فیملی سیکس کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/فیملی-سیکس-کہانی/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Sun, 26 Apr 2026 03:43:04 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png فیملی سیکس کہانی Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/فیملی-سیکس-کہانی/ 32 32 امبرین بھابھی https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/#respond Sat, 30 Aug 2025 14:08:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/   میری ایک گرل فرینڈ ہے مہوش سحر۔ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کی فیملی نے انکار کردیا میرے بار بار اصرار پر ایک دن سحر نے بھابھی کو سب صورتحال بتائی اور اس کی بھابھی جسکا نام امبرین ہے نے مدد کا وعدہ کیا لیکن کہا کہ پہلے میں خود ریاض […]

The post امبرین بھابھی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


میری ایک گرل فرینڈ ہے مہوش سحر۔ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کی فیملی نے انکار کردیا میرے بار بار اصرار پر ایک دن سحر نے بھابھی کو سب صورتحال بتائی اور اس کی بھابھی جسکا نام امبرین ہے نے مدد کا وعدہ کیا لیکن کہا کہ پہلے میں خود

ریاض سے ملوں گی اس کے بعد بات آگے بڑھاؤں گی۔ سحر نے مجھے بتایا تو میں نے پوچھا کہ کب اور کہاں ملنا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تم گھر چلے جانا بھابھی گھر اکیلی ہوتی ہیں تو میں نے کہا کہ تم بھی ساتھ رہنا تو وہ بولی کہ نہیں بھابھی تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہیں۔ میں نے کہا نو ایشو۔

مقررہ دن میں ان کے گھر بارہ بجے پہنچ گیا بیل بجائی تو وہ خود دروازہ کھولنے آئی۔ ہوبہو سحر کی کاپی۔ آخر اس کی کزن جو تھی۔ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور تھوڑی دیر بعد انار کا جوس لے آئی۔ اس کی نظریں بہت عجیب سی تھی۔ وہ بار بار میری پینٹ کی طرف دیکھتی۔کوئی پندرہ منٹ کی بات چیت کرنے کے بعد میں اصل مدعے پر آیا کہ آپ ہماری ہیلپ کریں۔ تو وہ بولی جناب ہیلپ آپ نے میری نند کی زندگی برباد کردی اس کا کنوارہ پن چھین لیا اس سے۔ میں حیران آپ کو کیسے پتہ۔ بولی مجھے سب پتہ ہے۔ یہ کہہ کر اپنا فون اٹھایا اور کچھ پکچرز دکھائی جو میں نے سحر کو رات کو بھیجی تھی۔

میں نے کہا یہ سب پیار کی وجہ سے ہوا۔ بولی تو پیار کےلیے کیا کرسکتے ہو۔ میں نے کہا کچھ بھی۔ بولی جان دے سکتے ہو۔ میں نے کہا ہاں۔ تو بولی بس مجھے تمہاری جان چاہیے۔ میں نے کہا میں سمجھا نہیں۔ بولی دو منٹ بیٹھو آتی ہوں۔ دو منٹ جب آئی تو وہ نائٹی میں تھی۔ پہلی نظر میں میں نے اس کا فگر گیس کرلیا۔ وہ 34 کنفرم تھی۔ آکر سیدھا میری گود میں بیٹھی اور بولی۔ دیکھو ریاض میں سب جانتی ہوں کہ تم سحر کو کتنی دفعہ چود چکے ہو تو بہتر ہے کہ کمپرومائز کرو اور میں شادی میں تمہاری مدد کروں گی۔

مجھے لگا کہ یہ کوئی ٹریپ نا ہو۔ میں نے کہا کہ چلیں پھر کسی اور روم میں چلیں۔ بھابھی نے کہا، کہاں میں نے کہا کہ سحر کے کمرے میں۔ میں ان کے گھر پہلے بھی آکر سحر کے ساتھ سیکس کرچکا تھا۔ تو ہم وہاں گئے کمرے میں گھستے ہی وہ سیدھا مجھ پر جھپٹی۔ میں نے کہا محترمہ صبر۔ میں نے یہاں سے آگے ایک کام جانا ہے کپڑے برباد نا کریں۔ میں نے سکون سے اس کو سحر کے بیڈ پر لٹا دیا اور شرٹ اتار پھر پینٹ۔ ساتھ ہی بنیان اور انڈر وئیر بھی اتار دیا۔ میرا لوڑا دیکھ کر اس کے آنکھوں میں چمک آگئی۔

میں بیڈ کے پاس گیا تو سیدھا ہاتھ میرے لوڑے پر۔ اور اپنی طرف کھینچ لیا میں پاس ہوگیا اور اس نے لوڑا اپنے ہونٹوں سے چومنا شروع کردیا۔ سویا ہوا لوڑے نے ہونٹوں کی حدت محسوس کی۔ آنکھوں نے جب مموں کا نظارہ کیا تو لوڑا سخت ہوگیا اور اس کے منہ میں گھسنے کو بے تاب تھا۔ میں نے لوڑا ہٹایا اور اس کو بیڈ پر سیدھا لٹایا اور اس کے پیٹ پر ٹانگیں کھول کر ںیٹھ گیا ٹٹے مموں کے درمیان میں تھے اور لوڑے کی ٹوپی اس کے ہونٹوں پر۔ اور وہ پاگلوں کی طرح لوڑا چوسنے لگی۔ میری لذت کی شدت سے آنکھیں بند تھیں۔ میرا لوڑا اس کے گلے تک جارہا تھا۔ پھر اس نے لوڑا منہ سے نکالا۔ اور میں نے اس کے مموں کی وادی کے سیر شروع کردی۔

اب میں اس کے اوپر لیٹا اور اس کی ٹانگیں کھلی ہوئی۔ اسکی تھوک سے گیلا لوڑا اس کی پھدی کے دروازے پر دستک دے رہا تھا اور میں اس کے نپلز کو چوس اور کاٹ رہا تھا کہ اس ںے ایک ہاتھ سے میرے لوڑا پکڑ کر اپنی پھدی کے دہانے پر رگڑنا شروع کردیا میں اپنے کام لگا رہا۔ فرنچ کسنگ، مموں کی چٹائی، اس کے بعد گرن پر کاٹنا۔ وہ پاگل ہورہی تھی۔ مجھے اس کی پھدی گیلی گیلی محسوس ہونے لگی۔ یہی وقت تھا اپنے شیر کو اس غار میں ڈالنے کا۔ میں نے کہا امبرین میں ڈال دوں۔ اس کے آنکھیں بند اور بولی ڈالو ریاض۔ لیکن جب تک میں نا کہوں نکالنا نہیں۔۔

میں نے اس کی ٹانگیں اوپر کی اور اندر ڈال دیا۔ پہلی کوشش میں لوڑا امبرین کے اندر تھا۔ لیکن پھدی کی گرمی اخیر تھی۔ میں نے فوراً جھٹکے مارنے شروع کردیے۔ اور امبرین نے آہ آہ آہ آہ کرنا شروع کردیا۔ اس کے ہلتے ہوئے ممے دیکھ کر میرا لوڑا اور سخت ہو جاتا۔ اس پوزیشن میں سات آٹھ منٹ چدائی چلتی رہی میں نے کہا امبرین میں چھوٹنے والا ہوں۔ بولی رک جاؤ ریاض۔ میں نے لوڑا باہر نکال لیا اور وہ نیچے سے ہٹ گئی۔ میں نے اس کا ہاتھ اپنے لوڑے پر رکھا کہتی یہ کیا میں نے کہا مجھے فارغ کردو۔ بولی تم مجھے سحر مت سمجھو جو پانچ منٹ میں بس کر جاتی ہے۔ ذرا صبر رکھو ریاضابھی تم امتحان میں پاس نہیں ہوئے۔ یہ کہہ کر میرے ساتھ کسنگ کرنے لگی۔

اور بیڈ پر گھوڑی بن گئی۔ کہتی اب کرو۔ میں نے پیچھے سے آکر اس کی پھدی میں پھر سے ڈالا۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ وہ بیڈ کی سائیڈ پر گھوڑی بنی ہوئی تھی اور میں زمین پر کھڑا اس کو چودنے لگا۔ اس پوزیشن میں جھٹکا زور سے لگتا اور لوڑا کافی اندر جاتا ہے۔ میں نے تیز تیز جھٹکے مارنے شروع کردیے۔

دو تین منٹ بعد مجھے احساس ہوا کہ امبرینن فارغ ہونے والی تھی۔ میں نے بھی جھٹکے تیز کیے اور اچانک بھی میرا لوڑے کا سارا مادہ اس کی چوت میں منتقل ہونا شروع ہو گیا جیسے اس کو احساس ہوا تو اس نے پیچھے کی طرف زور لگایا کہ جتنی گہرائی تک منی کی بارش پہنچ سکے۔ دونوں نڈھال ہوکر اسی پوزیشن میں گر گئے۔ وہ الٹی لیتی تھی میں اس کے اوپر میرا لوڑا اس کی گانڈ کی لکیر پر تھا۔ پانچ منٹ بعد میں اٹھا تو بولی موڈ ہے۔ مجھے سمجھ آگئی کہ یہ سیکس کی بھوکی ہے۔ لوڑے کا مزا چکھ چکی ہے میں نے کہا اب موڈ تب ہوگا جب آپ میرا کام کرو گی رشتے والا۔ بولی وہ ہو جائے گا لیکن ایک وعدہ کرو کہ بیوی میری نند ہوگیاور میں تمہاری گرل فرینڈ ہوں گی۔

یہ سن کر میں نے اس کو سیدھا کیا اور اس کے مموں کے درمیان لوڑا رکھا اور کہا جناب میں اپنی بیوی کا اور یہ لوڑا آپ کا۔ جب کہو گی میں آجایا کروں گا۔ یہ سن کر شدت جذبات سے میرا لوڑا منہ میں لے لیا۔ اور لالی پاپ کی طرح چوسنے لگی میں پھر سے مدہوش ہونے لگا۔ اور لوڑا سخت ہو گیا۔ بولی ریاضاب اٹھو۔ میں اٹھ گیا اور وہ میری ٹانگوں پر آبیٹھی اور لوڑا ہاتھ میں پکڑ لیا اور مٹھ مارنے لگی۔ میں مزے میں تھا۔ میں نے کہا اندر لے لو۔ کہتی نہیں ابھی نہیں۔مٹھ مارتی رہی میں فارغ ہونے والا تھا کہ اچانک اوپر آگئی اور لوڑا اندر لےلیا اور گانڈ اوپر نیچے کرنے لگی ایک منٹ میں پھر سے اس کے اندر چھوٹ گیا۔

پھر وہ میرے اوپر سے اٹھی بولی ریاض تم پاس ہو۔ اور اب ہم دونوں فریش ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد میں فریش ہوا۔ کپڑے پہنے۔ اور اس کے گلے لگایا کسنگ کی اور اجازت لے کر نکل آیا۔


The post امبرین بھابھی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/feed/ 0
پیاری مامی جان https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86/ https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86/#respond Sat, 30 Aug 2025 14:05:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86/   میری مامی جو تقریبا 32 سال کی ہے اور دو بچوں کی ماں ہے، رنگ گورا، جسم بھرا ہوا، نہ دم دبلا نہ ایک دم موٹا-تازہ. مطلب بالکل غضب کی. پر چوچیاں تو دو دو کلو کے اور گاںڈ کچھ زیادہ ہی باہر نکلے ہیں. میرے خیال سے اس کی پھگر 38-32-39 ہوگی. میں […]

The post پیاری مامی جان appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


میری مامی جو تقریبا 32 سال کی ہے اور دو بچوں کی ماں ہے، رنگ گورا، جسم بھرا ہوا، نہ دم دبلا نہ ایک دم موٹا-تازہ. مطلب بالکل غضب کی. پر چوچیاں تو دو دو کلو کے اور گاںڈ کچھ زیادہ ہی باہر نکلے ہیں. میرے خیال سے اس کی پھگر 38-32-39 ہوگی. میں اس مامی کو چودنے کے چکر میں دو سالوں سے لگا تھا، اور اس کے نام سے موٹھ مارا کرتا تھا. میرے ماموں (40)، جو گوالیار میں ہی رہتے تھے، رےڈيمےڈ کپڑوں کے دھندے میں تھے اور اپنا مال دہلی خود ہی جا کر لے کر آتے تھے. ایک دن جب میں اپنے گھر پہنچا تو ماما وہاں تھے، اور ممی سے باتیں کر رہے تھے. میں نے ماما سے پوچھا – “اب نئے کپڑے کب آ رہے ہیں؟” “بس آج ہی لانے جا رہا ہوں. پر اس بار مال دہلی سے نہیں، ممبئی سے لے کر آنا ہے. وہاں ایک نامی کمپنی سے میری بات طے ہو گئی ہے. مجھے وہاں سے آنے میں چار پانچ دن تو لگ ہی جائیں گے. تب تک میں چاہتا ہوں کہ تم دن میں ایک بار ذرا دکان جاکر کام دیکھ لینا اور رات میں میرے گھر چلے جانا. ” “تو اتحاد اور بچوں کو یہیں کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟” میری ممی نے پوچھا. “میں نے اتحاد سے کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ دیدی کے یہاں رہ لینا، پر وہ کہہ رہی تھی کہ چار پانچ دنوں کے لئے آپ لوگوں کو کیوں پریشان کرنا، صرف نند کو بول دینا، وہ تمہارے آنے تک ہمارے یہاں ہی آ جائے اور دکان کو بھی کام دیکھ لے. نوکروں کے بھروسے دکان چھوڑنا ٹھیک نہیں. تجھے کوئی دقت تو نہیں؟ “- ماما بولے. “ابھی تو میں مکمل خالی ہی ہوں. پريكشاے بھی ختم ہو چکی ہیں. چلئے ایک تجربے کے لئے آپ کی دکان کو بھی سنبھال لیتے ہیں (اور مامی کو بھی). ” “آج 8 بجے میری ٹرین ہے، تو سات بجے گھر آ جانا اور مجھے اسٹیشن چھوڑ کر واپس میرے گھر ہی چلے جانا.” “ٹھیک ہے میں 6: 30 بجے آ جاؤں گا.” 6: 30 بجے میں ماما کےگھر پہنچ گیا، ماما سفر کی تیاری کر رہے تھے اور مامی پیکنگ میں ماما کی مدد کر رہی تھی. پیکنگ کے بعد مامی نے ماما کو کھانا دیا اور مجھے بھی کھانے کے لئے پوچھا. “ماما کو چھوڑ کر آتا ہوں، پھر کھا لوں گا.” میں نے کہا. 7: 30 بجے ماما اور میں اسٹیشن پہنچ گئے. ماما کی ٹرین صحیح وقت پر آ گئی، ماما کا ریزرویشن تھا، ماما اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئے اور پانچ منٹ کے بعد ٹرین ممبئی کے لئے چل پڑی. چلتے چلتے ماما بولے، “مامی اور بچوں کا خیال رکھنا.” “آپ یہاں کی فکر نہ کریں، میں مامی اور بچوں کا پورا خیال رکھوں گا.” میں نے اسٹینڈ سے اپنی بايك لی اور 8: 30 تک گھر آ گیا. میں نے دروازے کی كلبےل بجائی تو مامی نے دروازہ کھولا اور بولی، “ہاتھ منہ دھو لو، اب ہم کھانا کھا لیتے ہیں.” “آپ نے ابھی تک كانا نہیں کھایا؟” میں نے پوچھا. “بس تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی. بٹٹو اور سونو تو کھانا کھا کر سو گئے ہیں. تم بھی کھانا کھا لو. ” میں اور مامی ڈنر کی ٹیبل پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے. جب مامی نوالہ کھانے کے لئے تھوڑا جھکتی انکی چوچیوں کی گہرائیوں کے درشن ہونے لگتے اور میرا لںڈ وچلت ہونے لگتا. پر خود کو سنبھال کر میں نے کھانا ختم کیا اور ٹی وی چالو کر لیا. اس وقت آئی پی ایل میچ چل رہے تھے، میں میچ دیکھنے لگا. کچھ دیر بعد مامی برتن صاف کرنے لگی اور وہ بھی میچ دیکھنے لگی. جلد ہی اسے نیند آنے لگی. “میں تو سونے جا رہی ہوں، تم بھی ہمارے کمرے میں ہی سو جانا، آپ ڈبل بیڈ میں بچوں کے ایک طرف ہی سو جانا” مامی بولی. “ٹھیک ہے، صرف ایک گھنٹے میں میچ ختم ہونے والا ہے. آپ سو، میں میچ دیکھ کر آتا ہوں. ” مامی چلی گئی اور میں میچ دیکھنے لگا. کچھ دیر بعد بعد وقفے ہوا اور میں چینل بدلنے لگا، اور ایک لوکل چینل پر رک گیا. ڈش والے ایک بلو-فلم نشر کر رہے تھے. اب کاہے کا میچ، میں تو اسی چینل پر رک گیا اور وہ بلیو-فلم دیکھنے لگا اور میرا لںڈ هچكولے مارنے لگا.میرا ساڑھے پانچ انچ کا لنڈ لوہے کی طرح سخت ہو کر تن گیا، میں اپنی پیںٹ کے اوپر سے ہی اسے سہلانے لگا. میرا لںڈ چوت کے لئے پھڑپھڑانے لگا اور میری آنکھوں کے سامنے مامی کا نںگا بدن گھومنے لگا اور میں مامی کے نام سے موٹھ مارنے لگا. میں من ہی من مامی کو چود رہا تھا، کچھ دیر بعد لںڈ نے ایک پچکاری چھوڑ دی. میرا ویرے تقریبا پانچ فٹ دور چھٹكا، اور یہ صرف مامی کے نام کا کمال تھا. اب میرا دماغ مامی کو ہر حال میں چودنے کے بارے میں سوچنے لگا، اس وقت تک فلم بھی ختم ہو گئی تھی. میں نے ٹی وی بند کیا اور بیڈروم کی طرف چل دیا. جیسے ہی میں نے کمرے کی بتی جلائی، میری آنکھیں پھٹی رہ گئیں. بللو اور سونو، دونوں دیوار کی طرف سو رہے تھے، اور مامی درمیان بستر میں. ان کی ساڑی گھٹنوں کے اوپر تک اٹھ گئی تھی اور ان کی گوری-گوری جاگھے دکھ رہیں تھیں. ان کا پلو پھیل تھا، بلاز کے اوپر کے دو ہک کھلے تھے اور کالی برا صاف صاف دکھائی دے رہی تھی. مامی ایکدم بےسدھ سو رہیں تھیں. میں نے فورا لائٹ بند کی اور اپنے لںڈ کو سہلاتے ہوئے سوچا،قسمت نے ساتھ دیا تو سمجھ ہو گیا تمہارا جگاڑ میں جا کر مامی کے پاس لیٹ گیا، مامی ایکدم گہری نیند میں تھی. میں نے ایک ہاتھ مامی کے گلے پر رکھ دیا اور ہاتھ کو نیچے كھسكانے لگا. اب میرا ہاتھ بلاز کے ہک تک پہنچ گیا. میں اهستے-اهستے ہک کھولنے لگا. تبھی مامی بچوں کی طرف پلٹ گئی، اس سے مجھے ہک کھولنے میں اور بھی آسانی ہو گئی اور میں نے سارے ہک کھول دئے. برا کے اوپر سے ہی مامی کی چوچیوں کو سہلانے لگا. مامی کے ستن ایکدم ملائم تھے. پر برا نے انہیں زوروں سے دبا رکھا تھا، اس وجہ سے اوپر پکڑ نہیں بن رہی تھی. میں اپنا ہاتھ مامی کی بلاز کے پیچھے لے گیا اور برا کے ہک کو بھی کھول دیا. اب دونوں چھاتی ایکدم آزاد تھے. میں ان آزاد ہو چکے بڑے بڑے ستنوں کو ہلکے ہلکے سہلانے لگا، پھر میں ایک ہاتھ ان کی جاںگھ پر لے گیا اور اوپر کی طرف لے جانے لگا پر ایک خوف سا بھی لگ رہا تھا کہ کہیں مامی جاگ نہ جائے. پر جس کے لںڈ میں آگ لگی ہو وہ ہر رسک کے لئے تیار رہتا ہے اور لںڈ کی آگ کو صرف چوت کا پانی ہی بجھا سکتا ہے. ہمت کرکے میں اپنے ہاتھ کو اوپر لے جانے لگا. جیسے جیسے میرا ہاتھ چوت کے پاس جا رہا تھا، میرا لںڈ اور تیز هچكولے مار رہا تھا. اب میرا ہاتھ مامی کی پینٹی تک جا پہنچا تھا. پینٹی کے اوپر سے ہی میں نے ہاتھ چوت کے اوپر رکھ دیا. چوت بہت گیلی تھی اور بھٹی کی طرح تپ رہی تھی. میں نے ساڑی کو اوپر کر دیا اور پینٹی کو نیچے كھسكانے لگا. تھوڑی محنت کے بعد میں پینٹی کو ٹانگوں سے الگ کرنے میں کامیاب رہا. اب میں ہاتھ کو چوت کے اوپر لے گیا اور چوت کو پیار سے سہلانے لگا. مامی ابھی تک شاید گہری نیند میں تھی. میں نے ایک ہاتھ مامی کی کمر پر رکھا اور انہیں سیدھا کرنے لگا. مامی ایک ہی جھٹکے سے سیدھی ہو گئی. میں اپنی ٹانگ کو مامی کی ٹانگوں کے درمیان لے گیا اور مامی کی ٹانگوں کو پھیلا دیا. اب میں نیچے کھسکنے لگا اور میں جیسے ہی چوت چاٹنے کے لئے منہ چوت کے پاس لے گیا، مامی نے ہاتھ سے چوت کو ڈھك لیا. میری تو گاںڈ پھٹ گئی، راڈ کی طرح تنا ہوا لؤڑا ایکدم مرجھا گیا، دل دھاڑ-دھاڑ دھڑکنے لگلا. تبھی مامی اٹھی اور پھسپھساكر بولی، “یہ سب یہاں نہیں. بٹٹو اور سونو جاگ سکتے ہیں. اب تک تو میں نے کسی طرح اپنی سسکیاں روک ركھي تھیں پر اب نہیں روک سكوگي. ہم ڈرايگروم میں چلتے ہیں. ” اتنا سنتے ہی میرا لںڈ پھر سے قتبمينار بن گیا. مامی جیسے ہی بستر پر سے اٹھی، میں نے مامی کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور ان کے ہونٹوں کو چومنے لگا. وہ بھی میرے ہوںٹھوں پر ٹوٹ پڑی. ہم ایک دوسرے کے ہونٹوں کو پاگلوں کی طرح نچوڑنے لگے. میں ان کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ان کی گاںڈ تک لے گیا اور انہیں اٹھا لیا. مامی نے اپنے پاؤں میری کمر کے گرد لپیٹ دیے. میں انہیں چومتے ہوئے ڈرايگروم تک لے آیا اور مامی کو لے کر سوفی پر بیٹھ گیا. مامی میری گود میں تھی، بلاز اؤر برا اب بھی مامی کے کندھوں سے لٹک رہے تھے. پہلے میں نے بلاز کو نکال پھینکا، پھر برا اور ایک چوچی کو ہاتھ سے مسلنے لگا اور ساتھ ہی دوسری چوچی کو چاٹنے لگا. اب ساڑی کی باری تھی، میں نے ساڑی بھی نکال پھینکی، اب پیٹیکوٹ بیچارے کا بھی جسم پر کیا کام تھا. اب مامی ایکدم نںگی ہو چکی تھی. لال نائیٹ-بلب کی روشنی میں مامی کا نںگا بدن پورنما میں تاذ کی طرح چمک رہا تھا اور اس وقت میں نے اس تاج محل کا مالک تھا. اب مامی میرے کپڑے اتارنے لگی. میرے سارے کپڑے انہوں نے اتار دئے اور میں صرف اپنی پھرےچي انڈرویر میں رہ گیا پر وہ بھی زیادہ دیر نہ رہ سکا. انہوں نے وہ بھی ایک ہی جھٹکے میں اتار پھینکی اور پھر مامی نے میرے ساڑھے پانچ انچ لمبے بھیانک لںڈ کو ليپپ کی طرح چوسنے لگی.کبھی مامی لںڈ پر، تو کبھی خصیوں سے سپاڑے تک جیبھ پھراتي، کبھی لںڈ کو ہلکے سے کاٹتی، سپاڑے پر تھوكتي اور پھر اسے چاٹ جاتی. میرا تو برا حال کر دیا اور میرے لںڈ نے مامی کے منہ پر اپنی پچکاری مار دی. ان کا پورا چہرہ میرے ویرے سے سن گیا تھا. میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سارا ویرے ان کے چہرے پر مل دیا. “دوسری بار میں بھی اتنا مال؟ تیرا لںڈ ہے یا ویرے کا ٹینک؟ “- مامی نے کہا. میں یہ سن کر حیران ہو گیا، میری حیرت جان کر انہوں نے بتایا – “جب تو بلو-پھلم دیکھ رہا تھا اور میرے نام سے موٹھ مار رہا تھا تب میں پانی پینے کے لئے باورچی خانے میں آئی تھی اور تیرے لںڈ کی دھار کو دیکھ کر میری كامواسنا کی پیاس جاگ گئی اور میں بیڈروم میں اپنے کپڑوں کو جان بوجھ کر درہم برہم کر لیٹ گئی تھی. وہاں آنے کے بعد اگر تو ایسی حرکتیں نہیں کرتا تو آج میں ہی تیرا عصمت دری کر دیتی. ” “تربوز تلوار پر گرے یا تلوار تربوز پر، كٹنا تربوز کو ہی ہے. اب تو آج رات لفظی میں عصمت دری ہو گا. آج رات اگر آپ سے رحم کی بھیک نہ مگواي تو میرا بھی نام نند نہیں. “میں نے کہا. “چل دیکھتے ہیں، کون رحم کی بھیک مانگتا ہے!” مامی نے بھی تانا سا مارا. مامی کے ایسا کہتے ہی میں نے مامی کو زمین پر لٹا دیا اور ان کی چوت پر ٹوٹ پڑا، ان کی زبان کو چوت میں جتنا ہو سکتا تھا اندر ڈال دیا اور زبان ہلانے لگا. چوت کے گلابی دانے کو جیسے ہی میں ہلکے ہلکے کاٹتا-چوستا، وہ تڑپ اٹھتی اور ااهههههه ااههههههه کرنے لگتی. اس نے ٹانگوں سے میرے سر کو جکڑ لیا اور ٹانگوں ہی سر کو چوت میں دبانے لگی اور بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی. میں چوت-امرت پیتے ہوئے دونوں ستنوں کو مسل رہا تھا … تبھی اچانک مامی کا شریر اکڑنے لگا انکی چوت زوردار طریقے سے جھڑنے لگی. میں نے چوت کو چاٹكر صاف کر دیا اور جیسے ہی میں مامی کے اوپر آنے کو ہوا، مامی نے مجھے روکا اور گیسٹ روم کی طرف اشارہ کیا. میں سمجھ گیا کہ وہ اس کمرے میں چلنے کو کہہ رہی ہے. میں نے انہیں گود میں لیا اور چومتے ہوئے اس کمرے میں لے آیا. لائٹ جلائی تو دیکھا، وہاں ایک سنگل بیڈ تھا. میں نے پنکھا چالو کیا اور انہیں بستر پر پٹک دیا اور ان کے اوپر آ گیا. میں نے ان کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اپنی ٹانگوں سے ان ٹاںگے چؤڑی کیں. اب میرا لںڈ مامی کی چوت کے اوپر تھا. میں نے اپنے ہاتھوں کو سیدھا کیا اور دھکے مارنے کی کرنسی میں آ گیا. اب میں اپنی کمر کو نیچے کرتا اؤر لںڈ کو چوت سے سپرش کرتے ہی اوپر کر لیتا. کچھ دیر ایسا کرنے کے بعد مامی بولی، “اب مت اتڑات، میری چوت میں آگ لگ رہی ہے، اس میں اپنا لںڈ اب ڈال دو اور میری چوت کی آگ کو شانت کرو، میں تمہارے ہاتھ جوڑتی ہوں. اس بار میں نے لنڈ چوت پر رکھا اور آہستہ آہستہ نیچے ہونے لگا اؤر لنڈ چوت کی گہرائیوں میں سمانے لگا. چوت بالکل گیلی تھی، ایک بار میں لنڈ جڑ تک چوت میں سما گیا اور ہماری جھاٹے آپس میں مل گئیں. اب میرے جھٹکے شروع ہو گئے اور مامی کی سسکیاں بھی … مامی اااههههه اااااهههه کرنے لگی. کمرہ ان کی سسکیوں سے گونج رہا تھا. جب میرا لنڈ انکی چوت میں جاتا تو پھچچ-پھچچ اور پھكك-پھكك کی آواز ہوتی. میرا لنڈ مکمل نکلتا اور ایک ہی جھٹکے میں شامل چوت میں مکمل سما جاتا. مامی بھی گاںڈ ہلا-ہلا کر میرا پورا ساتھ دے رہی تھی. میں نے جھٹکوں کی رفتار بڑھا دی، اب تو کھاٹ بھی چرمرانے لگی تھی. پر میری رفتار بڑھتی جا رہی تھی. ہم دونوں پسینے سے نہا رہے تھے. پنکھے کے چلنے کا کوئی اثر نہیں تھا. دونوں کے چہرے ایک دم سرخ ہو رہے تھے پر ہم رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے. جھٹکے مسلسل جاری تھے. کبھی میں مامی کے اوپر تو کبھی مامی میرے اوپر آ جاتی. دونوں ہی چدائی کا بھرپور مزا لے رہے تھے. پورے کمرے میں بس کامدیو کا راج تھا. ہم دونوں ایک دوسرے کی آگ کو بجھا رہے تھے. تبھی ہمارے جسم اکڑنے لگے. دونوں جھڑنے والے تھے. میں لنڈ کو باہر نکالنے والا ہی تھا کہ مامی نے روک دیا اور بولی – “اپنا سارا مال چوت کے اندر ہی چھوڑ دو.” میں نے بھی جھٹکے چالو رکھے. ہم دونوں نے ایک دوسرے کو بھینچ لیا. مامی نے ٹانگوں اور ہاتھوں کو میرے جسم پر لپیٹ دیا. میں نے مامی کے کندھوں کو مضبوطی پکڑ لیا اور ایک زوردار جھٹکا مارا. میں اور مامی ایک ہی ساتھ جھڑے تھے. مامی کی چوت میرے ویرے سے بھر گئی. ویرے چوت سے بہہ رہا تھا. میرا منہ اپنے آپ چوت پر پہنچ گیا اور میں مامی کی چوت کو چاٹ-چاٹ کر صاف کرنے لگا. مامی نے بھی میرے لںڈ کو چوس-چوس کر صاف کر دیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے بگل میں لیٹ گئے، پر مامی کا ہاتھ میرے لںڈ پر تھا اور میں مامی کے بالوں کو سہلا رہا تھا. ماما کے آنے تک میں اور مامی میاں بیوی کی طرح رہے. میں صبح کو دکان کا ایک چکر لگا آتا. دن میں ہم نیند لے لیتے اور رات کو … ماما کے آنے کے بعد بھی جب بھی موقع ملا میں نے اسے چودے بغیر نہیں چھوڑا


The post پیاری مامی جان appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86/feed/ 0
دوستوں کی شرط اور میری چدائی https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/#respond Sat, 30 Aug 2025 13:59:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/   میں نسرین ہوں انتالیس سال عمر ہے شادی شدہ ہوں دو بچے بھی ہیں عمر کے لحاظ سے جسم بہت فٹ ہے آج میں آپ کو اپنی کہانی سُناتی ہوں کیسے میرے شوہر کے دوست راشد نے پہلی بار میرا نخرہ توڑا اور مجھے پہلی بار مرد کے لوڑے کی طاقت کا مطلب سمجھایا […]

The post دوستوں کی شرط اور میری چدائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 



میں نسرین ہوں انتالیس سال عمر ہے شادی شدہ ہوں دو بچے بھی ہیں عمر کے لحاظ سے جسم بہت فٹ ہے آج میں آپ کو اپنی کہانی سُناتی ہوں کیسے میرے شوہر کے دوست راشد نے پہلی بار میرا نخرہ توڑا اور مجھے پہلی بار مرد کے لوڑے کی طاقت کا مطلب سمجھایا اور میرے شوہر کے ساتھ شرط لگا کر میری چدائی کی راشد میرے شوہر کا دوست ہے اور اب بھی ہے حالانکہ میرے شوہر کو بھی پتہ ہے کہ اب راشد میری پھدی بہت بار مارتا رہتا ہے لیکن میرے شوہر راشد سے ناراض نہی ہوئے اور اب مجھے بھی راشد جی کا لوڑا بہت پسند ہے اَس کی دہشت آج بھی میرے دماغ میں چھائی ہے آج بھی جب بھی لیتی ہوں بہت پھاڑ کر جاتا ہے پہلی بار والی کہانی پر آتے ہیں راشد ہمارے گھر آتا جاتا ہے میرے شوہر کا قریبی دوست ہونے کی وجہ سے مجھ سے بھی کافی بات چیت ہے مجھے نہی پتہ تھا کہ راشد اور حماد کے درمیان مجھے چودنے پر کوئی شرط لگ گئی ہے راشد نے میرے شوہر حماد سے کہا یار برا نہی منانا تیری بیوی کو میں بڑی آسانی سے چود سکتا ہوں اگر تو اجازت دے تجھے تو پتہ ہے کہ میں عورتوں کی اس معاملے میں بڑی پہچان رکھتا ہوں بُرا نہیں منانا تیری بیوی تھوڑی سی محنت سے گھوڑی بنا سکتا ہوں میرے شوہر کو شاید مجھ پر اعتماد تھا یا وہ چاہتے تھے کہ مجھے دوسرا بندہ چودے انہوں نے راشد کی شرط مان لی اور راشد نے بھی وعدہ لیا کہ چدائی کے بعد نا دوستی ختم ہو گی اور نا ہی حماد مجھے طلاق دے گا اور میری مرضی کے مطابق جب میں چاہوں گی راشد کا لوڑا لونگی اس طرح راشد میرے قریب ہونا شروع ہو گئے بات چیت بھی بڑھ گئی اور اب بات ٹیلی فون تک پہنچ گئی اُن کی شخصیت میں اور شکل میں بہت کشش ہے دل کرتا ہے کہ اُن سے بات چیت ہو اور باتیں کرنے میں وہ بہت ماہر ہیں عموماً مرد حضرات اتنی باتیں نہی کرتے لیکن راشد بہت زبردست بولتے ہیں میں دنوں میں اُن کے جال میں پھنس گئی اور اب بات خوبصورتی اور سیکس تک پہنچنے لگی وہ میری تعریفیں کرتے اور ایک دن مجھ سے ممے کا سایز پوچھا میں پہلے تو خاموش رہی پھر دوبارہ پوچھا میں نے بتایا چونتیس ہے کہنے لگے اس وقت تک تیرے ممے کا سائز چھتس ہونا چاہئے تھا میرے جیسے مرد کے ساتھ ہوتی تو چھتیس سے اٹھتیس کے بنا دیتا چوس چوس کے میں پتہ نہی کیوں یہ سب سُنتی رہی شاید میں بھی ایسی ہی بات سُننا چاہتی تھی اسی طرح اب روز بروز گفتگو میں میرا جسم ڈسکس ہونے لگا سر کے بال سے لے کر پاؤں کے ناخن تک فون پر بات چیت کرتے اور جب سامنے آتے تو ایک دوسرے کو بس دیکھتے رہتے اور نارمل دعا سلام کرتے لیکن فون پر اب پورا سیکسی ماحول بننے لگ گیا تھا راشد نے ایک دن کہہ ہی دیا نسرین تیری پھدی مارنے کا بہت دل کرتا ہے میرا ایک موقع دو مجھے میں نے کہا راشد جی میں نے آج تک کسی غیر مرد کے ساتھ سیکس نہی کیا راشد نے کہا میں تو اب تمہارا بھی دوست ہوں غیر مرد تھوڑی ہوں اور میرے جسم کی تعریفیں کرنے لگا تم مجھے بہت پسند ہو وغیرہ وغیرہ چلو سیکس نہی کرتے ایک دوسرے کو ننگا دیکھ لیتے ہیں اور ایک دوسرے سے کھیلتے ہیں وعدہ کرتا ہوں لن پھدی میں نہی ڈالوں گا اوپر اوپر سے کرلیں گے یہ مطالبہ کچھ نو دس دن مسلسل ہر فون پر ہوتا رہا میں بھی جوان عورت ہوں ظاہر ہے اتنی سیکسی بات چیت ہوتی رہے تو پھر عمل کرنے کا من بھی کرتا ہے میں مان گئی اور راشد کو ایک دن فون کرکے گھر بُلا لیا اور راشد جی نے آتے ہی بانہوں میں بھر کر خوب کسنگ کی اور کپڑوں میں ہی جسم پر ہاتھ پھیرتے رہے کسنگ بہت زبردست کرتے گئے میرا تو خیال بنتا جا رہا تھا راشد جی نے میری قمیض اتار کھینچی اور بریزیر سمیت میرے ممے پکڑ کر لپس کسنگ کرتے ہوئے ممے بریزیر سے باہر نکال لئے اور چوسنے لگے کبھی دائیں-طرف کبھی بائیں طرف دونوں مموں کو برابر چوس رہے تھے پھر میری شلوار اتار دی اور انڈر وئر نکال کر پوری ننگی کرکے گھما کر مجھے گھوڑی بننے کا کہا اور میرے چوتر دونوں ہاتھوں سے گھول کر نیچے بیٹھتے ہوئے میری چوت کو دیکھنے لگے اور کہا واہ نسرین اس کے تو لب بند ہیں جیسے سیل ہوتی ہے اور میری پھدی پر پہلی چُمی کی میرے اندر اک لہر دوڑ گئی دونوں ٹانگیں کانپ گئی راشد نے پھر چوت چومنا شروع کر دی اور میں لذت لینے لگی اب وہ باقاعدہ چوت چاٹ رہے تھے اور دونوں لب اپنے انگھوٹوں سے کھول کر اندر تک زبان دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ کہہ رہے تھے بس چاٹ سکتے ہو راشد میاں اس کے اندر لن نہی دے سکتے یہی حکم ہے نسرین جان کا کوئی بات نہی یہ بھی کافی ہے اور چوت چاٹتے جا رہے تھے میری تو حالت ٹائٹ ہو رہی تھی میری پھدی لن کے لئے تیار تھی راشد چاہتے تو اسی وقت لن ڈال دیتے لیکن وہ وعدے پر قائم رہے اور صرف چوت چاٹی اور پھر کھڑے ہو گئے اور اپنے کپڑے اتار دئے ہائے میری تو ہوش اڑ گئی یہ کیا اتنا بڑا لوڑا اور یہ مضبوط جسم قسم سے راشد جی کو دیکھتے ہی پھدی پانی پانی ہوجائے لوڑا دیکھ کر ہی ڈر لگنے لگا اتنا بڑا اور مضبوط موٹا لوڑا کیسے لیتی ہوں گی اُن کی بیوی یہی سوچ کر کھڑی دیکھ رہی تھی تین بچوں کے باپ ہیں اسی لوڑے سے اپنی بیوی کا برا حال کرتے ہونگے راشد آگے بڑھے اور مجھے بانہوں میں بھر لیا ہائے کیا کرنٹ دوڑا پہلی بار کسی غیر مرد کے ننگے جسم کی گرمائش ایک عجیب سا کرنٹ جسم میں دوڑ گیا اور لپس کسنگ کرنے لگ گئے ہم دونوں ایک دوسرے کے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے لن میرے پیٹ کے ساتھ لگا ہوا تھا میں نے بائیں ہاتھ سے لوڑا پکڑ لیا اُف کیا موٹائی ہے انگلیاں برابر بند نہی ہوتی اور لمبائی کچھ آٹھ نو انچ ہوگی حماد کے لن سے بڑا اور موٹا لیکن مضبوط لن تھوڑا سا بھی ڈھیلا نہی پوری طرح اکڑا ہوا میں تو تیار تھی راشد کا لن لینے کے لئے لیکن منہ سے بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی راشد نے بیڈ پر لٹا لیا اور اوپر آکر خوب کسنگ کرنے لگے لن پھدی کے ساتھ جوڑ کر خوب ممے چوسنے لگے اور اوپر والے حصے کو خوب چومتے گئے میں مدھوش ہو رہی تھی انہوں نے میرے نپلز دانتوں میں لے لے کر مجھے ترپانا شروع کر دیا پھر لن کو گانڈ کے سوراخ سے لیکر پھدی تک پکڑ کر اوپر نیچے کرنے لگے میری پھدی گیلی ہو گئی مجھے لن چاہئے تھا میں نے خود راشد جی کا لوڑا پکڑ لیا اور پھدی کے سوراخ پر رکھتے ہوئے راشد جی سے کہا راشد جی ڈال دیں اس کو اندر پھاڑ دیں میری پھدی راشد جی نے طاقت لگائی لوڑا پھدی پھاڑ کر اندر داخل ہوا میری جان نکل گئی کیا لوڑا گیا تھا اندر آج بھی سوچ کر وہ پہلی انٹری یاد کرکے عجیب سا خوف لگتا ہے میری چیخیں نکلوا دی لن اس جگہ پہنچا جہاں کچھ نہی گیا تھا میں تڑپ کر رہ گئی گانڈ بیڈ سے کوئی ایک فٹ اونچی ہوگئی مارے درد کے بُرا حال تھا راشد جی کا لوڑو پورا اندر ٹھک کے ترس ترس دھڑک رہا تھا پہلی بار چوت میں لن کی دھڑکن محسوس کر رہی تھی شوہر کے لن سے ایسی دھڑکن کبھی محسوس نہی ہوئی تھی راشد جی کے لن کی ہر رگ دھڑک رہی تھی میں برداشت نہیں کر پارہی تھی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور میں نے راشد جی کے دونوں بازو پکڑتے ہوئے باقاعدہ رونا شروع کر دیا راشد جی نے کہا نسرین اگر نہی لینا تو کوئی بات نہیں نکال لیتا ہوں اور لن نکال لیا اور میری پھدی سے دو تین بار ہوا پڑچ پڑچ کی آواز سے نکلی میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لئے میں شرمندہ سی ہو گئی تھی راشد جی چہرے سے ہاتھ ہٹا کر کہا نسرین کیا ہوا جان پہلی بار لے رہی ہو ایسا لن ایسی درد اور چوت میں ہوا تو بنے گی میں نے راشد جی کا چہرہ پکڑ کر پیار کرتے ہوئے کہا راشد جی لن نہی لوڑا ہے آپ کا مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے آج ہی سیل ٹوٹی ہو میری راشد مسکراتے ہوئے بولے نسرین اگر دل نہی کرتا تو نہی کریں گے میں تجھے تکلیف نہی دینا چاہتا تمہارا دل نہی ہے تو نو پرابلم میں نے لن پکڑ لیا اور اپنی پھدی میں ٹوپا لیتے ہوئے کہا راشد جی نسرین آپ کی نسرین کی پھدی آپ کی نسرین پوری آپ کی جہاں مرضی لن ڈال دیں راشد نے پھر جھٹکا دیا لن پڑچ کرکے اندر جا کھڑا ہوا میری چیخیں نکلی راشد جی نے منہ میں منہ ڈالا اور مردانہ وار چدائی کرنے لگے ٹوپے تک لن باہر آتا اور اندر جاکر میری بچے دانی پر لگتا میں تڑپ جاتی ایسا موٹا لوڑا یقین کریں آنگھوٹا اور درمیان والی انگلی آپس میں نہی جڑتے جب ہاتھ میں لیتی ہوں اتنا موٹا ہے راشد جی کا لوڑا راشد نے مجھے جم کر چودنا شروع کر دیا ٹھپا ٹھپ چدائی ہونے لگی اب مجھے درد کے ساتھ مزہ آرہا تھا پھدی تو پھٹ رہی تھی لیکن مزہ بہت آرہا تھا میں فل لن لے رہی تھی راشد جی بھرپور چود رہے تھے میں نے کہا راشد جی آپ کی بیوی تو بہت خوش رہتی ہوگی آپ کے لن سے تو راشد نے میرے نپلز پکڑ کر کہا نسرین جان صرف بیوی ہی نہی تیرے جیسی دو اور دوست ہیں جو اس لن سے چدنے پر خوش ہوتی ہیں میں نے کہا کیا راشد جی میرے علاوہ بھی دو اور ہیں تو راشد جی بولے جان ایسے ہی تو اتنا بڑا لن نہی بن جاتا ظاہر ہے دوا کے ساتھ ساتھ پھدیاں بھی چاہئے ہوتی ہیں میں نے پوچھا کون ہیں وہ تو راشد نے بتایا ایک تو اَن کی ہمسائی ہے اور دوسری اُن کی کزن ہیں اور یوں مجھے چودتے ہوئے منی کے فوارے میرے اندر چھوڑ دئے اور کافی دیر تک کسنگ کرتے رہے میں برتھ کنٹرول پر تھی اس لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہی تھی پہلی بار سیکس کا لطف آیا تھا میں بہت ہلکی محسوس کر رہی تھی راشد نے مجھے بہت چوما اور پیار کیا اُن کا لن پھر کھڑا ہو گیا اور مجھے گھوڑی بنا کر لن دیا میری چیخ نکل گئی میں نے کہا راشد جی بس اب نہی پھر کسی دن کر لینا راشد نے دو تین جھٹکے دئے اور لن نکالا اور واش روم چلے گئے میں الٹی لیٹ گئی اسی طرح وہ تیار ہو کر چلے گئے رات کو شوہر نے چودنے کے لئے پکڑا تو میں نے انکار کر دیا شوہر نے مجھے گردن سے دبوچ لیا نسرین آرام سے پھدی مارنے دے ورنہ بیوفائی کا بدلہ لے سکتا ہوں میں ایک دم گھبرا گئی اور حماد سے پوچھا کیا مطلب ہے حماد نے کہا آج راشد نے تیری پھدی پھاڑی ہے کہ نہی میں دنگ رہ گئی یہ کیسے ممکن ہے کہ حماد کو آج کی ساری کارروائی کا علم ہو میں نے کہا آپ کو کس نے کہا ہے حماد نے کہا جس نے چودی ہے اَس نے بتایا ہے اُس نے مجھ سے شرط لگائی تھی کہ وہ تجھے چودے گا لیکن میں تجھے طلاق نہی دونگا اب مجھے بتا کیسے چودا ہے اس نے اور پھر میں نے ساری کہانی حماد کو بتا دی حماد نے پھدی ماری اور کہنے لگا سالی اتنی کھول دی ہے ایک ہی بار میں میں نے کہا راشد کا لن بہت بڑا ہے حماد نے پوچھا دوبارہ لینے کا دل کرتا ہے میں نے کہا حماد سچی کہوں تو کرتا ہے اگر آپ چاہو تو اور پھر اس طرح میں اب تک دو لن لے رہی ہوں راشد جی میرے چیمپئن چودو ہیں اور ایک بار تو حماد کے سامنے پوری انگریزی عورتوں کی طرح چودا ہے

ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟنسرین کی راشد نے چودی

میں نسرین ہوں انتالیس سال عمر ہے شادی شدہ ہوں دو بچے بھی ہیں عمر کے لحاظ سے جسم بہت فٹ ہے آج میں آپ کو اپنی کہانی سُناتی ہوں کیسے میرے شوہر کے دوست راشد نے پہلی بار میرا نخرہ توڑا اور مجھے پہلی بار مرد کے لوڑے کی طاقت کا مطلب سمجھایا اور میرے شوہر کے ساتھ شرط لگا کر میری چدائی کی راشد میرے شوہر کا دوست ہے اور اب بھی ہے حالانکہ میرے شوہر کو بھی پتہ ہے کہ اب راشد میری پھدی بہت بار مارتا رہتا ہے لیکن میرے شوہر راشد سے ناراض نہی ہوئے اور اب مجھے بھی راشد جی کا لوڑا بہت پسند ہے اَس کی دہشت آج بھی میرے دماغ میں چھائی ہے آج بھی جب بھی لیتی ہوں بہت پھاڑ کر جاتا ہے پہلی بار والی کہانی پر آتے ہیں راشد ہمارے گھر آتا جاتا ہے میرے شوہر کا قریبی دوست ہونے کی وجہ سے مجھ سے بھی کافی بات چیت ہے مجھے نہی پتہ تھا کہ راشد اور حماد کے درمیان مجھے چودنے پر کوئی شرط لگ گئی ہے راشد نے میرے شوہر حماد سے کہا یار برا نہی منانا تیری بیوی کو میں بڑی آسانی سے چود سکتا ہوں اگر تو اجازت دے تجھے تو پتہ ہے کہ میں عورتوں کی اس معاملے میں بڑی پہچان رکھتا ہوں بُرا نہیں منانا تیری بیوی تھوڑی سی محنت سے گھوڑی بنا سکتا ہوں میرے شوہر کو شاید مجھ پر اعتماد تھا یا وہ چاہتے تھے کہ مجھے دوسرا بندہ چودے انہوں نے راشد کی شرط مان لی اور راشد نے بھی وعدہ لیا کہ چدائی کے بعد نا دوستی ختم ہو گی اور نا ہی حماد مجھے طلاق دے گا اور میری مرضی کے مطابق جب میں چاہوں گی راشد کا لوڑا لونگی اس طرح راشد میرے قریب ہونا شروع ہو گئے بات چیت بھی بڑھ گئی اور اب بات ٹیلی فون تک پہنچ گئی اُن کی شخصیت میں اور شکل میں بہت کشش ہے دل کرتا ہے کہ اُن سے بات چیت ہو اور باتیں کرنے میں وہ بہت ماہر ہیں عموماً مرد حضرات اتنی باتیں نہی کرتے لیکن راشد بہت زبردست بولتے ہیں میں دنوں میں اُن کے جال میں پھنس گئی اور اب بات خوبصورتی اور سیکس تک پہنچنے لگی وہ میری تعریفیں کرتے اور ایک دن مجھ سے ممے کا سایز پوچھا میں پہلے تو خاموش رہی پھر دوبارہ پوچھا میں نے بتایا چونتیس ہے کہنے لگے اس وقت تک تیرے ممے کا سائز چھتس ہونا چاہئے تھا میرے جیسے مرد کے ساتھ ہوتی تو چھتیس سے اٹھتیس کے بنا دیتا چوس چوس کے میں پتہ نہی کیوں یہ سب سُنتی رہی شاید میں بھی ایسی ہی بات سُننا چاہتی تھی اسی طرح اب روز بروز گفتگو میں میرا جسم ڈسکس ہونے لگا سر کے بال سے لے کر پاؤں کے ناخن تک فون پر بات چیت کرتے اور جب سامنے آتے تو ایک دوسرے کو بس دیکھتے رہتے اور نارمل دعا سلام کرتے لیکن فون پر اب پورا سیکسی ماحول بننے لگ گیا تھا راشد نے ایک دن کہہ ہی دیا نسرین تیری پھدی مارنے کا بہت دل کرتا ہے میرا ایک موقع دو مجھے میں نے کہا راشد جی میں نے آج تک کسی غیر مرد کے ساتھ سیکس نہی کیا راشد نے کہا میں تو اب تمہارا بھی دوست ہوں غیر مرد تھوڑی ہوں اور میرے جسم کی تعریفیں کرنے لگا تم مجھے بہت پسند ہو وغیرہ وغیرہ چلو سیکس نہی کرتے ایک دوسرے کو ننگا دیکھ لیتے ہیں اور ایک دوسرے سے کھیلتے ہیں وعدہ کرتا ہوں لن پھدی میں نہی ڈالوں گا اوپر اوپر سے کرلیں گے یہ مطالبہ کچھ نو دس دن مسلسل ہر فون پر ہوتا رہا میں بھی جوان عورت ہوں ظاہر ہے اتنی سیکسی بات چیت ہوتی رہے تو پھر عمل کرنے کا من بھی کرتا ہے میں مان گئی اور راشد کو ایک دن فون کرکے گھر بُلا لیا اور راشد جی نے آتے ہی بانہوں میں بھر کر خوب کسنگ کی اور کپڑوں میں ہی جسم پر ہاتھ پھیرتے رہے کسنگ بہت زبردست کرتے گئے میرا تو خیال بنتا جا رہا تھا راشد جی نے میری قمیض اتار کھینچی اور بریزیر سمیت میرے ممے پکڑ کر لپس کسنگ کرتے ہوئے ممے بریزیر سے باہر نکال لئے اور چوسنے لگے کبھی دائیں-طرف کبھی بائیں طرف دونوں مموں کو برابر چوس رہے تھے پھر میری شلوار اتار دی اور انڈر وئر نکال کر پوری ننگی کرکے گھما کر مجھے گھوڑی بننے کا کہا اور میرے چوتر دونوں ہاتھوں سے گھول کر نیچے بیٹھتے ہوئے میری چوت کو دیکھنے لگے اور کہا واہ نسرین اس کے تو لب بند ہیں جیسے سیل ہوتی ہے اور میری پھدی پر پہلی چُمی کی میرے اندر اک لہر دوڑ گئی دونوں ٹانگیں کانپ گئی راشد نے پھر چوت چومنا شروع کر دی اور میں لذت لینے لگی اب وہ باقاعدہ چوت چاٹ رہے تھے اور دونوں لب اپنے انگھوٹوں سے کھول کر اندر تک زبان دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ کہہ رہے تھے بس چاٹ سکتے ہو راشد میاں اس کے اندر لن نہی دے سکتے یہی حکم ہے نسرین جان کا کوئی بات نہی یہ بھی کافی ہے اور چوت چاٹتے جا رہے تھے میری تو حالت ٹائٹ ہو رہی تھی میری پھدی لن کے لئے تیار تھی راشد چاہتے تو اسی وقت لن ڈال دیتے لیکن وہ وعدے پر قائم رہے اور صرف چوت چاٹی اور پھر کھڑے ہو گئے اور اپنے کپڑے اتار دئے ہائے میری تو ہوش اڑ گئی یہ کیا اتنا بڑا لوڑا اور یہ مضبوط جسم قسم سے راشد جی کو دیکھتے ہی پھدی پانی پانی ہوجائے لوڑا دیکھ کر ہی ڈر لگنے لگا اتنا بڑا اور مضبوط موٹا لوڑا کیسے لیتی ہوں گی اُن کی بیوی یہی سوچ کر کھڑی دیکھ رہی تھی تین بچوں کے باپ ہیں اسی لوڑے سے اپنی بیوی کا برا حال کرتے ہونگے راشد آگے بڑھے اور مجھے بانہوں میں بھر لیا ہائے کیا کرنٹ دوڑا پہلی بار کسی غیر مرد کے ننگے جسم کی گرمائش ایک عجیب سا کرنٹ جسم میں دوڑ گیا اور لپس کسنگ کرنے لگ گئے ہم دونوں ایک دوسرے کے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے لن میرے پیٹ کے ساتھ لگا ہوا تھا میں نے بائیں ہاتھ سے لوڑا پکڑ لیا اُف کیا موٹائی ہے انگلیاں برابر بند نہی ہوتی اور لمبائی کچھ آٹھ نو انچ ہوگی حماد کے لن سے بڑا اور موٹا لیکن مضبوط لن تھوڑا سا بھی ڈھیلا نہی پوری طرح اکڑا ہوا میں تو تیار تھی راشد کا لن لینے کے لئے لیکن منہ سے بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی راشد نے بیڈ پر لٹا لیا اور اوپر آکر خوب کسنگ کرنے لگے لن پھدی کے ساتھ جوڑ کر خوب ممے چوسنے لگے اور اوپر والے حصے کو خوب چومتے گئے میں مدھوش ہو رہی تھی انہوں نے میرے نپلز دانتوں میں لے لے کر مجھے ترپانا شروع کر دیا پھر لن کو گانڈ کے سوراخ سے لیکر پھدی تک پکڑ کر اوپر نیچے کرنے لگے میری پھدی گیلی ہو گئی مجھے لن چاہئے تھا میں نے خود راشد جی کا لوڑا پکڑ لیا اور پھدی کے سوراخ پر رکھتے ہوئے راشد جی سے کہا راشد جی ڈال دیں اس کو اندر پھاڑ دیں میری پھدی راشد جی نے طاقت لگائی لوڑا پھدی پھاڑ کر اندر داخل ہوا میری جان نکل گئی کیا لوڑا گیا تھا اندر آج بھی سوچ کر وہ پہلی انٹری یاد کرکے عجیب سا خوف لگتا ہے میری چیخیں نکلوا دی لن اس جگہ پہنچا جہاں کچھ نہی گیا تھا میں تڑپ کر رہ گئی گانڈ بیڈ سے کوئی ایک فٹ اونچی ہوگئی مارے درد کے بُرا حال تھا راشد جی کا لوڑو پورا اندر ٹھک کے ترس ترس دھڑک رہا تھا پہلی بار چوت میں لن کی دھڑکن محسوس کر رہی تھی شوہر کے لن سے ایسی دھڑکن کبھی محسوس نہی ہوئی تھی راشد جی کے لن کی ہر رگ دھڑک رہی تھی میں برداشت نہیں کر پارہی تھی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور میں نے راشد جی کے دونوں بازو پکڑتے ہوئے باقاعدہ رونا شروع کر دیا راشد جی نے کہا نسرین اگر نہی لینا تو کوئی بات نہیں نکال لیتا ہوں اور لن نکال لیا اور میری پھدی سے دو تین بار ہوا پڑچ پڑچ کی آواز سے نکلی میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لئے میں شرمندہ سی ہو گئی تھی راشد جی چہرے سے ہاتھ ہٹا کر کہا نسرین کیا ہوا جان پہلی بار لے رہی ہو ایسا لن ایسی درد اور چوت میں ہوا تو بنے گی میں نے راشد جی کا چہرہ پکڑ کر پیار کرتے ہوئے کہا راشد جی لن نہی لوڑا ہے آپ کا مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے آج ہی سیل ٹوٹی ہو میری راشد مسکراتے ہوئے بولے نسرین اگر دل نہی کرتا تو نہی کریں گے میں تجھے تکلیف نہی دینا چاہتا تمہارا دل نہی ہے تو نو پرابلم میں نے لن پکڑ لیا اور اپنی پھدی میں ٹوپا لیتے ہوئے کہا راشد جی نسرین آپ کی نسرین کی پھدی آپ کی نسرین پوری آپ کی جہاں مرضی لن ڈال دیں راشد نے پھر جھٹکا دیا لن پڑچ کرکے اندر جا کھڑا ہوا میری چیخیں نکلی راشد جی نے منہ میں منہ ڈالا اور مردانہ وار چدائی کرنے لگے ٹوپے تک لن باہر آتا اور اندر جاکر میری بچے دانی پر لگتا میں تڑپ جاتی ایسا موٹا لوڑا یقین کریں آنگھوٹا اور درمیان والی انگلی آپس میں نہی جڑتے جب ہاتھ میں لیتی ہوں اتنا موٹا ہے راشد جی کا لوڑا راشد نے مجھے جم کر چودنا شروع کر دیا ٹھپا ٹھپ چدائی ہونے لگی اب مجھے درد کے ساتھ مزہ آرہا تھا پھدی تو پھٹ رہی تھی لیکن مزہ بہت آرہا تھا میں فل لن لے رہی تھی راشد جی بھرپور چود رہے تھے میں نے کہا راشد جی آپ کی بیوی تو بہت خوش رہتی ہوگی آپ کے لن سے تو راشد نے میرے نپلز پکڑ کر کہا نسرین جان صرف بیوی ہی نہی تیرے جیسی دو اور دوست ہیں جو اس لن سے چدنے پر خوش ہوتی ہیں میں نے کہا کیا راشد جی میرے علاوہ بھی دو اور ہیں تو راشد جی بولے جان ایسے ہی تو اتنا بڑا لن نہی بن جاتا ظاہر ہے دوا کے ساتھ ساتھ پھدیاں بھی چاہئے ہوتی ہیں میں نے پوچھا کون ہیں وہ تو راشد نے بتایا ایک تو اَن کی ہمسائی ہے اور دوسری اُن کی کزن ہیں اور یوں مجھے چودتے ہوئے منی کے فوارے میرے اندر چھوڑ دئے اور کافی دیر تک کسنگ کرتے رہے میں برتھ کنٹرول پر تھی اس لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہی تھی پہلی بار سیکس کا لطف آیا تھا میں بہت ہلکی محسوس کر رہی تھی راشد نے مجھے بہت چوما اور پیار کیا اُن کا لن پھر کھڑا ہو گیا اور مجھے گھوڑی بنا کر لن دیا میری چیخ نکل گئی میں نے کہا راشد جی بس اب نہی پھر کسی دن کر لینا راشد نے دو تین جھٹکے دئے اور لن نکالا اور واش روم چلے گئے میں الٹی لیٹ گئی اسی طرح وہ تیار ہو کر چلے گئے رات کو شوہر نے چودنے کے لئے پکڑا تو میں نے انکار کر دیا شوہر نے مجھے گردن سے دبوچ لیا نسرین آرام سے پھدی مارنے دے ورنہ بیوفائی کا بدلہ لے سکتا ہوں میں ایک دم گھبرا گئی اور حماد سے پوچھا کیا مطلب ہے حماد نے کہا آج راشد نے تیری پھدی پھاڑی ہے کہ نہی میں دنگ رہ گئی یہ کیسے ممکن ہے کہ حماد کو آج کی ساری کارروائی کا علم ہو میں نے کہا آپ کو کس نے کہا ہے حماد نے کہا جس نے چودی ہے اَس نے بتایا ہے اُس نے مجھ سے شرط لگائی تھی کہ وہ تجھے چودے گا لیکن میں تجھے طلاق نہی دونگا اب مجھے بتا کیسے چودا ہے اس نے اور پھر میں نے ساری کہانی حماد کو بتا دی حماد نے پھدی ماری اور کہنے لگا سالی اتنی کھول دی ہے ایک ہی بار میں میں نے کہا راشد کا لن بہت بڑا ہے حماد نے پوچھا دوبارہ لینے کا دل کرتا ہے میں نے کہا حماد سچی کہوں تو کرتا ہے اگر آپ چاہو تو اور پھر اس طرح میں اب تک دو لن لے رہی ہوں راشد جی میرے چیمپئن چودو ہیں اور ایک بار تو حماد کے سامنے پوری انگریزی عورتوں کی طرح چودا۔


The post دوستوں کی شرط اور میری چدائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/ 0
امی کی گرم سہیلی https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%af%d8%b1%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%af%d8%b1%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/#respond Mon, 25 Aug 2025 15:50:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%af%d8%b1%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/   یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نوویں جماعت میں پڑہتا تھا۔میری والدہ کی ایک سہیلی تھی جو ہمارے سے تین گھر چھوڑ کر رہتی تھی۔ان کے چار بچے تھے اور ان کے شوہر چار سال سے ابوظہبی میں تھے۔وہ ہر سال آتے تھے اور جاتے ہوۓ ایک بچہ کا تحفہ دے جاتے […]

The post امی کی گرم سہیلی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 



یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نوویں جماعت میں پڑہتا تھا۔میری والدہ کی ایک سہیلی تھی جو ہمارے سے تین گھر چھوڑ کر رہتی تھی۔ان کے چار بچے تھے اور ان کے شوہر چار سال سے ابوظہبی میں تھے۔وہ ہر سال آتے تھے اور جاتے ہوۓ ایک بچہ کا تحفہ دے جاتے تھے۔وہ اکثر شام میں آجاتی اور میری امی سے باتیں کرتی۔ میں بھی اکثر اسی کمرے میں اپنا ہوم ورک کرتا تھا۔انکی آواز بہت اونچی تھی اکثر میری والدہ ٹوکتیں کہ آہستہ بولو بچہ سن لے گا تو وہ ہمیشہ یہ کہتی کہ باجی یہ تو ابھی بچہ ہے اس کیا سمجھ آۓ گی۔لیکن میں انکی کافی باتیں سمجھ جایا کرتا تھا کیونکہ میں بھی جوان ہونا شروع ہو گیا تھا۔اکثر وہ اپنی چداٸ کے قصے سناتی کہ وہ اندر ڈال کر میرے دونوں چوستے ہیں۔ میں سوچتا کہ کیا چوستے ہونگے انکل۔ کبھی کہتی کہ وہ ایکدم پورا اندر ڈال دیتے ہیں۔میں سوچتا کہ انکل کیا اندر ڈالتے ہوں گے۔ایک دفعہ کہنے لگی کہ انہوں نے اتنی دیر تک میری ٹانگیں اٹھا کر رکھیں کہ میرے پٹھے اکڑ گۓ۔ایکبار کہنے لگی کہ انکو گۓ چھ ماہ ہو گۓ ہیں۔ان کی بہت یاد آرہی ہے۔مصنوعی طریقے سے کر کر کے بیزار ہو گٸ ہوں۔ جلدی سے وہ آٸیں تو میری تسلی ہو۔اسی طرح کی وہ باتیں کرتی رہتی تھی۔ادھر اسکول میں ہماری کلاس میں ایک نیا لڑکا داخل ہوا تو پہلے ہی دن سر نے اسکو میرے ساتھ بٹھا دیا یوں پہلے ہی دن میری اسکی دوستی ہو گٸ۔اسکا نام شاکر تھا اور وہ پڑھاٸ میں تو درمیانہ تھا مگر اسکی معلومات ہر معاملے میں بہت تھیں۔شروع میں دوچار دن تو ہم میں تکلف رہا پھر ہم فری ہوگۓ۔وہ لوگ آٹھ بہن بھاٸ تھے اور اسکا نمبر چھٹا تھا۔رفتہ رفتہ اس نے مجھ سے سیکس پر بات شروع کی تو اسکو اندازہ ہوگیا کہ میں اس معاملے میں بالکل کورا ہوں ۔رفتہ رفتہ اسنے مجھے پہلے بلیو پرنٹ کے ننگے رسالے دکھاۓ اور پھر زبانی بہت کچھ سمجھایا اور کہا کہ ایک پریکٹیکل ضرور کرنا۔تبھی اچھی طرح سمجھ آۓ گا۔اب مسٸلہ یہ کہ تجربہ کس پر کیا جاۓ۔اب ہروقت دماغ پر سیکس سوار رہنے لگی۔اسی دوران ہماری لاٸن میں ایک گھر میں چوری ہوگٸ تو میری امی کی سہیلی جنکا نام فرزانہ تھا وہ جب شام کو آیٸں تو بہت پریشان تھی۔کیونکہ انکے دیور اور و دیورانی جو ان کے ساتھ ہی رہتے تھے وہ دونوں کسی سرکاری کام سے اسلام آباد گۓ ہوۓ تھے اور انکا پندرہ دن کا دورا تھا اور وہ فرزانہ باجی کے دونوں بڑے بیٹوں کو بھی ساتھ لے گۓ تھے ۔ویسے تو یہ کوٸ پریشانی کی بات نہی تھی مگر چوری والے واقعے کی وجہ سے فرزانہ خالہ بہت گھبراٸ ہوٸ تھی۔وہ میری والدہ سے کہنے لگی کہ باجی مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر آپ کہو تو میں رات کو اسکو اپنے پاس سلا لوں۔ میری والدہ نے کہا ارے یہ تو خود اتنا چھوٹا ہے یہ تیری کہا حفاظت کرے گا تو خالہ بولی۔اے لو اتنا بڑا جوان تو ہوگیاہے اسکی تو شیو بھی آگٸ ہے۔اور ویسے بھی اگر خدانخواستہ کوٸ چور وغیرہ آیا تو یہ کم از کم شور مچا کر آپ لوگوں کو بلا تو لے گا۔ میری تو ڈر کے مارے آواز ہی نہی نکلے گی۔میری والدہ نے کہا جاکر فرزانہ کے گھر رات کو سوجا اور خالہ کو حوصلہ دینا۔ان کو ڈرنے نہ دینا۔میں نے کہا اچھا چلا جاٶں گا تو خالہ بولیں۔نہی توابھی میرے ساتھ چل اب رات شروع ہو گٸ ہے۔ گھر پر میں اکیلی ہوں اور دو چھوٹھے بچے ہیں میرے۔وہ تو ابھی تین اور دو سال کے ہیں۔ ان سے مجھے کیا سہارا ملے گا تو میرے ساتھ چل میرا بیٹا۔ میری والدہ نے جب فرزانہ کی یہ حالت دیکھی تو مجھے کہا کہ ٹھیک ہے تم ابھی کھانا کھا کر خالہ کے ساتھ چلے جاٶ۔تو وہ بولی کہ نہی کھانا آج میرے گھر کھالینا۔تو والدہ کے کہنے پر میں نے اپنے رات کو پہننے والا ناٸٹ سوٹ اور کتابیں اٹھاٸیں۔تو خالہ نے کہا کہ یہ صبح میرے گھر سے ہی اسکول چلا جاۓ گا آپ پریشان مت ہونا۔میری والدہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔اور میں خالہ کے ساتھ ان کے گھر چلا آیا۔انکے گھر آج میں پہلی بار نہی آیا تھا۔سینکڑوں بار انکے گھر میرا آنا جانا تھا لیکن ہمیشہ انکا گھر بھرا پرا ہوتا تھا لیکن آج انکے گھر میں سناٹا تھا کیونکہ انکے دونوں بڑے بچے اور انکے دیور اور دیورانی گھر میں نہی تھے اور دونوں چھوٹے بچے ماں کے ساتھ تھے ۔خیر وہاں پہنچ کر خالہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے بیڈروم میں لے گیٸں اور اپنےبیڈ پر بٹھا کر بولیں۔آج تم یہیں سونا۔میرے ساتھ اور دونوں بچے بھی ہمارے ساتھ ہی سوٸیں گے۔پھر ہم کچن میں آۓ اور ہم چاروں نے کھانا کھایا۔ میں بیڈروم میں آکر اپنی پڑھاٸ کرنے لگا اور خالہ کچن کی صفاٸ وغیرہ کرنے لگیں۔تھوڑی دیر کے بعد خالہ کچن سے آیٸں اور دو فیڈر دودھ کے بھر کر اپنے بچوں کودیا کہ دودھ پی کر سو جاٶ۔اور مجھ سے پوچھا کہ کتنا کام باقی ہے۔ میں نے کہا کہ تقریباً آدھا گھنٹا اور لگے گا۔تو وہ کہنے لگی کہ ٹھک ہے میں بھی کچن نمٹا کر آتی ہوں۔تھوڑی دیر بعد میرا کام مکمل ہوگیا تو میں نے اپنی کتابیں اسکول کے بیگ میں رکھ دیں۔اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔اسوقت تک ٹی وی صرف چند گھروں میں آیا تھا۔ اور ہمارے اورخالہ کے گھر بھی تھا۔میں نے ٹی وی کھول لیا اوراس وقت صرف پی ٹی وی ہی آتا تھا جو رات دس بجے بند ہوجاتا تھا۔تھوڑی دیر تک ہم چاروں ٹی وی دیکھتے رہے پھر خبریں شروع ہو گٸیں تو خالہ نے اندر جاکر بستر لگایا اور مجھے کہا کہ سونے آجاٶ۔میں تھوڑی دیر بعد اندر پہنچا تو دیکھا کہ خالہ نے اپنے ڈبل بیڈ پرہی میرا تکیہ اور چادر رکھ دی تھی اوردونوں بچے دوسری ساٸڈ پر تھے جبکہ خالہ خود بیچ میں لیٹی تھی۔میں نے لاٸٹ بند کرنی چاہی تو خالہ بولیں کمرے کا دروازہ بھی اچھی طرح بند کرلو۔ میں نے کہا گرمی بڑھ جاۓ گی۔لیکن وہ نہ مانی اور خود اٹھ کر دروازہ اچھی طرح بند کرکے کنڈی اور چٹخنی دونوں لگا دیں۔کھڑکیاں پہلے ہی بند تھیں۔میں لیٹ تو گیا لیکن مجھے گرمی لگ رہی تھی۔ ابھی ہمیں لیٹے ہوۓ دس منٹ بھی نہ ہوۓ ہوں گے کہ باہر کچھ آہٹ ہوٸ تو خالہ مجھ سے چمٹ گٸں۔اور مجھے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔انکی بڑی بڑی چھاتیاں میرے سینے میں گھس گییٸں۔میں نے انکی کمر پر ہاتھ پھیر کرانکو تسلی دی تو انکاڈر کچھ کم ہوا۔ میں نے کہا کہ میں باہر دیکھ کر آتا ہوں۔پہلے تو انہوں نےبالکل منع کردیا پھر میرے زوردینے کہ کچھ نہی ہوتا میں ہوں نا۔ تو وہ کہنے لگی میں بھی ساتھ چلوں گی۔انہوں نے مضبوطی سے میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑکر دروازہ کھولا تو پہلے میں باہر نکلا تو دیکھا کہ صحن میں ایک بلی بیٹھی تھی جو ہمیں دیکھ کر بھاگ گٸ۔ہم دونوں کو ہنسی آگٸ۔اب خالہ تھوڑی ریلیکس ہوٸیں۔باہر آکر ہوا لگی تو محسوس ہوا کہ مجھے تواچھا خاصہ پسینہ آیا ہوا ہے۔اور خالہ کوبھی پسینہ آیا ہوا ہے میں بڑا کہا کہ دروازہ کھول کر سو جاتے ہیں اب تو کوٸ ڈر نہی ہے۔ لیکن وہ نہ مانی۔تنگ آکر میں نے غصے میں کہا کہ پھر میں کپڑے اتار کر سوٶں گا۔تو وہ ایک چادر لے آیٸں کہ اسکو دھوتی بنا کر پہن لو۔ مجھے دھوتی باندھنا کہاں آتی میں نے ایسے ہی لپیٹ لی۔پھر خالہ کہنے لگی میں بھی نہا کر آتی ہوں۔تھوڑی دیر میں وہ نہا کر آیٸں تو انہوں نے بھی ایک ناٸٹی پہن رکھی تھی جو شاید خالولاۓ ہونگے۔بالکل شفاف اور سفید رنگ کی تھی اور اس میں سے خالہ کا جسم صاف نظر آرہا تھا۔انکے گیلے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا جو ان کی ناٸٹی کو بھی گیلا کر رہا تھا جسکی وجہ سے انکے براٶن رنگ کے بڑے بڑے نپل صاف نظر آرہے تھے ۔جو خالہ کو بالکل پتہ نہی چل رہا تھا۔ہم بستر پر لیٹے تو پتہ چلا کہ دونوں بچے تو سو چکے ہیں۔خالہ ان کو ساٸڈ پر کیا مجھے دوسری ساٸڈ پر لیٹنے کو کہا اور خود بیچ میں سیدھی لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں۔کمرے کی لاٸٹ ڈر کی وجہ سے بند نہی کی۔ میں خالہ کی طرف کروٹ لے کر لیٹ گیا تو آنکھوں کے سامنے خالہ کے نپل تھے۔ ان کو دیکھ کر مجھے کچھ ہونےلگا۔ مجھے لگا کہ میرا نیچے سے کھڑا ہونے لگا ہے۔اور ذہن میں شاکر کی دکھاٸ ہوٸ بلیو پرنٹ کے منظر چلنے لگے۔اب میرا آلہ فل کھڑا ہوچکا تھا اچانک باہر سے کچھ کھٹ پٹ کی آواز آٸ۔خالہ جو کہ جاگ رہی تھی۔ایک دم کروٹ لے کر مجھ سے لپٹ گیٸں۔لیکن اچانک ان کو احساس ہوا کہ ان کی ٹانگوں کے بیچ میں کچھ چب رہا ہے۔ لیکن ڈر کے مارے وہ پیچھے نہی ہویٸں۔اور میرا ببلو انکی ببلی پر دستک دینے لگا۔انہوں نے اپنی باہوں میں مجھے کس لیا اور انکی چھاتیاں میرے سینے میں گھسنے لگیں۔جبکہ میرا ببلو انکی ببلی میں گھسنے کی کوشش کرنے لگا۔میں نے محسوس کیا کہ انہوں نے شاید مجھے قبول کر لیا ہے اب میں نے نیچے سے شاٹ مارنے شروع کیۓ تو وہ بالکل ہی نڈھال ہو گیٸں۔اسی دوران میں چادر میرے جسم سے کافی ہٹ گٸ اور انکی ناٸٹی بھی ہٹ گٸ۔اب میرا ببلو ڈاٸریکٹ انکی ببلی کو ٹچ کر رہا تھا۔خالہ سیکسی لہجے میں بولیں کیا کر رہےہو میں نے جذباتی انداز میں کہا خالو کی کمی پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تو خالہ سسکی لے کر بولیں تو پھر صحیح سے کرو نا۔میں نے پوچھا وہ کیسے تو بولیں آمیں تجھے بتاتی ہوں۔ یہ کہ کر انہوں نے میرے ہوبٹوں کو چوسنا شروع کردیا۔اسوقت مجھے سیکس کے بارے میں عملی طور پر کچھ بھی نا پتہ تھا۔تھوڑی دیر بعد پھولی ہوٸ سانسوں کے ساتھ میرے ہاتھ اپنی چھاتیوں پر رکھ کر بولیں انکو بھی دبا۔میں نے اناڑی پن سے انکی چھاتیوں کودبایا تو بولی ان کو بھی چوس۔میں ہپناٹاٸز شخص کی طرح انکی ہر بات پر اپنی بساط بھر عمل کر رہا تھا۔تھوڑی دیر نپل چوسنے کے بعد مجھے بھی مزاآنے لگا اور میں انکی موٹی موٹی چھاتیوں کو ہاتھوں سے دبانے بھی لگا۔ اب مجھے بھی مزا آنے لگا ۔خالہ کی بھی سسکیاں نکل رہی تھی۔انہوں نے نیچے ہاتھ ڈال کر میرا ننگا ببلو ہاتھ میں پکڑ لیا اور ایک دم چونک کر بولیں ارے ابھی سے اتنا بڑا کیسے ہوگیا تیرا۔کیا کھلاتا ہے اس کو۔میں نے معصومیت سے کہا کچھ بھی نہی کھلاتا۔تو وہ بولی اب اسکو اسکی خوراک میں کھلاٶں گی۔اور ابھی پہلی خوراک دیتی ہوں۔اسوقت تک ایک تو میرا پہلا موقع تھا پھر سیکس کی معلومات بھی صرف اندر ڈالنے کی حد تک تھی۔اور کچھ خالہ کو بھی صرف اندر لینے کا ہی شوق تھا۔اس لیۓ فور پلے ہم دونوں میں سے کسی نے ذیادہ نہ کیا اور تقریباً پانچ منٹ کے بعد میرا ببلو خالہ کی ببلی کے اندر جا چکا تھا۔اور مزے کی بات یہ کہ میں تھوک وغیرہ کچھ بھی نہی لگایا۔انکی اندر سے اتنی گیلی تھی کہ میں نے انکے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا زور لگایا تو خالہ نے نیچے سے خود کو اٹھایا تو ایک دم سے میرا ببلو انکی ببلی میں پورا اندر گھس گیا اور خالہ کی گھٹی گھٹی سی ہاۓ نکلی۔ میں ڈر کر رکا تو بولیں اب رکنانہی بالکل بھی۔اور یقین کریں تقریباً بیس منٹ تک میں دھکے لگاتا رہا اس دوران خالہ تین بار فارغ ہوٸیں۔جب مجھے اپنی رگوں سے جان نکلتی محسوس ہونے لگی تو خالہ سمجھ گیٸں کہ میں جانے والا ہوں تو بولیں کہ جب تک میں نہ بولوں رکنا نہی۔میں اور تیزہوا تو مجھے اپنے ببلو سےکچھ نکلتا محسوس ہوا توخالہ بولی۔بس کر ۔میں رکاتو میرے اندر سے منی کا سیلاب سا نکلا جسنے خالہ کی پوری ببلی بھر دی۔جب میں خالہ کے اوپرسے اترا توہم دونوں پسینے میں شرابور تھےاور دونوں کی سانس چڑھی ہوٸ تھی ہم دونوں ساتھ ساتھ لیٹ گۓ۔تھوڑی دیربعد جب ہماری سانسیں بحال ہوٸیں تو میں نے خالہ کیطرف کروٹ لی تو انہوں نے شرماکر میرے سینے میں منہ چھپا لیا۔اس رات ہم نے تینبار کیا۔اور پھر اگلے دن اسکول گیا تو شاکر کو سیکس کا تو نہی بتایا لیکن کچھ مزید ٹپس لیں۔اور پھر اگلے سات دن تک میں روز خالہ کی تسلی کرواتا رہا اور اب تو فور پلے ٕبیھی آگیا۔ مختصریہ کہ اگلے آٹھ سال تک میں نے خالہ کو خالو کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔آٹھ سال بعد وہ گلشن اقبال شفٹ ہو گۓ اور خالو بھی مڈل ایسٹ سےواپس آگۓ۔پھر یہ میرے لیۓ بھولی بسری بات ہوگٸ۔آج آپ نے گھر کے مزے کی بات کی تو مجھے بھی یہ یاد آگٸ۔

ختم شد


The post امی کی گرم سہیلی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%af%d8%b1%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84%db%8c/feed/ 0
میری کزن عائشہ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86-%d8%b9%d8%a7%d8%a6%d8%b4%db%81/ https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86-%d8%b9%d8%a7%d8%a6%d8%b4%db%81/#respond Mon, 25 Aug 2025 15:44:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86-%d8%b9%d8%a7%d8%a6%d8%b4%db%81/   میرا نام نومی ہے اور اس وقت میری عمر 29 سال ہے اور جو کہانی میں آپ لوگوں کو بتانے والا ہو وہ آج سے تین سال پہلے شروع ہوئی جب میری عمر 26 تھی بات اس وقت کی ہے جب میں دبئی سے چھٹی آیا تھا اور ان۔ دنوں میں بہت پریشان تھا […]

The post میری کزن عائشہ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


میرا نام نومی ہے اور اس وقت میری عمر 29 سال ہے اور جو کہانی میں آپ لوگوں کو بتانے والا ہو وہ آج سے تین سال پہلے شروع ہوئی جب میری عمر 26 تھی

بات اس وقت کی ہے جب میں دبئی سے چھٹی آیا تھا اور ان۔ دنوں میں بہت پریشان تھا کیوں کوئی ایک مہینہ پہلے اس لڑکی کی کہیں اور شادی ہو گئی تھی جس سے میں بے انتہا پیار کرتا تھا میں اداس رہتا تھا اور اپنا زیادہ تر وقت گھر کے باہر ہی گزارتا تھا .. میری ایک خالہ ہیں جن سے گھر والوں کا جگڑا ہے اور وہ ہم کو ملتی ہیں نا ہم …. لیکن جب میں دبئی تھا ان سے میرا فیس بک کے ذریعے رابطہ ہوا اور بات ہونی شروع ہو گئی وہ کافی بولڈ لیڈی تھی میں ان سے ہلکی پھلکی ڈبل مینیگ باتیں بھی کر لیتا تھا

تو ایک دن میں ایسے ہی صبح اٹھا تو واٹسایپ پے ان کے مسجز آئے ہوئے تھے کہ تم ملنے آؤ وہ گوجراوالہ رہتی ہیں تو میں اس دن اٹھا تیار ہو کے گوجراوالہ ان سے ملنے نکل گیا بائک پے ہی میں ان کے گھر جا پہنچا خالہ کی عمر 43 تک ہو گی انکی تین بیٹیاں اور دو بیٹھے ہیں ان کے شوہر کام کے لیے لاہور رہتے تھے اور ہفتے بعد واپس آتے تھے ایک بیٹی کی شادی ہو چکی تھی اور ایک میٹرک میں تھی باقی بچے دو دو سال کے فرق سے چھوٹے تھے خالہ کو میں پہلے فیملی فنگشنز میں دیکھا ہوا تھا لیکن آج میں ان کو سہی سے دیکھا میری خالہ کیا کمال کا مال تھی

بڑے بڑے دودھ اور باہر کو نکلی ہوئی .. خیر انہوں نے مجھے دیکھتے ہی گلے لگا لیا اور زور کی جھپی ڈالی تو ان کے اکڑے ہوئے دودھ میری چھاتی پے محسوس ہوئے . انہوں نے یہ ہگ آپنے بچوں کے سامنے ہی کیا تھا میں بھی کوئی اتنا نروس نہیں ہوا کیوں کے ان کے بارے سوچ کے میں پہلے بھی بہت بات گرم ہو کہ مٹھ مار چکا تھا اور نا ہی یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا میں اس سے پہلے دو تین پھدیاں مار چکا تھا علیک سلیک کے بعد سب بیٹھے باتیں ہوئی کھانا کھایا اور باتوں میں انہوں نے بتایا میری ایک اور خالہ کی بیٹی کے بارے کہ اس کی شادی ہوئی دو بار پہلے اس کا ہسبنڈ فوت ہو گیا اور اس سے ایک بچہ ہے اور پھر دوبارہ شادی کی اس کی گھر والوں نے ایک بڈھے ساتھ تو اس کے ساتھ اس کی نبھ نا سکی اس میں سے بھی ایک بچہ ہے اور وہاں سے بھی طلاق ہو گئی اب وہ سیالکوٹ میں رنگ پورہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتی ہے خالہ نےمجھے بتایا کہ انہوں نے کچھ دن تک سیالکوٹ اس کے گھر جانا ہے وہاں جا کہ وہ مجھے کال کرے گی تو میں وہاں ملنے آؤں۔

خیر خالہ کی چھاتی اور بنڈ کو کو دیکھ دیکھ کے آنکھیں ٹھنڈی کر کے میں واپس سیالکوٹ کے لیے نکل آیا واپس سیالکوٹ آ کے میں اپنی اس کزن کے بارے سوچا کہ وہ بچاری کتنی بد قسمت ہو گی جس کا گھر دو بار اجڑ گیا کچھ دنوں بعد خالہ سیالکوٹ اس کے گھر آئی اور مجھے کال کی میں یہاں آئی ہوں آؤ ہم سے ملنے سردیوں کے دن تھے میں اٹھا نہا دھو کے دن 12 بجے ان کے محلے جا پہنچا فون کر کے گھر کی لوکیشن پتا کی جو سمجھ نہیں تھی آ رہی کیونکہ گھر کافی اندر تھا گلیوں میں تو کزن کا بیٹا مجھے لینے آ گیا اس کے بیٹھے کی عمر 14 ، سال ہو گی

میں جب اس کے گھر پہنچا تو اس لڑکے نے بتایا خالہ چھت پے دھوپ میں تو میں اس کے ساتھ چھت کی طرف ہی چل دیا میں جب کچن کے پاس سے گزر کے اوپر جا رہا تھا تو وہاں میں ایک لڑکی نظر آئی جس پے میں اتنا غور نا کیا اور اوپر خالہ پاس چلا گیا خالہ نے پہلے کی طرح مجھے جھپی ڈالی اور مجھے مل کی نیچے چٹائی پے بیٹھ گئی جہاں کپڑے سلائی کرنے والی مشین پڑی تھی آج خالہ نے ڈوپٹہ نہیں لیا ہوا تھا جس سے خالہ کے آدھے آدھے دودھ صاف نظر آ رہے تھے جن کو دیکھ کے پینٹ میں ہی میرا لن ٹائیٹ ہونا شروع ہو گیا اس سے پہلے کہ میں کچھ اور سوچتا مجھے سرپرائز ملنے کا ٹائم تھا

خالہ کی بیٹی جس سے میں ملنے آیا تھا وہ چھت پے آئی جس کو دیکھ کے میرے ہوش اڑ گے جس کو میں آنٹی خیال کر رہا تھا وہ ایک 30 سال خوبصورت اور اونچی لمبی لڑکی تھی جو بلکل خالہ کی جوانی کی کاپی لگتی تھی بیٹھے باتیں شروع ہوئی تو پتا چلا کہ اس کی پہلی شادی تب ہو گئی تھی جب اس کی عمر کو 15,16 تھی اور اس میں سے پہلے سال ہی بیٹا ہو گیا خالہ سمینہ کی نسبت عائشہ مجھے شریف اور آچھی لڑکی لگی کیوں کہ اس نے اپنے سارے جسم کو آچھے سے کور کیا ہوا تھا اور اسکی نظریں بھی جھکی رہی جس کی وجہ سے میرے دل میں اس کے لیے کوئی غلط خیال نا آیا اس نے بتایا کہ وہ ایک پرائیوٹ سکول میں جاب کرتی ہے تعلیم میٹرک تھی اس لیے چھوٹے بچوں کو سمبھالتی تھی اور کچھ اس کے ابو اس کی ہیلپ کرتے ہیں تو اس کا گزارہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ وہ لوگوں کپڑے بھی سلائی کرتی ہے اس ساری ملاقات میں خالہ سمینہ نے مجھے اپنے دودھ دیکھا دیکھا کے گرم کیے رکھا دل تو کر رہاتھا ابھی اس پے چڑھ جاؤں لیکن صبر کرنا پڑا

وہاں بیٹھے بیٹھے باتیں کرتے کرتے میں عائشہ سے کافی فرینک ہو گیا تھا وہ ایک آچھی لڑکی تھی اس نے کسی قسم کی کوئی فضول بات نا کی یہاں وقت گزارتے گزارتے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا وہ یہ تھا کہ میں عائشہ کے ساتھ اپنی دوستی بڑھاؤں اور اپنی جو ایک دو گرل فرینڈ تھی جن کی چودائی کے لیے جگہ کا نا ہونا بڑا مسلہ ہے تو ان کو اس کے گھر لا کہ چودہ جا سکتا تھا یہ ایک سیو اور مناسب جگہ تھی اور لایا بھی اس وقت جائے جب عائشہ اور اس کے بچے سکول ہوتے ہیں لیکن وہاں بیٹھے نمبر مانگنے کی میری ہمت نا ہوئی شام ہوئی توخالہ نے بھی واپس گوجراوالہ جانا تھا ان کا چھوٹا بیٹا جو 9,10 سال کا ہے وہ بھی ساتھ تھا تو خالہ نے کہا کہ ہم کو بھی لاری اڈے سے گاڑی پے بیٹھا آؤ میں نے ہاں کر دی اور ان کے بیٹے کو بائک پے آگے بیٹھایا اور خالہ میرے پیچھے جڑ کے بیٹھ گئی خالہ سمینہ کےٹائیٹ دودھ میری بیک پے سہی سے فیل ہو رہے تھے میرے لیے یہ سفر کافی مزے کا تھا

مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ خالہ پے اگر میں ٹرائی کروں تو وہ مجھ سے چودوا لے گی کچھ وہ لالچی سی عورت بھی تھی اور میں باہر سے آیا تھا آچھے پیسے تھے میرے پاس اور اس کے علاوہ میرے جیسے جوان لڑکے سے چودوانا آج کل کی آنٹیوں کا مشغلہ بن گیا ہے ۔ جب میں نے اسےلاری اڈے جا کے اتارا تو خود ہی ٹکٹس لے کے دیے گاڑی نکلنے میں ابھی تھوڑا ٹائم تھا میں ان کے لیے جوس لایا اور اپنے لیے بھی باتوں باتوں میں خالہ سے عائشہ کا نمبر مانگا جو خالہ نے ججکتے ہوئے دے دیا اور سحت تاکید کی کہ ایسی ویسی کوئی بات نا کرنا وہ سیریس لڑکی ہے میں ان سے کہا خالہ آپ بے فکر رہیں اور ان کو گاڑی پے بیٹھا کہ گھر آ گیا

اور پھر رات کو میں نے عائشہ کو ہیلو کا مسج کیا لیکن کافی انتظار کے بعد بھی جب آگے سے جواب نا آیا تو میں نے کال ملا دی عائشہ نے کال پک کی

عائشہ : ہیلو جی کون

میں: اسلام علیکم کزن کیسی ہیں

عائشہ : واعلیکم اسلام جی آپ کون۔۔؟

میں: آپ تو بڑی جلدی بھول گئی میں نومی ہوں آج ہی تو ہماری ملاقات ہوئی ہے ۔

عائشہ : اوہ آچھا تم ۔نمبر کہاں سے لیا ہے تم نے میرا ؟ میرا موبائل پکڑا تھا تم نے اس میں سے نکالا تھا۔۔؟

میں: ارے ارے نہیں نہیں ایسی عادت نہیں ہے میری میں نے خالہ سمینہ سے لیا تھا آپکا نمبر اگر آپ کو آچھا نہیں لگا میرا کال کرنا تو میں بند کر کے نمبر ڈیل کر دیتا ہوں

عائشہ: نہیں ایسی بات نہیں بس میں کم لوگوں سے رابطہ رکھتی ہوں ۔خیریت سے لیا تم نے نمبر ۔؟

میں: جی جی خیریت ہے بس آپ سے مل آج بہت آچھا لگا اور تھوڑا دکھ بھی ہوا کہ آپکی لائف میں اتنی تکلیفیں آئیں ایسے ہی میں کافی تعریفیں کی عائشہ کی کہ وہ آچھی ہے پیاری ہے نیچر آچھی ہے اس کی اور آپ لوگوں کو تو پتا ہے عورت چاہے کوئی بھی ہو کیسی بھی ہو تعریفیں کرنے والے مرد ان کو آچھے لگتے ہیں اس کے بعد تھوڑی مزید بات چیت ہوئی اور فون بند ہو گیا اس کے بعد روزانہ میں رات کو عائشہ کو کال کرتا اور بات کرتا کوئی غلط بات نا ہوتی بس کچھ اس کے دکھڑے سنتا کچھ اپنی محبت کے قصے سناتا۔

تقریباً ایک ہفتے بعد اس نے اپنے گھر کے دروازے بھی میرے لیے کھول دیے ہم آچھے دوست بن چکے تھے پھر ایک دن میں اس کے گھر گیا تو بچوں کے لیے پیزہ لے گیا جو بچوں کو بھی پسند آیا اور عائشہ کو بھی فون پے میں اس سے سہی کھل کے بات کر لیتا تھا لیکن سامنے جا کے میری ہمت جواب دے جاتی تھی انہی دنوں اس نے ایک گورمنٹ کا ادرہ جائن کیا تھا پارلر کا کورس کرنے کے لیے تو میری روٹین بن گئی کہ میں اس کو روزانہ وہاں سے لیتا اور گھر چھوڑتا تھوڑی دیر بیٹھ کے گھر آجاتا اور اس وقت میرے اور عائشہ کے علاوہ گھر پے کوئی نہیں تھا ہوتا کیونکہ بچے ٹیوشن جا چکے ہوتے تھے ابھی تک بھی میرے ذہن میں اس کے لیے کوئی غلط بات نہیں تھی

میں اس کو کورس کی جگہ سے پک کرنے بھی صرف اس لیے جاتا تھا کہ وہاں اور لڑکیاں بھی ہوتی تھی جو فل لائن دیتی تھی ان میں سے ایک لڑکے ماہم نے عائشہ سے دوستی صرف اس چکر میں کی کہ میں عائشہ کا کزن ہوں ماہم عائشہ سے میرے بارے پوچھتی رہتی اور اس کا گھر بھی اسی طرف تھا جس طرف عائشہ کا تھا ایک دن اس نے عائشہ سے کہا کہ میرا رکشہ نہیں آیا مجھے بھی ساتھ لے چلو تو عائشہ نے اوکے کر دیا اور وہ بھی ہمارے ساتھ آگئی رستے میں پل ایک سے ماہم نے اے ون دہی بھلے کھانے کی فرامائش کی جو ہم نے قبول کی اور کھانے چلے گے آج میں نے ماہم کو پہلی دفعہ بغیر نکاب کے دیکھا تھا بلاشبہ وہ ایک حسین لڑکی تھی میں محسوس کر رہا تھا وہ مھ پے لائن مار رہی تھی جو کہ عائشہ کو بلکل آچھا نہیں تھا لگ رہا گھر آئے تو عائشہ شرارتی انداز میں مجھے کہنے لگی

آج تو بڑی لائن ماری جا رہی تھی نمبر دے دوں اس کا تو میں نے کہا نہی نہی وہ ہی مار رہی تھی میں نہیں اور میں نے سوچا نمبر لے لیا تو اس کو برا نا لگ جائے اور دوستی نا ختم ہو جائے تو میں نےکہا نہیں مجھے نہیں چاہیے اور آئندہ سے آ پ اسے ساتھ مت لانا اس دن کے بعد سے میں نے عائشہ میں بڑافرق محسوس کیا وہ میرے لیے فکر مند ہوتی میں اس کو لینے جاتا تو اس کی سہیلیاں اشارے اشارے سے اسے میری طرف سے چھڑتی تھی اور مجھے بھی اب وہ آچھی لگنے لگی تھی اس سارے معاملے کو ایک مہینہ ہی ہوا ہو گا اب میں بھی اس کو پرپوز کرنے کا سوچ لیا روزانہ ملاقات کے باوجود روزانہ فون کال ہوتی تھی میں کال پے اس سے سے کھل کے بات بھی کر لیتا لیکن سامنے جا کے نا ہو پاتی

پھر ایک دن میں نے سوچا اس کو باہر کہیں لے جاتا ہوں وہیں پرپوز کروں گا ہم لوگوں نے آئس کریم کھائی لیکن میری ہمت نا ہوئی تو ہم پارک چلے گے وہاں تھوڑی دیر ٹہلتے رہے میں نے بھی محسوس کیا کہ اب وہ بھی اسی انتظار میں ہے کہ میں اسے پرپوز کر دوں لیکن اس کی پرسنلٹی کے آگے میری ہمت ہی نا ہوئی ہم لوگوں نے 8,9 بجے تک کھانا کھایا اور ٹی وی دیکھنےلگے اور باتیں کرنے لگے ٹی وی دیکھتے دیکھتے اس کے بچے سو گے میں اور عائشہ آمنے سامنے کرسیوں پے بیٹھے تھے اور ہمارے پاس ہیٹر چل رہا تھا رات کی تاریکی میں بات کرنا آسان ہوتا ہے میں اس سے بات کرنا شروع کی اور کہا کہ عائشہ میں تو پیار کرتا ہو۔ محبت ہو گئی ہے تم سے تو وہ کہنے لگی کیسی بہکی بہکی باتیں گھر رہے ہو میرے بچے جوان ہو رہے ہیں میں بدنام نہیں ہونا چاہتی اس سب میں پڑ کے اب مجھے پتا تھا وہ یہ باتیں اوپر اوپر سے کہہ رہی اندر سے اس کی بھی مرضی ہے تو میں اس کے تھوڑا قریب ہو گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی محبت کا یقین کروانے لگا اس کے دونوں ہاتھ میرے ہاتھوں میں جنہیں اس نے چھڑوانے کی کوشش نا کی پھر میں اس کو یقین دلوایا کہ مجھے واقعی اس سے محبت ہو گئی ہے اور یہ بی یقین دلوایا کے میری وجہ سے کبھی اس کی عزت پے بات نہیں آئے گی اور اگر کبھی ایسا ہونا کا حدشہ بھی ہو گا تو تمہاری عزت کے لیے میں پیچھے ہٹ جاؤں گا میری ان بات سے مجھے وہ زرا نرم ہوتی دیکھائی دی تو میں اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کا جواب سنے بغیر اس کو لے کے بیڈ والے کمرے میں چلا گیا

سائڈ سے ہی اس کو بیڈ پے دھکا دے کے لٹا دیا مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ میں اتنی جلدی اتنا آگے بڑھ جاؤں گا پھر میں نے سوچا جو ہونا تھا ہو گیا اب ہمت کرو اور کام کو ادھورہ مت چھوڑوں اس کو بیڈ پے ابھی لیٹایا ہی تھا تو وہ کہنے لگی یہ کیا کرنے لگے ہو چھوڑ دو مجھے۔ اور بار بار کہہ رہی تھی ایسا نا کرو میں اس کے اوپر جھکا اور اس کے لپس پے کس کرنے لگا مجھے بھی کچھ انکمفرٹ ایبل فیل نا ہوا تو میں روم کی لائٹ آف کر دی اور اور اس کو کسینگ کرنے لگا اسی کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھی اور باقی جسم اوپر تھوڑی دیر کس کرنے کے بعد اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اور ہم دیوانہ وار کسنگ کرنے لگے

اس کے بعد میں نے اپنی ہونٹ اس کی گردن پے رکھے اور چومنے لگا ساتھ میں اپنی زبان بھی اس کی گردن پے لگا کہ اس کو چاٹ رہا تھا وہ فل مدہوش ہو رہی تھی میرے نیچے ہونٹو اور گردن پے کس کرتے کرتے میں اس کی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور قمیض اوپر کرنا چاہی جس میں عائشہ نے میرا پورا ساتھ دیا اور اپنی کمر اٹھا کے قمیض اوپر کرنے میں میری مدد کی میں نے اس کی قمیض اس کے برسٹ سے اوپر کر دی تھی اور اب سے کے دودھ سفید رنگ کے برا میں قید میرےہاتھوں میں تھے میں ان کو دبا رہا تھا اور اپنے ہونٹوں سے اس کے لپس کا رس پی رہا تھا وہ بھی اس سیچوشن کو خوب انجوائے کر رہی تھی اس بات کا اندازہ مجھے اس کی سسکیوں سے ہو رہاتھا

پھرجوں ہی میں اس کی برا اوپر کی عائشہ کے موٹے اور فل تنے ہوئے دودھ میرے سامنے آگئے میں نے اس کے ہونٹوں کو چھوڑا اور اس کے دودھ پے لپکا اور نپلس منہ میں لے کے چوسنےلگا اور ہاتھ سے عائشہ کی ممے دباتا رہا نپلز سک کرنے سے وہ زیادہ ہاٹ ہو چکی تھی میں نے کوئی 10 منٹ اس کے ممے چوسے اور پھر میں آہستہ سے نیچے کو آیا اب میں اس کے پیٹ اور کمر پے زبان پھیر رہا تھا پھر جو ہی میں اس کی شلوار کو ہاتھ ڈالا اس نے ایک دفعہ پھر مجھے روکنے کی کوشش کی

عائشہ: بس کر دو پلز اس سے زیادہ نہیں اس نے یہ بات التجایا لہجے میں کہی تھی لیکن میں کہا ماننے والا تھا میں نے سوچا اب اگر اتناکر کہ چھوڑ دیا تو کل کو مجھے گھر ہی نا گھسنے دے گی ایک دفعہ پھدی مار لوں گا تو کانی ہو جائے گی پھر منع نہیں کر سکے گی میں نے اس کی شلوار نیچے کھنچی جو آرام سے ہی اتر گئی میں نے اس کی دونوں ٹانگیں کھول کے اندھیرے میں ہی اس کی پھدی پے منہ رکھا اور اس کو چاٹنے لگا وہ اس وقت بھی فل گیلی تھی لیکن میری زبان کا لمس ملتے ہی وہ بن ہانی کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی میں بھی فل جوش سے اس کی پھدی چاٹتا رہا اور پھر پھدی میں فنگر کرنے لگا اب لن لینے کے لیے فل تیار ہو چکی تھی میں نے عائشہ کی پھدی چاٹتے چاٹتے ہی اپنی پینٹ کھولی اور انڈر وئیر نیچے کر لیا میری اس کاروائی کااس کو علم نہیں تھا میں پھر اچانک سے اپنامنہ پھدی سے ہٹایا اوراس کی گیلی پھدی میں ایک ہی جٹکے میں لن ڈال دیا

اس سرپرائز سے وہ ایک دم تڑپ اٹھی اور اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا”ہائی میں مر گئی”پھر اسے احساس ہوا کہ لن اندر جا چکا ہے کیا بتاؤ یار بہت ٹائٹ پھدی تھی اس کی شائد پچھلے 8,10 سال سے کوئی لن نہیں تھا گیا اس لیا اس کے دونوں بچے بھی اپریشن سے ہوئے تھے ٹائٹ پھدی کی ایک وجہ یہ بھی تھی جب میرا پورا چھے انچ کا لن اندر چلا گیا تو میں جٹکے مارنے شروع کیے بہت ہی زیادہ مزہ تھا اس کی پھدی مارنے کا تھوڑی دیر گزری ہو گی مجھے جٹکے مارتے ہوئے کہ اس نے بھی گانڈ اٹھا اٹھا کہ میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اس کو بھی بہت مزہ آ رہا تھا میرے ہر جٹکے پے وہ ہائے اور آہ کی آواز نکال رہی تھی جس سے میرے جوش میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا عائشہ کی چودائی کرتے ہوئے دس منٹ گزرے ہو ں گے کہ میرے جسم کا سارا خون لن کی طرف جمع ہونے لگا اب میں تیز تیز اور فل جوش سے دھکے مار رہا تھا اور ایسے ہی تیز جٹکے مارتے ہوئے میں اس کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور بے سد ہو کے ایسے ہی اس کے اوپر گر گیا اور تیزتیز سانس لینے لگا عائشہ کی سانسیں بھی تیز تھی

تب میں نے اسے کہا I love u عائشہ لیکن اس نے کوئی جواب نا دیا تو میں نے اسے کہا مجھے چھپی ڈالو تو بھی وہ چپ رہی دوبارہ کہا تو اس نے اپنے بازو میری کمر پے کس لیے اور کہنے لگی نومی جو بھی ہوا ہے غلط ہوا ہے لیکن میں نے اسے سمجھایا کہ میں پیار کرتا ہوں تم سے پیار میں سب جائز ہے تھوڑی دیر ہم ایسے لیٹے رہے پھر میں اٹھا اور لائٹ آن کی وہ مجھ سے شرما رہی تھی کیونکہ اس کی شلوار ابھی اتری ہوئی تھی اور قمیض اوپر تھی اب روشنی میں میری نظر اس کے مموں پے پڑی تو میں پھر سے ہاٹ ہونے لگا پھر میں نے اس کو بیڈ پے سیدھا لیٹنے کا کہا اس وقت رات کے دس بج چکے تھے اور اسی وقت عائشہ کے ساتھ پھر سے کسنگ شروع کر دی اب کی بار اس نے مجھے ذرا بھی نا روکا اور میں اس بار پھدی ڈوگی سٹائل میں بھی لی اور ٹانگیں اٹھا کہ بھی. دوسری بار میں میری ٹائمنگ اور جوش زیادہ ہوتا ہے اب کی بار میں اس کو پورا گھنٹہ چودہ اس دوران وہ تین بار فارغ ہو گئی تھی اس بار جب میں اندر فارغ ہوا تو وہ مجھے دیوانہ وار چومنے لگی گالوں سے ماتھے سے جس سے مجھے محسوس ہو گیا کہ یہ بہت خوش ہوئی ہے مجھ سے اس کے بعد اس نے بھی اپنے کپڑے پہنے اور میں نے بھی اپنے کپڑے پہنے اور پانی پی کے گھر آ کے سو گیا۔۔


The post میری کزن عائشہ appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b2%d9%86-%d8%b9%d8%a7%d8%a6%d8%b4%db%81/feed/ 0
کزنز کے ساتھ محبت https://urdustoryclub.com/%da%a9%d8%b2%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/ https://urdustoryclub.com/%da%a9%d8%b2%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/#respond Sun, 24 Aug 2025 15:26:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%da%a9%d8%b2%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/   میرا نام شاھد ھے. میری کزن ندا جسکی عمر بائیس سال ھے اسکی شادی کو دو سال ھو چکے ھیں مگر اس کو بچۂ نہیں ھوا میری ندا سے بہت دوستی تھی اور اسکی بڑی بہن ثناء بھی مجھ سے بہت فرینک تھی پر کبھی گندی باتیں یا گندی سو چ ھم کزنوں میں […]

The post کزنز کے ساتھ محبت appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 



میرا نام شاھد ھے. میری کزن ندا جسکی عمر بائیس سال ھے اسکی شادی کو دو سال ھو چکے ھیں مگر اس کو بچۂ نہیں ھوا میری ندا سے بہت دوستی تھی اور اسکی بڑی بہن ثناء بھی مجھ سے بہت فرینک تھی پر کبھی گندی باتیں یا گندی سو چ ھم کزنوں میں نہ آئی تھی.

ندا ان دنوں اپنے میکے آئی ھوئی تھی اور لا ک ڈاؤن کی وجہ سے ثناء بھی میکے آئی ھوئی تھی ھنسی مذاق اور لڈو کھیلنے میں ٹائم گزر رھا تھا ایک دن ثناء نے کہا شاھد آب ندا کو فلاں جگہ لے چلو میں نے کہا خیر تو ھے ثناء بولی آپکو پتۂ ھے ندا کے بچہ نہیں ھو رھا تو میڈیسن کھا رھی ھے یہ تو اسی سلسلے میں جاناھے میڈیسن لینے میں نے مڈاق میں کہا چھوڑو میڈیس اسکا شوھر کچھ کرتا نہیں ھے آپ خوامخواہ انکل کا خر چہ کروا رھے ثناء اور ندا مسکرا دی میں نے کہا محنت کرو آپ دونوں خیر ندا کی میڈیسن لا کر دی اور اگلے دن لڈو کھیلنے گیا تو ثنا ء نے شاھد آپ سے ایک بات کرنی ھے میں نے کہا بولو تو ثنا ء نے کہا مجھے شرم آرھی پر میں بڑی ھوں آپ دونوں سے بات تو کرنا پڑے گی میں نے کہا ھم دوست ھیں آپی آپ بولو کیا بات ھے.

ثناء نے کہا آپ کروگے محنت ندا پر میں شرم سے سر خ ھو گیا میں اس طر ح کا اچانک سرپرائز کو قبول کرنے سے پانی پانی ھو گیا تھا میں نےکچھ بولنا تھا کہ ثناۓ بولی دیکھو شاھد اولاد میری بھی نہیں ھے اور اب ندا بھی دو سال سے ایسے طعنے براشت کررھی ساس اور شوھر کے لاک ڈاؤن بھی ھے وقت بھی ھے آپ لوگ کوشش جاری رکھومیں نے کہا ندا مان جاۓ گی تو ثناء نے کہا اسے میں نے منا لیا ھے میں باھر بیٹھی آپ اسکے پاس جاؤ اندر اور گھر میں ھم تینوں ھی تھے میں اندر چلا گیا تناء باھر بیٹھ گئ میں نے جاتے ھی ندا سے ھاتھ ملایا وہ شرما رھی تھی.

اندر جاکر میں نے ندا کا ھاتھ پکڑ کر سہلانا شرو ع کردیا ندا نے کالا سوٹ پہنا ھوا تھا اسکی شکل انڈین اداکارہ نیرو باجوہ سے ملتی تھی آ ج بھی ندا نیرو باجوہ لگ رھی تھی میں نے ندا کو سینے سے لگا لیا وہ شرم سے لال ھورھی تھی اور مجھے آ ج اتنا اچھا مال مل گیا تھا چودنے کو میں نے اپنے ھونٹ ندا کے ھونٹوں کے پاس لایا اور اس نے منہ پھیر لیا دروازے پر ثناء نے آواز دی کمینی کیوں شاھد کا ساتھ نہیں دے رھی شاھد کوئی غیر تو نہیں ھے آپ بھی تو اسکو پسند کرتی تھی اب کیا ھوا ثناء کی باتوں نے ندا پر جادو سا اثر کیا اس نے اب شکست تسلیم کرلی تھی میں نے پھر سے میدان سنبھالا اور ھونٹ چوسنا شروع کر دیا ندا کی آنکھیں بند تھیں میں اسکے گول مٹول ممے پریس کر رھا تھا قمیض کے اوپر سے ھی کچھ دیر کس کرنے کے بعد میں نے اسکی قمیض اتار دی ندا کے براؤن نپل اب میں چوس رھا تھا ندا اب مست ھوگئ تھی یہ میرا پہلا سیکس تھا اب ندا میرا ساتھ دے رھی تھی ندا کی شلوار بھی اتر چکی تھی وہ لیٹ گئی میں اسکے اوپر آگیا تھا اور اسکے بتیس سائز کےممے چوس رھا تھا ندا کی آنکھیں بدستور بند تھیں اور اسکی ناف اف اتنی سیکسی میں نے اسمیں انگلی ڈال دی ندا اف شاھد آہ مت کرو ایسا آہ میر ی نیرو باجوہ میری جلیبی میں نے اب اسکی چوت سہلانا شروع کر دیا تھا کیا چوت تھی آہ اف چوت کے سرخ ھونٹ آپس میں ملے ھوۓ تھے میں نے ندا کی ٹانگیں اٹھائیں اور اپنا لن اسکی چوت پر رگڑنا شرو ع کر دیا اف آھ آہ لن کا سپرش پا کر ندا مچل رھی تھی کافی ٹائیٹ چوت تھی اور گیلی ھو چکی تھی میں نے چوت کے ھونٹ کھول کر لن سوراخ پر رکھا اور ایک جھٹکا مارا آہ آہ اف کیا لذت تھی پہلی بار چوت میں لن ڈالنے کی میں نے ایک اور دھکا مارا ندا کی چوت کا رنگ میرے لن کو جکڑے ھوئے تھا ندا آہ شاھد رک جاؤ میں نے کہا کیا ھوا ھوا ڈارلنگ ندا بولی بہت درد ھو رھا شاھد میں نے کہا آپ تو شادی شدہ ھو ندا بولی وہ تو ھے پر آپ کا لن موٹا ھے اور سیکس کو کافی دن بھی ھو گئے ھیں آہ شاھد آرام سے کرو میںآ پکے نیچے ھوں کہیں جا تو نہیں رھی میں نے ندا کو پیار کرنا شرو ع کر دیا لن ابھی آدھا گیا تھا

اندر ندا اب میری آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل کر دیکھ رھی تھی پیار سے مجھے اسکے ممے پیارے لگ رھے تھے ندا نارمل ھوئی تو ایک شاندار سٹروکس مارا میں نے چوت میں سارا لن ڈال دیا آہ شاھد مار ڈالا ظالم ھو آپ بہت درد ھو رھا اؤئی ماں میں مر گئی آہ اف ندا شادی شدہ ھو نے کے باوجود مست مال تھی میں نے اب سٹروکس مارنے چالو کر دیے لن ندا کی تنگ پھدی میں پھنس کے جارھا تھا اور گھسے مارنے میں مزہ آرھا تھا ندا نے مجھے اب دبو چ لیا تھا وہ بول رھی تھی آہ شاھد اور تیز کیا سپیڈ ھے آہ شاھد اورڈال دو اور وہ فارغ ھوگئ اور میں نے لن باھر نکالا جو کۂ ندا کی بھدی کے پانی اور خون سے سرخ تھا صاف کرکے میں نے پھر ڈال دیا اندر اف کیا مزہ تھا ندا اب مجھے پیار سے دیکھ رھی تھی لیٹی ھوئی اور اپنی چوت کو اوپر اٹھا کر میرا ساتھ دے رھی تھی پھدی میں لن اندر باھر ھورھا تھا پھد ی ٹائیٹ ھونے کی وجہ سے میرا بھی پانی نکلنے لگاتھا میں نے کہا ندا پانی نکلنے والا ھے کہاں نکالوں ندا شاھد اندر ھی نکال اور آہ اف آہ آہ میں نے ایک ذور کا دھکا مارا اور میرا سارا پانی ندا کی چوت میں نکل رھا تھا آہ آہ اوپر سے ثناء آگئ اور بولی شاھد دو منٹ ایسے ھی رھو اسکے

ندا اب میرے نیچے تھی اور لن کافی سارا پانی ندا کی چوت کے اندر چھوڑ چکا تھا ثناء دروازے پر کھڑی دیکھ رھی تھی بولی شاھد چند منٹ ایسے ھی رھو اسکے اوپر اور پھر بولی ندا پہلے کون فا ر غ ھوا ھے ندا نے کہا میں اور ثناء نے مجھے کہا ویری گڈ شاھد اب کچھ ٹائم بعد آپ ایک راؤنڈ اور لگا لو میں جاتی ھوں باھر.

میں نے ندا کو کہا اب آپ اوپر آجاؤ وہ بولی مجھے شرم آرھی ھے میں نے کہا شرم والا تو آپکے اندر چلا گیا اب کیسی شرم ھا ھا ھا ندا کہتی بے شرم کہیں کا میں نے کہا چلو میں آنکھیں بند کر لیتا ھوں آپ اوپر آجاؤ ندا اب میرے اوپر آگئ تھی وہ مجھے سینے پر کس کر رھی تھی اور نیچے جارھی تھی پھر اچانک اس نے میرا لن اپنے ھاتھ میں لے لیا ندا اب لن کا سائز دیکھ رھی تھی.

اب اس نے اپنے ھونٹ میرے لن پر رکھ دیے تھے واؤ کیا احساس تھا پہلی بار کسی لڑکی نے لن چوسا تھا آہ آہ ندا نے لن صاف کردیا تھا اب اس نے لن کی سواری کرنے کی ٹھان لی تھی ھم جلد ھی لونگ اور لائچی بن گئے تھے ندا نے لن کا سپاڑا اپنی چوت کے سورا خ پر رکھا اور آرام آرام سے دباؤ ڈالنا شرو ع کر دیا لن پر میرا آدھا لن اندر چلا گیا تھا ندا کے منہ سے چیخ نکل گئ آہ مار ڈالا اف سو ھاٹ شاھد ام ام آہ واؤ کیا احساس تھا.

چوت کے گول رنگ نے لن کو جکڑ رکھا تھا ند ا اب گرم ھو چکی تھی وہ اب لن کی سواری کررھی تھی ندا بولی شاھد ایسا میں پہلی بار کر رھی اوپر آ کر میں نے کہا سچ کہنے لگی ھاں میں نے ندا کے گانڈ کے نیچے ھاتھ لے جا کر اسکو اوپر نیچے ھونے میں مدد کی وہ تھک نہ جاۓ ندا نے سارا لن اپنے اندر لے لیا تھا اور ھم دونوں پیار سے ایک دوسرے کو دیکھ رھے تھے نیرو باجوہ اب تیز تیز لن اندر باھر کر رھی تھی اسی دوران پھر سے اس کی چوت پانی چھوڑ چکی تھی وہ صاف کرنے لگی تو میں نے اسکو چدائی جاری رکھنے کو کہا وہ اب شاندار جھٹکے مار رھی تھی اب میں ندا کے ایک بار پھر اوپر آ گیا اور چوت صاف کر کے پھر چدائی سٹارٹ کردی ندا کی ٹائیٹ پھدی میں لن بہت پھنس کر جا رھا تھا سارہ کمرہ پج پچ پچ کر رھا تھا اب ایک بار پھر میری جان نکلنے والی ھو گئ تھی ندا نے کہا شاھد میں بھی فارغ ھونے والی ھوں ندا کی بات سن کر مجھے پھر سے جوش آگیا اور میں نے اپنی رفتار بڑھا دی تھی اچانک میرے لن نے پچکاری چھوڑ دی جو ندا کی بچہ دانی تک گئی ھوگی لن مسلسل ندا کی چوت میں پانی چھوڑ رھا تھا ندا بھی اب چمٹ گئ تھی وہ بھی میرے ساتھ ھی فارغ ھو گئ تھی آھ آہ واؤ برسات اب دونوں طرف سے جاری تھی.

میں اب اور میری کزن ندا اب کھل چکے تھے آپس میں نہا دھو کر ھم فریش ھوۓ تو ثناء بولی کیسی لگی ندا آپکو بیوی کے روپ میں اور مزہ آیا میں نے کہا ندا ایک خوبصورت مال ھے اور مجھے پسند بھی ھے ھم باتیں کر رھے تو ندا آگئ دودھ کے دو گلاس لیکر جو ثناء نے اور میں نے پیا اور ثناء نے کہا شاھد جتنے دن لا ک ڈاؤن ھے ندا ادھر ھی ھے آپ اس پرمحنت کرو اب آپکی دیوانی ھوگئ ھے ندا مجھے رزلٹ چاھئیے میں نے سرھاں میں ھلا دیا اور باھر چلا گیا رات کو ندا کی کال آئی شاھد کیا کر رھے ھو میں نے کہا آپکا ھی خیال ھے اس سے پوچھا ندا کیسا لگا میرا سیکس کا انداز ندا بولی شاھد قسم سے مجھے بہت مزہ آیا وہ بولی آپکا وہ بہت بڑا ھے میری تو کمر میں درد ھے آپ نے حالت بری کردی میری مجھے اپنی تعریف سن کر بہت جوش آیا میں نے کہا اب تم میری بیوی بن کر رھوگی ندا کہنے لگی آپ تو میرے جانو ھو.

پ مجھے پہلے بھی پسند تھے شاھد اور اب بھی خیر مجھے باتیں کرتے کرتے نیند آگئ اور اگلے دن مجھے کچھ کام تھا ندا کے گھر نہیں جا سکا اور دوپہر کو ثناء نے فون کیا شاھد آپ آجاؤ لڈ و کھیلیں گے میں نے کہا میں آتا ھوں فریش ھوکر میں کزن ندا کے گھر چلا گیا جاتے ھی ثناء بولی امی ابو کھیتوں میں گئے آپ لوگ اپنا کام کر لو میں گیٹ لاک کرکے دو سوٹ رھتے ھیں وہ دھو لوں میں نے کہا اچھا آپکا شکریہ اور ندا کافی مسکرا رھی تھی میں نے کہا کیا ھوا میری نیرو باجوہ تو بولی شاھد آپ میں کافی نکھار آ گیا ھے میں نے کہا سب آپکے حسن کا نشہ ھے.

ھم لوگ اب اندر چلے گئے تھے ندا کو میں نے بانہوں میں لے لیا ندا نے ٹائیٹ اور شرٹ پہن رکھی تھی ھم دونوں ایک دوجے پر ٹوٹ پڑے ندا کے شرٹ اوپر کردی اور اسکی کالے رنگ کی برا پاگل کردینے والی تھی ندا اب جلدی میں لگ رھی تھی اب اسکے ممے اور نپل میرے منہ میں تھا آہ آہ ام ام آہ پھر ندا نے اپنا ھاتھ میرے لن پر رکھ دیا اور پھر میرا لن نکال کر چومنے لگی آہ آہ بہت مزہ آرھا تھا ام آہ کیا سین تھا لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا اب ندا نے اپنی ٹائیٹ خود نیچے سرکا دی اور میں اسکی ٹانگیں اٹھا لیں.

لن کے ٹوپی ندا کی چوت پر رگڑ رھا تھا واؤ کیا احساس تھا میں نے ایک زور دار شارٹ مارا سارا لن ندا کی چوت میں اتار دیا ندا کی چیخ نکل گئی شاھد آپ مار ڈالوگے کیا مجھے اتنی بےدردی سے مت چودا کرو میں اب لن کو اندر باھر کررھا تھا ندا کی چوت کا گول سا رنگ جو میرے لن کو جکڑ رھا تھا آہ مزہ آرھا تھا چودنے میں ندا اب اپنی چوت اٹھا کر میرا ساتھ دے رھی تھی یہ ھماری چوتھی چدائی تھی مگر سب کچھ نیا سا تھا آہ آہ اب ندا نے اپنی ٹانگیں میری کمر میں ڈال کے بولی شاھد اور تیز جانو میرا پانی نکلنے کو ھے میں ندا کے اوپر آگیا تھا ندا مچل رھی تھی ثناء دروازے پر کھڑی دیکھ رھی تھی ثناء ھماری سیکس کو چ تھی اس نے کہا شاھد پہلے چار راؤنڈ میں آپ ندا کے اوپر ھی رھنا اور فارغ ھونے پر لن اندر ھی رکھنا دو منٹ میں ندا کی چدائی جاری رکھے ھوئے تھی اور شارٹ تیز تیز مارنے لگا میر ا لن بھی اب پانی چھوڑ چکا تھا ندا کی چوت پانی سے بھر چکی تھی اور ثناء اب ندا کا پسینہ صاف کر رھی تھی۔۔۔۔۔

ختم شد


The post کزنز کے ساتھ محبت appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%da%a9%d8%b2%d9%86%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/feed/ 0
رنگیلا سسر https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/#respond Wed, 20 Aug 2025 19:24:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/   رانی ایک خوبصورت اور نوجوان لڑکی ہے  اس کی ابھی  ہی شادی ہوئی ہے، یعنی کہ تقریباً 6 ماہ پہلے اور اس کا شوہر 2 مہینے بعد اپنی نوکری پر واپس جے پور چلا گیا اور گھر میں صرف اس کی بیوی اور پاپا رہ گئے، ممی تقریباً 6 سال پہلے انتقال کر گئی […]

The post رنگیلا سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

رانی ایک خوبصورت اور نوجوان لڑکی ہے  اس کی ابھی  ہی شادی ہوئی ہے،
یعنی کہ تقریباً 6 ماہ پہلے اور اس کا شوہر 2 مہینے بعد اپنی نوکری پر واپس جے پور
چلا گیا اور گھر میں صرف اس کی بیوی اور پاپا رہ گئے، ممی تقریباً 6 سال پہلے
انتقال کر گئی تھیں، سسر کی عمر تقریباً 46 سال ہو گی اور وہ ابھی بھی صحت میں
اپنے لڑکے سے بھاری ہی پڑتے ہیں، پرانے ٹائپ کا کسرت والا بدن ہے ان کا اور ابھی
بھی روز تیل مالش کرتے ہیں۔ اور رانی کا فگر زبردست ہے، اس کے بدن کو دیکھ کر تو
مجھے بھی جلن ہونے لگتی ہے، کیا خوبصورت بدن، گورا بدن، گلابی ہونٹ، ابھار دار،
ٹھوس، بھری بھری چھاتیاں اور سب سے اچھے اس کے چوتڑ تھے… ٹائٹ اور ابھار دار۔
بیٹے کے جانے کے کچھ دن بعد سے رانی نے گھر کا سامان لانا شروع کر دیا تھا، پتا جی
کو ان کا بیٹا کوئی کام نہیں کرنے دیتا تھا اور ویسے بھی ان کی پرانی پراپرٹی ہی
بہت تھی، کافی کرایہ آ جاتا تھا جس سے گھر کا خرچ بہت آرام سے چل جایا کرتا تھا۔

ایسے ہی ایک دن جب رانی بازار گئی اور واپس آئی، تب اس
نے ایک لڑکے کو گھر کے باہر نکلتے ہوئے دیکھا اور جب گھر میں آئی تو بابو جی دھوتی
اور بنیان میں تھے، رانی کچھ سمجھ نہیں پائی اور پھر تو اکثر ہی ایسا ہونے لگا۔
رانی جب بھی باہر سے آتی تو اسے کبھی کوئی، کبھی کوئی لڑکا باہر جاتا ہوا دکھ جاتا
یا گھر میں ہی مل جاتا، جس کے بارے میں پوچھنے پر سسر جی کچھ نہ کچھ بتا دیتے تھے
کہ کچھ منگوانا تھا اس لیے بلایا تھا، ایسے ہی ایک دن کی بات ہے، رانی سبزی وغیرہ
لے کر جب آئی تو اس نے دروازہ بند دیکھا، اس کو تھوڑا شک ہوا تو وہ پیچھے کی طرف
سے گئی اور اندر کچھ عجیب سی آواز آ رہی تھی۔ آواز سن کر رانی اور متجسس ہو گئی،
یہ جاننے کو کہ آخر اندر ایسا ہو کیا رہا ہے؟

کچھ دیر کوشش کرنے کے بعد آخر اسے دروازے میں ایک جھری
نظر آ ہی گئی اور ایسی جگہ بھی جہاں اسے کوئی باہر سے دیکھ نہیں سکتا تھا، اس نے
جب آنکھ لگا کر اندر کا نظارہ دیکھا تو اس کا من غصے سے بھر گیا۔ اندر اس کے سسر
جی پوری طرح سے ننگے تھے اور ایک چکنا سا تقریباً 15 سال کا لڑکا صرف نکر میں تھا
جس کا لُنڈ اس کے سسر جی اپنے ہاتھ سے پکڑ کر سہلا رہے تھے اور سسر جی کا لُنڈ
لٹکا ہوا تھا جسے وہ لڑکا اپنے ہاتھ سے ادھر ادھر جھٹکے دے رہا تھا، یہ سب دیکھ کر
رانی کو بہت غصہ آیا، وہ غصے سے بڑبڑاتی ہوئی مین دروازے کی طرف بڑھنے لگی، تب ہی
اس کے دماغ کی بتی جلی، وہ اس چیز کو دوسرے پہلو سے سوچنے لگی کیوں کہ اس کی ساس
تو تقریباً 6 سال پہلے ختم ہو چکی تھی اور سسر جی ابھی ایسے بڈھے بھی نہیں ہوئے
تھے، آخر جسم کی بھی کوئی ڈیمانڈ ہوتی ہے تو وہ بیچارے بھی کیا کریں، یہی سوچ کر
وہ وہیں باہر بیٹھ گئی کیوں کہ اندر تو واسنا کا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ کچھ دیر
بیٹھنے کے بعد رانی نے سوچا کہ کیوں نہ یہاں بیٹھنے سے اچھا اندر کا نظارہ دیکھ کر
کچھ مزہ لیا جائے؟

وہ پھر سے اس طرف آئی اور اندر دیکھنے لگی، اندر بابو
جی اس لڑکے کو بول رہے تھے، ریشو بیٹا کل ہی تم کو 50 روپے دیے تھے اور آج تو نے
پھر سے 50 کی مار دی، یہ تو اچھی بات نہیں ہے نا، اس طرح کیسے کام چلے گا؟ تو وہ
لڑکا جس کا نام ریشو تھا، وہ بولا انکل کل تو آپ نے میری مار… مار کر سوجا ہی دی
تھی، رات بھر بہت درد ہوا تھا اور آج بھی کوئی کسر نہیں چھوڑنے والے لگ رہے ہیں،
پر میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ 4 دن بعد میں آپ کو ایک بہت اچھا مال دلاؤں گا،
ابھی بالکل کورا ہے، کسی نے چھوا بھی نہیں۔ ان دونوں کی باتیں سن کر رانی کو ایسا
لگ رہا تھا کہ کل یہ حرامی محلے کی کسی لڑکی کو پتا کر لائے گا اور میرے گھر میں
اس کی چوت کا باجا بجوائے گا، پر ریشو نے جب رمیش کا نام لیا تو میں چکرا گئی، میں
سوچنے لگی کہ پتا جی کس حد تک گر گئے ہیں کہ کوئی عورت یا لڑکی نہیں مل رہی تو
بیچارے کو لڑکوں کے ساتھ تعلق بنانے پڑ رہے ہیں۔

اور پھر میں نے دیکھا کہ نئے لڑکے کے بارے میں سن کر
پتا جی چہک گئے تھے اور اس لڑکے کا لُنڈ زور سے دبا دیا انہوں نے، جس پر وہ چیخ
پڑا آآآہ، انکل، آہستہ… آہستہ دبائیے، آپ تو بہت بے رحم بن جاتے ہیں، پلیز، آج
آپ میری گانڈ مت ماریے کیوں کہ ابھی کل کا ہی درد ہے، میں تو آپ کو رمیش کے بارے
میں بتانے کے لیے آیا تھا، تو پتا جی بولے بیٹا گانڈ تو میں ماروں گا تیری، پر ہاں
تجھے تکلیف ہے تو ذرا آرام… آرام سے مار لوں گا، کیوں کہ تو بہت کام کا بچہ ہے
اور یہ کہہ کر اس کے نازک سے ہونٹوں کو چومنے لگے، وہ لڑکا بھی پتا جی کے چومنے کا
جواب زوردار طریقے سے دینے لگا اور تھوڑی ہی دیر بعد میں نے دیکھا کہ پتا جی کا
لُنڈ تن کر تقریباً 7 انچ کا ہو چکا تھا، پھر سسر جی بولے، چلو بیٹا آئس کریم
چوسنے کا ٹائم ہو گیا ہے، جلدی سے منہ میں لو۔

اور وہ لڑکا بابو جی کا لُنڈ کچھ دیر ہاتھ سے مسلنے کے
بعد اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگا، وہ بالکل کسی آئس کریم کی طرح ہی لُنڈ کو چوس
رہا تھا اور یہ سب دیکھ کر میری حالت بھی خراب ہوتی جا رہی تھی کیوں کہ ابھی میری
جم کر چودائی بھی نہیں ہو پائی تھی اور میرے پتی باہر چلے گئے تھے، میری چوت
تقریباً 2 مہینے سے پیاسی تھی، جس سے اس میں بھی خارش ہونے لگی۔

رانی نے باہر سے اپنے سسر کو لڑکے کے ساتھ ننگی حالت
میں دیکھا تو سسر جی اس لڑکے کا لُنڈ ہاتھ میں لیے تھے اور وہ لڑکا جس کا نام ریشو
تھا، وہ بھی سسر کا لُنڈ ہاتھ میں لے کر سہلا رہا تھا، کچھ دیر سہلانے کے بعد سسر
جی نے اس سے کہا، چلو بیٹا اب آئس کریم چوسنے کا وقت آ گیا ہے اور وہ لڑکا ان کے
لُنڈ کو چوسنے لگا، جس سے ان کا لُنڈ پوری طرح سے تن کر کھڑا ہو گیا۔

یہ سب دیکھ دیکھ کر میری بھی پینٹی گیلی ہوئی جا رہی
تھی، کیوں کہ میں بھی تقریباً 2 مہینے سے چودی نہیں تھی، میں نے اپنا ہاتھ شلوار
کے اوپر سے ہی اپنی چوت پر رکھ لیا اور سہلانے لگی، اندر کا ماحول گرم ہوتا جا رہا
تھا، بابو جی کا لُنڈ تو ان کے بیٹے سے بھی لمبا اور موٹا نظر آ رہا تھا مجھے اور
کچھ دیر بعد جب ان کا لُنڈ پوری طرح سے تیار ہو گیا تو وہ ریشو سے بولے، چلو بیٹا
اب جھک جاؤ، ان کی بات سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے، میں سوچ رہی تھی کہ یہ اپنا
لُنڈ اس کے ہاتھ سے جھڑوا کر مطمئن ہو جائیں گے، پر بڈھا تو بہت بڑا تھرکی نکلا،
یہ تو لڑکے کی گانڈ مارنے کے چکر میں تھا۔

 

لڑکا ڈرتے ڈرتے بولا انکل آرام…آرام سے ماریے گا، کل
آپ نے بہت زوردار پیلائی کی تھی، ابھی تک درد ہے، اگر آپ نے ذرا بھی حرامی پنا
دکھایا تو میں رمیش کو نہیں لاؤں گا، سسر جی بولے ہاں ہاں بیٹا تو چنت مت کر، میں
بہت آرام سے کروں گا، آج مجھے پتا ہے تجھے تکلیف ہے، اوکے اور وہ لڑکا دیوار کی
طرف کو منہ کر کے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر گھوڑے کی طرح ہو گیا، بابو جی
پیچھے سے اس کے گورے گورے چوتڑوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے رگڑ کر مسل رہے تھے اور
پھر انہوں نے اپنا منہ اس کی گانڈ سے چپکا دیا۔ اس سین کو دیکھ کر میری چوت
پرپاڑانے لگی، میرا دل یہی کر رہا تھا کہ ساری لاج شرم کو طاق پر رکھ کر بابو جی
کے سامنے چلی جاؤں اور اپنی چوت کو ان کے آگے پسار دوں اور ان کے موٹے لُنڈ سے خوب
جم کر چدوائوں، پر ہائے رے بھارتیہ ناری، شرم کی ماری، میری پینٹی پوری طرح بھیگ
چکی تھی اور اب میری انگلی شلوار کے اوپر سے ہی چوت کے سوراخ کو کرید رہی تھی۔ میں
نے پھر سے آنکھ گاڑ کر دیکھا تو اب بابو جی اپنے تنے ہوئے لُنڈ کو لڑکے کی گانڈ پر
رکھ کر اندر ڈالنے کی تیاری میں تھے۔

وہ اپنے لُنڈ کو اس کی گانڈ پر کچھ دیر سہلاتے رہے، پھر
انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ سے اس کی گانڈ پوری طرح سے کھول کر پھیلا دی اور اپنا
لُنڈ کی ٹوپی اس کی گانڈ کے اندر انہوں نے جیسے ہی گھُسائی، لڑکے کے منہ سے ہچکی
نکل پڑی، وہ کھڑبڑا سا گیا، پر اچانک بابو جی نے پھر سے ایک دھکا مارا اور اب کی
بار تو لڑکا آآآآآآآآہ آآآآآآآہ ہااااااااائے آآآآآآآہ مار ڈالا اوووف انکل
پلیزززززز آہستہ…آہستہ کیجیے آآآآہ آآآہ پلیزززززز انکل، پر مجال جو بڈھا مان
جائے، وہ تو گانڈ پھاڑنے پر پوری طرح سے آمادہ تھا، اس نے گھما گھما کر 4…6 دھکے
اور مارے اور اپنا پورا لاؤڈا لڑکے کی گانڈ میں گھُسا کر اس پر ڈھہ گیا اور اپنے
ہاتھ آگے لے جا کر اس کے سینے پر پھیرنے لگا، اب لڑکے کو کچھ راحت مل رہی تھی۔

جب چودو سسر نے دیکھا کہ اب لڑکے کو درد نہیں ہو رہا تو
انہوں نے اپنی رفتار بڑھا دی، اب تک لڑکے کو بھی مزہ آنے لگا تھا، وہ بھی اپنے
چوتڑوں کو آگے پیچھے کر رہا تھا اور اب اس کے منہ سے درد کی جگہ مزے دار سسکیاں
نکل رہی تھیں آآآآہ آآآہ انکل مزہ آ رہا ہے اور زور سے پیلیے آآآآہ آآآہ اووووف
کتنا مزہ آتا ہے آپ سے گانڈ مروانے میں آئیئیئیئی آآآآآآآآہ آآ یے سب دیکھ کر میری
پینٹی پوری طرح سے گیلی ہو چکی تھی اور اب میں اپنا ہاتھ شلوار کے اندر گھسیڑ کر
اپنی چوت میں انگلی کرنے لگی تھی۔

تب ہی اندر سے اور زوردار آوازیں آنے لگیں کیوں کہ اب
بڈھا جھڑنے والا تھا، اس نے لڑکے کی گانڈ کا بند بجا دیا تھا، وہ اپنے لُنڈ کو
پوری طرح باہر نکال کر پھر سے اندر ڈال دیتا تھا۔ اور کچھ دیر بعد وہ اپنے لُنڈ کے
سارے رس کو اس کی گانڈ میں انڈیل کر اس پر ڈھہ گئے، پر جیسے ہی وہ ہٹے، لڑکے نے
پلٹ کر جھٹ سے ان کا لاؤڈا اپنے منہ میں ڈال لیا اور چوسنے لگا، اس پر ابھی بھی
ڈھیر سارا چکنا چکنا گاڑھا… گاڑھا رس لگا ہوا تھا جسے وہ بہت مزے لے کر چوس رہا
تھا، جب اس نے ان کا لاؤڈا پوری طرح صاف کر دیا، تب بابو جی اپنے کپڑے فٹ… فٹ
پہنتے ہوئے بولے، اب جلدی سے اپنے کپڑے پہنو اور نکل پڑو ورنہ ابھی بہو آتی ہی
ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر میری حالت خراب ہو چکی تھی۔

 

اس دن رانی نے من ہی من سوچ لیا کہ سسر کو کسی دن رنگے
ہاتھوں پکڑ کر ان سے اپنی چوت کی خارش مٹوا لوں گی اور اب تو اکثر ہی میں اپنے سسر
کو اپنے جسم کے درشن کراتی رہتی تھی، جب وہ کمرے میں اخبار پڑھ رہے ہوتے، تب میں
روم میں پونچھا لے کر پہنچ جاتی اور اس طرح جھک کر پونچھا لگاتی کہ ان کو میری
دودھ فیکٹری پوری طرح سے نظر آ جائے اور اب میں اکثر ہی ہلکے کلر کی ساڑیاں پہنا
کرتی تھی، جب میں پونچھا لگاتی تھی تب بابو جی چور نگاہوں سے مجھے گھورا کرتے تھے۔

اور ایک دن میری مراد پوری ہو گئی، میں سودا لینے
مارکیٹ گئی ہوئی تھی اور بہت ہی جلدی واپس بھی چلی آئی، اس دن جب میں لوٹ کر آئی
تو گھر کا دروازہ بند تھا، جسے دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ آج میرا رنگیلا سسر پھر
ریشو کی گانڈ مار رہا ہوگا، مگر جب میں پلٹ کر پیچھے کی طرف گئی اور جھانک کر اندر
کا نظارہ دیکھا تو میری چوت میں بری طرح سے سنسنی ہو گئی، اندر بابو جی پوری طرح
سے ننگے، بیڈ پر بیٹھے تھے اور ان کے بغل میں ریشو کے ساتھ ایک لڑکا جس کی عمر
تقریباً 14 سال کی ہوگی، تینوں ننگے تھے اور وہ دونوں لڑکے بابو جی کا لُنڈ سہلا
رہے تھے اور بابو جی کا لُنڈ لمبا ہو کر 7 انچ کا ہو کر سلامی دے رہا تھا، تب بابو
جی نے رمیش جو کہ نیا والا لڑکا تھا اس سے کہا، بیٹا لو، اب اسے چوس کر مزہ لو۔

اور رمیش نے گپ سے ان کا لُنڈ منہ میں لے لیا اور چوسنے
لگا، اس کے پیچھے ریشو اس کے چوتڑ کی طرف بیٹھ کر اس کے گلابی چوتڑ کو سہلا رہا
تھا، بابو جی اپنا لُنڈ رمیش کے منہ میں ڈالے ہوئے تھے اور ریشو رمیش کے چوتڑ
سہلاتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے چوتڑ پر لے جا کر دانت سے کاٹنے لگا، جس سے رمیش چیخ
پڑا اور پیچھے دیکھنے لگا، بولا، ریشو کیا کر رہے ہو، پلیز، کاٹو مت، چوما لو
خالی، اور رمیش اپنا منہ پھر سے بابو جی کی لُنڈ کو لے کر آگے پیچھے کرنے لگا اور
بابو جی اب بہت جوش میں آ چکے تھے، ادھر میری بھی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی، میں
بھی اپنی چھاتیوں کو کپڑوں کے اوپر سے ہی مسلنے لگی تھی اور چوت میں بھی خارش ہونے
لگی تھی، جی کر رہا تھا کہ بس دروازہ توڑ کر فوراً ہی بابو جی کا موٹا ڈنڈے جیسا
لُنڈ اپنی چوت میں دھنسا لوں۔ اب بابو جی ریشو سے بولے، بیٹا اس سے پہلے کہ میں
جھڑ جاؤں، میں اپنا پانی اس کی گانڈ میں گرانا چاہتا ہوں، تو ریشو بولا، بابو جی
میں نے اس کی گانڈ کو پوری طرح سے تیار کر دیا ہے، آپ اب آرام سے اس کی گانڈ مار
سکتے ہیں، بابو جی بولے، چلو تو آسان لگاؤ۔

اور پھر ریشو بیڈ کے سرہانے پر جو اوپری حصہ ہوتا ہے،
اس پر بیٹھ گیا اور رمیش سے بولا، چلو بیٹا اب تم میرے لُنڈ کو منہ میں لے کر
گھوڑے کی طرح کھڑے ہو جاؤ اپنے چوتڑ پیچھے کی طرف کرکے اور رمیش نے اس کے لاؤڑے،
جس کی لمبائی ابھی زیادہ نہیں تھی، پھر بھی 5 انچ کا تو تھا ہی، اس کو اپنے منہ
میں ڈال لیا اور اپنے چوتڑ پیچھے کی طرف ابھار کر چوپایہ بن کر کھڑا ہو گیا، اس کے
پیچھے بابو جی جب اپنے ڈنڈے جیسے لُنڈ کو لے کر آئے تو میری سانس دھک دھک ہونے
لگی، میری حالت خراب ہوتی چلی جا رہی تھی اور مجھے بیچارے رمیش پر ترس بھی آ رہا
تھا، جس کی کومل سی گانڈ میں بابو جی اپنا حلبّی سا لاؤڈا گھُسنے جا رہے تھے، وہ
اپنے لاؤڑے کو اس کی گانڈ کے دہانے پر رکھ کر گھِسنے لگے اور آگے سے ریشو رمیش کے
منہ میں لاؤڈا گھُسائے پڑا تھا۔

کچھ دیر تک رمیش کے چوتڑ پر اپنا لاؤڈا گھِسنے کے بعد
اس کے چوتڑ کو بابو جی نے دونوں ہاتھوں سے پھیلایا اور اس کی گانڈ پر تھوڑا سا
تھوک لگایا اور اپنے ہاتھ سے تھوک لے کر اپنے لاؤڑے پر رگڑنے لگے اور تھوک لگانے
کے بعد اپنے لاؤڈ کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی گانڈ میں گھُسانے لگے اور ریشو کو انہوں
نے آنکھ مار کر اشارہ بھی کر دیا تھا، جس کا مطلب تھا کہ اب وہ لُنڈ گھُسانے جا
رہے ہیں اور انہوں نے جیسے ہی اپنی ٹوپی اس کے چوتڑ کو پھیلا کر اس کے اندر
گھُسائی کہ رمیش چیخ پڑا آآآآآآہ، مر گیا، انکل پلیزززززز بہت درد ہو رہا ہے، نیکاااااال
لیجیے اپنے لاؤن کو، آئیئیییی، آآآآآآہ، ممی مر گیا، تو بابو جی بولے، بھوسڑی
والے، ابھی تو کچھ ہوا ہی نہیں، زبردستی کا ڈراما کر رہا ہے، ابے، ابھی تو صرف
ٹوپی ہی گھُسائی ہے اندر، ابھی سے اتنا چلا رہا ہے۔

رمیش بولا، نہیں انکل سچ میں کہہ رہا ہوں، بہت درد ہو
رہا ہے، تب ہی بابو جی نے رمیش کو ریشو کو اشارہ کیا اور ریشو اپنا لاؤڈا رمیش کے
منہ سے نکال کر رمیش کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں رکھ کر چوسنے لگا اور تب ہی
بابو جی نے ایک زوردار دھکا مارا اور گھچ کی آواز آئی، رمیش نے اپنے ہونٹ چھڑانے
کی بہت کوشش کی، مگر ریشو پورا گھاگ تھا، اس نے اس کے ہونٹ چھوڑے ہی نہیں، ادھر
بابو جی کا طوفانی دھکا دیکھ کر میں بھی ہل گئی تھی، ان کا پورا لُنڈ رمیش کی گانڈ
میں گھُس چکا تھا اور اس میں سے خون ٹپک رہا تھا اور وہ بری طرح تڑپ رہا تھا، کچھ
دیر ایسے ہی پڑے رہنے کے بعد بابو جی دھکے لگانے لگے، کچھ دیر بعد رمیش کو کچھ
راحت ملنے لگی اور اب وہ بھی اپنے چوتڑ کو آگے پیچھے کرنے لگا۔

اب مجھ سے بھی برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اور مجھے یہ
موقع بھی بہت اچھا لگا، میں نے فوراً کھڑکی کا پردہ ایک طرف کھسکایا اور زور سے
بولی، بابو جِیییییی، کیا ہو رہا ہے یہ سب؟ اچانک ہی تینوں کی نظر میری طرف اٹھی
تو تینوں ہی ہڑبڑا گئے، جس میں سب سے زیادہ بابو جی کی حالت خراب ہو رہی تھی، میں
نے کہا، دروازہ کھولیے، ابھی بتاتی ہوں ان لوگوں کو اور میں ادھر سے ہٹ گئی، کچھ
ہی دیر میں بابو جی نے دروازہ کھول دیا، دونوں لڑکے کپڑے اٹھا کر تیزی سے بھاگ گئے
اور رہ گئے بابو جی، انہوں نے ابھی بھی صرف اپنا انڈرویئر ہی پہنا ہوا تھا۔

میں بہت غصے میں تھی، میں نے کہا، یہ سب کیا ہو رہا
تھا، بابو جی، آپ کو شرم نہیں آتی یہ سب کرتے ہوئے؟ بابو جی نظریں جھکائے ہوئے
کھڑے تھے، میں نے پھر سے کہا تو وہ بولے، بہو، اب تجھے کیا بتاؤں، تیری ساس تو ہے
نہیں اور ابھی میں اتنا بڈھا بھی نہیں ہوا ہوں، تو اب تو ہی بتا میں کیا کروں؟ تو
میں بولی، آپ باہر بھی کسی کے پاس جا سکتے تھے، میرا مطلب کہ کسی عورت کے ساتھ یہ
سب کرنا اچھا لگتا ہے، پر آدمی… آدمی کے ساتھ، چھی… چھی، کتنی گندی بات ہے،
اگر آپ کے بیٹے کو پتا چل جائے تو کیا ہو گا۔

اب تو بابو جی کی گھِگی ہی بندھ گئی، وہ مجھ سے بولے،
بہو، میں تیرے ہاتھ جوڑتا ہوں، پلیزززززز راج کو کچھ نہ بتانا، اب بھلا مجھے عورت
کہاں ملے گی؟ تو میں بولی، کم سے کم مجھ سے ہی کہا ہوتا، آخر میں آپ کی بہو ہوں،
میں ہی آپ کا خیال نہیں رکھوں گی تو بھلا کون رکھے گا۔

ہاں تو جب میں نے سسر سے یہ بات کہی کہ کم سے کم آپ کو
مجھ سے تو بتانا ہی چاہیے تھا کہ آپ میں ابھی بھی اتنی جوانی ہے اور لاؤڈا اتنا بے
قابو ہو جاتا ہے کہ آپ کو کسی لڑکے کی گانڈ مارنی پڑے، تو میں آپ کے لیے کوئی نہ
کوئی جگاڑ تو کر ہی دیتی، اب آپ کی بہو ہوں تو کیا اتنا بھی فرض نہیں بنتا میرا؟

میرے منہ سے ایسی کھلے عام باتیں سن کر سسر جی کا منہ
ہی کھلا رہ گیا، تو میں ان سے بولی، بابو جی، اگر آپ برا نہ مانیں تو میں ایک
راستہ بتاتی ہوں، آپ کو، وہ بولے، بولو بیٹی۔

تو میں نے کہا، آپ مجھے بھی تو چود سکتے ہیں؟ بابو جی
گھبرا کے بولے، نہیں بہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے، بھلا تو میری بہو ہے اور بہو بیٹی
کی طرح ہوتی ہے، میں بھلا تمہارے ساتھ کیسے تعلق بنا سکتا ہوں؟ میں نے ان کی نکر
کے اوپر سے ان کے لاؤڑے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، بابو جی، دیکھیے، پیاسے آپ بھی
ہیں اور میں بھی، تو کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے؟ وہ بولے، نہیں بیٹی، یہ ٹھیک
نہیں، تو میں نے کہا، اچھا اور آپ جو بیچارے معصوم لڑکوں کی گانڈ مار رہے ہیں، وہ
ٹھیک ہے؟

میرے ہاتھ کی سہلاہٹ سے ان کے لُنڈ میں تناؤ آنے لگا
تھا اور وہ بھی اب نارمل ہوتے جا رہے تھے، بولے، اگر کسی کو پتا چل گیا تو بہت
بدنامی ہو جائے گی بیٹی، میں نے کہا، اب بابو جی چھوڑیے بھی بدنامی کا ڈر، وہ تو
اگر میں آپ کے بیٹے سے بتا دوں، تو ویسے بھی ہونی ہے، میری بات سن کر بابو جی
بولے، ٹھیک ہے بیٹی، جیسے تمہاری مرضی، اور میں نے ان کا لاؤڈا مٹھی میں دبایا اور
بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی، میں آگے اور وہ میرے پیچھے، میں نے ان کے لاؤڈے کو پکڑے
پکڑے ہی بیڈ پر دھکیل دیا ان کو اور جھٹ سے اپنی ساڑی کھول کر، برا اور پینٹی میں
رہ گئی، وہ میرا ایسا روپ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

اور انہوں نے بھی جھٹ سے اپنا انڈرویئر اتار دیا، ان کا
لاؤڈا پہلے ہی تنا ہوا تھا، میں اس کو ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی اور بابو جی میری
چھاتیوں دبا کر مجھے گرم کر رہے تھے، تب ہی انہوں نے میری چھاتی اپنے منہ میں بھر
لی اور چوسنے لگے، دوسری چھاتی کے نپل کو اپنی انگلی سے مسل رہے تھے، میں بھی
مستائی جا رہی تھی، میں نے ان کے منہ سے اپنی چھاتی چھڑا کر کہا، بابو جی، میں آپ
کا لاؤڈا چوسنا چاہتی ہوں، وہ بولے، بیٹا تیرا جو جی میں آئے وہ کر، اس کے بعد جو
میرا من کرے گا، میں کروں گا، اوکے۔

اور میں ان کا لاؤڈا منہ میں لے کر چوسنے لگی اور بابو
جی میری چھاتیوں کو دباتے جا رہے تھے، کچھ دیر میں ہی جب ان کا لاؤڈا پوری طرح سے
کھڑا ہو گیا، تو میں نے کہا، بابو جی، اب آپ اپنا لاؤڈا میری چوت میں ڈال دیجیے،
نہیں تو جھڑ جائے گا، تو وہ بولے، بیٹی، تو فکر مت کر، یہ اتنی جلدی جھڑنے والا
نہیں ہے، میں تیری چوت چوس کر اس کے بعد ڈالتا ہوں اس کو اندر، ٹھیک ہے۔

اس کے بعد بابو جی نے سر کے پیچھے سے تکیہ نکال کر میرے
چوتڑ کے نیچے لگایا اور اپنی ہونٹ میری بر کے پاس لا کر اسے کسی کتے کی طرح
سونگھنے لگے، میں نے کہا، کیا سونگھ رہے ہیں، بابو جی؟ وہ بولے، بیٹی، تیری بر سے
بہت اچھی مہک آ رہی ہے، اور اپنے ہونٹ میری چوت کی فانک پہ رکھ کر کس کرنے لگے،
اور تھوڑی دیر بعد وہ کسی آم کی طرح میری چوت چوس رہے تھے اور میں اپنے چوتڑ نیچے
سے اچھال… اچھال کر ان کی چوت چوسائی کا مزہ لے رہی تھی اور میرے منہ سے
آآآآآآآآآہ آآآآآآآآآآی کی مزے دار سسکاری نکل رہی تھی اور بابو جی کسی کتے کی طرح
چپر… چپر کرکے میری چوت چاٹ رہے تھے، ان کی دھواں دھار چوسائی کی وجہ سے میں نے
بہت جلدی ہی اپنا آپا کھو دیا اور بولی، واااااہ بابو جی، ایسے چوسائی تو آج تک آپ
کے بیٹے نے بھی نہیں کی،

بابو جی، وہ بھوسڑی کا کیا تیری چوسائی یا تھوکائی کرے
گا، اس کو کمانے سے فرصت ملے تب نہ، آج مجھ سے چُدوانے کے بعد تو اس کے ساتھ
چُدوانا بھول ہی جائے گی، اس بات کا تو میرا دعویٰ ہے، اور شاید بابو جی صحیح بھی
کہہ رہے تھے، میں جھڑ جھڑا کر جھڑنے لگی، آآآہ آآآآیئیی بابو جی، چوس لو میرے رس
کو، پی جاؤ اس امرت کو، یہ آپ کو جوان کر دے گا، آآآآآآآآہ، مزہ آ گیا، آپ سے اپنی
چوت چُسوا کر آآآآآآآآہ، جنت کا مزہ آیا، آج تو، اؤؤؤففففف اور بابو جی نے چوت کو
پوری طرح سے چاٹ کر سُکھا دیا تھا… اور اس طرح میں بابو جی کے لن کی دیوانی ہو
گئی، سچ، بابو جی نے بہت مزہ دیا۔

The post رنگیلا سسر appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%b3%d8%b3%d8%b1/feed/ 0
رنگیلا داماد https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%af%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%af/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%af%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%af/#respond Sun, 17 Aug 2025 15:13:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%af%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%af/   شازیہ میرے سامنے بیٹھی تھی. اور میں پریشانی کے عالم میں اسکی شکل تک رہی تھی. میری بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے. اور میں جانتی تھی کہ اسکا دل بہت چھوٹا سا ہے زرا سی کوئی اونچ نیچ ہو اور اسکا دل ہول جاتا تھا. اور آج وہ جس مصیبت سے دوچار ہوئی […]

The post رنگیلا داماد appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


شازیہ میرے سامنے بیٹھی تھی. اور میں پریشانی کے عالم میں اسکی شکل تک رہی تھی. میری بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے. اور میں جانتی تھی کہ اسکا دل بہت چھوٹا سا ہے

زرا سی کوئی اونچ نیچ ہو اور اسکا دل ہول جاتا تھا.

اور آج وہ جس مصیبت سے دوچار ہوئی تھی. تو اس پر تو بڑے بڑے گھبرا جاتے ہیں. میری اکلوتی بیٹی تو میرے پاس بڑے ناز ونعم میں پلی تھی.

شازیہ کی شادی کو تین ہی مہینے ہوئے تھے. وسیم کا رشتہ شازیہ کیلیے آیا. اور میں نے جب وسیم کو دیکھا. تو وسیم مجھے پہلی ہی نظر میں بھاگیا. باقی دیکھ پرکھ میرے میاں اور دیوروں نے کرلی تھی. اور وہ بھی ہر طرح سے مطمئن تھے. اور یوں صرف تین ماہ کے عرصے میں ہی شازیہ کی شادی وسیم سے کردی گئی.

شادی کے دن شروع شروع کے تو بہت ہی پیار سے گزررہے تھے

بچی میکے آتی. تو اسکے چہرے پر جیسے قوس قزح بکھری ہوتی. خوشی اور مسرت اسکے انگ انگ سے پھوٹ پڑ رہی ہوتی تھی.

لیکن…….. آہستہ آہستہ وسیم کے روئیے میں تبدیلی آتی گئی.

اور اسکا رویہ شازیہ سے سرد ہوتا گیا. پہلے پہل تو میں نے اسکو کوئی اہمیت نہ دی. لیکن اب معاملہ آگے بڑھ چکا تھا.

میں بیٹی کی آنکھ میں آنسو برداشت نہیں کرسکتی تھی.

سو میں نے وسیم سے بات کرنیکا فیصلہ کرلیا.

اور آج دوپہر کو میں نے وسیم کو گھر بلوایا تھا. کیونکہ بوقت دوپیر میرے میاں جوکہ بیمار رہتے ہیں. سورہے ہوتے ہیں. اور میرے دونوں بیٹے رضوان اور عمران اپنے اپنے آفسز میں ہوتے ہیں .

اور تقریبا تین بجے دروازے کی بیل بجی.

میں وسیم کو ڈرائینگ روم میں لے آئی. اسکو بٹھایا اور اسکے لیے کچھ ناشتے کا سامان میز پر سجادیا.

وسیم کیا بات ہے.؟ تمہارا رویہ شازیہ سے کچھ سرد ہے . کیا کوئی بات ہوئی ہے.؟

میں نے اسکے بلکل قریب ہوکر رازداری سے دریافت کیا.

اور اسکے جواب میں وسیم نے جو کچھ کہا. مجھے سن کر یقین نہیں آرہا تھا. میں حیرت اور تعجب کے مارے ہونقوں کی طرح اس کی شکل تک رہی تھی.

وسیم کہہ رہا تھا کہ بات یہ ہے میں نے یہ شادی صرف اور صرف آپکی وجہ سے کی ہے. کیونکہ مجھے تو آپ اچھی لگی تھیں.

ظاہر ہے کہ میں تو وسیم سے شادی کر نہیں سکتی تھی. میرے میاں موجود تھے . اور میرے تو بچے جوان تھے.

یعنی …….مجھ تک پہنچنے کیلیے میری بیٹی کو چارہ بنایا گیا تھا.

میں آپکو پانا چاہتا ہوں عشرت بیگم. مجھ کو آپکی بیٹی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے.

وسیم کے مسکراتے ہوئے کہے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے. اور میں گم سم بیٹھی تھی. کہ جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہ نکلے.

وسیم……یہ کیسے ممکن ہے.؟ میں تمہاری ساس ہوں. تمہاری بیوی کی ماں ہوں میں…….میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا.

جانتا ہوں آپ میری ساس ہیں. لیکن آپ ایک عورت بھی ہیں اور میری طلب ہر رشتے ناطے سے آزاد ہے. اور میں نے آپکو صاف الفاظ میں بتادیا ہے کہ میں نے یہ شادی ہی صرف آپکو حاصل کرنے کیلیے کی ہے.

وسیم نے میرا ہاتھ تھام کر کہا. اور اسکے ساتھ ہی اس نے مجھے اپنی بانہوں میں بھرلیا. سرعت کے ساتھ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے پیوست کرلیے.

بری بات…….وسیم یہ کیا کررہے ہو……؟

میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے الگ کیے.

اگر آپ مجھے نہ ملیں. تو یاد رکھئے گا. کہ میرا اور شازیہ کا تعلق ایسا ہی نام کا رہیگا…..بس…..!

اور گویا اس نے دوٹوک الفاظ دھمکی دیدی.

وسیم…….بات کو سمجھنے کی کوشش کرو…….میری گھگھی بندھ گئی تھی. مجھے اندازہ ہورہا تھا. کہ اگر داماد کی خواہش پوری نہ ہوئی. تو بیٹی کو طلاق بھی ہوسکتی ہے.

مجھ کو جو بتانا تھا میں نے آپکو بتادیا آگے آپکی مرضی.

اور اتنا کہکر وہ اٹھا. اور بےنیازی سے چلا گیا.

اور میں سوچوں کے سمندر میں گھری رہ گئی تھی. ایک طرف داماد کی خواہش تھی. اسمیں جتنی شدت میں دیکھ چکی تھی. اسکے بعد کچھ پوچھنا گچھنا بیکار ہی تھا. دوسری طرف بیٹی تھی. اگر وسیم کی خواہش پوری نہ ہوئی. تو اسکا گھر برباد ہونا یقینی تھا.

میں ایک خوبصورت اور جاذب نظر عورت تھی. شوہر بیمار رہتے تھے. اور یہی وجہ ہے کہ میں اپنی جنسی زندگی میں ایک مرد کی کمی شدت سے محسوس کرتی تھی. میرا بھی دل تھا. جو چاہتا تھا. کہ مجھے کوئی خوب شدت سے چودے

اور میری قسمت …..کہ یہ مرد میرے سامنے آچکا تھا.

لیکن……کس روپ میں سامنے آیا تھا……….داماد کے……..؟

میں شش و پنج میں تھی. بات ایسی تھی. کہ کسی سے مشورہ بھی نہیں کرسکتی تھی. کوئی سنتا تو کیا کہتا…..؟

لہذا….یہ فیصلہ مجھے ہی کرنا تھا. اور بالاآخر میں نے بیٹی کا گھر بچانے کا فیصلہ کرلیا.

وسیم……مجھے اپنی بچی کا گھر بچانے کیلیے تمہاری یہ شرط منظور ہے. لیکن مجھے اس بات کی ضمانت دو . کہ تمہارا رویہ شازیہ کیساتھ پہلے جیسا ہی ہوجائے گا………؟؟؟

جی بلکل….آپ اسکی فکر نہ کریں….جب وجہ ہی نہیں رہیگی سردمہری کی تو موڈ تو اپنے آپ ہی اپنے آپ صحیح ہونا ہی ہے نہ…..!

وہ اپنی فتح پر مسکرا رہا تھا…..اور میں گم سم تھی.

لیکن…….میری ایک شرط ہے وسیم……اس بار میں نے دل کڑا کر کہا.

جی کہیے…..اس کی آواز گونجی.

وسیم تمکو جو کرنا ہے کرلو….میں وہ سب کچھ کروائونگی جو تم چاہتے ہو…….لیکن صرف ایک بار……تمہاری خواہش پوری کرنے کی خاطر…..اپنی بیٹی کی خاطر……بس….دیکھو میں تمہاری بات رکھ رہی ہوں نہ…..اب تم بھی میری بات یہ بات مانو………!

اور اتنا ہی کہ کر رسیور فون پر رکھ کر میں صوفے کی پشت پر سر ٹکا آنکھیں بند کرکے بیٹھ گئ. آنسو میری آنکھوں میں ڈبڈبانے لگے…….!

دو دن گزر چکے تھے…… مجھ کو وسیم سے حامی بھرے ہوئے.

اور میں بیٹھی یہی سوچ رہی تھی کہ جو کام کرنا ہے..وہ تو کرنا ہی ہے……سو داماد سے دریافت کیا جائے. کہ وہ کب اپنی ساس کو نوش فرمانا پسند کرینگے,,,؟

وسیم کو فون لگا چکی تھی میں….تیسری بیل پر اس نے فون ریسیو کیا.

جی جناب…….کہئیے…..اس کی شوخ آواز ابھری.

وسیم میں چاہتی ہوں کہ جلد از جلد تمہاری خواہش پوری کردی جائے……میں چاہتی ہوں تم مجھکو بتادو . کب اور کہاں…..؟

میں نے صاف اور سپاٹ لب و لہجے میں کہا.

آپ دوپہر کو فارغ ہوتی ہیں نہ….. آپ یہ کریں گھر آجائیں میرے پاس….ٹھیک ہے…؟…..وہ خوش خوش بولے.

لیکن گھر میں شازیہ موجود ہوگی. اسکی موجودگی میں یہ سب کروگے میرے ساتھ…..میں نے جل کر کہا.

جی نہیں……بات یہ ہے. کہ شازیہ کل گیارہ بجے ہی پڑوس والوں کے ساتھ فارم ہاؤس جارہی ہیں. اور میں گھر پر بلکل اکیلا ہی ہونگا….!

اس نے پوری بات بتائی.

اوہ…….اچھا ٹھیک ہے. شازیہ کے نکلتے ہی مجھے کال کرکے بتادینا…..میں تمہارے پاس پہنچ جاؤنگی.

اور اتنا کہہ کر میں نے فون بند کردیا.

اور دوسرے دن دوپہر کے وقت میں تیار تھی. نہا کر کپڑے بدل کر میں ہلکا سا میک اپ کرکے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ رہی تھی. میں بلکل ٹھیک نظر آرہی تھی.ظاہر ہے کہ میں جو کام کرنے کیلیے جارہی تھی. وہ غلط تھا. مگر میں مجبور تھی. اگر اجاڑ ویران حالت میں جاتی تو شائد وسیم آپے سے باہر ہی نہ ہوجاتا.

اور آدھے گھنٹے بعد ہی میں وسیم کے سامنے تھی.

بیٹی پڑوس کے لوگوں کیساتھ پکنک پر جاچکی تھی. اور ساتھ ہی وسیم بھی نہا دھو کر تیار تھا. وہ مجھ کو اپنے ساتھ اپنے بیڈروم میں ہی لیکر آگیا. میں اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھی تھی.

وسیم میرے لیے سوفٹ ڈرنک لے آیا. جو میں نے اس سے لیکر فورا ہی اپنے لبوں سے لگالیا اور گلاس خالی کردیا.

اب میں بہت بہتر محسوس کررہی تھی. میں نے سوالیہ نگاہوں سے وسیم کی طرف دیکھا. کہ وہ کیا چاہتے ہیں.؟

اور غالبا وہ میرا مطلب جان گیا تھا. یہی وجہ ہے کہ وہ میرے پاس ہی نیم دراز تھا. اور اس نے میری کمر میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنے سے چپکالیا. اور اس کے لب میرے لبوں سے پیوست ہوگئے. اب وہ میری زبان کو اپنے لبوں سے چوس رہا تھا.

وسیم……تم کو میری بات یاد ہے نہ….میں نے ایک لمحے کیلیے اس کو روک کر کہا.

جی…..مجھے آپکی شرط اور اپنا وعدہ یاد ہے…انھوں نے فورا ہی جوابا کہا…..اور فورا ہی اس نے پھر میری زبان کو چوسنا لگا.

اور اسی دوران اس کے ہاتھ میرے جسم پر حرکت میں آگئے.

انھوں نے میری قمیض اوہر کرنی شروع کی. میں نے بھی اپنے دونوں ہاتھ اوپر کرکے اپنی قمیض اتروانے میں اس کی مدد کی……اور دوسرے ہی لمحے میری قمیض اتر کر فرش پر گر چکی تھی…….اب اس کا ہاتھ میری شلوار پر تھا.

انھوں نے ایک ہی جھٹکے میں میرا ازاربند کھینچا. اور میری شلوار بھی کھولدی.

اور یوں اب میں صرف ایک Bra میں رہ گئی تھی.

کالے رنگ کا نیٹ کا Braجس میں سے میرے ممے صاف نظر آرہے تھے……. وسیم مجھے ننگا دیکھکر بہت ہی جذباتی ہورہا تھا. یہی وجہ ہے کہ اس نے فورا ہی اپنے کپڑے بھی اتار پھینکے. اور مجھے بیڈ پر لٹا کر میرے بدن کو اپنے بازووں میں جکڑا. اور میرے ہونٹوں اور گالوں کو دیوانہ وار چوسنے اور چاٹنے لگا. اور مجھے ایسا لگنے لگا. کہ جیسے پیاسی زمین پر بارش کے قطرے ٹپ ٹپ کرکے گررہے ہوں.

اس کی زبان اور ہونٹ بہت ہی گرم ہورہے تھے. ہونٹوں سے سانس اگ کیطرح نکل رہی تھی. اور میں بستر پر بلکل چت لیٹی یہ سب کروارہی تھی.

اوووووہ………اوووووف……..اوووووووف.

میں اپنے جذبات پر بند باندھنے کی کوشش کررہی تھی.

یہ جتانا چاہ رہی تھی. کہ یہ سب میں مجبورا کررہی ہوں.

وسیم کے ہاتھ میرے بدن کو سہلارہا تھا. ہونٹ میرے ہونٹوں اور گالوں کو چوم رہا تھا. وہ مجھ سے لپٹے ہوئے تھے. اس طرح کہ جیسے وہ میرے اندر اتر چکے ہوں.

اور میری اپنی یہ کیفیت ہورہی تھی. کہ میرے اندر کی عورت اس پہلے ہی مرحلے پر مستی بھری انگڑائیاں لینے لگی تھی. دل پکار پکار کر کہ رہا تھا کہ عشرت بیگم مزے کرلو. جو کام کرنا ہی کرنا ہے. تو پھر اس کو بھرپور مزے لیکر کیا جائے تو کیا حرج ہے.؟

میں گو مگوں کی کیفیت میں وسیم کے نیچے تھی.

اور اب وسیم نیچے ہوتے ہوتے میرے گلے کو چومنے لگا تھا.

اوووف……گلے کو چومنے اور چوسنے میں مزہ ہونٹوں کو چوسنے سے بھی زیادہ مل رہا تھا.

میں بے اختیار ہی سسک پڑی……..ہااااااااااااہ…………!

اور میں نے اپنے ہاتھ پھیلا لئے. اور مجھ کو محسوس ہونے لگا. کہ میں کسی بھی وقت یہ سب خوشی سے کرواسکتی ہوں.

وسیم چند ہی لمحوں میں گلے سے ہوتے ہوتے مزید نیچے آرہا تھا. اب وہ Bra اتار کر میرے مموں کو چوس رہا تھا. وہ کبھی ایک دودھ اپنے منھ میں لیکر اس کو چوستا اور دوسرے والے کو اپنی انگلیوں سے دباتا. تو کبھی دوسرے والے کو چوستا

اور پہلے والے کو دباتا………!

اور ادھر میری حالت غیر ہورہی تھی……!

جسم چوسے اور چاٹے جانے سے گرم ہوچکا تھا. دل کی دھڑکن تیز ہوچکی تھی. انگ انگ میں میں بجلیاں سی دوڑتی محسوس ہورہی تھیں. مجھ کو لگ رہا تھا. کہ وسیم کا لورا میری چوت میں گھسنے سے پہلے ہی میں اپنی شرم کو بالائے طاق رکھکر وسیم کو اپنے سے لپٹا کر اس کا برابر کا ساتھ دینے لگوں گی.

میں ایک سیدھی سادھی گھریلو عورت تھی. تین بچوں کی ماں تھی. لیکن میرے میاں نے مجھ کو بلکل واجبی انداز میں ہی چودا تھا. اور آج میں جس طرح چدوانے کے عمل سے گزر رہی تھی. اسطرح کا میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا……!

اور اب وہ میری چھاتیاں خوب چوس چوس کر میرے پیٹ پر گہرےگہرے بوسے لے رہا تھا. اور اس کے بوسے لینے سے مجھے اپنا پیٹ لرزتا ہوا محسوس ہورہا تھا.

میں “ہاں. اور. ناں ” کی اضطرابی کیفیت میں الجھی ہوئی تھی.

اور جب وہ پیٹ سے نیچے ہوتے ہوئے میری چؤت پر آیا اور میری ٹانگیں چیریں. اور اپنے ہونٹ چؤت پر گاڑ کر اس کو چوسنے لگا……وہ کبھی چؤت کو اوپر سے چوستا تو کبھی اس کے اندر زبان ڈال کر اسکا اندرونی حصہ چاٹنے لگتا.

اور مجھ کو اب احساس ہورہا تھا. کہ میرے ضبط کا بندھن اب ٹوٹا ……..اور جب ٹوٹا……….کیونکہ مجھے اچانک ہی احساس ہوا کہ میری چؤت نے لذت اور جوش میں آن کر اپنے اندر سے پانی چھوڑنا شروع کردیا ہے. جو اس بات کی دلیل تھی. کہ یہ بھرپور چؤدائی چاہتی ہے. ہر رشتہ ناطہ کو بالائے طاق رکھکر………..!

وسیم میری ٹانگوں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے میری چؤت پر جھکا ہوا اس کو اپنی زبان سے گرم دہکتا ہوا انگارہ بنارہا تھا. میرے بدن پر لرزہ طاری تھا.

اور پھر بالاآخر……….میں نے بھی اپنی شرم کو بالائے طاق رکھ کر دوٹوک فیصلہ لیلیا.

میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے وسیم کے سر کو پکڑا. اور مزے کے مارے اس کے سر کو اپنی چؤت کے اور اندر کرنے کی کوشش کرنے لگی….اور ساتھ ہی میرے ہونٹوں سے پرکیف آہیں نکلنے لگیں. اور وہ بھی ایسی کہ کمرہ میری سسکیوں سے گونجنے لگا. اور میں نے وسیم سے اپنے رشتے ناطے کا لحاظ ایک طرف رکھ کر اپنا آپ اس کے حوالے کردیا.

وسیم……وسیم……..اوووہ جانوں …..یہ کیا کررہے ہو تم…

میری جان میں تو ساس ہوں تمہاری………یہ کیا کردیا تم نے مجھے…..میرا دم نکال دیا تم نے تو مزے کے مارے……….

اور دوسری طرف وسیم میری غیر متوقع رضامندی اور اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سمارہا تھا.

وہ دوزانو ہوکر بیٹھا. میرے بھاری چوتڑوں کو اوپر اٹھایا. اور اپنی گرفت میں میری کمر کو لے کر زبان پھر سے میری چؤت میں گھسائی اور اس کو چاٹنے لگا.

میرا دھڑ بستر پر لگا ہوا تھا. اور ٹانگیں فضاء میں معلق اور ٹانگوں کے درمیان میں اس نے اپنا سر پھنسایا ہوا. اور دیوانہ وار میری چؤت کو چوس چوس کر پاگل کررہا تھا.

میں جو کچھ دیر پہلے یہ سوچ کر وسیم کے نیچے لیٹی تھی.

کہ اپنے تاثرات سے یہی ظاہر کرونگی. کہ میں مجبور ہوکر یہ سب کروارہی ہوں. اب مزے میں ڈوب چکی تھی. بند آنکھوں میں لطف کے رنگ اتررہے تھے. اور لبوں سے آہیں اور سسکیاں نکل رہی تھیں . چہرے پر ماتمی تاثرات کی جگہ شرمیلی سی مسکراہٹ نے لے لی تھی. کہ اب داماد جی میری چوت میں اپنا تنا لؤڑا چڑھائیں گے تو کتنا مزہ آئیگا.

میں یہ سوچکر ہی شرمائے جارہی تھی.

میری چوت کو چوس چوس کر بھرپور طریقے سے وسیم نے اسکو گرم بھی کیا. گیلا بھی کیا. وہ اس قابل ہوگئی تھی. کہ باآسانی لؤڑا اپنے اندر سمو سکے.

وسیم نے میری چؤت چسائی روکی . اور میرے چہرے کے پاس آن کر اپنا لؤڑا میرے سامنے کردیا.

وسیم چودو نہ آپ مجھے…میں نے شرمائے ہوئے لہجے میں کہا.

پہلے آپ کو میرا لؤڑا چوسنا ہوگا…..اس نے خمار آلود لہجے میں کہا.

وسیم…..نہیں نہ…….میں نے تمہارے سسر کا بھی کبھی نہیں چوسا…….میں نے انھیں دھیرے سے سمجھایا.

تو داماد کا چوس لیں…..کیا آپ کو میرے ساتھ مزہ نہیں آرہا.

اس کے لہجے میں پتہ نہیں کیا تھا. کہ میں انکار نہ کرسکی. میں نے اپنے لبوں کو کھول لیا.اور اس نے اپنا لؤڑا میرے منھ میں داخل کردیا.

میں زندگی میں پہلی بار لؤڑا چوس رہی تھی. لیکن پہلی ہی بار میں مجھے لؤڑا چوسنا بہت ہی اچھا لگ رہا تھا. میں بلکل لولی پوپ کی طرح اس کو چوس رہی تھی.

دھیرے دھیرے میرے ہونٹ اس کو اپنے منھ میں اوپر نیچے کررہے تھے. اس کو چوس کر مجھے یہ بھی معلوم ہوا. کہ پورے بدن میں سب سے زیادہ چکنی جلد لؤڑے کی ہی ہوتی ہے. …….میری پوری کوشش تھی کہ صرف میرے ہونٹ ہی لؤڑے کو چھوتے رہیں. میرے دانت ہرگز اس پر نہ لگیں. ایسا نہ ہو کہ دانتوں کی رگڑ لگنے سے اس کو خراش وغیرہ نہ آجائے.

وسیم بہت ہی خوش لگ رہا تھا . وہ میرے لؤڑا چوسنے سے آہیں بھررہا تھا. جو بہت ہی پرکیف اور لذت بھری تھیں. اس کی ان آہوں اور پیار بھری سسکیوں سے مجھے حوصلہ مل رہا تھا. ہاں یہ ضرور تھا کہ لوڑا موٹا ہونے کی وجہ سے مجھ کو اپنا منھ بلکل پورا کھولنا پڑ رہا تھا. لیکن اب میں بھی ڈٹ چکی تھی.

کیونکہ وسیم جب اپنا لؤڑا میرے منھ سے نکالنے لگے. تو میں نے انکو روک دیا.

اور پھر میں اسکو پورا ہی اپنے منھ میں سمونے کی کوشش کرنے لگی. میں نے زور لگا کر لؤڑے کو اندر اور اندر لیا. اور آہستہ آہستہ لؤڑا میرے حلق کے اندر تک آگیا.

میں وہیں رک گئی. اور اپنے منھ سے باہر کیطرف سانس خارج کرنے لگی. اور نتیجہ ہی ہوا. کہ اس عمل سے وسیم کے لؤڑے کو گرمائی ملنے لگی. وہ مزے کے مارے بہکنے لگا.

اووووووہ… ممی…ممی…..یہ کیا کررہیں ہیں آپ… ممی میں تو یہیں پر ہی خالی ہوجاؤنگا.

وہ مزے کے مارے بول پڑا تھا.

اس کی یہ بات سنکر میں نے اس کے لؤڑے کو چھوڑ دیا.

وسیم …..چلو چؤدو مجھے…..میں نے اس کو گرین سگنل دیدیا

اور وسیم میرے اوپر لیٹا. اپنا لؤڑا میری چؤت پر رکھا. اور ساتھ ہی زور کا دھکا مارا.

حالانکہ میری چؤت چوسنے کی وجہ سے بلکل گیلی تھی.

لؤڑا اس میں ایک دم پھسلتا ہوا گیا تھا. مگر دھکا تو پھر دھکا ہی تھا. وہ پھر بھی اسقدر تگڑا محسوس ہوا تھا مجھکو. کہ لؤڑا اندر لینے کے نتیجے میں میری چوت لرز کر رہ گئی.

میں زور کی آہ بھر کر رہ گئی.

وسیم …….پلیز…..رسانی سے زرا….پلیز…..میں نے اس کو سمجھایا.

فکر نہ کریں…… چؤدائی مزے اور لذت کا نام ہے. آپ کو صرف مزہ ملے گا……اور اس کی بات سن کر میں بے فکر ہوگئی.

اب اس نے اپنا لؤڑا ہولے ہولے آگے پیچھے چلانا شروع کیا .

اور میں مزے میں ڈولنے لگی. لؤڑا اندر سے میری چؤت کو رگڑ رہا تھا. لگ رہا تھا جیسے چؤت اندر سے حرارت خارج کررہی ہے. دھواں چھوڑ رہی ہے. میرے چہرے پر مسکراہٹ آچکی تھی. جو اس بات کا کھلا اظہار تھی. کہ میں اپنے داماد کی ممنون و مشکور تھی.

میں داماد کے نیچے لیٹی چدوارہی تھی.وہ پورے پیار کیساتھ اپنا لؤڑا میری چؤت میں دھکم دھکا چلا رہا تھا.

میں اس کو اپنی بانہوں میں لیے ہوئے تھی.

وسیم…..ڈارلنگ کیا شازیہ کو بھی ایسے ہی چودتے ہو.

میں مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی.

جی نہیں…..آپکو دیکھ کر یہ سب کرنے کا دل چاہتا ہے. مجھ کو آپکی بیٹی میں کوئ کشش محسوس نہیں ہوتی.

اس نے صاف الفاظ میں کہا.

اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے دھکے لگانے کی رفتار تیز کردی.

مجھ کو لگا کہ کوئی لوہے کا گرم گرم ڈنڈا میری چؤت میں اوپر نیچے کسی پسٹن پمپ کی طرح آنا جانا کررہا ہو.

میں نے مضبوطی سے وسیم کی کمر میں بانہیں ڈال دیں تھیں. لؤڑا میری چوت کی آخری حد تک جاکر ٹکرا ریا تھا. جس سے مجھے اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوتا. لیکن مجھے اسقدر لطف اور مزہ مل رہا تھا. کہ اس کے آگے اس درد کی کوئی اوقات نہیں تھی.

وسیم چؤد رہا تھا ….آہیں بھر رہا تھا مزے کے مارے.

میں چدوارہی تھی. اور مزے کے مارے سسک رہی تھی.

وسیم….. وسیم……اووووہ…..اووووووووہ…….

نڈھال کردیا تم نے تو مجھے……

میں مکمل طور پر اب اس کے قابو میں آچکی تھی.

مجھے معلوم تھا….آپ جیسی خوبصورت اور گرم عورت پہلی ہی چدائی میں میری ہوجائیگی.

وہ مجھے چؤدتے ہوئے مسکرا کر کہہ رہا تھا.

تم نے چؤدا بھی تو اسطرح ہے. مجھے میرے میاں نے کبھی اس طرح نہیں چؤدا.

میں بھی پوری طرح مزے میں آچکی تھی.

اور میں نے اتنی ہی بات کہی تھی کہ اچانک ہی مجھے اپنی چؤت میں شدید قسم کی مستی بھری گدگدی محسوس ہوئی. مجھ کو احساس ہوگیا کہ میں جانے والی ہوں. مارے جوش کے میرے منھ سے زور دار چیخ نکلی.

اووووووووووو………اوووووووووووووو…….!

میرا پورا جسم اکڑ گیا . میں نے وسیم کو اپنی بانہوں میں مضبوطی سے جکڑ لیا. میرا ہورا بدن بری طرح لرزا ….اور

ساتھ ہی میری چؤت نے اپنے اندر سے لیس دار پانی باہر نکال دیا.

اور فورا ہی میں بے دم ہوکر بستر پر ڈھیلی پڑگئ.

لیکن وسیم مجھے برابر کے دھکے مار رہا تھا.

میں اپنے خالی ہونے سے پہلے جس طرح اس کا جم کے ساتھ دے رہی تھی. اب مجھے اس کا چؤدنا بوجھ لگ رہا تھا.

لگ رہا تھا کہ میرے ہوش و حواس جواب دے جائینگے.

وسیم پلیز بس ……بس کرو……بس کرو …….میں منمنائی.

آپ فارغ ہوئیں ہیں میں تو نہیں ہوا نہ….وہ مسلسل مجھے چودے ہی جارہا تھا..

رحم کرو…….وسیم میرا دم نکل جائیگا…..اووووہ….

کچھ دوسری دفعہ کیلیے بھی چھوڑدو…

اور ساتھ ہی میرا سانس ہانپنے لگا. اور میں بلکل ہی بے سدھ ہوگئی.

اور وسیم جو کسی طور نہیں مان رہا تھا. میری اس بات پر خوشی سے پاگل ہوگیا کہ کچھ دوسری دفعہ کیلیے بھی چھوڑ دو.

اس نے اپنا لؤڑا میری چوت سے نکالا. اورمجھے سیدھا کرکے لٹایا. اور اپنا لوڑا میرے چہرے کے عین سامنے لاکر اس کی مٹھ مارنے لگا.

اور بمشکل….ڈیڑھ دو منٹ ہی اسے رگڑا تھا کہ اس کے لؤڑے نے زور کی گرم گرم دھار منی اگل دی. جو بلکل سیدھی میرے چہرے پر آئی. میں اس کو کچھ بھی نہ کہہ پائی. کیونکہ اس کو اس محبت بھرے کھیل کا انجام یادگار بھی تو کرنا تھا.

اس کے لؤڑے نے اپنی ساری آگ میرے چہرے پر اگل دی تھی. اور وہ بھی خالی ہوکر میرے ہونٹوں سے چوم رہا تھا. اور میں آنکھیں بند کرکے سکون سے لیٹی ہوئی تھی.مجھ کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی. کہ میرا چہرہ اس کی منی سے چپک رہا ہے.

وسیم مجھ پر جھکا اس نے میرے لبوں پر ایک گہرا بوسہ لیا. اور مجھ سے بولا.

آپ میری ساس ہیں. میں نے آپکو چؤدا ہے. مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے. میں آپ کو چود کر بے انتہا خوش ہوں. اور اتنا کہہ کر وہ اٹھا اور باتھ روم کی طرف نہانے چلدیا. جبکہ میں نے بستر پر ہی لیٹے رہنے کو ترجیح دی. شام 6 بجے تک وسیم مجھے میرے گھر وآپس لا چکا تھا. آج تیسرا دن تھا. میں گھر کے کام نمٹا کر تیار ہورہی تھی.

میں نے وسیم کو فون لگایا. جی…..اس کی شوخ چنچل آواز آئی. آجاؤ وسیم تمہاری دعوت ہے….میں خوشی سے بے حال ہورہی تھی . جی میں آرہا ہوں….وہ بھی خوشی سے بولا.

میری قربانی کے نتیجے میں بیٹی خوش ہے ……! داماد بھی بہت خوش ہیں. لیکن میں سب سے زیادہ خوش ہوں. کیونکہ میری ویران زندگی میں بھی بہار آگئی ہے ۔

ختم شد ۔۔


The post رنگیلا داماد appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d9%86%da%af%db%8c%d9%84%d8%a7-%d8%af%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%af/feed/ 0
پیاری اور سیکسی بھابھی https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/#respond Tue, 12 Aug 2025 17:32:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/   ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺭﺍﮨﻮﻝ ﮨﮯ . ﺁﺝ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﮨﮯ ، ﺗﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺗﯿﺌﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ ، ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﭘﺘﻼ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮈﭘﻠﻮﻣﺎ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ . ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ […]

The post پیاری اور سیکسی بھابھی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺭﺍﮨﻮﻝ ﮨﮯ .

ﺁﺝ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﮨﮯ ، ﺗﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺗﯿﺌﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ ، ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﭘﺘﻼ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮈﭘﻠﻮﻣﺎ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ .

ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ . ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺍﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ .

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﻡ ﻟﯿﺎ . ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻦ ﺗﮭﮯ ، ﺷﻮﮨﺮ – ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺑﭽﮯ ! ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺟﯽ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﮕﻦ ﺗﮭﺎ .

ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﯿﮑﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ﭼﻮﻧﺘﯿﺲ ﺗﮭﺎ . ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺁﺗﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻮ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ .

ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ .

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﻧﮑﺎ ﮈﺳﭩﺮﺑﻴﻮﺷﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺳﻮ ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺟﮯ ﭘﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ .

ﭨﯽ ﻭﯼ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ .

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ .

ﺗﺒﮭﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﯽ ﺁ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯿﮟ – ﺭﺍﮨﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ؟

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ – ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﮈ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ .

ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺟﯽ ﺑﻮﻟﯿﮟ – ﭼﻠﻮ ، ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ .

ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻬﻪ ﺑﺎﺗﮫ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﮨﻬﮕﻮ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ .

ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮭﯿﻨﮑﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺮﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ

ﺍﻭﺭﺑﻮﻟﯿﮟ – ﻟﻮ ﺁﭖ ﺩﮬﻮ ﺩﻭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺮﺍ .

ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺑﺮﺍ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ .

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ .

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺎ ﮐﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺎ .

ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺲ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ .

ﺩﻭ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ، ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﭘﺮ ﺗﮭﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ .

ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ .

ﺗﮭﻮﮌﯼ ﻧﮧ ﻧﻜﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺎﻥ ﮔﺌﯽ .

ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ .

ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ .

ﻣﯿﺮﺍ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺁﺝ ﻣﻮﻗﻊ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺑﭽﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﯿﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ .

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﯽ .

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﮔﻼﺱ ﺍﻧﮑﻮ ﺩﯾﺎ ، ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﻼﺱ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﭩﮭﺎﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮﻣﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .

ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﭘﺮ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﮔﺮﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ .

ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ .

ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻟﭩﺎﮐﺮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﭼﻮﻣﺎ ﭼﺎﭨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ .

ﺩﮬﯿﺮﮮ – ﺩﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻤﮯ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﭼﻮﺱ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ .

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻼﻭﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﭩﻦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﺋﮯ ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺎﻟﯽ ﺑﺮﺍ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺮﺍ ﮐﺎ ﮨﮏ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .

ﺩﮬﯿﺮﮮ – ﺩﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﺎﮌﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﭩﯿﮑﻮﭦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﯿﺎ ، ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭩﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻨﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ .

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻠﮑﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮈﺍﻟﯽ ، ﻭﮦ ﺍﯾﮑﺪﻡ ﺳﮯ ﺳﮩﺮ ﮔﺌﯽ ، ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﮭﺮ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮈﺍﻟﯽ

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻻ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ .

ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮔﯿﻼﭘﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ . ﺗﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺟﮭﮍ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ .

ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﺘﻠﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ . ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﺰﺍ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺎ . ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﻠﻮﻥ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ .

ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮨﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ – ﺁﺝ ﺍﺗﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﺻﺮﻑ ﭘﺘﻠﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮ ﻟﻮ .

ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺘﻠﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﺑﺲ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﮨﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ .

ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﭘﮭﭩﺎﻙ ﺳﮯ ﻣﯿﺮ ﻟﻨﮉ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻮﻟﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﺑﻬﯽ ﻟﮕﺘﯿﮟ .

ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﭘﮩﻼ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺗﮭﺎ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﺰﺍ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﻣﺖ . ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﺴﮑﺎﺭﯾﺎﮞ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ .

ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ . ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ ﮨﯽ ﭘﻮﺭﺍ ﺩﺑﺎ ﺩﯾﺎ .

ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ، ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﮈﮬﯿﻠﯽ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﻻ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ، ﮔﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ، ﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﭼﻮﻣﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ – ﺁﺝ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ ، ﭘﺮ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﺎﺹ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﻟﯿﺎ ، ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﮩﺖ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ .

ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﺷﺮﻣﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﻨﮉ ﻟﻔﻆ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ .

ﺍﺗﻨﺎ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﺕ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺭﮔﮍﻧﮯ ﻟﮕﯽ .

ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﮑﺎ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻟﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭼﻮﺕ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﮬﮑﺎ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻨﮉ ﭘﮭﺴﻞ ﮐﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻨﮉ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﭼﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﭘﺮ ﭨﮑﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﻮﺗﮍ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﮬﮑﺎ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ . ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﻭ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﺎﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺯﻭﺭﺩﺍﺭ ﺩﮬﮑﺎ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﻟﻨﮉ ﺟﮍ ﺗﮏ ﺍﻧﺪﺭ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ .

ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﭼﻼ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ، ﭘﺮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﭙﮑﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭼﯿﺦ ﺩﺏ ﮔﺌﯽ .

ﻣﯿﺮﺍ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﮍﭖ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ .

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﮍﮮ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮨﺴﺘﮧ – ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺑﺎﺗﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ .

ﻭﮦ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﮬﮑﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ .

ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﮬﮑﮯ ﭼﺎﻟﻮ ﮐﺮ ﺩﺋﮯ . ﻗﺮﯾﺐ ﺩﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﻣﻨﭧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ

ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ . ﺗﺒﮭﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ، ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﮯ ﭘﺮ ﺩﮬﮑﮯ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺑﯿﺲ ﭘﭽﯿﺲ ﺩﮬﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ .

ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻻﻭﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﺩﯾﺎ . ﻣﯿﮟ ﻧﮉﻫﺎﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ .

ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮨﻢ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﭘﮍﮮ ﺭﮨﮯ ، ﭘﮭﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﮎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﭼﻤﻤﻲ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺩﯼ .

ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ – ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻗﮩﺮ ﺑﺮﭘﺎ ﺩﯾﺎ ! ﺍﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻦ ﮐﺮﮮ ، ﻣﺠﮭﮯ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ، ﺗﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﻼﻭﮔﮯ ، ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ ، ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ، ﺁﺝ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺩﻥ ﮨﮯ .

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ﻟﯽ .

ﺧﺘﻢ ﺷﺪ

The post پیاری اور سیکسی بھابھی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/feed/ 0
فوجی فوج میں نند کا شوہر موج میں https://urdustoryclub.com/%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d9%85%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba/ https://urdustoryclub.com/%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d9%85%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond Tue, 12 Aug 2025 17:26:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d9%85%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba/   میرا نام عائشہ ہے اور میں ٣٠ سال کی ایک آرمی افسر کی بیوی ہوں.اور میرا ایک سات سال کا بیٹا بھی ہے.مگر اس کے باوجود میں نے اپنے آپ کو اس طرح سنبھال کر رکھا ہوا ہے،کہ میں ابھی بھی ایک خوبصورت جسم کی مالک ہوں.اور میری شکل انڈین فلم سٹار پریتی زنٹا […]

The post فوجی فوج میں نند کا شوہر موج میں appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 


میرا نام عائشہ ہے اور میں ٣٠ سال کی ایک آرمی افسر کی بیوی ہوں.اور میرا ایک سات سال کا بیٹا بھی ہے.مگر اس کے باوجود میں نے اپنے آپ کو اس طرح سنبھال کر رکھا ہوا ہے،کہ میں ابھی بھی ایک خوبصورت جسم کی مالک ہوں.اور میری شکل انڈین فلم سٹار پریتی زنٹا سے ملتی ہے.میں نے ٣ میہنے پہلے مسز آرمی بیوٹی کونٹیسٹ جیتا ہے.میرے بوبز میرے جسم کے لحاظ سےکافی بڑےہیں،اور میراقد پانچ اشاریہ چھ انچ لمبا نازک جسم اور لمبی اور سڈول ٹانگیں ہیں.میری نند کی شادی ایک نیوی افسر سے ہوئی ہے،جس کا نام وقاص ہے.جس کو ہم پیارسے وکی کہتے ہیں وکی ایک ہنڈسم اور کسرتی جسم کا مالک ہے،کہی بار میں نے یہ محسوس کیا ہے کے وہ جب بھی ہمارے ہاں آتا ہے یا مجھے کہی ملتا ہے اس کی نظر میری چھاتیوں پر ہوتی ہے،جومجھے بہت برا محسوس ہوتا ہے.اس لیے میں کوشش کرتی ھوں کہ اس کے سامنے کم سے کم رہومگر ایک دن سب کچھ تبدیل ہو گیا کیونکہ میرے میاں کی پوسٹنگ نورتھ سیکشن میں ہوگی.مگر وہاں فمیلی کا کوئی انتظام نہیں تھا تو میرے میاں اور میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں واپس اپنے شہر ساس سسر کے پاس چلی جاتی ہوں.مگر میری نند نے جو ہمارے گھر کے قریب ہی رہتی تھی،نے مجھے اپنے گھر رہنے کی آفر کی جو ہم نے منظور کر لی.کیونکہ ہمارا بچہ ایک اچھے سکول میں پڑھتا تھا اور دوسری جگہ جانے میں اس کی تعلیم کا حرج ہوتا وہ سکول کے ہاسٹل میں رہتا تھا.اور صرف ویک اینڈ پر گھر آتا تھا،تو میں میاں کے جانے کے بعد اپنی نند کے گھرشفٹ ہوگئی وکی زیادہ تر کام کے سلسلے میں گھر سے باھرہی رہتا تھا.اور ابھی تک ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی میں اور میری نند ہم دونوں گھر پر اکیلی ہوتی تھی.تو میں بوریت دوڑ کرنے کے لیے گھر کے کام اس کا ساتھ بٹانے لگی،آہستہ آہستہ میں وکی کے ساتھ فری ہو گئی.ایک رات جب وکی ڈیوٹی کے لیے جارہا تھا کہ اچانک لائٹ چلی گئی تو وہ اندھیرے میں کچن میں آیا جہاں میں کام کر رہی تھی تو اس کا ہاتھ میں نے اپنی چھاتی پر محسوس کیا اس نے سوری کیا اور کہا کہ میں موم بتی ڈونڈھ رہا ہوں اور چلا گیا،اس کی نظر میں یہ سب کچھ اچانک ہوا مگر سب کچھ اس نے جان بوجھ کر کیا ہے کیونکہ اس نے اپنے ہاتھ سے میرے بوبز کو ہلکا سا دبایا تھا رات کو جب میں سونے کے لیے لیٹی تو اس کے ہاتھ کا لمس میں نے محسوس کیا میری عجیب سی فیلنگ ہو رہی تھی چارمیہنے ہو گیے تھے میرے شوھر کو گہے ہوے مجھے ایسا لگا جیسے وکی میرے ساتھ لیٹا ہوا ہے میں نے اپنے بوبز کو دبانا شروع کر دیا اور میری چوت سے ہلکا سا پانی نکلنے لگا اور میں اسی طرح سو گئی اگلے چند دن کسی ایکسیڈنٹ کے بغیر نکل گے مگر جب بھی وکی میرے پاس سے گزرتا اس کی پینٹ کے سامنے کا ابھار صاف نظر آتا پر میں نے اس کو کوئی رسپانس نہیں دیا ایک رات میں پانی لینے کے لیے کچن میں جارہی تھی مجھے کچن میں جانے کے لیے وکی اور جیا( میری نند کا نام) کے کمرے کے پاس سے گزرنا پڑتا ہے جیسے ہی میں ان کے روم کے پاس پونچی میں نے کچھ آوازیں سنیں میں رک گئی تو پتہ چلا کہ وہ سکس کر رہے میرے جذبات مچل گئے مگر تھوڑا برا بھی لگا کہ میں کسی کی نجی زندگی میں دخل اندازی کر رہی ہوں میں کچن میں چلی گئی پانی پیتے هوے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور میرا چہرہ خون سے سرخ ہوگیا ہے اور میرے بوبز سخت ہونے لگے ان کی نپل مجھے اپنی نائٹی میں سے نظر آرہی تھی پانی پی کر واپس آتے هوے میں وکی کے روم کے پاس رک گئی آوازیں ابھی تک آرہی تھی اچانک ہی بلا ارادہ میں نے جھک کر ان کے روم کی کی ہول سے اندر دیکھا تو مجھے ایک جٹکا لگا میں نے دیکھا کہ وکی نیچے لیٹا ہوا تھا اور جیا اس کے اوپر بیٹھی اس کا لن چوس رہی تھی اور اس کی پیٹھ وکی کی طرف تھی اور وہ اس کی چوت کو چاٹ رہا تھا جیا نے دونوں ہاتھوں سے اس کے لن کو پکڑھا ہوا تھا اور چوپے لے رہی تھی میں وہاں سے باوجود کوشش کے آنکھیں نہیں ہٹا سکی مجھے ایسا فیل ہو رہا تھا کہ جیسے جیا کی جگه میں ہوں اور وکی کا لن میں اپنے اندر محسوس کر رہی تھی پھر میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی پوزیشن چینج کر لی اب جیا پیٹ کے بل نیچے لیٹ گئی اور اپنی گانڈ اوپر اٹھا لی اور اسی طرح وکی اس کی گانڈ کو چاٹنے لگا اور ایک انگلی اس کی چوت میں ڈال دی اور جیا کے منہ سے سیکسی آوازیں نکل رہی تھیں اب وکی نے اسی سٹائل میں اس کے اندراپنا لن ڈال دیا اور اس کو چودنے لگا اور میں واپس اپنے روم میں آگئی مگر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور مجھ پر سکس کا فل نشہ طاری تھا میں نے ایک ہاتھ سے اپنے بوبز کو مسلنا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی کو اپنی چوت میں ڈال لیا اور اندر باھر کرنے لگی اس وقت مجھے اپنے شوہر کی کمی بڑی شدت کے ساتھ محسوس ہوئی اور اسی طرح سکس کی ماری میں سو گئی دو تین دنوں کے بعد میں نے وکی کو دوسری نظر سے دیکھنا شروح کر دیا ویکینڈ پر جیا نے کالونی کی دوسری عورتوں کے ساتھ پکنک پر جانے کا پروگرام بنا لیا اور مجھے اور میرے بیٹے کو بھی چلنے کو کہا مگر میں نے خرابی طبیعت کا بہانہ بنا کر اس کو تھوڑی دیر کے بعد جیا اور میرا بیٹا دونوں گاڑی میں بیٹھ کر ان کے ساتھ پکنک پر چلے گنے اب گھر میں وکی اور میں اکیلے تھے میں نے خیال میں ہی خود کو وکی کی گود میں بیٹھا ہوا دیکھا کہ میں اس کے پاجامہ کے ابھار کو قریب سے دیکھ رہی ہوں اور اور ابھار کے نیچے اس کے موٹے تازے لن کو اپنے ہاتھوں سے فیل کر رہی ہوں اور وہ میری چوت پر ہاتھ پھیر رہا ہے پندرہ بیس منٹ کے بعد جب مجھے یقین ہو گیا کہ جیا اور دوسرے لوگ پکنک کے لیے نکل گیے ہیں میں اپنے روم سے باہر آئ اور وکی لاؤنج میں بیٹھا نیوز پیپر پڑھ رہاتھا میں نے اس کو کہا کہ میں باتھ کرنے جارہی ہوں اور نوکرانی ابھی تک نہیں آئ اس لیے میں اپنے روم کا ڈور کھلا چھوڑ رہی ہوں کہ جب وہ آئے تو صفائی کرلے یہ کہ کر میں اپنے روم میں چلی آئی میرے روم میں ائر کندشن لگا ہوا تھا مگر اٹیچ باتھ روم آگ کی طرح گرم تھا اس وقت موسم بھی گرمی کا تھا میں نے اپنے سارے کپڑھےاتار دیے اور بیڈ پر اس طرح لیٹ گئی کہ ڈور سے میری ننگی پیٹھ نظر آرہی تھی میں نے ایک ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیے اور دوسرے ہاتھ سے اپنے بوبز کو دبانا شروع کر دیا اور آرام سے اپنی گیلی چوت پر بھی ہاتھ پھیرنے لگی میں امید کر رہی تھی کہ وہ میرا اشارہ سمجھ گیا ہوگا اور خود ہی میرے روم میں آ جاۓ گا کچھ دیر کے بعد ایسا لگا کہ کسی نے ڈور کے ہینڈل کو آہستہ سے نیچے کیا ہو میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ بوبز سے ہٹا کر آنکھوں پر اس طرح رکھ لیا جیسے میں سو رہی ہوں مجھے تھوڑا سا یہ ڈر بھی تھا کہ نوکرانی نہ آجاۓ کی طرف آیا تو میں نے اپنے لفٹ بازو کے نیچے سے دیکھا کہ وکی روم کی ڈور کے پاس کھڑا مجھے ننگی حالت میں دیکھ رہا ہے اس نے آہستہ سے ڈور بند کر کے اندر سے لاک لگا دی اور اپنا کرتا اور پاجامہ اتارنے لگا میں ابھی تک اس طرح سے ناٹک کر رہی تھی کہ جیسے میں سو رہی ہو وہ آہستہ سے چلتا ہوا میرے بیڈ کے پاس بیٹھ گیا اور آہستہ سے میرے بوبز کی نپلس پر ہاتھ پھیرنے لگا میں نے بڑھی مشکل سے اپنی آہ روکی میں اپنے بازو کے نیچے سے دیکھ سکتی تھی کہ وہ آرام کے ساتھ میری لیفٹ نیپل پر زبان پھیرنے لگا اور رایٹ والی چھاتی کو بڑھے پیار کے ساتھ ہلکا سا دبانے لگااب میری برداشت سے باہر کام ہو گیا تھا اور میں صیح نشے میں ہو گئی تھی اور کوشش کے باوجود اپنی سکسی آوازوں کو نہ روک سکی اب میرے منہ سے ہلکی ہلکی آہ آہ آہ او او آہ نکلنے لگی اب میں نے اپنا دوسرا ہاتھ آنکھوں سے اٹھایا اوراس کو اچانک اساس ہوا کہ میں جاگ گئی ہوں اس نے ادھر ادھر ہاتھ مارنا شروع کر دیا اور سوری کہتے هوے پیچھے ہٹ گیا تو میں نے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کراسے قریب کر کے اس کے ہونٹوں پر ایک کس کردی جس کا جواب اس نے بڑھی گرم جوشی کے ساتھ دیا اور اس کو پتہ چل گیا کہ یہ سب کچھ میری مرضی سے ہو رہا ہے تو اس کی ساری ججک ختم ہو گئی اور وہ پرجوش طریقے سے مجھے گالوں پرکس کرتا کبھی میرے ہونٹوں پر بوبز پر میرے چہرے پریہاں تک کے اس نے میرے بدن کا اوپر والا حصہ سارا چوم ڈالا مگر جب اس نے کان کی لووں پرجب اس نے زبان پھیری تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں کسی اور دنیا میں پوںچ گئی ہوں اس طرح لگتا تھا کہ جیسے اسے اس کام کا بہت سارا تجربہ ہے پتہ نہیں کہ یہ سب کچھ اس نے کتنی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہو گا مگر حقیقی معنوں میں وہ ایک لوو برڈ تھا اسی طرح چومتے چاٹتے وہ نیچے کی طرف جانے لگا جہاں میری نازک گیلی چوت اس کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار کر رہی تھی اس نے میری ٹانگوں کو ہلکا سا کھولا اور اپنی گرم گرم زبان کی نوک پیاسی چوت پر رکھ دی اور اس کو دھیرے سے چاٹنے لگا اور دوسرا ہاتھ اس کا ابھی تک میری چھاتیوں پر تھااس نے میری چوت کے ہونٹوں کوکھول کر اپنی انگلی اندر باہر کرنے لگا جس کی وجہ سے میرا پانی نکلنے لگا تو اس نے اپنا ہاتھ نکل لیا اس وقت جب میرا دل کرتا تھا کہ وہ سب کچھ اندر ڈال دے اورتھوڑی دیر کے بعد اس نے ایک بارپھر میری چوت کو چاٹنا شروع کر دیا اور ایک ہاتھ کی انگلی میری گانڈ کے سوراخ میں آرام سے ڈال دی یہ سب کچھ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ میرا شوھر ایک سیدہ سادہ آدمی تھا وہ تھوڑی دیر کس وغیرہ کر کے اندر ڈال دیتا تھا مگر یہ سب کچھ کر کے آدمی اصل سکس کا مزہ اٹھاتا ہےمیری چوت پہلے ہی پانی چھوڑ چکی تھی اس نے اپنا منہ میرے کانوں کے ساتھ لگا لیا آہستہ اور بڑے پیار کا ساتھ وہ میری تعریف کرنے لگا کہ میں بہت خوبصورت ہوں اس نے کہا کہ وہ ہر وقت میرے سپنے دیکھا کرتا تھا اور خیالوں ہی میں وہ کہی بار مجھے چود چکا تھا اس نے بتایا کہ جب اس نے مجھے پہلی بار دیکھا تھا اسی ٹائم سے اس نے مجھے پسند کر لیا تھا اس کی باتیں اور ٹچ کرنا مجھے کسی اور دنیا میں لے آیا تھا اب اس نے ایک بار پھر میری چوت کو چاٹنا شروع کیا اب کیبار اس نے میری چوت اور گانڈ کے درمیان والی جگہ پر بڑے لاڈ کے ساتھ اپنی زبان کی نوک پھیری تو میں اپنا آپ پر کنٹرول نہ کر سکی اور زور زور سے چلانے لگی آہ آہ آہ وو وو …. آئ لوو یو جانی آہ.مر گئی اور جب اس نے میری گانڈ پر زبان پھیری تو ایسا لگا کہ جیسے کسی نے مجھے بجلی کا شاک دیا ہو ایک دم سے میرا سارا جسم کانپنے لگااس نے مجھے نیچے لٹا کر میری ٹانگیں اٹھا لی اور اپنے لن کو میری چوت پر رگڑنے لگا اب مجھ سے رہا نہیں گیا تو میں نے اس کو پکڑ کر اندر ڈالنا چاہ تو اس نے میرا ہاتھ ہٹا دیا اب ایک بار پھر میری چوت نے پانی چھوڑ دیا اب اس نے ایک دم سے اپنا راڈ میری چوت پر فٹ کیا اور ہلکا سا دبایا تو میری چیخ نکل گئی کیونکہ اس کا راڈ میرے شوہر کے راڈ سے کافی بڑا اور موٹا تھا اور جب دوسری بار اس نے زور لگایا تو سیدھا میرے اندر چلا گیا تھوڑی دیر تک تو مجھے تکلیف ہوئی مگر اتنے سارے پیار کے آگے یہ کچھ بھی نہیں تھی کافی دیر اسی طرح چودنے کے بعد اس نے مجھے اوپر بٹھا لیا اب میں اوپر سے نیچے اور وہ نیچے سے اوپر سٹروک لگا رہا تھا جب اس کا پانی نکلنے والا ہوتا وہ باھر نکل لیتا اب اس نے مجھے ٹیڑھا کر کے پیچھے سے میرے اندر ڈال دیا اور زور زور سے سٹروک لگانے لگا روم میں ائر کنڈیشن ہونے کے باوجود ہمارے جسم پسینے کے پانی سے بھرے هوے تھے اب اس نہ ایک بار پھر مجھے سیدھا لٹا لیا اور سٹروک شروع کر دیے اب میری آواز کے ساتھ اس کی آواز بھی شامل ہو گئی تھی ہم دونوں آہ آہ وو وو کرنے لگے اب اس نے سپیڈ تیز کر لی تو مجھے پتہ چل گیا کہ اس کی منزل قریب ہے تھوڑی دیر کے بعد مجھے ایسا لگا کے جیسے کسی نے میری چوت میں گرماگرم لاوا چھوڑ دیا ہو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ساری دنیا تھم گئی ہو اور میں ایک دم سے بلکل ٹھنڈی ہو گئی اور اسی طرح کہ اس کا لن میری چوت کے اندر ہی تھا ہم دونوں ایک ساتھ لیٹ گنے اور باتیں کرتے میں سو گئی کافی دیر کے بعد میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ میں بیڈ پر نائٹی پہنے اکیلی لیٹی ہوئی ہوں میں سوچنے لگی کہ کیا یہ سب کچھ خواب تھا باہر سے آوازیں آرہی تھیں ایسا لگتا تھا کہ جیا اور میرا بیٹا واپس آگے ہیں اور کھانے کی خوشبو آ رہی تھی اتنے میں وکی نے مجھے آواز دی کہ کھانا تیار ہے میں کپڑھے پہن کر ڈائنگ روم میں گئی تو سارے بیٹھے هوے کھانا کھا رہے تھے وکی نے جیا کو بتایا کہ اس کی طبھیت صبح سے ہی خراب تھی اور یہ اپنے روم میں سارا دن سوتی رہی تو میں نے بھی اس کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور میری طرف دیکھ کر ہلکے سے آنکھ مار دی تو مجھے پتہ چلا کہ یہ سب کچھ خواب نہیں حقیقت تھی اور میری زندگی کا سب سے بہترین تجربہ تھا وکی کے ساتھ میں نے بہت ٹائم گزارا ایسا لگتا تھا کہ وہہی میرا شوھر اور میرا لوور ہے اس کے ساتھ میں نے ہر طرح سے سکس کیا کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ جیا کتنی لکی ہے کہ اس کو اتنا اچھا شوھر ملا

ختم شد

The post فوجی فوج میں نند کا شوہر موج میں appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d9%85%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/ 0