: “نازش، کیا خیال ہے کہیں چل کر باتیں کریں، یہاں بہت رش ہے۔”

اس نے میرے ہوٹل کا نام پوچھا اور اپنی دوستوں کو کال کر کے بتایا کہ وہ میرے ساتھ اس ہوٹل میں اس کمرے میں جا رہی ہے، کوئی مسئلہ ہو یا کوئی اس کا پوچھے تو وہ فوراً اطلاع کریں۔

کمرے میں پہنچ کر وہ تھوڑا کنفیوز ہو گئی مگر زیادہ پریشان نہیں تھی۔

وہ واش روم میں گئی اور کوئی دس منٹ بعد باہر آئی تو مجھے اس کے جسم سے پرفیوم کی خوشبو آئی۔

وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔

میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کے بالوں سے اس کے ہونٹوں تک لایا اور اسے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔

وہ پہلے تو ذرا شرمائی مگر پھر میرا ساتھ دینے لگی۔ میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور اسے لٹا کر اس کے اوپر لیٹ گیا۔

اپنے ہاتھوں سے میں اس کے جسم کے تمام حصوں کو سہلانے لگا۔

اس نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول دیں اور میں بھی آسانی سے اپنا لن اس کی ٹانگوں کے بیچ رگڑنا شروع کر دیا۔ وہ پورے جوش سے میرا ساتھ دے رہی تھی۔

بوسہ کرتے ہم صوفے سے نیچے زمین پر آ گئے۔ میں نے اس کا کرتا اتار دیا۔ اس نے نیچے سیاہ رنگ کا برا اور انڈرویئر پہنا تھا۔

وہ میرے اوپر لیٹ گئی اور مجھے بوسہ دینے لگی۔

اگلا، میں نے اس کا برا بھی اتار دیا۔

اس کے سینوں پر جب میری نظر پڑتی تو آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔

وہ میرے اوپر ہی لیٹ کر بوسہ دیتی رہی۔

کچھ دیر اس کے نپلز کو بوسہ دیتا رہا اور وہ منہ سے آوازیں نکالتی رہی۔ پھر وہ اچانک دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گئی۔ میں نے اس کے ممے اپنے ہاتھوں میں پکڑے اور دبانے لگا۔

اب میں نے اس کی پینٹ بھی اتار دی۔ وہ صرف انڈرگارمنٹس میں ہی رہ گئی۔

میں نے اسے صوفے پر لٹایا اور اس کے جسم پر بوسہ دینے لگا۔

آخر کار میری برداشت ختم ہو گئی، اس کے اور اپنے سارے کپڑے اتار دیے اور میں اسے بیڈ پر لے آیا۔

اسے مضبوطی سے تھام کر اسے بوسہ دینے لگا۔

میں نے اپنی انگلی سے اس کی چوت کو رگڑنا شروع کیا۔ واگینا پہلے ہی کافی گیلی ہو چکی تھی۔ وہ بہت زیادہ لطف اندوز ہو رہی تھی۔ جب میں نے اس کے اندر اپنا لن ڈالنا چاہا تو وہ بولی: “پلیز، تھوڑی دیر رکو، ابھی اسی طرح کرو، مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔”

میں نے مزید 15 منٹ اس کے ساتھ فور پلے کیا۔ اس کے سینوں سے لے کر ناف تک سارے جسم کو خوب بوسہ دیا۔ ساتھ ہی میں نے اس کی چوت کو خوب رگڑا۔ اس کی چوت بالکل شیوڈ اور صاف تھی، جس کا مطلب تھا کہ وہ آج کے لیے تیار ہو کر آئی تھی۔

میں نے کنڈوم نکالا تو وہ بولی: “پلیز یہ نہیں، میرے پاس دوسرا ہے وہ پہنو۔”

میں اس کے پرس سے فلیورڈ کنڈوم لے آیا۔ پورے کمرے میں اسٹرابیری کی خوشبو پھیل گئی۔ جب میں نے کنڈوم پہن لیا تو اس نے پہلے کافی اناڑی پن سے چوپا لگانا شروع کیا۔ مگر آہستہ آہستہ وہ کافی اچھے طریقے سے چوپا لگانے لگی۔ میں لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اسے کہا کہ اب بس کرو۔

میں نے اسے سیدھا لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں کھول اٹھا دیں۔ پہلے ٹوپی کو چوت پر رگڑا، پھر آرام سے ڈال دیا۔ لن بغیر کسی مشکل کے اندر چلا گیا۔

مجھے اندازہ تھا کہ وہ کوئی کنواری لڑکی نہیں ہے، ہاں مگر کوئی خاص تجربہ کار بھی نہیں تھی۔

میں پہلے آرام سے، پھر ذرا زور سے اسے چودنے لگا۔ وہ بھی ہونٹوں سے سسکیاں اور آوازیں نکالتی رہی۔

میں اسی انداز میں کچھ دیر تک اسے چودتا رہا مگر اب مجھے لگنے لگا کہ میں زیادہ دیر ٹک نہیں پاؤں گا تو میں رک گیا۔ 2-3 منٹ بوسہ کرنے کے بعد میں نے دوبارہ اسے چودا مگر اس بار ٹانگیں تھوڑا سا اوپر اٹھا لیں۔

اس طریقے سے اس کے زیادہ اندر جانے لگا اور تھوڑا بھی کافی محسوس ہونے لگا۔ وہ بھی اب پورے جوش سے میرے ہونٹوں کو بوسہ دینے لگی۔ اس کی ٹانگوں کے بیچ سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بھی پوری جوش و خروش میں ہے۔

میں کسی بھی لمحے چھوٹ سکتا تھا، اسی لیے میں اس کے اوپر سے ہٹ کر اس کی ٹانگیں کھول کر چودنے لگا۔ یہ آخری لمحات سب سے زیادہ پرلطف تھے ہم دونوں کے لیے۔

اب وہ زور زور سے آوازیں نکالنے لگی۔ آخر میں چھوٹ گیا اور اسی کے اوپر لیٹ گیا۔

کچھ دیر لیٹنے کے بعد ہم باتیں کرنے لگے۔

اس نے بتایا کہ وہ اور اس کا کزن کافی عرصے سے سیکس کرتے ہیں مگر اس نے ایسا سیکس کبھی انجوائے نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ گھر پر چھپ چھپ کر جلدی جلدی کرتے ہیں مگر یہاں کھل کر سیکس کیا۔

جبکہ فلیورڈ کنڈوم اس کی دوست نے اسے دیا تھا اور یہ اس کا پہلا تجربہ تھا۔

اس نے بغیر نہائے کپڑے پہنے اور جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ کل پھر آنے کا وعدہ کیا۔

میں اسے باہر تک چھوڑ آیا۔(ختم شد)

The post آپ بیتی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/feed/ 0
نند کی شادی https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/#respond Sun, 28 Sep 2025 14:00:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/   نند کی شادی۔ ہائی دوستوں! میرا نام عروہ ہے عمر 32 سال اور میرے 3 بچے ہیں۔ یہ کہانی جو میں آپ لوگوں کو بتانے جا رہی ہوں یہ 2 سال پرانی ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ میری نند کی شادی تھی اور کیونکہ ان کا کوارٹر علیحدہ تھا تو مجھے شادی کے […]

The post نند کی شادی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

نند کی شادی۔

ہائی دوستوں! میرا نام عروہ ہے عمر 32 سال اور میرے 3 بچے ہیں۔

یہ کہانی جو میں آپ لوگوں کو بتانے جا رہی ہوں یہ 2 سال پرانی ہے۔

بات کچھ یوں ہے کہ میری نند کی شادی تھی اور کیونکہ ان کا کوارٹر علیحدہ تھا تو مجھے شادی کے پہلے 3 دن اسکے ساتھ رہنا تھا ہمارے یہاں یہ مانا جاتا ہے کہ دلہا دلہن کو اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے اس کے گھر میں صرف ایک بیڈ روم اور ایک گیسٹ روم تھا۔

خیر دن تو گزر گیا اور رات 11 بجے کے قریب سب لوگ چلے گئے۔ میں بھی گیسٹ روم میں آگئی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ مجھے ڈر لگنے لگا۔ میں نے اپنی کزن کو کال کی اور آنے کا کہا تو اس نے کہا کہ بچے ابھی سوئے ہیں جاگ جائیں گے لیکن اگر آپ کہو تو میں سلطان کو بھیج دیتی ہوں (سلطان اس کا بھائی اور میرا کزن ہے جو تقریباً میرا ہم عمر ہے).

کیونکہ مجھے ڈر لگ رہا تھا میں نے کہا ٹھیک ہے اور ویسے بھی سونا ہی ہے۔ سلطان نے پہنچ کر کال کی تو میں نے گیسٹ روم کا باہر والا دروازے کھولا اور سلطان اندر داخل ہو گیا۔

کچھ دیر ہم باتیں کرتے رہے اور تقریباً 12 بجے سلطان نے لائٹ آف کرکے کہا کہ اب سو جاؤ اور خود موبائل میں مصروف ہو گیا۔

کچھ دیر میں اسے دیکھتی رہی میں نے دوپٹہ اتار کر سائیڈ میں رکھا اور کروٹ لے کر سونے لگی اور ناجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

ابھی میں کچی نیند میں تھی کہ اپنے کولہوں پر کسی کا ہاتھ محسوس کیا میں سمجھ گئی کہ سلطان بدتمیزی کر رہا ہے

اس نے بڑی صفائی سے میری قمیض پیچھے سے اوپر کر کے شلوار کے اوپر سے اپنا ہاتھ میرے کولہوں پر رکھا ہوا تھا۔ کچھ دیر یوں ہی رہنے کے بعد اس نے کولہوں کو سہلانا شروع کر دیا مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے فوراً کروٹ بدلی اب میں بلکل سیدھی لیٹ گئی۔

اس نے بھی ڈر کر اپنا ہاتھ ہٹا لیا لیکن 

کچھ دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا اور میری طرف سے کوئی حرکت نہ پا کر اپنا ہاتھ پیٹ سے اوپر کی طرف لے جا کر میرے ایک پستان پر رکھ دیا۔ میرے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ ایک بار تو سوچا کہ ابھی اسے گالیاں دے کر یہاں سے نکال دوں لیکن پھر سوچا کہ ایک تو ساتھ ہی نند کا کمرا ہے اسے کیا کہوں گی اور دوسرا اکیلے ڈر بھی لگ رہا ہے تو اگر یہ چلا گیا تو میں کیا کرونگی بس یہی سوچ کر میں نے خاموشی سے بر داشت کرنے کا سوچ لیا۔

 کچھ دیر ایسے رہنے کے بعد وہ پستان کو ہلکے ہلکے دبانے لگا اور مزے لینے لگا کیونکہ میں نے قمیض کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا تو وہ آسانی سے میرے نیپلز کو بھی دبا رہا تھا جس سے میرے نیپلز سخت ہو گئے۔

اس نے اپنا کام جاری رکھا اور دوسرا ہاتھ شلوار کے اوپر سے میری سنگم پر رکھ دیا۔

میں اس کے ہاتھ کا لمس پا کر شدت کی انتہاء کو پہنچ گئی میرے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگا میں اس کی گرمی کو پوری طرح محسوس کر رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ پستانوں کی بھی مالش ہو رہی تھی لیکن اسے یہی لگ رہا تھا کہ میں سوئی ہوئی ہوں جس سے اس کی ہمت بڑھتی گئی اور اس نے میری قمیض کو آہستہ آہستہ اوپر کرنا شروع کر دیا چونکہ پیچھے سے اس نے پہلے ہی قمیض اوپر کر دی تھی تو سامنے سے اب کوئی مسئلہ نہ ہوا اور کچھ ہی دیر میں سلطان نے میرے پستانوں کو قمیض کی قید سے آزاد کردیا اور میرے اوپر جھک کر دونوں پستانوں کو باری باری پیار سے کس کیا اور ہلکے ہلکے زبان بھی پھیری پھر ہاتھ سے کچھ دیر دبانے کے بعد اب اس نے میرا ازاربند کھولنے کا ارادا کیا لیکن شاید ڈر رہا تھا خیر اس نے ہمت کر کے ازاربند پکڑا اور آہستہ آہستہ کھولنے لگا۔

ازاربند کھولنے کے بعد کچھ دیر اس نے کچھ نہ کیا اور پھر شلوار کو پھیلا کر نیچے کر دیا جس سے میری سنگم اور گول گول رانیں ننگی ہو گئی۔

اس نے موبائل کی لائٹ ان کی اور میری سنگم اور پستانوں کے درشن کرنے لگا۔

میرے نیپلز تنے ہوئے، سنگم پر ہلکے ہلکے بال اور گوری گوری رانیں چمک رہی تھی میں اسے چوری آنکھ سے دیکھ رہی تھی وہ پاگل ہو رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ میری رانوں پر پھیرا اور پھر سنگم کو دونوں اطراف اس نے کس کیا اس کے بعد اس نے اپنا ہاتھ میری سنگم پر رکھ دیا اور جب کوئی حرکت نہ ہوئی تو سنگم کو ہلکے ہلکے سہلانے لگا اس کا ہاتھ مزید نیچے جانے کی کوشش کررہا تھا لیکن چونکہ میرے دونوں ٹانگوں کے درمیان فاصلہ کم تھا تو اس کا ہاتھ نیچے نہیں جا پا رہا تھا اسے ڈر تھا کہ کہیں میری آنکھ نہ کھول جائے اس لئے زور بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ آگ تو میرے اندر بھی لگی ہوئی تھی اور دل کر رہا تھا کہ ابھی پاؤں کھول دوں لیکن شرم بھی آرہی تھی۔

سلطان نے دھیرے دھیرے میری ایک ٹانگ کو حرکت دے کر جگہ بنانا چاہی لیکن زیادہ کامیاب نہ ہوسکا خیر اس نے دوبارا اپنا ہاتھ میری سنگم پر رکھ دیا اور دبانے لگاوہ پورے جوش میں تھا اور اب مجھ سے بھی نہیں رہا جا رہا تھا میں بھی پورا مزا لینے کے لئے بے چین تھی جونہی اس نے جوش میں آکر میری سنگم کو دبایا میں نے ہلکی سی سسکاری لی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

وہ ایک دم ڈر گیا میں نے کہا یہ کیا کر رہے ہو تو اس نے کہا شور نہیں کرنا ورنہ تمہاری نند کوہم پر شک ہو جائے گا اور کہا کہ اٹھنا نہیں میں کچھ بتاتا ہوں اس نے موبائل کی لائٹ ان کی اور میرے جسم پر روشنی ڈالتے ہوئے بولا کہ میں سب کچھ دیکھ چکا ہوں اس لئے اب کچھ کہنا بے کار ہے اور یہ کہتے ہی اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا دیئے میں بھی گرم تھی لیکن تھوڑی سی بناوٹی ضد کرنے کے بعد اس کا ساتھ دینے لگی اور اس دوران اس کا ٹراؤزر نیچے کر کے اس کا ہتھیار ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی۔

اس نے مجھے ساتھ دیتا دیکھ کر جلدی جلدی اپنے اور میرے تمام کپڑے اتار دیئے اور پھر کس کیا اس کے بعد پستانوں پر ٹوٹ پڑا میں اس کا سر زور زور سے دبا رہی تھی اور وہ پاگلوں کی طرح چوس رہا تھا اور یوں ہی نیچے جانے لگا پہلے پیٹ پھر رانوں اور پھر سنگم پر ہونٹ رکھ دیئے

میں لذت اور شدت سے پاگل ہو رہی تھی کہ اس نے میری ٹانگیں اٹھائی اور اپنا ہتھیار میری سنگم کے درمیان رگڑنے لگا میں نے اسے کہا اور کتنا تڑپانا ہے جلدی کرو سلطان نے تھوک لگا کر اپنا ہتھیار میری نازک سنگم پر رکھ کر دبایا اور اندر جانے دیا۔ جب پورا اندر داخل ہو گیا تو اس نے جھک کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور ہم پاگلوں کی طرح کس کرنے لگے اور سلطان ساتھ ہی ساتھ جھٹکے بھی مارنے لگا۔

میں نے جوش میں سلطان کے ہونٹ کو کاٹ لیا اور وہ فوراً ہٹ گیا لیکن اس نے اپنا منہ میرے پستانوں پر رکھ دیا اور باری باری دونوں نیپلز کو کاٹنے لگا میں درد سے کرراہ رہی تھی اور وہ زور زور سے جھٹکے مارے جا رہا تھا۔

میں فارغ ہو گئی اور وہ بھی قریب ہی تھا میں نے کہا پانی اندر نا نکالنا تو اس نے کہا کیا ہوتا ہے 3 تو پہلے ہی ہے ایک میرا بھی سہی اور اپنی سپیڈ بڑھا دی کچھ ہی دیر میں سلطان میرے اوپر ڈھیر ہو گیا اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔

میں نے کہا بس تھک گئے تو اس نے کہا کہ ابھی تو ایک ٹریپ اور لگانا ہے میں نے کہا پاگل نا بنو ابھی 2 راتیں اور بھی ہے لیکن وہ میرے جسم کا مزا لے چکا تھا کہاں رہ سکتا تھا۔

ہم نے پھر سے کس کیا اور اس نے میرے پستانوں کو باری باری پیار سے اور زور زور سے چوسا اور پہلے کی طرح پیٹ پر پھر ناف پھر رانیں اور سنگم پر چومنے کے بعد اس نے مجھے الٹا کر دیا اور گردن سے کولہوں تک کوئی ایسی جگہ نہ چھوڑی جہاں کس نہ کیا ہو پھر میرے کولہوں کو کھول کر اپنا ہتھیار سیٹ کرنے لگا تو میں نے پکڑ کر سنگم پر رکھ دیا اور اس نے اندر داخل کر دیا پھر میرے اوپر لیٹ کر کچھ دیر تک جھٹکے لگاتا رہا اور پھر مجھے کھڑا کیا اور صوفے کے ساتھ جھکنے کو کہا میں نے پوزیشن بنائی اور وہ مجھ پر چڑھ گیا کافی دیر ایسے ہی چودائی کی پھر خور صوفے پر بیٹھ گیا اور مجھے پیچھے سے کھینچ کر اپنی گود میں بیٹھا کر اپنا ہتھیار میری سنگم کے آر پار کر دیا اور مجھے کہا کہ جمپ کرو میں ایسے ہی چدنے لگی لیکن مزا نہیں آرہا تھا تو اس نے دوبارا مجھے زمین پر لٹا دیا اور میری ٹانگیں میرے سر کے ساتھ ملا کر چودنے لگا اور اسی پوزیشن میں پانی اندر خارج کر دیا۔

اور میرے اوپر لیٹ گیا میں سلطان سے لپٹ گئی اور اس کے بالوں کو سہلانے لگی ہم دونوں اتنے تھک گئے تھے کہ صبح جب میری نند نے دروازے کھٹکھٹایا تو ہماری آنکھ کھلی اور ہم اسی حالت میں تھے جیسے رات کو سو گئے تھے۔

میں نے نند کو آواز دی کہ میں آتی ہوں اور سلطان کو بھی اٹھایا سلطان نے مجھے ساتھ چمٹا لیا اور کسنگ کرنے لگا۔ میں نے بھی بھر پور کس کیا اور پھر کہا کپڑے پہن لو اور گھر جاؤ کسی کو شک نہ ہو جائے ہم نے کپڑے پہنے اور جاتے ہوئے سلطان نے 2-3 بار زبردست کس کیا اور کولہوں کو دباتے ہوئے کان میں کہا رات کو تیل ضرور رکھ لینا پیچے سے بھی کرینگے

بہت مشکل سے اس کو بھیجا اور باہر گئی تو نند نے حال پوچھا میں نے کہا کہ بس تھک بھی گئی تھی اور رات کو سوئے بھی دیر سے تو اس لئے اور پھر نہا کر تیار ہو گئی اور کام کاج میں لگ گئی لیکن رات کا شدت سے انتظار ہے کہ کب رات ہوگی اور پھر مزا کرینگے گے

The post نند کی شادی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/feed/ 0
دودھ والا https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/ https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/#respond Sun, 28 Sep 2025 13:56:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/   فاریہ خالہ اور دودھ والا میرا نام منیر ہے پیار سے سب مجھے گوپی کہتے ہیں ۔ میں 23 سال کا ایک دم گورا چٹا، ہٹا کٹا جوان ہوں۔ میرا قد 5 فٹ 10 انچ ہے۔ میرا جسم ورزش سے تراشا ہوا ہے۔ میں باڈی بلڈر تو نہیں ہوں، لیکن مجھے ورزش کرنے کا […]

The post دودھ والا appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

فاریہ خالہ اور دودھ والا

میرا نام منیر ہے پیار سے سب مجھے گوپی کہتے ہیں ۔ میں 23 سال کا ایک دم گورا چٹا، ہٹا کٹا جوان ہوں۔ میرا قد 5 فٹ 10 انچ ہے۔ میرا جسم ورزش سے تراشا ہوا ہے۔ میں باڈی بلڈر تو نہیں ہوں، لیکن مجھے ورزش کرنے کا شوق ہے۔

میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں، لیکن دیکھنے میں سمارٹ اور ہینڈسم ہوں۔ میرے بال گھنگھریالے ہیں، چہرہ گول ہے اور پیشانی چوڑی ہے۔

میں ایک گاؤں میں رہتا ہوں اور دودھ کا کام کرتا ہوں۔ آپ مجھے دودھ والا بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں روز صبح شہر کے گھروں میں دودھ پہنچاتا ہوں۔

میرا گاؤں شہر کے قریب ہی ہے۔

یہ کہانی میرے اور میری سگی خالہ جن کا نام فاریہ ہے کے پیار کی کہانی ہے ۔فاریہ خالہ میری سب سے چھوٹی خالہ ہیں اور مجھ سے صرف پانچ سال بڑی ہیں ۔بچپن سے ہی ہماری بہت دوستی رہی مگر جب سے ان کی شادی ہوئی میں کچھ ٹائم کے لیے سے شرمانے لگاتھا۔ ۔خالہ بہت ہی تیز طرار ہیں اور وہ میرے شرمیلے پن کا بہت مذاق اڑاتی تھیں ۔دھیرے دھیرے ہماری دوستی پھر سے پہلے جیسی ہوگئی مگر اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی آگئی تھی ۔میں خالہ کو کسی اور ہی نظر سے دیکھنے لگاتھا۔

خالہ اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں رہتی ہیں۔ میں ان کے گھر بھی دودھ پہنچاتا ہوں۔

فاریہ خالہ بہت خوبصورت، گوری، سیکسی اور بولڈ ہیں۔ ان کی گانڈ اور ان کے ممے بڑے بڑے ہیں۔ جب میں انہیں دیکھتا ہوں تو نا چاہتے ہوئے بھی میری نظریں ان کے سیکسی مموں اور بہت ہی پیاری گانڈ سے ایک پل کے لیے نہیں ہٹیں ۔

ان کی کمر موٹی، پیٹ پتلا اور بازو بہت دلکش ہیں۔ جب وہ بغیر آستین کے کپڑے پہنتی ہیں تو ان کے کندھوں کی چوڑائی اور گولائی دیکھتے ہی بنتی ہے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ کھل کر باتیں کرتی ہیں اور گندی گندی باتیں کرنے میں بالکل نہیں شرماتیں۔ گالیاں بھی بڑی مستی سے دیتی ہیں۔ ان کی گالیاں سن کر میرا لن کھڑا ہو جاتا ہے۔

جب سے ان کی شادی ہوئی ہے، تب سے وہ اور بھی خوبصورت اور بولڈ ہو گئی ہیں۔

میں بھی خالہ سے کھل کر بات کرتا ہوں، ہنسی مذاق بھی کرتا ہوں۔ خالہ کی مست جوانی دیکھ کر میں انہیں للچائی نگاہوں سے دیکھنے لگا تھا، انہیں ننگی دیکھنا چاہتا ہوں، ان کے خوبصورت بدن سے کھیلنا چاہتاتھا۔ان کے بڑے مموں اور ان کی گانڈ کو چاٹ چاٹ کر پاگل ہوجانا چاہتاتھا۔ میری نیت ان پر بری طرح خراب ہو چکی تھی ۔

خالہ جیسی تیز طرار عورت نے میری نگاہوں کو فوراً پہچان لیاتھا۔میں جتنا گھبرو نکلا تھا اس نے بھی خالہ کو میری طرف مائل کرنے میں اہم کردار اداکیاتھا۔میں محسوس کرنے لگاتھا کہ خالہ بھی مجھے بڑی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی تھیں۔

ایک دن اچانک وہ میرے ساتھ بھی ننگی باتیں کرنے لگیں ۔لن ، چوت اور گانڈ کی باتیں کرنے لگیں۔ میں پہلے تو بہت حیران ہوا کیونکہ ہمارے درمیان جتنی بھی بے تکلفی تھی ہم نے کبھی ایسی ننگی باتیں نہیں کی تھیں ۔مگر مجھے مزہ آنے لگا۔ میں بھی ان کے خوبصورت جسم کی تعریف کرتا ۔ مگر میں اپنی حد میں رہتا۔مجھے ننگے الفاظ استعمال کرنے میں شرم آتی تھی ۔

ایک دن جب میں دودھ لے کر خالہ کے گھر پہنچا۔ خالہ کا گھر کافی بڑا ہے ۔مین گیٹ کے آگے ایک چھوٹا سا لان ہے اور اس کے ساتھ برآمدہ ہے ۔میں برآمدے کے قریب پہنچاتو دیکھا کہ خالہ اپنی ملازمہ نوراں سے اپنی مالش کروا رہی تھیں۔ ان کی موٹی موٹی رانوں کھلی ہوئی تھیں، ان کے اندر سے ان کی پیاری سی چوت جھانک رہی تھی۔

ان کے ممے تو ایک دم ننگے تھے۔ جسم پر صرف شرٹ تھی وہ بھی نیچے کھسکی ہوئی تھی ۔ افف پہلی بار میں خالہ کو ایک دم ننگا دیکھ رہاتھا۔میرا لن جھٹ سے کھڑا ہوگیا۔میں احتیاط سے ایک طرف ہوگیا اور اندر دیکھنے لگا۔

نوراں ان کی کمر میں تیل لگا رہی تھی۔ ان کےمموں پر، ناف پر اور رانوں میں بھی تیل لگا رہی تھی۔

پھر دونوں باتیں کرنے لگیں۔

میں یہ سب دیکھ کر بڑا بے چین ہو گیا۔ میرا لن ٹن گیا، ایک دم آپے سے باہر ہو گیا۔

میں کان لگا کر ان کی باتیں سننے لگا۔

خالہ بولیں، نوراں، تیرے شوہر کا لن کیسا ہے اور کتنا بڑا ہے؟

وہ بولی، لن تو اچھا ہے پر وہ جلدی جھڑ جاتا ہے۔ اچھی طرح چود بھی نہیں پاتا!

خالہ بولیں، تو پھر تم کیا کرتی ہو؟

وہ بولی، پھر میں غیر مرد وں سے چدواتی ہوں، تب مجھے اطمینان ملتا ہے۔

خالہ بولیں، کتنی غیر مردوں سے چدواتی ہے تو؟ ان کے لن کیسے ہیں نوراں؟

وہ بولی، بڑے مستی اور زبردست لن ہیں سب کے! جب وہ میری چوت میں پیلتے ہیں تو میں ایک دم مست ہو جاتی ہوں۔ہائے باجی اتنا مزا آتا ہے کہ میں بتا نہیں سکتی ۔ میں تین چار مردوں سے ادل بدل کر چدواتی ہوں۔

خالہ بولیں، ہائے نوراں ، کتنی بڑی گشتی ہے تو، کبھی بتایا ہی نہیں ۔میرے لیے بھی ایک تگڑے لن کا بندوبست کر ناں ۔

وہ بولی، ارے باجی ،بالکل کردوں گی ۔آپ حکم تو کریں ۔جب بولیں گی لن آپ کے لیےحاضر کردوں گی۔

خالہ بولیں، اچھا میں بتاؤں گی۔

پھر نوراں چلی گئی۔

میں باہر بھاگ گیا اور پھر گیٹ کے پاس کر کھڑا ہوگیا ۔ جیسے کہ میں نے کچھ دیکھا ہی نہیں اور کچھ سنا ہی نہیں۔

نوراں نے مجھے دیکھا اور مسکراتی ہوئی چلی گئی ۔میں اندر آگیا۔

خالہ نے اب شرٹ بھی اتار دی تھی ۔مگر اپنے خوبصورت جسم پر چادر اوڑھ لی تھی ۔تیل مالش کی وجہ سے ان کے ممے چادر سے چپکے ہوئے تھے ۔کیا مست سین تھا۔میرا اکڑا لن اب درد کرنے لگاتھا۔

میں نے کہا، خالہ جی، میں آج نہ نہایا اور نہ کچھ کھایا بس اسی طرح آ گیا۔ مجھے بھوک لگی ہے۔

وہ بولیں، ارے، تو پھر نہا لے۔ میں ناشتہ بنا دیتی ہوں تیرے لیے۔

میں باتھ روم میں نہانے چلا گیا۔ میں نے شاور کھولا اور ننگا نہانے لگا۔

پر میں تولیہ لینا بھول گیا۔ تو میں نے آواز لگائی، ارے خالہ جی، تولیہ دے دو پلیز!

خالہ تولیہ لے کر آئیں۔ اور جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا تو مجھے ایک دم ننگا دیکھ لیا۔ اب میرا لن تو کھڑا ہی تھا۔

وہ میرا لن دیکھ کر بولیں، ہائے دئیا گوپی، تیرا اتنا بڑا لن ؟ اتنا موٹا لن ؟ تو نے مجھے کبھی بتایا ہی نہیں۔ یہ تو بہن چودنے والا چوت پھاڑنے والا لن ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے گھر میں ہی اتنا بڑا لن ہے۔

خالہ نے ہاتھ بڑھا کر میرا لن پکڑ لیا۔ پکڑتے ہی لن کھڑا ہو کر دوگنا ہو گیا۔

خالہ نے اسے بڑے پیار سے چوما، کئی بار چوما۔ پھر وہ بولیں، گوپی، تو بڑا خوش قسمت ہے۔ اوپر والے نے تجھے اتنا بڑا لن دیا ہے۔ تجھے چودنے کے لیے چوت کی کمی کبھی محسوس نہیں ہوگی؟

میں نے کہا، کیا باتیں کرتی ہو خالہ جی؟ میں نے تو ابھی تک کوئی چوت دیکھی ہی نہیں، چودنے کی تو بہت دور کی بات ہے۔

پھر خالہ نے میرے لن پر مستی سے صابن لگایا اور اسے بڑے پیار سے نہلایا۔

مجھے ان کے بڑے بڑے مموں کو دیکھنے میں مزہ آ رہا تھا۔ میں نہا دھو کر باہر آ گیا۔

پھر خالہ نے فٹافٹ ناشتہ بنایا اور ہم دونوں نے ناشتہ کیا۔

میں ننگے بدن تھا، صرف ایک نیکر پہن لی تھی۔

ناشتے کے بعد میں بستر پر لیٹ گیا۔ میرا لن پھر ٹنٹنانے لگا۔

تب تک خالہ میرے بستر پر آ گئیں اور میرے لن پر ہاتھ مار کر کہا، گوپی، کیا کہا تھا تو نے؟ کہ ابھی تک کوئی چوت نہیں دیکھی؟ تو اتنا بڑا ہو گیا ہے، تو نے ابھی تک کوئی ننگی عورت نہیں دیکھی؟ اچھا یہ بتا کہ تجھے کس کس نے ننگا دیکھا۔ کس کس نے دیکھا تیرا لن ؟

میں نے کہا، ارے خالہ جی، میرا لن صرف میری فاریہ خالہ نے دیکھا ہے اور کسی نے نہیں۔

وہ بولیں، تیری ماں کی چوت… تو جوان ہو گیا ہے یار! چوت نہیں دیکھی تو کیا مشت زنی کرتا ہے؟

میں نے کہا، ہاں خالہ جی، اب مشت زنی کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہوں؟

یہ سب باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ خالہ نے میری نیکراتار کر پھینک دی۔

میں ان کے سامنے بالکل ننگا ہو گیا اور وہ میرا لن پکڑ کر ہلانے لگیں۔ تب میں بھی ان کے مموں کو دبانے لگا۔

میں نے پھر بڑی بے شرمی سے ان کا پیٹی کوٹ کھول دیا، ان کے سارے کپڑے اتار ڈالے۔ مجھے انہیں بالکل ننگی دیکھنے میں بڑا مزہ آنے لگا۔

آج میں پہلی بار کسی مستیلی جوان عورت کو ایک دم ننگی دیکھ رہا تھا۔ میرا لن ٹناتا ہی جا رہا تھا۔

وہ بڑے پیار سے بولیں، اچھا، تجھے چوت دیکھنے کی بڑی جلدی ہے گوپی؟

میں نے کہا، ہاں، واقعی مجھے بڑی جلدی ہے چوت دیکھنے کی۔

اور جیسے ہی میں نے ان کی چھوٹی چھوٹی جھانٹوں والی چوت دیکھی تو میں پاگل ہو گیا۔ میرے منہ سے نکلا، بڑی مستیلی اور خوبصورت ہے آپ کی چوت فاریہ خالہ!

وہ بولیں، تیری چوت چودنے والی خالہ کی ماں کا بھوسڑا… میں تیری حرامزادی چدکڑ فاریہ ہوں۔ اول درجے کی چھنال ہوں میں! غیر مردوں کے لن کی دیوانی ہوں میں۔ آج میں تیرے لن کا پورا مزہ لوں گی۔ آج میں تجھے سکھاؤں گی کہ چوت کیسے چودی جاتی ہے؟

ایسا کہہ کر وہ میرا لن منہ میں بھر کر چوسنے لگیں۔

مجھے سچ میں بڑا مزہ آنے لگا۔ میں ایک ہاتھ سے ان کے مموں کو دبانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے ان کی چوت سہلانے لگا۔

وہ میرے لن کا سُپاڑا پورا کا پورا اپنے منہ میں گھسیڑے ہوئے تھیں۔ خالہ اندر ہی اندر اس کے چاروں طرف اپنی زبان گھما رہی تھیں اور مجھے بڑا اچھا لگ رہا تھا۔

میرے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں۔

پھر وہ لن بار بار منہ سے نکالتیں اور پھر اندر گھسیڑ لیتیں۔ وہ آم کی گٹھلی کی طرح سے چوس رہی تھیں میرا لن !

پھر میں نے فاریہ خالہ کو صوفے پر بٹھا دیا اور اس کے سامنے ننگا کھڑا ہو گیا۔ میرا لن سیدھا ان کے منہ کے سامنے آ گیا۔

میں نے کہا، اب میں چودوں گا تیرے بڑے بڑے مموں کو، خالہ جی۔

انہوں نے اپنے دونوں مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیچ میں ایک سرنگ بنا دی اور کہا، لے چود لے تو میرے مموں کو… گوپی۔

میں نے لن دھن سے اس کی سرنگ میں گھسا دیا۔ لن کا سُپاڑا جیسے ہی ان کے منہ کے سامنے آیا تو انہوں نے زبان نکال کر اسے چاٹ لیا۔

مجھے اچھا لگا تو میں نے جلدی جلدی لن پیلنا شروع کیا اور وہ ہر بار میرے لن کا سُپاڑا چاٹنے لگیں۔

وہ بولیں، ہائے ہائے، بڑا مزہ آ رہا ہے یار گوپی!

میں نے پوچھا، کبھی خالو نے تیرے مموں کو اس طرح چودا ہے؟

وہ بولیں، اس کی بات نہ کر یار، اسے چودنا ہی نہیں آتا۔ بڑا چوتیا ہے اولو کا پٹھا تیراخالو۔ اس کا دل بھی چھوٹا ہے اور لن بھی چھوٹا ہے۔ مجھے اس کا لن بالکل پسند نہیں۔ اسی وجہ سے میں غیر مردوں سے چدوانے لگی ہوں۔ تیرا لن تو اس کے لن سے دوگنا لمبا ہے اور دوگنا موٹا۔

میں نے مموں کو چودنے کی رفتار بڑھا دی۔ میں اتنا جوش میں آ گیا کہ ان کے مموں پر ہی جھڑ گیا۔

میرے لن نے سارا منی اگل دیا۔

خالہ نے بڑے پیار سے میرا جھڑتا ہوا لن چاٹا۔ پھر خالہ نے بڑے پیار سے میرا لن دھویا اور پھر تولیے سے پونچھا۔

میں ننگا ہی تھا۔ وہ بھی ننگی ہی تھیں

خالہ ننگی رہ کر ہی کچھ کام کرنے لگیں تو میں پیچھے سے ان سے لپٹ گیا۔

میرا لن ان کے بدن سے ٹکرانے لگا تو وہ پھر کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا، دیکھو نہ خالہ، یہ کیا ہو رہا ہے۔

انہوں نے میرا لن دیکھا اور ہنس کر بولیں، مجھے معلوم تھا کہ لن دوبارہ کھڑا ہو جائے گا۔ اب دیکھ کیسے تن کر کھڑا ہوا ہے تیرا لن ۔

خالہ نے لن پکڑا اور مجھے بستر پر لے گئیں۔ وہ میرا لن ہلانے لگیں تو میں نے اپنی دو انگلیاں ان کی چوت میں گھسیڑ دیں۔

میں نے کہا، باپ رے باپ، آپ کی چوت تو بہت گرم ہے خالہ؟

وہ ترچھی نگاہ سے بولیں، تو پھر پیل نہ اپنا گرم گرم لن میری چوت میں!

میں نے ان کی دونوں ٹانگیں اپنی طرف کھینچیں اور ان کی کمر کے نیچے ایک تکیہ لگا دیا۔

میں پلنگ کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ میرا لن خالہ کی چوت کے سامنے آ گیا۔

میں نے لن چوت پر رکھا اور بھک سے اندر گھسا دیا!

لن ایک ہی دھکے میں پورا گھس گیا۔ خالہ چدی ہوئی تو تھیں ہی… انہیں کوئی درد تو نہیں ہوا لیکن اوف تو ان کے منہ سے نکل ہی گیا۔

وہ بولیں، ہاں، آج معلوم ہوا کہ کسی مرد نے پیلا ہے لن میری چوت میں! ککّو بھی اسی طرح پیلتا ہے لن !

میں نے پوچھا، یہ ککّو کون ہے؟

خالہ بولیں، ارے وہ میرا کالج کا دوست ہے۔ جب میں کالج میں پڑھتی تھی تو اس سے چداتی تھی۔ اس کے ساتھ ایک اور لڑکا تھا رجّو! وہ بھی اسی طرح پیلتا تھا۔ جب سے شادی ہوئی، تب سے میں غیر مرد کے لن کے لیے ترس گئی۔ آج مجھے غیر مرد کا لن ملا ہے تو پرانے دنوں کی یاد آ گئی۔

میں نے خالہ کی دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور دھکا دھک چودنے لگا ان کی چوت اور دیکھنے لگا ان کی اچھلتی ہوئی مستیلی چھاتیاں۔ وہ بھی اپنی کمر اچکا اچکا کر بڑی مستی سے چدوانے لگیں۔

میں بالکل موڈ میں تھا، بولا، فاریہ، تو سچ میں ایک رنڈی ہے۔ آج میں تیری چوت پھاڑ ڈالوں گا۔ تو نے مجھے بہت تڑپایا ہے۔ میں نے جانے کتنی بار تیرے نام کی مشت زنی کی ہے۔ آج میں تیری چوت بھی ماروں گا تیری کمر بھی ماروں گا۔

وہ بولیں، کمینے گوپی، میں بھی تیرے لن کی چٹنی بنا دوں گی۔ بھون ڈالوں گی تیرا لن اپنی چوت کے اندر۔ نہ تو بچے گا نہ تیرا لن ۔ میں چدانے میں بڑی حرامزادی ہوں۔

ہم دونوں اتنا بے چین ہو گئے کہ تقریباً ہم دونوں ایک ہی وقت پر ختم ہو گئے۔

شام کو خالہ کی دیورانی نسرین آ گئی۔

وہ خالہ سے زیادہ خوبصورت تھی۔ اس کے بھی ممے بہت بڑے بڑے تھے۔

میرا دل اس پر آ گیا۔

پر میں سوچنے لگا کہ اب آج رات کو خالہ کی چوت چود نہیں پاؤں گا۔ تو کیوں نہ گاؤں چلا جاؤں؟

خالہ نے مجھے اس سے ملوایا۔ میں نے اسے سلام کیا ،اور کہا آپ تو میری چھوٹی خالہ ہیں۔

وہ مجھے بڑی دیر تک دیکھتی رہی۔

ادھر میرا لن قابو سے باہر ہو رہا تھا۔

کچھ دیر میں میں نے خالہ سے گاؤں واپس جانے کی بات کی۔ تو اس نے میرے کان میں کہا، تو نے میری دیورانی کی چوت نہیں چودنی کیا؟

میری تو جیسے لاٹری کھل گئی۔ میں نے خالہ کے کان میں کہا، رات بھر چودوں گا آپ کی دیورانی کی چوت خالہ جی۔ بولو رہ جاؤں؟

وہ بولیں، ہاں رہ جاؤ۔

میں خوشی خوشی رہ گیا۔

اب میں نسرین کو بھی للچائی نگاہوں سے دیکھنے لگا؛ اس کے بدن کو بڑے غور سے دیکھنے لگا۔

پھر شام کو میں باہر تھوڑا گھومنے کے لیے نکل پڑا۔

جب میں واپس آیا تو دیکھا کہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں.

تو میں ان کی باتیں سننے لگا۔

خالہ بولیں، اچھا یہ بتا نسرین، تو شادی سے پہلے چدی ہوئی تھی نہ؟

نسرین: اب تم سے کیا چھپانا فاریہ باجی، میں شادی سے پہلے خوب چدی ہوئی تھی۔ سچائی تو یہ ہے کہ میں شادی سے ایک دن پہلے شاپنگ کے بہانے گھر سے گئی تھی اور دو لڑکوں سے الگ الگ چد کر آئی تھی۔ مگر شادی کے بعد ابھی تک میں کسی اور سے نہیں چدی۔

خالہ: غیر مرد سے چدنے کا دل ہے یا نہیں؟

نسرین: ارے باجی، کون غیر مرد سے چدنے کے لیے منع کرے گی؟ میں تو تیار ہوں۔

خالہ: تو آج میں پیلوں گی تیری چوت میں لن !

نسرین: ہائے دئیا، جلدی سے پیل دو لن … میں تو بیتاب ہو رہی ہوں۔ مگر لن کس کا ہے باجی؟

خالہ: گوپی کا لن ہے نسرین! بڑا مستی اور زبردست لن ہے اس کا!

نسرین: میری تو چوت اسے دیکھ کر ہی گیلی ہو گئی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ اس کا لن مل جائے تو مزہ آ جائے۔ لڑکا ہینڈسم ہے تو اس کا لن بھی ہینڈسم ہوگا۔

یہ سب سن کر میں بہت بے چین ہو گیا۔ میرا لن کھڑا ہو گیا۔

رات کو جب کھانا وغیرہ ہو گیا اور ہم سب لوگ بستر پر آ گئے۔

وہ دونوں میکسی پہنے ہوئے تھیں۔ میں صرف ایک نیکر… باقی ننگے بدن تھا کیونکہ گرمی کے دن تھے۔

ان دونوں کے ساتھ میں بھی بستر پر لیٹ گیا۔

میں سوچ رہا تھا کہ اگر نسرین میرا لن پکڑ لے تو مزہ آ جائے۔

میں اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا.

میرا دل اس کے مموں کو پکڑنے کا ہو رہا تھا پر ہمت نہیں تھی۔ اس کے آگے فاریہ خالہ کے مموں کو بھی نہیں پکڑ سکتا تھا۔

لن اندر ہی اندر بڑھتا جا رہا تھا۔

میں نے دیکھا کہ نسرین کی نظر میری نیکر پر ہے۔ اسے معلوم ہو گیا کہ میرا لن کھڑا ہے۔ وہ شاید میرے لن کے سائز کا اندازہ لگا رہی تھی۔

اتنے میں نسرین نے کہا، گوپی، تم اتنا ہینڈسم ہو تو لڑکیاں تم پر مرتی ہوں گی؟

میں نے کہا، ارے چھوٹی خالہ، گاؤں میں کہاں لڑکیاں ہیں؟ لڑکیاں تو شہروں میں ملتی ہیں۔

تب تک فاریہ خالہ بولیں، اگر کوئی لڑکی ملے تو اسے چود لو گے تم؟

میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ہاں بالکل چود لوں گا۔

تب نسرین نے کہا، لڑکی نہ ہو، کسی کی بیوی ہو تو کیا کرو گے؟

میں نے کہا، تب تو اور مستی سے چودوں گا۔

بس فاریہ خالہ نے میری نیکر اتار کر پھینک دی اور میں ان دونوں کے آگے ننگا ہو گیا۔

میرا لن کھڑا تھا تو نسرین خالہ نے اسے لپک کر پکڑ لیا اور بولی، واہ، کیا مستیلا لن ہے تیرا گوپی! بڑا موٹا اور شاندار لن ہے تیرا!

اس نے تڑاتڑ لن کی کئی چممیاں لے لیں۔

پھر فاریہ خالہ نے اس کی میکسی اتار دی تو وہ ننگی ہو گئی۔

نسرین کو ننگی دیکھ کر میں تو پاگل ہو گیا۔

پھر خالہ بھی ننگی ہو گئیں۔

میں دونوں کو ننگی دیکھ کر مست ہوتا جا رہا تھا۔

تب میں بستر کے بیچ میں لیٹ گیا اور یہ دونوں مستیلی جوان عورتیں دیورانی جٹھانی ننگی ننگی باری باری سے میرا لن چاٹنے لگیں۔

جٹھانی دیورانی کے منہ میں لن گھسیڑتی تو دیورانی جٹھانی کے منہ میں!

جب جٹھانی لن چوستی تو دیورانی میرے خصیوں کو چوستی اور دیورانی جب لن چوستی تو جٹھانی میرے خصیوں کو۔ مستی ہی مستی تھی… مزہ ہی مزہ تھا۔

میں بھی کبھی دونوں کی چھاتیوں کو دباتا تو کبھی دونوں کی چوت سہلاتا۔ کبھی چوت کے اندر انگلی گھسیڑ دیتا۔

اتنے میں خالہ اٹھیں اور میرا لن پکڑ کر دیورانی کی چوت پر ٹکا دیا۔

پھر اس نے میرے چوتڑ دبائے تو لن اس کی چوت میں فوراً گھس گیا۔

وہ بول پڑی، اُئی ماں… بڑا موٹا ہے لن تیرا! سارا گھس گیا۔

جٹھانی بولیں، اب لے نہ اچھی طرح غیر مرد کے لن کا مزہ!

نسرین سچ میں کمر ہلا ہلا کر چدوانے لگی اور فاریہ ایک ہاتھ سے میرے خصوں کو سہلانے لگی اور دوسرے ہاتھ سے نسرین کی چھاتیوں کو۔

ہم تینوں کو سیکس کا مزہ آنے لگا۔ مجھے نسرین کی چوت بڑا مزہ دے رہی تھی۔

میں نے چدائی کی رفتار بڑھا دی تو نسرین نے کہا، واہ… بڑا مزہ آ رہا ہے یار! مجھے کسی نے اتنی اچھی طرح سے نہیں چودا۔ تو تو بڑا چودو ہے یار گوپی۔ مجھے اپنی بیوی کی طرح چود… او ہو… آ ہہوں اوں اہا ہہ ہہ ہہ ہہ مزہ آ رہا ہے اور چودو، پورا پیل کے چودو۔ یہ میری جٹھانی میری چوت پھڑوا رہی ہے۔ اس کی چوت پھاڑوں گی۔ ہائے رے… کیا مستیلی چدائی ہے۔ میں اسی طرح چدنا چاہتی تھی۔ غیر مرد کا لن سچ میں بڑا پیارا ہوتا ہے۔

میں نے کہا، نسرین، تیری چوت بڑی ٹائٹ ہے! تو بھی اپنی جٹھانی کی طرح بھک بھک چداتی ہے۔ تو بھی رنڈی سے کم نہیں ہے یار!

نسرین نے کہا، تجھے کیا معلوم گوپی، کہ ہر عورت اندر سے رنڈی ہی ہوتی ہے۔ رات کو وہ اور زیادہ رنڈی ہو جاتی ہے۔

اس کی باتوں سے مجھے چدائی میں زیادہ مزہ آنے لگا۔

کچھ دیر بعد وہ اٹھی اور لن اپنی جٹھانی کی چوت میں پیل دیا۔

اب میں دیورانی کے سامنے اس کی جٹھانی کی چوت چودنے لگا۔ نسرین نے کہا، لے جٹھانی، اب میں تیری چوت کی دھجیاں اڑاؤں گی۔ تیری چوت بڑی مستیلی ہے۔

میں دونوں کی چوت باری باری چودنے لگا۔

مجھے کیا معلوم تھا کہ چدائی میں اتنا مزا آتا ہے۔

آخر میں جب میرا لن جھڑنے لگا تو دونوں ننگی گرم عورتوں نے مل کر بڑے مزے سے میرا جھڑتا ہوا لن چاٹا اور انجوائے کیا۔

خالہ نے مجھ سے اپنی دیورانی کی چوت چدوا کر خوب مزہ لیا۔

اس طرح میں نے رات بھر دونوں کی چوت کا مزہ لیا۔

پھر تو دونوں میرے لن کی دیوانی ہو گئیں۔ (ختم شد)

The post دودھ والا appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/feed/ 0
سوتیلی ماں اور بہن قسط 7 https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/ https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/#respond Sat, 27 Sep 2025 19:55:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/   میرے پورے جسم میں مزے کی لہریں دوڑ رہی تھیں…. پھر سمرا چاچی نے میرے آدھے لن کو منہ میں لیا اور اپنی زبان کو میرے لن کی ٹوپی پر گول گول گھمانا شروع کر دیا… جیسے ہی سمرا چاچی کی زبان میرے لن کی ٹوپی پر پیشاب والے سوراخ پر رگڑ کھاتی، تو […]

The post سوتیلی ماں اور بہن قسط 7 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرے پورے جسم میں مزے کی لہریں دوڑ رہی تھیں…. پھر سمرا چاچی نے میرے آدھے لن کو منہ میں لیا اور اپنی زبان کو میرے لن کی ٹوپی پر گول گول گھمانا شروع کر دیا… جیسے ہی سمرا چاچی کی زبان میرے لن کی ٹوپی پر پیشاب والے سوراخ پر رگڑ کھاتی، تو میں مستی میں مچل اٹھتا… میرے لن کی رگیں پوری طرح پھول چکی تھیں… سمرا چاچی نے میرے لن کو منہ سے باہر نکالا اور میری کمر کے دونوں طرف ٹانگیں کر کے میرے اوپر آ گئیں… میرا لن سمرا چاچی کے تھوک سے پوری طرح گیلا ہو چکا تھا… سمرا چاچی نے ہاتھ نیچے لا کر میرا لن پکڑا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی، “چل تجھے میں دکھاتی ہوں کہ عورتیں لن کی سواری کیسے کرتی ہیں…” سمرا چاچی نے لن کو پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا اور جیسے ہی اس نے پھدی کو لن پر دبایا تو میرا لن سمرا چاچی کی پھدی کے اندر گھسنے لگا… “آہ… ہائے… بڑا تگڑا ہے تیرا لن…” سمرا نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا…

اور آہستہ آہستہ اپنی پھدی کو میرے لن پر دباتے ہوئے پورا لن پھدی میں لے لیا… سمرا نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر تیزی سے اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا… میں بیڈ پر پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا… سامنے سمرا میرا لن پھدی میں لیے اوپر نیچے ہو رہی تھی… اس کی موٹی بنڈ میری رانوں سے ٹکرا کر شڑپ شڑپ کی آوازیں کرنے لگی… اس کے بڑے بڑے ممّے ایسے ہل رہے تھے… سمرا نے جب دیکھا کہ میں حسرت بھری نظروں سے اس کے اوپر نیچے ہوتے ممّوں کو دیکھ رہا ہوں، تو اس نے میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے ممّوں پر رکھ دیا… “تُو کیوں فارغ بیٹھا ہے… چل اپنی گشتی سمرا کے ممّے دبا…” سمرا نے تیزی سے اپنی بنڈ ہلاتے ہوئے کہا…

میں نے بغیر کچھ کہے سمرا کے ممّے دبانے شروع کر دیے…سمرا پوری رفتار سے اپنی بنڈ ہلائے جا رہی تھی… میرا لن پھر سے سمرا کی پھدی کے پانی سے گیلا ہو کر اندر باہر ہو رہا تھا… سمرا پاگلوں کی طرح آہ اوہ کیے جا رہی تھی… “ہائے سمیر… اب تو مجھے تیرا لن روز چاہیے اپنی پھدی میں… آہ… سی… اوہ… مزا آ گیا… بول روز میری پھدی مارے گا نا…” سمرا نے پوری رفتار سے اپنی بنڈ کو اوپر نیچے کرتے ہوئے کہا… پورے کمرے میں سُرپ سُرپ، تھپ تھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں… سمرا کا جسم پھر سے اکڑنے لگا… سمرا کی پھدی سے مزید پانی بہہ کر باہر آ رہا تھا… سمرا نے مستی میں آ کر جھک کر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے… اور پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنی کمر کو ہلانے لگی… اب سمرا کی آہ و پکار ہم دونوں کے منہ کے اندر گھٹ کر رہ جا رہی تھی…

جیسے ہی سمرا کیپھدی نے پانی چھوڑا… سمرا نے تیزی سے سانس لیتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے ہٹا لیا… “آہ… آج پوری ہوئی تسلی۔۔۔” چاچی میرے اوپر سے اٹھ کر بستر پر سائیڈ میں لیٹ گئیں۔۔۔لیکن میں ابھی راستے میں ہی تھا۔۔۔چاچی کو بھی اس بات کا اندازہ تھا۔۔۔چاچی نے دو تین لمبی سانسیں لیں۔۔۔اور پھر اٹھ کر ڈاگی سٹائل میں آ گئیں۔۔۔یہ سب میرے لیے ایک دم نیا تھا۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔”سمیر چل پیچھے آ کر دے اپنی چاچی کی پھدی میں لن اور جلدی سے اپنا پانی نکال لے۔۔۔” چاچی کی بات سنتے ہی میں چاچی کے پیچھے گھٹنوں کے بل آ گیا۔۔۔چاچی نے اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے ایک بازو نکال کر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کر دیا۔۔۔

اب مجھے چاچی کے آگے ہکمی بولنے ضرورت نہیں تھی۔۔۔جیسے ہی میرے لن کا ٹوپی چاچی کی پھدی پر لگا تو، میں نے پورے جوش سے ایک زبردست جھٹکا مارا۔۔۔”آہہہہہ ایسے ہی ۔۔۔ہاں۔۔۔جان ۔۔۔” چاچی نے پیچھے گردن گھما کر کہا۔۔۔”ہاں میری بنڈ کو پکڑ کر زور زور سے شاٹ مار۔۔۔” میں نے ایسے ہی کیا۔۔۔چاچی کی موٹی بنڈ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر دباتے ہوئے زور زور سے شاٹ لگانے شروع کر دیے۔۔۔اس پوزیشن میں چاچی کو چودتے ہوئے میں بہت زیادہ جوش میں آ چکا تھا۔۔۔اس لیے مزید 1-2 منٹ میں ہی میں نے چاچی کی پھدی میں اپنا پانی نکالنا شروع کر دیا۔۔۔

جب میں دوسری بار جھڑا تو میں بری طرح تھک چکا تھا۔۔۔میرا لن جیسے ہی ڈھیلا ہو کر چاچی کی پھدی سے باہر آیا۔۔۔میں پیچھے بستر پر لیٹ گیا۔۔۔چاچی بھی ایک لمبی سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئیں۔۔۔

ان پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے میری بری حالت ہو رہی تھی۔۔۔دوپہر کے 3 بج چکے تھے۔۔۔اس بار میں خیالوں سے باہر آیا۔۔۔جب باہر ڈور بیل بجی۔۔۔میرا لن اس وقت تک ٹائٹ تھا۔۔۔میں نے باہر جا کر گیٹ کھولا تو دیکھا کہ، باہر نجیبہ اپنے مامی کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔”کیا ہوا تم اتنی جلدی کیسے آ گئیں۔۔۔۔؟” میں نے گیٹ سے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا تو، نجیبہ اندر آ گئی۔۔۔اسکے ہاتھ میں کچھ شاپنگ بیگز تھے۔۔۔”اچھا نجیبہ اب میں جاتی ہوں۔۔۔” نجیبہ کی مامی نے مڑتے ہوئے کہا تو، نجیبہ نے پیچھے مڑ کر اپنی مامی سے کہا۔۔۔

نجیبہ: مامی پانی تو پی لیں۔۔۔”

“نہیں بہت دیر ہو رہی ہے۔۔۔پھر کبھی آؤں گی۔۔۔”

اسکی مامی کے جانے کے بعد میں نے گیٹ بند کیا اور جیسے ہی مڑا تو دیکھا کہ، نجیبہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔ اور اسکے کمرے کا دروازہ بند تھا۔۔۔میں نے سوچا شاید وہ تھک گئی ہوں گی۔۔۔اس لیے میں وہاں سے اپنے کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔لیٹے لیٹے مجھے نیند آنے لگی۔۔۔ابھی میری آنکھ لگے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ، مجھے کسی نے ہلایا۔۔۔جب میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو، بستر کے پاس نجیبہ کھڑی تھی۔۔۔”کھانا کھا لو۔۔۔” نجیبہ باہر چلی گئیں۔۔۔میں بستر سے اٹھا اور ہاتھ منہ دھونے کے لیے باتھ روم میں چلا گیا۔۔۔جب واپس آیا تو دیکھا نجیبہ برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔اسنے اپنے سامنے دو پلیٹیں رکھی ہوئی تھیں۔۔۔میں اسکے سامنے چارپائی پر بیٹھ گیا۔۔۔

جب میں نے پلیٹ میں کھانے کو دیکھا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ، نجیبہ باہر ہوٹل سے ہی کھانا لے کر آئی تھیں۔۔۔”تم تو شام کو آنے والی تھیں۔۔۔پھر اتنی جلدی کیسے آ گئیں۔۔۔” میں نے کھانا کھانا شروع کر دیا۔۔۔

“ایسے ہی میرا من نہیں لگا شاپنگ میں۔۔۔”

میں:اچھا۔۔۔پر میں نے تو سنا ہے کہ، لڑکیوں کو شاپنگ کرنا بہت پسند ہوتا ہے۔۔۔پھر تمہارا من کیسے نہیں لگا شاپنگ میں۔۔۔

نجیبہ:اب نہیں لگا تو نہیں لگا۔۔۔اس میں ایسی بتانے والی بات نہیں ۔۔۔

میں نے دیکھا کہ نجیبہ کا موڈ تھوڑا آف تھا۔۔۔اس لیے میں چپ ہو گیا۔۔۔اور کھانا کھانے لگا۔۔۔نجیبہ نے بھی کوئی بات نہ کی۔۔۔ میں نے کھانا کھا کر اپنی پلیٹ اٹھا کر کچن میں چلا گیا۔۔۔وہاں جا کر میں نے سنک میں پلیٹ کو دھونا شروع کیا تھا کہ، نجیبہ کچن میں آ گئیں۔۔۔”پلیٹ یہاں دے دو میں دھو دیتی ہوں۔۔۔” نجیبہ نے اپنی پلیٹ شیلف پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔مجھے اسکے اکھڑے ہوئے موڈ کا احساس تھا۔۔۔”مجھے اپنے کام خود کرنے کی عادت ہے۔۔۔میں اپنی عادت خراب نہیں کرنا چاہتا۔۔۔” میں نے پلیٹ کو دھو کر رکھا اور باہر آ گیا۔۔۔اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

نجیبہ بھی پلیٹ دھو کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔۔ابھی کچھ ہی وقت گزرا ہوگا کہ، باہر ڈور بیل بجی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں اٹھ کر باہر جاتا۔۔۔میں ابھی دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ، میں نے دیکھا نجیبہ اپنے کمرے سے نکال کر گیٹ کی طرف جا رہی ہیں۔۔۔نجیبہ نے گیٹ کھولا تو سامنے ردا کھڑی تھیں۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اندر آ گئیں۔۔۔ان دونوں میں کچھ بات ہوئی، لیکن وہ دونوں دور کھڑی تھیں۔۔۔عام طور پر دونوں باہر برآمدے میں بیٹھ کر کافی دیر تک باتیں کرتی رہتی تھیں۔۔۔لیکن آج نجیبہ نے گیٹ بند کیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔اور ردا میرے کمرے کی طرف آ گئیں۔۔۔”آج نجیبہ کو کیا ہوا۔۔۔؟” ردا نے اندر آ کر پوچھا۔۔۔”پتہ نہیں صبح اپنے ماما کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھیں۔۔۔جب سے واپس آئی ہیں ایسے ہی موڈ آف کیے گھوم رہی ہیں۔۔۔تم جا کر ان سے پوچھو کہ آخر بات کیا ہے۔۔۔”

ردا:اچھا جاتی ہوں۔۔۔

ردا نجیبہ کے کمرے میں چلی گئیں۔۔۔میں وہیں بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہ، کب ردا باہر آئیں۔۔۔اور مجھے بتائیں کہ، آخر نجیبہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد ردا کمرے میں آئیں۔۔۔اور میرے پاس آ کر بستر پر بیٹھ گئیں۔۔۔”کیا ہوا کچھ بتایا اس نے۔۔۔؟” میں نے ردا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔تو ردا نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔”کیا ہوا اسے۔۔۔۔۔”

ردا:عشق۔۔۔

میں: کیا کہا عشق۔۔۔کس سے۔۔۔

ردا: (مسکراتے ہوئے۔۔۔) تم سے اور کس سے۔۔۔

میں: تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔۔۔تم جانتی ہو نا۔۔۔ہمارا کیا رشتہ ہے۔۔۔اور تم یہ کیا فضول باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔؟

ردا: اب جو سچ ہے وہ سچ ہی رہے گا۔۔۔آج جب وہ اپنے مامی اور مامے کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھیں۔۔۔تو اسکی مامی کا بھتیجا بھی وہاں آیا ہوا تھا۔۔۔ اسکی مامی چاہتی ہیں کہ، نجیبہ اور اسکی بڑی بہن کے بیٹے کا رشتہ ہو جائے۔۔۔

میں: لیکن وہ ہوتے کون ہیں۔۔۔نجیبہ کے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ لینے والے۔۔۔

ردا: ایسے فیصلے سب کی رضامندی کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔۔۔نجیبہ کی مامی نے نجیبہ کی امی نازیہ سے پہلے ہی بات کر رکھی تھی۔۔۔نجیبہ کی امی کے ہاں کے بعد ہی، اسکی مامی نے آگے قدم اٹھایا ہے۔۔۔

میں: لگتا ہے نجیبہ کی امی پاگل ہو گئی ہیں۔۔۔ابھی نجیبہ کی عمر بھی کیا ہے۔۔۔ابھی اسکول بھی پاس نہیں کیا اسنے۔۔۔اور اسے اپنی بیٹی بولی لگانے لگیں۔۔۔

ردا: بات بولی کے نہیں ہے سمیر۔۔۔دراصل نجیبہ کی مامی کی بہن کا بیٹا ہے، کچھ مہینے پہلے ہی پولیس میں نوکری لگی ہے۔۔۔اچھی پوسٹ پر بھی ہے۔۔۔اسکی عمر بھی 20 سال ہے۔۔۔خاندان بھی رئیس ہے۔۔۔اس لیے سگائی کے لیے راضی ہو گئی ہوں گی اسکی امی۔۔۔اب ایسے رشتے تو بار بار نہیں ملتے نا۔۔۔

میں نے دیکھا کہ، ردا مجھے ایسے سب سنا رہی تھیں۔۔۔جیسے مجھے بھڑکانا چاہتی ہوں۔۔۔”اچھا پھر وہ اتنی اداس کیوں ہیں۔۔۔اتنا اچھا رشتہ آیا ہے۔۔۔اسے سگائی کر لینی چاہیے۔۔۔”

ردا: کیوں تمہیں برا نہیں لگے گا۔۔۔اگر نجیبہ کی شادی اس سے ہو گئی تو۔۔۔

میں: کیوں مجھے کیوں برا لگنا۔۔۔

ردا: دفاع کرو ان باتوں کا۔۔۔میں یہاں تم سے ملنے آئی تھی۔۔۔اور تم دونوں نے مجھے کون سی باتوں میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔۔۔

ردا نے میرے پیجامے کے اوپر سے میرے لن کو ہاتھ میں لے کر دبانا شروع کر دیا۔۔۔لیکن نجیبہ کے رشتے کی بات سن کر میرا موڈ اتنا اپسیٹ ہو گیا تھا کہ، میں نے ردا کا ہاتھ پکڑ کر ہٹا دیا۔۔۔”کیا ہوا۔۔۔۔؟” ردا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔

میں: کچھ نہیں تم جاؤ یہاں سے۔۔۔

ردا: کمال ہے غصہکسی کا نکل رہے کسی پر۔۔۔اب اس میں میرا کیا قصور۔۔۔ رشتہ تو اسکی امی کرنا چاہتی ہیں وہاں پر۔۔۔

میں: میں نے اب اور کچھ نہیں سننا۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔

ردا: جا رہی ہوں۔۔۔اگر اتنا ہی شوق ہے تو، جا کر اسے چود کیوں نہیں دیتے۔۔۔ جب پیٹ سے ہو جائے گی تو، نازیہ آپی کو اسکی شادی تمہارے ساتھ ہی کرنی پڑے گی۔۔۔

ردا اٹھ کر باہر چلی گئیں۔۔۔ردا کی بات سن کر میرا خون کھول اٹھا۔۔۔میرے اندر مانو شیطان گھر کر چکا تھا۔۔۔میں تیزی سے باہر نکل کر ردا کے پیچھے جانے لگا۔۔۔ ابھی ردا گیٹ تک ہی پہنچی تھیں کہ، میں نے پیچھے سے ردا کے بالوں کو پکڑتے ہوئے اسے سائیڈ میں دیوار کے ساتھ لگا دیا۔۔۔ردا کی فرنٹ سائیڈ دیوار سے دب گئی۔۔۔”آہہہہہ سمیر یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔” اس سے پہلے کہ ردا کو کچھ سمجھ آتا۔ میں نے جھٹکا دے کر ردا کی ایلاسٹک والی شلوار کو نیچے کھینچ دیا۔۔۔”پاگل مت بنو سمیر اگر یہی سب کرنا ہے تو کمرے میں چلو۔۔۔” ردا نے مجھے الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔

لیکن اب تک میں جھٹکے سے پیجامے کو نیچے سرکا چکا تھا۔۔۔میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں لے کر دو تین بار ہی ردا کی بنڈ کی لائن میں رگڑا تھا کہ، میرا لن پوری سختی سے کھڑا ہو گیا۔۔۔میرے ساڑھے 8 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا لن ہوا میں پوری شدت کے ساتھ جھٹکے کھانے لگا۔۔۔میں نے اپنے لن کے ٹوپی کو ردا کی بنڈ کی لائن میں رگڑتے ہوئے، تھوڑا سا گھٹنوں کو بینڈ کیا۔۔۔اور پھر اسکی ٹانگوں کے درمیان سے اپنے لن کو گزارتے ہوئے، اپنے لن کے ٹوپی کو ردا کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کر کے زور دار دھکا مارا۔۔۔میرا لن ردا کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا ایک ہی بار میں پورا کا پورا اندر جا گھسا۔۔۔

ردا کی پھدی یک دم خشک تھی۔ جیسے میرا لن ردا کی پھدی کو چیرتا ہوا اندر گھسا ردا درد سے ایک دم چیخ اٹھیں۔۔۔”****** مر گئی۔۔۔۔” لیکن میرے سر پر تو، وحشی جانور سوار ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ردا کے بالوں کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا اور دوسرے ہاتھ سے ردا کے بائیں ممے کو قمیض کے اوپر سے دباتے ہوئے دھکے لگانے شروع کر دیے۔۔۔ردا نے اپنے چہرے کو گھما کر میری طرف دیکھا تو، اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔”**** کے لیے مجھ پر ترس کھاؤ۔۔۔آہہہہہ سمیر دھیرے۔۔۔اوہہہہ ہائے امی۔۔۔کڈ لے۔۔۔سمیر۔۔۔۔” ردا نے درد سے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔

اسکی پھدی ایک دم خشک تھی۔۔۔جسکی وجہ سے اسے بہت درد ہو رہا تھا۔۔۔لیکن مجھ پر اسکی درد بھری آوازوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔میں اپنی ہی دھن میں لگاتار اپنے لن کو ردا کی چوت کے اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ، دو قدم پر نجیبہ کا کمرہ بھی ہے۔۔۔تبھی میری نظر نجیبہ کے کمرے کے دروازے پر پڑی۔۔۔نجیبہ کمرے کے دروازے پر کھڑی حیرت بھری نظروں سے مجھے اس روپ میں دیکھ رہی تھیں۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔۔۔جب میں نجیبہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، مجھے پتا نہیں کیا ہوا، میں نے اور زور سے نجیبہ کے بالوں کو پکڑ کر کھینچا تو اسکا سر پیچھے کی طرف ہو گیا۔۔۔میں نے لن کو پوری رفتار سے ردا کی پھدی میں اندر باہر کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

ردا کی نظر بھی نجیبہ پر پڑ گئی۔۔۔لیکن وہ بے بسی سے بھری ہوئی آنکھوں سے نجیبہ کو دیکھتی رہی۔۔۔پر پھر بھی کچھ نہ بولی۔۔۔آخر کار جب میرے وحشی پن کی انتہا ہو گئی تو۔۔۔نجیبہ آگے بڑھ کر مجھے دھکا دے دیا۔۔۔میں پیچھے کی دیوار سے جا ٹکرایا۔۔۔”ہوش میں آؤ۔۔۔یہ کیا وحشی پن ہے۔۔۔” میرا لن ردا کی پھدی سے باہر آ چکا تھا۔۔۔جو اب نجیبہ کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظریں میرے لمبے موٹے عضو پر پڑیں تو، اس نے نظریں جھکا لیں۔۔۔میں نے ردا کی طرف دیکھا، جو وہیں دیوار کے ساتھ پیٹھ ٹکائے کبھی میری طرف تو کبھی نجیبہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔”اور تم کیو بیٹھی ہو۔۔۔” نجیبہ نے گرجیلی آواز میں ردا سے کہا۔۔۔تو ردا فوراً وہاں سے کھڑی ہو گئی۔۔۔اس نے اپنی شلوار کو درست کیا۔۔۔”اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔اور آئندہ ۔۔۔یہاں کبھی بھی نہیں آنا۔۔۔نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔” نجیبہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

ردا نے ایک بار میرے طرف حیرت بھری نظروں سے دیکھا اور گیٹ کھول کر باہر جانے لگی تو، میں نے بھی جلدی سے اپنے پاجامے کو اوپر کر لیا۔۔۔ردا کے جانے کے بعد میں نے گیٹ بند کیا۔۔۔تو میرا غصہ تھوڑا کم ہوا۔۔۔لیکن اب مجھے غصہ ردا پر نہیں نجیبہ پر آ رہا تھا۔۔۔میں اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔اس کے بعد اور کوئی خاص بات نہ ہوئی، رات کو سات بجے میری سوتیلی ماں اور ابّو ادھر واپس آ گئے ۔۔۔اس دن میرا موڈ بہت خراب رہا۔۔۔میں کھانا کھائے بغیر سو گیا۔۔۔اگلی صبح میں اٹھا اور تیار ہو کر کالج کے لیے چلا گیا۔۔۔صبح بھی ناشتہ نہیں کیا۔۔۔پورا دن موڈ خراب رہا۔۔۔

کالج سے آف کے بعد میرے گھر جانے کا بھی موڈ نہیں تھا۔۔۔میں کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا سوچ رہا تھا کہ، گھر جاؤں یا نہ جاؤں۔۔۔تبھی پیچھے سے ہارن کی آواز سنائی دی۔۔۔فیاض اپنی بائیک لے کر میرے پاس آیا۔۔۔”کیا ہوا یہاں ایسے کیوں کھڑا ہے۔۔۔چل بیٹھ۔۔۔”

میں: نہیں یار تم جاؤ۔۔۔میں بعد میں آؤں گا۔۔۔

فیاض: ہوا کیا میرے سرکار۔۔۔تمہارا موڈ آف لگ رہا ہے۔۔۔

میں: یار ایسے ہی۔۔۔کل نجیبہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔۔۔میرا دل نہیں کر رہا گھر جانے کا۔۔۔

فیاض: اوہ اور کہاں جانا ہے تم۔۔۔چل بیٹھ گاؤں چلتے ہیں۔۔۔میرے گھر چل۔۔۔

اور کہیں جا بھی تو نہیں سکتا تھا۔۔۔اس لیے فیاض کی بائیک پیچھے بیٹھ گیا۔۔۔اور ہم گاؤں کی طرف چل پڑے۔۔۔”دیکھ یار ایسی چھوٹی موٹی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں گھر خاندان میں۔۔۔پھر اس طرح اپنا موڈ کیوں خراب کر رہے ہو۔۔۔”

میں: یار توں نہیں سمجھے گا۔۔۔

فیاض: دیکھ تیرا دوست ہوں۔۔۔اسلیے تجھے سمجھا رہا ہوں۔۔۔تمہاری سوتیلی ماں اور بہن تو یہی چاہیں گی نہ کہ، تم ایسے ہی ناراض ہو کر کہیں دور چلے جاؤ۔۔۔اور بعد میں تمہارے حصے کی جائیداد بھی سنبھال لیں۔۔۔دیکھ اس گھر پر سب سے زیادہ تیرا حق ہے۔۔۔وہ تیرا ہے۔۔۔پھر کیوں ایسے باہر گھومنا۔۔۔

میں: ہاں شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔

ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ہم گاؤں پہنچ گئے۔۔۔فیاض نے بائیک کو میرے گھر کے سامنے روک دیا۔۔۔”لے یار تیرا گھر آ گیا۔۔۔اب مرد بن اور حالات کا سامنا کرنا سیکھ۔۔۔” فیاض بائیک لے کر چلا گیا۔۔۔میں نے ڈور بیل بجائی تو تھوڑی دیر بعد نجیبہ نے گیٹ کھولا۔۔۔وہ مجھ سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ، میں اسے ایگنور کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔میں نے کپڑے بدلے اور باتھ روم میں جا کر ہاتھ منہ دھو کر اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔

میں نے ٹی وی آن کیا اور بستر پر بیٹھا ہی تھا کہ نجیبہ اندر آ گئیں۔۔۔”آپ کے لیے کھانا لگا دوں۔۔۔”

میں: مجھے اپنے کام خود کرنے کا عادی ہو ۔۔۔مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں جاؤ یہاں سے۔۔۔

نجیبہ: تھوڑا سا کھا لیں۔۔۔آپ نے کل رات بھی کچھ نہیں کھایا۔۔۔اور صبح بھی کچھ کھا کر نہیں گئے۔۔۔

میں: تو تمہیں کیوں اتنی فکر ہو رہی ہے میرے کھانے کی، تم جاؤ یہاں سے۔۔۔مجھے کوئی کھانا وانا نہیں کھانا۔۔۔

نجیبہ: میں دیکھتی ہوں کیسے نہیں کھاتے آپ۔۔۔میں لے کر آتی ہوں۔۔۔

میں: تمہیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔تمہیں میری پرواہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

نجیبہ: مجھے ضرورت نہ ہوگی تو اور کسے ہوگی۔۔۔

میں: دیکھو میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ غلط بول دوں جاؤ یہاں سے۔۔۔

نجیبہ: نہیں جاتی اور میں بھی دیکھتی ہوں آپ کھانا کیسے نہیں کھاتے۔۔۔

نجیبہ کمرے سے باہر نکل کر کچن میں چلی گئیں۔۔۔مجھے اب نجیبہ پر بہت غصہ آ رہا تھا۔۔۔مجھے پتہ نہیں کیا ہوا، میں اٹھ کر کچن میں چلا گیا۔۔۔ نجیبہ پلیٹ میں کھانا ڈال رہی تھیں۔۔۔میں نے اس کے ہاتھ سے پلیٹ ہٹا کر شیلف پر پھینک دی۔۔۔”تمہیں ایک بار میں میری بات سمجھ نہیں آتی کیا۔۔۔میرا تم لوگوں کے ساتھ نہ کوئی رشتہ تھا۔۔۔اور نہ کوئی ہو سکتا ہے۔۔۔خواہ مخواہ رشتہ بنانے کی کوشش نہ کرو۔۔۔”

نجیبہ: معاف کر دوں۔۔۔صبح امی ابو دونوں مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ آپ کھانا کیوں نہیں کھا کر گئے۔۔۔میں انہیں کیا جواب دیتی۔۔۔آپ کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔۔۔

میں: میری بیوی نہیں ہو تم۔۔۔جو میں تمہاری ہر بات مانتا رہوں۔۔۔

The post سوتیلی ماں اور بہن قسط 7 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-7/feed/ 0
ماں کا بدلہ قسط 4 https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/#respond Thu, 25 Sep 2025 16:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/ ماں کا بدلہ پارٹ 4 آنٹی نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا اب تم جاو اور جیسا کہا ہے ویسا ہی کرنا اس سے ہٹ کہ کچھ نہ کرنا میں نے آنٹی کی طرف دیکھا اور ہاتھ اوپر کر کہ ان کے دونوں ممے پکڑنے کی ناکام کوشش کی آنٹی میری اس کوشش پہ ہنس […]

The post ماں کا بدلہ قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>

ماں کا بدلہ

پارٹ 4

آنٹی نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا اب تم جاو اور جیسا کہا ہے ویسا ہی کرنا اس سے ہٹ کہ کچھ نہ کرنا میں نے آنٹی کی طرف دیکھا اور ہاتھ اوپر کر کہ ان کے دونوں ممے پکڑنے کی ناکام کوشش کی آنٹی میری اس کوشش پہ ہنس پڑیں اور بولیں بدمعاش اتنے دن آیا نہیں اور جب وقت نہیں ہے تو اب کھینچنے لگا ہے اتنے دن کیوں نہیں آیا ماں چود ۔ میں شرمندہ سا ہو کہ ہنس پڑا کیونکہ مجھے آنٹی کی طرف آنے میں ایک جھجھک تھی اور اگر وہ نا بلاتیں تو شائد میں آج بھی ان کی طرف نا آتا۔ وہ خود ہی بولیں اچھا اب جاو دیر ہو رہی ہے رات شادی پہ ملتے ہیں ۔ میں نے ان سے کہا آنٹی بس خیال رکھنا مجھے مار نا پڑے ایسا نا ہو مجھے امی ماریں تو وہ ہنس پڑیں اور بولیں اس عورت کے حسن کے لیے لوگ کیا کیا کر جائیں اور تم مار سے ڈرتے ہو اور ڈرنے والے کو کچھ نہیں ملتا اور ہنسنے لگیں۔ پھر بولیں کچھ نہیں ہو گا ابھی تو یہ پہلا ٹیسٹ ہے اس پہ دیکھ کہ آگے عمل کریں گے اور میرے گال اپنے ہاتھ میں لیکر کھینچنے لگیں ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے جیسا آپ کہتی ہو وہی ہوگا میں ویسا ہی کروں گا۔ وہ بولیں تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے تم بھی یاد کرو گے مجھے کہ کس سے دوستی کی تھی اور پھر بولیں اب جاو گھر جلدی سے مجھے بھی دیر ہو رہی ہے میں پھر ان سے مل کہ گھر کی طرف نکل پڑا۔ گھر پہنچا تو امی نے کھانا وغیرہ تیار کیا ہوا تھا مجھے گھر آتے دیکھ کہ انہوں نے کہا کہ جلدی آو کھانا کھا لو پھر ہم نے شادی پہ بھی جانا ہے میں ان کی آواز سن کہ کچن کی طرف بڑھ گیا اور امی نے مجھے کھانا دیا اور میں کھانا کھانے لگا امی مجھے کھانا دے کر کچن سے باہر نکل گئیں ۔ کھانا کھانے کے بعد میں نے برتن واش بیسن میں رکھے اور باہر نکلا تو دیکھا امی لاونج میں نہ تھیں تو میں ان کے کمرے کی طرف چل پڑا کہ اپنے کپڑون کا ان سے پوچھ لوں کہ کون سے پہنوں ۔ میں ان کے کمرے میں داخل ہوا تو ایک لمحے کے لیے مجھے سکتہ ہو گیا امی نے ہلکے گلابی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان کے بال کھلے ان کی کمر تک تھےاور وہ شیشے کے آگے جھکی میک اپ کر رہی تھیں ۔ دروازہ کھلنے سے انہوں نے شیشے میں ہی مجھے آتے دیکھا اور پھر میک اپ میں مشغول ہو گئیں ۔ میں نے شیشے میں انہیں دیکھا تو ان کے کھلے گلے کی وجہ سے ان کے ممے آدھ ننگے شیشے میں سامنے نظر آ رہے تھے اور میں ان کے پاس کھڑا تھا ان کے جسم سے ہلکی ہلکی مہک نکل رہی تھی۔ انہوں نے اسی طرح برش چہرے پہ چلاتے ہوئے پوچھا ہاں کیا مسئلہ ہے ؟ میں نے شیشے میں انہیں دیکھا اور پھر نظر جھکا کہ کہا وہ میرے کپڑے کون سے ہیں میں کون سے کپڑے پہنوں تو امی نے ایک ادا سے سر کو جھٹکا جس سے ان کے بال ایک سائیڈ پہ ہوئے اور کندھے کے دوسری طرف سے اپنا تھا کرتے ہوئے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں بالوں کو پکڑا اور سیدھی کھڑی ہوئیں تو ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ ابھی امی کی قمیض پھٹ جائے گی اور یہ ممے اچھل کر باہر آ جائیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ امی نے مجھے یوں تاڑتے دیکھا تو اسی انداز میں بولیں مجھے ہی دیکھتے رہو گے یا اب جا کہ تیار بھی ہو گے؟ میں نے ان کی طرف ایک ستائش بھری نظر ڈالی اور کہا امی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں ماشااللہ کہیں نظر ہی نا لگ جائے۔ میرے انداز میں اتنی بے ساختگی تھی کہ امی بھی ہنس پڑین اور مڑ کہ خود کو شیشے میں دیکھنے لگ گئین اور میں نے کہا دیکھ لیں آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں آج، انہوں نے ماتھے پہ ہلکی سی سلوٹ ڈال کر کہا کیا مطلب آج پیاری لگ رہی ہوں کیا میں روز پیاری نہیں ہوتی؟؟ میں نے جلدی سے کہا ارے نہیں آپ تو روز ہی پیاری لگتی ہو آج بہت زیادہ پیاری لگ رہی ہو میں نے اس لیے جلدی جلدی کہا کہ وہ ناراض نا ہو جائیں لیکن اس بات کو وہ پکڑ کر بولیں تو اچھا جناب مجھے روز پھر اسی طرح دیکھتے ہیں کہ میں پیاری لگ رہی ہوں یا نہین اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے پیٹ کے گرد رکھ لیے مطلب اپنی سائیڈوں پہ جیسے بندہ لڑائی کے لیے تیار ہو رہا ہو 

میں امی کی بات سن کر بوکھلا گیا کیونکہ آنٹی کلثوم نے کہا تھا کہ امی کو شک نہ ہونے دینا کہ تم اس کو دیکھتے ہو جب کہ یہاں معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تھا میں نے امی کی طرف دیکھا تو مجھے اور تو کچھ نا سوجھا میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا وہ آپ اتنی پیاری لگ رہی ہوتی ہو کہ بس خود ہی پیاری لگ جاتی ہو میں جان کہ تو نہیں دیکھتا۔ امی نے سنجیدہ ہونے کی کوشش کی لیکن ان کے منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹ گیا اور وہ ہنستے ہوئے دوہری ہوتی گئیں ان کے اس طرح جھکنے سے ان کے گول مٹول ممے آدھے سے زیادہ ان کے گلے سے جھانکنے لگے اور میں سب کچھ بھول کر ان کے موٹے رسیلے ممے دیکھنے لگ گیا وہ اسی طرح ہنستے ہنستے اوپر ہوئیں اور میری آنکھوں میں دیکھا اور بولیں ارے میرا منا تو جوان ہو گیا ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ میں شرمندہ ہو گیا اور میں نے آنکھیں جھکا لین وہ اسی طرح مسکراتے چہرے سے بولیں چلو جاو اور سٹور سے کپڑے پہنو پھر ہم چلتے ہیں ۔ میں نے ایک نظر امی کی طرف دیکھا اور ان کے بھرپور سراپے سے اپنی نظر سینکتا ہوا واپس باہر کی طرف مڑ گیا اور سٹور کیطرف چل پڑا۔ سٹور سے کپڑے تبدیل کر کہ میں باہر نکلا تو ابو بھی لاوئنج میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے میں نے ان کو سلام کیا اور ان کے پاس ہی بیٹھ گیا اتنے میں امی کمرے سے نکلیں تو اب انہوں نے گلے میں دوپٹہ ڈالا ہوا تھا لیکن اس سے انہوں نے کچھ بھی چھپایا ہوا نہیں تھا۔ ابو نے امی کی طرف دیکھا اور بولے بیگم اطمینان سے آ جانا میں بچوں کو دیکھ لوں گا اور علی کا دھیان رکھنا۔ امی نے تشکر بھری نظروں سے ان کو دیکھا اور کہا چلیں یہ تو اچھا ہے اب میں اطمینان سے شادی میں شرکت کر لوں گی ویسے بھی بچے سو جائیں گے ۔ ابو نے کہا بیگم تم ان کی فکر مت کرو میں گھر ہوں بس علی کا دھیان رکھنا اور پھر مجھ سے بھی مخاطب ہوتے ہوئے بولے بیٹا باہر آوارہ مت پھرنا اور ماں کے پاس ہی رہنا اور اکھٹے گھر آنا ماں کے ساتھ اور ایسا نا ہو کہ آوارہ گردی کرتے رہو۔ میں نے سعادت مندی سے سر ہلا دیا اور کہا ٹھیک ہے ابو ایسا ہی ہو گا۔ ابھی ہم بات کر ہی رہے تھے کہ باہر گھنٹی بجنے کی آواز آئی تو میں اٹھ کر باہر کی طرف گیا اور دروازہ کھولا تو سامنے کلثوم آنٹی کھڑی تھیں ۔ میں نے ان کو سلام کیا اور اندر آنے کا راستہ دیا تو وہ میرے سلام کا جواب دیتی ہوئی مجھے نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئیں میں حیران سا رہ گیا اور دروازہ بند کرتے ہوئے پیچھے مڑا تو وہ امی سے گلے مل رہی تھیں اور اس طرح کہ ان کا چہرہ اور امی کی کمر میری طرف تھی۔ انہوں نے امی کے کندھے پہ چہرہ رکھتے ہوئے مجھے آنکھ ماری اور امی سے مخاطب ہوتے ہوئے بولیں اف بنو آج تو محلے والوں کی خیر نہیں ہے اتنی پیاری لگ رہی ہو اور ایک ہاتھ نیچے کرتے ہوئے ان کے کولہوں کو ایک سائیڈ سے دبایا امی ان کے ایسا کرنے سے ایک دم ان سے الگ ہوئیں اور ان کے بازو پہ ایک مکا مار کہ پیچھۓ مڑ کہ مجھے دیکھا اور پھر ان کی طرف مڑ کہ بولیں بدتمیز کچھ شرم کرو بچہ سامنے کھڑا ہے ۔ کلثوم آنٹی ہنستے ہوئے بولیں ارے یہ تو بچہ ہے قیامت تو جوانوں پہ گزرے گی جانے کتنے کو صبح اٹھ کہ نہانا پڑے گا امی ان کی بات پہ شرمندہ سی ہو گئیں اور وہیں سے تھوڑا آگے ہو کر ابو کو آواز لگائی کہ ہم جا رہی ہیں اور پھر دروازے کی طرف چل پڑیں اور مجھے بھی چلنے کا اشارہ کیا اور میں ان کے پیچھے پیچھے دروازے کی سمت چل پڑا جیسے ہی امی دروازے سے باہر نکلنے لگیں کلثوم آنٹی نے میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھ ماری اور ہاتھ آگے بڑھا کہ امی کے کولہوں کے درمیان ہلکا سا گھسا دیا اور ان کے پیچھے ہو گئیں۔ امی دروازے سے باہر نکلین اور ان کو گھور کہ میری طرف اشارہ کیا مگر کلثوم آنٹی ہنس کہ آگے چل پریں اور میں بھی ان کے ساتھ چلنے لگ

میں امی اور کلثوم آنٹی چلتے ہوئے شادی والے گھر کی طرف بڑھتے گئے بلکہ وہ دو چلتی گئیں میں ان کے ساتھ چلتا گیا ان کی آپس میں گپ شپ لگی ہوئی تھی اور میں ان کے ساتھ چپ چپ چل رہا تھا اسی طرح ہم شادی والے گھر میں پہنچے تو اس گھر میں داخل ہوتے ہی امی نے پلٹ کر میری طرف دیکھا اور اس سے پہلے وہ کچھ بولتیں تو کلثوم آنٹی نے ان سے پہلے کہا علی تم یہیں کہیں بیٹھ جاو اور دور نہ جانا رات کا معاملہ ہے بچے تم ادھر عورتوں والی طرف ہی کہیں بیٹھ جاو اور پھر یہ کہتے ہوئے انہوں نے امی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو امی نے بھی ان پہ ایک ستائشی نظر ڈالی اور کہا ہاں بیٹا کلثوم ٹھیک بول رہی ہے تم باہر کہیں نا جانا یہیں بیٹھ جاو اور ادھر ادھر نا گھومنا ہم بھی جلدی نکلنے کی کوشش کریں گی ۔ مجھے پتہ تو تھا کہ یہ جلدی اتنی بھی جلدی نہیں ہو گی اور کلثوم آنٹی کیونکہ ساری پلاننگ ڈسکس کر چکی تھیں اس لیے میں دل ہی دل مین سب سمجھ گیا اور اوپر سے ایک معصوم شکل بنا لی اور کہا ٹھیک ہے امی میں ادھر ہی بیٹھ جاتا ہوں ۔ مجھے پتہ تھا کہ تھوڑی دیر میں یاسر بھی آئے گا تو اس سے گپ شپ ہو جائے گی اور پھر مجھے سٹیج پہ بھی جانا ہے ۔ امی اور کلثوم آنٹی اندر کی طرف بڑھ گئیں اور میں ادھر ہی پڑی کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھ گیا ۔ تھوڑی ہی دیر میں یاسر بھی اپنی امی اور بہنوں کے ساتھ آیا اور مجھ پہ نظر پڑتے ہی وہ میری طرف آ گیا میں نے اس کی امی اور بہنوں کو سلام کیا اور پھر یاسر سے ملنے لگا اور مل کہ ہم وہیں بیٹھ کر گپیں لگانے لگے۔ میں وقت پورا ہونے کا انتظار کر رہا تھا اور پھر جب میں نے دیکھا کہ گیارہ بجنے میں پندرہ منٹ رہ گئے ہیں تو میں نے یاسر سے کہا کہ یار مجھے امی نے کہا تھا گیارہ سے پہلے اندر آنا تو میں ان کی بات سن کہ آتا ہوں اگر ہم گھر گئے تو یہیں سے تمہیں ملتا چلوں گا۔ یاسر نے بھی کہا ٹھیک ہے اب اس کے وہم و گماں میں بھی اصلی بات تو نہیں ہو سکتی تھی تو مین اندر گھستا گیا جہاں رنگے برنگے لباس میں ہر عمر اور ہر سائز کی لڑکیاں اور عورتیں اپنے ادھ ننگے وجود لیے گھوم رہی تھیں میں سٹیج کر قریب پہنچا تو دیکھا امی اور کلثوم آنٹی سٹیج پہ ہی صوفے کے پیچھے کھڑی تھیں ان کے ساتھ اس گھر اور محلے کی کچھ اور خواتین بھی تھیں اور وہ سب ہنسی مزاق کر رہی تھیں میں کیونکہ بچہ تھا اس لیے کسی نے میری طرف توجہ نہ دی اور میں آرام سے چلتا ہوا سٹیج پہ ان کےپیچھے پہنچ گیا اور کلثوم آنٹی اور امی کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ ان کو کیسے متوجہ کروں اور پھر دیکھا کہ جب کوئی میری طرف متوجہ نہیں تو آگے ہو کہ میں نے کلثوم آنٹی کے بھاری بھرکم چوتڑوں کو ہلکا سا دبایا وہ تھوڑی سی ہلیں لیکن پیچھے نہ مڑیں میں پھر پیچھے ہٹ گیا کوئی پندرہ بیس سیکنڈ بعد انہوں نے ترچھی سی نظر سر گھماتے ہوئے پیچھے کی اور مجھے دیکھ کر اگے مڑ گئین ۔ پھر وہ تھوڑا سا کھسک کہ پیچھے ہوئیں اور میرے اور امی کے درمیان اس طرح کھڑی ہو گئیں کہ امی کا آدھا جسم ان کے آگے چھپ گیا اور انہوں نے مجھے ہاتھ کے اچارے سے امی کو دیکھنے کا کہا۔ میں کیونکہ ان کے پیچھے کھڑا تھا اور ان کی ساری حرکات دیکھ رہا تھا ۔ کلثوم آنٹی نے ہلکا سا ہاتھ امی کی بنڈ پہ پھیرا تو امی نے ایک دم ان کی طرف مڑ کہ دیکھا کیونکہ میرا قد بھی کلثوم آنٹی سے چھوٹا تھا تو مجھے امی کی حرکت سے اندازہ ہوا کہ وہ پیچھے مڑی ہیں لیکن وہ مجھے نہ دیکھ سکیں 

کلثوم آنٹی آگے ہوئیں اور امی نے تھوڑا پیچھے مڑتی ہوئے ان سے کوئی سرگوشی کی جو مجھے سمجھ نہ آئی لیکن کلثوم آنٹی نے بھی ان کے کان میں کوئی سرگوشی کی اور اس دوران ان کا ہاتھ امی کی گانڈ کو سہلاتا رہا انہوں نے امی کے بھاری چوتڑوں کو سہلاتے ہوئے ایک ہاتھ ان کی گانڈ کی دراڑ میں رکھ کہ دبایا اور ادھر ادھر دیکھا اور کسی کو متوجہ نا پا کر پھر سے گانڈ کی دراڑ میں ہاتھ پھیرنے لگیں امی بھی چوکنا ہو کہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں ساتھ دولہن کے سامنے کھڑی خواتین سے باتیں بھی کیے جا رہی تھین اور کلثوم آنٹی بھی ان کے ساتھ باقی عورتوں سے ہنسی مزاق میں مصروف تھیں لیکن ان کا ایک ہاتھ اپنی کاروائی میں لگا ہوا تھا۔ وہ امی کے گانڈ کی گلی میں ہاتھ گھسا کر اسے رگڑ رہی تھیں جس سے ان کی قمیض ان کی دراڑ میں پھنس چکی تھی میں ان کے پیچھے کھڑا ہوا یہ سب دیکھ رہا تھا کلثوم آنٹی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پیچھے میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھ مارتے ہوئے قریب ہونے کا اشارہ کیا اور میں دبے پاوں ان کے قریب ہوا۔ میں امی کے قریب پہنچا تو انہوں نے امی کی گانڈ کو ہلکا سا تھپتپھایا اور ہاتھ قمیض کے دامن میں سے سائیڈ کی طرف سے اندر گھسا کہ ان کی گانڈ کو ٹٹولنے لگیں اس سے ان کا ہاتھ تو امی کی قمیض میں چھپ گیا لیکن گانڈ کے اوپر ایک شلوار ہی تھی۔میں اس نظارے کی خوبصورتی میں ڈوبا ہوا تھا اور مجھے حیرت امی پہ تھی جو بالکل نارمل انداز میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں ۔ کلثوم آنٹی نے ایک نظر مجھے پھر دیکھا اور قریب ہونے کا اشارہ کیااور اپنا ہاتھ امی کی گانڈ سے نکال لیا تو میں ان کے قریب ہوا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کہ امی کی گانڈ سے ہلکا سا ٹچ کیا مجھے بہت مزہ آیا اور مجھے امی کے جسم کی نرمی اور ملائمت اپنے ہاتھ پہ محسوس ہوئی انہوں نے میرا ہاتھ بار بار پکڑ کہ امی کی گانڈ پہ لگانا شروع کر دیا۔ انہوں نے تین چار بار یہ حرکت کی اور پھر اچانک لائٹ چلی گئی جیسے ہی لائٹ گئی تو کلثوم آنٹی نے میرا ہاتھ زور سے امی کی گانڈ میں دبایا اور پھر میرے ہاتھ کو ہلکا سا دبا کر چھوڑ دیا اور میں اپنا ہاتھ ان کی گانڈ میں پھیرنے لگا۔ میں نے ہاتھ گلی میں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیرا اور کلثوم آنٹی کی طرح ہی امی کے بھاری چوتڑوں کو درمیان سے ٹٹولا اور انگلی پھیرنی چاہیئ تو اندھیرے میں مجھے امی آگے اچھلتی محسوس ہوئیں اور انہوں نے بے ساختہ اونچی آواز میں کہا اوئے کون بدتمیز ہے اور انہوں نے پیچھے مڑ کہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن کلثوم آنٹی ایک دم ان کے پیچھے ہو گئیں اور ہنسنے لگ گئیں اور ساتھ اپنی ٹانگ پیچھے کر کہ مجھے پیچھے دھکیلا میں سمجھ گیا کہ اب بھاگ جانا ہی بہتر اور مناسب ہے کیونکہ مجھے امی کی آواز میں شدید غصہ محسوس ہوا تھا میں فورا بھاگتا ہوا باہر نکل گیا اور ایک جگہ جا کر اپنی سانس بحال کرنے لگ گیا اور سوچنے لگا کہ غلطی کہاں ہوئی ہے ۔ میں ابھی وہاں کھڑا سانس ہی بحال کر رہا تھا کہ بجلی بھی آ گئی اور بجلی کے آتے ہی مجھے امی اندر سے تیز تیز چلتی ہوئی نظر آئیں جن کے چہرے پہ بہت سنجیدگی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور کہا چلو علی گھر چلیں ان کا سنجیدہ موڈ دیکھ کر میں بھی کان دبائے ان کے ساتھ ہو گیا اور پھر میں نے تھوڑا سا چل کہ پوچھا امی وہ کلثوم آنٹی؟؟ مگر میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ غصے سے بولیں دفع کرو اس لعنتی عورت کو اور چل چاپ چلتے جاو مجں ان کی اس گھرکی سے سہم گیا اور چپ چاپ چلتا ہوا ان کے ساتھ گھر کی طرف رواں ہو گی

میں امی کے ساتھ چلتا ہوا گھر کی طرف روانہ ہوا اور امی بھی سنجیدہ موڈ میں چل رہی تھیں میں سمجھ گیا وہ سٹیج پہ ہوئی حرکتوں کی وجہ سے موڈ میں ہیں اور انہیں برا لگا ہے لہزا چور کی داڑھی میں تنکا تھا تو میں بھی چپ چاپ چلتا ہوا ان کے ساتھ گھر داخل ہوا گھر داخل ہوتے ہی انہوں نے اپنے اوپر سے چادرین اتار دیں اور اپنے بھاری کولہے مٹکاتی ہوئی اندر کی طرف چلنے لگیں ان کے اوپر سے چادر اترتے ہی میں نے دیکھا کہ ان کی گانڈ میں اسی طرح قمیض پھنسی ہوئی تھی اور ان کی گانڈ ہچکولے کھا رہی تھی میں کلثوم آنٹی کی نصیحت کو بھول کر ان کو تکنے لگ گیا اور انہوں نے چار پانچ قدم اٹھائے اور ایک دم پلٹ کر مجھے دیکھا تو ان کا بھاری سینہ بھی ادھ ننگا مجھے نظر آیا میں نے فورا ان کی گانڈ سے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو ہماری نگاہین چار ہوئیں تو مجھے ان کی نگاہ مین ناگواری سی محسوس ہوئی ۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا چلو جاو چینج کرو اور کمرے میں جا کہ سو جاو ان کے انداز میں سختی تھی تو میں ان کے کہنے پہ سر جھکائے تیزی سے سٹور روم میں گیا اور کپڑے تبدیل کر کہ کمرے میں سونے چلا گیا۔ کلثوم آنٹی کا یہ مشن کامیاب رہا یا ناکام میں اتنا تو سمجھ نہیں سکا تھا بس مجھے یہ تھا کہ امی کو غصہ تھا اور اس کے بعد کچھ دن مجھے کلثوم آنٹی نظر نا آئیں اور ہم بھی سکول اور گھر کی روٹین میں مشغول ہو گئے اس کے بعد بھی کلاس میں امی کو تاڑنا اور دوسرے لڑکوں کا تاڑنا بھی میں دیکھتا اور برداشت کرتا رہا تو اس واقعہ کے کوئی بیس دن بعد یا زیادہ دن سمجھ لیں میں کھیل کر گراونڈ سے واپس آ رہا تھا تو کلثوم آنٹی اپنے گھر کے دروازے میں کھڑی تھیں مجھے دیکھتے ہی وہ کھل سی اٹھیں اور میرے سلام کرنے پہ گھر کے اندر کی طرف داخل ہو کر مجھے گھر میں آنے کا راستہ دیا۔ میں جیسے ہی ان کے گھر داخل ہوا تو انہوں نے مجھے دروازہ بند کرتے ہوئے فورا جپھی ڈال لی اور مجھے چومتے ہوئے بولیں کدھر رہ گئے تھے تم اتنے دن سے؟؟ میں نے کہا وہ مجھے ڈر لگ رہا تھا اس دن امی اتنے غصے میں تھیں تو مجھے لگا وہ کسی کو مارنے نا لگ جائیں ۔ کلثوم آنٹی نے اسی طرح مجھے چومتے ہوئے کہا ارے اس کنجری کی فکر ہی نہ کرو اس گشتی کو تیرے نیچے نا لٹایا تو میرا نام بھی کلثوم نہیں بس تم دیکھتے جاو میں کیا کرتی ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے وہ پاوں کے بل فرش پہ بیٹھ گئیں اور میرے ٹراوزر کو نیچے کرتے ہوئے میری للی کو نکال کر دیوانہ وار چومنے لگ گئیں میری للی کا اچھی طرح چوپا لگانے کے بعد انہوں نے اپنی شلوار اتاری اور صحن میں پڑی چارپائی پہ ہاتھ رکھ کہ نیچے جھک گئیں اور مجھے پیچھے مڑ کہ دیکھتے ہوئے کہا چل پھر ڈال دے ابھی ادھر پھر دیکھ تجھے ماں کی پھدی کیسے لیکر دیتی ہوں میرا دل تو ان کو دیکھ کر نہیں چاہ رہا تھا لیکن امی کا سن کہمیں ان کے قریب ہوا تو انہوں نے ایک ہاتھ سے اپنی گانڈ کو کھولا جس سے ان کی پھدی کے کالے ہونٹ سامنے نظر آئے اور میں نے اپنی للی ان کی پھدی میں گھسا کہ جھٹکے مارنے شروع کر دئیے اور وہ سیکس انجوائے کرنے لگیں اور میں بھی یہ ناگوار فریضہ سرانجام دینے لگا کچھ ہی دیر میں وہ فارغ ہو گئیں اور سیدھی ہو کر مجھے چومنے لگیں اور پھر بولیں کل چھٹی ہے کل صبح میں تم لوگوں کے گھر آوں گی اور تمہیں ایک سرپرائز دوں گی

کیسا سرپرائز؟ میں نے آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں دیکھو بتا رہی ہو لیکن تم بیچ میں کچھ بھی نہ کرنا اور صرف مجھے دیکھ کر بتا دینا میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے کیا دیکھنا ہے؟ وہ بولیں دیکھو کل صبحیہ کے گھر سے تمہاری امی کو لسی بھیجی جائے گی اس کا ایک گلاس اگر وہ پی لے تو تم مجھے فورا آ کر بتا دینا ۔ میں جو کچھ اور سوچ رہا تھا میرے ارمان پہ تو پانی پھر گیا کہ یہ کیا بکواس ہوئی بھلا؟ اب لسی پینے کا بھی آ کر اس کلموہی کو بتاؤں گا۔ مجھے دل ہی دل میں یہ بات بہت بری لگی لیکن میں نے اوپری دل سے ہاں کر دی کہ چلو آپ کو بتا دوں گا۔ آنٹی جاہندیدہ عورت تھی ایک دم یہ بات سمجھ گئی اور بولی دیکھو پوری بات تمہیں کل سمجھ آئے گی تم یہ لازمی کرو اگر وہ لسی پی جائے تو سمجھو تمہاری کل عید ہے اور تم بھول کہ بھی لسی نہ پینا۔ مجھے سمجھ تو کچھ نہ آئی لیکن آنٹی سے وعدہ کر کہ گھر آ گیا اور کھانا کھا کر سو گیا صبح چھٹی تھی میں جاگا ناشتہ کیا اور پھر گھر میں ہی بیٹھ گیا کہ کب لسی آتی ہے اور اسی انتظار میں گھر ادھر ادھر بیٹھتا اور گھومتا رہا آخر کوئی گیارہ بجے کے قریب صبحیہ آنٹی کے گھر سے لسی کی بوتل آ گئی اور پھر میں کچن میں امی کے آس پاس ہی گھومنے لگا امی نے بھی کھانا پکایا اور تقریبا بارہ کے قریب انہوں نے کھانا خود بھی کھایا اور ہمیں بھی کھلایا اور ساتھ لسی کے دو گلاس بھی پی لیے ۔ کھانا کھانے کے بعد امی نے مجھے کہا کہ برتن اٹھا دو مجھے ہمت نہیں لگ رہی ہے میں نے برتن اٹھائے اور کچن میں رکھے تو جب واپس آیا تو امی کا سر دائیں بائیں جھوم رہا تھا اور ان کی آنکھیں کھل اور بند ہو رہی تھیں ۔ میں ان کے پاس سے گزرا تو وہ بالکل اپنے حواس میں نہیں لگ رہی تھیں میں نے چھوٹے بہن بھائیون کو امی کے کمرے میں کارٹون لگا کہ دئیے اور خود بھاگ کر کلثوم آنٹی کو بتانے چلا گیا۔ میں نے کلثوم آنٹی کو بتایا کہ امی نے دو گلاس پیے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئیں اور مجھے کہا تو گھر پہنچ تو میں آتی ہوں ۔ مین دوڑتا ہوا گھر پہنچا اور اندر داخل ہواتو امی لاونج میں پڑی ہوئی تھیں جیسے مدہوش سو رہی ہوں میں امی کے پاس پہنچا اور ان کو ہلکے سے آواز دی مگر وہ کچھ نہ بولیں تو پھر میں نے بازو سے پکڑ کر ہلایا تو امی نے کوئی حرکت نہ کی میں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی اور میں دروازے پہ گیا تو کلثوم آنٹی دروازے پہ تھی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بولیں کدھر ہے وہ نیک پروین کمینی؟ میں نے کہا وہ لاوئنج میں بے ہوش ہو گئی ہیں میرے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات تھے کلثوم آنٹی یہ دیکھ کر مسکرائی اور بولی فکر نہ کرو تم سے دوستی نبھا رہی ہوں اسے بھی کچھ نہیں ہو گا اور ہم باتیں کرتے کرتے لاوئنج میں پہنچے تو آنٹی نے باقی بہن بھائیوں کا پوچھا تو میں نے بتایا کہ ٹی وی دیکھ رہے ہیں آنٹی نے اس کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیا اور پھر امی کی طرف متوجہ ہوئیں جو نیچے قالین پہ بے سدھ سو رہی تھیں امی بالکل سیدھی لیٹی ہوئی تھیں اور ان کے اوپر دوپٹہ ایک سائیڈ سے ان کے ممے اور پیٹ کور کر رہا تھا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The post ماں کا بدلہ قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/feed/ 0