باپ بیٹی انسیسٹ سیکس Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/باپ-بیٹی-انسیسٹ-سیکس/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Sun, 26 Apr 2026 03:40:04 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png باپ بیٹی انسیسٹ سیکس Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/باپ-بیٹی-انسیسٹ-سیکس/ 32 32 جوان سسر https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/ https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:29:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/   میرا جوان سسر ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے  میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں […]

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرا جوان سسر

ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے

 میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں اور ملتان میں رہتی ہوں میرا شوہر دوسرے ملک میں جاب کرتا ھے۔ اور گھر میں سسر اور میں رہتے ہیں میری شادی سے ایک سال پہلے ساس کا انتقال ھو چکا تھا شوہر سال میں چند دنوں کیلئے آتا اور پھر واپس چلا جاتا تھا اور شوہر چدائی میں بھی سست تھا شادی کی پہلی رات ھی مجھے فارغ نہ کر سکا جب چند دنوں کیلئے آتا تو تب بھی مجھے فاریغ نہ کرپاتا شادی کے بعد شوہر سال بھر کیلئے جاتا اور میں بہت گرم رہتی اور شوہر ایک سال بعد آتا اوپر سے مجھے فاریغ نہیں کرپاتا ویسے تو میرے پاس سب کچھ تھا مگر میرے جسم کی بھوک مٹانے کیلئے کچھ نہ تھا میں اتنی گرم ھو جاتی کے اکثر میں ایک تکیہ کو اپنی ٹانگوں میں لیتی اور دوسرے تکیہ کو اپنی باھوں میں لےکر اپنی چوت رگڑتی اور دوسرے تکیہ کو اپنے مموں پر دباکر تکیہ کو چومتی اور بیڈ پر تڑپتی رہتی اسی طرح مجھے تڑپتے ھوئے چار سال ھو گئے جب میکے جاتی تو بھائی اور بھابھی کو کبھی چمہ چٹی کرتی دیکھتی تو مجھ میں زیادہ گرمی چڑھ جاتی کبھی پاپا مما کو چمہ چٹی کرتی دیکھتی پھر میں گھر آتی اور بیڈ پر تڑپتی ھوئی تکیہ سے مست ھوتی اور اس تڑپ کا کسی سے زکر بھی نہیں کر پاتی ایک رات میں بہت ھوٹ تھی اور اپنے مموں کو دباتی ھوئی تڑپ رھی تھی اور نید میری آنکھوں سے کوسو دور تھی اور رات کا ایک بج رھا تھا اور میرا گلا خشک ھو گیا میں ڈھنڈہ پانی پینے کیلئے روم سے باہر آئی سسر جی کا روم میرے روم کے ساتھ تھا اور سسر کے روم کے ساتھ فریج تھی سسر کے روم سے گزری تو کسی عورت کی آواز سنائی دی میں نے ڈور پہ کان لگا کر سنا تو لڑکی کی آواز آئی آصف آپ فاریغ ھی نہیں ھوتے مجھے بہت تھکا دیتے ھو میں نے سوچا کے کیا اندر لڑکی ھے پھر سوچا نہیں سسر جی ایسے نہیں ہیں من میں آیا ایک بار دیکھ لو ڈور کے ہینڈل کو گھمایا تو لاک تھا پھر میں نے چابی لی اور آہستہ سے لاک کھول کر آرام سے تھوڑا سا ڈور کھول کر دیکھا میں تو دیکھ کے حیران ھوگئی سسر نگا لیٹا ھے اور سسر کا لن مستی میں کھڑا ھے اور ایک لڑکی سسر کے لن کو چوپے لگا رھی ھے سسر کا لن تو شوہر کے لن سے موٹا لمبا اور تگڑا تھا سسر کا لن دیکھتے ھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی یہاں سے ہٹنے کو من ھی نہیں کر رہا تھا پھر سسر لڑکی کی چوت چاٹنے لگا اف میں تو بہت ھوٹ تھی پھر جم کے چدائی کرنے لگے اور دونو فل مستی میں تھے میرے ہاتھ خود اپنے مموں اور چوت پر آئے مموں کو دباتی چوت کو سہلاتی سسر کی چدائی دیکھ رھی تھی سسر جی تو مشین کی طرح چدائی کرتے بھٹکے لگا رھے تھے تقریبآ سسر جی نے دو گھنٹے تک چدائی کی اور لڑکی چار بار فاریغ ھوئی جب لڑکی فاریغ ھوتی تو سسر کبھی گانڈ چودتا کبھی مموں کو چودتا کبھی لڑکی لن کو چوپے لگاتی پھر سسر فاریغ ھوا تو لڑکی واش گئی اور ابھی بھی سسسر کا لن مستی میں کھڑا تھا۔ پھر لڑکی آئی تو سسر نے کہا لائٹ بجھاکر کرتے ہیں لڑکی لائٹ بجھا دی اب مجھے کچھ دیکھائی نہ دیا میں بہت گرم ھو چکی تھی فریج سے ڈھونڈی پانی کی بوتل لے کر اپنے اوپر ڈالا پھر اپنے روم آکر تڑپتی رھی مموں کو نکال کر چومتی چوستی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر چوت میں انگلی کرنے لگی سسر کا لن میرے خیالوں میں ایسا بسا کے مجھے سسر کا لن نظر آنے لگا آنکھیں کھلی ھوتی یا بند ھوتی میں فل تڑپ اٹھی سوچا سسر ابھی بھی شوق رکھتا ھے سسر کا لن تو بہت کیوٹ ھے لڑکی کو چار بار فاریغ کیا ایک میرا شوہر ھے جو فاریغ ھی نہیں کر پاتا اسی طرح صبح ھوگئی میں دیکھنے کیلئے گئی تو ڈور لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو دیکھا سسر اکیلا گہری نید میں سو رھا ھے شائید لڑکی جا چکی تھی سسر کے اوپر سے چادر ہٹاکر کر دیکھا تو سسر نگا سو رھا تھا پھر لن سے چادر ہٹاکر دیکھا تو سسر کا لن ابھی بھی کھڑا تھا مجھ سے رھا نہ گیا تو سسر کے لن کو چھوا پھر لن کو مٹھی میں لےکر سہلایا پھر لن کر ٹوپہ کو چمہ کیا اتنی دیر میں سسر نے کروٹ لےلی من کر رھا تھا ابھی سسر پر چڑھ جاؤ پھر میں روم سے باہر آئی سوچا سسر تو پتا نہیں کتنی لڑکیوں کو چودتا ھوگا کیوں نہ میں لڑکیوں کی جگہ لےلوں پھر میں نے پکا ٹھان لیا کے بس سسر کو کسی طریقے سے راضی کرنا ھوگا۔ پھر سسرجی اٹھے میں نے ناشتہ لگایا اور ھم ناشتہ کرنے لگے سسر پر مجھے بہت پیار آرھا تھا من تو کر رھا تھا ابھی چدائی کی بات کروں پر اچانک میرے منہ سے نکل گیا انکل لگتا ھے رات میں آپ کو نید نہیں آئی کہا ہاں فریحہ دیر سے نید آئی پھر سسر جی ناشتہ کرکے آفس چلا گیا پھر شام کو جلدی گھر آیا اور جاکر اپنے روم میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا اور سسر کی دو دن کی چھٹی تھی میں نے ٹھان لیا کے ابھی سے ھی شروع کروں دو دن چھٹی ھے میں نے ڈور کھولا تو سسر نے مجھے دیکھا میں مسکرائی پھر سسر نے آنکھیں بند کر لی آج سسر کو کیا پتا تھا کے سسر کی بہو سسر کو مزے دینے والی ھے میں جاکر سسر کے ساتھ لیٹ گئی سسر نے مجھے اپنے ساتھ لیٹا ہوا دیکھ کر کہا فریحہ کیا ھوا یہاں کیوں لیٹی ھو میں رونے لگی سسر آٹھ کر کہنے لگا آرے کیوں رو رھی ھو کیا سلیم نے کچھ کہا میں نے کہا سسر جی ایک بات ھے نہ ھی میں کسی سے کچھ کہے سکتی ھوں اور نہ ھی بتا سکتی اور نہ ھی کوئی میرا ساتھ دے گا سسر نے کہا اچھا تم مجھ سے کہے سکتی ھو ھو سکا تو میں تیرا ساتھ دوں۔ یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ھوئی میں نے کہا سسر جی بات یہ ھے کے شادی سے لےکر آج تک سلیم مجھے کبھی خوش نہیں کر پایا میں بہت تڑپتی کبھی من کرتا ھے خودکشی کرلو یاں بھاگ جاؤ یا کسی سے دوستی کر لو پر بدنامی سے ڈر لگتا ھے تو سوچا آپ سے بات کروں اگر مان گئے تو گھر کی بات گھر میں رھے گی اور میں بدنامی سے بچ جاؤں گی میں آٹھ کر سسر کے گلے لگ کر رونے لگی سسر نے کہا فریحہ اچھا تم روؤں نہیں مجھے اپنی باھوں میں بھر کر کہا میں ہمیشہ تیرا ساتھ دونگا میں نے سسر کے سامنے منہ کرکے کہا سچ میں کہا ہاں میرے منہ میں منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے اور میں نے کہا انکل میں بہت گرم ھو کبھی فاریغ نہں ھو پائی سسر نے کہا اب تم یہ سب بھول جاؤ گی۔ میں سسر کو چومتی ھوئی نگا کر لیٹا کر چومنے لگی اور ساتھ میں سسر میرے کپڑے اتارنے لگا پھر میں بھی نگی ھوگئی پھر ھم چومتے ھو کبھی سسر میرے اوپر تو کبھی میں سسر کے اوپر سسر نے کہا اف فریحہ تم بہت کمال کی ھو تیرا سارا جسم کمال کا ھے سسر میرے مموں کو خوب دباتا چومتا منہ کا پیار کرتا میں بھی سسر کو مست چوم رھی تھی سسر اپنے لن کو میری ٹانگوں میں رگڑتا پھر میں نے سسر کو نیچے کیا اوپر آکر سسر کو چومتی ھوئی لن تک پہنچی لن کو زبان سے چاٹتی ھوئی ٹوپہ کو زبان سے چاٹتی ھوئی سارے لن کو چومتی اور چاٹنے لگی سسر مست تھا سسر کے موٹے لمبے لن کو چومنے چاٹنے کا بہت مزہ آرہا تھا پھر ٹوپہ کو ھونٹوں میں لےکر چوپے لگائے سسر مستی میں کہتا فریحہ تم بہت کمال کی ھو پھر سارے لن کو منہ میں لےکر چوپے لگانے لگی کبھی لن ٹوپہ کو چاٹتی کبھی ٹوپہ کو چوپے لگاتی کبھی سارے لن کو چوپے لگاتی ھوئی میں بہت مستی میں تھی جی بھر کے لن کو پیار کیا پھر سسر میرے اوپر آکر میرے مموں کو چودتا اور سسر کا لن میرے مموں کو چودتا ھوا لن سسر کا لن میرے منہ کے پاس آتا تو میں لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹوپہ کو ھونٹوں لیتی چومتی اور ٹوپہ پر زبان پھیرتی پھر سسر مجھے چودا ھوا میری چوت دیکھ کر تعریف کی پھر میری چوت کو چومتا چوستا چاٹتا رھا میں مستی میں سسر کی تعریف کرتی اور آہیں لے رھی تھی پھر سسر نے میری چوت میں لن ڈال کر اور سسر کا لن میری چوت میں بڑی مشکل میں گیا تو سسر نے کہا اف فریحہ تیری چوت اتنی تنگ ھے ایسے لگتا ھے جیسے تم ابھی بھی کنواری ھو پھر سسر نے مست چدائی کی پھر ڈونکی بناکر چدائی کی پھر اپنے اوپر بٹھاکر چدائی کی اور پھر میری چوت سے رس رس کا فوارہ نکل پڑا میں نے کس کے سسر کو باھوں میں بھر لیا اور سسر لگا رھا پھر سسر نے مجھے نیچے لیتا کر میری چوت کا رس چاٹنے لگا پھر چدائی کرنے لگا اور سسر اب فل مستی میں چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی سسر کے لن کو پیار کرنے گی کچھ دیر بعد پھر سسر چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی تو کچھ دیر بعد سسر میری چوت میں فاریغ ھوا مجھے سے کہا مزہ آیا میں سسر کو پیار کرتی کہا بہت مزہ آیا پھر سسر جزبات میں آیا پھر چدائی کی پھر میں فاریغ ھوئی سسر کو میں مستی میں پیار کرتی کہ آپ بہت کمال کی چدائی کرتے ھو میری جان ھو تم پھر کچھ دیر ھم نے بریک کی پھر میں کھانا بنانے لگی ھم دونو نگی تھے سسر تو کھانا بناتے بھی چدائی کرتا رھا مجھے بھی ایسا مرد چاہیئے تھا اف مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا پھر کھانا بناکر زبردس چدائی کی پھر کھانا کھاکر ھم چدائی میں مست ھو گئے پھر رات کا کھانا کھاکر ساری رات چدائی کی اب میں اور سسر ساتھ سوتے اور بس چدائی کرتے سسر مجھے تین سے چار بار فاریغ کرتا پھر سسر نے گانڈ چودنے کو کہا میں نے کہا اب آپ کا ھے پھر سسر نے نے گانڈ کی سیل اس پیار سے کھولی کے مجھے درد کا پتا نہ چلا پھر مجھے ماہواری آئی پھر ھم مست پیار کرتے سسر میرے مموں کو چودتا میں لن کو چوپے لگاتی سسر کے لن کا پانی پیتی جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور مجھے حمل ھوگیا پھر دوسرے دن شوہر آیا شوہر تو بس فاریغ جلدی ھو جاتا موقعہ دیکھ کے میں سسر سے چدائی کرتی چوتھے دن شوہر کو پیٹ سے ھونے کی خوشخبری دی سن کے بہت خوش ھوا ایک بار سسر بہت ھوٹ تھا تو شوہر سے کہا میں اور انکل اوپر والے اسٹور سے کچھ سامان نکالنے جارھے ہیں میں اور سسر اوپر آکر خوب چدائی کی پھر ھم نیچے آئے پھر شوہر چلا گیا پھر مجھے بیٹآ ھوا سسر میرے مموں کا دودھ پیتا اور ھم خوب چدائی کرتے اسی طرح سسر نے مجھے چار بچے دیئے میں اپنے سسر کے ساتھ اب بھی خوش ھوں سسر کا لن آج بھی ویسے کمال کا ھے لن میں کوئی فرق نہیں آیا میں بہت مزے کرتی

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/feed/ 0
جوان سسر https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:29:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/   میرا جوان سسر ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے  میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں […]

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرا جوان سسر

ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے

 میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں اور ملتان میں رہتی ہوں میرا شوہر دوسرے ملک میں جاب کرتا ھے۔ اور گھر میں سسر اور میں رہتے ہیں میری شادی سے ایک سال پہلے ساس کا انتقال ھو چکا تھا شوہر سال میں چند دنوں کیلئے آتا اور پھر واپس چلا جاتا تھا اور شوہر چدائی میں بھی سست تھا شادی کی پہلی رات ھی مجھے فارغ نہ کر سکا جب چند دنوں کیلئے آتا تو تب بھی مجھے فاریغ نہ کرپاتا شادی کے بعد شوہر سال بھر کیلئے جاتا اور میں بہت گرم رہتی اور شوہر ایک سال بعد آتا اوپر سے مجھے فاریغ نہیں کرپاتا ویسے تو میرے پاس سب کچھ تھا مگر میرے جسم کی بھوک مٹانے کیلئے کچھ نہ تھا میں اتنی گرم ھو جاتی کے اکثر میں ایک تکیہ کو اپنی ٹانگوں میں لیتی اور دوسرے تکیہ کو اپنی باھوں میں لےکر اپنی چوت رگڑتی اور دوسرے تکیہ کو اپنے مموں پر دباکر تکیہ کو چومتی اور بیڈ پر تڑپتی رہتی اسی طرح مجھے تڑپتے ھوئے چار سال ھو گئے جب میکے جاتی تو بھائی اور بھابھی کو کبھی چمہ چٹی کرتی دیکھتی تو مجھ میں زیادہ گرمی چڑھ جاتی کبھی پاپا مما کو چمہ چٹی کرتی دیکھتی پھر میں گھر آتی اور بیڈ پر تڑپتی ھوئی تکیہ سے مست ھوتی اور اس تڑپ کا کسی سے زکر بھی نہیں کر پاتی ایک رات میں بہت ھوٹ تھی اور اپنے مموں کو دباتی ھوئی تڑپ رھی تھی اور نید میری آنکھوں سے کوسو دور تھی اور رات کا ایک بج رھا تھا اور میرا گلا خشک ھو گیا میں ڈھنڈہ پانی پینے کیلئے روم سے باہر آئی سسر جی کا روم میرے روم کے ساتھ تھا اور سسر کے روم کے ساتھ فریج تھی سسر کے روم سے گزری تو کسی عورت کی آواز سنائی دی میں نے ڈور پہ کان لگا کر سنا تو لڑکی کی آواز آئی آصف آپ فاریغ ھی نہیں ھوتے مجھے بہت تھکا دیتے ھو میں نے سوچا کے کیا اندر لڑکی ھے پھر سوچا نہیں سسر جی ایسے نہیں ہیں من میں آیا ایک بار دیکھ لو ڈور کے ہینڈل کو گھمایا تو لاک تھا پھر میں نے چابی لی اور آہستہ سے لاک کھول کر آرام سے تھوڑا سا ڈور کھول کر دیکھا میں تو دیکھ کے حیران ھوگئی سسر نگا لیٹا ھے اور سسر کا لن مستی میں کھڑا ھے اور ایک لڑکی سسر کے لن کو چوپے لگا رھی ھے سسر کا لن تو شوہر کے لن سے موٹا لمبا اور تگڑا تھا سسر کا لن دیکھتے ھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی یہاں سے ہٹنے کو من ھی نہیں کر رہا تھا پھر سسر لڑکی کی چوت چاٹنے لگا اف میں تو بہت ھوٹ تھی پھر جم کے چدائی کرنے لگے اور دونو فل مستی میں تھے میرے ہاتھ خود اپنے مموں اور چوت پر آئے مموں کو دباتی چوت کو سہلاتی سسر کی چدائی دیکھ رھی تھی سسر جی تو مشین کی طرح چدائی کرتے بھٹکے لگا رھے تھے تقریبآ سسر جی نے دو گھنٹے تک چدائی کی اور لڑکی چار بار فاریغ ھوئی جب لڑکی فاریغ ھوتی تو سسر کبھی گانڈ چودتا کبھی مموں کو چودتا کبھی لڑکی لن کو چوپے لگاتی پھر سسر فاریغ ھوا تو لڑکی واش گئی اور ابھی بھی سسسر کا لن مستی میں کھڑا تھا۔ پھر لڑکی آئی تو سسر نے کہا لائٹ بجھاکر کرتے ہیں لڑکی لائٹ بجھا دی اب مجھے کچھ دیکھائی نہ دیا میں بہت گرم ھو چکی تھی فریج سے ڈھونڈی پانی کی بوتل لے کر اپنے اوپر ڈالا پھر اپنے روم آکر تڑپتی رھی مموں کو نکال کر چومتی چوستی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر چوت میں انگلی کرنے لگی سسر کا لن میرے خیالوں میں ایسا بسا کے مجھے سسر کا لن نظر آنے لگا آنکھیں کھلی ھوتی یا بند ھوتی میں فل تڑپ اٹھی سوچا سسر ابھی بھی شوق رکھتا ھے سسر کا لن تو بہت کیوٹ ھے لڑکی کو چار بار فاریغ کیا ایک میرا شوہر ھے جو فاریغ ھی نہیں کر پاتا اسی طرح صبح ھوگئی میں دیکھنے کیلئے گئی تو ڈور لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو دیکھا سسر اکیلا گہری نید میں سو رھا ھے شائید لڑکی جا چکی تھی سسر کے اوپر سے چادر ہٹاکر کر دیکھا تو سسر نگا سو رھا تھا پھر لن سے چادر ہٹاکر دیکھا تو سسر کا لن ابھی بھی کھڑا تھا مجھ سے رھا نہ گیا تو سسر کے لن کو چھوا پھر لن کو مٹھی میں لےکر سہلایا پھر لن کر ٹوپہ کو چمہ کیا اتنی دیر میں سسر نے کروٹ لےلی من کر رھا تھا ابھی سسر پر چڑھ جاؤ پھر میں روم سے باہر آئی سوچا سسر تو پتا نہیں کتنی لڑکیوں کو چودتا ھوگا کیوں نہ میں لڑکیوں کی جگہ لےلوں پھر میں نے پکا ٹھان لیا کے بس سسر کو کسی طریقے سے راضی کرنا ھوگا۔ پھر سسرجی اٹھے میں نے ناشتہ لگایا اور ھم ناشتہ کرنے لگے سسر پر مجھے بہت پیار آرھا تھا من تو کر رھا تھا ابھی چدائی کی بات کروں پر اچانک میرے منہ سے نکل گیا انکل لگتا ھے رات میں آپ کو نید نہیں آئی کہا ہاں فریحہ دیر سے نید آئی پھر سسر جی ناشتہ کرکے آفس چلا گیا پھر شام کو جلدی گھر آیا اور جاکر اپنے روم میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا اور سسر کی دو دن کی چھٹی تھی میں نے ٹھان لیا کے ابھی سے ھی شروع کروں دو دن چھٹی ھے میں نے ڈور کھولا تو سسر نے مجھے دیکھا میں مسکرائی پھر سسر نے آنکھیں بند کر لی آج سسر کو کیا پتا تھا کے سسر کی بہو سسر کو مزے دینے والی ھے میں جاکر سسر کے ساتھ لیٹ گئی سسر نے مجھے اپنے ساتھ لیٹا ہوا دیکھ کر کہا فریحہ کیا ھوا یہاں کیوں لیٹی ھو میں رونے لگی سسر آٹھ کر کہنے لگا آرے کیوں رو رھی ھو کیا سلیم نے کچھ کہا میں نے کہا سسر جی ایک بات ھے نہ ھی میں کسی سے کچھ کہے سکتی ھوں اور نہ ھی بتا سکتی اور نہ ھی کوئی میرا ساتھ دے گا سسر نے کہا اچھا تم مجھ سے کہے سکتی ھو ھو سکا تو میں تیرا ساتھ دوں۔ یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ھوئی میں نے کہا سسر جی بات یہ ھے کے شادی سے لےکر آج تک سلیم مجھے کبھی خوش نہیں کر پایا میں بہت تڑپتی کبھی من کرتا ھے خودکشی کرلو یاں بھاگ جاؤ یا کسی سے دوستی کر لو پر بدنامی سے ڈر لگتا ھے تو سوچا آپ سے بات کروں اگر مان گئے تو گھر کی بات گھر میں رھے گی اور میں بدنامی سے بچ جاؤں گی میں آٹھ کر سسر کے گلے لگ کر رونے لگی سسر نے کہا فریحہ اچھا تم روؤں نہیں مجھے اپنی باھوں میں بھر کر کہا میں ہمیشہ تیرا ساتھ دونگا میں نے سسر کے سامنے منہ کرکے کہا سچ میں کہا ہاں میرے منہ میں منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے اور میں نے کہا انکل میں بہت گرم ھو کبھی فاریغ نہں ھو پائی سسر نے کہا اب تم یہ سب بھول جاؤ گی۔ میں سسر کو چومتی ھوئی نگا کر لیٹا کر چومنے لگی اور ساتھ میں سسر میرے کپڑے اتارنے لگا پھر میں بھی نگی ھوگئی پھر ھم چومتے ھو کبھی سسر میرے اوپر تو کبھی میں سسر کے اوپر سسر نے کہا اف فریحہ تم بہت کمال کی ھو تیرا سارا جسم کمال کا ھے سسر میرے مموں کو خوب دباتا چومتا منہ کا پیار کرتا میں بھی سسر کو مست چوم رھی تھی سسر اپنے لن کو میری ٹانگوں میں رگڑتا پھر میں نے سسر کو نیچے کیا اوپر آکر سسر کو چومتی ھوئی لن تک پہنچی لن کو زبان سے چاٹتی ھوئی ٹوپہ کو زبان سے چاٹتی ھوئی سارے لن کو چومتی اور چاٹنے لگی سسر مست تھا سسر کے موٹے لمبے لن کو چومنے چاٹنے کا بہت مزہ آرہا تھا پھر ٹوپہ کو ھونٹوں میں لےکر چوپے لگائے سسر مستی میں کہتا فریحہ تم بہت کمال کی ھو پھر سارے لن کو منہ میں لےکر چوپے لگانے لگی کبھی لن ٹوپہ کو چاٹتی کبھی ٹوپہ کو چوپے لگاتی کبھی سارے لن کو چوپے لگاتی ھوئی میں بہت مستی میں تھی جی بھر کے لن کو پیار کیا پھر سسر میرے اوپر آکر میرے مموں کو چودتا اور سسر کا لن میرے مموں کو چودتا ھوا لن سسر کا لن میرے منہ کے پاس آتا تو میں لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹوپہ کو ھونٹوں لیتی چومتی اور ٹوپہ پر زبان پھیرتی پھر سسر مجھے چودا ھوا میری چوت دیکھ کر تعریف کی پھر میری چوت کو چومتا چوستا چاٹتا رھا میں مستی میں سسر کی تعریف کرتی اور آہیں لے رھی تھی پھر سسر نے میری چوت میں لن ڈال کر اور سسر کا لن میری چوت میں بڑی مشکل میں گیا تو سسر نے کہا اف فریحہ تیری چوت اتنی تنگ ھے ایسے لگتا ھے جیسے تم ابھی بھی کنواری ھو پھر سسر نے مست چدائی کی پھر ڈونکی بناکر چدائی کی پھر اپنے اوپر بٹھاکر چدائی کی اور پھر میری چوت سے رس رس کا فوارہ نکل پڑا میں نے کس کے سسر کو باھوں میں بھر لیا اور سسر لگا رھا پھر سسر نے مجھے نیچے لیتا کر میری چوت کا رس چاٹنے لگا پھر چدائی کرنے لگا اور سسر اب فل مستی میں چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی سسر کے لن کو پیار کرنے گی کچھ دیر بعد پھر سسر چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی تو کچھ دیر بعد سسر میری چوت میں فاریغ ھوا مجھے سے کہا مزہ آیا میں سسر کو پیار کرتی کہا بہت مزہ آیا پھر سسر جزبات میں آیا پھر چدائی کی پھر میں فاریغ ھوئی سسر کو میں مستی میں پیار کرتی کہ آپ بہت کمال کی چدائی کرتے ھو میری جان ھو تم پھر کچھ دیر ھم نے بریک کی پھر میں کھانا بنانے لگی ھم دونو نگی تھے سسر تو کھانا بناتے بھی چدائی کرتا رھا مجھے بھی ایسا مرد چاہیئے تھا اف مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا پھر کھانا بناکر زبردس چدائی کی پھر کھانا کھاکر ھم چدائی میں مست ھو گئے پھر رات کا کھانا کھاکر ساری رات چدائی کی اب میں اور سسر ساتھ سوتے اور بس چدائی کرتے سسر مجھے تین سے چار بار فاریغ کرتا پھر سسر نے گانڈ چودنے کو کہا میں نے کہا اب آپ کا ھے پھر سسر نے نے گانڈ کی سیل اس پیار سے کھولی کے مجھے درد کا پتا نہ چلا پھر مجھے ماہواری آئی پھر ھم مست پیار کرتے سسر میرے مموں کو چودتا میں لن کو چوپے لگاتی سسر کے لن کا پانی پیتی جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور مجھے حمل ھوگیا پھر دوسرے دن شوہر آیا شوہر تو بس فاریغ جلدی ھو جاتا موقعہ دیکھ کے میں سسر سے چدائی کرتی چوتھے دن شوہر کو پیٹ سے ھونے کی خوشخبری دی سن کے بہت خوش ھوا ایک بار سسر بہت ھوٹ تھا تو شوہر سے کہا میں اور انکل اوپر والے اسٹور سے کچھ سامان نکالنے جارھے ہیں میں اور سسر اوپر آکر خوب چدائی کی پھر ھم نیچے آئے پھر شوہر چلا گیا پھر مجھے بیٹآ ھوا سسر میرے مموں کا دودھ پیتا اور ھم خوب چدائی کرتے اسی طرح سسر نے مجھے چار بچے دیئے میں اپنے سسر کے ساتھ اب بھی خوش ھوں سسر کا لن آج بھی ویسے کمال کا ھے لن میں کوئی فرق نہیں آیا میں بہت مزے کرتی

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-2/feed/ 0
جوان سسر https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/#respond Tue, 23 Sep 2025 08:29:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/   میرا جوان سسر ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے  میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں […]

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میرا جوان سسر

ھیلو دوستو میرا نام فریحہ ھے

 میں بہت خوبصورت ھوں میری ہائیٹ 5 فٹ 5 انچ ھے میرے ممیں بڑے اور گول مٹول سخت ہیں مموں کی نیپلیں پینک ہیں میری چوت پینک ھے اور میں بہت ھوٹ ھوں۔ میں آپنا بیتا ھوا ماضی شیر کرتی ھوں۔ میں شادی شدہ ھوں اور ملتان میں رہتی ہوں میرا شوہر دوسرے ملک میں جاب کرتا ھے۔ اور گھر میں سسر اور میں رہتے ہیں میری شادی سے ایک سال پہلے ساس کا انتقال ھو چکا تھا شوہر سال میں چند دنوں کیلئے آتا اور پھر واپس چلا جاتا تھا اور شوہر چدائی میں بھی سست تھا شادی کی پہلی رات ھی مجھے فارغ نہ کر سکا جب چند دنوں کیلئے آتا تو تب بھی مجھے فاریغ نہ کرپاتا شادی کے بعد شوہر سال بھر کیلئے جاتا اور میں بہت گرم رہتی اور شوہر ایک سال بعد آتا اوپر سے مجھے فاریغ نہیں کرپاتا ویسے تو میرے پاس سب کچھ تھا مگر میرے جسم کی بھوک مٹانے کیلئے کچھ نہ تھا میں اتنی گرم ھو جاتی کے اکثر میں ایک تکیہ کو اپنی ٹانگوں میں لیتی اور دوسرے تکیہ کو اپنی باھوں میں لےکر اپنی چوت رگڑتی اور دوسرے تکیہ کو اپنے مموں پر دباکر تکیہ کو چومتی اور بیڈ پر تڑپتی رہتی اسی طرح مجھے تڑپتے ھوئے چار سال ھو گئے جب میکے جاتی تو بھائی اور بھابھی کو کبھی چمہ چٹی کرتی دیکھتی تو مجھ میں زیادہ گرمی چڑھ جاتی کبھی پاپا مما کو چمہ چٹی کرتی دیکھتی پھر میں گھر آتی اور بیڈ پر تڑپتی ھوئی تکیہ سے مست ھوتی اور اس تڑپ کا کسی سے زکر بھی نہیں کر پاتی ایک رات میں بہت ھوٹ تھی اور اپنے مموں کو دباتی ھوئی تڑپ رھی تھی اور نید میری آنکھوں سے کوسو دور تھی اور رات کا ایک بج رھا تھا اور میرا گلا خشک ھو گیا میں ڈھنڈہ پانی پینے کیلئے روم سے باہر آئی سسر جی کا روم میرے روم کے ساتھ تھا اور سسر کے روم کے ساتھ فریج تھی سسر کے روم سے گزری تو کسی عورت کی آواز سنائی دی میں نے ڈور پہ کان لگا کر سنا تو لڑکی کی آواز آئی آصف آپ فاریغ ھی نہیں ھوتے مجھے بہت تھکا دیتے ھو میں نے سوچا کے کیا اندر لڑکی ھے پھر سوچا نہیں سسر جی ایسے نہیں ہیں من میں آیا ایک بار دیکھ لو ڈور کے ہینڈل کو گھمایا تو لاک تھا پھر میں نے چابی لی اور آہستہ سے لاک کھول کر آرام سے تھوڑا سا ڈور کھول کر دیکھا میں تو دیکھ کے حیران ھوگئی سسر نگا لیٹا ھے اور سسر کا لن مستی میں کھڑا ھے اور ایک لڑکی سسر کے لن کو چوپے لگا رھی ھے سسر کا لن تو شوہر کے لن سے موٹا لمبا اور تگڑا تھا سسر کا لن دیکھتے ھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی یہاں سے ہٹنے کو من ھی نہیں کر رہا تھا پھر سسر لڑکی کی چوت چاٹنے لگا اف میں تو بہت ھوٹ تھی پھر جم کے چدائی کرنے لگے اور دونو فل مستی میں تھے میرے ہاتھ خود اپنے مموں اور چوت پر آئے مموں کو دباتی چوت کو سہلاتی سسر کی چدائی دیکھ رھی تھی سسر جی تو مشین کی طرح چدائی کرتے بھٹکے لگا رھے تھے تقریبآ سسر جی نے دو گھنٹے تک چدائی کی اور لڑکی چار بار فاریغ ھوئی جب لڑکی فاریغ ھوتی تو سسر کبھی گانڈ چودتا کبھی مموں کو چودتا کبھی لڑکی لن کو چوپے لگاتی پھر سسر فاریغ ھوا تو لڑکی واش گئی اور ابھی بھی سسسر کا لن مستی میں کھڑا تھا۔ پھر لڑکی آئی تو سسر نے کہا لائٹ بجھاکر کرتے ہیں لڑکی لائٹ بجھا دی اب مجھے کچھ دیکھائی نہ دیا میں بہت گرم ھو چکی تھی فریج سے ڈھونڈی پانی کی بوتل لے کر اپنے اوپر ڈالا پھر اپنے روم آکر تڑپتی رھی مموں کو نکال کر چومتی چوستی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر چوت میں انگلی کرنے لگی سسر کا لن میرے خیالوں میں ایسا بسا کے مجھے سسر کا لن نظر آنے لگا آنکھیں کھلی ھوتی یا بند ھوتی میں فل تڑپ اٹھی سوچا سسر ابھی بھی شوق رکھتا ھے سسر کا لن تو بہت کیوٹ ھے لڑکی کو چار بار فاریغ کیا ایک میرا شوہر ھے جو فاریغ ھی نہیں کر پاتا اسی طرح صبح ھوگئی میں دیکھنے کیلئے گئی تو ڈور لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو دیکھا سسر اکیلا گہری نید میں سو رھا ھے شائید لڑکی جا چکی تھی سسر کے اوپر سے چادر ہٹاکر کر دیکھا تو سسر نگا سو رھا تھا پھر لن سے چادر ہٹاکر دیکھا تو سسر کا لن ابھی بھی کھڑا تھا مجھ سے رھا نہ گیا تو سسر کے لن کو چھوا پھر لن کو مٹھی میں لےکر سہلایا پھر لن کر ٹوپہ کو چمہ کیا اتنی دیر میں سسر نے کروٹ لےلی من کر رھا تھا ابھی سسر پر چڑھ جاؤ پھر میں روم سے باہر آئی سوچا سسر تو پتا نہیں کتنی لڑکیوں کو چودتا ھوگا کیوں نہ میں لڑکیوں کی جگہ لےلوں پھر میں نے پکا ٹھان لیا کے بس سسر کو کسی طریقے سے راضی کرنا ھوگا۔ پھر سسرجی اٹھے میں نے ناشتہ لگایا اور ھم ناشتہ کرنے لگے سسر پر مجھے بہت پیار آرھا تھا من تو کر رھا تھا ابھی چدائی کی بات کروں پر اچانک میرے منہ سے نکل گیا انکل لگتا ھے رات میں آپ کو نید نہیں آئی کہا ہاں فریحہ دیر سے نید آئی پھر سسر جی ناشتہ کرکے آفس چلا گیا پھر شام کو جلدی گھر آیا اور جاکر اپنے روم میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا اور سسر کی دو دن کی چھٹی تھی میں نے ٹھان لیا کے ابھی سے ھی شروع کروں دو دن چھٹی ھے میں نے ڈور کھولا تو سسر نے مجھے دیکھا میں مسکرائی پھر سسر نے آنکھیں بند کر لی آج سسر کو کیا پتا تھا کے سسر کی بہو سسر کو مزے دینے والی ھے میں جاکر سسر کے ساتھ لیٹ گئی سسر نے مجھے اپنے ساتھ لیٹا ہوا دیکھ کر کہا فریحہ کیا ھوا یہاں کیوں لیٹی ھو میں رونے لگی سسر آٹھ کر کہنے لگا آرے کیوں رو رھی ھو کیا سلیم نے کچھ کہا میں نے کہا سسر جی ایک بات ھے نہ ھی میں کسی سے کچھ کہے سکتی ھوں اور نہ ھی بتا سکتی اور نہ ھی کوئی میرا ساتھ دے گا سسر نے کہا اچھا تم مجھ سے کہے سکتی ھو ھو سکا تو میں تیرا ساتھ دوں۔ یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ھوئی میں نے کہا سسر جی بات یہ ھے کے شادی سے لےکر آج تک سلیم مجھے کبھی خوش نہیں کر پایا میں بہت تڑپتی کبھی من کرتا ھے خودکشی کرلو یاں بھاگ جاؤ یا کسی سے دوستی کر لو پر بدنامی سے ڈر لگتا ھے تو سوچا آپ سے بات کروں اگر مان گئے تو گھر کی بات گھر میں رھے گی اور میں بدنامی سے بچ جاؤں گی میں آٹھ کر سسر کے گلے لگ کر رونے لگی سسر نے کہا فریحہ اچھا تم روؤں نہیں مجھے اپنی باھوں میں بھر کر کہا میں ہمیشہ تیرا ساتھ دونگا میں نے سسر کے سامنے منہ کرکے کہا سچ میں کہا ہاں میرے منہ میں منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے اور میں نے کہا انکل میں بہت گرم ھو کبھی فاریغ نہں ھو پائی سسر نے کہا اب تم یہ سب بھول جاؤ گی۔ میں سسر کو چومتی ھوئی نگا کر لیٹا کر چومنے لگی اور ساتھ میں سسر میرے کپڑے اتارنے لگا پھر میں بھی نگی ھوگئی پھر ھم چومتے ھو کبھی سسر میرے اوپر تو کبھی میں سسر کے اوپر سسر نے کہا اف فریحہ تم بہت کمال کی ھو تیرا سارا جسم کمال کا ھے سسر میرے مموں کو خوب دباتا چومتا منہ کا پیار کرتا میں بھی سسر کو مست چوم رھی تھی سسر اپنے لن کو میری ٹانگوں میں رگڑتا پھر میں نے سسر کو نیچے کیا اوپر آکر سسر کو چومتی ھوئی لن تک پہنچی لن کو زبان سے چاٹتی ھوئی ٹوپہ کو زبان سے چاٹتی ھوئی سارے لن کو چومتی اور چاٹنے لگی سسر مست تھا سسر کے موٹے لمبے لن کو چومنے چاٹنے کا بہت مزہ آرہا تھا پھر ٹوپہ کو ھونٹوں میں لےکر چوپے لگائے سسر مستی میں کہتا فریحہ تم بہت کمال کی ھو پھر سارے لن کو منہ میں لےکر چوپے لگانے لگی کبھی لن ٹوپہ کو چاٹتی کبھی ٹوپہ کو چوپے لگاتی کبھی سارے لن کو چوپے لگاتی ھوئی میں بہت مستی میں تھی جی بھر کے لن کو پیار کیا پھر سسر میرے اوپر آکر میرے مموں کو چودتا اور سسر کا لن میرے مموں کو چودتا ھوا لن سسر کا لن میرے منہ کے پاس آتا تو میں لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹوپہ کو ھونٹوں لیتی چومتی اور ٹوپہ پر زبان پھیرتی پھر سسر مجھے چودا ھوا میری چوت دیکھ کر تعریف کی پھر میری چوت کو چومتا چوستا چاٹتا رھا میں مستی میں سسر کی تعریف کرتی اور آہیں لے رھی تھی پھر سسر نے میری چوت میں لن ڈال کر اور سسر کا لن میری چوت میں بڑی مشکل میں گیا تو سسر نے کہا اف فریحہ تیری چوت اتنی تنگ ھے ایسے لگتا ھے جیسے تم ابھی بھی کنواری ھو پھر سسر نے مست چدائی کی پھر ڈونکی بناکر چدائی کی پھر اپنے اوپر بٹھاکر چدائی کی اور پھر میری چوت سے رس رس کا فوارہ نکل پڑا میں نے کس کے سسر کو باھوں میں بھر لیا اور سسر لگا رھا پھر سسر نے مجھے نیچے لیتا کر میری چوت کا رس چاٹنے لگا پھر چدائی کرنے لگا اور سسر اب فل مستی میں چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی سسر کے لن کو پیار کرنے گی کچھ دیر بعد پھر سسر چدائی کرنے لگا پھر میں فاریغ ھوئی تو کچھ دیر بعد سسر میری چوت میں فاریغ ھوا مجھے سے کہا مزہ آیا میں سسر کو پیار کرتی کہا بہت مزہ آیا پھر سسر جزبات میں آیا پھر چدائی کی پھر میں فاریغ ھوئی سسر کو میں مستی میں پیار کرتی کہ آپ بہت کمال کی چدائی کرتے ھو میری جان ھو تم پھر کچھ دیر ھم نے بریک کی پھر میں کھانا بنانے لگی ھم دونو نگی تھے سسر تو کھانا بناتے بھی چدائی کرتا رھا مجھے بھی ایسا مرد چاہیئے تھا اف مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا پھر کھانا بناکر زبردس چدائی کی پھر کھانا کھاکر ھم چدائی میں مست ھو گئے پھر رات کا کھانا کھاکر ساری رات چدائی کی اب میں اور سسر ساتھ سوتے اور بس چدائی کرتے سسر مجھے تین سے چار بار فاریغ کرتا پھر سسر نے گانڈ چودنے کو کہا میں نے کہا اب آپ کا ھے پھر سسر نے نے گانڈ کی سیل اس پیار سے کھولی کے مجھے درد کا پتا نہ چلا پھر مجھے ماہواری آئی پھر ھم مست پیار کرتے سسر میرے مموں کو چودتا میں لن کو چوپے لگاتی سسر کے لن کا پانی پیتی جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور مجھے حمل ھوگیا پھر دوسرے دن شوہر آیا شوہر تو بس فاریغ جلدی ھو جاتا موقعہ دیکھ کے میں سسر سے چدائی کرتی چوتھے دن شوہر کو پیٹ سے ھونے کی خوشخبری دی سن کے بہت خوش ھوا ایک بار سسر بہت ھوٹ تھا تو شوہر سے کہا میں اور انکل اوپر والے اسٹور سے کچھ سامان نکالنے جارھے ہیں میں اور سسر اوپر آکر خوب چدائی کی پھر ھم نیچے آئے پھر شوہر چلا گیا پھر مجھے بیٹآ ھوا سسر میرے مموں کا دودھ پیتا اور ھم خوب چدائی کرتے اسی طرح سسر نے مجھے چار بچے دیئے میں اپنے سسر کے ساتھ اب بھی خوش ھوں سسر کا لن آج بھی ویسے کمال کا ھے لن میں کوئی فرق نہیں آیا میں بہت مزے کرتی

The post جوان سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d8%b1-3/feed/ 0
بہن اور بھائی https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/#respond Mon, 22 Sep 2025 07:02:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/   بہن اور بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔!!  یہ کہانی ایک دوست نے کال پہ میرے ساتھ شیئر کیا تھا جس کے کہنے پہ میں نے لکھی ۔۔ میرا نام تو زوہیب کہہ سکتے ہیں اور میرا تعلق لاہور کے مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ یہ میری پہلی کہانی ہے اور اس سے پہلے میں نے کبھی اس طرح […]

The post بہن اور بھائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 













بہن اور بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔!!


 یہ کہانی ایک دوست نے کال پہ میرے ساتھ شیئر کیا تھا جس کے کہنے پہ میں نے لکھی ۔۔

میرا نام تو زوہیب کہہ سکتے ہیں اور میرا تعلق لاہور کے مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ یہ میری پہلی کہانی ہے اور اس سے پہلے میں نے کبھی اس طرح کا نہیں لکھا اس لیے ہو سکتا ہے کہ آپ کو میرا لکھنے کا انداز پسند نا آئے۔ مگر کیوںکہ یہ میری آپ بیتی ہے اس لیے آپ کو سنا رہا ہوں، کوئی غلطی ہو تو معاف کر دیجیئے گا، ویسے تو سب ہی یہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری سچی کہانی ہے اس لئے میں آپ سے ایسا کچھ نہیں کہوں گا، آپ خود پڑھ کر ہی فیصلا کیجیئے گا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے اپنے گریجوئیشن کے پیپر دیئے تھے اور رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا، مجھے 20 دنوں کے لئے اپنی نانی کے گھر رہنا پڑا کیوںکہ میں کراچی گھومنا پھرنا چاہتا تھا کیوںکہ ایگزام سے نیا نیا فارغ ہوا تھا۔ میری نانی ماں کا گھر کافی بڑا ہے اور اس میں میری نانی کے علاوہ میرے ماموں اور ان کی فیملی رہتی ہے۔ ماموں کے یوں تو 6 بچے (تین لڑکے اور 3 لڑکیاں) ہیں مگر میری یہ کہانی مریم کے گرد گھومتی ہے جو مجھ سے 2 سال چھوٹی ہے۔ نانی کے گھر انجوائمینٹ کے لئے صرف ٹیلیویژن تھا اور انٹرنیٹ نہیں تھا، اس لئے وقت گزاری کے لئے انٹرنیٹ کنیکشن بھی لگوا لیا۔ ویسے تو پہلے نیٹ کیفے جایا کرتا تھا مگر وہاں صرف کبھی کبھی سیکسی ویب ہی دیکھ لیا کرتا تھا مگر جب گھر کا نیٹ ہوا تو بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔ ایک دن میں نے دیسی پاپا کی سائیٹ لگائی تو اس میں ایروٹک کہانیوں کا آپشن دیکھا، جب کھولا تو بہت مزا آیا، پھر تو میرا یہ معمول بن گیا کہ سونے سے پہلے یا جب بھی ٹائیم ملتا تو میں اس پر بھی یہ ہی کام کرتا، مجھے سب سے زیادہ سسٹر سیکس سٹوریز پسند تھی، یہاں میں بتاتا چلوں کہ میں اپنے گھر میں اکلوتی اولاد ہوں اور میرے کوئی بھائی بہن نہیں ہیں، میں ماموں کے بچوں کو بھائی اور بہن کہہ کر بلایا کرتا تھا اور شروع سے ان کو بھائی اور بہن سمجھتا تھا، اور بھی مجھے بھائی کی نظر سے دیکھتے تھے حتّٰی کہ مریم بھی مجھے بھائی ہی کہہ کر بلاتی تھی اور میرا بھائی ہونے کے ناتے بہت خیال رکھتی تھی۔ اب ایسی کہانیاں پڑھی تو نہ جانے کیوں میں بھی اپنی چھوٹی بہن یعنی مریم میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوا، مریم کی چھوٹی بہن ابھی کافی چھوٹی تھی اور فائزہ باجی (مریم کی بڑی بہن) اسلام آباد میں جاب کرتی تھیں اس لئے گھر میں لے دے کر ایک مریم ہی میرے ساتھ باتیں کرتی تھی اور ٹائیم دیتی تھی کیوںکہ مریم کے 3 بھائیوں میں سے ایک بھائی تو شادی شدہ تھے اور الگ رہتے تھے اور باقی دونوں بھائی کام پر جاتے تھے اور رات گئے دیر سے لوٹتے تھے۔ ارے میں بھی کیا فیملی کی سنانے بیٹھ گیا آپ بور ہو رہے ہوں گے۔ تو چلیں اب میں آپ کو اپنی چھوٹی بہن مریم کے بارے میں بتاتا ہوں، وہ مجھ سے کوئی 2 سال چھوٹی ہے اور اس وقت 19 سال کی تھی، گوری رنگت، سلم باڈی سراسری قد اور سب سے الگ اس کے گول ممے اور چھوٹی سی گانڈ، جو اس کے سیکسی فگر کو اور دلکش بناتے تھے۔ دیسی پاپا پڑھنے کے بعد میں نے اس کی عادتوں پر غور کرنا شروع کیا، وہ زیادہ تر بغیر دوپٹے کے گھر میں رہتی اور کپڑے بھی فٹنگ کے ہی استعمال کرتی تھی جس سے اس کا فگر نمایاں نظر آتا تھا۔ مگر میں چاہتا تھا کہ وہ خود میری طرف پہل کرے اور یہ ہی میری فینٹسی تھی۔ میں اکثر سوچتا کہ اگر وہ مجھے گندی نظر سے دیکھے تو مجھے سیڈیوس کرنے کے لئے کیا کرے گی۔ یہ سوچ سوچ کر اور مریم کو دیکھ دیکھ کر میں پاگل ہوتا رہتا تھا۔ اکثر میں جب نیٹ پر سے اٹھتا تھا تو وہ آ کر بیٹھ جاتی تھی اور اپنے دوستوں سے باتیں کرتی تھی۔ اس کے لئے سب سے پہلے میں نے یہ کیا کہ ایک فیک آئی ڈی بنائی جس پر اس کو ایڈ کیا اور پھر اس سے کچھ دن بات چیت کی (نیٹ کیفے جا کر) اور پھر اس کو لائیٹ قسم کی سیکسی تصویریں بھیجی۔ تا کہ اس کا تاثر پتہ چلے۔ میں اس کافی دن تک اس کو میل کرتا رہا یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ردعمل ہوتا ہے اب۔ میں نے دیکھا کہ اس نے کمپیوٹر کو زیادہ وقت دینا شروع کر دیا تھا اور اکثر ہسٹری میں کوئی سیکسی سائیٹ بھی نظر آتی تھی۔ یہ میرے لئے اور بھی اچھی بات تھی۔ پھر ایک دن میں گھر سے نکل کر کیفے اور بات شروع کر دی، شروع میں اس نے بہت غصہ دکھایا ان سیکسی تصویروں کے متعلق مگر جب میں نے یہ کہا کہ اگر ایسی بات تھی تو تم نے مجھ کو بلاک کیوں نہیں کیا میل باکس اور ہاٹمیل پر، تو کہنے لگی کی سچی بات تو یہ ہے کہ خود بھی وہ سب کچھ تھوڑا تھوڑا اچھا لگنے لگا ہے۔ اس طرح میں نے اس سے سیکس پر بات کرنا شروع کر دی۔پہلے دن میں نے زرا ہلکا ہاتھ رکھا۔ کچھ دن کی مستقل بات چیت کے بعد میں نے اس کو کہا کہ میں تو اپنی بہن کے ساتھ سیکس کرتا ہوں ، تو یہ سن کر وہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے، تو میں نے اس کو کہا کہ تقریباً سبھی یہ ہی کرتے ہیں مگر بتاتا کوئی نہیں۔ الغرض کہ میں اس کو شیشے میں اتارنے لگا اور اس کو صلاح دی کہ تم بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہ سب کچھ کر کے دیکھو۔ پہلے تو اس نے بہت برا بھلا کہا مگر بعد مین جب اس کو مزید باتیں بتائیں تو کہنے لگی کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ کیسے کر سکتی ہوں وہ تو گھر پر مجھے ٹائیم ہی نہیں دیتے، ہاں میرے ایک کزن بھائی لاہور سے آئے ہوئے ہیں، مگر وہ بہت سیدھے سادھے اور شریف ہیں اور مجھے بہن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیوںکہ ان کی کوئی بہن نہیں ہے۔ میں نے اسے کہا کہ یہ تو سب سے اچھا ہے کہ سگا بھائی نہیں ہے، مگر بھائی کے جیسا ہے۔ اس نے اپنی کلاس فیلوز طرف گھمانے کی کوشش کی تو میں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ تمہارے کلاس فیلوز اپنی بہنوں کے ساتھ کرتے ہوں گے انہیں تمہاری کیا ضرورت ہوگی۔ یہ سن کر وہ بولی کہ اوکے میں سوچوں گی۔ اب وہ پوری طرح سے میرے ہاتھ میں تھی اور مجھے بھی اس کھیل میں مزا آ رہا تھا۔ مجھ کو کوئی جلدی نہیں تھی۔ ایک دن میں نے اس کہ کہا کہ جب تم گھر میں جھاڑو لگاؤ تو اپنی قمیز کے اوپر والے بٹن کھول لیا کرو، اور یہ ظاہر کرو کہ تم کو پتہ نہیں ہے۔ جب بھائی کے سامنے یا ان کے کمرے کی صفائی کرو۔ اگلے دن یہ ہی ہوا میں اپنے بیڈ پر لیٹا کہ وہ صبح ہی صفائی کے لئے آ گئی اور اس نے اوپر کا ایک بٹن کھولا ہوا تھا جس سے اس کے مموں کا اوپری حصہ نظر آ رہا تھا۔ وہ میرے سامنے جھک کر جھاڑو لگانے لگی جس سے اس کے ممے صاف نظر آ رہے تھے، چھوٹے چھوٹے گول گورے ممے میرے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی تھے۔ میں نے بھی اپنی نگاہیں وہیں پر گاڑھ دی اس کو اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ میں اس کے مموں میں دلچسپی لے رہا ہوں۔ اس نے ایک بار میری طرف دیکھا تو میں نے نظریں گھما لیں۔ یہ دیکھ کر وہ مسکرانے لگی اور اپنا کام کر کے چلی گئی۔ اب آج کے بارے میں ساری بات میں نے کیفے سے جا کر کرنی تھی۔ جب میں نے یہ دیکھ لیا کہ وہ نیٹ پر آ گئی ہے تو میں کیفے چلا گیا اور اس سے بات کرنے لگا۔ وہ آج کے بارے میں بتانے کے لئے بیتاب تھی۔ اس نے بتایا کہ اس نے کس طرح بھائی میرے مموں کو دیکھ رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ان کو پکڑنا چاہتے ہیں۔ تو میں نے پوچھا کہ تم کیا چاہ رہی تھی اس وقت، تو کہنے لگی کہ میرے دل میں عجیب سی گدگدی ہو رہی تھی اور میں تو یہ چاہ رہی تھی کہ بھائی اٹھیں اور مجھے اٹھا کر اپنے بیڈ پر لے جائیں اور پھر جو وہ چاہتے ہیں وہ سب کچھ کریں۔ تو میں نے کہا کہ اب تم کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا کہ اگر تمھارا بھائی تم کو *** کریں تو؟ کہنے لگی کہ اب جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ اور مزید ترقیبیں سوچنے لگی کہ بھائی کو کیسے اپنا جسم اور جوانی دکھائے۔ یہ سب میرے لئے حیرت انگیز تھا، یہاں ایک بات آپ کو بتاتا چلوں کہ ہم دونوں کے روم برابر ہیں اور بیچ میں ایک کھڑکی ہے جو ھواداری کے لئے ہے گرمیوں میں اس میں پردہ پڑا رہتا اور سردی میں بند کر دیتے ہیں۔ خیر آج میں کافی موڈ بنا کر آیا تھا جب میں گھر آیا تو وہ نیٹ چھوڑ کر سونے کی تعیاری کرنے لگی تھی۔ میں نے بیٹھتے ہی کچھ سیکسی سائیٹ اوپن کی اور ان کو دیکھنے لگا۔ اچانک روم میں کھڑک ہوا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مریم کھڑی تھی ہاتھ میں دودھ کا گلاس لئے۔ اس نے مجھے سائیٹس چھاپاتے ہوئے دیکھ لیا اور مسکرا دی۔ میں نے حیران ہو کر اس کو دیکھا کیونکہ اس نے اس وقت باریک گلابی رنگ کا پجاما پہن رکھا تھا جس میں سے اس کی خوبصورت لمبی گوری ٹانگیں صاف نظر آ رہی تھیں اور اس کے اوپر اس نے ایک فٹنگ والی سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اس نے مجھے اس طرح گھورتے ہوئے پایا تو کہنے لگی کہ بھائی یہ پجاما میں آج ہی بازار سے لائی ہوں، رنگ کتنا پیارا ہے نا۔ اور میں نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتے ہوئے صرف سر ہلا دیا۔ میں نے پوچھا دودھ کیوں لائی ہو، پہلے تو کبھی تم دودھ نہیں لائی۔ تو اس نے شرماتے ہوئے عجیب انداز سے مجھے گھورا اور کہا میرا خیال تھا کہ دودھ سب لڑکوں کو پسند ہوتا ہے۔ میں نے بھی جواباً اسے گھورا اور کہا کہ مجھے بھی دودھ بہت پسند ہے، روزانہ پلاؤ گی نا۔ اور اس نے شرماتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔ خیر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں سمجھا کہ کل پرسوں تک میری بہنا راضی ہو ہی جائے گی۔ اور میں پھر سے کمپیوٹر پر ڈرٹی سائیٹس دیکھنے لگا اور مریم کو فینٹسائیز کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ کوئی اور بھی میرے ساتھ شامل ہے، دیکھنے میں۔ کیوںکہ میں پردے میں ہلکی سی آہٹ محسوس کر چکا تھا۔ مگر میں نے اپنا کام جاری رکھا اور آہستہ آہستہ سے اپنے لنڈ کو اپنی شارٹس کے اندر ہاتھ ڈال کر مسلنے لگا۔ مجھے عجیب سا احساس ہوا کہ میں اس طرح گندی تصویریں دیکھ رہا ہوں اور اپنے لنڈ کو ہاتھ لگا کر مزے لے رہا ہوں اور ایک لڑکی وہ بھی اتنی خوبصورت جس سے میں اتنی ڈھیر ساری گندی باتیں کر چکا ہوں اور جسے میں بہن کہہ کر پکارتا ہوں پردے کی اوٹ سے مجھے دیکھ رہی ہے۔ کچھ دیر کے بعد میں نے کمپیوٹر بند کر دیا۔ اور پھر میں نے پردے کے پیچھے دیکھا۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ میری بہن سو رہی ہے گہری نیند اور اس کی ٹی شرٹ اس طرح ہو رہی تھی جیسے سوتے میں اوپر چڑھ گئی ہو۔ جس کی وجہ سے اس کا خوبصورت پیٹ گورا سا پیارا سا اور اس کی سیکسی سی ناف صاف نظر آ رہی تھی۔ اس نےایک ٹانگ سیدھی اور ایک ٹانگ اسی ٹانگ کے اوپر ٹیڑھی کی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کی باریک پجاما میں سے اس کی گوری گول گانڈ نظر آ رہی تھی۔ اس کی گانڈ اس طرح سے دیکھ میں پاگل ہو گیا۔ اور اس خیال سے بھی کہ ابھی تو یہ جاگ رہی تھی اور ابھی کیسے ایکٹنگ کر رہی ہے سونے کی اور یہ پوز اس نے خاص طور میرے لئے بنایا ہے۔ میں کافی دیر اس نظارے کو دیکھتا رہا، مگر میں ابھی اس کھیل کو اور آگے بڑھانا چاہتا تھا۔ پھر میں اٹھ کر اس کے کمرے میں گیا اور اس کے پاس بیٹھ کر غور سے اسے دیکھنے لگا۔ مگار اس نے کوئی حرکت نہیں کی کچھ دیر بعد میں اٹھ کر واپس آ گیا۔ دوسری رات میں پھر سیکسی سائیٹس لگا کر بیٹھ گیا، کہ اچانک وہ میرے کمرے میں آ گئی جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو، اور آتے ہی اپنی نظریں مانیٹر پر گاڑھ دیں۔ میں نے تھوڑا ڈرنے کی ایکٹنگ کی اور جلدی سے سب چھپانے لگا۔ وہ دیکھ کر مسکرانے لگی اور کہنے لگی کہ بھائی آپ یہ آپ کیا کر رہے تھے، یہ تو بہت بری بات ہے اور میں اپنی امی کو بتاؤں گی کہ آپ یہ کام کرتے ہو۔ میں نے کہا مریم اگر میں تمہیں بہت بھاری رشوت دوں تو تب بھی بتاؤ گی کیا؟۔ اس نے کہا کہ ہاں اگر رشوت واقعی بھاری ہوئی تو نا بتانے کا سوچا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ تمہیں رشوت میں کیا چاہیے؟۔ تو کہنے لگی کہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا میں سوچ کر بتاؤں گی۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا اچھا تو یہ بتاؤ کہ دودھ پلانے کی کیا رشوت لو گی۔ تو کہنے لگی آپ کو پلایا تو تھا آج۔ میں نے کہا کہ میں تمہارے دودھ کی بات کر رہا ہوں۔ وہ ایک دم سے شرما گئی اور اس نے نیچے فلور کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اس کی نظریں نیچی ہی رہیں، اس وقت مجھے اس پر بہت پیار آیا اور میں نے ہاتھ بڑھا کر اپنی باہوں میں بھر لیا، اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئے۔ اس سے پہلے میں نے کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ مگر آج لگا رہا تھا اس لئے میرے اندر کچھ زیادہ ہی جوش تھا۔ اور کچھ ویسے بھی سماج کی یہ والی دیوار گرانے میں کچھ زیادہ ایکسائٹمینٹ تھی۔ ہم نے قریب کوئی 5 منٹ سے زیادہ کسنگ کی۔ ایک دوسرے کی زباں کو منہ میں ڈال کر چوستے رہے اور ساتھ ہی میرا ہاتھ اس کی ٹی شرٹ کے اندر چلتا رہا اس کے نپل میرے انگلیوں میں تھے۔ پھر میں نے اس کو بازو میں بھر کر بیڈ پر لٹا دیا۔ وہ بلکل ہلکی پھلکی تھی بچوں کی طرح۔ لٹا کر میں بھی اس کو کس کرتا رہا۔ کبھی ہونٹ تو کبھی چن تو کبھی گردن۔ میرے ہونٹ اس کے پورے چہرے پر تھے اور تو کبھی گردن سے ہوتا ہوا اس کے مموں کو چوم رہا ہوتا۔ وہ آہستہ آہستہ آوازیں نکال رہی تھی آھ اوھ قسم کی۔ میں نے اس کے اوپری حصے اس کے کپڑوں کو آزاد کیا اور ایک خوبصورت نظارہ دیکھنے لگا، کہ کیا چیز ہے۔ اور پھر میں نے دونوں مموں کو ہاتھوں میں لے کر مسلنا شروع کر دیا۔ کبھی دباتا تو کبھی چوستا تو کبھی چاٹتا۔ اس دن جو مزا مجھے مل رہا تھا وہ الفاظ میں بیاں نہیں کیا جا سکتا۔ پھر میں نے اس کا باریک پجاما نیچے کیا تو اس کی چوت نظر آنے لگی۔ پجاما اتارنے کی وجہ سے وہ کافی شرما رہی تھی جس پر مجھے اور بھی پیار آنے لگا اور میں نے اس کو اپنے آغوش میں بھینچ لیا اور ایک بار پھر کسنگ کرنے لگا اس طرح اس کی شرم کچھ دور ہوئی تو میں اس کی چوت سے کھیلنے لگا۔ اس کی چوت بہت ٹائیٹ اور چھوٹی سی تھی اور اس کی گوری رنگت کی وجہ سے بلکل گلابی تھی اور اس پر آدھے انچ کے قریب بال بھی تھے جس وجہ سے وہ اور بھی اچھی لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی انگلیوں کو اس پر پھیرنا شروع تو وہ مچلنے لگی۔ پھر میں نے اس کی چوت لب کو انگلی کی مدد سے کھولا تو اندر کا سرخ حصہ نظر آنے لگا۔ تو میں نے اپنی انگلی اس میں ڈال دی اور اس کو آہستہ سے حرکت دینے لگا جس پر وہ اور بھی زیادہ مچلنے لگی۔ اور بولی کہ بھائی اب برداشت نہیں ہوتا۔ مجھے اس کے جسم سے کھیلنے میں مزا آ رہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ اس کو ٹائیم دے سکوں اور آج کی رات کو یادگار رات بنا دوں۔ پھر میں اپنا منہ اس کی چوت کے پاس لے گیا تو مجھے ایک عجیب سی بو لگی مگر اس بو میں بھی مزا تھا اور اپنے ہونٹ اس کی چوت پر رکھ دئے تو وہ تڑپ اٹھی اور اپنے ہاتھوں اسے میرا سر پکڑ لیا۔ جب تک میں اپنی زباں اس کی چوت میں ڈال چکا تھا۔ مجھے ایک عجیب طرح کا ذائقہ محسوس ہوا مگر کیوںکہ میں جزبات میں تھا کہ میں اپنی چھوٹی بہن کی چوت کو دیکھ، سونگھ، چاٹ رہا ہوں۔ اس لئے وہ بھی اچھا لگنے لگا اور میں نے اور تیزی سے اس کہ چاٹنا شروع کر دیا۔ اور اس کی آواز میں آہستہ آہستہ سے تیزی آتی جا رہی تھی۔ تو میں نے کہا کہ بس گڑیا تھوڑا سا صبر کرو، اصل مزا تو اب آئے گا تم کو جب میں اپنا لنڈ تمہاری اس پیاری سی چھوٹی چوت میں ڈالوں گا۔ تو کہنے لگی کہ زوہیب بھائی جلدی کرو جو کرنا ہے، مجھ برداشت نہیں ہو رہا۔ تو میں نے بھی اپنی شارٹس اتار دیا۔ میرا لنڈ بلکل تنا ہوا کھڑا تھا جس کو دیکھ کر اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ لیا تو میں نے کہا یہ کیا بات ہوئی تم بھی تو دیکھو ورنہ مزا کیسے آئے گا اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھ لیا تو اس نے بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی اور غور سے لنڈ کو دعکھنے لگی جیسے کوئی بچہ نئے کھلونے کو دیکھتا ہے حیرت اور خوشی اور شرم بھری نگاہ سے۔ جب میں نے اس کو کہا کہ اس کو اپنے منہ میں لو تو اس نے منع کردیا کہ بھائی یہ مجھ سے نہیں ہو گا لیکن آپ کہہ ہو تو بس میں ایک بار اس کو کس کر لیتی ہوں اور پھر اس نے بہت ہی پیار سے میرے لنڈ کی ٹوپی کو کس کیا اور ساتھ ہی ایک لمہے کے لئے اپنی زباں ہی اسے لگائی جس سے ایک منفرد سرور حاصل ہوا۔ ایک بار پھر میں نے اس کے ہونٹ گاڑ دیئے اور مموں کو مسلنے لگا پھر میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت پر بہت آرام سے رکھا کہ وہ میری اپنی بہن ہے اور جب میں نے تھوڑا سا اپنا لنڈ اندر ڈالا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔ اور میرا لن بھی آگے نہیں جا رہا تھا۔ میں نے اپنا لن مریم کے منہ کے پاس کیا اور اسے کہا کہ اس پر بہت سارا تھوک لگاؤ۔ اس نے حیرت میری طرف دیکھا مگر کچھ نا بولی اور منہ سے ڈھیر تھوک بنایا اور میرے لنڈ پر لگا کر اپنے نرم گورے ہاتھوں سے سارے لنڈ پر مل دیا۔ ایسا اس نے 2 بار کیا۔ جب اچھی طرح میرے لنڈ پر تھوک لگ چکا تو میں نے کہا کہ اب میں اندر ڈالوں گا تو تمہاری سیل ٹوٹ جائے گی اور تم کو درد بھی ہو گا۔ اور میں تم کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا، کیا تم اس کے لئے تعیار ہو۔ تو اس نے کہا کہ بھائی جب یہاں تک آئے ہیں تو پھر باقی کیا بچا ہے، اب جو ہو گا دیکھا جائے گا آپ اپنا کام کرو۔ تو میں نے پھر ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ اندر ڈال دیا جس سے وہ آدھا اندار چلا گیا اور میری بہن کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کہ میں اس کے منہ پر تکیہ رکھ دیا تھا۔ اور ایک جھٹکے کے بعد میرا لنڈ پورا اندر جا چکا تھا مجھ کو بہت محنت کرنی پڑی کیوںکہ اس کی چوت ایک دم ٹائیٹ تھی۔ اب میں نے کچھ اس طرح کی ترتیب بنا لی تھی کہ میرا لنڈ اس کی چوت میں تھا اور اس کی ٹانگیں میرے کندھے پر اور میں اس کے مموں کو دباتا ہوا اس کے ہونٹ بھی چوس رہا تھا۔ اس طرح مجھ کو ایک ساتھ کئی مزے آ رہے تھے اور میرے سیکس کی تسکین بھی ہو رہی تھی۔ اب مجھ کو کچھ تھکن محسوس ہو رہی تھی تو میں سیدھا ہو کر لیٹ گیا اور اس کو اپنے لنڈ پر بیٹھ کر اوپر نیچے ہونے کا کہا۔ اب اس کی شرم بھی نکل چکی تھی اور وہ کسی ماھر کی طرح کر رہی تھی، اتنی تصویریں جو دیکھ چکی تھی جو میں نے اسے بھیجی تھی۔ جب وہ اوپر ہوتی تو اس کے ممے ھلکے سے سکڑتے اور نیچے آتے ہوئے زور سے ہلتے۔ یہ ایک بہترین نظارا تھا۔ پھر میں نے ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اور اس نے اپنی گردن پیچھے ڈال دی۔ ایسا کرنے سے اس کے ممے اوپر کی طرف کھنچ گئے تو میں نے نپلز کو انگلی اور انگوٹھے سے مسلنا شروع کر دیا۔ ایسا کرنے سے اس کے ہلنے کی رفتار اور تیز ہو گئی اور مجھے اس کی چوت میں سے پانی نکلتا ہوا محسوس ہوا تو میں نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا۔ اب میں بھی چھوٹنے ہی والا تھا اس لئے میں بیڈ پر کھڑا ہو گیا اور اس کو کہا میری مٹھ لگائے تو اس نے بیڈ پر گھٹنوں بل بیٹھ کر اپنے دونوں نازک ہاتھوں سے مٹھ لگانا شروع کر دی اور ساتھ ھی لنڈ کو چاٹنا بھی شروع کر دیا۔ شاید اب وہ جھجھک محسوس نہیں کر رہی تھی کہ اچانک لنڈ میں سے پانی نکل کر اس کے چہرے پر پڑی اور کچھ زباں پر بھی گئی جس پر اس نے برا سا منہ بنا کر اسے صاف کیا تو میں نے فوراً اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر گاڑ دیئے اور اس طرح اس کا موڈ بھی اچھا ہو گیا۔ اس کے بعد ہم کافی دیر ایک ساتھ لیٹے رہے ننگی حالت میں۔ اس کا سر میرے سینے پر تھا اور اس کا ایک ہاتھ میرے لنڈ پر آہستہ آہستہ مالش کر رہا تھا اور میرا ہاتھ اس کے مموں پر۔ اس طرح پوری رات میں کئی مرتبہ یہ کھیل کھیلا۔ اس دن کے بعد سے میری بہن نے میری پیاس بجھانے میں کوئی کثر نہیں اٹھائی۔ اور اس طرح میرے سیکس کی پیاس کا بھی بہنوں کی طرح خیال رکھا جیسے وہ میرا دوسرے کاموں میں احساس کرتی تھی بلکل ایک بہن کی طرح۔ ایک بار اس نے اپنی سہیلی کو بھی راضی کیا اور ایک بار ہم تینوں نے بھی رنگ رلیاں منائی۔ اس بات کو 2 سال ہو چکے ہیں۔ اب میری بہن کے ممے کافی بڑے ہو گئے ہیں اور اس کی گانڈ بھی کچھ بڑی ہو گئی ہے جس سے اس کی خوبصورتی اور سیکسی فگر اور بھی اچھی ہو گئی ہے۔ وہ مجھ سے کہتی ہے کہ بھائی میرے ممے آپ کی ہی وجہ سے بڑے ہوئے ہیں۔ اور میں اب ہر سمر میں ایک مہینے کے لئے کراچی جاتا ہوں۔ اور وہ ہر ونٹر میں 20 دن کے لئے لاہور آتی ہے اور ہم پھر سے یہ بہن بھائی کاے پیار کا کھیل کھیلتے ہیں اور باقی کے دن انہیں یادوں کو یاد کر کے اپنی پیاس خود اپنے ہاتھوں سے بجھاتے ہیں

ختم

The post بہن اور بھائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/ 0
ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (آخری قسط 10) https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-2/ https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-2/#respond Sun, 07 Sep 2025 15:43:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-2/   آخری قسط  ایمن اور ابا رات کو ایک ساتھ ننگے ہی سو گے صبح جب ایمن کی آنکھ کھلی تو ابا کا لن کھڑا ہوا تھا ایمن کو وہ اچھا لگا اور اس پہ ایمن نے کس کرنا شروع کردیا : جیسے ہی ابا کی آنکھیں کھلی تو ابا ایمن کی طرف دیکھ کر […]

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (آخری قسط 10) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 



آخری قسط



 ایمن اور ابا رات کو ایک ساتھ ننگے ہی سو گے


صبح جب ایمن کی آنکھ کھلی تو ابا کا لن کھڑا ہوا تھا ایمن کو وہ اچھا لگا اور اس پہ ایمن نے کس کرنا شروع کردیا : جیسے ہی ابا کی آنکھیں کھلی تو ابا ایمن کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگ گئے …


پھر ایمن ابا کے لن پر بیٹھ کر اچھلنے لگ گئی اس کے اچھلنے سے ایمن کے ممے ہل رہے تھے 


ان کا کزن ان کو باھر اتار کے واپس چلا جاتا ہے یہ دونوں دوسری چاہی سے دروازہ کھول کر اندر آ جاتی ہے عائشہ کو ابا نے گھر کی دوسری چابی دے رکھی تھی تاکہ جب کبھی ابا گھر نہ ہو وہ دروازہ کھول کر گھر میں آ جائیں


ایمن ابا کے لن پر بیٹھ کر اچھلنے میں مصروف ہوتی ہے یہ دونوں سارا نظارہ دیکھ رہیں ہوتی ہے ایمن کے ممے ہل رہے ہوتے ہیں 


جیسے ہی وہ دونوں ایمن اور ابا فارغ ہوتے ہے وہ دونوں بہنیں تالیاں بجاتی ہوئی کمرے میں آتی ہے 



عائشہ؛ یہ ہو رہی ہے پیپر کی تیاری


نور؛ تم شادی پر اس لیے نہیں گئی کہ تم نے پیپر کی تیاری کرنی ہے اور تم یہاں لن کے مزے لے رہی ہو، ہم نے تو آپ لوگوں کو سرپرائز دینا تھا ہم خود یہاں آ کے شوک ہو گئے ہیں


ایمن؛ یہ صرف تم لوگوں کا ابا نہیں ہے میرا بھی ابا ہے میں ان کی زیادہ لاڈلی بیٹی میں ہوں 


ابا؛ ہاں ایمن تم میری لاڈلی بیٹی ہو


ایمن؛ تم لوگوں نے بھی تو مزے لیے تھے ابا کے لن کے سو میں نے بھی لے لیے ہیں جتنا حق آپ کا تھا اتنا ہی میرا ہے 


ابا عائشہ سے؛ تم لوگ ناشتہ کر کے آؤ ہو یا نہیں ؟


عائشہ؛ نہیں ابا ہم نے ناشتہ نہیں کیا ہم تو آپ کو سرپرائز دینا چاہتے تھے


ابا؛ چلو ٹھیک ہے جا کے ناشتہ تیار کرو ہم فریش ہو کر آتے ہیں 


عائشہ؛ جی ابا میں کرتی ہوں


نور سامان رکھنے کمرے میں چلی جاتی ہے وہاں پہ جا کے دیکھاتی ہے کہ ایمن کا آئی فون چارجر پہ لگا ہوتا ہے وہ سامان رکھ کر باہر چلی جاتی ہے




یہاں ایمن اور ابا دونوں ایک ہی واش روم میں نہاتے ہیں ل، ایمن اور ابا بھی فریش ہو کر آ جاتے ہیں ایمن نے پینٹی اور جالی والی برا پینی ہے اور ابا نے صرف ٹانگوں پر چادر ہی باندھی ہے باقی ابا نے کچھ بھی نہیں پہنا


وہ لوگ ناشتہ کرتے ہیں اور ناشتے کے دوران نور ابا سے کہتی ہے کہ؛


ابا اب آپ نے ایمن کی چوت کے مزے بھی لے لیے اور اس کو آئی فون بھی لے کر دیا ہے۔ تو ابا اب پارٹی تو بنتی ہے


عائشہ؛ جی ابا اب پارٹی تو بنتی ہے آپ کی طرف


ایمن بھی ان کا ساتھ دیتی ہے اور کہتی ہے؛ ابا آج رات کو پارٹی کرتے ہیں


ابا؛ ٹھیک ہے آج رات میری طرف سے ہم پارٹی کریں گے تو بتاؤ کیا منگوائے


ایمن؛ ابا پیزا اور کول ڈرنکس منگوا لے 


ابا؛ ٹھیک ہے میں یہی منگوا لیتا ہوں


دوپہر کے دو بجے چکے تھے کیونکہ وہ جگے ہی بارہ بجے تھے 


شام ہوتے ہی ابا نے پیزا ہٹ پر آڈر دے دیا تھا


ابا نے ان تینوں بہنوں سے کہا؛ تم تیار ہو کے آؤ اور میں زرا گانو کا انتظام کر لوں۔


وہ تینوں تیار ہونے چلی جاتی ہے


عائشہ نائی ٹی پہن لیتی ہے لال رنگ کی


نور پینٹ شرٹ اور ایمن جالی والی قمیض پہن لیتی ہے اس کے نیچے و کچھ بھی نہیں ہوتا بس اکیلی قمیض ہی ہوتی ہے وه تینوں جب نیچے آتی ہے تو ان کا ابا مانو جیسے پاگل ہو گیا ہو ان کو دیکھ کر


ان کا ابا ان کو کہتا ہے؛ آج تم سب مست لگ رہی ہو


ان کے ابے نے جو پیزا منگوایا ہے وہ چاروں مل کر کھاتے ہیں اور کول ڈرنکس پیتے ہیں کھانا وغیرہ ختم کر کے وہ لوگ ڈانس کرتے ہیں


ڈانس کرتے کرتے ان سب کا موڈ بن جاتا ہے وہ ایک دوسرے کو کس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی ایک دوسرے کے کپڑے اتار دیتے ہیں عائشہ اور ابا کس کرتے ہیں اور ساتھ ابا عائشہ کے مموں کو دباتے ہیں ایمن زمین پر بیٹھ کر ابا کا لن منہ میں ڈال لیتی اور نور بھی زمین پہ بیٹھ کر ابا کے ٹٹے(bolls) منہ میں ڈال کر چوسنے لگ جاتی ہے


اس سے تھوڑی دیر بعد نور کہتی ہے؛ ابا مجھے گھوڑی بنائے اور میری چوت میں لن ڈالو


ابا؛ میں تمہیں گھوڑی بنا کر تمہاری چوت نہیں تمہاری گانڈ ماروں گا


نور؛ ابا درد ھوگا پر ٹھیک ہے ابا


نور صوفے پر ہاتھ رکھ کے گھوڑی بنتی ہے ابا جیسے ہی نور کی گانڈ میں لن کو ڈالتا ہے نور کی چیخیں نکل جاتی ہے


عائشہ اور ایمن ایک دوسرے کو انگلی سے چودتی ہے اور مزے لیتی 


ابا نور کے بالوں سے پکڑ کر زور زور سے اس کو جھٹکے لگاتا ہے اور و اس کی گانڈ مارتا ہے نور کی چیخوں سے پورا بال گونج رہا ہوتا ہے 


اس کی آہ آہ آہ آہ آہ کی آوازوں کا بہت شور ہوتا ہے اور ایمن اور عائشہ نور کو دیکھتے ہوئے انجوائے کر رہی ہوتی ہیں


پھر ایمن ٹانگیں کھول کر صوفے پر بیٹھ جاتی جیسے ہی نور کو تھوڑی درد کم ہوتی ہے ابا اپنا لن نکال کر سیدھا ایمن کی چوت میں ڈال دیتا ہے اور اس کو چودنے لگ جاتا ہے


ایمن؛ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ اوہ …اوه افففف آها


ایمن کے فارغ ہوتے ہی ابا زمین پہ لیٹ جاتا ہے اور عائشہ ابا کے لن پری بیٹھ کر اچھلنے لگ جاتی ہے اور کافی دیر تک ابا کے لن پر اچھلتی رہتی ہے


ایمن اور نور ایک دوسرے کو انگلی سے چودتی ہے اور مموں کو چوستی ہے اور ہونٹوں پر کسنگ کرتی ہے اور مزے لیتی ہے تھوڑی دیر بعد عائشہ بھی فارغ ہو جاتی ہے


وہ ساری رات اسی طرح ایک دوسرے کو چودتے رہتے ہیں اس رات انہوں نے ساری رات ایک دوسرے کو بہت چودا


اب وہ لوگ گھر میں ہمیشہ ننگے رہتے ہیں اور جب ان کا دل کرتا ہے وہ سیکس کرتے ہیں



ختم شد

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (آخری قسط 10) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-2/feed/ 0
ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 9) https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-4/ https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-4/#respond Sun, 07 Sep 2025 15:41:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-4/   ایمن؛ چلے ٹھیک ہے ابا میں اب جا کے سوتی ہوں میں نے صبح پیپر بھی دینے جانا ہے ابا؛ چلو ٹھیک ہے تم جا کے سو جاؤ صبح میں آئی فون لے آؤ گا تمہارے لیے ایمن؛ شکریہ ابا اتنا کہہ کر ایمن اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے اور جا کر سو […]

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 9) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 



ایمن؛ چلے ٹھیک ہے ابا میں اب جا کے سوتی ہوں میں نے صبح پیپر بھی دینے جانا ہے


ابا؛ چلو ٹھیک ہے تم جا کے سو جاؤ صبح میں آئی فون لے آؤ گا تمہارے لیے


ایمن؛ شکریہ ابا اتنا کہہ کر ایمن اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے اور جا کر سو جاتی ہے


صبح ایمن اٹھتی ہے اور ہلکا پھلکا ناشتہ بنا کر ابا کو بھی دیتی ہے اور خود بھی کر کے کالج چلی جاتی ہے اور جا کر اپنا پیپر دیتی ہے 


وہ پیپر دے کے تقریبا 11 بچے کالج سے واپس آتی ہے جب وہ واپس آتی ہے تو ابا حال ہی میں بیٹھے ہوتے ہیں ابا اس سے کہتے ہیں کہ؛ چلو ایمن بیٹا میرے ساتھ میں تمہیں آئی فون بھی لے کر دیتا ہوں اور شاپنگ بھی کر لینا اور شاپنگ کے بعد ہم فلم دیکھنے بھی جائے گے اور کھانا بھی ہم باہر کھائے گے


ایمن خوشی سے؛ سچی ابا 


ابا: ہاں تم جلدی سے تیار ہو کے آ جاؤ اور ہاں اچھے سے کپڑے پہن کر آنا


ایمن؛ جی ابا میں ابھی فریش ہو کے آئی اور آپ بھی کپڑے تبدیل کر لو


ابا؛ ہاں ٹھیک ہے میں بھی کپڑے تبدیل کر لوں 


ایمن بھاگ کر جاتی ہے کمرے میں اور اپنے لیے سفید رنگ کی شوٹ شرٹ نکالتی ہے اور اس کے ساتھ ایک نیلے رنگ کی پینٹی نکالتی ہے


اس کا جسم تھوڑا بھروا بھروا سا اور موٹا ہے گول گول گال ہے


مموں کا سائز 36 ہے اور وہ اس سفید شوٹ شرٹ کال میں کیوٹ لگ رہی تھی بلکا سا میک اپ کرتی ہے اور باہر چلی آتی ہے اس کا ابا اس کے انتظار میں باھر ہال میں بیٹھا ہوا تھا جب ایمن نیچے جاتی ہے اس کا ابا اسے دیکھتا ہی رہ جاتا ایمن بہت ہی کیوٹ اور ہوٹ لگ رہی تھی ابا اپنے ذہن میں سوچتا ہے کہ یہ بھی میری بی بیٹی ہے اور اس قدر ہوٹ ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا


ابا؛ ماشاء اللہ تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو


ایمن؛ جی ابا اب چلیں


ابا؛ ہاں چلو وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکل جاتے ہیں اس کا ابا سارے راستے بس اسی کو ہی دیکھتا رہتا ہے تھوڑی ہی دیر بعد فون والی مارکیٹ آ جاتی ہے اور ابا گاڑی روک کر؛ چلو بیٹا مارکیٹ آ گئی ہے


ایمن اور اس کا ابا گاڑی سے نیچے آ جاتے ہیں ایمن بہت ہی خوش ہے 


اب وہ مارکیٹ میں اندر جاتے ہیں اور وہاں بہت سارے فون ہوتے ہیں


ایمن؛ اتنے سارے موبائل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے 


مارکیٹ میں ایمن کو تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ کونسا فون لے


خیر اس کا ابا کہتا ہے؛ بیٹا کونسا ماڈل لینا آپ نے


ایمن؛ مجھے 15 پرو میکس لینا ہے ابا


دکان والا اس کو فون دیتا ہے اور وہ بہت ہی خوش ہو جاتی ہے اس کا ابا دکان والے کو پیسے دیتا ہے اور وہ فون لے کر باہر آ جاتے ہیں


باہر آ کر ایمن؛ ابا آپ کو پتہ ہے میں کتنی خوش ہوں آپ نے مجھے آئی فون لے کر دیا 


ابا؛ تم خوش ہو میرے لیے اتنا ہی کافی ہے آخر تم لوگوں کے علاوہ میرا ہے ہی کون


ایمن؛ اب کہاں جانا ہے ابا


ابا؛ اب ہم دونوں نے شاپنگ کے لیے جانا ہے تم نے جو لینا ہے وہ خرید لینا بیٹا


ایمن؛ جی ابا مجھے کچھ چیزیں لینی ہے آپ مجھے وہ لئے کر دے گے


ابا؛ ہاں جو تم کہوا میں تمہیں وہی لے دوں گا


ایمن؛ ابا بہت بہت شکریہ آپ کا


ابا؛ اس میں شکریہ والی کیا بات ہے سب کچھ تمہارا ہی تو نے


وہ گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور شاپنگ مال کی طرف نکل جاتے ہیں


شاپنگ مال پہنچ کر


ابا؛ ایمن بیٹا چلو شاپنگ مال آ گیا ہے جو کچھ لینا ہے آپ لے لو


مال کے اندر داخل ہوتے ہی ایمن کو جوتے نظر آتے ہیں بیل والے ایمن وہ لے لیتی ہے


کپڑے بھی کافی سارے لے لیتی ہے اس میں برا ہوتی ہے تین چار رنگ کی نیلے رنگ کی لال رنگ کی اور مختلف رنگوں کی ہوتی ہے اور پنیٹ شرٹ بھی لے لیتی ہے میک اپ بھی لیتی ہے ایک سوٹ پیکنگ میں ہوتا ہے جو اس کا ابا اس کے لیے لیتا ہے


کافی ساری شاپنگ کے بعد ایمن؛ ابا اب گھر چلے


ابا؛ نہیں بیٹا گھر نہیں ہم نے ابھی فلم دیکھنے بھی تو جانا ہے


ایمن؛ ابا سچی میں ہم نے فلم دیکھنے جانا ہے


ابا؛ ہاں بیٹا ہم نے جاتا ہے فلم دیکھنے


ایمن خوشی میں؛ جلدی چلیں ابا کہیں فلم مس نہ ہو جائے


سارا سامان گاڑی میں رکھ کر وہ دونوں فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں ایمن کھانے والی چیزیں لے کر جاتی ہے جن میں چاکلیٹ اور لیز چپس ہوتے ہیں


ایمن؛ ابا یہ میں فلم کے درمیان میں کھاؤ گی کیونکہ مجھے بھوک لگی ہوئی ہے


وہ دونوں جاتے ہیں اندر فلم بھی شروع ہو چکی تھی فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ ایمن اپنی چیزیں بھی کھانے میں لگی ہوئی تھی


فلم میں ایک ہوٹ سین بھی آتا ہے جس میں لڑکا لڑکی کو پہلے تو کس کرتا ہے پھر ہونٹ چوسنے لگ جاتا ہے پورے پانچ منٹ تک یہ سین چلتا ہے


ابا کو تو فیل آتا ہے ایمن بھی ہلکا سا فیل محسوس کرتی ہے پر شو نہیں کرتی خیر فلم ختم ہو جاتی ہے اور وہ بابر آ جاتے ہیں اب ایمن کہتی ہے؛ ابا گھر چلے؟


ابا کہتا ہے کہ؛ ابھی تو کھانا کھانا ہے 


ایمن؛ ابا پیزا لے لیتے ہیں موبائل کی پارٹی کریں گے اور مزے سے کھائے گے اور ابھی کچھ ہلکا پھلکا کچھ کھا لیتے ہیں


ابا؛ ٹھیک ہے جیسا تم کہو


وه دونوں تھوڑا سا کھانا کھائے ہیں اور پیزا لے لیتے ہیں رات کے تقریباً 11 بج چکے ہوتے


ایمن آج بہت ہی خوش دکھائی دے رہی تھی


گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایمن؛ ابا آپ کو پتہ ہے اج میں کتنی خوش ہوں بہت زیادہ خوشی دی آپ نے مجھے 


ابا؛ چلو ٹھیک ہے تم خوش تو ہم خوش


گھر پہنچ کر ایمن سارا سامان کمرے میں رکھتی ہے اور خود پیزا کھانے کے لیے کھانے کی ٹیبل پہ آ جاتی ہے اور اپنے ابا کے ساتھ پیزا کھاتی ہے اور برتن کچن میں رکھ کر وہ اپنے کمرے میں جانے لگتی ہے کہ اس کا ابا کہتا ہے؛ میں تمہارے لیے ایک گفٹ لایا ہوں 


ایمن؛ ابا آپ نے اتنا کچھ تو لے کر دیا ہے اب اور باقی کیا ہے دینے کو


ابا؛ بس ایک چیز


ایمن؛ اچها 


ابا؛ میںنے تمہیں اتنی ساری چیزیں لے کر دی ہے تم بھی میرا ایک کام کرو


ایمن؛ اب آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے بتائیں کیا کام ہے


ایمن کا ابا اس کو ایک پیک ہوا کچھ پکڑتے ہیں اور کہتے ہیں؛ بیتا یہ پہن کے مجھے دیکھاؤ


ایمن؛ بس ابا اتنی سی بات ہے میں ابھی گئی اور پہن کے آئی


ایمن اپنے کمرے میں جاتی ہے جب وہ اس کو کھولتی ہے تو اس میں ایک جالی والی برا ہوتی ہے ایمن دیکھ کے حیران ہو جاتی ہے اور سوچتی ہے میں یہ کیسے پہن لوں خیر وہ اپنے ابا کے لیے پہن لیتی ہے اور جب خود کو آئینے کے سامنے دیکھتی ہے تو اس میں سے ہر چیز نظر آتی ہے


وہ خود کو دیکھ کر آنکھیں نیچے کر لیتی ہے آہستہ آہستہ چل کر ابا کے کمرے تک چلی جاتی ہے اور آنکھیں نیچی ہی رکھتی ہے 


وہ بہت ہی پیاری لگ رہی ہوتی ہے اور ہوٹ بھی


اس ابا اس کو دیکھ کر پاگل ہو جاتا ہے 


وہ آنکھیں نیچے ہی رکھتی ہے چہرہ اوپر کرتی ہی نہیں


اس کا ابا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو آئینے کے سامنے لے آتا ہے وہ پھر بھی چہرا اوپر نہیں کرتی۔ اس کا ابا اس کے قریب ہو کے اس کا چہرہ اوپر کرتا ہے


 ابا کا لن اس کو دیکھتے ہی کھڑا ہو جاتا ہے جب ابا ایمن کے قریب ہوتا ہے ایمن کو گانڈ پر لن لگتا ہے وہ تھوڑی سا آگے ہو جاتی ہے ابا اس کو کہتا ہے؛ بیٹا تم کتنی پیاری لگ رہی دیکھو تو سہی خود کو 


ابا تھوڑا اور اگے ہو جاتا ہے پھر اس لن اس کی گانڈ پر لگتا ہے ابا کو کرنٹ سا لگتا ہے


ایمن کو بھی اچھا لگتا ہے وہ سوچتی ہے کہ ضرورت تو مجھے بھی محسوس ہو رہی ہے سیکس کی میں بھی بڑی ہو رہی ہوں باہر جانے سے بہتر ہے اپنے گھر میں ہی رہ لوں ںمجھے پتہ ہے ابا کیا چاہتے ہیں وہ مجھے چاہتے ہیں تو میں ان کی بات مان لیتی


وہ ابھی یہ سوچ رہی ہوتی ہے


اس کا ابا پہلے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے پھر اس کی گردن پر کس کرتا ہے


ایمن اپنے ابا کی گرم سانسوں کو محسوس کرتی ہے اور اس کی بھی سانسوں کی رفتار تیز ہو جاتی ہے


آہستہ آہستہ اس کا ابا اپنے ہاتھ اس کے مموں پر لے آتا ہے اور جیسے ہی مموں کو دباتا ہے ایمن کو بہت اچھا فیل ہوتا ہے اور مزہ بھی آتا ہے اس کا ابا اس کو گھما کر اپنی طرف کرتا ہے اور اس کے ہونٹوں پر کسنگ کرنا شروع کر دیتا ہے ایمن اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے 


پہلے اس کے ہونٹوں پر کس کرتا ہے پھر اس کے مموں پر کس کرتا ہے اور ساتھ ساتھ مموں کو دباتا ہے اور ایمن کو بہت مزہ آ رہا ہوتا ہے


ابا ایمن کو بیڈ پر لے جاتا ہے اور لیٹا دیتا ہے اور اس کے پاؤں سے شروع کر کے اس کے مموں تک اس کا جسم چومتا ہے اس کے مموں کو منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور کبھی اس کے ہونٹوں کو منہ میں لے کر چوستا ہے


ایمن کو بہت مزہ آ رہا ہوتا کہ اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی ہے مزے میں


اسکا ابا اسے خوب مزے دے رہا تھا پھر اس کا ابا اس کی پینٹی اتار دیتا ہے اور اس کی پھدی پر کس کرتا ہے اس سے ایمن کو اتنا مزہ آتا ہے کہ وہ تڑپنے لگی جاتی ہے


ایمن کافی حد تک گرم ہو چکی تھی اس کے ابا نے اس کی پہدی میں انگلی ڈال کر آگے پیچھے کیا کیونکہ اس کی پھدی میں بھی لن نہیں ڈال سکتا کیونکہ وہ ابھی لن نہیں ڈال سکتا کیونکہ اس کی پھدی کے ہونٹ بہت ہی تنگ تھے


اس کے پہدی کے ہونٹوں کو کھول کر زبان پھیری ایمن تو مزے سے : تڑپنے لگ اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگ گئی


اس کے ابا نے اپنی انگلی ڈال کر ایمن کو چودا اباد نے پھدی میں انگلی ڈال کر آگے پیچھے کی اور ساتھ ساتھ اس کے ہونٹوں کو چومتے رہے تھے، تھوڑی دیر بعد ایمن جب فارغ و ہونے والی تھی تو اس کا جسم اکھڑ سا گیا


ایمن؛ ابا مجھے کچھ ہو رہا ہے میرے اندر سے کچھ نکل رہا ہے


ابا کہتا ہے کہ؛ نکلنے دو


تھوڑی دیر بعد ایمن فارغ ہو جاتی ہے 


ابا اس کو کہتا ہے کہ؛ واش روم میں چلی جاؤ


وہ واش روم سے ہو کے آتی ہے تو کہتی ہے؛ اچھا ابا اب میں چلتی ہوں سونے۔



ابا ایمن کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے؛ آج ہم ایک ساتھ سوتے ہیں اج ثم میرے ساتھ ہی سو جاؤ


ابا ایمن کو بیڈ پر بیٹھاتا دیتا ہے اور دوبار سے اس کو چومنے لگ جاتا ہے


اور اب ابا اپنے کپڑے اتار دیتا ہے اور اپنا لن نکال کر ایمن کو کہتا ہے؛ اس کو چوسو


ایمن؛ نہیں ابا یہ گندا ہوتا ہے میں نے نہیں لینا


ابا؛ نہیں بیٹا کس تو کرو اس پر


ایمن بلکی سی کس کرتی ہے


پھر ابا کہتا ہے؛ کس کرو اس پر


آہستہ آہستہ وہ کس کرتی رہتی ہے اور پھر ابا کہتا ہے کہ؛ منہ میں لے لوں اس کو


ایمن منع کرتی ہے


لیکن ابا کہتا ہے؛ میں نے تمہارے لئے اتنا کچھ کیا اور تم میرا منہ میں بھی نہیں لیتی


پھر ایمن اس کو منہ میں لیتی ہے اور مد بوش سی ہو جاتی ہے ابا کو بھی مزہ آرہا ہوتا ہے


پھر تھوڑی دیر بعد ابا ایمن کے مموں کو دباتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر کس کرتا ہے 


ابا ایمن سے کہتا ہے؛ تم کب اتنی بڑی ہو گئی مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا


پھر ابا ایمن کو کہتا ہے؛ لیٹ جاؤ


ابا اس کی ٹانگیں کھول کر درمیان میں اس کی پھدی میں کافی سارا تیل لگاتا ہے اور اپنے لن کون بھی تیل سے تر کر لیتا ہے تاکہ اس کی بیٹی کو زیادہ درد نہ ہو


ابا اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنا لن اس کی پھدی پر سیٹ کرتا ہے پہلے اس کی پھدی پر لن کو رگڑتا ہے جس سے ایمن مد ہوش سی ہوجاتی ہے اور اس کو مزہ آتا ہے


ابا لن کو ہلکا سا اندر کرتا ہے ابھی صرف توپا ہی اندر جاتا ہے ایمن کی چیخ نکل جاتی ہے وہ رونے لگ جاتی ہے


ایمن؛ ابا پلیز اسے باہر نکالو مجھے درد ہو رہا ہے پلیز ابا 


ابا؛ نہیں کچھ بھی نہیں ہوتا تھوڑا سا درد ہو گا پھر سب ٹھیک ہو جائے گا پھر تمہیں مزہ آئے گا


ابا ایمن کے آنسو صاف کرتے ہیں اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ لیتے ہیں تاکہ اس کی آواز باہر نہ آئے


پھر بھی ہلکی ہلکی آوازیں باہر آتی ہے تھوڑی دیر تک ابا لن کو اندر باہر کرتے ہیں ایمن کو تھوڑا سا درد ہوتا ہے بعد میں اس کو مزہ آنے لگ جاتا ہے ابا کے لن نے اس کو مدہوش سا کر دیا ہے


اور مزے سے اس کہ منہ سے آہ آہ آہ اوہ اوہ نکل رہا ہوتا ہے


اور کمرہ اه اه اه اف کی آوازوں سے گونجتا ہے


تھوڑی دیر بعد ایمن فارغ ہو جاتی ہے اس کے دو منٹ بعد ابا بھی فارغ ہو جاتا ہے اور ایمن ابا کے ساتھ ہی سو جاتی ہے


The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 9) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-4/feed/ 0
ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 8) https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c/#respond Sun, 07 Sep 2025 15:39:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c/   اگلے دن صبح جب عائشہ اٹھی تو اس نے ابا اور نور کو اٹھایا اور اٹھو اور نہا دھو کر ناشتہ کہ لیے آجاؤ عائشہ نہا کر کپڑے تبدیل بدل کر کے کچن میں آ جاتی اور ناشتہ بنانے لگ جاتی ہے کیوں کے بہنوں نے کالج جانا تھا اس لیے اس نے جلدی […]

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 8) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 



اگلے دن صبح جب عائشہ اٹھی تو اس نے ابا اور نور کو اٹھایا اور اٹھو اور نہا دھو کر ناشتہ کہ لیے آجاؤ


عائشہ نہا کر کپڑے تبدیل بدل کر کے کچن میں آ جاتی اور ناشتہ بنانے لگ جاتی ہے کیوں کے بہنوں نے کالج جانا تھا اس لیے اس نے جلدی سے ناشتہ بنایا تب تک ابا اور نور و بھی نہا کر باہر آ گئے تھے


اور ایمن بھی اٹھ کے آ جاتی ہے عائشہ ناشتہ ٹیبل پہ لگاتی ہے اور سب لوگ مل کے ناشتہ کرتے ہیں ناشتہ کرنے کے بعد


ایمن؛ میں نے آج کالج نہیں جانا میری طبیعت خراب ہے سر میں درد ہے نور آپی آپ چلیں جائے میں نے نہیں جانان


عائشہ؛ کیا ہوا ہے بچہ تمہیں سر میں کیوں درد ہے


بچت ہی ہوا کیا عائشہ م تمہیں سر میں درد کیوں ہے


ایمن؛ نہیں کچھ خاص نہیں ہے ویسے بھی کل سے پیپر شروع ہو رہیں ہیں اس لیے آج نہیں جاؤں گی کل ہی جاؤں گی


ناشتہ کرنے کے بعد نور کالج چکی جاتی ہے ابا اپنی بر روز والی جگہ یعنی صوفے پر بیٹھا جاتے ہیں عائشہ کاموں میں لگ جاتے ہیں اور ایمن اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے ایمن انتظار کر رہی ہے کہ کب آپی فری ہو کر آئے گی


وہ روم میں کبھی ادھر تو کبھی ادھر گھومتے ہوئے خود سے ہی باتیں کر رہی ہوتی ہے ابا صوفے پر بیٹھے موبائل پر کسی سے لگے ہوتے ہیں


عائشہ کاموں سے فری ہو کر روم میں جاتی ہے اور جا کر دیکھتی ہے کہ ایمن کمرے میں گھوم رہی ہے


عائشہ؛ کیا ہوا ہے بچہ تمہیں ایسے کیوں گھوم رہی ہو آپ عائشہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے


ایمن؛ آپی آپ لوگ رات کہاں تھے گیارہ بجے کے بعد نہ آپ تھی اور نہ ہی نور آپی تھی آپ دونوں کہاں تھی


عائشہ؛ بچہ یہ آپ کسی باتیں کر رہی ہے ہم یہی تھے آپ کے ساتھ سو رہیں تھے ہم کہاں جائے گے


ایمن؛ نہیں آپ یہاں نہیں تھے مجھے سب پتہ ہے


عائشہ؛ ہم یہی تھے آپ نے کوئی خواب دیکھا ہو گا اس لیے آپ کو ایسا لگ رہا تھا ایمن؛ کھڑی ہو جاتی ہے اور غصے میں کہتی ہے کہ مجھے پتہ ہے تم لوگ کہاں تھی اور میں نے سب دیکھ بھی لیا تھا


عائشہ ایمن کو بیڈ پر بیٹھا کر؛ کیا ہوگیا ہے ہم ادھر ہی تھے آپ کو غلط لگ رہا ہے


ایمن؛ مجھے پتہ ہے تم دونوں ابا کے کمرے میں تھیں اور مجھے یہ بھی پتہ ہے تم لوگ جو کر رہی تهی، آپ کو شرم نہیں آتی آپنے ابا کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے وہ آپ کے ابا ہے اور آپ ان کے ساتھ ہی لگی ہوئی ہو اگر اتنا ہی شوق تھا تو شادی کر لیتی


عائشہ؛ ایمن آپ یہ کیا بول رہی ہو آپ ابھی چھوٹی ہو آپ کو نہیں پتہ ان سب کا


ایمن؛ وہی جو آپ سن رہی ہے اور میں اب چھوٹی نہیں بون اور مجھے سب پتہ ہے کہ آپ نے رات ابا کے ساتھ کیا کچھ کیا ہے


عائشہ؛ ابا دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اور یہ کچھ اپنی نئی بیوی کے نام کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ میں نے ان سے فیک آئی ڈی سے بات کی تھی اور انہوں نے مجھے یہ سب بتایا مجھے پتہ ہے وہ ہمارے ابا ہے اس لئے میں نے یہ سب کچھ تو دونوں کے لیے ہی تو کیا ہے کہ اگر کوئی نئی عورت ہمارے گھر پہ اگئی تو شاہد وہ ہمیں گھر سے نکال دے اسی لیے میں نے یہ سب کچھا کیا


عائشہ اتنا کہہ کر کمرے سے باہر چلی جاتی ہے کیونکہ اسے ابا نے کہا میں باہر جا رہا ہوں


عائشہ ہال میں آ جاتی ہے ابا کہیں باہر چلے جاتے ہیں


ابا کے جانے کے بعد ایمن نیچے آ جاتی ہے اور عائشہ سے سوری کہتی ہے آپی مجھے معاف کر دو


عائشہ؛ کوئی بات نہیں تم ابھی چھوٹی ہو


دوپہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا ہے عائشہ کچن میں کھانا بنانے چلی جاتی ہے نور بھی کالج سے واپس آ گئی تھی


 ابا بھی مارکیٹ سے واپس آ گئے ہے


کھانا بنا کر عائشہ ٹیبل پر لگا دیتی ہے



سب لوگ کھانا کھاتے ہیں اورابا نور کو کہتا ہے کہ یہ لو میں تمہارے لیے گفٹ لایا ہوں ائی فون نور خوش ہو جاتی ہے اور کھانا کھانے کے بعد ایمن اور نور اکیڈمی چلی جاتی


عائشہ کچن میں برتن دھونے میں مصروف ہوتی ہے ابا پیچھے سے اس کو جھپی ڈال لیتے ہیں اور اس کے مموں کو دباتے ہوئے؛ آؤ نہ میرا من ہو رہا ہے


عائشہ؛ اسی حالت میں اچھا ابھی رات کو ہی تو کیا تھا دل نہیں بھرا آپ کا


ابا مموں کو دباتے دباتے؛ نہیں میرا من کبھی نہیں بھرے گا میں تو چاہتا ہوں ہر وقت میرا لن کسی نہ کسی کی چوت میں ہو


عائشہ کی گانڈ پر ابا کا لن لگ رہا تھا اور وہ کھڑا بھی ہو چکا تھا عائشہ ابا کے لن کو پکڑ کر؛ ابے او کبھی تو آرام سے بیٹھ جایا کر


ابا عائشہ کی چوت کو ہاتھ لگاتے ہوئے یہ؛ اس میں ہی آرام کرے گا اور کہیں نہیں عائشہ گھوم کر منہ ابا کی طرف کر لیتی ہے ابا اس کے بولنے سے پہلے ہی اس کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیتا ہے اور اس کو زور سے کس کرتا ہے اور ساتھ میں زور سے چھپی ڈالتا ہے ابا کا لن تنا ہوا عائشہ کی چوت پر محسوس ہوتا ہے


ابا عائشہ کے کپڑے اتار دیتا ہے اور اس کو چومنے لگ جاتا ہے ابا اس کو پاگلوں کی طرح چوم رہا ہوتا ہے کبھی اس کے مموں کو منہ میں ڈال کر چوستا ہے کبھی ہونٹوں پہ کس کرتا ہے اور اپنی زبان اس کے منہ میں پر پھیر رہا ہوتا ہے عائشہ کافی گرم ہو جاتی ہے اور ابا بھی گرم ہو جاتا ہے عائشہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ان کے لنکس اپنے منہ میں لے کر خوب چوستی ہے


ابا لن اس کے منہ سے باہر نکال کر اس کچن کی شلف پر بیٹھا کر چوت پر لن کو خوب رگڑتا ہے عائشہ کے منہ سے آوازیں نکلنے لگتی ہیں؛ ابا پلیز اندر ڈال دو مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا افففف افففف اففففف 


عائشہ؛ ابا اب ڈالو اندر


ابا لن کو ایک جھٹکا لگا کر اندر ڈالتا ہے اور لن کو اندر باہر کرنے لگ جاتا ہے


آہ افففف اوہ وہ افففف آہ ” اور چودو اه اف اہمممم آفففف ابا اور تیز چودو مجھے


اوہ اوہ اوہ آہ اور آگے لے جاؤ لن کو


اسی طرح ابا تیز تیز جھٹکے لگا کر تھوڑی ہی دیر بعد عائشہ کو فارغ کر دیتا ہے اور خود بھی فارغ ہو جاتا


عائشہ کپڑے پہن کر کمرے میں چلی جاتی ہے نہا کر وہ ابا کو انسٹاگرام پر میسج کرتی ہے


بیلو جان کیسے ہو




ابا کا فٹ میسج آتا ہے


جی جان میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہو کیا کر رہی ہو.


عائشہ؛ کچھ بھی نہیں فری ہوں آج کل آپ بتاؤ کوئی نئی تازی


ابا؛ تمیں پتہ ہے میں نے اپنی دوسری بیٹی کو بھی چودا اور بڑا ہی مزہ آیا میری بیٹی تو پوری گشتی نکلی 5 لوگو سے چدوا چوکی ہے بہت گرم ہے میری دوسری بیٹی بہت مزہ دیتی ہے


عائشہ؛ گرم کیوں نہ ہوگی آپ کی بیٹی جو ہے آخر آپ کا ہی خون ہے آپ بھی تو بہت گرم ہیں، اب تو تمہاری موجیں ہیں بھئی دو دو گھر میں ہی ہیں


ابا؛ ہاں پر تم سے تو شادی کرنی ہے تیری بھی میں ہی لوں گا تمہیں بھی میں ہی چودو گا


عائشہ؛ ویسے ایک کہوں اپنی تیسری بیٹی کی سیل آپ خود کھولیں


ابا؛ اے او پاگل ہے کیا وہ بہت چھوٹی ہے 


عائشہ؛ اچھا تمہاری دوسری بیٹی بھی تو چھوٹی ہی تھی اور باہر سے و سیل كهلوا لی اور بلیک میل بھی ہو گئی تیسری والی بھی کسی سے سیل کھلوا کر آگئی تو پھر ٹھیک رہو گے وسے بھی ایک نہ ایک دن بر لڑکی کی سیل کھلتی ہی آپ نہیں تو کوئی اور مزے سے کھولے گا۔ آپکا خون ہے آپکی طرح گرم ہے زیادہ دن نہیں رہ سکتی سیکس کے آپکی بیٹیاں اس لیے میں تو کہتی ہوں آپ ہی کھول دو اس کی سیل


ابا؛ تم بول تو ٹھیک رہی ہو میں سوچتا ہوں اس بارے میں


عائشہ؛ سوچنے سے کچھ نہیں ہوتا جتنی جلدی ہو کھول دو سیل ورنہ کوئی اور کھول کر بلیک میل کرے آپ بی کھول دو


ابا؛ ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں جیسے ہی کوئی موقع ملتا ہے میں سیل کھول دوں گا بیٹی میری اور سیل کوئی اور کیوں کھولے گا میں خود کھولوں گا


عائشہ؛یہ ہوئی نا بات میں بعد میں بات کرتی ہوں


ابا؛ چلو ٹھیک ہے


ابا کو کسی کا فون اتا ہے اور وہ بات کرتا ہے اسلام عليكم ماموں


ابا؛ وعلیکم السلام کیسے ہو تم۔


میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ماموں میں ہے اپی عائشہ لوگوں کو لنے آنا ہے شادی کے لیے۔دوسری طرف سے آواز آئی


ابا؛ چلو ٹھیک ہے آ جانا۔


اور فون رکھ دیتے ہے ابا


عائشہ کو ابا کہتا ہے؛ شام کو تیار ہو جانا تمہیں تمہارا کزن لینے آ رہا ہےشادی پر لیے جانے کے لئے


عائشہ؛ ٹھیک ہے ابا


شام ہو جاتی ہے نور اور ایمن بھی آ جاتی ہیں


عائشہ ساری تیاری کر لیتی ہے


ماید ان اور شام کا کھانا بنانے لگ جاتی ہے


کھانے کھاتے ہوئے ایمن میں تو شادی پر نہیں جا سکتی میرا تو پیپر بے صبح 


عائشہ؛ ہم تمہارے بغیر کیسے جائے گے


ابا تم دونوں جاؤ میں اور ایمن گھر رہ لیتے ہیں


عائشہ؛ چلو ٹھیک ہے۔


نور ابا سے؛ آپ نے جو مجھے آئی فون دیا ہے گفت اُس کے لیے شکریہ


ابا؛ اس میں شکریہ کی کیا بات چلو چلو تمہارا کزن آ گیا ہے تم دونوں جاؤ وہ دونوں کزن کے ساتھ شادی کے لیے چلی جاتی ہیں 


اب ابا اور ایمن گھر میں اکیلے بی ہوتے ہیں


رات کو ایمن ابا کے کمرے میں پانی دینے جاتی ہے اور کہتی ہے ابا مجھے بھی آئی فون لے کے دو ان دونوں کو دے دیا مجھے بھی چاہیے آئی فون میں بھی آپکی سگی بیٹی ہوں


تم تو میری سب سے زیادہ پیاری اور سب سے زیادہ لاڈلی بیٹی ہو تمہارے لئے جان بھی حاضر ہے آئی فون کیا بتاؤ کونسا ماڈل لینا ہے میں صبح ہی اپنی بیٹی کے لیے آئی فون لے کر اؤں گا


The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 8) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c/feed/ 0
ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 6) https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-8/ https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-8/#respond Sun, 07 Sep 2025 15:31:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-8/   اگلے دن صبح میں اٹھی میں نے ناشتہ بنایا اور اپنی بہنوں کو کالج بیجھ دیا اور میں نے نور کو بھی کالج بیجھ دیا کیونکہ ابا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ویڈیو رات 9 بجے واپس کرے گا  میں نے نور کو کالج اس لیے بیجھ دیا کہ وہ لڑکیوں میں رہے […]

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 6) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




اگلے دن صبح میں اٹھی میں نے ناشتہ بنایا اور اپنی بہنوں کو کالج بیجھ دیا اور میں نے نور کو بھی کالج بیجھ دیا کیونکہ ابا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ویڈیو رات 9 بجے واپس کرے گا 


میں نے نور کو کالج اس لیے بیجھ دیا کہ وہ لڑکیوں میں رہے گی تو فریش رہے گی اور زیادہ پریشان نہیں ہو گی


میں صبح کے کاموں سے فارغ ہوئی تو میں نے سوچا اپنے کمرے میں جا کر آرام کر لیتی ہوں میں اپنے کمرے میں جانے ہی لگی تھی کہ ابا نے مجھے کہا عائشہ ادھر آؤ تمہیں اک چیز دکھاؤ


جب میں ابا کے پاس گئی تو وہ ایک ویڈیو دیکھ رہیں تھے ابا نے کہا ہم بھی ایسا کریں کیا جیسے یہ لوگ کر رہیں ہیں


میں نے ویڈیو دیکھی اور کہا کہ ٹھیک ہے ابا ہم بھی ایسا کرتے ہیں


وہ ویڈیو میں مکھن لگا کر سیکس کر رہیں تھے


میں نے کہا ابا میں مکھن لاتی ہوں



میں کچن سے مکھن لائی ابا نے مجھے آتے ہی دیوانہ وار چومنا شروع کر دیا


 انہوں نے میرے مموں کو دبایا اور میرے ہونٹوں کو چوسنے لگا گئے


میں نے ابا کی قمیض اتار کر پھینک دی ابا نے بھی میری قمیض اتار کر پھینک دی اور میرے مموں کو زور سے دبایا یار کتنا مزہ آرہا تھا


 ابا نے مجھے برا سے بھی آزاد کر دیا اور میرے مموں پر کس کر رہیں تھے اور انہیں منہ میں ڈال کے چوس رہے تھے اور مجھے کہتے آج میں نے تمہارا دودھ پی جانا ہے سارا


میں نے کہا ابا روکا کس نے ہے میں تو چاہتی ہوں آپ دودھ پی لو سارا


ابا نے کہا کہ میں پی لیتا ہوں


میں نے ابا کے لن کو شلوار کے اندر سے ہی پکڑا وہ بہت ہی گرم تھا


ابا مجھے ابھی چوم رہیں تھے اور میرے مموں سے دودھ پی رہے میں بہت گرم ہو رہی تھی میں نے ان کے لن کی گرمی محسوس کرتے ہوئے سوچا کہ ہائے اج بہت مزہ آئے گا میں نے ابا کی شلوار اتار کر ان کے گرم لن کو آزاد کر دیا اور اس کو قلفی کی طرح چوسنے لگ گئی میں


اب ابا نے مجھے اچھا خاصا گرم کر دیا تھا اور خود بھی گرم ہو گئے انہوں نے میرے جسم پر مکھن لگانا شروع کر دیا


انہوں نے میرے سارے جسم پر مکھن لگایا اور چاٹنے لگ گئے


میں نے بھی ان کے لن کو بھر کے مکھن لگایا اور چاہنے لگ گئی ہم لوگ کھڑے ہی تھے اب ابا نے نے مجھے کہا لیٹ جاؤ صوفے پر کیوں کہ ہم حال میں ہی لگے ہوئے تھے


ابا نے مجھے لٹا کر میری ٹانگوں کو کھول کر درمیان میں میری چوت کو مکھن لگایا اور اس کو چاٹنے لگا گئے اففف کتنا مزہ آرہا تھا مجھے جب ابا نے زبان پھیری میری چوت میں میرے منہ سے آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھی آہ آہ آہ اوه


پھر میں نے کہا ابا اب اندر ڈالو ابا نے میرے مموں کو دبایا میرے ہونٹوں چوستے ہوئے لن کو چوت پر رگڑنا شروع کر دیا افففف افففف آه افففف کتنا مزہ آیا آہ آہ ابا نے اندر ڈالا اور زوروں سے جھٹکے لگائے اب میری پھدی کھل چکی ہے کیونکہ اب میں روز لیتی ہوں سات انچ کا لن تو مجھے درد نہیں ہوتا ہے بلکہ اب میرا خود بی دل اس کو اندر ہی رکھوں زیادہ تر


ابا نے جھٹکے کی رفتار بڑھا دی آه آه اوه اوه اوه آه کی آوازیں گونج رہی تھی بال میں اور اس سے مزید مزہ آ رہا تھا 


میں نے ابا سے کہا ابا اور چودو روز سے چودو میری ساری گرمی نکالو اور آگے لے جاؤ چودو دو مجھے اور چودو اه اه اف راه اوه آه آه اوه اوه


میں دو دفعہ فارغ ہو چکی تھی ابا کا لن ابھی پانی چھوڑنے ہی والا تھا کیونکہ ان کا جسم اکھڑ رہا تھا پانچ منٹ بعد ابا نے اپنا پانی چھوڑ دیا میرے پیٹ پر


ابا نے اٹھا کر اپنے کپڑے پہن لیے اور میں ایسے ہی ننگی کمرے میں گئی اور نہا کر کپڑے تبدیل کر لیے ہم نے تقریباً دو گھنٹے سیکس کیا ہو گا اور خوب چودا ابا نے مجھے اور مجھے بہت مزہ آیا میں نہا دھو کر کچن میں گئی اور دوپہر کا کھانا بنایا تب تک میری بہنیں بھی کالج سے آ گئی اور ہم نے مل کے کھانا کھایا میں کاموں سے فارغ ہو کر سو گئی میری بہنیں اکیڈمی چلی گئی


وہ واپس آئی شام کو


میں نے دوپہر کو ہی کھانا بنا لیا تھا اور شام کو ہم نے مل کر کھانا کھایا


کھانا کھاتے ہوئے نور نے پوچھا ابا نے کام کر دیا عائشہ


نہیں آج رات کو ابا لینے جائے گے


کھانا کھانے کے بعد ہم روم میں چلے گئے کافی ساری باتیں کی اور چھوٹی جلدی ہی سو گئی تھی لیکن نور اور میں نہیں سوئی رات کے تقریباً 9 بجے ہو گئے جب ابا گھر سے گئے تھے اس لڑکے کے پاس


ابھی تک نہیں آئے گیارہ بج گئے ہیں اور ان کا کوئی پتہ نہیں ابھی


عائشہ سوئی نہیں بس نور کو دکھانے کے لیے آنکھیں بند کر سو گئی


ابا آتا ہے گیارہ بجے اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے جا کر وہ ویڈیو دیکھنے لگ جاتا ہے


کیا دیکھتا ہے کہ


جب وہ لڑکا ہوٹل کے روم کو لاک کرتا ہے تو نور اس کے ہونٹوں کو پر کس کرتی ہے اس کو دیوانہ وار چومنے لگ جاتی ہے


کبھی اس کے ہونٹوں پر کسنگ کرتی ہے اور کبھی اس کی گردن پر


اور نور اس قدر گرم لڑکی ہے کہ وہ لڑکے کے کپڑے بھی خود اتارتی ہیں اور خود کے کپڑے بھی اتار دیتی ہے اور اس کو بیڈ پر دھکا دیتی ہے اور اس کے اوپر گر کر اس کو چومنے لگ جاتی ہے اور کبھی اس کے ہونٹوں کو چوس رہی تھی اور اس کے لن کو منہ میں ڈال کے چوس رہی تھی یہ سب نور کر رہی تھی وہ لڑکا نہیں اور اس کے لن پر بیٹھ کر آگے پیچھے خود ہی ہو رہی تھی اچھل کود کر کر رہی تھی اس کے لن پر


ابھی ابا یہ دیکھ ہی رہا تھا کہ نور کمرے میں آتی ہے اس کے پیچھے عائشہ بھی ہوتی ہے


ابا اس سے پوچھتا ہے کہ اس لڑکے نے تمہیں چودا تھا


نور ابا یہ آپ کیسے بات کر رہے ہیں مجھ سے


ابا نور کو ایک تھپڑ رسید کر دیتا ہے اور کہتا ہے ہے تم خود اس سے چود رہی تھی گشتی میں نے دیکھی ہے ویڈیو تو خود لے رہی تھی اس کا لن اپنی گرم چوت میں اگر اتنی ہی گرمی تھی تو مجھے کہتی میں تیری گرمی نکالتا باہر منہ مارنے کی کیا ضرورت تھی گشتی میں تمہیں چود دیتا تیری پیاس بجھا دیتا تیرے اندر لن ڈال کر ٹھنڈا کر دیتا


ابا نور کو پکڑ لیتا ہے اس کے کس کرنے لگ جاتا ہے 


نور: ابا پلیز نہ کرو میں ابھی چھوٹی ہوں ابا: او گشتی جب اس کے لن پر بیٹھ کر مزہ لے رہی تھی تب تو تو چھوٹی نہیں تھی اب تو چھوٹی ہے


نور:ابا میں تمہاری بیٹی ہوں۔


ابا: میرے لن کو بھی ایسی چوس رہی تھی جس طرح اس کا لن کو چوس رہی تھی


تو مجھ سے کہتی میں تیری شادی کروا دیتا یا میں خود تیری چوت کو ٹھنڈا کر دیتا باہر منہ کالا کرنے کی کیا ضرورت تھی


ابا نور کو پکڑ لیتا ہے اس کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور نور کے ساتھ زبردستی کرتا ہے قمیض اتر جاتی ہے اب صرف برا ہی رہ جاتی ہے اس کا سائز 38 ہوتا ہے 


اس کے مموں کو پکڑ لیتا ہے اور ابا اس کے مموں کو پکڑ کر دبانے لگ جاتا ہے


نور بڑی کوشش کرتی ہے خود کو چھڑوانے کی


ابا اس کے زبردستی اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگ جاتا ہے


نور ابا ایسا نہ کرو اس پہ ابا کہتا ہے کہ چپ کر گشتی ابا کھینچ کر اس کی شلوار بھی اتار دیتا ہوں 


اب نور ننگی ہوگئی اپنے ابا کے سامنے اور ابا نے بھی کپڑے اتار دیئے اور اس کے مموں کو دباتے ہوئے اس کی پھدی پر ہاتھ پھیر رہا ہے اور منہ میں اس کے ہونٹ کے رکھے ہیں تھوڑی دیر بعد نور کو بھی مزہ آنے لگ جاتا ہے وہ اب اپنے ابا کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے


اب وہ دونوں کافی حد تک گرم ہو چکے ہیں نور اپنے ابا سے کہتی ہے کہ ابا اب اندر ڈالو ابا اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑتا ہے اور اس سے نور تڑپنے لگ جاتی ہے مزے سے اس کے منہ سے آہ آہ نکل رہی تھیں


ابا اندر ڈالنے کے لیے جھٹکا لگاتا ہے آہ آہ آہ آه آه ابھی ٹوپا ہی اندر جاتا ہے نور مزے کے سمندر میں ڈوب گئی


ابا کہتا ہے ای گشتی کتنے لوگوں نے تیری پھدی ماری ہے یہ تو کھلی ہوئی ہے میرا لن آسانی سے اندر چلا گیا بتا کہاں کہاں منہ مارا ہے اور کتنے لوگوں کو دی ہے پھدی تم نے 


نور ابا پانچ لوگوں کو دی ہے


اب نور کہتی ہے ابا اور تیز چودو مجھے میری ساری گرمی نکال دے اور آگے لے جاؤ آہ آہ اوه اوه آه اور زور سے چودو


نور کا جسم اکھڑ جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد وہ چهٹ جاتی ہے


ابا بھی دو تین منٹ بعد چھٹ جاتا ہے اور اپنا لاوا گرا دیتا ہے اور نور کہتی ہے ابا تم نے میری گرم پھدی کو ٹھنڈا کیا مجھے بہت مزہ آیا ابا او گشتی تو تو بہت گرم ہے میرا لن پورا لے گئی



جاری ہے 

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 6) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-8/feed/ 0
ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 5) https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-6/ https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-6/#respond Sun, 07 Sep 2025 15:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-6/   اگلے دن میں جب اٹھی میں نے ناشتہ بنایا اپنی بہنوں کو کالج بیجھ کر اپنے کام میں مصروف ہو گی میں نے جلدی ہی کام ختم کیا اور روم میں چلی گئی ابا نے مجھے باہر بلایا یقین مانو یار ابا کا دل ہر وقت سیکس کرنے کو کرتا رہتا تھا۔ اب مجھے […]

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 5) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 



اگلے دن میں جب اٹھی میں نے ناشتہ بنایا اپنی بہنوں کو کالج بیجھ کر اپنے کام میں مصروف ہو گی


میں نے جلدی ہی کام ختم کیا اور روم میں چلی گئی ابا نے مجھے باہر بلایا یقین مانو یار ابا کا دل ہر وقت سیکس کرنے کو کرتا رہتا تھا۔


اب مجھے بھی لن لینے کی لت سی لگ گئی تھی آخر میں بھی اپنے ابا کی بیٹی تھی میں گئی باہر تو انہوں نے کہا میرا لن کھڑا ہو گیا ہے اب میں اس کا کیا کروں


میں نے ابا سے کہا کہ کوئی بات نہیں ہم اس کو آرام کروا دیتے ہیں


کیونکہ میں جوان تھی مجھے تھی مجھے میں بھی بہت آگ تھی پتہ تو اس دن چلا جب ابا نے میری پہلے دن لی مجھے اس دن درد بھی بہت ہوا لیکن جو مزہ تھا


افففف کتنا مزہ آیا مجھے۔


خیر میں ابا کے پاس ائی تھی کہ ابا نے میرے آتے ہی مجھے زور سے جھپی ڈالی اور میرے مموں کو دبایا اور میرے ہونٹوں کو چوستے ہوئے مجھے صوفے پر لے گئے، پہلے ہم کھڑے ہی تھے ابا نے دیوانہ وار چومنا ا شروع کر دیا 


افففف جب جب وہ میر ہونٹوں پر آتے میری مزہ سے جان ہی نکل جاتی میں تڑپ رہی تھی تھوڑی دیر بعد ابا نے میری قمیض اتار کر برا اتار کر مموں کو دبایا اور بہت دبایا اور اور منہ ميں لے کر چوس بھی رہیں تھے میں بہت ہوٹ ہوگئی تھی ابا بھی ہوٹ ہو گئے تھے


میں نے کہا ابا اب ڈالو اندر اور چود دو ابا نے کہا تھوڑی دیر بعد ابا ہوٹ ہو کے بھی تھوڑی دیر کہتے تھے پتہ نہیں کیوں مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی


خیر جو ابا نے کہا ہے کہ تھوڑی دیر اور تو انتظار کرتے ہیں اور دوسرا مزہ لیتے ہیں لیکن میرا دل تھا جلدی سے میرے اندر چلا جائے اور میری گرم چوت ٹھنڈی ہو جائے اور سکون سا ملے مجھے


ابا نے پانچ منٹ بعد میرے اندر ڈالا


ابا نے جب میری چوت پر اپنا لنڈ رکھا یار کیا مزه آرہا تھا اب مجھے درد نہیں ہوتا کیوں کہ اب میں ہر روز کرتی ہوں اب میری چوت بھی کھل گئی ہے اس لیے مجھے بہت مزہ آتا ہے


 ابا نے کافی دیر تک لن کو چوت پر رگڑتے رہیں اور مجھے جنت کی سیر کرواتے رہیں


پھر ابا نے ایک جھٹکا لگا اور لن کو اندر باہر کرنے لگ گئے اور ساتھ ساتھ میرے مموں کو منہ میں لے کر چوس رہیں تھے


اور کبھی ہونٹوں پر کسنگ کرتے افففف افففف آه آه آه آه کی آوازیں نکل رہی تھی میرے منہ سے میں تو جلدی ہی فارغ ہو جاتی ہوں لیکن ابا تھوڑی دیر لیتے ہیں۔


میں فارغ ہو چکی تھی اور تھوڑی سی دیر بعد ابا بھی فارغ ہو گئے تھے


ہم دونوں نے کپڑے پہن لیے اور میں صوفے پر بیٹھ گئی ان کے ساتھ ہی 


ابا نے مجھے کہاں کی تو بہت ہی مزے دیتی ہوں س


میں نے کہا کہ آپ بھی تو دیتے ہیں مزہ مجھے ابا ہنسے لگ گئے اتنے میں میری بہنیں کالج سے واپس آ گئی تھی میری سب سے چھوٹی بہن تو آج بہت خوش لگ رہی تھی لیکن درمیان والی کا موڈ اف تھا میں نے کھانا بنایا دوپہر کا اور ہم نے مل کر کھایا لیکن میری مجھ سے چھوٹی بہن نے کھانا نہیں کھایا


سب سے چھوٹی کھانا کھا کر اکیڈمی چلی گئی لیکن وہ نہیں گئی


میں اس کے کمرے میں گئی تو میں نے جا کر اس سے پوچھا بچہ کیا ہوا ہے تم کو (میں نے کبھی ان کا نام نہیں لیا میں اپنی بہنوں کو بچہ کہہ کر ہی بلاتی تھی) میں ان کو پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی وہ دونوں میری جان تھی ابا کے ساتھ سیکس کرنے کا فیصلہ بھی میں نے ان کے لیے ہی کیا تھا خیر میں نے پوچھا کیا ہوا ہے بچہ تمہیں تم اکیڈمی بھی نہیں گئی اور نہ ہی کھانا کھایا ہے اس نے کہا سر میں درد ہے


میں نے کہا مجھے لگ نہیں رہا کیا بات ہے سچ سچ بتاؤ وه تو زوروں سے رونے لگ گئی میرے گلے لگ کر


میں تو بہت ہی پریشان ہو گئی


میں نے کہا بچہ کیا ہوا ہے تمہیں تم ایسے کیوں رو رہی ہو اس نے کہا آپی میں کالج میں ایک لڑکے سے پیار کرتی تھی


اس نے مجھے ایک دن ہوٹل میں بلایا ہم نے کافی ساری باتیں کی اور بعد میں ہم نے سیکس بھی کیا میں نے اس کو منع بھی کیا لیکن وہ کہتا تھا ہم نے شادی کے بعد بھی تو یہ سب کرنا ہے تو ابھی کیا ہے اور اس نے ویڈیو بنالی اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے دس لاکھ روپے دو ورنہ میں ویڈیو لیک کر دوں گا



میں تو حیران ہو گئی یہ سن کر کہ اس نے یہ کام کیسے کر لیا 


تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا یہ بکواس کر رہی ہو آج میں پہلی بار اس پر غصہ ہوئی اس نے کام ہی ایسا کیا تھا


مجھ تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا میں نے اس سے کہا یہ تم نے کیا کر دیا بچہ وہ رو رہی تھی اور روتے ہوئے کہتی آپی اب کیا ہوگا


میں نے کہا میں کیا کر سکتی ہوں اب بچہ


اس نے کہا ابا سے دس لاکھ لے کر دے دو وہ آپ کو منع نہیں کریں گے میں نے کہا پاگل ہو گئی ہو کیا میں ابا سے کیا بولوں گی وہ یہ پوچھیں گے کہ کیا کرنے ہیں اتنے سارے پیسے میں تو کہتی ہوں جا کے ابا کو سچ بتا دیتے ہیں اس نے کہا نہیں ابا تو میری جان ہی نکال دے گے وہ مجھے مار دے گے


میں نے کہا نہیں کچھ بھی نہیں ہوتا اگر وہ تمہیں کچھ کہیں گے تو میں ہوں نہ تہمارے ساتھ


وہ ڈرتے ڈرتے ابا کے کمرے میں گئی میں بھی اس کے ساتھ تھی میں نے کہا ابا یہ آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہے


ڈرتے ڈرتے اس نے کہا کہ ابا میں کالج میں کسی لڑکے سے پیار کرتی تھی اور میں نے اس کے ساتھ سب کچھ کر لیا سیکس وغیرہ اس نے ویڈیو بنالی


ابا یہ بات سن کے آگ بگولہ ہوگئے


ابا نے کہا یہ تم کیا بکواس کر رہی ہو ہوش ٹھکانے ہے تمہارے اس کو ایک تھپڑ رسید کر دیے دیتے ہیں اور دوسرے مارنے ہی لگتے ہیں میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ابا چھوڑو بچی ہے غلطی ہو گی ہے اب دس لاکھ روپے کا انتظام کریں پلیز


ابا نے مجھے کہا کہ میں تمہاری وجہ سے چپ ہو گیا


میں نے کہا اچھا کوئی بات نہیں اب اسے معاف کر کے دے اور اس لڑکے کا کچھ کریں


ہم نے اس لڑکے کو کال کی اور اسے کہا کہ ویڈیو دے دو اور پیسے لے لو


اس نے کہا میں ابھی اس شہر میں نہیں ہوں کل آتا 


ابا نے کہا ٹھیک ہے کل آؤ اور ویڈیو لے کر انا


اس نے کہا ٹھیک ہے


میں نے اپنی بہن کو کھانا کھلایا اتنے میں شام بھی ہو گئی تھی چھوٹی بھی آگئی تھی ہم نے کھانا کھایا اور سو گئے


جارج ہے

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 5) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-6/feed/ 0
ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 4) https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-3/ https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-3/#respond Sun, 07 Sep 2025 15:25:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-3/   اگلے دن صبح اتوار کا دن تھا میں جلدی اٹھی اور ناشتہ وغیرہ بنایا اور سب کو ناشتہ کروا کے میں کاموں میں مصروف ہوں گئی اج میں نے تھوڑے جلدی کام کر لیں کیونکہ اج میری بہنوں نے میرے ساتھ کام کروایا اس لیے جب میں کام ختم کر کے بیٹھی ہوئی تھی […]

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 4) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




اگلے دن صبح اتوار کا دن تھا میں جلدی اٹھی اور ناشتہ وغیرہ بنایا اور سب کو ناشتہ کروا کے میں کاموں میں مصروف ہوں گئی اج میں نے تھوڑے جلدی کام کر لیں کیونکہ


اج میری بہنوں نے میرے ساتھ کام کروایا اس لیے جب میں کام ختم کر کے بیٹھی ہوئی تھی تو ابا آئے کے تیار ہو جاؤ ہم فلم دیکھنے جائیں گے


میری بہنیں تو خوشی سے اچھل کود کرنے لگ گئی بڑے عرصے بعد ہم نے کہیں جانا تھا


خیر وہ جلدی سے تیار ہو کے آ گئی اور میں بھی تیار ہو گئی ہم سب چلیں گئے ابا نے مجھے کافی ساری چیزیں لے کر دی ان کی طرف ابا کی توجہ کم تھی


جو بھی ان کو خرید کے دیا میں نے ہی لے کر دیا یہ دیکھ کر میری مجھ سے چھوٹی بہن کو حیرانی سی ہوئی لیکن اس نے بولا کچھ بھی نہیں


شام کو ہم گھر واپس آئے تو ہم ساتھ کھانا بھی لائے تھے کیونکہ جب سے ابا نے مجھے چودا تھا وہ تو جیسے مجھے کسی بادشاہ کی رانی سمجھتے تھے


مجھے کوئی بھی کام نہیں کرنے دیتے تھے خیر ہم کھانا ساتھ لائے تھے اور ہم نے مل کر کھانا کھایا اور اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے


وہاں پر جا کر میری بہن نے پوچھا آپی ابا نے ایسا کیوں کیا ہمیں کوئی بھی چیز نہیں لے کے دی اور ہر چیز آپ کو لے کے دی 


میں نے اس سے کہا میری سونا ایسا کچھ بھی نہیں ہے اس نے کہا ابا نے آئی فون لے لے دیا آپ کو سب تو وہ آپ کو لے کر دیتے ہیں


میں نے اسے سمجھایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے وہ غصہ میں ہی سو گئی


میں بھی ابا کے روم میں پانی رکھنے گئی اور میں نے جا کے ابا کو بتائیں 


خیر ابا نے غور نہیں کی وہ تھکے ہوئے تھے وہ جلدی ہی سو گئے میرا آج دل تھا کہ وہ مجھ سے سیکس کریں خیر میں اپنے کمرے میں چلی گئی


اور جا کر میں بھی سو گئی تھی


میں صبح اٹھی اور ناشتہ بنایا میری بہنیں بھی اٹھ چکی تھی آج ان کا کالج تھا میں نے ان کو ناشتہ دیا اور وہ کالج چلی گئی


میں نے کام ختم کیا تو ابا نے کہا چلو آج شاپنگ پہ چلیں ہم لوگ میں نے حیرانی سے پوچھا اج ابا نے کہا ہاں اج اور ابھی جانا ہے ہم نے شاپنگ کرنے کے لیے میں نے کہاں ٹھیک ہے


ہم شاپنگ کے لیے گئے اور میں نے کافی ساری برا بھی لی ایک میں نے لال رنگ کی اور دو میں نے سفید رنگ کی اور لال رنگ کی لی


میں نے اپنی بہنوں کے لیے بھی کپڑے لیے ایک تو میں نے ہوٹ نائی ٹی لے لی اور ایک ابا نے مجھے انڈین سوٹ لے کر دیا جس کا صرف ٹوپ ہی تھا نیچے کچھ بھی نہیں تھا 







انہوں نے وہ مجھے بہت سارے چھوٹے چھوٹے کپڑے لے کے دیے


ہم شاپنگ کر کے واپس آئے تو ابا نے کہا مجھے پہن پہن کر دیکھاؤ 


میں نے کہا ٹھیک ہے میں ابا کے کمرے میں گئی تو میں ایک نائی ٹی پہن کے ائی پھر ایک برا اسی طرح میں نے سارے پہن پہن کر دیکھائے وہ ٹوپ رہ گیا تھا اور ایک برا جس کا ہک بند نہیں ہو رہا تھا


میں نے ابا کو کہا ابا اس کا ہک بند کریں ابا جب میرے پاس آئے اور ہک بند کرنے لگے تو ساتھ ہی انہوں نے 


میری گردن پر کس کرنی شروع کر دی اور میرے مموں کو دبایا


مجھ تھوڑا سا کرنٹ سا لگا خیر مجھے بھی مزہ لینا تھا میں نے بھی ابا کا ساتھ دیا


انہوں نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور چوسنے لگ گئے ہم کھڑے ہی تھے انہوں نے میرے مموں کو دبایا افففف کتنا مزہ آرہا تھا 


جب انہوں نے میری گردن پر کس کی تو مانو جیسے جان ہی نکال دی اتنا مزہ تو پہلی بار بھی نہیں دیا تھا


ابا نے مجھے اٹھایا اور بیڈ پر لٹایا اور میری شلوار اتار کر میری ٹانگوں پر کس کرنا شروع کر دی 


کرتے کرتے میری چوت پہ جب ابا نے کس کی تو مانو میں جنت میں داخل ہو چکی ہوں


 افففف افففف کی آواز نکل رہی


ابا بہت چوم رہیں تھے میری چوت کو اور میں ہر بار اور بھی زیادہ پاگل ہو رہی تھی 


ابا نے بھی کپڑے اتار لیے تھے


پھر ابا کافی ہوٹ ہو گئے تھے میں بھی ہوٹ سے ہوٹ تر ہو چکی تھی 


ابا کا لنڈ ایسے کھڑا تھا جیسے کوئی لوہا ہو


ابا نے کہا اس کو منہ میں لے لو اور قلفی کی طرح چوس لو میں نے اس کو قلفی کی طرح چوسا 


پھر میں نے کہا ابا اب ڈالو اندر ابا میری ٹانگیں کھول کر درمیان میں آ گئے اور اپنا سات انچ کا لنڈ میرے اندر لیا اہ اہ اہ اہ اہ اہ


اندر ڈالنے سے اب مجھے درد نہیں ہوتا اب تو ہم روز کرتے ہیں


خیر اندر ہو گیا ابا نے آہستہ آہستہ جھٹکے لگائے پھر ابا نے تیز ترین جھٹکے لگائے اور ساتھ وہ کبھی مموں کو دباتے اور کبھی ہونٹوں کو چوستے


مجھے بہت ہی مزہ آرہا تھا یار افففف افففف آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھی میرے منہ سے کمرہ گونج رہا تھا


تھوڑی دیر بعد ابا فارغ ہو گئے میں بھی فارغ ہو چکی تھی 


ابا نے مجھے اچھا خاصا چودا


میری چوت میں ہلکی پھلکی درد تھی بس


پھر ہم کپڑے پہن لیے تھے اس کے بعد تھوڑی دیر بعد میری بہنیں بھی آ گئی تھی


ہم باہر گئے دروازہ کھولا پھر میں نے دوپہر کا کھانا منگوایا باہر سے پیزا میری بہنیں بہت خوش ہوئی کھا پی کے وہ اکیڈمی چلی گئی 


پھر میں اپنے روم میں آ گئی اور موبائل پر لگ گئی میں نے انسٹاگرام اوپن کی ابا کو میسج کیا ہیلو جان کیسے ہو


ابا نے رپلائی کیا کہ میں ٹھیک ہوں تم سناؤ کہاں ہو میں نے کہا میں تو ادھر ہی ہوں آپ ہی غائب ہو گئے ہیں


بھئی آپ کے تو مزے ہیں اج کل گھر میں ہی مل جاتی ہے فری میں


اب تو آپ مجھے بھول جائیں گے کہ آپ نے میری بھی لینی تھی وہ اب نہیں لیں گے مجھے پتہ ہے


ابا نے رپلائی کیا کہ پاگل تمہیں بھی میں چودو گا میرا بہت دفعہ کھڑا ہوتا ہے ہے 


میرا دل کرتا ہے کہ میں تم دونوں کو ایک ساتھ چودو کیوں کہ میرا بہت کھڑا ہوتا ہے میں نے اپنی بیٹی کو بہت چودا ہے پر میرا دل ابھی بھی نہیں بھرا


میں تم دونوں کو چودو گا


میں نے کہا ٹھیک ہے اسی طرح میں نے تھوڑی سی بات کی پھر میں نے کہا میں بعد میں بات کرتی ہوں


پھر مجھے ٹنیشن ہونے لگ کے اب کیا کروں گی


میں نے سوچا کہ اپنی بہن کو منا لوں گی ابا اس کو چود لیں ہم دونوں کو ایک ساتھ چودو لیں کم سے کم دولت تو ہمارے ہاتھ میں آئے

 گی


میری بہنیں عیش تو کرسکے گی اب مجھے اپنی بہن کو منانا ہے اور ابا سے چودوانا ہے اس کو بھی مزے دلوانا ہے



جاری ہے

The post ہمارے پیارے ابو اور ہم ان کی بے شرم بیٹیاں (قسط 4) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%a7%d8%a8%d9%88-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%b4%d8%b1%d9%85-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-3/feed/ 0