بھائی بہن انسیسٹ کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/بھائی-بہن-انسیسٹ-کہانی/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Sun, 26 Apr 2026 03:43:41 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png بھائی بہن انسیسٹ کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/بھائی-بہن-انسیسٹ-کہانی/ 32 32 بہن اور بھائی https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/#respond Mon, 22 Sep 2025 07:02:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/   بہن اور بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔!!  یہ کہانی ایک دوست نے کال پہ میرے ساتھ شیئر کیا تھا جس کے کہنے پہ میں نے لکھی ۔۔ میرا نام تو زوہیب کہہ سکتے ہیں اور میرا تعلق لاہور کے مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ یہ میری پہلی کہانی ہے اور اس سے پہلے میں نے کبھی اس طرح […]

The post بہن اور بھائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 













بہن اور بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔!!


 یہ کہانی ایک دوست نے کال پہ میرے ساتھ شیئر کیا تھا جس کے کہنے پہ میں نے لکھی ۔۔

میرا نام تو زوہیب کہہ سکتے ہیں اور میرا تعلق لاہور کے مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ یہ میری پہلی کہانی ہے اور اس سے پہلے میں نے کبھی اس طرح کا نہیں لکھا اس لیے ہو سکتا ہے کہ آپ کو میرا لکھنے کا انداز پسند نا آئے۔ مگر کیوںکہ یہ میری آپ بیتی ہے اس لیے آپ کو سنا رہا ہوں، کوئی غلطی ہو تو معاف کر دیجیئے گا، ویسے تو سب ہی یہاں یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری سچی کہانی ہے اس لئے میں آپ سے ایسا کچھ نہیں کہوں گا، آپ خود پڑھ کر ہی فیصلا کیجیئے گا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے اپنے گریجوئیشن کے پیپر دیئے تھے اور رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا، مجھے 20 دنوں کے لئے اپنی نانی کے گھر رہنا پڑا کیوںکہ میں کراچی گھومنا پھرنا چاہتا تھا کیوںکہ ایگزام سے نیا نیا فارغ ہوا تھا۔ میری نانی ماں کا گھر کافی بڑا ہے اور اس میں میری نانی کے علاوہ میرے ماموں اور ان کی فیملی رہتی ہے۔ ماموں کے یوں تو 6 بچے (تین لڑکے اور 3 لڑکیاں) ہیں مگر میری یہ کہانی مریم کے گرد گھومتی ہے جو مجھ سے 2 سال چھوٹی ہے۔ نانی کے گھر انجوائمینٹ کے لئے صرف ٹیلیویژن تھا اور انٹرنیٹ نہیں تھا، اس لئے وقت گزاری کے لئے انٹرنیٹ کنیکشن بھی لگوا لیا۔ ویسے تو پہلے نیٹ کیفے جایا کرتا تھا مگر وہاں صرف کبھی کبھی سیکسی ویب ہی دیکھ لیا کرتا تھا مگر جب گھر کا نیٹ ہوا تو بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔ ایک دن میں نے دیسی پاپا کی سائیٹ لگائی تو اس میں ایروٹک کہانیوں کا آپشن دیکھا، جب کھولا تو بہت مزا آیا، پھر تو میرا یہ معمول بن گیا کہ سونے سے پہلے یا جب بھی ٹائیم ملتا تو میں اس پر بھی یہ ہی کام کرتا، مجھے سب سے زیادہ سسٹر سیکس سٹوریز پسند تھی، یہاں میں بتاتا چلوں کہ میں اپنے گھر میں اکلوتی اولاد ہوں اور میرے کوئی بھائی بہن نہیں ہیں، میں ماموں کے بچوں کو بھائی اور بہن کہہ کر بلایا کرتا تھا اور شروع سے ان کو بھائی اور بہن سمجھتا تھا، اور بھی مجھے بھائی کی نظر سے دیکھتے تھے حتّٰی کہ مریم بھی مجھے بھائی ہی کہہ کر بلاتی تھی اور میرا بھائی ہونے کے ناتے بہت خیال رکھتی تھی۔ اب ایسی کہانیاں پڑھی تو نہ جانے کیوں میں بھی اپنی چھوٹی بہن یعنی مریم میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوا، مریم کی چھوٹی بہن ابھی کافی چھوٹی تھی اور فائزہ باجی (مریم کی بڑی بہن) اسلام آباد میں جاب کرتی تھیں اس لئے گھر میں لے دے کر ایک مریم ہی میرے ساتھ باتیں کرتی تھی اور ٹائیم دیتی تھی کیوںکہ مریم کے 3 بھائیوں میں سے ایک بھائی تو شادی شدہ تھے اور الگ رہتے تھے اور باقی دونوں بھائی کام پر جاتے تھے اور رات گئے دیر سے لوٹتے تھے۔ ارے میں بھی کیا فیملی کی سنانے بیٹھ گیا آپ بور ہو رہے ہوں گے۔ تو چلیں اب میں آپ کو اپنی چھوٹی بہن مریم کے بارے میں بتاتا ہوں، وہ مجھ سے کوئی 2 سال چھوٹی ہے اور اس وقت 19 سال کی تھی، گوری رنگت، سلم باڈی سراسری قد اور سب سے الگ اس کے گول ممے اور چھوٹی سی گانڈ، جو اس کے سیکسی فگر کو اور دلکش بناتے تھے۔ دیسی پاپا پڑھنے کے بعد میں نے اس کی عادتوں پر غور کرنا شروع کیا، وہ زیادہ تر بغیر دوپٹے کے گھر میں رہتی اور کپڑے بھی فٹنگ کے ہی استعمال کرتی تھی جس سے اس کا فگر نمایاں نظر آتا تھا۔ مگر میں چاہتا تھا کہ وہ خود میری طرف پہل کرے اور یہ ہی میری فینٹسی تھی۔ میں اکثر سوچتا کہ اگر وہ مجھے گندی نظر سے دیکھے تو مجھے سیڈیوس کرنے کے لئے کیا کرے گی۔ یہ سوچ سوچ کر اور مریم کو دیکھ دیکھ کر میں پاگل ہوتا رہتا تھا۔ اکثر میں جب نیٹ پر سے اٹھتا تھا تو وہ آ کر بیٹھ جاتی تھی اور اپنے دوستوں سے باتیں کرتی تھی۔ اس کے لئے سب سے پہلے میں نے یہ کیا کہ ایک فیک آئی ڈی بنائی جس پر اس کو ایڈ کیا اور پھر اس سے کچھ دن بات چیت کی (نیٹ کیفے جا کر) اور پھر اس کو لائیٹ قسم کی سیکسی تصویریں بھیجی۔ تا کہ اس کا تاثر پتہ چلے۔ میں اس کافی دن تک اس کو میل کرتا رہا یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ردعمل ہوتا ہے اب۔ میں نے دیکھا کہ اس نے کمپیوٹر کو زیادہ وقت دینا شروع کر دیا تھا اور اکثر ہسٹری میں کوئی سیکسی سائیٹ بھی نظر آتی تھی۔ یہ میرے لئے اور بھی اچھی بات تھی۔ پھر ایک دن میں گھر سے نکل کر کیفے اور بات شروع کر دی، شروع میں اس نے بہت غصہ دکھایا ان سیکسی تصویروں کے متعلق مگر جب میں نے یہ کہا کہ اگر ایسی بات تھی تو تم نے مجھ کو بلاک کیوں نہیں کیا میل باکس اور ہاٹمیل پر، تو کہنے لگی کی سچی بات تو یہ ہے کہ خود بھی وہ سب کچھ تھوڑا تھوڑا اچھا لگنے لگا ہے۔ اس طرح میں نے اس سے سیکس پر بات کرنا شروع کر دی۔پہلے دن میں نے زرا ہلکا ہاتھ رکھا۔ کچھ دن کی مستقل بات چیت کے بعد میں نے اس کو کہا کہ میں تو اپنی بہن کے ساتھ سیکس کرتا ہوں ، تو یہ سن کر وہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے، تو میں نے اس کو کہا کہ تقریباً سبھی یہ ہی کرتے ہیں مگر بتاتا کوئی نہیں۔ الغرض کہ میں اس کو شیشے میں اتارنے لگا اور اس کو صلاح دی کہ تم بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہ سب کچھ کر کے دیکھو۔ پہلے تو اس نے بہت برا بھلا کہا مگر بعد مین جب اس کو مزید باتیں بتائیں تو کہنے لگی کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ کیسے کر سکتی ہوں وہ تو گھر پر مجھے ٹائیم ہی نہیں دیتے، ہاں میرے ایک کزن بھائی لاہور سے آئے ہوئے ہیں، مگر وہ بہت سیدھے سادھے اور شریف ہیں اور مجھے بہن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیوںکہ ان کی کوئی بہن نہیں ہے۔ میں نے اسے کہا کہ یہ تو سب سے اچھا ہے کہ سگا بھائی نہیں ہے، مگر بھائی کے جیسا ہے۔ اس نے اپنی کلاس فیلوز طرف گھمانے کی کوشش کی تو میں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ تمہارے کلاس فیلوز اپنی بہنوں کے ساتھ کرتے ہوں گے انہیں تمہاری کیا ضرورت ہوگی۔ یہ سن کر وہ بولی کہ اوکے میں سوچوں گی۔ اب وہ پوری طرح سے میرے ہاتھ میں تھی اور مجھے بھی اس کھیل میں مزا آ رہا تھا۔ مجھ کو کوئی جلدی نہیں تھی۔ ایک دن میں نے اس کہ کہا کہ جب تم گھر میں جھاڑو لگاؤ تو اپنی قمیز کے اوپر والے بٹن کھول لیا کرو، اور یہ ظاہر کرو کہ تم کو پتہ نہیں ہے۔ جب بھائی کے سامنے یا ان کے کمرے کی صفائی کرو۔ اگلے دن یہ ہی ہوا میں اپنے بیڈ پر لیٹا کہ وہ صبح ہی صفائی کے لئے آ گئی اور اس نے اوپر کا ایک بٹن کھولا ہوا تھا جس سے اس کے مموں کا اوپری حصہ نظر آ رہا تھا۔ وہ میرے سامنے جھک کر جھاڑو لگانے لگی جس سے اس کے ممے صاف نظر آ رہے تھے، چھوٹے چھوٹے گول گورے ممے میرے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی تھے۔ میں نے بھی اپنی نگاہیں وہیں پر گاڑھ دی اس کو اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ میں اس کے مموں میں دلچسپی لے رہا ہوں۔ اس نے ایک بار میری طرف دیکھا تو میں نے نظریں گھما لیں۔ یہ دیکھ کر وہ مسکرانے لگی اور اپنا کام کر کے چلی گئی۔ اب آج کے بارے میں ساری بات میں نے کیفے سے جا کر کرنی تھی۔ جب میں نے یہ دیکھ لیا کہ وہ نیٹ پر آ گئی ہے تو میں کیفے چلا گیا اور اس سے بات کرنے لگا۔ وہ آج کے بارے میں بتانے کے لئے بیتاب تھی۔ اس نے بتایا کہ اس نے کس طرح بھائی میرے مموں کو دیکھ رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ان کو پکڑنا چاہتے ہیں۔ تو میں نے پوچھا کہ تم کیا چاہ رہی تھی اس وقت، تو کہنے لگی کہ میرے دل میں عجیب سی گدگدی ہو رہی تھی اور میں تو یہ چاہ رہی تھی کہ بھائی اٹھیں اور مجھے اٹھا کر اپنے بیڈ پر لے جائیں اور پھر جو وہ چاہتے ہیں وہ سب کچھ کریں۔ تو میں نے کہا کہ اب تم کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا کہ اگر تمھارا بھائی تم کو *** کریں تو؟ کہنے لگی کہ اب جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ اور مزید ترقیبیں سوچنے لگی کہ بھائی کو کیسے اپنا جسم اور جوانی دکھائے۔ یہ سب میرے لئے حیرت انگیز تھا، یہاں ایک بات آپ کو بتاتا چلوں کہ ہم دونوں کے روم برابر ہیں اور بیچ میں ایک کھڑکی ہے جو ھواداری کے لئے ہے گرمیوں میں اس میں پردہ پڑا رہتا اور سردی میں بند کر دیتے ہیں۔ خیر آج میں کافی موڈ بنا کر آیا تھا جب میں گھر آیا تو وہ نیٹ چھوڑ کر سونے کی تعیاری کرنے لگی تھی۔ میں نے بیٹھتے ہی کچھ سیکسی سائیٹ اوپن کی اور ان کو دیکھنے لگا۔ اچانک روم میں کھڑک ہوا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مریم کھڑی تھی ہاتھ میں دودھ کا گلاس لئے۔ اس نے مجھے سائیٹس چھاپاتے ہوئے دیکھ لیا اور مسکرا دی۔ میں نے حیران ہو کر اس کو دیکھا کیونکہ اس نے اس وقت باریک گلابی رنگ کا پجاما پہن رکھا تھا جس میں سے اس کی خوبصورت لمبی گوری ٹانگیں صاف نظر آ رہی تھیں اور اس کے اوپر اس نے ایک فٹنگ والی سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اس نے مجھے اس طرح گھورتے ہوئے پایا تو کہنے لگی کہ بھائی یہ پجاما میں آج ہی بازار سے لائی ہوں، رنگ کتنا پیارا ہے نا۔ اور میں نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتے ہوئے صرف سر ہلا دیا۔ میں نے پوچھا دودھ کیوں لائی ہو، پہلے تو کبھی تم دودھ نہیں لائی۔ تو اس نے شرماتے ہوئے عجیب انداز سے مجھے گھورا اور کہا میرا خیال تھا کہ دودھ سب لڑکوں کو پسند ہوتا ہے۔ میں نے بھی جواباً اسے گھورا اور کہا کہ مجھے بھی دودھ بہت پسند ہے، روزانہ پلاؤ گی نا۔ اور اس نے شرماتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔ خیر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں سمجھا کہ کل پرسوں تک میری بہنا راضی ہو ہی جائے گی۔ اور میں پھر سے کمپیوٹر پر ڈرٹی سائیٹس دیکھنے لگا اور مریم کو فینٹسائیز کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ کوئی اور بھی میرے ساتھ شامل ہے، دیکھنے میں۔ کیوںکہ میں پردے میں ہلکی سی آہٹ محسوس کر چکا تھا۔ مگر میں نے اپنا کام جاری رکھا اور آہستہ آہستہ سے اپنے لنڈ کو اپنی شارٹس کے اندر ہاتھ ڈال کر مسلنے لگا۔ مجھے عجیب سا احساس ہوا کہ میں اس طرح گندی تصویریں دیکھ رہا ہوں اور اپنے لنڈ کو ہاتھ لگا کر مزے لے رہا ہوں اور ایک لڑکی وہ بھی اتنی خوبصورت جس سے میں اتنی ڈھیر ساری گندی باتیں کر چکا ہوں اور جسے میں بہن کہہ کر پکارتا ہوں پردے کی اوٹ سے مجھے دیکھ رہی ہے۔ کچھ دیر کے بعد میں نے کمپیوٹر بند کر دیا۔ اور پھر میں نے پردے کے پیچھے دیکھا۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ میری بہن سو رہی ہے گہری نیند اور اس کی ٹی شرٹ اس طرح ہو رہی تھی جیسے سوتے میں اوپر چڑھ گئی ہو۔ جس کی وجہ سے اس کا خوبصورت پیٹ گورا سا پیارا سا اور اس کی سیکسی سی ناف صاف نظر آ رہی تھی۔ اس نےایک ٹانگ سیدھی اور ایک ٹانگ اسی ٹانگ کے اوپر ٹیڑھی کی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کی باریک پجاما میں سے اس کی گوری گول گانڈ نظر آ رہی تھی۔ اس کی گانڈ اس طرح سے دیکھ میں پاگل ہو گیا۔ اور اس خیال سے بھی کہ ابھی تو یہ جاگ رہی تھی اور ابھی کیسے ایکٹنگ کر رہی ہے سونے کی اور یہ پوز اس نے خاص طور میرے لئے بنایا ہے۔ میں کافی دیر اس نظارے کو دیکھتا رہا، مگر میں ابھی اس کھیل کو اور آگے بڑھانا چاہتا تھا۔ پھر میں اٹھ کر اس کے کمرے میں گیا اور اس کے پاس بیٹھ کر غور سے اسے دیکھنے لگا۔ مگار اس نے کوئی حرکت نہیں کی کچھ دیر بعد میں اٹھ کر واپس آ گیا۔ دوسری رات میں پھر سیکسی سائیٹس لگا کر بیٹھ گیا، کہ اچانک وہ میرے کمرے میں آ گئی جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو، اور آتے ہی اپنی نظریں مانیٹر پر گاڑھ دیں۔ میں نے تھوڑا ڈرنے کی ایکٹنگ کی اور جلدی سے سب چھپانے لگا۔ وہ دیکھ کر مسکرانے لگی اور کہنے لگی کہ بھائی آپ یہ آپ کیا کر رہے تھے، یہ تو بہت بری بات ہے اور میں اپنی امی کو بتاؤں گی کہ آپ یہ کام کرتے ہو۔ میں نے کہا مریم اگر میں تمہیں بہت بھاری رشوت دوں تو تب بھی بتاؤ گی کیا؟۔ اس نے کہا کہ ہاں اگر رشوت واقعی بھاری ہوئی تو نا بتانے کا سوچا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ تمہیں رشوت میں کیا چاہیے؟۔ تو کہنے لگی کہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا میں سوچ کر بتاؤں گی۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا اچھا تو یہ بتاؤ کہ دودھ پلانے کی کیا رشوت لو گی۔ تو کہنے لگی آپ کو پلایا تو تھا آج۔ میں نے کہا کہ میں تمہارے دودھ کی بات کر رہا ہوں۔ وہ ایک دم سے شرما گئی اور اس نے نیچے فلور کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اس کی نظریں نیچی ہی رہیں، اس وقت مجھے اس پر بہت پیار آیا اور میں نے ہاتھ بڑھا کر اپنی باہوں میں بھر لیا، اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئے۔ اس سے پہلے میں نے کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ مگر آج لگا رہا تھا اس لئے میرے اندر کچھ زیادہ ہی جوش تھا۔ اور کچھ ویسے بھی سماج کی یہ والی دیوار گرانے میں کچھ زیادہ ایکسائٹمینٹ تھی۔ ہم نے قریب کوئی 5 منٹ سے زیادہ کسنگ کی۔ ایک دوسرے کی زباں کو منہ میں ڈال کر چوستے رہے اور ساتھ ہی میرا ہاتھ اس کی ٹی شرٹ کے اندر چلتا رہا اس کے نپل میرے انگلیوں میں تھے۔ پھر میں نے اس کو بازو میں بھر کر بیڈ پر لٹا دیا۔ وہ بلکل ہلکی پھلکی تھی بچوں کی طرح۔ لٹا کر میں بھی اس کو کس کرتا رہا۔ کبھی ہونٹ تو کبھی چن تو کبھی گردن۔ میرے ہونٹ اس کے پورے چہرے پر تھے اور تو کبھی گردن سے ہوتا ہوا اس کے مموں کو چوم رہا ہوتا۔ وہ آہستہ آہستہ آوازیں نکال رہی تھی آھ اوھ قسم کی۔ میں نے اس کے اوپری حصے اس کے کپڑوں کو آزاد کیا اور ایک خوبصورت نظارہ دیکھنے لگا، کہ کیا چیز ہے۔ اور پھر میں نے دونوں مموں کو ہاتھوں میں لے کر مسلنا شروع کر دیا۔ کبھی دباتا تو کبھی چوستا تو کبھی چاٹتا۔ اس دن جو مزا مجھے مل رہا تھا وہ الفاظ میں بیاں نہیں کیا جا سکتا۔ پھر میں نے اس کا باریک پجاما نیچے کیا تو اس کی چوت نظر آنے لگی۔ پجاما اتارنے کی وجہ سے وہ کافی شرما رہی تھی جس پر مجھے اور بھی پیار آنے لگا اور میں نے اس کو اپنے آغوش میں بھینچ لیا اور ایک بار پھر کسنگ کرنے لگا اس طرح اس کی شرم کچھ دور ہوئی تو میں اس کی چوت سے کھیلنے لگا۔ اس کی چوت بہت ٹائیٹ اور چھوٹی سی تھی اور اس کی گوری رنگت کی وجہ سے بلکل گلابی تھی اور اس پر آدھے انچ کے قریب بال بھی تھے جس وجہ سے وہ اور بھی اچھی لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی انگلیوں کو اس پر پھیرنا شروع تو وہ مچلنے لگی۔ پھر میں نے اس کی چوت لب کو انگلی کی مدد سے کھولا تو اندر کا سرخ حصہ نظر آنے لگا۔ تو میں نے اپنی انگلی اس میں ڈال دی اور اس کو آہستہ سے حرکت دینے لگا جس پر وہ اور بھی زیادہ مچلنے لگی۔ اور بولی کہ بھائی اب برداشت نہیں ہوتا۔ مجھے اس کے جسم سے کھیلنے میں مزا آ رہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ اس کو ٹائیم دے سکوں اور آج کی رات کو یادگار رات بنا دوں۔ پھر میں اپنا منہ اس کی چوت کے پاس لے گیا تو مجھے ایک عجیب سی بو لگی مگر اس بو میں بھی مزا تھا اور اپنے ہونٹ اس کی چوت پر رکھ دئے تو وہ تڑپ اٹھی اور اپنے ہاتھوں اسے میرا سر پکڑ لیا۔ جب تک میں اپنی زباں اس کی چوت میں ڈال چکا تھا۔ مجھے ایک عجیب طرح کا ذائقہ محسوس ہوا مگر کیوںکہ میں جزبات میں تھا کہ میں اپنی چھوٹی بہن کی چوت کو دیکھ، سونگھ، چاٹ رہا ہوں۔ اس لئے وہ بھی اچھا لگنے لگا اور میں نے اور تیزی سے اس کہ چاٹنا شروع کر دیا۔ اور اس کی آواز میں آہستہ آہستہ سے تیزی آتی جا رہی تھی۔ تو میں نے کہا کہ بس گڑیا تھوڑا سا صبر کرو، اصل مزا تو اب آئے گا تم کو جب میں اپنا لنڈ تمہاری اس پیاری سی چھوٹی چوت میں ڈالوں گا۔ تو کہنے لگی کہ زوہیب بھائی جلدی کرو جو کرنا ہے، مجھ برداشت نہیں ہو رہا۔ تو میں نے بھی اپنی شارٹس اتار دیا۔ میرا لنڈ بلکل تنا ہوا کھڑا تھا جس کو دیکھ کر اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ لیا تو میں نے کہا یہ کیا بات ہوئی تم بھی تو دیکھو ورنہ مزا کیسے آئے گا اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھ لیا تو اس نے بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی اور غور سے لنڈ کو دعکھنے لگی جیسے کوئی بچہ نئے کھلونے کو دیکھتا ہے حیرت اور خوشی اور شرم بھری نگاہ سے۔ جب میں نے اس کو کہا کہ اس کو اپنے منہ میں لو تو اس نے منع کردیا کہ بھائی یہ مجھ سے نہیں ہو گا لیکن آپ کہہ ہو تو بس میں ایک بار اس کو کس کر لیتی ہوں اور پھر اس نے بہت ہی پیار سے میرے لنڈ کی ٹوپی کو کس کیا اور ساتھ ہی ایک لمہے کے لئے اپنی زباں ہی اسے لگائی جس سے ایک منفرد سرور حاصل ہوا۔ ایک بار پھر میں نے اس کے ہونٹ گاڑ دیئے اور مموں کو مسلنے لگا پھر میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت پر بہت آرام سے رکھا کہ وہ میری اپنی بہن ہے اور جب میں نے تھوڑا سا اپنا لنڈ اندر ڈالا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔ اور میرا لن بھی آگے نہیں جا رہا تھا۔ میں نے اپنا لن مریم کے منہ کے پاس کیا اور اسے کہا کہ اس پر بہت سارا تھوک لگاؤ۔ اس نے حیرت میری طرف دیکھا مگر کچھ نا بولی اور منہ سے ڈھیر تھوک بنایا اور میرے لنڈ پر لگا کر اپنے نرم گورے ہاتھوں سے سارے لنڈ پر مل دیا۔ ایسا اس نے 2 بار کیا۔ جب اچھی طرح میرے لنڈ پر تھوک لگ چکا تو میں نے کہا کہ اب میں اندر ڈالوں گا تو تمہاری سیل ٹوٹ جائے گی اور تم کو درد بھی ہو گا۔ اور میں تم کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا، کیا تم اس کے لئے تعیار ہو۔ تو اس نے کہا کہ بھائی جب یہاں تک آئے ہیں تو پھر باقی کیا بچا ہے، اب جو ہو گا دیکھا جائے گا آپ اپنا کام کرو۔ تو میں نے پھر ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ اندر ڈال دیا جس سے وہ آدھا اندار چلا گیا اور میری بہن کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کہ میں اس کے منہ پر تکیہ رکھ دیا تھا۔ اور ایک جھٹکے کے بعد میرا لنڈ پورا اندر جا چکا تھا مجھ کو بہت محنت کرنی پڑی کیوںکہ اس کی چوت ایک دم ٹائیٹ تھی۔ اب میں نے کچھ اس طرح کی ترتیب بنا لی تھی کہ میرا لنڈ اس کی چوت میں تھا اور اس کی ٹانگیں میرے کندھے پر اور میں اس کے مموں کو دباتا ہوا اس کے ہونٹ بھی چوس رہا تھا۔ اس طرح مجھ کو ایک ساتھ کئی مزے آ رہے تھے اور میرے سیکس کی تسکین بھی ہو رہی تھی۔ اب مجھ کو کچھ تھکن محسوس ہو رہی تھی تو میں سیدھا ہو کر لیٹ گیا اور اس کو اپنے لنڈ پر بیٹھ کر اوپر نیچے ہونے کا کہا۔ اب اس کی شرم بھی نکل چکی تھی اور وہ کسی ماھر کی طرح کر رہی تھی، اتنی تصویریں جو دیکھ چکی تھی جو میں نے اسے بھیجی تھی۔ جب وہ اوپر ہوتی تو اس کے ممے ھلکے سے سکڑتے اور نیچے آتے ہوئے زور سے ہلتے۔ یہ ایک بہترین نظارا تھا۔ پھر میں نے ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اور اس نے اپنی گردن پیچھے ڈال دی۔ ایسا کرنے سے اس کے ممے اوپر کی طرف کھنچ گئے تو میں نے نپلز کو انگلی اور انگوٹھے سے مسلنا شروع کر دیا۔ ایسا کرنے سے اس کے ہلنے کی رفتار اور تیز ہو گئی اور مجھے اس کی چوت میں سے پانی نکلتا ہوا محسوس ہوا تو میں نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا۔ اب میں بھی چھوٹنے ہی والا تھا اس لئے میں بیڈ پر کھڑا ہو گیا اور اس کو کہا میری مٹھ لگائے تو اس نے بیڈ پر گھٹنوں بل بیٹھ کر اپنے دونوں نازک ہاتھوں سے مٹھ لگانا شروع کر دی اور ساتھ ھی لنڈ کو چاٹنا بھی شروع کر دیا۔ شاید اب وہ جھجھک محسوس نہیں کر رہی تھی کہ اچانک لنڈ میں سے پانی نکل کر اس کے چہرے پر پڑی اور کچھ زباں پر بھی گئی جس پر اس نے برا سا منہ بنا کر اسے صاف کیا تو میں نے فوراً اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر گاڑ دیئے اور اس طرح اس کا موڈ بھی اچھا ہو گیا۔ اس کے بعد ہم کافی دیر ایک ساتھ لیٹے رہے ننگی حالت میں۔ اس کا سر میرے سینے پر تھا اور اس کا ایک ہاتھ میرے لنڈ پر آہستہ آہستہ مالش کر رہا تھا اور میرا ہاتھ اس کے مموں پر۔ اس طرح پوری رات میں کئی مرتبہ یہ کھیل کھیلا۔ اس دن کے بعد سے میری بہن نے میری پیاس بجھانے میں کوئی کثر نہیں اٹھائی۔ اور اس طرح میرے سیکس کی پیاس کا بھی بہنوں کی طرح خیال رکھا جیسے وہ میرا دوسرے کاموں میں احساس کرتی تھی بلکل ایک بہن کی طرح۔ ایک بار اس نے اپنی سہیلی کو بھی راضی کیا اور ایک بار ہم تینوں نے بھی رنگ رلیاں منائی۔ اس بات کو 2 سال ہو چکے ہیں۔ اب میری بہن کے ممے کافی بڑے ہو گئے ہیں اور اس کی گانڈ بھی کچھ بڑی ہو گئی ہے جس سے اس کی خوبصورتی اور سیکسی فگر اور بھی اچھی ہو گئی ہے۔ وہ مجھ سے کہتی ہے کہ بھائی میرے ممے آپ کی ہی وجہ سے بڑے ہوئے ہیں۔ اور میں اب ہر سمر میں ایک مہینے کے لئے کراچی جاتا ہوں۔ اور وہ ہر ونٹر میں 20 دن کے لئے لاہور آتی ہے اور ہم پھر سے یہ بہن بھائی کاے پیار کا کھیل کھیلتے ہیں اور باقی کے دن انہیں یادوں کو یاد کر کے اپنی پیاس خود اپنے ہاتھوں سے بجھاتے ہیں

ختم

The post بہن اور بھائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/ 0
سالگرہ کا تحفہ https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d8%a7%d9%84%da%af%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%db%81/ https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d8%a7%d9%84%da%af%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%db%81/#respond Wed, 03 Sep 2025 13:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d8%a7%d9%84%da%af%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%db%81/   ماہم۔۔۔۔۔۔۔ ناڑا کھولو۔۔۔۔۔۔ڈرے ڈرے ہاتھوں نے اپنی شلوار کے نیفے پر ہاتھ ڈال کر اپنا ناڑا پکڑا اور اسکو کھول دیا۔۔۔۔۔۔۔ ایک لمحے میں شلوار نیچے جا گری۔۔۔۔۔ آگے آؤ۔۔۔۔۔ وہی آواز دوبارہ سنائی دی۔۔۔۔۔۔ سر جھکائے ماہم آگے کو بڑھی۔۔۔۔۔ بستر کے پاس پہنچ کر وہ رک گئی۔۔۔۔۔۔ اسکے چہرے کے تاثرات سے […]

The post سالگرہ کا تحفہ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


ماہم۔۔۔۔۔۔۔ ناڑا کھولو۔۔۔۔۔۔ڈرے ڈرے ہاتھوں نے اپنی شلوار کے نیفے پر ہاتھ ڈال کر اپنا ناڑا پکڑا اور اسکو کھول دیا۔۔۔۔۔۔۔

ایک لمحے میں شلوار نیچے جا گری۔۔۔۔۔

آگے آؤ۔۔۔۔۔ وہی آواز دوبارہ سنائی دی۔۔۔۔۔۔

سر جھکائے ماہم آگے کو بڑھی۔۔۔۔۔ بستر کے پاس پہنچ کر وہ رک گئی۔۔۔۔۔۔

اسکے چہرے کے تاثرات سے بے یقینی اور شرمندگی جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔۔

مہرین بستر سے اٹھ کر اسکے پاس گئی۔۔۔۔۔ اور اسکی کمر کو سہلایا۔۔۔۔۔۔

گھبراؤ مت ماہم۔۔۔۔۔۔تمہیں بہت سکون ملےگا۔۔۔۔۔

جی آپی۔۔۔۔۔ ماہم نے سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔

ایک لمحہ کو اسکی نظر بستر پر لیٹے ہوئے مرد پر پڑی۔۔۔۔۔۔

جومکمل ننگا تھا۔۔۔۔۔۔

اور اسکا لنڈ۔۔۔۔۔۔اسکا لنڈ مکمل تیار کھڑا رھا۔۔۔۔۔اسکے ہاتھ مسلسل اپنے لنڈ کو سہلا رہے تھے اور اسکی نظریں اسوقت ماہم کی ننگی رانوں کودیکھ رہی تھیں۔۔۔

ماہم۔۔۔۔۔۔۔

جی آپی۔۔۔۔۔۔

بازو اٹھاؤ۔۔۔۔۔

ایک روبوٹ کی طرح ماہم کےبازواوپر کو اٹھے۔۔۔۔۔

مہرین نے اسکی قمیض کاگھیرا پکڑا اور اسکی قمیض اوپر کو اٹھانا شروع کی۔۔۔۔۔۔

اءمد کی نظریں مسلسل اسکی اٹھتی قمیض کا تعاقب کر رہی تھیں اور مہرین کی نظریں ایک شاطرانہ مسکراہٹ کء ساتھ اسکی نظروں کا……

ماہم کی قمیض اتر کر اب نیچے قالین پر پڑی تھی۔۔۔۔۔

مجرین کا ایک ہاتھ آگے ماہم کی چھاتی کو سہلا رہا تھااور دوسراہاتھ اسکی کمرپر اسکے برا کی ہک کو کھول رہاتھا۔۔۔۔۔

اور چند لمحے بعد ماہم کا برا نیچے پڑا تھا۔۔۔۔۔۔

مہرین ماہم کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی اور اسکے چہرے سے بالوں کو ہٹا کر ایک نظر احمد کی طرف ڈالی جو ان دونوں کو ننگا کھڑا دیکھ رہا تھا

کیسا لگا میرےمالک کواپنی سالگرہ کا تحفہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ مہرین نےمسکرا کر احمد کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ اپنی جوان ننگی سالی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

ماہم نے ایک نظر اپنی بہن کو دیکھا اور شرماکر نظرین جھکا دیں۔۔۔۔۔۔۔

بہترین میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد نے مسکرا کر مہرین کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

اب اسےپیش بھی کرو میرے سامنے۔۔۔۔۔

مہرین نےمسکرا کراحمد کو دیکھا۔۔۔۔۔۔جوحکم مالک۔۔۔۔۔اور ماہم کا ہاتھ تھام کر اسےبستر پر لا کر احمد کے ساتھ بٹھادیا۔۔۔۔۔ احمد نے ہاتھ بڑھاکر ماہم کا چہرہ اٹھایا ۔۔۔۔۔

بہت خوبصورت۔۔۔۔۔۔ بلکل اپنی بہن جیسی۔۔۔۔۔۔۔احمد نے اسکی چھاتیاں سہلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

شکریہ بھائی۔۔۔۔۔۔ماہم اب کافی حد تک پر اعتماد ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔

آخربہن کسکی ہے جناب۔۔۔۔۔ مہرین نےماہم کے ننگے کندھے سہلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

بلکل جناب

اورامید ہے کہ مزہ بھی بلکل اپنی بہن جیسا ہی دے گی۔۔۔۔۔۔ احمد کا ہاتھ ماہم کی گانڈ پرپھرنےلگا۔۔۔۔۔

بلکل جناب۔۔۔۔۔۔ مہرین نےمایم کی گال کو چومکر اسکی چھاتی سہلائی۔۔۔۔۔ آج پکی سالی آپکے اس لنڈ کو وہ مزہ دے گی کہ آپ ہادرکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے آحمد کالنڈسہلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہم۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے ماہم کو اآواز دی۔۔۔۔۔۔

جی آپی۔۔۔۔۔۔۔

ماہم نے مسکر جواب دیا

وہ اپنی بہن کا ہاتھ لنڈ پر پھرتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

چلواپنی بھائی کو انکا سالگرہ کا تحفہ دو اب۔۔۔۔۔۔

کیوں نہیں آپی۔۔۔۔۔

ماہم نے اپنےبال باندھے اور نیچے جھک کر احمد کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔

بھیا۔۔۔۔آپی۔۔۔۔۔۔۔اجازت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

ماہم نے ایک شوخ ادا سےپوچھا۔۔۔۔۔۔

بلکل۔۔۔۔۔۔ مہرین نےمسکرا کر احمد کی طرف دیکھا اور اوپر بڑھکر احمد کے کونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔۔۔ اور ماہم نےنیچے جھک کر احمد کےلنڈ کے ٹوپے کوچوم لیا

مہرین اور احمد دونوں کی نظریں ماہم ہر تھیں۔۔۔۔ احمد کی کھلی ٹانگوں کے بیچ بیٹھکر اس نے احمد کے تیار لنڈ کو اپںے ہونٹوں میں لیا ہوا تھا اور اسکا ٹوپا چوس رہی تھی۔۔۔۔۔

اسکی گانڈ پیچھے سے اٹھی ہوئی تھی اور وہ کہنیوں کے بک جھک کر احمد کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے کر مسلسل اپنے ملائمکونٹوں کا جادو جگا رہی تھی…..

کیسا لگ ریا ہے میرے مالک۔۔۔۔۔اپنی سالی کے ہونٹوں کا جادو۔۔۔۔۔۔

بہت کمال میری جان۔۔۔۔تم بھی جاؤ اور دونوں مل کر چوسو۔۔۔۔۔۔

جو حکم مالک۔۔۔۔۔

مہرین مسکراتی ہوئی اٹھی اور نیچے جا کر ماہم کے سر کو سہلانے لگی۔۔۔۔

ماہم۔۔۔۔۔۔

جی آپی۔۔۔۔۔

مہرین نے اسکو چہرے سے پکڑ کر اوپر کیا۔۔۔۔ اس کے معصوم چہرے پر اک لالی سی تھی۔۔۔۔اسکے ہونٹ اپنے بہنوئی کو لنڈ کو چوس کر بھیگے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔

مہرین نے ماہم کا ایک ہاتھ اپنی چھاتیوں پر رکھ کر اپنے ہونٹوں کو ماہم کے ہونٹوں پر رکھ دیا۔۔۔۔۔ اسکا الٹا ہاتھ ماہم کی بھاری بانڈ سہلا رہا تھا اور سیدھا اپنے شوہر کا لنڈ۔ ۔۔۔۔۔

ماہم کے منہ سے اپنے شوہر کے لنڈ کا ذائقہ اسے بہت مزہ دے رہا تھا۔۔۔۔۔

اسکا ہاتھ تیزی سے لنڈ کو سہلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

احمد کو یہ منظر اور بھی کمال لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکی بیوی اور سالی ننگی چھاتی سے چھاتی ملائے ایک دوسرے کے منہ سے اسکے لنڈ کا ذائقہ لے رہی تھیں اور اسکے سامنے پہلی بار اسکی جوان سالی پوری ننگی موجود تھی۔۔۔۔۔

ماہم فرسٹ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی۔۔۔۔۔ بھرا ہوا جسم۔۔۔۔ ابھری ہوئی گانڈ اور سڈول چھاتیاں ۔۔۔۔۔ 15 سال کی عمر میں اسکا جسم کسی بھی 18 20 سال کی لڑکی سے کم نہ تھا

دوسری طرف مہرین۔۔۔۔۔۔اسکی بیوی ۔۔۔۔۔ 24 سال کی جوان تازہ بھاری جسامت۔۔۔۔۔ بھاری کولہے اور موٹی گانڈ۔۔۔۔۔۔ چوڑا بھرا ہوا سینہ۔۔۔

مہرین نر ماہم کے ہونٹوں کو اچھے سے نچوڑ کر احمد کی طرف دیکھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

ماہم اور مہرین دونوں کی دھڑکنیں اور سانسیں تیز تھیں۔۔۔۔۔۔۔مہرین بغیر وقت ضائع کئیے نیچے جھکی اور ساتھ ہی ماہم کو بھی جھکا لیا۔۔۔۔۔۔

اب ایک طرف ماہم کے ہونٹ احمد کے لنڈ پر تھے اور دوسری طرف ماہم کے۔۔۔۔۔۔ایک ترتیب سے دونوں ایک ساتھ اپنے ہونٹ اوپر سے نیچے تک پھیرتیں تو احمد کی جان نکل جاتی۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مممممممم

اسکا ایک ہاتھ مہرین اور دوسرا ماہم کی ننگی کمر سہلا رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔

دونوں بہنیں بہت جوش سےمسلسل اسکا لنڈ منہ میں لئیے چوس رہی تھیں۔۔۔۔۔۔

ماہم کا کوتھ پکڑ کر مہرین نے اسکے ٹٹوں پر رکھا توماہم نے انکو سہلانا شروع کیا۔۔۔۔۔احمد کو جیسے ایک کرنٹ سا لگا۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔ممممممممممم ۔۔۔۔۔۔۔ احمد اٹھا اور اٹھکر ماہم اور مہرین ک انکے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔

دونوں اسکا لنڈ چھوڑکر آگے کو ہوئیں۔۔۔۔۔۔انکے ہونٹوں سے لنڈ چوسنے کے بعد تھوک کی رالیں ٹپک رہی تھیں۔۔۔۔ دونوں کی سانسیں بے ترتیب تھیں……. اس لمحے کی شدت ان تینوں کے چہروں پر عیاں تھی۔۔۔۔

بیت مزہ آتا ہےلنڈ چوس کر۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ احمد نےمہرین کے مںہ پر تھپڑ مارا۔۔۔۔۔۔ اسک چہرہ تھپڑ کی شدتسےمڑ گیا اوربال بکھر گئے۔۔۔۔۔۔۔

جی مالک۔۔۔۔۔ مہریننے مسکرا کر اسکو دیکھا اورایک ہاتھ سے اسک لنڈ پکڑ کر سہلانے لگی۔۔۔۔۔۔ احمد نے دوبارہ بالوں سےپکڑ کر اسکواپنی طرف کھینچا۔

ماہم ابھی تک اپنے بالوں سے پکڑی ہوئی احمد کی گرفت میں تھی۔۔۔۔۔۔اور اپنے بہنوئی کے اس کھیل سے لطف لے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

کیسا لگا آج اپنی بہن کے ساتھ مہرا لنڈ چوسنا۔۔۔۔۔؟؟؟؟

ایک اور زناٹےکا تھپڑ۔۔۔۔۔۔

,مممممم بہت اچھا مالک۔۔۔۔۔۔۔

مہرین ماہم کو دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور جھک کر احمد کے لنڈ کی ٹوپی پر چوما

احمد نے دوبارہ میرین کے بالوں کو پکڑ کر اپنے پاس کھینچا۔۔۔۔۔۔

اچھا لگا مالک کو تمھارا تحفہ۔۔۔۔۔۔

احمد نے اسکے ہونٹوں کو اپنے دانتوں میں لے کر کاٹا۔۔۔۔

آمممممہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔ مہرین کی دبی دبی سسکی سنائی دی۔۔۔۔۔۔

جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے نشے سے ٹوٹتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔

کیا؟؟؟؟؟؟

آپ نے قبول کیا تحفہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ مہرین نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔۔ احمد نے ماہم کو بالوں سے پکڑ کر اپنے پاس کھینچا۔۔۔۔۔۔ اور اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے ۔۔۔۔۔۔۔

مہرین بہت شوق سے اپنے شوہر کو اپنی بہن کو چومتے ہوئے دیکھ رہی تھی

اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر ماہم کی چھاتی کو سہلایا۔۔۔۔۔ اسکا دوسرا ہاتھ احمد کے لنڈ کو مسلسل اوپر سے نیچے سہلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔۔۔

کون۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد نے آواز لگائی۔۔۔۔

کوئی نہیں میری جان۔۔۔۔۔ آپکا اصل تحفہ۔۔۔۔۔ مہرین احمد کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔ اور بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔

دروازہ کھلا۔۔۔۔۔اور جو اندر داخل کوا اسکو دیکھ کر احمد نہ صرف حیران رہ گیا بلکہ چونک گیا۔۔۔۔۔

ماں جی۔۔۔۔۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ اندر داخل ہونے والا کوئی اور نہیں بلکہ اسکی ساس آسیہ تھی ۔۔۔۔۔۔

جی بیٹا جی۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے بیڈ کے پاس ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔

میرے بیٹے کی سالگرہ تھی تو میں کیسے نہ آتی آپکی پارٹی پر۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ نے شوخ انداز سے کہا۔۔۔۔۔

اسکی نظریں احمد کے موٹے تیار لنڈ پر تھیں۔۔۔۔۔

واہ جی یہاں تو ماحول پہلے ہی بہت گرم ہے۔۔۔۔۔

اس نے جھک کے احمد کے لنڈ کو پکڑ کر کر ہلایا

اور ایک نظر ماہم کی طرف دیکھ کر مہرین کو بولی۔۔۔

جی ماما جی۔۔۔۔۔ مکرین نے آگے بڑھ کر احمد کے ٹوپے کو چوما۔۔۔۔

دیکھ لین آپکا داماد کتنا بے قرار ہے آپکو چودنے کے لئیے۔۔۔۔۔ٹھیک کہا تھا نہ میں نے۔۔۔۔؟؟؟

مہرین نے احمد جی طرف دیکھتے ہوئیے کہا۔۔۔۔۔

مجھے تو ج پتہ لگا ہے آخر میری بیٹی اتنا خوش کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ نے قہقہ لگایا۔۔۔۔۔

اور اسکو بھی کچھ ملا ابھی کے نہیں۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے ماہم کی طرف جا کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔

جی بلکل۔۔۔آپکی یہ لاڈلی ابھی اپنے بہنوئی کا لنڈ چوس کر فری ہوئی ہے۔۔۔۔۔مہرین نے ماہم کے نپل کومسلا۔۔۔۔۔

آئی ماما جی۔۔۔۔۔۔۔

ماہم نے اپنے نپل چھڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

دیکھیں آپی کو۔۔۔۔۔۔

بئی تم لوگباتیں ہی کروگے یاں میرےبیٹےکوکچھ خوش بھی کروگے۔۔۔۔۔

آسیہ نے اءمد کے پاس بیٹھ کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔۔ احمد مسکرا دیا۔۔۔۔۔

تھنیک یوسومچ مہرین۔۔۔۔۔۔

اس نےمہرین کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔

ماں جی آپ جان نہیں سکتیں میری کتنی بڑی خواہش تھی

آپ کو اور ماہم کو چودنے کی اورآج آپ دونوں ہی یہاں موجودہیں۔۔۔۔۔۔

میری جان آپ کے لئییے سب کچھ منظور ہے۔۔۔۔۔مہرین نے آگے بڑھ کر اسکے ہونٹوں کوچوما۔۔۔۔۔

شکریہ میری جان

احمد نے اسکوبانہوں میں بھر لیا۔۔۔۔۔

ہم دونوں جائیں پھر۔۔۔۔۔۔۔ ماہم نے شوخی سے پوچھا۔۔۔۔۔۔مطلب اگر آپ نے آپی کو ہی چمٹنا ہے تو۔۔۔۔۔۔

نہیں میری معصوم سی سالی صاحبہ۔۔۔۔۔۔آج آپ کو پھول بننانے کا دن ہے آپ کہیں نہیں جائینگی۔۔۔۔احمد نے آگے بڑھ کر اسکو اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔۔

مہرین۔۔۔۔۔

آسیہ نے آواز دی۔۔۔۔

جی ماما۔۔۔۔۔۔

احمد کو بتا دیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟

جی ماما۔۔۔۔۔۔

کیا۔۔۔۔؟؟؟؟ ماہم نے سوال کیا۔۔۔۔۔۔

یہ بیٹا جی کہ۔۔۔۔۔۔۔آج۔۔۔۔۔۔

کیا آج۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ ماہم نے تھورا حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔

یہ کہ آج میری بہن اپنے بھائی کو اپنی چوت کا تحفہ دے کر اسکی سالگرہ یادگاربنائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔مہرین نے ماہم کی ننگی کمر اور گانڈ سہلائی۔۔۔۔۔۔

ماما جی۔۔۔۔۔۔۔ماہم کتے گال شرم سے لال ہوگئے۔۔۔۔اس نے شرم سے ماں کو مدد کے لئیے پکارا۔۔۔۔۔۔۔۔

جی بیٹا۔۔۔۔۔۔آپی ٹھیک کہتی ہے ۔۔۔۔۔

آسیہ نے اسکی ننگی کمر سہلائی۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے بھائی نے آپکو کلی سے پھول بنانا ہے۔۔۔۔۔

آسیہ نے احمد کے لنڈ کو پکڑا اور اسکو ہاتھ میں پکڑ کر اسکی مؤٹائی اور لمبائی کو اپنی نظروں میں ناپا۔۔۔۔۔۔ گویا یہ دیکھ رہی ہو کی ماہم اسکو لے بھی پائیگی یاں نہیں۔۔۔۔۔ مہرین اسکی نظروں کا مطلب بھانپ گئی۔۔۔۔۔

ماں جی فکر نہ کریں۔۔۔۔۔یہ اتنا طاقتور ہے کہ ماہم کی ہر حسرت پوری کردے۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔آپکی بھی۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔۔۔۔آسیہ نے پوچھا۔۔۔۔۔۔

مطلب یہ ماما جی۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے آسیہ کی قمیض اوپر کو اٹھانا شروع کی۔۔۔۔۔۔ماہم بھی اسکا ساتھ دینے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔آسیہ اٹھکر کھڑی کوگئی

آسیہ نے کوئی مزاحمت نہ کی۔۔۔۔۔وہ بھی اس سب کا حصہ بننا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

کہ آج آپ ۔ہ صرف اپ اینی چھوٹی بیٹی کی چوت کھلتے دیکھینگی ۔۔۔۔۔۔۔بلکہ۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے اسکی۔قمیض اتار کر فرش پر پھینکی۔۔۔۔۔۔

آج۔۔۔۔۔۔آپکا داماد۔۔۔۔۔۔مہرین کے ہاتھ آسیہ کے ناڑے پر تھے ۔۔۔۔۔۔

آج احمد آپک برسوں کی خواہش بھی پوری کرینگے۔۔۔۔۔۔

آسیہ کا ناڑا ایک لمحے میں کھلا اور اسکی شلوار نیچے جا گری۔۔۔وہ سمجھ گئی تھی مہرین کیا کہ رہی ہے۔۔۔۔۔۔

اسکی برسوں کی خواہش۔۔۔۔۔۔۔گانڈ مروانا۔۔۔۔۔۔

مگر۔۔۔۔۔۔۔

اگر مگر کچھ نہیں ماں جی۔۔۔۔۔۔

آسیہ کو اپنی ننگی گانڈ پر احمد کے تنے ہوئے لنڈ لا احساس ہوا۔۔۔۔اسکےپیٹ پر ماہم ہاتھ پھیر رہی تھی جب کے مہرین اسکا برا کھولنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔

مجھے مہرین نے سب بتا دیا ہوا ہےکے کیسے آپکی بہت خواہش رہی ہے ہمیشہ سے پیچھے سےکروانے کی اور انکل نے کبھی نہیں کیا۔۔۔۔۔۔

میں آپکا بیٹا ہوں۔۔۔۔۔اور آپکی یہ خواہش پوری کرنامیرا فرض ہے۔۔۔۔۔۔

احمد نے اسکی ننگی کمر کو چومتے ہوئیے کہا۔۔۔

آسیہ نے آنکھیں بند کرلیں اور کچھ نہ بولی۔۔۔۔۔۔

شائد آج کا دن اسکی قسمت میں بھی اسکی حسرت پوری کرنے آیا تھا….وہ بھی اپنی بیٹوں کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں جی۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔۔اس نے خود کو تین ننگے جوان جسموں میں گھرا پایااس میں اسکی اپنی بیٹیاں۔۔۔۔ ماہم اور مہرین اسکے دونوں اطراف کھڑی تھیں۔۔۔۔اوراحمد۔۔۔۔۔اسکا داماد۔۔۔۔۔ اسکے سامنے ننگا اپنے تنے ہوئے لنڈ کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔۔کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ کسی روز یوں ننگی اپنی بیٹیوں کے سامنے کھڑی ہوگی۔۔۔۔۔۔اور اسکی چھاتیوں کو کالے دانے اپنے داماد کے لنڈ کو دیکھ کر کھڑے ہوجائینگے۔۔۔۔۔۔۔۔

جی بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔

احمد نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر آسیہ کا کاتھ تھاما اور اسکو اٹھا کر اپنے تنے ہوئیے لنڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔

ماں جی میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے موقع دیں اپنی حسرت کو حقیقت میں بدلنے کا۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔۔جانتے ہو۔۔۔۔۔۔یہ واقعی میری حسرت ہی تھی مگر سوچانہیں تھا کہ کبھی آپ کے سامنےننگی ہوجاؤنگی اس کی خاطر۔۔۔۔۔اب میر ی عمر نہیں بیٹا۔۔۔۔۔آپکے پاس ماہم ہے۔۔۔۔آپکی بیوی مہرین ہے۔۔۔۔۔ آپکو کیا لطف آئیگا مجھ سےبیٹا۔۔۔۔۔

ماں جی۔۔۔۔۔۔ آپکونہیں پتہ۔۔۔۔۔۔آپکی خواہش شایدسن کے میری بھی خواہش بن چکی ہے۔۔۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ آپکو چودوں اور آپکی گانڈ میں آنے والا پہلا اور اکلوتا لنڈ آپکے بیٹے کا ہو۔۔۔۔۔۔ اگرآپ واقعی مجھے اپنا بیٹا سمجھتی ہیں اور اس قابل سمجھتی ہیں تو ۔۔۔۔۔۔ اس لنڈ کوقبول کریں ماں جی۔۔۔۔۔۔احمد نے اسکی کے ہاتھ میں اپنا لنڈ دبایا۔۔۔۔۔۔

ماما۔۔۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں آج کے آپ کی خواہش پوری ہو۔۔۔۔۔۔ مہرین نے اسکی گالوں کوچومتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اور ماں جی میں چاہتی ہوں کہ آج رات نہ صرف ماہم۔۔۔۔۔۔بلکہ آپ بھی اپنی تسکین حاصل کریں۔۔۔۔۔ اسنے آگے بڑھ کر آسیہ کے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔۔۔ جو میرے لئیے اتنا خاص ہے میں چاہتی ہوں میری ماں کے لئیے بھی وہ خاص ہو۔۔۔۔

احمد نے محسوس کیا کہ اس کےلنڈ کے گرد آسیہ کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہو رہی تھی۔۔۔۔۔

اءمد نے ماہم کو اپنے پاس بلایا

مہرین اپنی ماں کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لئیے چوسرہی تھی۔۔۔۔آسیہ کا ہاتھ احمد کے لنڈ کو دبا رہا تھا اور ماہم کے ہونٹ احمد کے ہونٹوں کو چوس رہےتھے۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے اپنی ماں کے ہونٹوں کو چومنا چھوڑ کر ایک نظراحمد اور ماہم کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔

اسے آج اک عجب سکون مل رہا رھا۔۔۔۔

اس نے ماہم کو احمد سے الگ کیا اور خود آگے بڑھ کر احمد کے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔۔۔۔۔

مالک۔۔۔۔۔ اس نے احمد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئےکہا۔۔۔۔۔

میری ماں آپکی منتظرہے۔۔۔۔۔اسکی پیاس بجھا دیں۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھوں نے احمد کے تنے ہوئیے لنڈ کو سہلایا۔۔۔۔۔۔

احمد نے قدم آگےبڑھائے اور آسیہ کے سامنےجا کھڑا ہوا۔۔۔۔ آسیہ کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے اس نے آسیہ کی کمرکے گرداپنےبازولپیٹ لئیے۔۔۔۔۔۔

احمد کی زبان آسیہ کے منہ کا طواف کرنے لگی اور ان دونوں کے ہاتھ ایک دوسرےکی ننگی کمر کو سہلانے لگے۔۔۔۔

مہرین نے ماہم کو اشارہ کیا۔۔۔۔ماہم نے پیچھے سے جا کر اپنی ننگی چھاتیاں احمد کی ننگی کمر پر اپنی ماں کے ہاتھوں پر رکھ دیں اور مہرین نے یہی کام آسیہ کے پیچھے جا کر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

عجب سکون مل رہا تھا اسے…..اپنی ماں کی حسرت کو حقیقت میں بدلتا دیکھ کر۔۔۔۔۔۔

احمد نے آسیہ کوخود سے الگ کیااور اسے دیکھ کرمسکرایا۔۔۔۔۔

ماں جی۔۔۔۔۔بیڈ پرچلیں …..

وہ آسیہ کو لیکر بیڈ کی طرف آیا۔۔۔۔۔

جھک جائیں۔۔۔۔۔۔ اسنے آسیہ کی کمر کوبیڈکی طرف جھکایا۔۔۔۔آسیہ نے دونوں ہاتھ بیڈ پررکھےاوربیڈ پر جھک گئی۔۔۔۔۔

احمد نے ہاتھ سے اسکی کمر کوجھکایااور اسکی گانڈ باہر نکال کربولا۔۔۔۔۔تھوڑا گانڈ باہر نکالیں ماں جی۔۔۔۔

آسیہ احمد کے مطابق گانڈ باہر نکال کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔۔

مہرین اور ماہم بہت دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔۔

مہرین۔۔۔۔۔۔

جی میری جان۔۔۔۔

مہرین احمد کا اشارہ سمجھ گئی۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھ کر وہ اپنی ماں کے پاس گئی ۔۔۔۔۔۔گھٹنوں کے بل بیٹھ کراسنے اپنی ماں کے چوتڑ الگ کئیے اور اسکی گانڈ کا سوراخ کھولکر اس پر اپنی زبان رکھدی۔۔۔۔۔آسیہ کے جسم نے ایک جھجھری لی۔۔۔۔۔

ماہم۔۔۔۔۔

احمد نےماہم کو اشارہ کیا۔۔۔۔۔

ماہم اس کےپاس آئی تواحمد نے اسکےبالوں سے پکڑ کر اسے اپنے پاس کھینچا اورنیچے جھکا دیا۔۔۔۔۔۔

سالی جی آپ بھی کچھ کریں یاں آپ بس اپنی ماں کی چدائی ہی دیکھنے آئی ہیں۔۔۔۔۔۔

جی بھائی کیوں نہیں۔۔۔

ماہم گھٹنوں کےبل بیٹھ کر احمد کے پھڑکتے لنڈ کو منہ میں لیکرچوسنےلگی۔۔۔۔۔۔

ایک طرف مہرین آسیہ کی گانڈ چاٹ کر احمد کےلنڈ کا راستہ نرم کر رہی تھی دوسری طرف ماہم پورے شوق سے احمد کالنڈ چوس کر اپنی ماں کی گانڈ میں ڈلوانے کے لئیے اسے بھگو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

مہرین۔۔۔۔۔

احمد نے مہرین کو آواز دی جس پر وہ اٹھ کر اسکے پاس آئی۔۔۔۔

ماہم کو جنوں سے احمد کالنڈ چوستا دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی اور اس نے اسکے بالوں کوسہلایا۔۔۔۔۔۔۔

جی میری جان اب بتائیں اب کیا حکم ہے۔۔۔۔۔ اس نے فخریہ انداذ سے احمد کے سینے کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔

لنڈ کو خوداپنی ماں کی گانڈ میں نہیں اترواؤ گی؟؟؟؟؟

کیوں نہیں میری جان۔۔۔۔۔

ماہم اٹھو۔۔۔۔۔ مہر ین نے ماہم کو اٹھایا۔۔۔۔۔

لگتا ہے بھائی کا لنڈ ذیادہ ہی پسندآ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

آپی لنڈ ہے ہی اتنا مست دل ہی نہیں بھرتا۔۔۔۔۔۔ ماہم نے مہرین کی چھاتی پر ہاتھ پھیرتے ہوئیے کہا۔۔۔۔۔۔

فکرنہ کرومیری جان۔۔۔۔۔آج تمہارے اندر بھی جاکرتمہاری آگ بھی بھجا دیگا۔۔۔۔۔ مہرین نے اسکی چوت سہلاتے ہوئے کہا۔۔۔

۔آپی آپ بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہم نے شرما کر سر جھکا دیا۔۔۔۔۔۔

احمد جان۔۔۔۔۔۔چلیں۔۔۔۔۔۔۔

مہرین احمد کالنڈ پکڑ کر آگے بڑھی اور اپنی ماں کی گانڈ کےپاس جاکر ایک بار دوبارہ اسکے چوتڑ کھولے۔۔۔ اپنی ماں کی گانڈ کے سوراخ پر لنڈ کا ٹوپہ رکھ کراسنےاسکےاوپر تھوکا۔۔۔۔۔

ماہم سب کچھ بے حد شوق سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی اپنی ماں اور بہن کے سامنے ننگا ہوکر بہنوئی کو اپنی ہی ماں کو چودتے دیکھنا۔۔۔۔۔روز روز کہاں اور کسکو نصیب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔

ماں جی۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد نےآسیہ کو آواز دی۔۔۔۔۔

جی بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ نےگردن موڑ کردیکھا۔۔۔۔۔ اسے لنڈ کا ٹوپہ اپنی گانڈ کومے سوراخ پر بہت اچھی طرح محسوس ہورہا تھا۔ ۔۔۔۔۔

تیار ہیں ماں جی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

جی بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ نےمسکرا کر اسکو دیکھا۔ ۔۔۔۔۔اپنی دونوں بیٹیوں کو خود کو دیکھتے ہوئے پایا۔۔۔۔۔ اپنی داماد کالنڈ اپنی چوت پرمحسوس کرنا۔۔۔۔۔۔ اپنی ایک حسرت کی تکمیل ۔۔۔۔۔۔

ویسے بھی کھڑے لنڈ کو کون انکار کرتا ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔

ایک عجب مدہوش کن احساس تھا۔۔۔۔۔

آسیہ نےگردن جھکا دی۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے احمد کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔وہ مسکرادیا۔۔۔۔۔۔۔

ایک دھکا۔۔۔۔۔۔

لنڈ آسیہ کی کنواری گانڈ کی گہرائی میں اترتاگیا۔۔۔۔۔۔ایک زوردار سسکی۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دھکے کے ساتھ احمد کا لنڈ آسیہ کی گانڈ کی گہرائیوں میں اترتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔

آہ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے تڑپ کر خود کو ہٹانا چاہا مگر احمد نے اسے اسکے کولہوں سے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی نہ ہل سکی۔۔۔۔۔

بس ماں جی ابھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ احمد نے اسکو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

احمد نے مہرین کو اشارہ کیا۔۔۔۔۔مہرین بیڈ پر جا کر ماں کے پاس بیٹھ گئی اور اسکے بالوں کو سہلانے لگی۔۔۔۔۔۔آسیہ کی گردن ابھی جھکی ہوئی تھی…..

احمد نے آہستہ آہستہ آسیہ کی گانڈمیں اپنا لنڈ ہلانا شروع کیا۔۔۔۔۔ ماہم بہت غور سے اپنی ماں کی گانڈ میں لنڈ کا آنا جانا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ دھکوں کی رفتار تیز ہوتی گئی۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا۔۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔۔۔آرام سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ کےمنہ سے سسکیوں کا سلسلہ جاری تھا۔۔۔۔۔

پہلی بار گانڈ میں لینا کسی بھی عمر میں کسی بھی عورت کی لئیے آسان نہیں۔۔۔۔۔آسیہ کو اندازہ ہو چکا تھا۔۔۔۔

مہرین کا ہاتھ اب آسیہ کی ننگی کمر کوسہلا رہا تھا۔۔۔۔۔

آسیہ نےنظریں اٹھ کر مہرین کودیکھا۔۔۔۔۔۔ مہرین اپںنی ماں کی نظروں میں چھپی لذت اورتشکر کو دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔۔ اپنی ماں کےلئیے کچھ کرنا وہ بھی ایسا۔۔۔۔۔اسکوالگ ہی مزہ دے رہاتھا۔۔۔۔۔۔۔

ماما جی آئی لو یو۔۔۔۔۔۔ بس مزہ لیں آپ۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے آسیہ کےماتھے کو چوما۔۔۔۔۔

آسیہ نےجواب نہ دیابس مسکرا دی اور مہرین کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔۔

مہرین بھی جانتی تھی آسیہ کی دل کی مراد پوری ہوگئی تھی۔۔۔۔۔

احمد کے دھکوں کی رفتار تیز ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ ماہم اب احمد کے ساتھ جڑ کرکھڑی تھی۔۔۔۔۔۔

احمد کا ایک ہاتھ آسیہ کی گانڈ کوسہلارہا تھا دوسرا ساتھ کھڑی ماہم کی گانڈ کو۔۔۔۔۔۔۔

ماہم کے لئیے تویہ سب ایک الگ ہی دنیاتھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے احمد کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم نے ہولے سے اسے پکارا۔۔۔۔۔۔۔

ہاں ماہم۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد نے اسکی ماں کی گانڈ کی کھدائی جاری رکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔

بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بھی آپکو محسوس کرنا ہے خود میں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے ساتھ ہی ماہم احمد کے سینےسے لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

بلکل کروگی۔۔۔۔۔۔ احمد نے اسکی چھاتی مسلتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری اماں کی گانڈ کے بعد تمہاری چوت کی ہی باری ہے میری لاڈلی سالی جی۔۔۔۔۔۔۔ احمد ںے ایک زور کا دھکا لگایا اور ساتھ ہی ماہم کا نپل مسل دیا

آہ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ نے ایک سسکی لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔ احمد کے جوان لنڈ نے اسکو کچھ ہی منٹوں میں تھکا ڈالا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

ماں جی ابھی نہیں۔۔۔۔۔۔ احمد کےدھکوں کی رفتار تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ سسکی لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔ ایسامزہ آج تک نہیں ملا کہیں۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔۔

احمد نے آسیہ کے چوتڑ پر

زور سےتھپڑ مارا۔۔۔۔۔۔۔

ملنا بھی نہیں میری جان من ساسو ماں جی۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد نے اسکی گانڈ پر ایک اور تھپڑ تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔بیٹا۔۔۔۔۔۔۔آسیہ سسکی۔۔۔۔۔۔۔

ماہم کا ہاتھ احمد کے بالوں بھرے سینے کو سہلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ کے لئیے احمد کا روپ حیران کن مگر بے حد کمال تھا۔۔۔۔۔ اس جنونی انداز سے وہ اسکی گانڈ چود رہا تھا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں ایک جوان لنڈ اسکی سب حسرتیں پوری کردیگا وہ بھی اسکے اپنے داماد کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہرین۔۔۔۔ ماہم کوتیارکرو۔۔۔۔۔۔

احمد نے اپنی کاروائی جاری رکھی۔۔۔۔۔۔ اسکا لنڈ آسیہ کی گانڈ کی گہرائیاں ماپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

ایک اور تھپڑ۔۔۔۔۔۔

آسیہ کی گانڈ احمد کے ہاتھ کےنشان سےلال ہوگئی تھی۔۔۔۔۔

ایک اور سسکی۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس عمر میں ماں کو کس کام لگا دیا ہے بیٹا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔۔۔۔آسیہ اس وقت لطف کے عروج پر تھی۔۔۔۔۔۔۔ مہرین بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ جاؤبہن کو تیار کرو۔۔۔۔۔۔میری بس ہونے لگی ہے۔۔۔۔۔۔ آسیہ نےمہرین کو دیکھتے ہوئیے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہم۔۔۔۔۔۔یہاں آؤ۔۔۔۔۔۔ مہرین نے ماہم کو پاس بلایا اور ماں کے ساتھ بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔۔۔

اسکی ٹانگیں کھول کر وہ انکے درمیان جابیٹھی۔۔۔۔۔۔۔

احمد نے ہاتھ آگے بڑھا کر آسیہ کے بال پکڑے اور اسے بالوں سے پکڑ کر پیچھے کھینچا۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آرام سے۔۔۔

اسکی ڈھلتی عمر کی گانڈ اس جون لنڈ کے سامنے ہار بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے نظر اٹھا کرماہم کودیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی چھوٹی بیٹی کے جوان ہونےکا وقت آگیا تھا۔ ۔۔۔۔ اس نے ہاتھ ماہم کی چھاتی پر رکھا اور اسکوسہلا کر مسکرادی۔۔۔۔۔

ماہم نے آگے بڑھ کر اسکےہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔۔۔

مہرہن نےماہم کی تازہ ملائم چوت پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔اور آگے بڑھ کر اسکی بھیگی چوت کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔۔۔۔۔۔ اپنی بہن کی چوت کو اپنے شوہر کے لنڈ کے لئیے تیار بھی تو کرنا تھا

اسی لمحے ایک اورتھپڑآسیہ کی گانڈ کولال کرگیا۔۔۔۔۔۔۔

مہرین کی زبان ماہم کی چوت میں داخل ہونے لگی

آہ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔

آہ آپی۔۔۔۔۔۔۔

کمرہ بےیک وقت ماں اور بیٹی کی سسکی سے گونج اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں ماں بیٹی کی نشے میں ڈوبی سسکیاں اس ماحول کو اور بھی گرما رہی تھیں۔۔۔۔۔۔

آہ آپی ۔۔۔۔۔۔۔ ماہم نے مہرین کے سر کو دبا کر اپنی چوت میں دفن کرنا چاہا۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔بیٹابس اب۔۔۔۔۔۔۔۔نہ اپنی ماں پر اتناظلم کرو کہ دوبارہ چلنے کےقابل بھی نہ رہوں۔۔۔۔۔۔۔

جو حکم ماں جی۔۔۔۔۔۔۔

احمد نے ایک طاقتورآخری دھکا لگاکر آسیہ کی گانڈ سے اپنا لنڈ بارنکالا۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ ایک گہرا سانس لے کر بیڈ پر گرگئی۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد نےمہرین کو دیکھا جو ماہم کی چوت چوسنے میں اوراسےتیار کرنےمیں مصروف تھی۔۔۔۔

مہرین کی زبان اوپر سے نیچے تک ماہم کی ہلکی ہلکی بالوں سے بھری چوت کو چاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اور ماہم کی تڑپ اس کے چہرے پر واضح تھی۔۔۔۔۔

اسے بے حد پیار آرہا تھا اس پر۔۔۔۔۔۔کیسے اس نے اسکی سالگرہ کو یادگاربنا دیا تھا۔۔۔۔۔۔اپنی ماں اور بہن کو اسکے سامنے پیش کر کے اپنی محبت کا ثبوت دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نےبالوں سے پکڑ کر اسے اوپر اٹھایا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ کرماہم کی چوت کا رس چکھنے لگا۔۔۔۔۔ کیا عجب لطف تھا۔۔۔۔۔۔ بیوی کے ہونٹوں سے سالی جی چوت کا رس۔۔۔۔۔۔۔۔

بیڈ پر آسیہ اورماہم پھولی سانسوں کے ساتھ لیٹی تھیں۔۔۔۔۔

احمد اور مہرین نے مڑکر انکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔

چاروں کے چہروں پر اطمینان تھا۔۔۔۔ سب کو اپنی اپنی منزل مل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

ماہم۔۔۔۔۔۔۔ تیارہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

مہرین نے اسکےہونٹ چومتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

جی آپی۔۔۔۔۔۔ماہم کی نشےمیں ڈوبی آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔

ماما جی۔۔۔۔۔۔مکرین نے ماں کواشارہ کیا جووہ سمجھ گئی اور ماہم کےقریب آکر اسکی چھاتیاں سہلانے لگی……

احمد ماہم کے پاس آیا اور اسکی ٹانگیں کھول کر اپنے لنڈ کا ٹوپہ اسکی چوت کے دانے پر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔ مہرین بھی بیڈ کے دوسری طرف جاکرماہم کے ساتھ بیٹھ گئی اوراپنے ہونٹ اپنے بہن کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے ایک نظر احمد کو دیکھا۔۔۔۔۔۔ دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔۔۔۔ آسیہ کی نظروں میں وہ پیغام تھا جسکا احمد کوانتظار تھا ۔۔۔۔

وقت آ چکا تھا۔۔۔۔۔۔ کلی کے پھول بننے کا۔۔۔۔۔۔۔

احمد بیٹا۔۔۔۔۔۔میری دوسری بیٹی بھی تمہارے اس شاندار لنڈ کے حوالے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دھکا۔۔۔۔۔۔۔

ایک سسکی۔۔۔۔۔۔۔

ماہم کا جسم تڑپ اٹھا۔۔۔۔۔۔ احمد کا لنڈ اسکی چوت کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔ماما۔۔۔۔۔۔۔ ماہم سسکی۔۔۔۔۔۔۔

مہرین نے مضبوطی سے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں تھام لیا ۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے اسکا پیٹ اور چھاتیاں سہلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ آسیہ نے اسکی چھاتی چومتے ہوئیے کہا۔۔۔۔۔ ابھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔۔۔۔ اور احمد کی طرف دیکھ کرمسکرا دی۔۔۔۔۔۔۔

احمد کا لنڈ ماہم کے کنواری چوت کے خون میں رنگ چکا تھا۔۔۔۔۔۔

اف۔۔۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔ میں مر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہم کا جسم دوسرا جھٹکا بھی نہ سہ پایا۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد نے اپنا لنڈ جڑ تک اسکی چوت میں دفنا دیا تھا۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماما جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔آسیہ نے اسکے گالوں کو چومتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

بیٹا جی لنڈ لینے کا شوق ہو نہ تو ہمت بھی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ مہرین نے اسکے نپل کو چھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

آپی تم تو دفعہ ہی ہو جاؤ۔۔۔۔ پہلی بار ماہم کا چہرہ بھی کھلا تھا۔۔۔۔۔

اچھا جی۔۔۔۔۔مہرین نے بیڈ سے اٹھتتے ہوئیے کہا۔۔

احمد کے لنڈ نے اب آہستہ آہستہ اپنی حرکت تیز کرنی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔

آہ ماما جی۔۔۔۔۔۔ آسیہ کی ہونٹ ماہم کی چھاتیوں کو باری باری چوس رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ کبھی بچپن میں ماہم۔آسیہ کی چھاتیاں چوس کر دودھ پیتی تھی اور آج آسیہ اپنی بیٹی کی چھاتیاں چوس کر اسکی جوانی چکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ احمد کے دھکوں کی تیزی شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جان خون میں لپٹا لنڈ کنواری چوت کو فتح کرنے کے بعد اب اس کی کھدائی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

مہرین احند سے لپٹی مسلسل اسکے ہوںٹوں کو چوس رہی تھی اور اسکے ہاتھ مسلسل احمد کے سینے اور پیٹ کو سہلا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ بیچ بیچ میں وہ اپنی بہن کو بھی دیکھتی جاتی جو اسوقت کھل کر پھول بن چکی تھی۔۔۔

کتںا کمال کا منظر تھا۔۔۔۔۔۔ اسکی ننگی ماں اسکے شوہر سے گانڈ کھلوانے کے بعد اب اسکی جان چھوٹی بہن کی ہلتی ہوئی چھاتیاں چوس رہی تھی ۔۔۔۔۔ اور اسکی لاڈلی چھوٹی بہن اسکے شوہر کی لنڈ سے سیراب ہو رہی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ نیچے بڑھایا اور احمد ک لنڈ کو جڑ سے پکڑ کر روک لیا۔۔۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔۔۔۔

احد نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔

کچھ نہیں جان۔۔۔۔۔۔۔بس دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔میرے مالک کا لنڈ۔۔۔۔۔۔ اور شکر کر رہی تھی۔۔۔۔

مہرین نے اسکے لنڈ پر ہاتھ پھیر کر اسکی سہلایا اور اس کے ٹوپے پر تھوک کر اسکو دوبارہ ماہم کی چوت کے دانے پر رکھ دیا۔۔۔۔۔ ماہہم کی چوت لال ہو چکی تھی۔۔۔۔۔

ایک اور دھکا اور لنڈ دوبارہ جڑ تک اسکی چوت میں۔۔

آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماما جی۔۔۔۔۔۔مممممممم

مزہ اب ماہم بھی لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔اور لیتی بھی کیوں نہ؟ ایسا لنڈ اور ماحول کب کسی کو ملتا ہے۔۔۔۔۔

مہرین کی نظرہں مسلسل اپںنی ماں کے ننگے جسم کی طرف تھیں۔۔۔۔۔۔ خاص کر اسکی ماں کی گانڈ کی طرف۔۔۔۔۔۔ ایک عجب کشش نظر آرہی تھی اسکو اس گانڈ میں۔۔۔۔۔وہ اپنی ماں کے پاس بیٹھ گئی اور اسکی گانڈ کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔

ماں جی۔۔۔۔۔ احمد نے آواز لگائی۔۔۔۔۔

جی بیٹا۔۔۔۔آسیہ نے ماہم کا نپل منہ سے نکال کر جواب دیا ۔۔۔۔۔

اسکا لنڈ ماہم کی کھدائی میں مصروف تھا۔۔۔۔۔

گھوڑی بنیں ماں جی اور اپنی اس لاڈلی ماہم کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیں ۔۔۔۔۔

گھوڑی کیوں بیٹا جی۔۔۔۔۔ آسیہ نے چوںک کر پوچھا۔ اسے لگا شاید احمد دوبارہ اسکی گانڈ میں آنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ چاہتی وہ بھی تھی مگر ابھی ہمت نہیں تھی۔۔۔۔۔

جو کہا وہ کریں ماں جی۔۔۔۔۔۔ دوبارہ سوال کیا تو یہ لنڈ گانڈ پھاڑ کر منہ سے باہر ںکال دونگا۔۔۔۔۔۔ گھوڈی بنیں۔۔۔۔۔۔

آسیہ کو احمد کا یہ انداز ہت اچھا لگا۔۔۔۔۔۔ حاکمانہ۔۔۔۔۔ جی میرے مالک۔۔۔۔۔ اس نے مہرین کے اندازمیں بولا۔۔۔۔ اچھا لگا تھا اسکو کہ اس پر حکم چلایا گیا ہے یوں۔۔۔۔۔ آسیہ دونوں گھٹنے اور کہنیاں بیڈ پر رکھ کر گھوڈی بن گئی۔۔۔۔۔۔اور منہ ماہم کے منہ پر رکھدیا۔۔۔۔۔

گانڈ تھوڑا باہر۔۔۔۔۔۔ احمد کی کڑک دار آواز آئی۔۔۔۔۔

آسیہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گانڈ کو باہر کی طرف نکال دیا۔۔۔۔۔۔

مہرین۔۔۔۔۔۔۔ انجوائے میری جان۔۔۔۔۔۔ احمد نے مسکرا کر مہرین کو دیکھا۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھ کی تھی احمد نے یہ سب اس کے لئیے کیا ہے۔۔۔۔۔

لو یو میرے مالک۔۔۔۔۔۔مہرین نے مسکرا کر کہا اور آسیہ کے چوتڑ کھول کر ایک گہرا سانس اندر کو کھینچا۔۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے مالک اور اسکی ماں کی چدائی کی تازہ خوشبو۔۔۔۔۔۔۔

اس کی زبان بے ساختہ باہر نکلی اور النی ماں کی گانڈ کے سوراخ پر ٹک گئی۔۔۔۔۔۔ آہستہ سے اوپر سے نیچے تک اسکی زبان اپنی ماں کی گانڈ کاسوراخ اور اسکی دڑاڑ چاٹنے لگی۔۔۔۔۔۔۔

آسیہ کی زبان ماہم کے منہ میں تھی۔۔۔۔۔اور ماہم کی چوت میں احمد کا لنڈ۔۔۔۔۔۔

مہرین کو آسیہ کی گانڈ سے اپنے مرد کے لنڈ کا زائقہ آرہا تھا۔۔۔۔۔۔اسکی زبان تھوڑا نیچے گئی تو آسیہ کی بھیگی چوت کا رس ٹپکتاہوا ملا۔۔۔۔۔۔۔بالوں سے بھری چوت کا ٹپکتا نمکین رس۔۔۔۔۔وہ بھی اپنی ماں کا۔۔۔۔۔ کسی خوشنصیب بیٹی کو ہی ملتا ہوگا۔۔۔۔۔ مہرین نے زبان بڑھاکر اسکو بھی چوس لیا۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔آسیہ نے سسکی بھری۔۔۔۔۔۔۔ اپنی چوت پر بیٹی کی زبان کا لمس اسکو بھی مزہ دے گیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہرین۔۔۔۔۔۔۔احمد کی آواز گونجی۔۔۔۔سیدھی ہو جاؤ……

مہرین سمجھ گئی کہ اب وقت آگیا ہے آخری جھٹکے کا۔۔۔۔ ماہم اور آسیہ نے بیڈ پر جگہ بنائی اور مہرین ان دونوں کے درمیان لیٹ گئی۔۔۔۔ احمد نے اسکی ٹانگیں کھولیں اور لنڈ اسکی چوت پر تھپتھپایا۔۔۔۔۔

آسیہ نے مہرین کی چھاتیاں سہلائیں۔۔۔۔ ماہم بھی بہن کے پاس آگئی۔۔۔۔۔

مہرین کی بھیگی چوت پر اسکے شوہر کا لنڈ دستک دے رہا تھا۔۔۔۔۔جو اس تک آج سہدھا نہیں آیا تھا بلکہ اسکی ماں کی گانڈ اور بہن کی چوت کا افتتاح کر کے آیا تھا۔۔۔

ایک جھٹکے کے ساتھ لنڈ اسکی چوت میں جڑ تک اتر گیا۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔جان۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔۔۔

آسیہ نے مہرین کو مسکرا کر دیکھا۔۔۔۔۔

کتنی جوان لگ رہی تھی وہ۔۔۔۔۔

ماہم بھی اب بہت بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ہر جھٹکے کے ساتھ اپنی آپی کی ہلتی چھاتیاں دیکھنا کسی لطف سے کم نہ تھا۔۔۔۔اس نے جھک کر مہرین کی چھاتی کو منہ میں لی کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔

لنڈ رفتار پکڑ چکا تھا۔۔۔۔۔۔ آج تو اسکا کڑاامتحان ہوا تھا۔۔۔۔۔ایک نہیں دو نہیں۔۔۔۔تین تین جگہ۔۔۔۔۔۔۔ چند جھٹکوں کی بعد ہی احمد کو اندازہ ہو گیا کہ اب منزل قریب ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس نے لنڈ مہرین جی چوت سے باہر نکالا اور ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک۔۔۔۔۔

دو۔۔۔۔۔۔

تین۔۔۔۔۔

منی کے گرم دھاریں مہرین کے ننگے سینے اور چھاتیوں پر جا گریں۔۔۔۔۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد نر اپنے لنڈ کا آخری قطرہ تک نکال کر اسکے اوپر چھڑک دیا۔۔۔۔۔۔

آسیہ لطف کے ساتھ اور ماہم دلچسپی سے اس بارش کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

کمال بیٹا جی۔۔۔۔۔۔

آسیہ نے احمد کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔

آج تو مزہ آگیابھائی۔۔۔۔۔۔۔

ماہم نے بھی مہرین کے نپلزپر احمد کی منی کے قطروں کو ملتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

مزے کی بچی۔۔۔۔۔ اسکو چوسو اور چاٹ کر صاف کرو تمہارا مزہ میں نکلواتی ہوں۔۔۔۔۔۔مہرین نے اپنی چھاتیوں پر پڑی منی کی طرف کہا۔۔۔۔۔۔

کیوں نہیں آپی۔۔۔۔۔۔۔

اہم نے شوق سے آگے بڑھ کر اپنی بہن کے پیٹ اور چھاتیوں کو صاف کرنا شروع کیااپنی زبان سے۔۔۔۔۔۔

آپ کہاں چلدیں مام جی۔۔۔۔۔۔ آسیہ اٹھنے لگی تو مہرین نے اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا۔۔۔۔۔

جا کر اپنے لاڈلی بیٹے کے لنڈ کو صاف کریں۔۔۔۔۔۔۔

کیوں نہیں بیٹا جی۔۔۔۔۔ابھی لو۔۔۔۔۔۔ آسیہ نے احمد کے لنڈ کو پکڑ کر سہلایا اور اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگی۔۔۔۔۔۔

اس لنڈ سے اپنی گانڈ اور دونوں بیٹیوں کی چوت کا ذائقی چکھتے ہوئے اسکے ذہن میں بس ایک ہی بات تھی۔۔۔۔

اسکو بھی دوبارہ خود کو جوان کر دینے والا لنڈ مل گیا تھا۔۔۔۔۔

ختم شد


The post سالگرہ کا تحفہ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b3%d8%a7%d9%84%da%af%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ad%d9%81%db%81/feed/ 0
بھائی کے ساتھ پکڑی گئی https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%be%da%a9%da%91%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%be%da%a9%da%91%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c/#respond Sat, 23 Aug 2025 15:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%be%da%a9%da%91%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c/   ھیلو دوستو میرا نام امبر تسکین ھے۔ میں بہت خوبصورت ھوں۔ اور گوری چٹی ھوں۔ میرے بڑے ممیں ہیں۔ اور کیوٹ سی چوت ھے۔ اور پلی ھوئی گانڈ ھے۔ تو دوستو۔ میرے تین بھائی ہیں۔ دو میرے سگے بھائی ہیں۔ ایک مجھ سے بڑا ھے اس کا نام عثمان ھے اور ایک مجھ سے […]

The post بھائی کے ساتھ پکڑی گئی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


ھیلو دوستو میرا نام امبر تسکین ھے۔ میں بہت خوبصورت ھوں۔ اور گوری چٹی ھوں۔ میرے بڑے ممیں ہیں۔ اور کیوٹ سی چوت ھے۔ اور پلی ھوئی گانڈ ھے۔ تو دوستو۔ میرے تین بھائی ہیں۔ دو میرے سگے بھائی ہیں۔ ایک مجھ سے بڑا ھے اس کا نام عثمان ھے اور ایک مجھ سے چھوٹا ھے اس کا نام عمر ھے۔ اور سوتیلا بھائی ھم سے چھوٹا ھے اور اس کا نام اسلم ھے۔ لیکن وہ بھی جوان ھے اور پاپا کی دوسری بیوی کا بیٹا ھے۔ جب پاپا کی بیوی گزری۔ تو پاپا اسلم کو گھر لایا۔ تو مما پاپا کو ڈانٹنے لگی۔ تو پاپا نے کہا اسلم کو اپنے ساتھ اپنے بستر میں استعمال کیلئے رکھو چاھو تو اسلم کو بستر میں میرے سامنے بھی استعمال کر سکتی ھو۔ مما یہ سن کر خوش ھو گئی۔ کیونکہ مما بہت چداکڑ تھی۔ مما تو میرے دادا سے بھی چدائی کرتی تھی۔ جب مما کا دیور یعنی میرا چاچو آتا مما تو پاپا اور اپنے دیور کے ساتھ مل کر چدائی کرتی۔ پھر مما اسلم کو اپنے ساتھ سلاتی اور چدائی کرتی اور اسلم کا ھم سب سے زیادہ خیال رکھتی اور مما کبھی کبھی روم سے نگی باہر آ جاتی جسے عثمان اور عمر بھی دیکھتے تھے۔ سوچو مما ایسی ھے تو پھر میں کیسی ھونگی۔ کیوں کے میرے اندر مما کا خون تھا اور میرے دو بھائی عثمان عمر اور میں مما کی گرم چوت سے نکل کر آئے وہ چوت جسے ہر لن لینے کا شوق رکھتی تھی۔ پاپا بھی مما کی چُوت کا بہت خیال رکھتے تھے اس لیئے تو مما کی چدائی کیلئے پاپا اسلم کو لائے تھے۔ اور پاپا بھی ساتھ میں چدائی کرتا پاپا مما کی چوت کا غلام تھا اور مما سے بہت پیار کرتا تھا۔ مما اپنے روم میں ننگی رہتی اور اسلم کو بھی نگا رکھتی اور مما کے روم کا ڈور میں نے زندگی میں کبھی بھی لاک نہیں دیکھا اس لیئے ھم مما کی شروع سے چدائی دیکھتے آرھے تھے۔ عثمان کا روم الگ تھا۔ میرا اور عمر کا ایک روم تھا اور ایک بیڈ تھا۔ میں اور عمر ایک چادر میں سوتے تھے۔ میری نسوں میں بھی مما کا گرم خون تھا اور میرے دو بھائیوں کی نسوں میں بھی مما کا گرم خون تھا اور یہ گرم خون آخر مجھے بھی مست کرنے لگا۔ تو ایک رات میں نے عمر سے کہا عمر ھم سیکس کریں تو عمر نے کرنے کو کہا میں اور عمر چمہ چٹی کرنے لگے اور ھم نگے ھوکر مست ھو جاتے مجھے اور عمر کو بہت مزہ آتا۔ میں عمر کے لن کو چوس کر لن کا پانی نکال کر نگل جاتی اور عمر میری چوت کو چاٹ چاٹ کر میری چُوت کا رس نکال دیتا مجھے بہت مزہ آتا اور میری چُوت کا سارا رس چاٹ چاٹ کر نگل جاتا۔ پھر ایک رات کو عمر کے لن سے اپنی چوت کی سیل کھلوائی مجھے درد تو بلکل نہیں ھوا۔ پر بیڈ کی چادر میری چوت کے خون سے بھر گئی۔ پھر میں اور عمر روز چدائی کرتے۔ ایک بار مما کے روم گئی تو مما اسلم کے لن کو اپنی گانڈ میں لے کر چدائی کروا رھی تھی اور اسلم بڑی اسپیڈ سے مما کی چدائی کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے بھی رات کو عمر کے لن کو اپنی گانڈ میں لےکر گانڈ کی سیل کھلوائی۔ اس کے بعد عمر جب چدائی کرتا تو مجھے پاگل کر دیتا اب میں بھی مما کی طرح ھو گئی۔ پھر عمر نے عثمان کو بتایا کے میں اور تسکین چدائی کرتے ہیں۔ پھر رات کو میں اور عمر نگے چدائی کر رھے تھے تو عثمان اندر آیا اپنے کپڑے اتار کر میری چدائی کرنے لگا۔ پھر ساری رات دونوں میری چدائی کرتے رھے۔ مجھے تو بہت مزہ آیا۔ لیکن عثمان جلدی فارغ ھو جاتا تھا اس لیئے عثمان کے ساتھ مجھے مزہ نہیں آتا تھا۔ پر عمر تو فارغ ھونے کا نام بھی نہیں لیتا تھا۔ اور عمر چدائی بھی زبردست کرتا تھا۔ اسلیئے مجھے عمر کے ساتھ بہت زیادہ مزہ آتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ مما کہیں گئی ھوئی تھی تو میں نے اسلم سے بھی چدائی کی تو اسلم تو عمر سے بھی زیادہ چدائی کرتا۔ اسی طرح میں عمر اور عثمان کے ساتھ چدائی کرتی اور اسلم کے ساتھ کبھی کبھی موقعہ ملتا۔ پھر اس بات کا مماپاپا کو پتا چل گیا لیکن ہمیں منع نہیں کیا۔ صرف مجھے اسلم کے ساتھ چدائی کرنے کو منع کیا۔ لیکن میں پھر بھی اسلم سے چدائی کر لیتی۔ پھر ایک بار ایسا ھوا کے پاپا بمار پڑ گئے۔ اور مما جب اسلم کے ساتھ مصروف ھوتی تو پاپا کی وجہ سے مما ڈسٹرپ ھوتی۔ تو مما نے پاپا کو دوسرے روم میں شفٹ کر دیا۔ پھر کچھ دن بعد ایک رات مما نے مجھے تیل دے کر کہا اپنے پاپا کے کپڑے اتار کر جسم کی مساج کرنا پھر کپڑے نہ پہنانا ورنہ کپڑے خراب ھو جائینگے۔ اور پاپا کے ساتھ سو جانا اور آج کے بعد تم اپنے پاپا کا خیال رکھنا۔ میں تیل لےکر پاپا کے رومن میں آئی تو دیکھا پاپا کا لن چڈی کو تمبو بنائے کھڑا ھے۔ تو پاپا نے کہا تسکین اپنی مما سے کہو میری مساج کر دو۔ میں نے کہا پاپا آج سے میں آپ کی مساج کروں گی اور آپ کا خیال رکھوں گی۔ پاپا نے کہا ٹھیک ھے تسکین۔ میں نے تیل کو ٹیبل پر رکھ کر۔ پاپا کو باھوں میں بھر کر اٹھاکر ٹیک لگایا تو پاپا کے ساتھ میرا موڈ بن گیا۔ پھر تیل کو اٹھا کر بیڈ پر رکھ کر اپنی ٹانگیں پھیلا کر پاپا کے لن پر بیٹھی تو پاپا نے کہا تسکین کیسی بیٹھی ھو۔ میں نے کہا آپ کی مساج کرنی ھے۔ پاپا کا لن بہت سخت تھا جس کی وجہ سے میرا موڈ بن گیا پھر پاپا کے سینے پر تیل گرا کر مساج کرتی ھوئی سلوسلو پاپا کے لن پر چوت رگڑنے لگی۔ اور پاپا بھی مستی میں آرھا تھا۔ پھر میں گرم ھو گئی۔ اور اپنی قمیض اتار دی۔ تو پاپا نے میرے بڑے مموں کی تعریف کی تو میں نے پاپا کے منہ میں منہ دیا اور چوسنے لگی پاپا میرے مموں کو دبانے لگا پھر میں نے پاپا کے منہ میں اپنے بڑے ممے دیئے تو پاپا چومتے ھوئے مموں کی نیپلوں کو چوسنے لگا۔ میں آٹھ کر اپنی شلوار اتار کر پاپا کی چڈی اتار کر پاپا کا لن دیکھا تو عمر کا لن بھی پاپا کے لن جیسا تھا۔ بہت دیر تک پاپا کے لن کو چومتی چاٹتی چوپے لگاتی رھی۔ پھر مموں میں رگڑتی رھی پھر پاپا کے لن کو پیار کرتی ھوئی پاپا کی ٹانگوں کی مساج کرنے لگی اف مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا۔ پھر پاپا کے لن کی مساج کی۔ اٹھکر پاپا کے لن کو چوت میں لےکر چدائی کرنے لگی۔ جب میری چوت رس چھوڑ دیتی تو پاپا کے لن کو اپنی گانڈ میں لےکر چدائی کرتی اور چار بجے میں اور پاپا ساتھ میں نگے سو گئے اسی طرح میں پاپا کا ہر طرح سے خیال رکھنے لگی۔ اور کچھ ھی دنوں میں پاپا ٹھیک ھو گئے۔ پھر پاپا اسی روم میں رھا۔ پاپا کے ساتھ تین چار دن چھوڑ کے پاپا کے ساتھ سو جاتی۔ میں بہت خوش تھی۔ کیوں کے میں اپنے گھر میں چار لنوں سے مزے کرنے لگی۔ لیکن جو بات عمر میں تھی وہ کسی میں نہیں تھی۔ کیونکہ عمر کے ساتھ مجھے بہت مزہ آتا۔ میں بہت بار پیٹ سے ھو جاتی۔ تو مما ابوشن کرانے مرد ڈاکٹر کے پاس لے جاتی۔ پہلے تو تین گھنٹے ڈاکٹر میری چدائی کرتا پھر ابوشن کرتا ڈاکٹر کا لن بھی مست تھا اور مجھے بہت مزہ آتا۔ پھر میں تو عثمان اور عمر سے دن رات چدائی کرتی۔ اور اسلم سے جب موقعہ ملتا تو چدائی کر لیتی۔ اور پاپا کو چدائی سے بہت خوش رکھتی پھر مما نے اپنے یار کے بیٹے سے میری شادی کر دی ایک بار شوہر کچھ دنوں کیلئے باہر گیا تو گھر میں ساس سسر دو دیور اور طلاق شدہ نند تھی۔ میں نے عمر کو چدائی کیلئے بلا لیا اور اپنے روم میں رکھا رات کو ھم دونوں نگے ھوکر چدائی کرتے۔ عمر تو ایسی زبردست چدائی کرتا کے میں پاگل سی ھو جاتی۔ ایک رات میں اور عمر نگے چدائی میں مست تھے میں عمر کے لن کی سواری میں مست تھی اور بڑا دیور کسی طرح سے ڈور کھول کر اندر آگیا۔ میں عمر کے لن کو اوپر سے چدائی کر رھی تھی۔ اور عمر نیچے سے میری چوت کی چدائی کر رھا تھا۔ اور ھم دونوں اتنی فاسٹ چدائی کر رھے تھے۔ کے اف مت پوچھوں۔ مجھے بہت مزہ آرہا تھا۔ جب دیور کو دیکھا تو میں عمر کا لن اپنی چوت سے نکال کر ہٹی تو بس پھر تو دیور نے پکڑ لیا اف پھر تو دونوں چودنے لگے۔ مجھے تو دونوں نے پاگل کر دیا۔ ساری رات چدائی کرتے رھے۔ تین راتیں تو دونوں میری چدائی کرنے میں لگے رھے۔ اور دن کو بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ پھر عمر چلا گیا۔ پھر اکیلا دیور تو مجھ پر بھاری پڑ گیا۔ مجھے تو دیور نے اتنا مزہ دیا کے میں کیا بتاؤں۔ دیور تو میری گانڈ چوت مموں اور منہ کی زبردست چدائی کرتا۔ پھر شوہر آگیا۔ لیکن دیور کو اب روکنا مشکل تھا۔ میں کچن واش یاں گھر کا کام کر رھی ھوتی تو دیور وہیں میری شلوار نیچے کرکے میری چوت یاں گانڈ کی چدائی کرنا شروع کر دیتا۔ اور ایک بار میں صفائی کر رھی تھی تو بڑے دیور نے مجھے پکڑ لیا اور میری شلوار نیچے کر میری چدائی کرنے لگا تو چھوٹے دیور نے دیکھ لیا میں چھوٹے دیور کو دیکھ کے سمجھ گئی اب اس سے بھی مزے کروں گی بڑا دیور کھڑے کھڑے میری چدائی کر رہا تھا اورمیں تو بہت گرم ھو چکی تھی۔ تو دیور سے کہا تیرے روم چل کر کرتے ہیں۔ پھر دیور کے روم میں آکر چدائی کی۔ بڑے دیور سے چدائی کر کے میں اپنے روم میں آئی تو اتنی دیر چھوٹے دیور نے آکر پکڑ لیا پھر چھوٹے دیور نے تسلی سے مجھے خوش کیا اور میں نے بھی مست ھوکر چھوٹے دیور کو خوش کیا۔ پھر اسی طرح ایک بار بڑا دیور کچن میں میری چودائی کر رھا تھا۔ تو سسر نے مجھے چدائی کرتے دیکھ لیا۔ میں نے بھی سسر کو دیکھ لیا۔ دیور نے نہیں دیکھا تھا۔ میں تو سسر کو دیکھ کر سمجھ گئی کے افففف اب سسر بھی نہیں چھوڑے گا۔ ایک رات میں دیور سے چدائی کرکے آئی تو آگے سسر چڈی میں لن کھڑا کیئے کھڑا تھا سسر کا کھڑا لن دیکھا تو افففف میں سمجھ گئی کے اب سسر چودے گا میں نے جاکر سسر کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تو سسر مجھے اٹھا کر دوسرے روم لے گیا اور چدائی شروع کردی۔ مجھے بہت مزہ آیا سسر فارغ ھوا تو میں روم سے باہر آئی تو چھوٹا دیور مجھے اٹھا کر اپنے روم لے گیا اور چدائی کی۔ پھر میں شوہر کے پاس آئی تو شوہر شروع ھو گیا۔ ایک ھی وقت میں۔ میں نے چار لنوں کے مزے لیئے پھر کبھی بڑا دیور اٹھا کر لے جاتا تو کبھی سسر تو کبھی چھوٹا دیور۔ کبھی میں اپنے روم میں ھوتی تو کبھی بڑا دیور تو کبھی چھوٹا دیور تو کبھی سسر آکر شروع ھو جاتا دن میں دو بار سسر اور دو بار بڑے دیور کے ساتھ تو کبھی دو بار چھوٹے دیور کے ساتھ چدائی کرتی۔ یہ رات کو بھی نہیں چھوڑتے۔ میں تو دن کو تین لن سے مزے کرتی تو رات میں چار لن سے مزے کرتی۔ جب شوہر کی چھٹی ھوتی تو اس دن بہت مزہ آتا رات سے لےکر دن تک اور دن سے لےکر رات تک پھر دن سے لےکر رات تک۔ چار لن سے چدائی کرتی کبھی سسر پکڑ لیتا تو کبھی بڑا دیور تو کبھی شوہر تو کبھی چھوٹا دیور۔ پھر میں عمر کو بھی بلا لیتی عمر کے ساتھ مل کر میں بڑے اور چھوٹے دیور سے چدائی کرتی۔ تو نند نے اس رات مجھے تینوں سے چدائی کرتی دیکھ لیا اور سسر کے ساتھ بھی چدائی کرتی دیکھ لیا۔ نند نے کہا بھابھی تم تو بہت مزے کرتی ھو اپنے بھائی عمر اور میرے دونوں بھائیوں اور پاپا کے ساتھ۔ پھر کہا بھابھی میں بھی کرنا چاہتی ھوں کچھ کرو۔ میں نے کہا ایک شرط پر میں تیری سب سے چدائی کر وا سکتی ھوں اپنے بھائی عمر سے اور تیرے دونوں بھائیوں اور پاپا سے اور میرے پاپا اور بڑے بھائی سے ۔ کہا افففف سچ میں بھابھی۔ میں نے کہا ہاں تو کہا پھر شرط بتاؤ۔ میں نے کہا میرے ساتھ تم سیکس کرو۔ پھر میں اور نند نے سیکس کیا پھر نند سے کہا سب سے پہلے تیری چدائی عمر سے کراؤ عمر زبردست چدائی کرتا ھے۔ نند نے کہا ہاں بھابھی پھر میری جلدی سے چدائی کراؤ اب مجھ سے صبر نہیں ھوتا میں نے کہا آج ھم سیکس کریں گی تو پھر میں عمر کو بلا لوں گی یا وہیں رات گزارینگے تو عمر جو کرے اسے کرنے دینا پھر اپنے پاپا سے پھر عثمان سے۔ کہا ٹھیک ھے۔ پھر میں اور نند نے خوب سیکس کیا۔ پھر کچھ ایک ہفتے کیئے نند کی چدائی کرانے اپنے میکے آئی نند کو عمر کے حوالے کر کے میں پاپا کے ساتھ روم میں تھی۔ تین رات عمر نے نند کی چدائی کی پھر تین رات عثمان نے چدائی کی میں نے عمر سے چدائی کی پھر نند کو ایک رات پاپا کے ساتھ چھوڑا میں عثمان اور عمر ایک ساتھ چدائی کی پھر نند عمر سے شروع ھو گئی پھر ھم واپس آئے تو نند عمر پر مرمٹی تھی پھر نند کو بتایا کے رات کو ھم سیکس کرے گیں مجھے جودنے کوئی بھی أئے گا تم ھم دونوں کو نگا دیکھ کر تیری بھی چدائی کرے گا پھر ھم نگی سیکس کر رھی تھی کے بڑا دیور آیا اس نے ھم دونو کی چدائی کی۔ میں زیاد نند کو آگے کیا اسی طرح چھوٹے دیور نے بھی نند کو چودا دیا پھر آخر سے بھی نند کی چدائی کرا دی پھر نند نے عمر سے شادی کا کہا اور عمر سے شادی ھو گئی۔ نند نے میرے بھائیوں اور پاپا اپنی چوت گانڈ دے کر گھر کی لاڈلی بن گئی۔ یاں سب میرے دیوانے تھے میں دونو دیور سے اب ایک ساتھ چدائی کرتی ھوں تو دوستو مجھے دیجیئے اجازت اپنا خیال رکھنا بائے


The post بھائی کے ساتھ پکڑی گئی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%be%da%a9%da%91%db%8c-%da%af%d8%a6%db%8c/feed/ 0
بھائی نے پکڑ لیا اور پھر۔۔۔ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%be%da%a9%da%91-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%da%be%d8%b1%db%94%db%94%db%94/ https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%be%da%a9%da%91-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%da%be%d8%b1%db%94%db%94%db%94/#respond Thu, 21 Aug 2025 18:58:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%be%da%a9%da%91-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%da%be%d8%b1%db%94%db%94%db%94/   کیسے ہیں دوستو میں شاہ آپ کی خدمت میں ایک اور سٹوری لے کر حاضر ہوا ہوں۔ یہ سٹوری میری ایک فیسبک فرینڈ نے سنائی تھی ۔دوستو اب اس دوست کی زبانی سنتے ہیں یہ کہانی. میرا نام آمنہ ہے۔ میری عمر 24 سال ہے۔میرے مموں کا سائز 36 ہے۔میں یونیورسٹی میں دوسرے سمیسٹر […]

The post بھائی نے پکڑ لیا اور پھر۔۔۔ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


کیسے ہیں دوستو میں شاہ آپ کی خدمت میں ایک اور سٹوری لے کر حاضر ہوا ہوں۔ یہ سٹوری میری ایک فیسبک فرینڈ نے سنائی تھی ۔دوستو اب اس دوست کی زبانی سنتے ہیں یہ کہانی.

میرا نام آمنہ ہے۔ میری عمر 24 سال ہے۔میرے مموں کا سائز 36 ہے۔میں یونیورسٹی میں دوسرے سمیسٹر میں پڑھتی ہوں۔ میرا تعلق ملتان سے ہے۔

میرے گھر میں والد،والدہ اور میرا ایک بھائی رہتا ہے۔ میرے والد اور والدہ بنک میں جاب کرتے ہیں۔میرا بھائی مجھ سے بڑا ہے اور وہ بھی یونیورسٹی میں 5 سمیسٹر میں پڑھتا ہے۔

دوستو میرا ایک بوائے فرینڈ تھا۔جس کا نام شان تھا۔ شان مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔میں اور شان بہت دفعہ سیکس بھی کر چکے تھے۔ میرے بھائی کو میرا اور شان کے افیر کا پتہ چل گیا۔ایک دن میں شان کے ساتھ ہوٹل میں سیکس کرنے گئی۔میں اور شان ایک روم میں پہنچے۔شان نے دروازہ بند کیا لیکن لاک نہیں کیا جس کا مجھے پتا نہیں چلا کیوں کہ میں اس وقت بہت زیادہ گرم تھی۔شان مجھے لے کر بیڈ پر آیا۔شان نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔میں بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔شان کبھی میرا نیچے والا ہونٹ چوستا اور کبھی میرے اوپر والا

اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے مموں پر رکھ دیا۔اور میرے مموں کا دبانے لگا۔میں بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔ شان نے میری کمیز اتارنی چاہی تو میں نے اس کا ساتھ دیا اور اپنی کمیز اتار دی۔اب شان میرے مموں کو برا کے اوپر سے ہی دبا رہا تھا۔مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔بس چاہتی تھی شان ایک دم اپنا لن میری پھدی میں ڈال کر مجھے سکون دے۔لیکن وہ مجھے ترپانا چاہتا تھا۔شان نے میرے مموں سے برا کو ہٹایا اور اپنا منہ میرے مموں پر رکھ دیا۔شان اب میرے مموں کا اچھی طرح چوس رہا تھا۔اب شان نے اپنا ایک ہاتھ میری شلوار میں ڈال کر سیدھا میری پھدی پر رکھ دیا۔میں نیچے سے پوری گیلی ہو چکی تھی۔شان کبھی میرے ایک ممے کو منہ میں لیتا تو کبھی دوسرے ممے کو منہ میں لیتا۔پورے کمرے میں میری سیسکیوں کی آواز جا رہی تھی۔اب آہستہ آہستہ شان نے میری شلوار اتار دی شان اب میرے پیٹ سے ہوتے ہوئے نیچے پھدی کی طرف جا رہا تھا۔شان جب میری پھدی کی طرف پہنچا تو اس نے مجھے مخاطب کر کے بولا “میری جان دیکھو تمھاری پھدی کتنی گیلی ہو رہی ہے”دل کرتا ہے اس کو چوم لوں۔ اس سے پہلے میں کچھ بولتی شان نے اپنے ہونٹ میری پھدی کر رکھ دیے۔

شان اب میری پھدی کو چاٹ رہا تھا۔ میرے منہ سے آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔ شان میری جان چاٹو اس پھدی کو کھا جاؤ۔ شان میری پھدی کو کبھی چاٹا اور کبھی پوری زبان میری پھدی میں ڈال دیتا جس سے مزے کی کیفیت میں میرے منہ سے سسسسسسسسسسسس کی آواز آتی۔ شان کافی دیر میری پھدی کو چاٹٹا رہا اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔شان ایک دم اٹھا اور اپنی پینٹ اور شٹ کو اتار دیا۔اب وہ ننگا میرے پاس آیا اور اپنا 7 انچ کا لن میرے منہ کے پاس لے آیا۔ میں سمجھ گئی اب وہ کیا چاہتا ہے۔ میں نے اس کا لن منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔اب اس کی سسکیوں سے پورا کمرہ گھوجنے لگ گیا۔وہ مزے کی کیفیت میں مجھے گالیاں دینا شروع ہو گیا۔ چوس میری رنڈی چوس کے اپنے شہزادے کا لن پورا اپنے منہ میں لے لو۔ میں اس کا لن پورا اپنے منہ میں لے کر چوس رہی تھی جیسے کوئی بچہ لالی پاپ چوستا ہے۔اب شان واپس میری پھدی کی طرف ایا اور اپنا لن میری پھدی میں سیٹ کر دیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ دی۔ شان نے ایک کی جھٹکے میں اپنا لن میری پھدی میں گھسا دیا۔میرے منہ سے ایک چیخ نکل گئی۔ ہائے ماں میں مرررررررررررررررر گئیییییییییییییییییییییییی۔شان ایک زور زور سے مجھے چودنا شروع ہو گیا۔ شان اپنا لن میری پھدی سے کبھی پورا نکالتا اور پھر پوری قوت سے واپس میری پھدی میں ڈالتا۔شان اب مجھے بے رحمی سے چود رہا تھا۔ شان مجھے چودتے چودتے میرے ممے کبھی اپنے منہ میں لیتا تو کبھی میرے ہونٹوں کو چوسنے لگتا۔ ابھی ہمیں چدائی کرتے ہوئے 20 منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک دروازہ کھل گیا۔ میں اور شان دونوں نے گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا تو ادھر میرا بھائی کھڑا تھا۔ میرے بھائی کا منہ غصے سے لال تھا۔ شان اور میں بہت ڈر گے۔ بھائی سیدھا شان کی طرف گیا اور اس پر تھپڑوں اور گھسوں کی برسات کر دی۔ میں نے فورن اپنے کپڑے پہنے۔ اب بھائی میری طرف مڑا اور مجھے ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا۔ جس سے مجھے دن میں تارے نظر آنے لگے۔بھائی نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدھا گھر لے آیا۔ اور میرا موبائل بھائی نے لے لیا۔ لیکن اس نے گھر میں کسی کو کچھ نہیں بتایا۔مجھے گھر چھوڑ کر بھائی واپس باہر نکل گیا۔ اب میرے پاس موبائل نہیں تھا کہ میں شان کو بتاتی کے بھائی گھر سے غصے میں باہر نکلا ہے۔

اب بھائی نیچے اترا اور اپنا لن میری پھدی پر رکھا اور پھدی پر مسلنے لگا۔ میں بھائی کا لن چوس کر پہلے ہی گرم ہو چکی تھی اب ایسے لن مسلنے سے اور بھی گرم ہو گئی اور میری پھدی پانی چھوڑنے لگی۔اب میرے سے برداشت نہیں ہو رہا تھا بس یہی چاہتی تھی بھائی اپنا پورا لن میری پیاسی پھدی میں اتار دیں۔ لیکن بھائی کو میرے پر رحم نہیں آ رہا تھا۔ وہ مجھے ترپانا چاہتا تھا۔ کچھ دیر لن مسلنے کے بعد شائد بھائی کو مجھ پر ترس آ گیا۔اس نے ایک ہی جھٹکے میں لن پورا میری پھدی میں ڈال دیا۔ جس سے میرے منہ سے چیخ نکلنے لگی تو بھائی نے ایک دم میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ بھائی اب وحشیوں کی طرح مجھے چود رہا تھا۔بھائی مجھے گالیاں بھی دینے لگا۔گشتی دیکھ آج تجھے تیرا بھائی چود رہا ہے۔اج اپنے بھائی سے چدائی کروا کر تجھے کیسا لگ رہا ہے۔ میں ایک دم بولی بھائی چودو اپنی بہن کو آج سے یہ بہن تیری ہوئی۔ بھائی بولا اب تو کبھی باہر کسی سے چدائی نہیں کرے گی۔ آج سے تیرا ٹھوکو میں ہوں۔ میں نے بھی جوش میں آ کر بولا ہاں بھائی آج سے میں آپ کی رنڈی ہوں۔ آپ کی گشتی ہوں۔ زور سے چودو اپنی گشتی بہن کو

بھائی کا لن شان لے لن سے بڑا تھا۔ جو پھس پھس کر میری پھدی میں جا رہا تھا۔جس سے مجھے درد بھی ہو رہا تھا۔ لیکن میں برداشت کرتی رہی۔ آخر لن نے پھدی میں اپنی جگہ بنا لی اب مجھے درد نہیں ہو رہا تھا اب درد کی جگہ مزے نے لے لی۔بھائی فارغ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ پتہ نہیں کیا کھا کر آیا تھا۔ جب کہ میں 2 دفعہ فارغ ہو چکی تھی۔ اچانک بھائی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں تو میں سمجھ گئی بھائی فارغ ہونے والا ہے۔ میں نے بھائی کو بولا کے اندر فارغ نہیں ہونا میرے منہ میں فارغ ہو جاؤ۔ آپ کی منی میں نے پینی ہے۔ بھائی نے فورن اپنا لن باہر نکالا اور میں سیدھی ہو کر پیٹھ گئی۔ اب بھائی نے اپنا لن میرے منہ میں ڈال دیا۔ اور میں اپنے بھائی کا لن چوسنے لگی۔ اچانک بھائی کے لن سے منی خارج ہونا شروع ہو گئی۔ جو سیدھا میرے حلق تک پہنچ گئی۔ بھائی کی منی کا ذائقہ بہت اچھا تھا۔ بھائی فارغ ہونے کے بعد بیڈ پر لیٹ گے۔ میں فورن باتروم گئی اور اپنی پھدی صاف کر کے واپس آئی۔ پھر بھائی اٹھا اور اپنا لن صاف کر کے واپس آیا۔

اس کے بعد تو ہمیں جب بھی موقع ملا ہم نے چُدائی کی اور ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ تو ہمارا معمول بن چکا تھا آتے جاتے بھائی میری گانڈ پر ہاتھ پھیر دیتا یا میرے ممے دبا دیتا۔ میں بھی کچھ کم نہیں تھی میں بھی اُس کے لنڈ کو پکڑ کر مسل دیتی۔

ختم شد

The post بھائی نے پکڑ لیا اور پھر۔۔۔ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%be%da%a9%da%91-%d9%84%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%da%be%d8%b1%db%94%db%94%db%94/feed/ 0
میری پیاری بہن ۔۔۔۔(آخری قسط) https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond Tue, 12 Aug 2025 17:21:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/   ملائکہ کے فارغ ہوتے ہی میں ملائکہ کے اوپر سے اترا اور اسی طرح ننگا باتھ میں گیا وہاں جا کہ منہ دھویا اور کلی کی اور پھر منہ خشک کر کے کمرے میں آیا میرا لن اسی طرح کھڑا تھا ۔ ملائکہ بیڈ پہ ننگی لیٹی ہوئی تھی مجھے دیکھتے ہی بولی بھائی […]

The post میری پیاری بہن ۔۔۔۔(آخری قسط) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

ملائکہ کے فارغ ہوتے ہی میں ملائکہ کے اوپر سے اترا اور
اسی طرح ننگا باتھ میں گیا وہاں جا کہ منہ دھویا اور کلی کی اور پھر منہ خشک کر کے
کمرے میں آیا میرا لن اسی طرح کھڑا تھا ۔ ملائکہ بیڈ پہ ننگی لیٹی ہوئی تھی مجھے
دیکھتے ہی بولی بھائی یہ کھمبا کیسے بیٹھے گا؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ابھی دیکھا
نہیں کتنی محنت ہوتی ہے کھمبا گرانے میں ۔ تو ملائکہ منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
اففف یہ تو میرے بس سے بہت باہر کی بات ہے میں تو ایسا نہیں کر سکوں گی ۔ میں
ملائکہ کے پاس چڑھ کہ بیڈ پہ بیٹھ گیا اور ملائکہ کے مموں سے نیچے ملائکہ کے پیٹ
پہ ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ ملائکہ پھر ہچکچاتے ہوئے بولی بھائی کوئی اور آسان
طریقہ نہیں ہے اندر گھسائے بغیر؟ میں نے کہا ملائکہ طریقے تو بہت ہیں مگر وہ میں
تم پہ ایپلائی نہیں کرنا چاہتا ۔ میں بس ایک ہی طریقہ کرنا چاہتا جو اب ابو نے آخر
پہ کیا ۔ ملائکہ نے منہ پہ ہاتھ رکھا بھائی ایک انگلی نے مجھے اتنی جلن کی تھی یہ
تو بہت موٹا ہے ۔ میں نے کہا چلو پہلے انگلی ٹرائی کرتے ہیں اگر درد ہوا تو پھر
اور کچھ نہیں کروں گا صرف اوپر رگڑوں گا۔ ملائکہ نے سر ہلایا اور الٹی ہوتی گئی
میں اٹھا اور ڈریسنگ ٹیبل سے زیتون کا تیل اٹھایا اور ملائکہ کی طرف مڑا تو وہ
سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگی اسے کدھر لگاو گے؟ میں نے کہا تمہاری اس موٹی تازی
گانڈ کے سوراخ پہ ۔ تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی باہر جو تخت پوش پڑا ہے اس کی
چادر اٹھا لائیں یہ چادر گندی ہو گئی تو بیگم کو کیا جواب دو گے۔ مین ملائکہ کی
حاضر دماغی پہ حیران رہ گیا اور مڑ کہ باہر نکلا اور تخت پوش سے چادر اٹھا کہ لائی
۔ ملائکہ بھی بیڈ سے نیچے اتری اور میرے ساتھ مل کہ چادر بچھانے لگی جب وہ چادر
بچھانے کے لیے جھکی تو میں اسکے پیچھے بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے ملائکہ کی گانڈ
کو کھول لیا بدتمیز بے شرم وہ بھی ہنستے ہوئے آگے جھک گئی اور بولی بس اسے نہ
چھوڑنا آپ ۔ میرے ساتھ لگی اور چیزین بھی تو ہیں ۔ میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا ہاں
اور بھی ہیں مگر اس کا مول کوئی نہیں اور ساتھ ملائکہ کی گانڈ کو چومنے لگا وہ آگے
بیڈ پہ ہوئی اور الٹی لیٹ گئی ۔ میں نے بھی زیتون کا تیل ہاتھ پہ گرایا اور ملائکہ
کے چوتڑوں پہ ملنے لگا۔ ملائکہ کے چوتڑ میرے ہاتھ لگانے سے ہل رہے تھے میں نے پھر
ملائکہ کے گانڈ کے ایک حصے کو پکڑ کہ کھولا اور اسے کہا کہ دوسرے حصے کو تم کھولو
۔ ملائکہ نے بنا کچھ کہے ہاتھ نیچے کیا اور دوسرا حصہ مخالف سمت کھینچ کر کھولا۔
ملائکہ کے اس طرح کرنے سے ملائکہ کی گلی کا کریک واضح ہوا اور ننا منا گلابی سوراخ
بھی سامنے جھانکنے لگا میں نے تیل ملائکہ کی گلی کے اوپر کر کہ گرایا تو تیل کی
دھار سوراخ کے ارد گرد لگی اور پھر ایڈجسٹ ہوتے سوراخ کے اوپر تیل گرنے لگا۔
ملائکہ نے ہلکی سی اون اوں کی مگر وہ نہ ہلی۔ میں نے پھر تیل کی بوتل چھوڑی اور
دونوں ہاتھوں سے ملائکہ کی گانڈ کو مسلنے لگا وہ نیچے لیٹی سسک رہی تھی میں نے
ہاتھ ملائکہ کی گانڈ پہ پھیرتے پھیرتے ملائکہ کی گلی میں گھسایا اور ایک انگلی سے
سوراخ پہ تیل ملنے لگا تیل نے ملائکہ کے سوراخ کو بہت نرم کر دیا تھامیں نے پھر
انگلی کو تیل کہ بوتل میں ڈالا اور تیل سے لتھڑی ہوئی انگلی ملائکہ کی گانڈ کے
سوراخ پہ رکھ کہ دبائی تو انگلی آرام سے ملائکہ کی گانڈ میں اتر گئی میں نے انگلی
باہر نکالی انگلی کے ساتھ تیل لگایا اور پھر سوراخ میں گھسا دی اور کوئی دس بار
اسی طرح کیا دسویں بار مجھے جب انگلی آرام سے جاتی لگی تو میں نے دو انگلیاں
گھسانے کی کوشش کی تو ملائکہ سسک اٹھی اور گانڈ کو ٹائیٹ کر لیا

ملائکہ کے دو انگلیاں گانڈ میں جانے سے سسکتے ہی میں نے
انگلیاں فورا سے پہلے باہر کھینچ لیں ملائکہ اسی طرح الٹی لیٹی ہوئی تھی ملائکہ نے
تھوڑا سا منہ اوپر کیا اور کراہتے ہوئے بولی بھیا مانتی ہوں کہ ابھی جو ہم دیکھ کہ
آئے وہ کوئی میجک ٹرک نہیں تھی امی نے کسی جادو کے زور سے اسے غائب نہیں کیا تھا
مگر ان کی ہمت میں اور میری میں فرق اتنا کہ وہاں ہزارویں بار ہوئی ہو گی ادھر
پہلی بار ہے نا پلیز ۔ میں ملائکہ کے اوپر ہوا اور ملائکہ کا گال چوم کہ کہا سوری
ملائکہ میرے جزبات بہک گئے تھے سوری ۔ ارے پاگل مزاق کر رہی آپ سے، کریں لیکن
تھوڑی سی احتیاط۔ میں سمجھ رہی آپ تنگ ہو رہے لیکن مجھے بھی بہت درد ہو گیا تھا
لیکن آپ کرو پلیز ۔ ملائکہ نے یہ کہا اور اپنے آگے پڑھا ہوا سرھانہ اپنے پیٹ کے
نیچے رکھا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے کولہے پکڑ کہ مخالف سمت کھینچ لیے اور منہ آگے
کر لیا ۔ میں نے پھر تھوڑا سا تیل ہتھیلی پہ گراتے ہوئے ملائکہ کی گانڈ کے سوراخ
پہ لگایا اور دو انگلیاں گھسا دیں لیکن انگلیاں گھسانے کی رفتار بہت کم رکھی
ملائکہ اس بار بھی سسکی لیکن ملائکہ نے گانڈ ٹائیٹ نہ کی ۔ میں نے انگلیاں نکالی
اور تیل سے لتھڑ کہ پھر انہیں سوراخ میں دھکیلا اور کوئی دس بارہ بار مسلسل کیا جس
سے میری انگلیاں پہلے کی نسبت اب روانی سے سوراخ میں اترنے لگیں شدت جزبات سے میرا
چہرہ جلنے لگا ملائکہ بھی نیچے مسلسل کراہ رہی تھی۔ پھر میں نے تیل کو اپنے لن پہ
اچھی طرح لگایا اور لن کو تیل سے تر کرتے ہوئے ملائکہ کی گانڈ پہ بھی اور تیل گرا
دیا ملائکہ کی گانڈ بھی تیل سے لتھڑی ہوئی تھی اور اس حالت میں جب میں نے لن کو
ملائکہ کی گانڈ پہ رکھا تو جو مزہ ملا وہ ناقابل بیان تھا ۔ میں نے لن کو گانڈ کی
گلی میں رکھا اور ملائکہ کے اوپر لیٹتا گیا اور ملائکہ کی گردن کو چومتے ہوئے بولا
ملائکہ اب اندر کرنے کی کوشش کروں ؟ ملائکہ نے سر کو ہاں میں ہلاتے ہوئے اپنا چہرہ
چھپا لیا میں تھوڑا اوپر ہوا اور لن کو ملائکہ کے چھوٹے سے سوراخ پہ رکھ کہ ہلکا
سا زور لگایا تو تیل سے لتھڑے گلابی رنگ کے سوراخ نے لن کو اپنے اندر آنے کا رستہ
دے دیا مجھے یوں لگا کہ لن کے گرد کسی نے مکھن رکھ کہ دبا دیا ہے ملائکہ کے منہ سے
بے اختیار ایک ہلکی سی چیخ نکلی اور وہ درد سے کراہتے ہوئے بولی بھیا پلیز رک جاو۔
میں وہیں رک گیا اور ملائکہ کی گردن چومتے بولا بہت درد ہے تو باہر نکال لوں گڑیا؟
ملائکہ نے سر نفی میں ہلایا اور کہا نہیں بس ایک منٹ رکو میں برداشت کر لوں گی اب
امی کی اتنی بے عزتی تو نہیں کرا سکتی کہ آپ کہو امی کی کیسی بیٹی ہے زرا ان پہ
نہیں گئی ملائکہ کے چہرے پہ ہلکا درد کا احساس بھی تھا اور مسکراہٹ بھی۔ میں
ملائکہ کے گالوں کو چومنے لگا اور نیچے سے ہاتھ گزار کہ ملائکہ کے ممے پکڑ کہ ہلکے
ہلکے سہلانے لگا ۔ تھوڑی دیر میں جب دیکھا کہ ملائکہ تھوڑا ریلیکس ہو چکی تو میں
نے لن کو اندر گھسانا شروع کر دیا نرم نرم سوراخ کو لن کھولتا ہوا اندر ہونے لگا
اور میرے دیکھتے دیکھتے ملائکہ کا چہرہ سرخ ہوا اور پسینے کے قطرے اس پہ چمکنے لگے۔
ملائکہ بس یا اور؟ میں نے ہانپتے ہوئے کہا۔ پورا جانے دو جتنا بھی ہے ملائکہ نے
دانت بھینچ کر کہا اور میں اسی طرح پورا لن اندر گھساتا گیا

میرا پورا لن ملائکہ کی گانڈ میں اتر چکا تھا اور میں
ملائکہ کے اوپر اس کے جسم کی نرمی اور لمس محسوس کر رہا تھا اور نیچے ملائکہ سسک
رہی تھی سسکتے سسکتے ملائکہ نے میری طرف منہ کر کہ دیکھا تو ملائکہ کی آنکھوں سے
نکلے آنسو ملائکہ کا چہرہ بھگو چکے تھے ۔ میں نے ہونٹ آگے کیے اور ملائکہ کے گال
پہ آئے آنسو چوم لیے اور بے ساختہ ملائکہ کے بال سہلانے لگ گیا لن جڑ تک ملائکہ کی
نرم گانڈ میں دھنس چکا تھا ملائکہ نے مجھے دیکھا تو مسکرا دی اور جیسے ملائکہ کے
چہرے پہ شفق پھیل گئی ۔ بھیا آپ کی گڑیا جوان ہو گئی آج۔ ملائکہ نے روتے چہرے کے
ساتھ مسکراتے ہوئے کہا۔ میں نے پھر آگے ہو کہ ملائکہ کے گال کو چوم لیا میں لن کو
ملائکہ کی گانڈ میں کوئی حرکت نہ دے رہا تھا اور ملائکہ کے اوپر لیٹا ہوا تھا ۔
ملائکہ نے کہا بھیا دو منٹ ایسے ہی رکو زرا باتیں کرتے ہیں ۔ میں نے کہا بولو نا
گڑیا تمہیں کس نے روکا ہے ؟ بھیا جو ہونا تھا ہو گیا لیکن بس یہ دیکھنا کسی کو
اندازہ نہ ہو جائے ہمیں یہ احتیاط کرنا ہو گی ملائکہ نے اسی طرح لیٹے ہوئے کہا۔
ہاں درست کہتی ہو ہم احتیاط کریں گے میں نے ملائکہ کیگردن اور کان کی لو چوستے
ہوئے کہا جیسے ہی میں نے ملائکہ کے کان کو چوما ملائکہ نے سسک کہ گانڈ اوپر اٹھائی
اور میری تو جیسے عید ہو گئی میں نے ملائکہ کے کان کو چوسنا شروع کر دیا اور نیچے
سے ملائکہ نے اپنا گانڈ اوپر اٹھانا شروع کر دی۔ میں تو مزے سے بے حال ہو گیا اور
اپنا وزن گھٹنوں پہ منتقل کرتے ہوئے لن کو اندر باہر کرنے لگ گیا تیل سے لتھڑا
ہونے کی وجہ سے لن مسلسل اندر باہر ہونے لگا لیکن بہت ہی جلد مجھے محسوس ہو گیا کہ
میں فارغ ہونے والا ہوں میں نے ملائکہ کو دیکھا تو وہ بھی فل جوبن پہ سسک رہی تھی
اور درد کو برداشت کرتے ہوئے لن کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کر رہی تھی اگلے دو منٹ
میں ہی ہماری بس ہو گئی جیسے ہی میرے لن نے ملائکہ کی گانڈ میں پچکاری ماری تو ایک
غراہٹ کے ساتھ ملائکہ نے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھایا اور پھر تکیے پہ گر کہ ہانپنے
لگ گئی میں بھی ملائکہ کی نرم گانڈ کے اندر فارغ ہوتے بہن بھائی کی محبت کو امر
کرتا گیا ۔ محبت اپنی تکمیل کو پہنچ چکی تھی محبت جو بلندی کا سفر ہے بہن کے نرم
مموں کی اٹھان اور گانڈ کی پہاڑیوں تک کا سفر اور بہن کی نظر سے بھائی کی ہوس کو
محبت کو اپنے جسم کو تاڑتے ایک سکون کا ملنا کہ مجھ میں کچھ تو ہے کہ بھیا بھی
دیوانے ہوئے پھرتے ۔ احساس ایک الگ چیز ہے جہاں پیدا ہو جائے وہاں سوچ بدل جاتی ہے
نئے راستے نکل آتے ہیں لیکن ڈر سے آگے جیت ہے ہمت کے آگے سب ممکن ہے حوصلہ ہو تو
نقلی ٹانگوں پہ لوگ ماونٹ ایورسٹ سر کر لیتے اور اصلی پاوں پہ چلنے والے بے حوصلہ
دامن کوہ تک نہیں پہنچ سکتے ۔ محبت کا سفر تو جاری رہتا ہے کبھی اونچائی کبھی
کھائی کبھی میدان تو کبھی صحرا در صحرا ۔

فارغ ہونے کے کچھ دیر تک میں اپنا لن ملائکہ کی گانڈ
میں گھسائے ملائکہ کے اوپر لیٹا اسے چومتا رہا پھر آہستہ سے ملائکہ کے اوپر سے لن
کو کھینچتے ہوئے اوپر ہوا اور پہلی بار مجھے یہ دیکھ کہ حیرت ہوئی کہ میرا لن فارغ
ہونے باوجود نیم اکڑا ہوا تھا میرا لن ملائکہ کے گانڈ سے باہر نکلنے پہ بالکل
آمادہ نہ تھا اور یہی حالت شائد گانڈ کی بھی تھی سوارخ نے میرے لن کو اپنے اندر
بھینچا ہوا تھا اور میں لن کو دھیرے دھیرے باہر کھینچ رہا تھا اور میرا لن باہر
کھینچنے کے ساتھ سوراخ کی دیواریں لن سے چمٹے جا رہی تھیں میں نے اوپر ہوتے ہوئے
لن اور گانڈ کے درمیان جدائی کا سفر دیکھا اور بالاخر لن کی ٹوپی گلابی گانڈ کے
گلابی سوراخ سے باہر نکلی تو پچک کی آواز کے ساتھ کھلا سوراخ بند ہوا اور (۔ ) شکل
سے 0 میں فوری طور پہ منتقل ہوا مگر لن کے باہر نکلتے ہی سوراخ کے واپس چھوٹا ہونے
کا نظارا بہت پرکشش اور دلفریب تھا۔ ملائکہ کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ تھی ایک پرسکون
مسکراہٹ اور ملائکہ کی آنکھیں بند تھیں۔ میں ملائکہ کے اوپر سے اترا اور ملائکہ کے
چہرے پہ آئے بالوں کو ہٹایا اور ملائکہ کے گال کو چوم لیا ملائکہ نے اپنا چہرہ
اوپر کیا اور اپنے ہونٹ نیم وا کر دئیے اور میں نے اپنے ہونٹ ملائکہ کے ہونٹوں میں
گھسا دئیے اور ملائکہ کے ہونٹ چوسنے لگا اور وہ بھی میرے ہونٹ چوستی گئی۔ تھوڑی
دیر نرم ہونٹوں کا رس کشید کرنے کے بعد میں پیچھے ہوا اور سوالیہ نظروں سے ملائکہ
کی طرف دیکھا۔ اس سے پہلے میں کچھ پوچھتا تو وہ خود ہی چہرے پہ مسکراہٹ لائے بولی
دو سال سے شو لائیو دیکھ رہی ہوں اور کوئی بھی مس نہیں کیا اور ہنسنے لگ گئی اور
بولی یہی پوچھنا چاہ رہے تھے نا؟ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ میرے سوال میری زبان
تک پہنچنے سے پہلے ملائکہ کو کیسے پتہ چل جاتے ہیں ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ
ملائکہ پھر بولی جن سے محبت کی جاتی ہے نا ان کی سوچ بھی پتہ چل جاتی ہے اس لیے
حیران نا ہوا کریں جزبے کی سچائی دیکھیں اور یقین نہیں آتا تو میری گانڈ دیکھ لیں
ابھی بھی ہل نہیں سکتی اور ہنسنے لگ گئی۔ ملائکہ کی یہ باتیں لاجواب کرنے والی
تھیں جن کا کبھی مجھے کوئی جواب نہ ملتا اور میں بے ساختہ اسے اپنے سینے سے لگا
لیتا ۔ میں ملائکہ کے ساتھ ہوا اور اسے پیار کرنے لگا تو وہ بولی ایک بار پھر کر
لو پھر میں اٹھ کہ نیچے جاؤں گی کہ صبح جب اٹھوں تو اپنے کمرے سے اٹھوں امی نے
یہاں سے نکلتے دیکھا تو مشکل ہو جائے گی ۔ اس کھلی آفر کے بعد کوئی ہیجڑا بھی ہوتا
تو وہ بھی نہ رک سکتا میں نے اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے وہ اسی طرح الٹی لیٹی
ہوئی تھی اور ہونٹ چوسنے میں میرا ساتھ دینے لگی میں نے بھی ہاتھ کمر سے پھرتے
ہوئے اس کی کمر اور گانڈ کو مسلتے ہوئے اس کے کندھوں کے درمیان پھیرنے شروع کر
دییے ۔ میں جب اٹھا تو اس نے ایک نظر میرے لن کو دیکھا اور اس کی آنکھیں پھیل گئیں
اور بولی افف اتنا موٹا ؟ آپ کا بھی ابو سے کم تو نہیں ہے اور پھر اس کے چہرے پہ
خوشی کے تاثرات ابھرے اور بولی واو زبردست میں نے اتنا موٹا لے لیا ۔ میں نے اس کے
بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا میری پیاری گڑیا میری لاڈو میری جان ۔ وہ پھر ہنسی اور
بولی مکھن نہیں تیل لگائیں اور پھر مزہ لیں ۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا اگر
تھوڑا پوز بدل لو تو؟ اس نے کہا کیوں امی والا پوز کرنا ہے کیا؟؟ اور ہنسنے لگی
میں نے کہا نہیں بس دوسرا والا اور اسے کمر سے پکڑ کہ اوپر کیا تو وہ بولی اچھا
اچھا سمجھ گئی اور خود ہی اپنے گھٹنے فولڈ کرتے ہوئے پیٹ نیچے کرتے ہوئے گانڈ ہوا
میں اٹھا دی ۔۔ افف کیا پرکشش نظارہ تھا میری بہن کی موٹی گانڈ اور اس کے درمیان
تیل سے لےھڑا سوراخ اور نیچے پھدی کے بند ہونٹ ہوا میں لہرا رہے تھے ۔میں نے لن پہ
تیل لگایا اور تھوڑا سا تیل اس کی گانڈ کے سوراخ پہ لگایا اور لن کو اوپر رکھ کہ
ہلکا سا دبایا تو ٹُپ کھ ہلکی سی آواز آئی جیسے کسی بند بوتل کا ڈھکن کھلتا ہے اور
لن پھسلتا ہوا اس کی گانڈ کی وادی میں اترتا چلا گیا اب کی بار لن کی پھسلن میں
روانی پہلے کی نسبت زیادہ تھی مگر ملائکہ کی سسکیاں پہلے سے بلند تھیں مگر ان
سسکیوں میں درد کم تھا۔ پورا لن اپنے اندر محسوس کرتے ہی ملائکہ نے میری طرف دیکھا
اور ہاتھ کی انگلیاں بند کرتے ہوئے مجھے انگوٹھے سے ڈن کا اشارہ کیا ۔ میں نے بھی
سر ہلایا اور کہا ہاں پورا ہو گیا ۔ ملائکہ مسکرا کہ آگے مڑ گئی اور میں ایک بار
پھر اس کی گانڈ کی تنگ وادیوں میں اپنے لن کو ہلاتا گیا ملائکہ نے اپنا ایک ہاتھ
نیچے سے اپنی ٹانگوں کی طرف لایا اور خود ہی اپنی پھدی مسلنے اور سسکیاں لینے لگ
گئی میں بھی لن کو پورا اندر گھساتا اور نوک تک باہر نکالتا اورپھر پورا اندر کر
دیتا ۔ اسی طرح جھٹکے لگاتے میں ملائکہ کے اوپر جھکا اور اس کی کمر کو چومتے ہوئے
اس کے ممے ہاتھوں میں پکڑ لیے نرم نرم گانڈ کی گئرائی میں اترتا لن اورپھر بڑے بڑے
ملائم ممے ہاتھ میں تھامے مجھے احساس ہوا کہ ماہم تو میری بہن کے پاوں کے برابر
بھی نہیں ہے ۔ میں نے اپنی سگی بہن کو اپنے آگے جھکے ہوئے دیکھا تو سرور اور فخر
سے میرا لن جیسے اکڑ اٹھا اور مجھے مبارک دینے لگا کہ اس حسین منزل تک تو کوئی خوش
قسمت پہنچے گا میں بھی اپنی قسمت پہ ناز کرتے اس کی گانڈ کی گہرائی میں ڈوبتا گیا اور
ملائکہ بھی سسکتی اپنی پھدی مسلتی رہی لیکن کب تک ۔۔ آخر اس کے جسم کو بھی جھٹکے
لگنے شروع ہو گئے اور میرے لن کی نسیں بھی پھولتی گئیں اور پھر میرے لن سے
پچکاریاں نکلتے ہوئے اس کی گانڈ کو بھرنے لگیں اور اس کا جسم بھی اکڑتے ہوئے مجھے
اپنے ساتھ دبتا ہوا محسوس ہوا اور اس کے سوراخ کا گھیرا میرے لن پہ مضبوط ہوتا گیا
اور ہم فارغ ہوتے ہوئے بیڈ پہ گرتے گئے لیکن میرا لن اس کی گانڈ کے اندر ہی رہا
.

اگلے دن اٹھ کہ نیچے گیا ناشتہ کیا اور دفتر کی طرف نکل
گیا۔ دفتر میں دل نہ لگا اور بہانہ بنایا اور چھٹی لیکر گھر کی طرف نکل پڑا اور جب
دفتر سے جب چھٹی کر کہ گھر پہنچا اور گیٹ کھولا اور اندر داخل ہوا تو سامنے کوئی
بھی نہیں تھا میں نے آرام سے دروازہ بند کیا اور اندر داخل ہوا تو پورے گھر میں
خاموشی کا راج تھا ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ ایک نظر امی کو دیکھ لوں اور میں دبے
پاوں ان کے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا اور نیم وا دروازے سے اندر جھانکا تو مجھے
حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا امی سائیڈ کروٹ لیٹی ہوئی تھیں اور بیڈ کے نیچے ملائکہ
گھٹنے ٹیکے ان کی ننگی گانڈ میں منہ ڈالے ہوئے چاٹنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کا
ایک ہاتھ اپنی شلوار کے اندر اپنی پھدی مسل رہا تھا وہ دنیا سے بے خبر امی کی گانڈ
کو کھول کر چاٹنے کی کوشش کر رہی تھی میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا مجھے گھر میں یہ
نظارہ ملے گا۔ ملائکہ ارد گرد کے ماحول سے بالکل بے خبر اپنے کام میں لگی تھی اور
اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔ میں اس کے پاس
کھڑا ہو کہ اسے دیکھنے لگ گیا اور وہ اسی طرح امی کی گانڈ کے اندر زبان پھیرتی رہی
کیونکہ امی کی گانڈ موٹی تھی اور وہ سوئی ہوئی بھی تھیں اس لیے وہ زبان کو سوراخ
تک نہیں پہنچا پا رہی تھی اگلے ہی لمحے جیسے ملائکہ کو احساس ہوا کوئی اس کے پاس
کھڑا ہے تو وہ بجلی کی تیزی سے پیچھے ہٹی اور جب اس کی نظر مجھ پہ پڑی تو اچھلتی
ہوئی میرے سینے سے آ لگی اور بولی میرے اندازے سے بیس منٹ لیٹ پہنچے ہو مجھے یقین
تھا کہ ضرور جلدی آو گے۔ اس کی سانسیں بہت تیز چل رہی تھیں اور جسم بھی بہت گرم ہو
رہا تھا میں نے بھی اسے بازووں میں بھر لیا اور ادھر ہی اس کے ہونٹ چوسنے لگا ۔ اس
کے ہونٹ چوستے چوستے میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں ۔
میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی او گندی لڑکی یہ کیا کر رہی ہو اگر وہ جاگ جائیں
تو؟ وہ نہیں جاگ رہی ہیں میں نے ان میں انگلیاں بھی ڈال کہ دیکھا ہے ملائکہ نے
شرماتے ہوئے کہا۔ میں نے اسے پکڑا اور دروازے سے باہر لے آیا اور اسے دل سے لگا کہ
کہا اوئے یہ لڑکوں والے کام کیوں کرنے لگ گئی ہو اور اس کے چہرے کو چوم لیا ۔ وہ
شرماتے ہوئے بولی آپ مجھے ادھر سے چاٹ رہے تھے تو میں دیکھنا چاہتی تھی کہ یہ کیسا
نشہ ہے تو۔۔ وہ میرے سینے سے چپکتی گئی اور اس کے گول ممے میرے سینے سے دب گئے ۔
میں نے ہاتھ اس کے کولہوں پہ رکھے ہی تھے کہ اس نے چہرہ میرے سینے سے پیچھے کیا
اور بولی بھیا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جیسے میں کہوں گی ویسے کرو گے نا؟ میں نے کہا
ہاں کروں گا گڑیا تمہارے لیے تو جان بھی حاضر ۔ اس نے آنکھیں پھیلا کہ پوچھا پکا؟؟
میں نے سر ہلایا تو وہ بولی چلو مجھے امی کی گانڈ چاٹ کے دکھاو۔ میرے چہرے پہ ایک
دم الجھن کے تاثرات آ گئے میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ پھر بول اٹھی جان دینے کا
وعدہ کیا ہے اور ابھی سے ڈر گئے۔ میں نے کہا چلو میں ڈرا تو نہیں لیکن میں تم سے
ہٹ کہ کسی اور کی طرف نہیں جانا چاہتا تھا۔ ماہم بھابھی کے پاس بھی تو جاو گے تو
ایک بار میرے کہنے پہ بھی کر دو۔ اس نے مجھے چھاتی پہ مکا مارا اور میرا ہاتھ پکڑ
کہ اندر کمرے میں داخل ہوتی گئی امی کے بیڈ کے پاس جا کہ اس نے امی کو پھر جھنجورا
اور ان کو ہلایا مگر وہ نیند کے گولی کے زیر اثر بالکل کچھ نہ بولیں ملائکہ نے بیڈ
کی ایک سائیڈ پہ پڑا موٹا تکیہ اٹھایا اور امی کے پیٹ کے آگے رکھا اور مجھے امی کو
پکڑتے ہوئے مجھے اشارہ کیا تو میں نے امی کے گداز جسم کو اٹھاتے ہوئے ان کا پیٹ
تکیے پہ رکھ دیا امی کی بھرپور موٹی تازی گانڈ کھل کہ سامنے آ گئی اور ان کی گانڈ
کا گئرا براون سوراخ اور پھدی کے براون ہونٹ اور ان کے درمیان سوراخ واضح ہو گیا ۔
میں نے ملائکہ کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی میں نے اسے گھسیٹ کہ پاس
کیا اور کہا ملائکہ یہ سب ضروری ہے ؟ اس نے کہا ہاں بس دو منٹ کر دو بس ۔ میں نے
سر ہلاتے ہوئے اسے چھوڑا اور امی کے چوتڑ پکڑ کہ کھولے اگر ملائکہ نہ ہوتی تو شائد
میں اس صورتحال سے لطف لیتا لیکن اس کی موجودگی میں مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا
تھا میں نے مجبورا سوراخ پہ زبان رکھی اور اسے ہلکا ہلکا دبایا تو میری زبان کی
نوگ سوراخ میں دھنس گئی ظاہر ہے وہ سوراخ کافی کھلا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کہ دیکھا
تو ملائکہ مجھے دیکھ رہی تھی اور میرے چہرے پہ بے بسی تھی اس نے میرے چہرے پہ بے
بسی دیکھی تو فورا میرے پاس آ گئی اور مجھے پکڑ کہ اٹھا لیا میں امی کے اوپر سے
اٹھا تو ملائکہ نے ان کے نیچے ہاتھ ڈال کہ ان کی شلوار اوپر کی اور ان کے نیچے سے
تکیہ نکال دیا میں سائیڈ پہ کھڑا اسے یہ کرتا دیکھ رہا تھا۔ ایک چھوٹی لڑکی میرے
ہواس پہ ایسے چھا چکی تھی کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آتی تھی ۔ ملائکہ مجھے لیکر ان کے
کمرے سے باہر آ گئی اور باہر نکلتے ہی میرے گلے لگ گئی میں نے بھی اسے سینے سے لگا
لیا اور خاموشی سے اسے چومنے چاٹنے لگا پھر ہم ایک دوسرے کو چومتے اس کے کمرے میں
گھس گئے اور پھر ڈوگی سٹائل میں میں نے اس کی گانڈ مارتے اسے فارغ کیا اور امی کے
جاگنے سے پہلے ایک بار پھر اس کی گانڈ ماری ۔ بعد میں امی بھی جاگ گئیں  ان کا سر
بوجھل تھا لیکن وہ اس سب سے ناواقف تھیں جو ہم نے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ شام
میں ماہم بھی واپس آ گئی۔ پھر زندگی کے لمحے گزرتے گئےدن پر لگا کہ اڑنے لگے جب
بھی ماہم میکے جاتی تو ملائکہ میری آدھی بیوی بن جاتی۔ میرے بھی دو بچے ہو گئے اور
ملائکہ ان پہ جان چھڑکنے لگی۔ محبت کا سفر دن بہ دن جاری رہا اور پھر وہ دن بھی آ
گیا جب اس کی منگنی ایک بہت اچھے نوجوان سے ہو گئی اپنے ہی خاندان میں جس کے دو
تین جنرل سٹور تھے پہلے منگنی ہوئی اور پھر شادی ۔ اس کی شادی پہ میں اور وہ بہت
روئے بہت دن تک روز ہم روتے ہی رہتے اور سب یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ ایک بہن بھائی
کا پیار ہے ۔اس کی شادی کے بعد بھی ہمیں جب بھی وقت ملا تو ہم نے اس موقعہ سے
فائدہ اٹھایا اور پیار کرتے رہے میرے بھی اب چار بچے ہیں اور ملائکہ کے بھی دو بچے
ہیں ۔ اس کے بچے بھی مجھے میرے بچوں کی طرح بابا بولتے ہیں اور وہ ہنستی رہتی ہے
اور ہم سب محبت سے رہتے ہیں پردے کے پیچھے کی کہانی ابھی تک پردے کے پیچھے ہے اور
زندگی گزرتی جا رہی ہے ۔

یہاں کہانی ختم ہوتی ہے اور کہانی حقیقت میں تو موت تک
چلتی رہتی ہے لیکن زیب داستان کے لیے کہانی کو ایک موڑ پہ لا کہ چھوڑنا پڑتا ہے
میں جانتا کہ ابھی اس میں تشنگی کے بہت پہلو ہیں لیکن میرے نقطہ نظر سے کچھ چیزیں
ادھوری اچھی لگتی ہیں کہ بعض چیزیں مکمل ہو کہ اپنا حسن کھو دیتی ہیں ۔ سب کا بہت
شکریہ سلامت رہیں اور خوشیاں تقسیم کرتے رہیں۔(ختم شد)

 

The post میری پیاری بہن ۔۔۔۔(آخری قسط) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/ 0
میری پیاری بہن ۔۔۔۔(قسط 17) https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%82%d8%b3%d8%b7-17/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%82%d8%b3%d8%b7-17/#respond Tue, 12 Aug 2025 17:18:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%82%d8%b3%d8%b7-17/   میں ملائکہ کی بات سن کہ خوشی سے جھوم اٹھا اور مجھے بہت اچھا لگا کہ ملائکہ نے مجھے واضح اشارہ دے دیا ہے ۔ تھوڑی دیر میں ماہم بھی نیچے آئی اور سب سے مل کہ ہم گھر سے نکل پڑے۔ میں ماہم کے امی ابو کے گھر پہنچا وہاں چائے پی کھانا […]

The post میری پیاری بہن ۔۔۔۔(قسط 17) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں ملائکہ کی بات سن کہ خوشی سے جھوم اٹھا اور مجھے
بہت اچھا لگا کہ ملائکہ نے مجھے واضح اشارہ دے دیا ہے ۔ تھوڑی دیر میں ماہم بھی
نیچے آئی اور سب سے مل کہ ہم گھر سے نکل پڑے۔ میں ماہم کے امی ابو کے گھر پہنچا
وہاں چائے پی کھانا کھایا اور ان سب کے روکنے کے باوجود بھی میں وہاں سے نکل آیا
اور کوئی دس بجے کے قریب گھر پہنچا اور گھر میں داخل ہوا تو امی کچن سے نکل کہ آ
رہی تھیں ۔ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے بھی جواب دیا اور مجھ سے ان سب کی
خیر خیریت دریافت کی ۔ پھر انہوں نے مجھے کہا کہ جاو جا کہ آرام کرو میں بھی کمرے
میں جا رہی ہوں ۔ میں نے ملائکہ کے کمرے کی طرف دیکھا تو دروازہ بند تھا ۔ مجھے
بند دروازہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی اور میں اوپر کی طرف بڑھ گیا میں چاہتے ہوئے
بھی ملائکہ کے بارے میں امی سے نہ پوچھ سکا کیونکہ دل میں چور تھا ورنہ اور بات تو
کوئی نہ تھی۔ میں مایوس سا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور وہاں جا کہ کپڑے
تبدیل کر کے بیڈ پہ بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ کیا کروں نیچے جاؤں یا نہیں پھر
خیال آیا امی ابھی کمرے میں گئی ہیں تو جاگ رہی ہوں گی آدھا گھنٹہ انتظار کر لیتا
ہوں۔ میں بیڈ پہ بیٹھ گیا ابھی مجھے بیٹھے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ دروازہ
کھلا اور مجھے سرخ چہرہ لیے ملائکہ دروازے پہ نظر آئی اس کا چہرہ جزبات کی شدت سے
سرخ تھا میں بھی اسے دیکھتے کھل اٹھا لیکن وہ دروازے سے اندر نا آئی تو میں بیڈ سے
نیچے اتر کہ اس کی طرف بڑھا تو وہ ایک دم پیچھے ہٹی اور سرگوشی میں بولی ڈرٹو بھیا
آو ایک سرپرائز دوں ۔ مجھے وہ یہ کہتی ہوئی کنفیوز سی لگی لیکن میں نے کہا او کے
چلو کیا سرپرائز ہے اس نے شرارتی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور بولی دیکھ کہ ہوش اڑ
جائیں گے بس زرا شور نہ مچانا دبے پاؤں چلیں اور جلدی ۔ یہ کہتے ہوئے وہ دوسری طرف
مڑ کہ چل دی میں نے بھی جلدی سے ہاتھ اس کی گانڈ کے درمیان رکھا اور پیچھے چلتا
گیا اس نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی میں بھی اس کے پیچھے
پیچھے سیڑھیاں اترتا گیا جیسے ہی ہم سیڑھیاں اتر کے نیچے پہنچے اس نے مڑ کہ میری
طرف دیکھا اور ہونٹوں پہ انگلی رکھ کہ مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور آگے بڑھ گئی
میں نے پھر ہاتھ اس کی موٹی گانڈ کی گلی میں رکھ دیا اور رکھ کہ اندر کی طرف دبا
دیا اس نے مڑ کہ مجھے دیکھا مگر کچھ بولے بغیر آگے چلتی گئی میں بھی بنا کچھ سوچے
اس کے پیچھے چلتا گیا چلتے چلتے وہ رکی تو میں نے اس سے نظر ہٹا کہ دیکھا تو وہ
امی ابو کے کمرے کی کھڑکی کے آگے کھڑی تھی جہاں ہم کھڑے تھے وہاں ہلکا ہلکا
اندھیرا تھا اور ہم ہیولوں کی طرح نظر آ رہے تھے کھڑکی کے آگے وہ رکی تو میں نے
سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھاکہ
پردے کے درمیان سے کافی ساری جھری تھی اور اندر کمرے میں بلب روشن تھا لیکن سامنے
جو نظارہ تھا مجھے خواب میں بھی اس کی توقع نہ تھی امی کی ٹانگیں ہوا میں تھیں اور
ابو ان کی ٹانگوں کے درمیان اپنا لن ان کی پھدی میں گھسا کہ دھکے لگا رہے تھے اور
ہم ابو کی پشت کی طرف تھے یعنی ہمیں ابو کی گانڈ کے نیچے سے امی کی گانڈ اور پھدی
میں ان کا لن آتا جاتا سامنے نظر آ رہا تھا لیکن ان کے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے ۔
ابو کا لن جو تقریبا پانچ انچ لمبا تھا امی کی پھدی میں مسلسل اندر باہر ہو رہا
تھا اور نیچے ان کی گانڈ کا گئرا براون سوراخ کھل اور بند ہو رہا تھا لیکن ان کی
آواز باہر نہیں آ رہی تھی میں تو اس نظارے میں کھو سا گیا اور مجھے احساس ہی نہ
رہا کہ میری بہن میرے ساتھ کھڑی یہ سب دیکھ رہی ہے میرا لن یہ منظر دیکھتے ہی کھڑا
ہو چکا تھاامی کا گورا سفید جسم مجھے سامنے جو حصے تھے نظر آ رہے تھے اور ان کے
بازو ابو کی کمر پہ تھے اور ان کی ٹانگیں ہوا میں بلند تھیں یہ دیکھتے ہی میں نے
اپنے لن کو پکڑ کہ مسلہ میرا چہرہ شدت جزبات سے سرخ ہو چکا تھا کہ مجھے اپنے ساتھ
ملائکہ لگتی ہوئی محسوس ہوئی اس کی نظریں بھی اندر کا منظر دیکھ رہی تھیں اور اس
کا ہاتھ بھی اپنی رانوں کے درمیان تھا

میں نے بائیں ہاتھ سے اپنا لن سہلایا اور دایاں ہاتھ
ملائکہ کی کمر سے نیچے اس کے کولہوں سے پکڑ کہ ساتھ لگا لیا اس کے ممے میرے سائیڈ
سینے پہ لگے اور میری ساتھ جڑتی گئی میں نے لن کو سہلاتے ہوئے ہاتھ اس کے چوتڑوں
میں پھیرتے ہوئے ایک انگلی سے اس کا سوراخ تلاش کرنا شروع کر دیا ۔ ملائکہ نے میری
طرف دیکھا اندھیرے کی وجہ سے مجھے اس کے تاثرات نظر تو نہ آئے وہ اپنا منہ میرے
کان کے قریب کرتے ہوئے سرگوشی میں بولی ننی سی جان پہ اتنا ظلم نہ کرو ڈرٹو بھائی
آپ کے لیے بہتر سوراخ وہ سامنے والا ہے آپ کا وہ ادھر جا سکتا ہے مجھ معصوم سے
نہیں برداشت ہو گا اس کی سرگوشی میں بھی شرارت تھی ۔ میں نے بھی اس کے کان میں بات
کرنے کے بہانے اس کے کان کی لو کو چوما تو وہ سسکتے ہوئے میرے سینے سے لگ گئی اور
مجھے اپنی بانہوں میں کس کہ چہرہ میرے سینے پہ چھپاتے ہوئے بولی بدتمیز یہ نظارہ
روز نہیں ملتا یہ دیکھنے دو پہلے ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ پہلے بھی یہ دیکھتی رہی ہے
لیکن میں کچھ نہ بولا اور اسی طرح اسے خود سے لپٹائے اندر دیکھنے لگا ملائکہ کی
گرم سانسیں مجھے چہرے اور گردن پہ محسوس ہو رہی تھیں اندر چودائی اپنے پورے زوروں
پہ تھی لیکن کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے ہم آواز سے محروم تھے ۔ امی کے گورے چوتڑوں
کے درمیان ان کا سوراخ بہت حسین لگ رہا تھا ۔ ابو ان کے اوپری جسم پہ جھکے کچھ چوم
رہے تھے جو ان کے نیچے ہونے کی وجہ سے ہمیں نظر نہیں آ رہا تھا امی نے ابو کی کمر
کو سہلانا جاری رکھا ہوا تھا ابو لن کو پھدی سے کھینچ کہ باہر تک لاتے اور اگلا
دھکا زور سے لگاتے جس سے ان کے ٹٹے زور سے پھدی اور گانڈ کے سوراخ کی درمیانی جگہ
لگتے ۔ جب وہ لن کو زور سے اندر دھکیلتے تو گانڈ کا سوراخ بند ہو جاتا اور جب وہ
لن کو پھدی سے باہر کھینچتے تو سوراخ نیچے کھل جاتا ۔ میں زندگی میں پہلی بار کسی
کا لائیو سیکس دیکھ رہا تھا جس کی مجھے کوئی توقع تک نہ تھی ۔ ملائکہ میرے سینے سے
لگی تھی اس کے ممے میرے سینے پہ دبے ہوئے تھے اور میرے ہاتھ اس کے چوتڑوں پہ تھے
میرا لن اس کی نرم نرم ہھدی سے اوپر اس کی ناف کی طرف کھڑا تھا اور ہم دونوں جزبات
کی شدت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اچانک ابو جھٹکے لگاتے لگاتے رکے اور انہوں نے اپنا لن
پھدی سے باہر نکالا تو پھدی کے ہونٹ اور لن گیلے ہونے کی وجہ سے چمک رہے تھے امی
کی ٹانگیں اسی طرح ہوا میں رکھتے ابو نے انہیں کچھ کہا اور لن کو پھر پھدی کی طرف
بڑھایا ۔ امی نے ایک ہاتھ سے ابو کے لن کو پکڑا اور گانڈ کے سوراخ پہ ہلکا سا رگڑا
ابو نے شائد ہاتھ پہ تھوک لگا کہ ان کی گانڈ پہ ڈھیر سارا تھوک لگایا اور لن کو
سوراخ کی طرف بڑھایا تو امی نے لن کو پکڑ کہ سوراخ پہ فٹ کیا ان کے چہرے ہمیں نظر
نہیں آ رہے تھے صرف پیچھے کھڑے ہونے کی وجہ سے نچلے جسم کی حرکات واضح تھیں

ابو نے اپنا اکڑا ہوا لن جو کہ امی کی پھدی کے پانی سے
گیلا چمک رہا تھا اسے موٹی گوری سفید گانڈ کے گہرے براون سوراخ پہ رکھا تو پورا
سوراخ ان کی لن کی نوک کے نیچے دب گیا وہ امی کے اوپر سوار تھے اور امی کے گھٹنے
ان کے پیٹ سے لگے تھے باہر ملائکہ میرے سینے سے لگی تیز تیز سانسیں لے رہی تھی اور
میرے ہاتھ اس کے موٹے چوتڑون کا طواف کر رہے تھے اور اس کے نرم نرم ممے میری چھاتی
سے پیوست تھے میں نے ہاتھ اس کے شلوار کی سائیڈز میں لائے اور اسکی شلوار کھینچ کہ
اس کے چوتڑوں سے نیچے کر دی اور اپنے اکڑے ہوئے لن کو باہر نکالتے ہوئے اس کی قمیض
کا دامن اوپر کرتے ہوئے اس کی نرم نرم رانوں میں دھنسا دیا جو اس کی پھدی کے
ہونٹوں سے رگڑ کھاتا ہوا اس کی ٹانگوں سے پیچھے گیا اور میں نے اس کے ننگے بھاری
چوتڑ ہاتھوں میں پکڑنے کی کوشش کی ملائکہ نے منہ پہ ہاتھ رکھ کہ اپنی سسسکی روکی
اور مجھے چھاتی پہ ہلکا سا مکا مارا اور سرگوشی میں بولی گندے زرا دیکھنے دو نا
اور خود بھی دیکھو ۔ میں نے اندر دیکھا تو لن کی نوک امی کی گانڈ کے سوراخ کو
کھولتی ہوئی اندر گھس چکی تھی اور وہ امی کے اوپر جھکے شائد ان کے ممے چوم رہے تھے
یا چہرہ کیونکہ وہ ان کے نیچے ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آ رہا تھا لیکن حرکات سے
یہی لگ رہا تھا کہ کچھ چوم رہے ہیں ۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آہستہ آہستہ
لن کو اندر دباتے گئے جیسے سرنج لگانے والے آہستہ سے سوئی گھساتے ہیں اور ہمارے
دیکھتے ہی دیکھتے پورا لن امی کی گانڈ میں غائب ہو گیا ۔ میں ملائکہ کی رانوں میں
لن دبائے اس کے چوتڑ پکڑے ہلکے ہلکے دھکے لگا رہا تھا اور لن اس کی پھدی سے رگڑ
کھاتا ہوا اس کی ٹانگوں میں آگے پیچھے ہو رہا تھا اور ہم دونوں اندر کے نظارے کو
دیکھ رہے تھے ۔ پورا لن امی کی گانڈ میں غائب ہوتے دیکھ کہ ملائکہ نے سسکی بھری
اور بولی اففففف برمودا ٹرائی اینگل میں جہاز کئی ننے منے بچوں سمیت غرق ہو گیا۔
جدھر ہم کھڑے تھے وہاں اندھیرا تھا مگر مجھے اس کی سرگوشی میں شرارت واضح محسوس
ہوئی ۔ میں بھی مسکراہٹ کو دباتے ہوئے بولا برمودا ٹرائی اینگل کے بجائے کے ٹو کی
پہاڑیاں سمجھ لو جن کے درمیان اندھی گئری کھائی ہے کہ جو اا کھائی میں گرا تو
لاپتہ ہی ہو گیا وہ بھی دبی دبی آواز میں ہنس پڑی ۔ کمرے کے اندر لن اب پوری رفتار
سے اندر باہر ہو رہا تھا اور ابو لن کو کھینچ کہ باہر لاتے اور نوک باہر نکلنے سے
پہلے ہی پھر زوردار دھکے سے لن کو اندر دھکیل دیتے امی نے دونوں ہاتھوں سے اپنے
بھاری چوتڑ تھام رکھے تھے اور ہر جھٹکے پہ وہ ان کو گانڈ اٹھا کہ رسپانس دے رہی
تھیں میں نے بھی دائیں ہاتھ سے ملائکہ کی گانڈ کی گلی کو ٹٹولا اور اس کے سوراخ کو
سہلانے لگ گیا ۔ وہ انتہائی شوق سے اندر کھ مناظر دیکھتے ہوئے ہلکا ہلکا سسک رہی
تھی ۔ اندر کے مناظر دیکھتے ہوئے وہ پھر بولی اے عظیم ماں تیری عظمت کو سلام اس
گندے بھائی کی انگلی نے مجھے دو دن جلن کیے رکھی اور اپ ان کی تین انگلیوں جتنا
سوئی سمجھ کہ لے رہی ہو ۔ اسکی اس بات پہ مجھے بہت ہنسی آئی اور میں نے اپنک منہ
اس کی گردن پہ دبا کہ اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا تو اس نے ایک بار پھر سسکتے ہوئے
کہا او بہن چود دیکھنے دو نا یہ سب دیکھوں گی تو سیکھوں گی نا اور پوری رات پڑی ہے
ابھی پہلے یہ دیکھ لو میں کونسا بھاگ رہی ہوں ۔ میں نے مسکراتے ہوئے منہ پیچھے کیا
اور اندر کا نظارہ دیکھنے لگا جہاں اب لگتا تھا ابو ایک منٹ مشکل سے نکال پائیں گے
کیونکہ ان کے جھٹکے شدت اختیار کرتے جا رہے تھے ملائکہ نے اسی طرح میرے سینے سے
لگے پوچھا اوئے ڈرٹو بھابھی کو ایسے ہی کرتے ہو کیا؟ میں نے ایک لمبی سانس بھری
اور کہا نہیں ملائکہ میرا ایسا نصیب کدھر کہ اس طرح کر سکوں اور دوسرا اس کی گانڈ
تو بس ہڈیاں ہی ہیں اتنی پیاری کدھر؟ ویسے امی کا جسم شاندار ہے نا ملائکہ نے اندر
دیکھتے ہوئے پھر سرگوشی کی۔ میں نے اسی طرح اس کی گانڈ کو ٹٹولتے ہوئے کہا ملائکہ
جتنا بھی شاندار ہو تمہاری اس کے برابر کچھ بھی نہیں ہے تم سب سے خوبصورت ہو
تمہارے جسم کا ایک ایک حصہ کمال ہے ۔ ملائکہ میرے ساتھ اور چپک گئی اور اندر
دیکھنے لگی میں بھی اس کے جسم کو سہلاتا اندر دیکھتا گیا جہاں ابو نے طوفانی دھکے
لگائے اور پھر لن کو زوردار طریقے سے امی کی گانڈ میں گھسیڑتے ہوئے ان کا جسم
جھٹکے کھانے لگا نیچے امی کا جسم بھی کمان کی طرح اوپر اٹھ چکا تھا اور ان کی
شاندار چدائی آخری لمحات پہ تھی

ابو کے جسم نے دو تین جھٹکے لیے اور انہوں نے اپنا آپ
امی پہ ڈھیلا چھوڑ دیا نیچے امی بھی ڈھیلی پڑتی گئیں لو جی طیارہ منزل پہ پہنچ گیا

آخر ملائکہ نے ایک بار پھر تبصرہ کیا میرا لن ملائکہ کی
پھدی کے نیچے تھا جس پہ اب واضح ملائکہ کی پھدی سے نمی رستی محسوس ہو رہی تھی مجھے
بھی لگا کہ کہ اب ابو اٹھ کہ باہر ہی نہ آئیں تو میں نے ملائکہ سے کہااب چلیں ان
میں سے کوئی باہر نہ آئے تو وہ دبی دبی ہنسی کے درمیان بولی اب تھوڑی دیر یہ ہل
بھی نہیں سکیں گے آپ فکر نہ کرو ۔ ملائکہ کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ ابو نے
اپنا لن امی کی گانڈ سے باہر کھینچا تو امی کی گانڈ کا

o
شیپ کا کھلا سوراخ سامنے نظر آیا تو میرے ساتھ ملائکہ
کے جسم کو بھی جھٹکا لگا اور بولی افففف یہاں تو پوری غار بنی ہوئی ہے تو ۔ میں
بھی اتنے کھلے سوراخ کی توقع نہیں کر رہا تھا لن نے واقعی سوراخ کو کھول کہ رکھ
دیا تھا ابو جیسے ہی لن کھینچ کہ اوپر سے نیچے اترے تو امی نے بھی ٹانگیں سیدھی
کیں اور ایک دم الٹی ہوتی گئیں ابو ان کے اوپر سے نیچے اترے اور ان کی گانڈ کو
ہلکا سا تھتپھا کہ سائیڈ پہ لیٹے اور اپنی ایک ٹانگ ان کی گانڈ سے زرا نیچے رکھتے
ہوئے ان سے چپک گئے ۔ امی نے بھی اوپر سے منہ ان کے منہ سے جوڑا اور ہونٹ چوس کہ
آنکھیں بند کر لیں ۔ میں اس منظر میں کھویا ہوا تھا کہ ملائکہ پھر بولی لو جی
دونوں کو شانتی مل گئی اور تن من دھن لن سب سکون میں کھو گئے اور میرے سینے سے لگی
مسکرا گئی ۔ میں نے کہا چل گڑیا اب اوپر چلتے ہیں اور اسے چھوڑ دیا وہ مجھ سے
پیچھے ہٹی اور سر ہلا دیا اور میرے ساتھ چلنے لگی لیکن مجھے یہ دیکھ کہ عجیب لگا
کہ ملائکہ نے شلوار اوپر نہیں کی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کہ ملائکہ کی ننگی گانڈ کے
درمیان رکھ دیا اور وہ میرے ساتھ چپکی چلتی گئی ۔ اسی طرح جب ہم سیڑھیاں چڑھنے لگے
تو ملائکہ کی گانڈ تھوڑی سی کھل گئی اور میرا ہاتھ ملائکہ کی پھدی کے ارد گرد لگا
اور مجھے جگہ گیلی محسوس ہوئی اور میرے اندر ایک کمینی خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ
ملائکہ کو بھی یہ سب اچھا لگ رہا ہے ہم کمرے میں داخل ہوئے تو ملائکہ ایک دم میرے
سینے سے لگ گئی اور تھوڑی سنجیدہ انداز میں بولی بھیا میں آ گئی ہوں لیکن اب میرا
کنوارہ پن آپ کے ہاتھ ہے تو پلیز اس کا خیال رکھنا باقی میں آپ کو نہیں روکتی لیکن
پلیز کل مجھے کسی اور کی ہونا ہے آپ کی حسرت ہے بڑی گانڈ دیکھنا تو میں اس لیے آ
گئی ہوں اپنی حسرت پوری کر لیں ۔ میں نے اسے بازوں میں بھینچ کر ملائکہ کے ماتھے
پہ پیار کیا اور کہا تم فکر نہ کرو جانی تمہیں مجھ سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ۔میں
جانتی ہوں یہ تو تبھی آپ کے پاس آئی ہوں ملائکہ نے مجھے یہ کہا تو میں نے ملائکہ
کے ہونٹوں کو ہونٹوں میں بھر لیا اور پہلی بار ملائکہ نے جوابا میرے ہونٹ چوسنا
شروع کر دئیے میں نے ملائکہ کے اوپری ہونٹ کو چوستے ہوئے اپنے ہاتھ ملائکہ کے مموں
پہ رکھے تو ملائکہ نے ایک دم میرے ہاتھ پکڑ لیے اور ہونٹوں سے ہونٹ چھڑاتے ہوئے
بولی بھیا پلیز ان کو نہ دبائیں میں نے سنا ہے مرد کا ہاتھ لگنے سے ان کی شیپ خراب
ہو جاتی ہے ملائکہ کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور ان میں نشہ تھا میں نے کہا ٹھیک
ہے گڑیا مگر ننگی تو ہو جاو پلیز ۔ ملائکہ نے میری بات مانتے ہوئے بازو اوپر اٹھا
دئیے اور میں نے ملائکہ کی قمیض پکڑ کر بازو سے باہر نکال دی اور پھر ملائکہ کی
اتری ہوئی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ملائکہ نے ایک ہاتھ میرے کندھے پہ رکھتے
ہوئے شلوار اتار دی ۔ کمرے میں لایٹ جل رہی تھی اور ملائکہ کا ننگا جسم دھمک رہا
تھا میں نے ملائکہ کو دل سے لگایا اور ملائکہ کی برا کے ہک کھول دیے اور اپنے جسم
سے کپڑے نکال کہ پھینک دئیے اب ہم بہن بھائی بالکل برہنہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے
تھے ملائکہ کا سینہ تیز سانس لینے کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہا تھا لیکن وہ میری
آنکھوں میں دیکھ رہی تھی پھر ملائکہ نے بازو اٹھائے اور اپنے بالوں کو سیٹ کرنے
لگی جس سے ملائکہ کے ممے ابھر کہ سامنے ہوئے تو بھوکوں کی طرح اس پہ ٹوٹ پڑا اور
اسے بازو میں بھر کہ بے تحاشہ چومنے لگا ملائکہ بھی شرمیلی ہنسی ہنستے ہوئے مجھ سے
چمٹ گئی اور میری کمر کو سہلانے لگی ۔ میں نے دونوں بازو ملائکہ کے چوتڑوں کے نیچے
سے گزارے اور اسے اٹھا لیا اور بیڈ کی طرف چل پڑا جیسے ہی میں نے اسے اٹھایا تو وہ
ہنستے ہوئے بولی بھیا دیکھنا کل ڈولی بھی اٹھاو گے اس کے لیے بھی کچھ چھوڑنا ۔ میں
نے ملائکہ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور اسے بیڈ پہ آرام سے لٹاتے ہوئے ملائکہ
کے اوپر سوار ہو گیا

جیسے ہی میں ملائکہ کے ننگے جسم پہ سوار ہوا تو ملائکہ
نے مسکراتے ہوئے کہا ننی سی جان پہ ظلم نہ کرنا بھیا سارا کچھ آپ کو سونپ چکی میرا
اعتماد میری وہ نہ کھول دینا ۔ میں نے ہستے ہوئے ملائکہ کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں
بھر لیے اور دونوں ہاتھوں میں ملائکہ کے نرم گال تھام لیے ۔ ملائکہ نے بھی میرے
ہونٹ چوسنا شروع کر دئیے اور مزے کی ایک لہر میرے وجود میں دوڑتی گئی میں ملائکہ
کے اوپری ہونٹ کو چوستا اور وہ میرے نچلے ہونٹ کو ہونٹوں میں بھر لیتی میں نچلے
ہونٹ پہ آتا تو وہ اوپری ہونٹ کو ہونٹوں میں پکڑ لیتی۔ مزے اور سرور سے بے خود
ہوتے ہوئے میں نے اپنا لن ملائکہ کی نرم رانوں میں ملائکہ کی پھدی کو رگڑتے ہوئے
دبایا اور ملائکہ کے ہونٹ چوستا گیا پھر میں نے ملائکہ کے ایک گال کو چوما اور پھر
دوسرے گال کو چوما پھر ملائکہ کی آنکھوں کو باری باری چوما اور اور گالوں سے ہوتے
ہوئے گردن پہ پیار کیا ۔ ملائکہ کے مموں کو ہلکا سا پیار کرتے ہوئے میں نے اپنے
لونٹ ملائکہ کے مموں کے درمیان لگاتے ہوئے نیچے گھسیٹے تو اوئی امیییییییی کرتے
ہوئے ملائکہ سسکنے لگ گئی اور ملائکہ کی سانسیں بہت ہی تیز چلنے لگیں میں مسلسل
پیار کرتے اوپر سے نیچے کا سفر کرنے لگا اور ہونٹ ملائکہ کی پھدی پہ رکھ کہ ملائکہ
کی پھدی کے ہونٹوں کو چوم لیا جس سے ملائکہ کا سارا جسم زور سے کانپا اور ملائکہ
نے کہا بھائی ایک بات تو بتائیں ملائکہ کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی اگر ہماری گلی
میں ٹرک گھسے تو کیا ہو گا؟ اس بے موقع سوال کی مجھے کوئی سمجھ تو نہ آئی مگر میں
نے کہا کہ ظاہر ہے بہت ٹوٹ پھوٹ ہو جائے گی ٹرک کی بھی اور گلی کے کونے کے مکان کی
دیواریں بھی ۔ ساتھ ساتھ میں ملائکہ کی رانوں کو چوم رہا تھا میں نے ملائکہ کی طرف
دیکھا تو ملائکہ کی آنکھیں نیم بند تھی اور ملائکہ نے نچلا ہونٹ اوپر والے ہونٹ سے
دبایا ہوا تھا۔ تو بھیا جب آپ اپنا وہ مجھ میں ڈالو گے تو بھی ٹوٹ پھوٹ بہت ہو گی
نا مجھے ڈر لگتا ہے ملائکہ نے سسکتے ہوئے کہا۔ میں ملائکہ کی بات سمجھ گیا اور کہا
ڈرو نہیں سب بہتر ہو جائے گا بس مزہ لو اس ساری صورتحال کا ۔ ملائکہ نے پھر کہا اس
دن بھی مزہ ہی لیا تھا پھر دو دن گانڈ میں جلن ہوتی رہی آپ نے بھی انگلی ہی چڑھا
دی تھی۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا ابھی دیکھ کہ آئی ہو تھوڑی سی برداشت سے کتنی بڑی
بڑی چیزین لیجا سکتی ہیں ملائکہ نے ہنستے ہوئے میرے سر پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور
بولی مجھے ان سے کدھر ملا رہے ہو ہماری عمر سے زیادہ تو انہیں یہ کام کرتے وقت گزر
گیا ہے ۔ میں نے کہا فکر نہ کرو میں تمہیں بھی عادی کر دوں گا پھر جلن نہیں ہو گی
۔ ملائکہ نے زیر لب کہا بدتمیز نہ ہو تو۔ میں پھر اسے چومنے لگ گیا اور وہ میرے
نیچے سسکتی گئی۔ تھوڑی دیر ایسے چوستے چومتے ہی گزری تھی کہ وہ پھر بولی بھیا اب
جان بچنی تو مشکل ہے بس یہ خیال کرنا درد کم سے کم ہو ۔ میں ملائکہ کے اوپر ہوا
اور ملائکہ کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ فکر نہ کرو بہنا میں تم میں کچھ نہیں
گھساتا بس ہم یوں ہی پیار کریں گے ۔ ملائکہ کے چہرے پہ بے یقینی کے تاثرات ابھرے
اور بولی کیا سچ کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا ہاں بے فکر رہو تمہاری مرضی کے بغیر کچھ
نہیں ہو گا اور اسے الٹا ہونے کا اشارہ کیا اور ملائکہ ایک دم الٹی ہو گئی میں
ملائکہ کے اوپر چڑھتے ہوئے ملائکہ کی گردن پہ اور کندھوں کے درمیان پیار کرتے ہوئے
ہاتھوں سے ملائکہ کے کندھے سہلاتا گیا اور وہ نیچے سسکتی مچلتی گئی ۔ میرا دل کر
رہا تھا میں بہن کو اس کے گورے کنوارے بدن کو چومتا ہی جاوں اور پھر میں چومتا ہی
گیا اسے چومتے چومتے مجھے شائد دس منٹ ہو گئے تھے میں اس کی کمر ملائکہ کے چوتڑوں
کو چومتے ہوئے ملائکہ کی پنڈلیوں تک جاتا اور پھر پاوں کے تلوے چومتے ہوئے اوپر
رانوں کی طرف جاتا پھر ملائکہ کی گانڈ کی سائیڈ پہ چومتے ہوئے سوراخ پہ زبان
پھیرتے ملائکہ کی پھدی کو چوستا اور اوپر کمر کی طرف بڑھ جاتا ۔ اس دس منٹ کی کوشش
میں ملائکہ ایک بار فارغ ہو کہ پھر سسکیاں بھر رہی تھی اور ہماری صرف سانسیں کمرے
میں گونج رہی تھی۔ ملائکہ نے سسکتے ہوئے پھر پوچھا بھائی کتنی دیر اور کرو گے؟ میں
نے بھی اسے چومتے ہوئے کہا پوری رات صرف چومنا ہے بس ۔ ملائکہ نے کراہتے ہوئے کہا
بھیا ننی سی جان پہ اتنا ظلم مت کرو مجھ سے نہیں برداشت ہوتا اس کے ساتھ ملائکہ نے
سیدھا ہونے کی کوشش کی تو میں ملائکہ کے اوپر سے اتر کر اسے سیدھا کیا ملائکہ نے
سیدھی ہوتے ہی اپنے ٹانگیں اٹھا لیں اور ایک ہاتھ اپنی پھدی پہ رکھ دیا ۔ میں سمجھ
گیا کہ ملائکہ بہت گرم ہو چکی ہے میں نے ملائکہ کا ہاتھ نرمی سے ہٹایا اور ملائکہ
کی پھدی کو چوم لیا ملائکہ نے ایک جھٹکا کھایا اور اپنے ہاتھ میرے سر کے بالوں میں
پھیرتی ہوئی اونچی آواز میں بولی افف بھائی آآآآآآآہ آآآآآآآآآآآآآہ  اور ملائکہ کا جسم
نیچے سے اوپر اٹھتا گیا اور ملائکہ نے میرا سر اپنی نرم رانوں میں دبا لیا میری
بہن ایک بارپھر منزل پہ پہنچ چکی تھی

The post میری پیاری بہن ۔۔۔۔(قسط 17) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%82%d8%b3%d8%b7-17/feed/ 0
میری پیاری بہن (قسط 16) https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16/#respond Mon, 11 Aug 2025 19:06:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16/   میں نے ایک نظر امی کی طرف دیکھا اور یہ زندگی میں پہلی بار تھا کہ میں ان کو کسی اور نظر سے دیکھ رہا تھا، امی کے جسم کے نشیب و فراز اور چہرہ فلمسٹار صائمہ کے جیسا ہے، کچھ لوگ اسے ضرور جانتے ہوں گے اور ان کے چہرے میں ایک عجیب […]

The post میری پیاری بہن (قسط 16) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں نے ایک نظر امی کی طرف دیکھا اور یہ زندگی میں پہلی
بار تھا کہ میں ان کو کسی اور نظر سے دیکھ رہا تھا، امی کے جسم کے نشیب و فراز اور
چہرہ فلمسٹار صائمہ کے جیسا ہے، کچھ لوگ اسے ضرور جانتے ہوں گے اور ان کے چہرے میں
ایک عجیب سی کشش تھی ۔ میں نے ایک نظر ان پہ ڈالی اور شریف ہو کہ بیٹھ گیا، تھوڑی
ہی دیر میں ملائکہ بھی چائے لیکر آ گئی اور ماہم بھی پہنچ آئی اور ہم لوگ گپ لگاتے
ہوئے چائے پینے لگے، ابو اور ماہم سامنے کرسیوں پہ بیٹھے تھے جبکہ میں اور ملائکہ
امی کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ امی نے ایک ٹانگ فولڈ کی ہوئی تھی اور دوسری ٹانگ
اٹھا کر بینڈ کی ہوئی تھی ملائکہ والی طرف سے ان کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔
ملائکہ نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا بھائی پیچھے ہو کہ بیٹھو، آپ کے بیٹھنے کے انداز
سے لگتا ہے آپ ابھی نیچے گر جاؤ گے ۔ میں نے اس کی بات سنتے ہی اپنا آپ تخت پوش پہ
کر لیا ۔ اور سب میرے اس طرح کرنے پہ ہنس پڑے، مجھے بھی ملائکہ کی اس بات کی سمجھ
نہ آئی تھی، ملائکہ اچانک امی کے پیچھے ہوتے ہوئے بسکٹوں کی پلیٹ میری طرف بڑھاتے
ہوئے بولی بھیا یہ بسکٹ لیں اور اس کا اوپری چہرہ اور دھڑ امی کے پیچھے ابو اور
ماہم سے اوجھل ہوا تو اس نے بسکٹ کی پلیٹ مجھے تھمانے کے بہانے امی کے چوتڑوں کے
پیچھے دوسرا ہاتھ اس طرح گھسیٹا کہ ان کی قمیض ان کے بھاری چوتڑوں سے ہٹ گئی اور
اور ان کے بھاری کولہوں سے اوپر کمر کا کچھ حصہ جھلکنے لگا ۔ ملائکہ نے مجھے آنکھ
مارتے ہوئے پلیٹ واپس کھینچ لی اور آگے مڑ گئی ۔ میں ایک عجیب صورتحال کا شکار ہو
چکا تھا، سامنے ابو اور ماہم تھے اور دوسری طرف ایک نظارہ تھا، میں چاہ کہ بھی اس
طرف نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ ملائکہ کہنے کو تو چائے پی رہی تھی مگر وہ بار بار مجھے
بھی نوٹ کر رہی تھی اور میں چاہ کہ بھی امی کی طرف نہیں دیکھ پا رہا تھا، ساتھ
مجھے سامنے بیٹھے ابو اور بیوی کا بھی خیال تھا ۔ دل مین چور نہ ہو تو بندہ ہزار
بار بھی دیکھتا ہے، اپنے دل میں چور ہو تو ایک بار دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔
امی اسی طرح بیٹھی ہوئی تھیں اور چائے پی رہی تھی اور اسی طرح ہماری چائے ختم ہو
گئی اور وہ برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئیں اور میں باہر ہی بیٹھا رہ گیا اور امی
پھر نیم دراز ہو گئیں اور میری طرف ان کی کمر تھی اور سامنے ابو بیٹھے ہوئے تھے ۔
میں نے دل ہی دل میں ملائکہ کو کوسا کہ منحوس نے مجھے کس کام پہ لگا دیا ہے کہ اب
زلالت کی انتہا ہی ہو گئی ہے ۔ میں بیٹھا اپنے آپ کو کوس ہی رہا تھا، ابو بھی
اخبار پڑھ رہے تھے کہ مجھے ملائکہ آتی ہوئی دکھائی دی، اس کے چہرے پہ ہمیشہ کی طرح
مسکراہٹ تھی اور مجھے دیکھتے ہی وہ مسکراہٹ اور گئری ہو گئی ۔ اور مجھے مخاطب کرتے
ہوئے بولی علامہ اقبال بھی اگر بھائی کو دیکھتے تو شرمندہ ہو جاتے، اتنا تو انہوں
نے پاکستان کے لیے نہیں سوچا تھا، جتنا بھائی سوچ رہے ہیں اور لگتا ہے انہوں نے
سوچ سوچ کہ اپنا ایک نیا جہان بنا لینا ہے ۔ امی ابو بھی اس کی بات پہ ہنس پڑے،
میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا جس کی تم جیسی بہن ہو گی اسے سوچنا تو پڑے گا ہی، پتہ
نہیں کس کے نصیب پھوٹیں گے ۔ میری بات سن کہ وہ شرمائی اور بولی اپنی قسمت پہ ناز
کیا کرو، میرے جیسی بہن ملی ہے اور کوئی ہوتی تو لگ پتہ جاتا، اس نے امی ابو سے
نظر بچا کہ مجھے آنکھ ماری اور ہنسنے لگ گئی، اس کی یہ بات سن کہ مجھے بھی ہنسی آ
گئی۔ وہ چلتے ہوئے آئی اور میری اور امی کے درمیان بیٹھ کہ ان پہ اسی طرح نیم دراز
ہو گئ امی نے بھی اوپری بازو اس کے سر پہ رکھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
بوڑھی گھوڑی لال لگام، بڈھی لڑکی کیسے چونچلے کر رہی ہے، میں نے اس کا منہ چڑایا
تو جوابا وہ امی کی طرف چپکتی ہوئی مجھے ٹھینگا دکھانے کے لیے ہاتھ ایسے لائی کہ
اس کے ہاتھ کے ساتھ امی کی قمیض کا دامن ان کے چوتڑوں سے پوری طرح ہٹتا گیا اور اس
نے پوری گانڈ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے انگوٹھا دکھایا ۔ اس کی اس حرکت سے تو میری
جیسے سانس رک گئی اور میں نے فورا ابو کی طرف دیکھا مگر وہ اخبار پڑھ رہے تھے اور
ان کے سامنے اخبار تھی ۔ امی دیکھیں نا بھائی مجھے آپ سے پیار کرتے دیکھ کہ جلتے
ہیں، یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ ان کے اوپر رکھنے کے بہانے سے پھر ان کی بڑی سی گانڈ
پہ پھیرتے ہوئے اوپر والے چوتڑ پہ رکھا اور مجھے آنکھ ماری ۔ مجھے یہ بالکل سمجھ
نہیں آ رہی تھی اب میں کیا بولوں یا کیا کروں ۔ امی نے اسکو اسی طرح مڑے ہوئے کہا
ارے بھائی کو تم اتنا کچھ بولتی ہو اس کا بھی مزاق سن لیا کرو ۔ میں کیوں سنوں ان
کا مزاق، ان کا کام ہے میرے نخرے اٹھائیں، یہ بات اس نے ایک یقین اور فخر سے کہی ۔
میرے جواب دینے سے ہہلے ہی امی نے کہا ہاں تو بھائی بہنوں کا مان ہوتے ہیں نا اور
ایسے ہی بہن کو بھائی پہ فخر ہونا چاہیے ۔ امی کی اس بات پہ مجھے شرم سی محسوس
ہوئی اور اپنا آپ بہت گھٹیا سا لگا، ملائکہ کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی اور وہ
امی سے اس طرح چپکتے ہوئے بولی امی جب بھائی اور بیٹے اتنے ہی اچھے خیال کرنے والے
ہوں تو ہمیں بھی ان کا تھوڑا خیال کرنا چاہیے ہے نا؟ ساتھ اس نے میری طرف بھی پلٹ
کہ دیکھا۔ تھوڑا سا کیوں بیٹا بہت سا خیال کرنا چاہیے، بھائیوں میں تو بہنوں کی
جان ہوتی ہے اور تمہارا اور ہے ہی کون بھلا؟ امی نے اسی طرح لیٹے لیٹے ملائکہ کو
جواب دیا۔ ابو اخبار پڑھ رہے تھے اور میں بھی ملائکہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جو آگے
نیم دراز امی پہ تقریبا چڑھ کہ لیٹی ہوئی تھی، اس کے اور امی کے چوتڑ میرے سامنے
تھے مگر مجھے دیکھتے ہوئے ایک جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی۔ ہاں امی میں بھی یہی سوچ
رہی تھی، یہ ڈرٹو بھائی اتنا خیال کرتے ہیں تو مجھے بھی کرنا چاہیے، بس زرا ان کو
تنگ کرنے میں بھی مزہ آتا ہے، یہ کہہ کر وہ ہنس پڑی اور پھر تھوڑی سنجیدہ ہوتے
ہوئے بولی اب دیکھ لیں نا ہمسائے میں یہ ظہیر لوگ زرا بھی اپنی بہنوں کا خیال نہیں
کرتے ۔ امی نے اس کی بات سنی اور کہا بچہ باقیوں کو دفع کرو، تمہارا بھائی خیال
کرتا ہے نا تو یہ بہت ہے اور ہمیں بھی اچھا لگتا ہے، تم لوگ پیار سے رہتے ہو، بس
اسی طرح پیار سے رہا کرو ۔ ملائکہ نے ان سے چپکتے ہوئے ان کے گال کو چوم لیا اور
کہا ایسا ہی ہو گا امی اور پھر ہمارے درمیان سے اٹھ گئی ۔ اس کے اٹھتے ہی امی کی
آدھے سے زیادہ کمر ننگی میرے سامنے آ گئی اور میری تو جیسے سانس رک گئی، انتئائی
سفید رنگ کی سڈول کمر جس کی سائیڈز ابھری ہوئی اور کمر کے درمیان بھی ایک گلی بنتی
ہوئی نیچے ابھری ہوئی پہاڑیوں کی طرف جا رہی تھی اور پہاڑیوں کی بھی اپنی اٹھان
تھی، فخر سے تنی ہوئی پہاڑیاں یہ بتا رہی تھی کہ جس نے بھی ان کو دیکھا ہو گا اس
گئرائی میں اترنے کی خواہش کیے بغیر نہیں رہ سکا ہو گا ۔ ملائکہ نے مجھے امی کی
طرف دیکھتے دیکھا، میں نے بھی مڑ کہ ملائکہ کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے اشارہ کیا
اور کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ میں اٹھا اور اس کے پیچھے چل دیا، کمرے میں داخل ہوا تو
ملائکہ آگے کھڑی تھی، میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور مڑ کہ دروازے کی
طرف بھی دیکھا تو وہ ہنس پڑی اور بولی یہ چوروں کی طرح پیچھے مڑ کہ کیا دیکھتے ہو،
بھائی ہو میرے، کوئی ڈیٹ پہ محبوبہ سے ملنے تو نہیں گئے۔ مین تھوڑا سا شرمندہ ہوا
اور آگے بڑھ کہ اسے گلے سے لگا لیا، اس نے بھی بازو پھیلا کہ مجھے بانہوں میں لے
لیا اور بولی بھیا پلیز بہت احتیاط کی ضرورت ہے، آپ بھی محتاط رہو، زرا بھابھی
میکے جائیں گی، پھر ہم تفصیل سے بات کر لیں گے، اس وقت تک آپ پلیز محتاط رہو، ساری
عمر کا رشتہ زرا سی حماقت سے خراب نا ہو جائے ۔ میں نے اس کو بازوں میں بھرے ہوئے
کہا ٹھیک ہے میری سمجھدار گڑیا ایسا ہی ہو گا ۔ ہاں امی والا وہ ۔۔ میں اتنا کہہ
کر چپ ہوا تو وہ بولی میری طرف سے ایک مذاق تھا باقی آپ کی مرضی ہے، میں آپ کو تنگ
کر رہی تھی۔ یہ کہہ کر وہ مجھ سے الگ ہوئی اور بولی اب پلیز کچھ دن نارمل رہنا اور
میرے جواب کا انتطار کیے بغیر کمرے سے نکلتی چلی گئی، مجھے بھی اس کی بات سمجھ آ
گئی اور میں اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکلا اور پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ اگلے
کچھ دن اسی روٹین میں گزرے کہ بس نارمل گپ شپ اور گفتگو چلتی رہی اور کوئی خاص بات
نا ہوئی، البتہ ماہم کے ساتھ سیکس میں گالیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور ہم ایک دوسرے
کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دینے لگ گئے تھے، کچھ دن اس روٹین میں گزرتے گیے پھر
ایک دن جمعے کی شام جب ہم سب چائے پی رہے تھے تو ماہم نے امی سے کہا کہ امی میں
امی کو دیکھنے جانا چاہتی ہوں ۔ اس کے جواب دینے سے قبل ہی ابو نے مجھے زرا سختی
سے کہا کہ اتنے دن ہو گئے ہیں بیٹا، یہ بات تمہیں خود سوچنی چاہیے تھی، کل ہی بہو
کو اس کے میکے پہنچاو ۔ میں نے بھی سر جھکا کہ کہا جی ابو۔ امی بھی ہنس پڑیں اور
بولی ضرور جاو بیٹا اور بیشک دو تین دن رہ آنا ۔ ماہم بھی امی کے گلے لگ گئی اور
ان کا شکریہ ادا کرنے لگی، لیکن ملائکہ نے منہ بنا لیا ۔ امی نے اسے دیکھا اور
پوچھا تجھے کیا ہوا ہے لڑکی ؟ تو وہ منہ بسورتے ہوئے بولی میں اکیلی کیا کروں گی
بھابھی کے بغیر ؟ ماہم نے اٹھ کہ اسے گلے سے لگا لیا اوربولی میری بہن اداس ہوتی
ہے تو میں جاتی ہی نہیں ۔ امی نے کسی کے بولنے سے پہلے کہا ارے بچہ تم ضرور جاو،
دو تین دن کی ہی تو بات ہے، یہ بھی بس پاگل ہی ہے ۔ اس کے بعد سب گپ شپ لگاتے گئے
اور پھر اگلے دن ہم اس کے گھر کی طرف تیار ہوئے اور میں تیار ہو کہ نیچے اترا تو
سیڑھیوں کے پاس ملائکہ کھڑی تھی، مجھے دیکھتے ہی وہ کچھ کنفیوز سی لگی تو میں نے
پوچھا کیا ہوا چڑیل ؟؟ وہ اپنی انگلیاں مروڑتے ہوئے سر جھکائے ہکلاتے ہوئے بولی ا
آ آپ رات وہیں رکو گے یا لوٹ کہ آو گے؟ میں نے شرارتی لہجے میں کہا اگر دروازہ لاک
نہ ہونے کی گارنٹی ہو تو لوٹ۔ کہ آوں گا۔ اس نے اسی طرح سر جھکائے ہوئے کہا لاک
بھی نہیں ہو گا اور دروازہ کھلا بھی ہو گا ۔ یہ کہتے ہوئے وہ مڑی اور اندر بھاگ
گئی اور میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔

The post میری پیاری بہن (قسط 16) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-16/feed/ 0
میری پیاری بہن (قسط 15) https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15/#respond Mon, 11 Aug 2025 19:04:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15/   میں نے اپنے آگے جھکی ہوئی ماہم کو دیکھا لیکن مجھے اس میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی، مجھے بس ایک روبوٹ جیسا احساس ہوا اور اسی لمحے میرے زہہن میں خیال آیا کہ خود جو ہوا سو ہوا، اب اس کا تو حق پورا کروں اور پھر میں مشین کی طرح […]

The post میری پیاری بہن (قسط 15) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں نے اپنے آگے جھکی ہوئی ماہم کو دیکھا لیکن مجھے اس
میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی، مجھے بس ایک روبوٹ جیسا احساس ہوا اور اسی
لمحے میرے زہہن میں خیال آیا کہ خود جو ہوا سو ہوا، اب اس کا تو حق پورا کروں اور
پھر میں مشین کی طرح اس میں دھکے لگاتا گیا اور وہ تھوڑی ہی دیر میں فارغ ہو کہ
آگے ہوتی گئی ۔ اس نے میرا لن دیکھا تو اسی طرح اکڑا ہوا تھا، اس نے اپنے منہ پہ
ہاتھ رکھ لیا اور بولی جانی یہ تو ابھی اکڑا ہوا ہے ۔ میں نے سنجیدہ ہوتے کہا تو
اس کا اکڑاو ختم کرنا تمہارا فرض ہے نا ۔ اس نے مسکراتے چہرے سے کہا جانی مجھ سے
نہیں برداشت ہوتا، آپ فارغ ہی نہیں ہوتے تو میں کیا کروں ۔ میں نے کہا مجھے فارغ
کرو، جیسے بھی ممکن ہے، وہ میرے گلے لگتی ہوئی بولی بہن چود، یہ کھوتے والا لن مجھ
سے بار بار نہیں لینے ہوتا، اور میرے ہونٹ چومنے لگی اور ایک ہاتھ سے میرے لن کو
سہلانے لگی اور اس کی مٹھ مارنے لگی ۔ میں نے اس کو ساتھ لپٹا کہ زور سے اس کے
ہونٹ چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے اس کی گانڈ کو پکڑ کہ زور سے دبایا اور پھر دوسرے
ہاتھ سے اس کے ممے کو دبایا ۔ مجھ میں ایک وحشت سی چھا گئی تھی، اس کے منہ سے سسکی
نکلی اور بولی بہن چود میں تیرا ساتھ نہیں دے سکتی، موٹے کٹے یہ گدھے جیسا لن مجھ
سے نہیں لینے ہوتا ۔ تو اس کو ٹھنڈا کرنا تیرا کام ہے نا کمینی عورت، میں نے بھی
اس کے گال کاٹتے ہوئے اسے دبایا ۔ آہ کی آواز کے ساتھ وہ بولی کوشش کر تو رہی ہوں
یار، اب کیا کوئی اور تیرے آگے رکھوں؟ یہ کہتے ہوئے اس نے میرے ہونٹ چوستے ہوئے
میرے لن کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ۔ ہاں جانی رکھ نہ، کس کو رکھے گی، میرے آگے
کوئی اپنی ہی رکھنا سیکسی سی ۔ میں نے وحشت میں اسے بھنبھوڑتے ہوئے کہا۔ میری اتنی
مفت کی کوئی نہیں ہے، اپنی ہی دیکھو، ساری موٹی تازے بنڈ والی ہیں، میری ساری
معصوم اور کمزور ہیں، یہ گدھے جیسا لن نہیں لے سکتی کوئی بھی ۔ میں نے اسے چوستے
ہوئے کہا جانی تیری بھی بڑی سیکسی ہیں نا کئی ۔ اس نے مجھے جواب دئیے بغیر میرے لن
کو مسلنا جاری رکھا اور میرے ہونٹ چوستی گئی، مجھ پہ بھی خماری چڑھتی گئی اور میں
اس کے ہاتھ میں فارغ ہوتا گیا ۔ وہ جلدی سے مجھے چھوڑ کہ پیچھے ہٹی اور نہانا شروع
کر دیا، میں بھی خودکو ریلیکس کرتا رہا اور پھر نہا کہ باہر نکلا، ماہم مجھ سے
پہلے نیچے جا چکی تھی، میں کچن میں داخل ہوا تو ناشتے کی تیاری زوروں پہ تھی، امی
بھی کچن میں تھیں اور ملائکہ بھی۔ ملائکہ نے بھی نہا کہ لباس بدلا ہوا تھا اور کل
کی نسبت یہ لباس اس کے جسم کو کور کیے ہوئے تھا، اس نے ایک نظر مجھے دیکھا تو شرما
کہ دوسری طرف مڑ گئی، میں بھی امی کو سلام کر کہ باہر آ گیا ۔ تھوڑی دیر میں انہوں
نے ناشتہ لگایا اور میں ناشتہ کر کہ دفتر چلا گیا ۔ دفتر سے چھٹی ہوئی تو میں گھر
کی طرف نکلا تو مجھے سب باتوں کا خیال آیا ۔ میں گھر داخل ہوا تو حسب معمول گھر
میں خاموشی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ امی ابو کا کمرہ بھی بند تھا اور ملائکہ کا بھی۔
میں نے ملائکہ کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ لاک تھا، میں مایوس ہو
کہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔ ماہم ٹی وی دیکھ رہی تھی، مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی،
مجھے گلے ملی اور مجھ سے کھانے کا پوچھا اور میرے ہاں کہنے پہ وہ کھانے لینے چلی
گئی ۔ میں بستر پہ لیٹ گیا، ملائکہ کو نہ دیکھ کہ مجھے ایک مایوسی سی ہو گئی تھی،
میرا دل کر رہا تھا کسی بھی طرح مین اسے دیکھ لوں، لیکن اب یہ وقتی مشکل نظر آ رئا
تھا ۔ مجھے اوپر کمرے میں عجیب سی بے چینی تھی، میں کسی بھی طرح ملائکہ کو دیکھنا
چاہتا تھا اور میرا کمرے میں کوئی دل نہیں لگ رہا تھا ۔ میں تھوڑی ہی دیر اوپر
رہا، پھر نیچے اتر ایا اور امی کے پاس بیٹھ گیا جو کہ برامدے میں بیٹھی ہوئی تھیں
۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ملائکہ اہنے کمرے سے نکلتی دکھائی دی، اس نے مجھے دیکھ کر
منہ بنایا اور پھر مسکرا دی۔ اسے دیکھتے میرے چہرے پہ بھی جیسے رونق آ گئی ۔ میں
امی کے پاس تخت پوش پہ بیٹھا ہوا تھا اور امی نے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور
نیم دراز تھیں ۔ مین ان کے پاوں والی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ ملائکہ ان کے سر والی
سائیڈ آ کہ بیٹھ گئی اور مسکراتے ہوئے بولی یہ ماسی فتنہ امی کو کیا ہوا دے رہی
ہیں۔ میں نے امی کی طرف دیکھا اور کہا دیکھ لیں امی مجھے کیا کہہ رہی ہے تو امی کے
چہرے پہ بھی مسکراہٹ آ گئی، ہمارے درمیان ہنسی مزاق ایک معمول کی بات تھی اور امی
جانتی تھیں کہ ہم آپس میں یوں ہنسی مزاق کرتے رہتے ہیں، امی نے اپنا ایک ہاتھ اوپر
کر کہ اس کے سر پہ پھیرا تو میں ان کے قدموں کی طرف تھا، امی نے تقریبا سائیڈ کروٹ
لی ہوئی تھی اور وہ نیم دراز تھیں ۔ ملائکہ نے مجھے دیکھا اور زبان نکال کر چڑایا
اور امی کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو وہ امی کے موٹے
چوتڑوں کی طرف اشارہ کر رہی تھی جن سے قمیض ہٹی ہوئی تھی، میں نے ادھر دیکھتے ہوئے
ملائکہ کی طرف دیکھا تو وہ میرا منہ چڑا رہی تھی، مجھے یہ بات زرا بھی اچھی نہ
لگی، میں نے آنکھوں سے اسے گھورا تو اس نے سر جھکا لیا اور چپ ہو کہ بیٹھ گئی ۔
ملائکہ کی اس حرکت نے مجھے بھی الجھا کہ رکھ دیا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
ملائکہ ایسا کچھ اشارہ کر سکتی ہے۔ ایک عجیب سی چپ ہمارے درمیان چھا گئی، کچھ دیر
کے بعد ملائکہ اٹھی اور کچن کی طرف چل دی، دو تین منٹ بعد میں بھی اس کے پیچھے کچن
کی طرف گیا تو وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی، قدموں کی آہٹ پہ وہ میری طرف مڑی، میں
نے دیکھا تو اس کے چہرے پہ سنجیدگی کے تاثرات تھے۔ میں نے اس کے قریب ہونا چاہا تو
وہ اچھل کہ ایک طرف ہو گئی اور چائے والا مگ میری طرف کر کہ بولی مجھے ہاتھ مت
لگانا، بس ورنہ میں ابھی امی کو آواز دیتی ہوں ۔ میں ہنس کہ رک گیا اور کہا کیا
بات ہو گئی ہے ایسی کہ تم اتنی ناراض ہو رہی ہو ؟ ابھی باہر مجھے گھورا کیوں تھا،
اس نے ماتھے پہ سلوٹ ڈالے میری طرف دیکھا اور آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے۔ اففف
سوری ملائکہ، میں نے اس کی طرف دیکھا اور اس کے آگے ہاتھ جوڑتے اس کے سامنے گھٹنوں
کے بل بیٹھ گیا اور کہا ملائکہ میرا مقصد تمہیں ڈانٹنا نہیں تھا، وہ تو میں امی کی
وجہ سے کہہ رہا تھا، میں اس سے پہلے کچھ اور بولتا تو وہ غصے سے پھنکاری کیوں امی
کے ساتھ رشتہ ہے تو بہن کے ساتھ رشتہ نہیں تھا، وہاں تو آپ کی غیرت جاگ گئی مگر
بہن کے معاملے میں کیوں نا جاگی؟ میں اتنی ہی بری تھی کہ میرا جسم دیکھتے آپ سارے
رشتے بھول گئے؟ میں نے آگے ہو کہ اس کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا ملکہ عالیہ جو کہو گی
وہی ہو گا پلیز غصہ تھوک دو اور اپنے ہاتھوں سے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ اور اس کی طرف
دیکھنے کے بجائے فرش کو دیکھنے لگ گیا۔ دل تو کرتا ہے یہی مگ آپ کے سر میں دے
ماروں ۔ اس کی غصے والی آواز آئی جس کی شدت اب پہلے سے کم تھی۔ جو بھی مارو، مگر
مجھے معاف کر دو، میں نے اسی طرح بیٹھے ہوئے کہا اچھا چلو آپ کو معاف کر دیا، لیکن
میں جو کچھ بھی کہوں گی، اگلی بار آپ اس پہ انکار نہیں کرو گے، یہ وعدہ کرو ۔ میں
نے کہا بالکل وعدہ ہے، تم جو بھی کہو گی میں مان لوں گا، کوئی بحث نہیں کروں گا ۔
او کے، اب اٹھ جاو اور میرے پیر چھوڑ دو، میں نے اس کے پیر چھوڑے اور سیدھا کھڑا
ہو کہ اسے دیکھا، اس کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔ اگلا حکم کیا ہے ملکہ
عالیہ؟ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ جاو جا کر امی کے پاس بیٹھو اور وہیں بیٹھنا
جدھر پہلے بیٹھے تھے، میں نے اس کی بات سن کہ او کے کا اشارہ کیا اور باہر نکل کہ
امی کے پاس بیٹھ گیا، اب سامنے ابو بھی کرسی پہ بیٹھے ہوئے تھے۔

The post میری پیاری بہن (قسط 15) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15/feed/ 0
میری پیاری بہن (قسط 15) https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-2/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-2/#respond Mon, 11 Aug 2025 19:04:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-2/   میں نے اپنے آگے جھکی ہوئی ماہم کو دیکھا لیکن مجھے اس میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی، مجھے بس ایک روبوٹ جیسا احساس ہوا اور اسی لمحے میرے زہہن میں خیال آیا کہ خود جو ہوا سو ہوا، اب اس کا تو حق پورا کروں اور پھر میں مشین کی طرح […]

The post میری پیاری بہن (قسط 15) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں نے اپنے آگے جھکی ہوئی ماہم کو دیکھا لیکن مجھے اس
میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی، مجھے بس ایک روبوٹ جیسا احساس ہوا اور اسی
لمحے میرے زہہن میں خیال آیا کہ خود جو ہوا سو ہوا، اب اس کا تو حق پورا کروں اور
پھر میں مشین کی طرح اس میں دھکے لگاتا گیا اور وہ تھوڑی ہی دیر میں فارغ ہو کہ
آگے ہوتی گئی ۔ اس نے میرا لن دیکھا تو اسی طرح اکڑا ہوا تھا، اس نے اپنے منہ پہ
ہاتھ رکھ لیا اور بولی جانی یہ تو ابھی اکڑا ہوا ہے ۔ میں نے سنجیدہ ہوتے کہا تو
اس کا اکڑاو ختم کرنا تمہارا فرض ہے نا ۔ اس نے مسکراتے چہرے سے کہا جانی مجھ سے
نہیں برداشت ہوتا، آپ فارغ ہی نہیں ہوتے تو میں کیا کروں ۔ میں نے کہا مجھے فارغ
کرو، جیسے بھی ممکن ہے، وہ میرے گلے لگتی ہوئی بولی بہن چود، یہ کھوتے والا لن مجھ
سے بار بار نہیں لینے ہوتا، اور میرے ہونٹ چومنے لگی اور ایک ہاتھ سے میرے لن کو
سہلانے لگی اور اس کی مٹھ مارنے لگی ۔ میں نے اس کو ساتھ لپٹا کہ زور سے اس کے
ہونٹ چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے اس کی گانڈ کو پکڑ کہ زور سے دبایا اور پھر دوسرے
ہاتھ سے اس کے ممے کو دبایا ۔ مجھ میں ایک وحشت سی چھا گئی تھی، اس کے منہ سے سسکی
نکلی اور بولی بہن چود میں تیرا ساتھ نہیں دے سکتی، موٹے کٹے یہ گدھے جیسا لن مجھ
سے نہیں لینے ہوتا ۔ تو اس کو ٹھنڈا کرنا تیرا کام ہے نا کمینی عورت، میں نے بھی
اس کے گال کاٹتے ہوئے اسے دبایا ۔ آہ کی آواز کے ساتھ وہ بولی کوشش کر تو رہی ہوں
یار، اب کیا کوئی اور تیرے آگے رکھوں؟ یہ کہتے ہوئے اس نے میرے ہونٹ چوستے ہوئے
میرے لن کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ۔ ہاں جانی رکھ نہ، کس کو رکھے گی، میرے آگے
کوئی اپنی ہی رکھنا سیکسی سی ۔ میں نے وحشت میں اسے بھنبھوڑتے ہوئے کہا۔ میری اتنی
مفت کی کوئی نہیں ہے، اپنی ہی دیکھو، ساری موٹی تازے بنڈ والی ہیں، میری ساری
معصوم اور کمزور ہیں، یہ گدھے جیسا لن نہیں لے سکتی کوئی بھی ۔ میں نے اسے چوستے
ہوئے کہا جانی تیری بھی بڑی سیکسی ہیں نا کئی ۔ اس نے مجھے جواب دئیے بغیر میرے لن
کو مسلنا جاری رکھا اور میرے ہونٹ چوستی گئی، مجھ پہ بھی خماری چڑھتی گئی اور میں
اس کے ہاتھ میں فارغ ہوتا گیا ۔ وہ جلدی سے مجھے چھوڑ کہ پیچھے ہٹی اور نہانا شروع
کر دیا، میں بھی خودکو ریلیکس کرتا رہا اور پھر نہا کہ باہر نکلا، ماہم مجھ سے
پہلے نیچے جا چکی تھی، میں کچن میں داخل ہوا تو ناشتے کی تیاری زوروں پہ تھی، امی
بھی کچن میں تھیں اور ملائکہ بھی۔ ملائکہ نے بھی نہا کہ لباس بدلا ہوا تھا اور کل
کی نسبت یہ لباس اس کے جسم کو کور کیے ہوئے تھا، اس نے ایک نظر مجھے دیکھا تو شرما
کہ دوسری طرف مڑ گئی، میں بھی امی کو سلام کر کہ باہر آ گیا ۔ تھوڑی دیر میں انہوں
نے ناشتہ لگایا اور میں ناشتہ کر کہ دفتر چلا گیا ۔ دفتر سے چھٹی ہوئی تو میں گھر
کی طرف نکلا تو مجھے سب باتوں کا خیال آیا ۔ میں گھر داخل ہوا تو حسب معمول گھر
میں خاموشی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ امی ابو کا کمرہ بھی بند تھا اور ملائکہ کا بھی۔
میں نے ملائکہ کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ لاک تھا، میں مایوس ہو
کہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔ ماہم ٹی وی دیکھ رہی تھی، مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی،
مجھے گلے ملی اور مجھ سے کھانے کا پوچھا اور میرے ہاں کہنے پہ وہ کھانے لینے چلی
گئی ۔ میں بستر پہ لیٹ گیا، ملائکہ کو نہ دیکھ کہ مجھے ایک مایوسی سی ہو گئی تھی،
میرا دل کر رہا تھا کسی بھی طرح مین اسے دیکھ لوں، لیکن اب یہ وقتی مشکل نظر آ رئا
تھا ۔ مجھے اوپر کمرے میں عجیب سی بے چینی تھی، میں کسی بھی طرح ملائکہ کو دیکھنا
چاہتا تھا اور میرا کمرے میں کوئی دل نہیں لگ رہا تھا ۔ میں تھوڑی ہی دیر اوپر
رہا، پھر نیچے اتر ایا اور امی کے پاس بیٹھ گیا جو کہ برامدے میں بیٹھی ہوئی تھیں
۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ملائکہ اہنے کمرے سے نکلتی دکھائی دی، اس نے مجھے دیکھ کر
منہ بنایا اور پھر مسکرا دی۔ اسے دیکھتے میرے چہرے پہ بھی جیسے رونق آ گئی ۔ میں
امی کے پاس تخت پوش پہ بیٹھا ہوا تھا اور امی نے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور
نیم دراز تھیں ۔ مین ان کے پاوں والی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ ملائکہ ان کے سر والی
سائیڈ آ کہ بیٹھ گئی اور مسکراتے ہوئے بولی یہ ماسی فتنہ امی کو کیا ہوا دے رہی
ہیں۔ میں نے امی کی طرف دیکھا اور کہا دیکھ لیں امی مجھے کیا کہہ رہی ہے تو امی کے
چہرے پہ بھی مسکراہٹ آ گئی، ہمارے درمیان ہنسی مزاق ایک معمول کی بات تھی اور امی
جانتی تھیں کہ ہم آپس میں یوں ہنسی مزاق کرتے رہتے ہیں، امی نے اپنا ایک ہاتھ اوپر
کر کہ اس کے سر پہ پھیرا تو میں ان کے قدموں کی طرف تھا، امی نے تقریبا سائیڈ کروٹ
لی ہوئی تھی اور وہ نیم دراز تھیں ۔ ملائکہ نے مجھے دیکھا اور زبان نکال کر چڑایا
اور امی کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو وہ امی کے موٹے
چوتڑوں کی طرف اشارہ کر رہی تھی جن سے قمیض ہٹی ہوئی تھی، میں نے ادھر دیکھتے ہوئے
ملائکہ کی طرف دیکھا تو وہ میرا منہ چڑا رہی تھی، مجھے یہ بات زرا بھی اچھی نہ
لگی، میں نے آنکھوں سے اسے گھورا تو اس نے سر جھکا لیا اور چپ ہو کہ بیٹھ گئی ۔
ملائکہ کی اس حرکت نے مجھے بھی الجھا کہ رکھ دیا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
ملائکہ ایسا کچھ اشارہ کر سکتی ہے۔ ایک عجیب سی چپ ہمارے درمیان چھا گئی، کچھ دیر
کے بعد ملائکہ اٹھی اور کچن کی طرف چل دی، دو تین منٹ بعد میں بھی اس کے پیچھے کچن
کی طرف گیا تو وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی، قدموں کی آہٹ پہ وہ میری طرف مڑی، میں
نے دیکھا تو اس کے چہرے پہ سنجیدگی کے تاثرات تھے۔ میں نے اس کے قریب ہونا چاہا تو
وہ اچھل کہ ایک طرف ہو گئی اور چائے والا مگ میری طرف کر کہ بولی مجھے ہاتھ مت
لگانا، بس ورنہ میں ابھی امی کو آواز دیتی ہوں ۔ میں ہنس کہ رک گیا اور کہا کیا
بات ہو گئی ہے ایسی کہ تم اتنی ناراض ہو رہی ہو ؟ ابھی باہر مجھے گھورا کیوں تھا،
اس نے ماتھے پہ سلوٹ ڈالے میری طرف دیکھا اور آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے۔ اففف
سوری ملائکہ، میں نے اس کی طرف دیکھا اور اس کے آگے ہاتھ جوڑتے اس کے سامنے گھٹنوں
کے بل بیٹھ گیا اور کہا ملائکہ میرا مقصد تمہیں ڈانٹنا نہیں تھا، وہ تو میں امی کی
وجہ سے کہہ رہا تھا، میں اس سے پہلے کچھ اور بولتا تو وہ غصے سے پھنکاری کیوں امی
کے ساتھ رشتہ ہے تو بہن کے ساتھ رشتہ نہیں تھا، وہاں تو آپ کی غیرت جاگ گئی مگر
بہن کے معاملے میں کیوں نا جاگی؟ میں اتنی ہی بری تھی کہ میرا جسم دیکھتے آپ سارے
رشتے بھول گئے؟ میں نے آگے ہو کہ اس کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا ملکہ عالیہ جو کہو گی
وہی ہو گا پلیز غصہ تھوک دو اور اپنے ہاتھوں سے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ اور اس کی طرف
دیکھنے کے بجائے فرش کو دیکھنے لگ گیا۔ دل تو کرتا ہے یہی مگ آپ کے سر میں دے
ماروں ۔ اس کی غصے والی آواز آئی جس کی شدت اب پہلے سے کم تھی۔ جو بھی مارو، مگر
مجھے معاف کر دو، میں نے اسی طرح بیٹھے ہوئے کہا اچھا چلو آپ کو معاف کر دیا، لیکن
میں جو کچھ بھی کہوں گی، اگلی بار آپ اس پہ انکار نہیں کرو گے، یہ وعدہ کرو ۔ میں
نے کہا بالکل وعدہ ہے، تم جو بھی کہو گی میں مان لوں گا، کوئی بحث نہیں کروں گا ۔
او کے، اب اٹھ جاو اور میرے پیر چھوڑ دو، میں نے اس کے پیر چھوڑے اور سیدھا کھڑا
ہو کہ اسے دیکھا، اس کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔ اگلا حکم کیا ہے ملکہ
عالیہ؟ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ جاو جا کر امی کے پاس بیٹھو اور وہیں بیٹھنا
جدھر پہلے بیٹھے تھے، میں نے اس کی بات سن کہ او کے کا اشارہ کیا اور باہر نکل کہ
امی کے پاس بیٹھ گیا، اب سامنے ابو بھی کرسی پہ بیٹھے ہوئے تھے۔

The post میری پیاری بہن (قسط 15) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-2/feed/ 0
میری پیاری بہن (قسط 15) https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-3/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-3/#respond Mon, 11 Aug 2025 19:04:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-3/   میں نے اپنے آگے جھکی ہوئی ماہم کو دیکھا لیکن مجھے اس میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی، مجھے بس ایک روبوٹ جیسا احساس ہوا اور اسی لمحے میرے زہہن میں خیال آیا کہ خود جو ہوا سو ہوا، اب اس کا تو حق پورا کروں اور پھر میں مشین کی طرح […]

The post میری پیاری بہن (قسط 15) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں نے اپنے آگے جھکی ہوئی ماہم کو دیکھا لیکن مجھے اس
میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی، مجھے بس ایک روبوٹ جیسا احساس ہوا اور اسی
لمحے میرے زہہن میں خیال آیا کہ خود جو ہوا سو ہوا، اب اس کا تو حق پورا کروں اور
پھر میں مشین کی طرح اس میں دھکے لگاتا گیا اور وہ تھوڑی ہی دیر میں فارغ ہو کہ
آگے ہوتی گئی ۔ اس نے میرا لن دیکھا تو اسی طرح اکڑا ہوا تھا، اس نے اپنے منہ پہ
ہاتھ رکھ لیا اور بولی جانی یہ تو ابھی اکڑا ہوا ہے ۔ میں نے سنجیدہ ہوتے کہا تو
اس کا اکڑاو ختم کرنا تمہارا فرض ہے نا ۔ اس نے مسکراتے چہرے سے کہا جانی مجھ سے
نہیں برداشت ہوتا، آپ فارغ ہی نہیں ہوتے تو میں کیا کروں ۔ میں نے کہا مجھے فارغ
کرو، جیسے بھی ممکن ہے، وہ میرے گلے لگتی ہوئی بولی بہن چود، یہ کھوتے والا لن مجھ
سے بار بار نہیں لینے ہوتا، اور میرے ہونٹ چومنے لگی اور ایک ہاتھ سے میرے لن کو
سہلانے لگی اور اس کی مٹھ مارنے لگی ۔ میں نے اس کو ساتھ لپٹا کہ زور سے اس کے
ہونٹ چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے اس کی گانڈ کو پکڑ کہ زور سے دبایا اور پھر دوسرے
ہاتھ سے اس کے ممے کو دبایا ۔ مجھ میں ایک وحشت سی چھا گئی تھی، اس کے منہ سے سسکی
نکلی اور بولی بہن چود میں تیرا ساتھ نہیں دے سکتی، موٹے کٹے یہ گدھے جیسا لن مجھ
سے نہیں لینے ہوتا ۔ تو اس کو ٹھنڈا کرنا تیرا کام ہے نا کمینی عورت، میں نے بھی
اس کے گال کاٹتے ہوئے اسے دبایا ۔ آہ کی آواز کے ساتھ وہ بولی کوشش کر تو رہی ہوں
یار، اب کیا کوئی اور تیرے آگے رکھوں؟ یہ کہتے ہوئے اس نے میرے ہونٹ چوستے ہوئے
میرے لن کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ۔ ہاں جانی رکھ نہ، کس کو رکھے گی، میرے آگے
کوئی اپنی ہی رکھنا سیکسی سی ۔ میں نے وحشت میں اسے بھنبھوڑتے ہوئے کہا۔ میری اتنی
مفت کی کوئی نہیں ہے، اپنی ہی دیکھو، ساری موٹی تازے بنڈ والی ہیں، میری ساری
معصوم اور کمزور ہیں، یہ گدھے جیسا لن نہیں لے سکتی کوئی بھی ۔ میں نے اسے چوستے
ہوئے کہا جانی تیری بھی بڑی سیکسی ہیں نا کئی ۔ اس نے مجھے جواب دئیے بغیر میرے لن
کو مسلنا جاری رکھا اور میرے ہونٹ چوستی گئی، مجھ پہ بھی خماری چڑھتی گئی اور میں
اس کے ہاتھ میں فارغ ہوتا گیا ۔ وہ جلدی سے مجھے چھوڑ کہ پیچھے ہٹی اور نہانا شروع
کر دیا، میں بھی خودکو ریلیکس کرتا رہا اور پھر نہا کہ باہر نکلا، ماہم مجھ سے
پہلے نیچے جا چکی تھی، میں کچن میں داخل ہوا تو ناشتے کی تیاری زوروں پہ تھی، امی
بھی کچن میں تھیں اور ملائکہ بھی۔ ملائکہ نے بھی نہا کہ لباس بدلا ہوا تھا اور کل
کی نسبت یہ لباس اس کے جسم کو کور کیے ہوئے تھا، اس نے ایک نظر مجھے دیکھا تو شرما
کہ دوسری طرف مڑ گئی، میں بھی امی کو سلام کر کہ باہر آ گیا ۔ تھوڑی دیر میں انہوں
نے ناشتہ لگایا اور میں ناشتہ کر کہ دفتر چلا گیا ۔ دفتر سے چھٹی ہوئی تو میں گھر
کی طرف نکلا تو مجھے سب باتوں کا خیال آیا ۔ میں گھر داخل ہوا تو حسب معمول گھر
میں خاموشی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ امی ابو کا کمرہ بھی بند تھا اور ملائکہ کا بھی۔
میں نے ملائکہ کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ لاک تھا، میں مایوس ہو
کہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔ ماہم ٹی وی دیکھ رہی تھی، مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی،
مجھے گلے ملی اور مجھ سے کھانے کا پوچھا اور میرے ہاں کہنے پہ وہ کھانے لینے چلی
گئی ۔ میں بستر پہ لیٹ گیا، ملائکہ کو نہ دیکھ کہ مجھے ایک مایوسی سی ہو گئی تھی،
میرا دل کر رہا تھا کسی بھی طرح مین اسے دیکھ لوں، لیکن اب یہ وقتی مشکل نظر آ رئا
تھا ۔ مجھے اوپر کمرے میں عجیب سی بے چینی تھی، میں کسی بھی طرح ملائکہ کو دیکھنا
چاہتا تھا اور میرا کمرے میں کوئی دل نہیں لگ رہا تھا ۔ میں تھوڑی ہی دیر اوپر
رہا، پھر نیچے اتر ایا اور امی کے پاس بیٹھ گیا جو کہ برامدے میں بیٹھی ہوئی تھیں
۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ملائکہ اہنے کمرے سے نکلتی دکھائی دی، اس نے مجھے دیکھ کر
منہ بنایا اور پھر مسکرا دی۔ اسے دیکھتے میرے چہرے پہ بھی جیسے رونق آ گئی ۔ میں
امی کے پاس تخت پوش پہ بیٹھا ہوا تھا اور امی نے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور
نیم دراز تھیں ۔ مین ان کے پاوں والی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ ملائکہ ان کے سر والی
سائیڈ آ کہ بیٹھ گئی اور مسکراتے ہوئے بولی یہ ماسی فتنہ امی کو کیا ہوا دے رہی
ہیں۔ میں نے امی کی طرف دیکھا اور کہا دیکھ لیں امی مجھے کیا کہہ رہی ہے تو امی کے
چہرے پہ بھی مسکراہٹ آ گئی، ہمارے درمیان ہنسی مزاق ایک معمول کی بات تھی اور امی
جانتی تھیں کہ ہم آپس میں یوں ہنسی مزاق کرتے رہتے ہیں، امی نے اپنا ایک ہاتھ اوپر
کر کہ اس کے سر پہ پھیرا تو میں ان کے قدموں کی طرف تھا، امی نے تقریبا سائیڈ کروٹ
لی ہوئی تھی اور وہ نیم دراز تھیں ۔ ملائکہ نے مجھے دیکھا اور زبان نکال کر چڑایا
اور امی کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو وہ امی کے موٹے
چوتڑوں کی طرف اشارہ کر رہی تھی جن سے قمیض ہٹی ہوئی تھی، میں نے ادھر دیکھتے ہوئے
ملائکہ کی طرف دیکھا تو وہ میرا منہ چڑا رہی تھی، مجھے یہ بات زرا بھی اچھی نہ
لگی، میں نے آنکھوں سے اسے گھورا تو اس نے سر جھکا لیا اور چپ ہو کہ بیٹھ گئی ۔
ملائکہ کی اس حرکت نے مجھے بھی الجھا کہ رکھ دیا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
ملائکہ ایسا کچھ اشارہ کر سکتی ہے۔ ایک عجیب سی چپ ہمارے درمیان چھا گئی، کچھ دیر
کے بعد ملائکہ اٹھی اور کچن کی طرف چل دی، دو تین منٹ بعد میں بھی اس کے پیچھے کچن
کی طرف گیا تو وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی، قدموں کی آہٹ پہ وہ میری طرف مڑی، میں
نے دیکھا تو اس کے چہرے پہ سنجیدگی کے تاثرات تھے۔ میں نے اس کے قریب ہونا چاہا تو
وہ اچھل کہ ایک طرف ہو گئی اور چائے والا مگ میری طرف کر کہ بولی مجھے ہاتھ مت
لگانا، بس ورنہ میں ابھی امی کو آواز دیتی ہوں ۔ میں ہنس کہ رک گیا اور کہا کیا
بات ہو گئی ہے ایسی کہ تم اتنی ناراض ہو رہی ہو ؟ ابھی باہر مجھے گھورا کیوں تھا،
اس نے ماتھے پہ سلوٹ ڈالے میری طرف دیکھا اور آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے۔ اففف
سوری ملائکہ، میں نے اس کی طرف دیکھا اور اس کے آگے ہاتھ جوڑتے اس کے سامنے گھٹنوں
کے بل بیٹھ گیا اور کہا ملائکہ میرا مقصد تمہیں ڈانٹنا نہیں تھا، وہ تو میں امی کی
وجہ سے کہہ رہا تھا، میں اس سے پہلے کچھ اور بولتا تو وہ غصے سے پھنکاری کیوں امی
کے ساتھ رشتہ ہے تو بہن کے ساتھ رشتہ نہیں تھا، وہاں تو آپ کی غیرت جاگ گئی مگر
بہن کے معاملے میں کیوں نا جاگی؟ میں اتنی ہی بری تھی کہ میرا جسم دیکھتے آپ سارے
رشتے بھول گئے؟ میں نے آگے ہو کہ اس کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا ملکہ عالیہ جو کہو گی
وہی ہو گا پلیز غصہ تھوک دو اور اپنے ہاتھوں سے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ اور اس کی طرف
دیکھنے کے بجائے فرش کو دیکھنے لگ گیا۔ دل تو کرتا ہے یہی مگ آپ کے سر میں دے
ماروں ۔ اس کی غصے والی آواز آئی جس کی شدت اب پہلے سے کم تھی۔ جو بھی مارو، مگر
مجھے معاف کر دو، میں نے اسی طرح بیٹھے ہوئے کہا اچھا چلو آپ کو معاف کر دیا، لیکن
میں جو کچھ بھی کہوں گی، اگلی بار آپ اس پہ انکار نہیں کرو گے، یہ وعدہ کرو ۔ میں
نے کہا بالکل وعدہ ہے، تم جو بھی کہو گی میں مان لوں گا، کوئی بحث نہیں کروں گا ۔
او کے، اب اٹھ جاو اور میرے پیر چھوڑ دو، میں نے اس کے پیر چھوڑے اور سیدھا کھڑا
ہو کہ اسے دیکھا، اس کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔ اگلا حکم کیا ہے ملکہ
عالیہ؟ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ جاو جا کر امی کے پاس بیٹھو اور وہیں بیٹھنا
جدھر پہلے بیٹھے تھے، میں نے اس کی بات سن کہ او کے کا اشارہ کیا اور باہر نکل کہ
امی کے پاس بیٹھ گیا، اب سامنے ابو بھی کرسی پہ بیٹھے ہوئے تھے۔

The post میری پیاری بہن (قسط 15) appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%db%81%d9%86-%d9%82%d8%b3%d8%b7-15-3/feed/ 0