Urdu Incest Stories Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/urdu-incest-stories/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Sun, 26 Apr 2026 03:47:51 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png Urdu Incest Stories Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/urdu-incest-stories/ 32 32 دیہاتی بیوی https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-3/#respond Mon, 22 Dec 2025 13:52:43 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-3/    میرا نام فاروق ہے اور میں پاکستان کے شہرگجرات کا رہنے والا ہوں میں ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہوں اور بہت اچھی تنخواہ لیتا ہوں میری عمر 33 سال ہے اور میری شادی 7 سال پہلے میری کزن راشدہ سے ہوئی تھی جو مجھ سے عمر میں 6 سال […]

The post دیہاتی بیوی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
  



میرا نام فاروق ہے اور میں پاکستان کے شہرگجرات کا رہنے والا ہوں میں ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہوں اور بہت اچھی تنخواہ لیتا ہوں میری عمر 33 سال ہے اور میری شادی 7 سال پہلے میری کزن راشدہ سے ہوئی تھی جو مجھ سے عمر میں 6 سال چھوٹی ہے اس کا قد 5 فٹ 4 انچ ہے اور دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ بہت سمارٹ اور سلم ہے اس کے بال لمبے اور گھنے سیاہ ہیں پیٹ نہ ہونے کے برابر اور آنکھیں براﺅن ہیں مموں کا سائز 36 ہے جو کہ کسی کنواری لڑکی کی طرح ابھی تک ٹائٹ ہیں میری ایجوکیشن ایم اے ہے جبکہ میری بیوی صرف آٹھویں تک تعلیم حاصل کرسکی ہمارے دو بچے ہیں شادی شدہ لائف میں مجموعی طورپر ہمارے ازواجی تعلقات بہت اچھے رہے ہیں ایک بات اورجو میں آپ کو بتانا ضروری سمجھوں گا وہ یہ ہے کہ میں حقیقی معنوں میں اپنی بیوی کے ”نیچے لگا ہوا ہوں“ جس کی چند ذاتی وجوہات ہے اور ان کا اس واقعہ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے میں بیان نہیں کررہا اس کے نیچے لگے ہونے کی وجہ سے وہ بعض اوقات میری بے عزتی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی اور بعض اوقات ایسی بات بھی کہہ دیتی ہے جو براہ راست میری ذاتی پر حملہ ہوتی ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بدتمیز ہے لیکن میں خاندانی دباﺅ کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہہ پاتا پہلے پہل تو میں اس سے کافی بے زار رہتا تھا لیکن اب مجھے اس کی عادت سی ہوگئی ہے میں عرصہ گذشتہ تین چار سال سے نیٹ پر سیکس سٹوریاں پڑھ رہا ہوں یہ سیکس سٹوریاں پڑھنے کے بعد میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد سے چدائی کراتے ہوئے دیکھوں اس حوالے سے پہلے میں اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے کافی جھجکتا رہا لیکن پھر میں نے اس حوالے سے اپنی بیوی سے بات کی لیکن وہ راضی نہ ہوئی لیکن میں نے اس سے اس موضوع پر بحث جاری رکھی تاہم نتیجہ میرے حق میں نہ نکلا اکثر اوقات میں ٹی وی پر انڈین گانے سنتا اور تصور کرتا کہ ہیرو شاہ رخ خان‘ سنجے دت‘ اجے دیوگن‘ سنی دیول‘ عمران خان اور دیگر کے ساتھ راشدہ گانوں پر ڈانس کررہی ہے اس دوران وہ ان کے ساتھ کسنگ کررہی ہے اور انکے گلے لگ رہی ہے راشدہ کی طرف سے ناں میں جواب سن سن کر آخر کار میں نے اس موضوع پر راشدہ سے بات کرنا چھوڑ دی لیکن میرے دل میں خواہش ختم نہ ہوئی اور میں مسلسل اس بارے میں سوچتا رہتا گذشتہ کچھ عرصہ سے کچھ دفتری معاملات کی وجہ سے میں کافی ڈسٹرب رہا اور میری ازواجی زندگی بھی متاثر ہوئی جب سے دفتری معاملات کی وجہ سے پریشانی شروع ہوئی میں مہینہ میں کبھی کبھار ہی راشدہ کے ساتھ سیکس کرسکا تھاحالانکہ اس سے پہلے ہر ہفتہ ہم تین یا چار بار ضرور سیکس کرتے تھے ایک دو بار اس نے بستر پر لیٹے ہوئے میرے ساتھ چھیڑ خوانی کی لیکن میں نے اس کو چھاڑ پلا دی اس نے اس حوالے سے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی لیکن ان واقعات پر وہ کافی پریشان دکھائی دی کئی بار ایسا بھی ہوا کہ سیکس کے دوران جب ہم لوگ کسنگ کررہے ہوتے تھے یا میں راشدہ کے ساتھ پینی ٹریشن کی حالت میں ہوتا تھا میرے ذہن میں اچانک دفتر کے معاملات کے حوالے سے کچھ خیالات آئے اورمیری شہوت ختم ہوگئی اور میں نے راشدہ کو سیکس میں ادھورا چھوڑ دیا جس پر وہ کافی ڈسٹرب ہوگئی اس نے اس بارے میں مجھ سے کھلے لفظوں میں شکوہ بھی کیا لیکن میں چپ رہا اور پھر اس نے بھی بستر پر دوسری طرف منہ کرکے سونا شروع کردیا
ایک بار جب سیکس کے دوران پینی ٹریشن کی حالت میںحسب معمول میری شہوت ختم ہوگئی اور میں نے راشدہ کو ادھورا چھوڑ دیا تو وہ بہت غصے میں آگئی
”کی ہوگیا اے تہانوں‘ اک تے تسی کدی کدی میرے کول آندے او‘ میں تہاڈے کول آن دی کوشش کراں تے تہاڈا کھلوندا نئی‘ جے تسی آپ آندے او تے تسی چھیتی نال ڈس ہوجاندے او“ راشدہ نے مجھے کوسنا شروع کردیا
میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا
”میں تے کیندی آں تسی کسے حکیم کول جاﺅ ایستراں تے زندگی نئی لنگنی“ اس نے پھر سے کہا لیکن میں شرمندگی کے مارے خاموش رہا اور سو گیا
”اج تسی کسے حکیم دے کول ضرور جاناں“ صبح ناشتہ کرتے ہوئے پھر راشدہ نے بات شروع کردی جس پر میں شرمندہ ہوگیا اورخاموش رہا
”بولدے نئی جے جاناں اے نئی جاناں‘ نئی جاناں تے مینوں دسو میں کسے حکیم نال گل کراں“راشدہ نے میری خاموشی دیکھ کر کہا
”اچھا بابا چلا جاواں گا ہن ناشتہ تے کرن دے“میں نے اس کی بات ان سنی کی اور پھر ناشتہ کرکے آفس چلا گیا
دوپہر کو راشدہ نے مجھے فون کرکے یاد کرایا کہ آج حکیم صاحب کے پاس جانا ہے میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور پھر کام کرنے لگا رات کو بستر پر لیٹا تو راشدہ نے پوچھ لیا کہ کسی حکیم کے پاس گئے تھے میں چپ رہا اور دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا اب میں شرمندگی کے مارے اس کے ساتھ سیکس کے حوالے سے بات بھی نہیں کرتا تھا یہ تقریباً دو ماہ پہلے کی بات ہے جب ایک رات راشدہ بیڈ پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹی ہوئی تھی جبکہ میں ٹی وی دیکھ رہا تھا میں نے ٹی وی آف کیااور اس کا منہ اپنی طرف کرکے اسے گلے لگانے کی کوشش کی
”تسی تے ہن جپھی پان جوگے ای رہ گئے او‘ لگدا اے مینوں ہن اپنے واستے کوئی ہور ای بندوبست کرنا پے گا“ راشدہ نے میری طرف منہ کیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
”نہی جانو! ایسی کوئی گل نہیں توں ایوں پریشان نہ ہویاکر“میں فوری طورپر اس کی بات سمجھ نہ پایا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے میں نے اس کو منانے والے انداز میں جواب دیا
”نہی ایہو جئی گل اے‘ کنے دن ہوگئے نیں تسی میرے ول ویکھدے وی نئی جے‘ ‘ اس نے شکوہ کرنے والے انداز میں کہا
”جانو تینوں پتا اے میں کافی پریشان آں ایس لئی تھوڑی جئی لاپروائی ہوگئی اے چل ہن چھڈ ایناں گلاں نوں‘ ‘ میں نے اس کو گلے لگاتے ہوئے کہا
وہ مان گئی اور ہم نے اس رات ایک بھرپور سیکس کیا اگلے روز آفس جاتے ہوئے میرے ذہن میں راشدہ کی رات والی بات آگئی کہ اس نے کیا کہا ہے پہلے تو مجھے بہت غصہ آیا لیکن پھر مجھے اس میں اپنی پرانی خواہش پوری ہوتی نظر آئی جس پر میں نے اپنے ذہن میں ایک پلان تیار کرلیا کہ راشدہ کو ہر روز سیکس کے لئے تیار کروں اور جان بوجھ کر اس کو ادھورا چھوڑ دیا کروں جس کو سوچ کر ہی میرا لن کھڑا ہونے لگا خیر میں نے اس پلان پر عمل شروع کردیا پہلے دن ہی میں نے بستر پر لیٹتے ہی راشدہ کے ساتھ چھیڑ خوانی شروع کردی
”رہن دیو تسی فیر مینوں وچ کار چھڈ دیو گے“راشدہ نے مجھے طعنہ دینے والے انداز میں کہا
”نئی رہن دیندا“ میں نے اس کو کہا اور پھر چھیڑ خوانی شروع کردی اور پھر جب وہ مکمل طورپر تیار ہوگئی اور میں نے اس کو کہا کہ باتھ روم جانا ہے میں باتھ روم گیا اور پھر واپس آکر بستر پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا حالانکہ اس وقت میرا عضو بیٹھنے کا نام بھی نہیں لے رہا تھا لیکن میں نے اپنے دل پر جبر کرلیا راشدہ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کی طرف منہ ہی نہ کیا
”بس ہوگئی اے ناں مینوں پیلوں ای پتہ سی ‘ چلو خیر ہن سہی ہن کدی میرے کول آن دی کوشش وی نا کرنا“ اس نے مجھے جلی بھنی سنائیں اورپھر وہ بھی لیٹ گئی
دو چار دن بعد پھر میں نے ایسا ہی کیا اس روز تو مجھے اس کام کے لئے راضی کرنے پر کم از کم ایک گھنٹہ لگا اور اس نے اس شرط پر حامی بھری کہ اگر آج اس کو ادھورا رہنا پڑا تو وہ پوری زندگی یہ کام نہیں کرے گی لیکن حسب پلان میں نے اس کو بیچ راہ میں چھوڑ دیا اس واقعہ کے بعد راشدہ کی میرے ساتھ بول چال بھی بہت کم ہوگئی اور وہ صرف مجھے کام کی حد تک ہی بلاتی تھی اس دوران میں نے نوٹ کیا کہ وہ جب بھی کسی کام سے یا کچھ خریدنے کے لئے باہر جاتی ہے تو بہت سج سنور کر جاتی ہے اس نے بریزئیر بھی اپنے سائز سے ایک نمبر کم پہننا شروع کردیا تھا اور کپڑے بھی چست پہننے لگی تھی وہ ہر وقت سجی سنوری رہتی لبوں پر ہلکی سی لپ سٹک‘ ناخنوں پر نیل پالش لگائے رکھتی تھی چند روز بعد مجھے ایک دفتری کام کے سلسلہ میں اپنے دو سینئرز کے ساتھ ایک ہفتہ کے لئے کراچی جانا پڑا جس کے لئے ایڈوانس میں ریلوے کی اے سی سلیپر(اے سی کی بوگی ہوتی ہے جس میں مختلف کمرہ نما کیبنبنے ہوتے ہیں ایککیبن میں زیادہ سے زیادہ چار لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کیبن میں سونے کے لئے بیڈ بھی بنا ہوتا ہے اس کیبن میں اٹیچ باتھ ہوتا ہے پاکستان میں چند لمبے روٹوں کی ٹرینوں میں یہ کیبن ہیں) میں تین سیٹیں بک کرائی گئیں لیکن ٹرین کی روانگی سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جب میں گھر میں جانے کے لئے تیار ہورہا تھا مجھے میرے ایک سینئرکا فون آیا کہ وہ دونوں نہیں جاسکیں گے اس لئے کراچی میں قیام کے لئے چونکہ ہوٹل بھی بک تھا اور ٹرین کی سیٹیں بھی بک تھیں اس لئے میرے سینئر نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنی بیوی کو ساتھ میں لے جاﺅں میں نے راشدہ سے بات کی کہ کراچی چلنا ہے تو وہ مان گئی کیوں کہ کراچی میں راشدہ کی بڑی بہن رہتی ہے میں نے اس سے کہا کہ وہ اسی بہانے اس سے بھی مل لے گی جبکہ بچوں کو اپنے میکے چھوڑ دیتے ہیں راشدہ نے فوری طور پر اپنے بھائی کو فون کیا جو آکر بچوں کو لے گیا جبکہ وہ فوراً تیار ہوگئی اس نے ایسے کپڑے پہنے کہ اس کے جسم کا انگ انگ واضح ہورہا تھا اور ہم لوگ ریلوے سٹیشن پر آگئے ٹرین آئی اور ہم لوگ اپنے کیبن میں پہنچ گئے جہاں چاروں سیٹیں خالی تھیںہم دونوں یہاں بیٹھ گئے اس کیبن میں دو نیچے آمنے سامنے بیڈ لگے ہوئے تھے اور دو اوپر آمنے سامنے بیڈ تھے میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیبن مردانہ ہے اور چوتھا شخص بھی یقینا مرد ہی ہوگا اور اگلے کسی سٹیشن پر کیبن میں آجائے گا میں نے یہ سوچ کر کیبن میں گھستے ہی اندر سے اس کو لاک کیا اور راشدہ کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کردی کہ اگر چوتھا مسافر جوان مرد ہوا تو آج میری خواہش پوری ہوسکتی ہے راشدہ نے پھر سے مجھے کوسنا شروع کردیا لیکن میں نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی جاری رکھی لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی رکی تو کیبن کے دروازے پر کسی نے دستک دی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک ہینڈ سم لڑکا جس کی عمر بیس بائیس سال کے قریب تھی پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سفری بیگ پکڑے کھڑا تھا
”میری یہاں سیٹ بک ہے“اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا
”جی آئیے آئیے“ میں نے اس کو راستہ دیتے ہوئے کہا
وہ کیبن میں داخل ہوا اور میری بیوی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ”سوری آپ میری وجہ سے تنگ ہوں گے ابھی ٹکٹ چیکر آتا ہے تو میں اس سے کہہ کر کیبن چینج کروا لیتا ہوں
نہیں نہیں ہم لوگ ڈسٹرب نہیں ہوں گےتم آرام سے بیٹھو ہمیں تم سے کوئی پریشانی نہیں بلکہ تم سے گپ شپ ہوتی جائے گی میں نے اس کو کہا جس پر وہ میری بیوی کے سامنے بیٹھ گیا جبکہ میں راشدہ کے ساتھ بیٹھ گیا اور ہم لوگوں نے آپس میں باتیں شروع کردیں پہلے تعارف ہوا پھر باہمی دلچسپی کی باتیں ہونے لگی اور سیاست تک آگئی جس میں گرما گرم بحث ہونے لگی میں نے نوٹ کیا کہ راشدہ اس لڑکے جس نے اپنا نام راحیل بتایا تھا کو بہت دلچسپی سے دیکھ رہی ہے بحث کے دوران بھی وہ اسی کی سائیڈ لے رہی تھی اس نوجوان کا قد تقریباً چھ فٹ کے قریب ہوگا اور جسم کافی فٹ چہرہ کلین شیوہ اور بات چیت میں سلجھا ہوا تھا
راشدہ اس میں کافی دلچسپی لے رہی تھی اور میں سمجھ گیا کہ وہ کیا چاہتی ہے جس پر میں بھی خوش ہوگیا کہ آج میری عرصہ پرانی خواہش پوری ہونے جارہی ہے تھوڑی دیر بعد میں اٹھ کر باتھ روم چلا گیا واپس آیا تو دونوں کسی بات پر آپس میں ہنس رہے تھے میں ان کے پاس آکر اخبار لے کر بیٹھ گیا اور ان کو گفتگو کا موقع فراہم کردیا وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے وہ دونوں ایک دوسرے کی کمپنی سے کافی محظوظ ہورہے تھے میں نے نوٹ کیا کہ راحیل بھی راشدہ میں کافی دلچسپی لینے لگا ہے گاڑی ساہیوال پہنچی تو رات کے نو بج چکے تھے میں اٹھ کھڑا ہوا اور اوپر والا بیڈ سیدھا کرکے اس کے اوپر چڑھ کر لیٹ گیا میں نے ان دونوں سے کہا کہ میں سونے لگا ہوں آپ لوگ باتیں کرو جب سونا ہولائٹ آف کردیجئے گا مجھے نیند کہاں آرہی تھی میں تو ان دونوں کو تنہائی کے لئے موقع فراہم کررہا تھاراشدہ اس کے ساتھ اردو اور پنجابی کو مکس کرکے باتیں کررہی تھی جس کو راحیل انجوائے کررہا تھا
 تم گانے شانے پسند کرتے ہو“راشدہ نے اچانک باتیں کرتے کرتے اپنے بیگ سے اپنا بلیک بیری فون اور ہینڈ فری نکالتے ہوئے اس سے پوچھا
جی ہاں میوزک تو مجھے بہت پسند ہے ‘ اس نے جواب دیا
کون سے گانے پسند ہیں ‘ راشدہ نے اس سے پوچھا
پرانے گانے اور پاپ میوزک زیادہ سنتا ہوں‘ اس نے جواب دیا
چلو پھر تم ہی اس میں سے کوئی گانا نکال کے اس کو چلا لو مجھے تو اس میں سے گانا نکالنا نہیں آتا اور دونوں سنتے ہیں‘ راشدہ نے موبائل راحیل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
راحیل نے ابرار الحق کا گانا ”اساں تے جاناں اے بلو دے گھر“ لگا دیا
یار تھوڑی سی آوازکم کردو یا ہینڈ فری لگا لو میں سورہا ہوں‘ میں نے بے زاری سے اوپر سے آوازدی
چلو تہانوں کی ہوگیا اے تسی چپ کرکے لیٹے رہو تہانوں تے ایویں ای ہر گل توں چڑ چڑدی رہندی اے‘ راشدہ نے اوپر منہ کرکے مجھے کہا جواب دیا
یار کسے دے آرام دا خیال وی کرلئی دا اے توں ہینڈ فری نال گانے سن لے‘ میں نے جان بوجھ کر ہینڈ فری کا نام لیا تاکہ راشدہ اور راحیل ایک ہی بیڈ پر بیٹھ جائیں
لو جی اسیں ہینڈ فری لا لینے آں تسی آرام نال ستے رہو‘ راشدہ نے ہینڈ فری لگاتے ہوئے کہا
راحیل میں ادھر بیٹھتی ہوں اک ٹوٹی میں لگا لیتی ہوں اور دوجی تم اپنے کانوں کو لگا لو‘ راشدہ فوری طورپر اپنی جگہ سے اٹھی اور راحیل کے ساتھ بیٹھ کر ہینڈ فری کی ایک تار راحیل کے کان میں لگاتے ہوئے بولی
اب میں اوپر لیٹے لیٹے ان دونوں بیٹھے دیکھ سکتا تھا پہلے راشدہ اس جگہ بیٹھی تھی جہاں میں اوپر لیٹا ہوا تھا
یہ گانا نہی ٹھیک کوئی ہور گانا لگاﺅ ناں‘ راشدہ نے اپنے کان سے ہینڈ فری نکالتے ہوئے راحیل کی طرف کی اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ اس کی ٹانگ پر دے مارا
آپ کون سا گانا سننا پسند کروگی‘ راحیل نے اس سے پوچھا
میرے موبائل میں تو صرف گانے ہیں فلم نہیں چلتی تمہارے پاس موبائل میں ایسے گانے ہیں جن میں ساتھ میں فلم بھی چلتی ہو‘ راشدہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا فون پکڑ کر دوسری طرف رکھتے ہوئے کہا
ہاں ہیں ناں آپ بتاﺅ کون سا گان سنو گی‘ راحیل نے اپنی جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا
کوئی اچھا سا ہو جس میں ڈانس بھی ہو‘ راشدہ نے اس سے کہا
راحیل نے اپنے موبائل پر کوئی گانا لگایا اور اپنے موبائل کی ایک ہینڈ فری راشدہ کو دی جس نے اسے اپنے کان میں لگا لیا اور اس کے ساتھ ہوکر بیٹھ گئی اور موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنے اور اس کے درمیان میں کرلیا جیسے ہی راشدہ اس کے ساتھ لگی راحیل نے ایک بار راشدہ کی طرف غور سے دیکھا جو موبائل میں مگن تھی پھر اس نے بھی اپنی نظریں موبائل کی طرف لگادیں
میں اوپر سے دیکھ رہا تھا کہ گانا سنتے سنتے راشدہ گھسک گھسک کر راحیل کے مزید پاس ہونے کی کوشش کررہی تھی گانا ختم ہوا تو راشدہ نے موبائل اس کو دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے موبائل میں کوئی فلم نہیں ہے
کون سی فلم‘ راحیل نے اس سے پوچھا
کوئی انگریزی ٹائپ کی ‘ راشدہ نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا
ہے دیکھو گی آپ ‘ راحیل شائد اس کا مطلب سمجھ چکا تھا کہ وہ کون سی انگریزی ٹائپ کی فلم دیکھنا چاہتی ہے اس لئے وہ تھوڑا سا مسکرایا اور اس سے پوچھا
ہاں ہاں لگاﺅ ناں ‘ راشدہ نے بھی اس کی آنکھوں میں جھانکا اور جواب دیا
راحیل نے اپنا موبائل پکڑا اور پھر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگا چند لمحے بعد اس نے ”مطلوبہ فلم“ ڈھونڈ لی اور اس کو پلے کرکے موبائل راشدہ کی طرف بڑھا دیا
ہائے میں مر جاواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تے تیرے کول ایہو جئیاں فلماں وی ہیں‘ راشد نے موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہااب وہ پیور پنجابی میں بات کرنے لگی تھی
راحیل نے فوراً اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور کہنے لگا سوری میں نے غلطی سے لگا دی میں کوئی اور لگاتا ہوں ۔
نئی ایہو ای رہن دے بڑی چنگی لگدی اے مینوں ‘ راشدہ نے موبائل راحیل سے چھینتے ہوئے کہااور پھر اس فلم میں مگن ہوگئی پہلے اس نے موبائل اپنے سامنے رکھا تھا پھر اس نے موبائل اپنے اور راشد کے درمیان میں کرکے اس سے کہا ”توں وی تے ویکھ ناں میں ایویں کلی کلی ویکھی جارہی آں“
راحیل بھی فلم دیکھنے لگا میں نوٹ کررہا تھا کہ فلم دیکھتے ہوئے راشدہ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دکھائی دے رہی تھی جبکہ راحیل کی پینٹ کے درمیان میں کوئی چیز ابھر کر واضح ہوچکی تھی اس دوران راحیل نے اپنا ایک ہاتھ راشدہ کی ٹانگ پر رکھ دیا راشدہ نے ایک نظر اس کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے پھر سے فلم دیکھنے لگی اب راحیل نے اپنا ہاتھ راشدہ کی ٹانگ پرپھیرنا شروع کردیا اب راشدہ نے موبائل اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اپنا ایک ہاتھ راحیل کے گلے میں ڈال لیا اور اس کو اپنے مزید قریب کرلیاراحیل نے اس کے ہاتھ سے موبائل لیااور اس کو سائیڈ پر رکھ کر ایک نظر میری طرف دیکھا میں نے اپنی آنکھیں اس طرح موند لیں جیسے کہ میں سویا ہوا ہوں پھر اس نے راشدہ کو بیٹھے بیٹھے ایک بڑی سی جپھی ڈالی
فلم ویکھن دے ناں کنی چنگی فلم اے‘ راشدہ نے اس کی گود میں تقریباً لیٹ کر دوسری طرف پڑا موبائل پکڑنے کی کوشش کی اور پھر سے موبائل پکڑ کر فلم دیکھنے لگی کچھ دیر بعد فلم ختم ہوگئی تو راشدہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کوئی ہور فلم نئی ایس توں وی چنگی ہووے‘
نہیں ایک یہی تھی ‘ راحیل نے اسے جواب دیا اس کے ہات سے موبائل پکڑا اور دوسری طرف رکھ کر اس کو ایک بار پھر گلے لگا لیا اب کی بار راشدہ نے بھی اسے گرم جوشی سے جواب دیا تھوڑی دیر بعد راشدہ نے پیچھے ہوکر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے پھر راحیل نے بھی اسے کسنگ شروع کردی اور وہ دونوں دس پندرہ منٹ تک ایک دوسرے کے منہ میں منہ ڈالے ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رہے
ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔دروازے پر کسی نے دستک دی
دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے راحیل نے اٹھ کر دروازہ کھولا
ٹکٹ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے ٹکٹ چیکر کھڑا تھا راحیل نے اپنی جیب سے ٹکٹ نکال کر اس کو دکھایا اور پھر راشدہ کی طرف دیکھنے لگا راشدہ نے اٹھ کر مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا
ٹکٹ کتھے جے ‘ سونا ای سی تے ٹکٹ مینو دے دیندے ایویں آپے وی پریشان ہوندے جے تے دوجیاں نوں وی پریشان کررہے جے‘
میں نے اس کو اپنی جیب سے ٹکٹ نکال کر دیئے ٹکٹ چیکر نے ٹکٹ چیک کئے اور چلا گیا راحیل نے دروازہ لاک کیا اور میرے نیچے والے بیڈ پر بیٹھ گیا جبکہ راشدہ دوسری طرف والے بیڈ پر بیٹھی تھی دس پندرہ منٹ تک دونوں خاموش رہے پھر راشدہ اٹھ کر اس کے پاس اسی بیڈ پر آگئی جس پر راحیل بیٹھا تھا
پلیز آپ کے شوہر جاگ رہے ہیں وہ دیکھ لیں گے‘ راحیل نے سرگوشی سے کہا
اب میں ان دونوں کو نہیں دیکھ پا رہا تھا کہ دونوں کیا کررہے ہیں چند منٹ تک پھر خاموشی رہی
چم م م م م۔۔۔ام م م م۔۔۔ اب شائد دونوں کسنگ کررہے تھے
ہائے میں مر جاواں ایڈاا وڈا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے راشدہ کی آواز آئی اور پھر خاموشی ہوگئی چند منٹ تک خاموشی رہی
چل اینو ڈیڈ گھٹنی(پینٹ) نوں لا دے ‘ راشدہ نے کہا
آپ کے خاوند ابھی جاگ رہے ہوں گے وہ دیکھ لیں گے
ویکھے گا تے آپے شرم نال اکھاں بند کرلے گا اوناں دا تے ایس نالوں چھوٹا اے ‘ راشدہ کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تو میرا لن پوری طرح کھڑا ہوگیا اس کا مطلب تھا کہ راحیل کالن میرے لن سے زیادہ لمبا ہے میں اس کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن میں نہ اٹھا تاکہ وہ دونوں ڈسٹرب نہ ہوں
اور پھر چند منٹ تک خاموشی رہی اور مجھے پینٹ اترنے کی آواز آئی پھر راشدہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور اس نے اپنی شلوار اورقمیض اور پھر بریزئیر اتار دیا اورپھر وہ نیچے بیڈ گئی اب میںپھر کچھ نہیں دیکھ پا رہا تھا
اینو وی لا دے ‘ راشدہ نے کہا
پھر کسنگ کی آواز آنے لگی
ایڈا وڈا کوئی کڑی لے سکدی اے‘ راشدہ کی آواز آئی
میں نے کبھی کسی کو دیا نہیں ‘ راحیل نے آہستہ آواز میں کہا
تمہارے شوہر کا اس کے مقابلے میں کتنا ہے‘ چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد راحیل کی آہستہ سے آواز آئی
ایدا ادھا وی نئی اے‘راشدہ کی آواز آئی اور پھر خاموشی ہوگئی پھر چند سیکنڈ کے بعد کسنگ کی آواز آنے لگی تھوڑی دیر بعد” غووں غوووووں غووں “راشدہ کے ناک سے نکلنے والی آواز مجھے سنائی دی
آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ونڈر فل یو آر ڈوئنگ ویری ویل میم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راشد کی آواز آئی
چند سیکنڈ غوووں غووووں اور آہ ہ ہ ہ ہ کے بعد یک دم جیسے کوئی سیٹ سے اٹھا ہوایسے آواز آئی
اوہ بیڑا ترجے ای میرے منہ وچ ایک چھٹ گیا ایں مینوں دس تے دیندا‘ راشدہ کی آواز آئی اور ساتھ ہی مجھے راشدہ کی کمر نظر آئی جو بیڈ سے اٹھ کر گھوڑی سٹائل میں کھڑی ہوئی اس نے اپنے بیگ سے کچھ نکالا اور پھر نیچے بیٹھ گئی
ہاں ہن توں آجا۔۔۔۔۔راشدہ نے کہا
 اج انگریزی ٹائپ دا ای کجھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں اینج ای ہاں ہاں اینج ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا جیا ہور اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔۔۔انگلیاں نال تھوڑا جیا کھول لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہاں اف ف ف ف ف ف ف ف ف ف میں گئی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ساتھ میں شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اف ف ف ف ف ۔۔۔۔۔۔شڑپ شڑپ۔۔۔۔ہور تھوڑا جیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینج ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہو ایسے طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیزی نال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی جیب تھوڑی ہور اگے لے جا۔۔۔شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔آہ بس بس س س س س ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں چلی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔شڑپ۔۔۔۔۔۔۔میں گئی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہووووووووو ۔۔۔۔ساتھ ہی راشدہ کا والیم کم ہوگیااور پھر مکمل خاموشی ہوگئی میں اس وقت اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے ایک سائیڈ کومنہ کرکے لیٹا ہوا تھا میرا لن اب فل موڈ میں تھا تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر سے کسنگ کی آواز آنے لگی
توں میرے اتے اینج آجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی توں اپنا منہ اودھر کرلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہن ٹھیک اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کی آواز آئی اور پھر چند سیکنڈ بعد راشدہ نے ہی بس س س س کہا اور پھر خاموشی
مزہ آیا۔۔۔۔۔راحیل نے پوچھا
کوئی تھوڑا بہت اینج دا ساری زندگی نئی آیا اور پھر خاموشی
ہن آوی جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کی آواز آئی اور پھرچند سیکنڈ کی خاموشی
خیر اے نہی اٹھدا اگر اٹھ وی جاوے تے پرواہ نہ کریں توں کم چالو رکھیں ۔۔۔۔۔۔راشد ہ کی آواز آئی
پہلوں تھوڑا آہستہ کریں فیر بھاویں جینویں مرضی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی میری لتاں اجے ایتھے ای رہن دے۔۔۔۔ٹھیک اے آہ ہ ہ ہ ہ تھوڑا آہستہ دھیان ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے میں مر گئی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہولی مرجانیاں ہولی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مینوں مارنا ای ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیچے سے آوازیں آنے لگیں اور میں نے مٹھ لگانا شروع کردی شادی کے بعد میں آج پہلی بار مٹھ لگا رہا تھا میرا دل کررہا تھا کہ میں اٹھ کر نیچے اتر کر دونوں کو دیکھوں لیکن میں نے ایسا نہ کیانیچے سے
ہائے ئے ئے ئے ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تکلیف تو نہیں ہورہی ۔۔۔۔۔۔۔۔نہی توں لگا رے ے ے ے ے۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔میں مر ررر گئی ۔۔۔۔۔۔زیادہ تکلیف تو نہیں ہورہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی تو لگا رے ے ے ے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوںںںںںںںںںں۔۔۔۔۔۔گاڑی کے ہارن کی آواز میں سب کچھ دب گیا پھر آہو ہور زور نال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لتاں اوتے کرلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو ایتھے ای ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سٹ زور دی مار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہور زور نال ۔۔۔۔۔۔۔۔ان آوازوں کے ساتھ ہی میری مٹھ مارنے کی رفتار بھی تیز ہوگئی میں فارغ ہوگیا لیکن نیچے سے ابھی بھی آوازیں آرہی تھی چند منٹ تک ایسے ہی چلتا رہا
میں آنے لگا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں دو وار آگئی آں توں وی آجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی کپڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی کرنا ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آنے والا ہوں منی صاف کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی توں اندر ای آجا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا لن پھر سے حرکت میں آنے لگا میں نے اس کو پکڑ کر پھر سہلانا شروع کردیا
آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کے گہری سانس لینے کی آواز آئی اور پھر خاموشی میں مٹھ مارتا مارتا رک گیا میرا ہاتھ تھک چکا تھا
گڈی پتہ نئی کتھے اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ نوں دل کرریا اے گڈی رکے تے لے آویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کپڑے پہن لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کی کرنے نے کپڑے پا کے گڈی رکے گی تے پا لویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایڈا وڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توں تے مینوں مار دین لگا سیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری بڈی تے پہلی رات مرجاوے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر خاموشی چند سیکنڈ بعد پھر کسنگ
گاڑی کی رفتار آہستہ ہونے لگی اور ساتھ ہی پوووووووں ہارن کی آواز آئی
گڈی کتھے کھلون لگی اے توں کپڑے پا لے تے چاہ لے کے آہ بڑا جی کردا اے اور پھر مجھے راحیل کا سر نظرآیا
آپ بھی پہن لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیر لانے پین گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہن لیں پھر اتار لینا
نہی میں اینج ای ٹھیک آں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے لئے لانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی ستا مریا رہن دے اینوں ہور نویں مسیبت کیوں گل پائےے۔۔۔۔۔
لے آتا ہوں ان کے لئے بھی پی لیں گے
چل لے آ ۔۔۔۔۔۔۔تن کپ لے آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
 تھوڑی دیر بعد گاڑی کھڑی ہوگئی اور کیبن کا دروازہ کھلا اور پھر ٹھک۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ پینی جے ۔۔۔۔۔ راشدہ نے مجھے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا
ہووووں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
ایویں ڈرامے نہ کرو تے دسوں چاہ پینی جے یا نئی راحیل لین گیا اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوووووں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تے تسی ستے ہووے اوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تے فیر ایے کی اے۔۔۔۔۔راشدہ نے میرا کھڑا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہااس نے میری چوری پکڑ لی تھی میں اٹھ کر بیٹھ گیا
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ پینی جے کے نہی۔۔۔۔۔۔
کتھے اے چاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل لین گیا اے ۔۔۔۔۔تن کپ منگوائے نیں پینی جے تے اٹھ جاﺅ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اٹھ کر نیچے آگیا جس بیڈ پر دونوں تھوڑی دیر پہلے مصروف تھے اس پر مردانہ بنیان انڈویئر اور راشدہ کا بلیک کلر کا بریزئیر پڑا ہواتھا اوروہ اس پر تھوڑ ی سی جگہ گیلی بھی ہوچکی تھی جبکہ دوسرے بیڈ پر جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پڑی تھی جو راحیل نے گاڑی میں سوار ہوتے وقت پہنی ہوئی تھی اچانک ٹھک سے دروازہ کھلا اور راحیلٹرے پکڑے اندرداخل ہوگیا جس بیڈ پر دونوں بیٹھے تھے میں اس کے سامنے والے بیڈ پر بیٹھ گیا راحیل میرے ساتھ آن بیٹھا اس نے اس وقت ٹراﺅزراور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا
“یہ کپڑے کس کے ہیں” میں نے سامنے والے بیڈ پر پڑی بنیان‘ انڈروئیر اور بریزئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
”اوہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔میں کپڑے بدلے سن“راشدہ نے پہلے راحیل اور پھر میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر کہا
تے بنیان کدی اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ راحیل نے وی کپڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راشدہ کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی راحیل کی طرف دیکھ کر اس کی بات کاٹ دی راحیل تھوڑا سا شرمندہ ہوگیا
یہ چائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیجئے ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایک کپ میری طرف اور دوسرا راشدہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہامیں نے اور راشدہ نے اس کے ہاتھ سے کپ پکڑ لئے اور چسکیاں لینے لگے
گاڑی کہاں پہنچی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راحیل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ابھی رحیم یار خان رکی تھی میں چائے لے کر آیا ہوں راحیل نے جواب دیا
ابھی تو پنجاب بھی کراس نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں سو سو کر تھک گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایک نظر راشدہ کی طرف ڈالتے ہوئے کہا
پھر ہم تینوں چائے پیتے باتیں کرتے رہے چائے پینے کے بعد راشدہ نے مجھے کہا
تسی سونا ا ے تے اتے چڑ جاﺅ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی میں نیند پوری کرلئی اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک اے میں تے کیندی سی تسی کل فیر کراچی کم تے نکل جانا اے تھکاوٹ نہ ہوجاوے۔۔۔۔۔۔
نہی ہوندی ۔۔۔۔۔۔۔توں سونا اے تے سوں جا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی مینوں تے نیند نہی آرہی ۔۔۔راشدہ نے جواب دیا
تم نے سونا ہے تو اوپر جاکر سوجاﺅ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راحیل سے کہا جس پر وہ اٹھ کر اوپر والے بیڈ پر جالیٹا اور میں راشدہ کے پاس اس کے ساتھ جا بیٹھا
تھوڑی دیر بعد میں نے راشدہ کو چھیڑنا شروع کردیا اور اس کو گلے لگا لیا پھر کسنگ شروع کردی ۔
چھڈدیو مینوں ۔۔۔۔۔۔۔۔فیر تسی نس جاناں اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی نسدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینوں پتہ اے نہی نسدا ااااا۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ نے مجھے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہامگر میں نے پھر اس کو گلے لگا لیا اور زبردستی کرنا شروع کردی جس پر وہ میرا ساتھ دینے لگی اور پھر میری طرف سے کم اور راشدہ کی طرف سے زیادہ گرم جوشی ہوگئی میں نے اس کے کپڑے اتار دئیے اور پھر اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا کر اس کو چودنے لگا اس دوران میں نے اوپر دیکھا تو راحیل نیچے کو دیکھ رہا تھا میں رکا تو راشدہ نے بھی اسے دیکھ لیا
تووں وی تھلے آجا ویکھنا اے تے کول آکے ویکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل بھی نیچے آگیا اور سامنے والے بیڈ پر بیٹھ گیا اس نے اپنا ہاتھ ٹراﺅزر پر رکھ لیا میں نے چدائی شروع کردی میں نے راحیل کی طرف ذرہ بھی دھیان نہیں دیا کہ وہ کیا کررہا ہے جبکہ راشدہ بھی آنکھیں بند کئے لیٹی آہءہ ہ ہ ہاف ف ف ف ہور زور نال ہور زور نال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہ ہ ہ ہ کررہی تھی چدائی کے دوران راشدہ دو بار پہلے اور ایک بار میرے ساتھ فارغ ہوئی میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور ہم دونوں گہرے سانس لینے لگے جب میرا دھیان راحیل کی طرف پڑا تو وہ مٹھ لگا رہا تھا اور چند سیکنڈ بعد وہ بھی چھوٹ گیا اس کی منی فرش پر گر رہی تھی اس نے اپنا ٹراﺅزر اوپر کیا اور وہیں پر بیڈ پر ٹیک لگا کر لیٹ گیا رات کے تین بجے تک ہم لوگ اسی حالت میں رہے پھر مجھے نیند آنے لگی میں نے دیکھا کہ راحیل بھی سوچکا ہے میں اٹھا اور اوپر جاکر سو گیا میری آنکھ کھلی تو نیچے سے راشدہ کی آہ ہ ہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف کی آواز آرہی تھی میں نے نیچے دیکھا تو راشدہ گھوڑی بنی ہوئی تھی اور راحیل پیچھے سے جھٹکے دے رہا تھا چند سیکنڈ بعد ہی وہ راشدہ کے اندر ہی فارغ ہوگیا اور پھر اس کا دھیان میری طرف پڑا
آپ کب اٹھے
جب سے آپ لگے ہوئے ہو۔۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جس پر وہ بھی اور راشدہ بھی ہنسنے لگی اس کے بعد تینوں نے کپڑے پہن لئے اس وقت دوپہر صبح کے دس بج رہے تھے اور گاڑی حیدرآبد پہنچنے والی تھی حیدرآباد گاڑی رکی تو راحیل چائے اور بسکٹس وغیرہ لے آیا ہم نے ناشتہ کیا اور پھر کراچی تک ہم تینوں باتیں کرتے رہے اترتے ہوئے راحیل نے راشدہ کا اور میرا نمبر لیا اور پھر اپنا نمبر دے کر چلاگیا ہم لوگ پلیٹ فارم پر اترے تو سامنے راشدہ کا بہنوئی کھڑا تھا وہ ہمیں لے کر گھر چلا گیا اگلے تین روز تک میں بزی رہا اور چوتھے روز ہم لوگ ہوائی جہاز سے واپس لاہور آگئے گھر پہنچ کر رات کو میں نے بستر پر راشدہ کو چھیڑ خانی کی اس نے پھرمنع کیا لیکن میں باز نہ آیا اور ہم نے بھرپور سیکس کیا جب فارغ ہوگئے تو راشدہ کہنے لگی
پیلوں تہانوں کی ہوگیا سی ۔۔۔۔۔۔اے کھڑا ای نہی ہوندا سی ‘ راشدہ نے میرے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جے اے پیلو کھڑا ہوجاندا تے فیر انگریزی ٹائپ دا سیکس کینویں ہوندا‘ میں نے اس کومسکراتے ہوئے جواب دیا اور وہ میری چھاتی پر مکا مارتے ہوئے میری چھاتی سے لگ گئی اس کے بعد ہم لوگ پھر سے پرانی روٹین پر آگئے اور بھرپور طریقے سے سیکس کرنے لگے
پندرہ دن گزرنے کے بعد ایک دن رات کے وقت جب ہم لوگ ہم بستری سے فارغ ہوکر لیٹے ہوئے تھے راشدہ کے موبائل پر راحیل کا فون آگیا اس نے ملنے کے لئے کہا راشدہ نے اس کو منع کردیا میں نے اس سے کہا کہ اس کوبلا لیتی تو کہنے لگی
جدوں دیسی ٹائپ دا سیکس ای دل راضی کردیو تے انگریزی ٹائپ دے سیکس نوں کی کرناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The post دیہاتی بیوی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-3/feed/ 0
دیہاتی بیوی https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-4/ https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-4/#respond Mon, 22 Dec 2025 13:52:43 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-4/    میرا نام فاروق ہے اور میں پاکستان کے شہرگجرات کا رہنے والا ہوں میں ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہوں اور بہت اچھی تنخواہ لیتا ہوں میری عمر 33 سال ہے اور میری شادی 7 سال پہلے میری کزن راشدہ سے ہوئی تھی جو مجھ سے عمر میں 6 سال […]

The post دیہاتی بیوی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
  



میرا نام فاروق ہے اور میں پاکستان کے شہرگجرات کا رہنے والا ہوں میں ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہوں اور بہت اچھی تنخواہ لیتا ہوں میری عمر 33 سال ہے اور میری شادی 7 سال پہلے میری کزن راشدہ سے ہوئی تھی جو مجھ سے عمر میں 6 سال چھوٹی ہے اس کا قد 5 فٹ 4 انچ ہے اور دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ بہت سمارٹ اور سلم ہے اس کے بال لمبے اور گھنے سیاہ ہیں پیٹ نہ ہونے کے برابر اور آنکھیں براﺅن ہیں مموں کا سائز 36 ہے جو کہ کسی کنواری لڑکی کی طرح ابھی تک ٹائٹ ہیں میری ایجوکیشن ایم اے ہے جبکہ میری بیوی صرف آٹھویں تک تعلیم حاصل کرسکی ہمارے دو بچے ہیں شادی شدہ لائف میں مجموعی طورپر ہمارے ازواجی تعلقات بہت اچھے رہے ہیں ایک بات اورجو میں آپ کو بتانا ضروری سمجھوں گا وہ یہ ہے کہ میں حقیقی معنوں میں اپنی بیوی کے ”نیچے لگا ہوا ہوں“ جس کی چند ذاتی وجوہات ہے اور ان کا اس واقعہ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے میں بیان نہیں کررہا اس کے نیچے لگے ہونے کی وجہ سے وہ بعض اوقات میری بے عزتی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی اور بعض اوقات ایسی بات بھی کہہ دیتی ہے جو براہ راست میری ذاتی پر حملہ ہوتی ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بدتمیز ہے لیکن میں خاندانی دباﺅ کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہہ پاتا پہلے پہل تو میں اس سے کافی بے زار رہتا تھا لیکن اب مجھے اس کی عادت سی ہوگئی ہے میں عرصہ گذشتہ تین چار سال سے نیٹ پر سیکس سٹوریاں پڑھ رہا ہوں یہ سیکس سٹوریاں پڑھنے کے بعد میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد سے چدائی کراتے ہوئے دیکھوں اس حوالے سے پہلے میں اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے کافی جھجکتا رہا لیکن پھر میں نے اس حوالے سے اپنی بیوی سے بات کی لیکن وہ راضی نہ ہوئی لیکن میں نے اس سے اس موضوع پر بحث جاری رکھی تاہم نتیجہ میرے حق میں نہ نکلا اکثر اوقات میں ٹی وی پر انڈین گانے سنتا اور تصور کرتا کہ ہیرو شاہ رخ خان‘ سنجے دت‘ اجے دیوگن‘ سنی دیول‘ عمران خان اور دیگر کے ساتھ راشدہ گانوں پر ڈانس کررہی ہے اس دوران وہ ان کے ساتھ کسنگ کررہی ہے اور انکے گلے لگ رہی ہے راشدہ کی طرف سے ناں میں جواب سن سن کر آخر کار میں نے اس موضوع پر راشدہ سے بات کرنا چھوڑ دی لیکن میرے دل میں خواہش ختم نہ ہوئی اور میں مسلسل اس بارے میں سوچتا رہتا گذشتہ کچھ عرصہ سے کچھ دفتری معاملات کی وجہ سے میں کافی ڈسٹرب رہا اور میری ازواجی زندگی بھی متاثر ہوئی جب سے دفتری معاملات کی وجہ سے پریشانی شروع ہوئی میں مہینہ میں کبھی کبھار ہی راشدہ کے ساتھ سیکس کرسکا تھاحالانکہ اس سے پہلے ہر ہفتہ ہم تین یا چار بار ضرور سیکس کرتے تھے ایک دو بار اس نے بستر پر لیٹے ہوئے میرے ساتھ چھیڑ خوانی کی لیکن میں نے اس کو چھاڑ پلا دی اس نے اس حوالے سے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی لیکن ان واقعات پر وہ کافی پریشان دکھائی دی کئی بار ایسا بھی ہوا کہ سیکس کے دوران جب ہم لوگ کسنگ کررہے ہوتے تھے یا میں راشدہ کے ساتھ پینی ٹریشن کی حالت میں ہوتا تھا میرے ذہن میں اچانک دفتر کے معاملات کے حوالے سے کچھ خیالات آئے اورمیری شہوت ختم ہوگئی اور میں نے راشدہ کو سیکس میں ادھورا چھوڑ دیا جس پر وہ کافی ڈسٹرب ہوگئی اس نے اس بارے میں مجھ سے کھلے لفظوں میں شکوہ بھی کیا لیکن میں چپ رہا اور پھر اس نے بھی بستر پر دوسری طرف منہ کرکے سونا شروع کردیا
ایک بار جب سیکس کے دوران پینی ٹریشن کی حالت میںحسب معمول میری شہوت ختم ہوگئی اور میں نے راشدہ کو ادھورا چھوڑ دیا تو وہ بہت غصے میں آگئی
”کی ہوگیا اے تہانوں‘ اک تے تسی کدی کدی میرے کول آندے او‘ میں تہاڈے کول آن دی کوشش کراں تے تہاڈا کھلوندا نئی‘ جے تسی آپ آندے او تے تسی چھیتی نال ڈس ہوجاندے او“ راشدہ نے مجھے کوسنا شروع کردیا
میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا
”میں تے کیندی آں تسی کسے حکیم کول جاﺅ ایستراں تے زندگی نئی لنگنی“ اس نے پھر سے کہا لیکن میں شرمندگی کے مارے خاموش رہا اور سو گیا
”اج تسی کسے حکیم دے کول ضرور جاناں“ صبح ناشتہ کرتے ہوئے پھر راشدہ نے بات شروع کردی جس پر میں شرمندہ ہوگیا اورخاموش رہا
”بولدے نئی جے جاناں اے نئی جاناں‘ نئی جاناں تے مینوں دسو میں کسے حکیم نال گل کراں“راشدہ نے میری خاموشی دیکھ کر کہا
”اچھا بابا چلا جاواں گا ہن ناشتہ تے کرن دے“میں نے اس کی بات ان سنی کی اور پھر ناشتہ کرکے آفس چلا گیا
دوپہر کو راشدہ نے مجھے فون کرکے یاد کرایا کہ آج حکیم صاحب کے پاس جانا ہے میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور پھر کام کرنے لگا رات کو بستر پر لیٹا تو راشدہ نے پوچھ لیا کہ کسی حکیم کے پاس گئے تھے میں چپ رہا اور دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا اب میں شرمندگی کے مارے اس کے ساتھ سیکس کے حوالے سے بات بھی نہیں کرتا تھا یہ تقریباً دو ماہ پہلے کی بات ہے جب ایک رات راشدہ بیڈ پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹی ہوئی تھی جبکہ میں ٹی وی دیکھ رہا تھا میں نے ٹی وی آف کیااور اس کا منہ اپنی طرف کرکے اسے گلے لگانے کی کوشش کی
”تسی تے ہن جپھی پان جوگے ای رہ گئے او‘ لگدا اے مینوں ہن اپنے واستے کوئی ہور ای بندوبست کرنا پے گا“ راشدہ نے میری طرف منہ کیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
”نہی جانو! ایسی کوئی گل نہیں توں ایوں پریشان نہ ہویاکر“میں فوری طورپر اس کی بات سمجھ نہ پایا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے میں نے اس کو منانے والے انداز میں جواب دیا
”نہی ایہو جئی گل اے‘ کنے دن ہوگئے نیں تسی میرے ول ویکھدے وی نئی جے‘ ‘ اس نے شکوہ کرنے والے انداز میں کہا
”جانو تینوں پتا اے میں کافی پریشان آں ایس لئی تھوڑی جئی لاپروائی ہوگئی اے چل ہن چھڈ ایناں گلاں نوں‘ ‘ میں نے اس کو گلے لگاتے ہوئے کہا
وہ مان گئی اور ہم نے اس رات ایک بھرپور سیکس کیا اگلے روز آفس جاتے ہوئے میرے ذہن میں راشدہ کی رات والی بات آگئی کہ اس نے کیا کہا ہے پہلے تو مجھے بہت غصہ آیا لیکن پھر مجھے اس میں اپنی پرانی خواہش پوری ہوتی نظر آئی جس پر میں نے اپنے ذہن میں ایک پلان تیار کرلیا کہ راشدہ کو ہر روز سیکس کے لئے تیار کروں اور جان بوجھ کر اس کو ادھورا چھوڑ دیا کروں جس کو سوچ کر ہی میرا لن کھڑا ہونے لگا خیر میں نے اس پلان پر عمل شروع کردیا پہلے دن ہی میں نے بستر پر لیٹتے ہی راشدہ کے ساتھ چھیڑ خوانی شروع کردی
”رہن دیو تسی فیر مینوں وچ کار چھڈ دیو گے“راشدہ نے مجھے طعنہ دینے والے انداز میں کہا
”نئی رہن دیندا“ میں نے اس کو کہا اور پھر چھیڑ خوانی شروع کردی اور پھر جب وہ مکمل طورپر تیار ہوگئی اور میں نے اس کو کہا کہ باتھ روم جانا ہے میں باتھ روم گیا اور پھر واپس آکر بستر پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا حالانکہ اس وقت میرا عضو بیٹھنے کا نام بھی نہیں لے رہا تھا لیکن میں نے اپنے دل پر جبر کرلیا راشدہ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کی طرف منہ ہی نہ کیا
”بس ہوگئی اے ناں مینوں پیلوں ای پتہ سی ‘ چلو خیر ہن سہی ہن کدی میرے کول آن دی کوشش وی نا کرنا“ اس نے مجھے جلی بھنی سنائیں اورپھر وہ بھی لیٹ گئی
دو چار دن بعد پھر میں نے ایسا ہی کیا اس روز تو مجھے اس کام کے لئے راضی کرنے پر کم از کم ایک گھنٹہ لگا اور اس نے اس شرط پر حامی بھری کہ اگر آج اس کو ادھورا رہنا پڑا تو وہ پوری زندگی یہ کام نہیں کرے گی لیکن حسب پلان میں نے اس کو بیچ راہ میں چھوڑ دیا اس واقعہ کے بعد راشدہ کی میرے ساتھ بول چال بھی بہت کم ہوگئی اور وہ صرف مجھے کام کی حد تک ہی بلاتی تھی اس دوران میں نے نوٹ کیا کہ وہ جب بھی کسی کام سے یا کچھ خریدنے کے لئے باہر جاتی ہے تو بہت سج سنور کر جاتی ہے اس نے بریزئیر بھی اپنے سائز سے ایک نمبر کم پہننا شروع کردیا تھا اور کپڑے بھی چست پہننے لگی تھی وہ ہر وقت سجی سنوری رہتی لبوں پر ہلکی سی لپ سٹک‘ ناخنوں پر نیل پالش لگائے رکھتی تھی چند روز بعد مجھے ایک دفتری کام کے سلسلہ میں اپنے دو سینئرز کے ساتھ ایک ہفتہ کے لئے کراچی جانا پڑا جس کے لئے ایڈوانس میں ریلوے کی اے سی سلیپر(اے سی کی بوگی ہوتی ہے جس میں مختلف کمرہ نما کیبنبنے ہوتے ہیں ایککیبن میں زیادہ سے زیادہ چار لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کیبن میں سونے کے لئے بیڈ بھی بنا ہوتا ہے اس کیبن میں اٹیچ باتھ ہوتا ہے پاکستان میں چند لمبے روٹوں کی ٹرینوں میں یہ کیبن ہیں) میں تین سیٹیں بک کرائی گئیں لیکن ٹرین کی روانگی سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جب میں گھر میں جانے کے لئے تیار ہورہا تھا مجھے میرے ایک سینئرکا فون آیا کہ وہ دونوں نہیں جاسکیں گے اس لئے کراچی میں قیام کے لئے چونکہ ہوٹل بھی بک تھا اور ٹرین کی سیٹیں بھی بک تھیں اس لئے میرے سینئر نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنی بیوی کو ساتھ میں لے جاﺅں میں نے راشدہ سے بات کی کہ کراچی چلنا ہے تو وہ مان گئی کیوں کہ کراچی میں راشدہ کی بڑی بہن رہتی ہے میں نے اس سے کہا کہ وہ اسی بہانے اس سے بھی مل لے گی جبکہ بچوں کو اپنے میکے چھوڑ دیتے ہیں راشدہ نے فوری طور پر اپنے بھائی کو فون کیا جو آکر بچوں کو لے گیا جبکہ وہ فوراً تیار ہوگئی اس نے ایسے کپڑے پہنے کہ اس کے جسم کا انگ انگ واضح ہورہا تھا اور ہم لوگ ریلوے سٹیشن پر آگئے ٹرین آئی اور ہم لوگ اپنے کیبن میں پہنچ گئے جہاں چاروں سیٹیں خالی تھیںہم دونوں یہاں بیٹھ گئے اس کیبن میں دو نیچے آمنے سامنے بیڈ لگے ہوئے تھے اور دو اوپر آمنے سامنے بیڈ تھے میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیبن مردانہ ہے اور چوتھا شخص بھی یقینا مرد ہی ہوگا اور اگلے کسی سٹیشن پر کیبن میں آجائے گا میں نے یہ سوچ کر کیبن میں گھستے ہی اندر سے اس کو لاک کیا اور راشدہ کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کردی کہ اگر چوتھا مسافر جوان مرد ہوا تو آج میری خواہش پوری ہوسکتی ہے راشدہ نے پھر سے مجھے کوسنا شروع کردیا لیکن میں نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی جاری رکھی لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی رکی تو کیبن کے دروازے پر کسی نے دستک دی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک ہینڈ سم لڑکا جس کی عمر بیس بائیس سال کے قریب تھی پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سفری بیگ پکڑے کھڑا تھا
”میری یہاں سیٹ بک ہے“اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا
”جی آئیے آئیے“ میں نے اس کو راستہ دیتے ہوئے کہا
وہ کیبن میں داخل ہوا اور میری بیوی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ”سوری آپ میری وجہ سے تنگ ہوں گے ابھی ٹکٹ چیکر آتا ہے تو میں اس سے کہہ کر کیبن چینج کروا لیتا ہوں
نہیں نہیں ہم لوگ ڈسٹرب نہیں ہوں گےتم آرام سے بیٹھو ہمیں تم سے کوئی پریشانی نہیں بلکہ تم سے گپ شپ ہوتی جائے گی میں نے اس کو کہا جس پر وہ میری بیوی کے سامنے بیٹھ گیا جبکہ میں راشدہ کے ساتھ بیٹھ گیا اور ہم لوگوں نے آپس میں باتیں شروع کردیں پہلے تعارف ہوا پھر باہمی دلچسپی کی باتیں ہونے لگی اور سیاست تک آگئی جس میں گرما گرم بحث ہونے لگی میں نے نوٹ کیا کہ راشدہ اس لڑکے جس نے اپنا نام راحیل بتایا تھا کو بہت دلچسپی سے دیکھ رہی ہے بحث کے دوران بھی وہ اسی کی سائیڈ لے رہی تھی اس نوجوان کا قد تقریباً چھ فٹ کے قریب ہوگا اور جسم کافی فٹ چہرہ کلین شیوہ اور بات چیت میں سلجھا ہوا تھا
راشدہ اس میں کافی دلچسپی لے رہی تھی اور میں سمجھ گیا کہ وہ کیا چاہتی ہے جس پر میں بھی خوش ہوگیا کہ آج میری عرصہ پرانی خواہش پوری ہونے جارہی ہے تھوڑی دیر بعد میں اٹھ کر باتھ روم چلا گیا واپس آیا تو دونوں کسی بات پر آپس میں ہنس رہے تھے میں ان کے پاس آکر اخبار لے کر بیٹھ گیا اور ان کو گفتگو کا موقع فراہم کردیا وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے وہ دونوں ایک دوسرے کی کمپنی سے کافی محظوظ ہورہے تھے میں نے نوٹ کیا کہ راحیل بھی راشدہ میں کافی دلچسپی لینے لگا ہے گاڑی ساہیوال پہنچی تو رات کے نو بج چکے تھے میں اٹھ کھڑا ہوا اور اوپر والا بیڈ سیدھا کرکے اس کے اوپر چڑھ کر لیٹ گیا میں نے ان دونوں سے کہا کہ میں سونے لگا ہوں آپ لوگ باتیں کرو جب سونا ہولائٹ آف کردیجئے گا مجھے نیند کہاں آرہی تھی میں تو ان دونوں کو تنہائی کے لئے موقع فراہم کررہا تھاراشدہ اس کے ساتھ اردو اور پنجابی کو مکس کرکے باتیں کررہی تھی جس کو راحیل انجوائے کررہا تھا
 تم گانے شانے پسند کرتے ہو“راشدہ نے اچانک باتیں کرتے کرتے اپنے بیگ سے اپنا بلیک بیری فون اور ہینڈ فری نکالتے ہوئے اس سے پوچھا
جی ہاں میوزک تو مجھے بہت پسند ہے ‘ اس نے جواب دیا
کون سے گانے پسند ہیں ‘ راشدہ نے اس سے پوچھا
پرانے گانے اور پاپ میوزک زیادہ سنتا ہوں‘ اس نے جواب دیا
چلو پھر تم ہی اس میں سے کوئی گانا نکال کے اس کو چلا لو مجھے تو اس میں سے گانا نکالنا نہیں آتا اور دونوں سنتے ہیں‘ راشدہ نے موبائل راحیل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
راحیل نے ابرار الحق کا گانا ”اساں تے جاناں اے بلو دے گھر“ لگا دیا
یار تھوڑی سی آوازکم کردو یا ہینڈ فری لگا لو میں سورہا ہوں‘ میں نے بے زاری سے اوپر سے آوازدی
چلو تہانوں کی ہوگیا اے تسی چپ کرکے لیٹے رہو تہانوں تے ایویں ای ہر گل توں چڑ چڑدی رہندی اے‘ راشدہ نے اوپر منہ کرکے مجھے کہا جواب دیا
یار کسے دے آرام دا خیال وی کرلئی دا اے توں ہینڈ فری نال گانے سن لے‘ میں نے جان بوجھ کر ہینڈ فری کا نام لیا تاکہ راشدہ اور راحیل ایک ہی بیڈ پر بیٹھ جائیں
لو جی اسیں ہینڈ فری لا لینے آں تسی آرام نال ستے رہو‘ راشدہ نے ہینڈ فری لگاتے ہوئے کہا
راحیل میں ادھر بیٹھتی ہوں اک ٹوٹی میں لگا لیتی ہوں اور دوجی تم اپنے کانوں کو لگا لو‘ راشدہ فوری طورپر اپنی جگہ سے اٹھی اور راحیل کے ساتھ بیٹھ کر ہینڈ فری کی ایک تار راحیل کے کان میں لگاتے ہوئے بولی
اب میں اوپر لیٹے لیٹے ان دونوں بیٹھے دیکھ سکتا تھا پہلے راشدہ اس جگہ بیٹھی تھی جہاں میں اوپر لیٹا ہوا تھا
یہ گانا نہی ٹھیک کوئی ہور گانا لگاﺅ ناں‘ راشدہ نے اپنے کان سے ہینڈ فری نکالتے ہوئے راحیل کی طرف کی اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ اس کی ٹانگ پر دے مارا
آپ کون سا گانا سننا پسند کروگی‘ راحیل نے اس سے پوچھا
میرے موبائل میں تو صرف گانے ہیں فلم نہیں چلتی تمہارے پاس موبائل میں ایسے گانے ہیں جن میں ساتھ میں فلم بھی چلتی ہو‘ راشدہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا فون پکڑ کر دوسری طرف رکھتے ہوئے کہا
ہاں ہیں ناں آپ بتاﺅ کون سا گان سنو گی‘ راحیل نے اپنی جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا
کوئی اچھا سا ہو جس میں ڈانس بھی ہو‘ راشدہ نے اس سے کہا
راحیل نے اپنے موبائل پر کوئی گانا لگایا اور اپنے موبائل کی ایک ہینڈ فری راشدہ کو دی جس نے اسے اپنے کان میں لگا لیا اور اس کے ساتھ ہوکر بیٹھ گئی اور موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنے اور اس کے درمیان میں کرلیا جیسے ہی راشدہ اس کے ساتھ لگی راحیل نے ایک بار راشدہ کی طرف غور سے دیکھا جو موبائل میں مگن تھی پھر اس نے بھی اپنی نظریں موبائل کی طرف لگادیں
میں اوپر سے دیکھ رہا تھا کہ گانا سنتے سنتے راشدہ گھسک گھسک کر راحیل کے مزید پاس ہونے کی کوشش کررہی تھی گانا ختم ہوا تو راشدہ نے موبائل اس کو دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے موبائل میں کوئی فلم نہیں ہے
کون سی فلم‘ راحیل نے اس سے پوچھا
کوئی انگریزی ٹائپ کی ‘ راشدہ نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا
ہے دیکھو گی آپ ‘ راحیل شائد اس کا مطلب سمجھ چکا تھا کہ وہ کون سی انگریزی ٹائپ کی فلم دیکھنا چاہتی ہے اس لئے وہ تھوڑا سا مسکرایا اور اس سے پوچھا
ہاں ہاں لگاﺅ ناں ‘ راشدہ نے بھی اس کی آنکھوں میں جھانکا اور جواب دیا
راحیل نے اپنا موبائل پکڑا اور پھر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگا چند لمحے بعد اس نے ”مطلوبہ فلم“ ڈھونڈ لی اور اس کو پلے کرکے موبائل راشدہ کی طرف بڑھا دیا
ہائے میں مر جاواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تے تیرے کول ایہو جئیاں فلماں وی ہیں‘ راشد نے موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہااب وہ پیور پنجابی میں بات کرنے لگی تھی
راحیل نے فوراً اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور کہنے لگا سوری میں نے غلطی سے لگا دی میں کوئی اور لگاتا ہوں ۔
نئی ایہو ای رہن دے بڑی چنگی لگدی اے مینوں ‘ راشدہ نے موبائل راحیل سے چھینتے ہوئے کہااور پھر اس فلم میں مگن ہوگئی پہلے اس نے موبائل اپنے سامنے رکھا تھا پھر اس نے موبائل اپنے اور راشد کے درمیان میں کرکے اس سے کہا ”توں وی تے ویکھ ناں میں ایویں کلی کلی ویکھی جارہی آں“
راحیل بھی فلم دیکھنے لگا میں نوٹ کررہا تھا کہ فلم دیکھتے ہوئے راشدہ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دکھائی دے رہی تھی جبکہ راحیل کی پینٹ کے درمیان میں کوئی چیز ابھر کر واضح ہوچکی تھی اس دوران راحیل نے اپنا ایک ہاتھ راشدہ کی ٹانگ پر رکھ دیا راشدہ نے ایک نظر اس کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے پھر سے فلم دیکھنے لگی اب راحیل نے اپنا ہاتھ راشدہ کی ٹانگ پرپھیرنا شروع کردیا اب راشدہ نے موبائل اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اپنا ایک ہاتھ راحیل کے گلے میں ڈال لیا اور اس کو اپنے مزید قریب کرلیاراحیل نے اس کے ہاتھ سے موبائل لیااور اس کو سائیڈ پر رکھ کر ایک نظر میری طرف دیکھا میں نے اپنی آنکھیں اس طرح موند لیں جیسے کہ میں سویا ہوا ہوں پھر اس نے راشدہ کو بیٹھے بیٹھے ایک بڑی سی جپھی ڈالی
فلم ویکھن دے ناں کنی چنگی فلم اے‘ راشدہ نے اس کی گود میں تقریباً لیٹ کر دوسری طرف پڑا موبائل پکڑنے کی کوشش کی اور پھر سے موبائل پکڑ کر فلم دیکھنے لگی کچھ دیر بعد فلم ختم ہوگئی تو راشدہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کوئی ہور فلم نئی ایس توں وی چنگی ہووے‘
نہیں ایک یہی تھی ‘ راحیل نے اسے جواب دیا اس کے ہات سے موبائل پکڑا اور دوسری طرف رکھ کر اس کو ایک بار پھر گلے لگا لیا اب کی بار راشدہ نے بھی اسے گرم جوشی سے جواب دیا تھوڑی دیر بعد راشدہ نے پیچھے ہوکر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے پھر راحیل نے بھی اسے کسنگ شروع کردی اور وہ دونوں دس پندرہ منٹ تک ایک دوسرے کے منہ میں منہ ڈالے ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رہے
ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔دروازے پر کسی نے دستک دی
دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے راحیل نے اٹھ کر دروازہ کھولا
ٹکٹ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے ٹکٹ چیکر کھڑا تھا راحیل نے اپنی جیب سے ٹکٹ نکال کر اس کو دکھایا اور پھر راشدہ کی طرف دیکھنے لگا راشدہ نے اٹھ کر مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا
ٹکٹ کتھے جے ‘ سونا ای سی تے ٹکٹ مینو دے دیندے ایویں آپے وی پریشان ہوندے جے تے دوجیاں نوں وی پریشان کررہے جے‘
میں نے اس کو اپنی جیب سے ٹکٹ نکال کر دیئے ٹکٹ چیکر نے ٹکٹ چیک کئے اور چلا گیا راحیل نے دروازہ لاک کیا اور میرے نیچے والے بیڈ پر بیٹھ گیا جبکہ راشدہ دوسری طرف والے بیڈ پر بیٹھی تھی دس پندرہ منٹ تک دونوں خاموش رہے پھر راشدہ اٹھ کر اس کے پاس اسی بیڈ پر آگئی جس پر راحیل بیٹھا تھا
پلیز آپ کے شوہر جاگ رہے ہیں وہ دیکھ لیں گے‘ راحیل نے سرگوشی سے کہا
اب میں ان دونوں کو نہیں دیکھ پا رہا تھا کہ دونوں کیا کررہے ہیں چند منٹ تک پھر خاموشی رہی
چم م م م م۔۔۔ام م م م۔۔۔ اب شائد دونوں کسنگ کررہے تھے
ہائے میں مر جاواں ایڈاا وڈا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے راشدہ کی آواز آئی اور پھر خاموشی ہوگئی چند منٹ تک خاموشی رہی
چل اینو ڈیڈ گھٹنی(پینٹ) نوں لا دے ‘ راشدہ نے کہا
آپ کے خاوند ابھی جاگ رہے ہوں گے وہ دیکھ لیں گے
ویکھے گا تے آپے شرم نال اکھاں بند کرلے گا اوناں دا تے ایس نالوں چھوٹا اے ‘ راشدہ کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تو میرا لن پوری طرح کھڑا ہوگیا اس کا مطلب تھا کہ راحیل کالن میرے لن سے زیادہ لمبا ہے میں اس کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن میں نہ اٹھا تاکہ وہ دونوں ڈسٹرب نہ ہوں
اور پھر چند منٹ تک خاموشی رہی اور مجھے پینٹ اترنے کی آواز آئی پھر راشدہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور اس نے اپنی شلوار اورقمیض اور پھر بریزئیر اتار دیا اورپھر وہ نیچے بیڈ گئی اب میںپھر کچھ نہیں دیکھ پا رہا تھا
اینو وی لا دے ‘ راشدہ نے کہا
پھر کسنگ کی آواز آنے لگی
ایڈا وڈا کوئی کڑی لے سکدی اے‘ راشدہ کی آواز آئی
میں نے کبھی کسی کو دیا نہیں ‘ راحیل نے آہستہ آواز میں کہا
تمہارے شوہر کا اس کے مقابلے میں کتنا ہے‘ چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد راحیل کی آہستہ سے آواز آئی
ایدا ادھا وی نئی اے‘راشدہ کی آواز آئی اور پھر خاموشی ہوگئی پھر چند سیکنڈ کے بعد کسنگ کی آواز آنے لگی تھوڑی دیر بعد” غووں غوووووں غووں “راشدہ کے ناک سے نکلنے والی آواز مجھے سنائی دی
آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ونڈر فل یو آر ڈوئنگ ویری ویل میم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راشد کی آواز آئی
چند سیکنڈ غوووں غووووں اور آہ ہ ہ ہ ہ کے بعد یک دم جیسے کوئی سیٹ سے اٹھا ہوایسے آواز آئی
اوہ بیڑا ترجے ای میرے منہ وچ ایک چھٹ گیا ایں مینوں دس تے دیندا‘ راشدہ کی آواز آئی اور ساتھ ہی مجھے راشدہ کی کمر نظر آئی جو بیڈ سے اٹھ کر گھوڑی سٹائل میں کھڑی ہوئی اس نے اپنے بیگ سے کچھ نکالا اور پھر نیچے بیٹھ گئی
ہاں ہن توں آجا۔۔۔۔۔راشدہ نے کہا
 اج انگریزی ٹائپ دا ای کجھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں اینج ای ہاں ہاں اینج ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا جیا ہور اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔۔۔انگلیاں نال تھوڑا جیا کھول لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہاں اف ف ف ف ف ف ف ف ف ف میں گئی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ساتھ میں شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اف ف ف ف ف ۔۔۔۔۔۔شڑپ شڑپ۔۔۔۔ہور تھوڑا جیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینج ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہو ایسے طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیزی نال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی جیب تھوڑی ہور اگے لے جا۔۔۔شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔آہ بس بس س س س س ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں چلی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔شڑپ۔۔۔۔۔۔۔میں گئی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہووووووووو ۔۔۔۔ساتھ ہی راشدہ کا والیم کم ہوگیااور پھر مکمل خاموشی ہوگئی میں اس وقت اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے ایک سائیڈ کومنہ کرکے لیٹا ہوا تھا میرا لن اب فل موڈ میں تھا تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر سے کسنگ کی آواز آنے لگی
توں میرے اتے اینج آجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی توں اپنا منہ اودھر کرلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہن ٹھیک اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کی آواز آئی اور پھر چند سیکنڈ بعد راشدہ نے ہی بس س س س کہا اور پھر خاموشی
مزہ آیا۔۔۔۔۔راحیل نے پوچھا
کوئی تھوڑا بہت اینج دا ساری زندگی نئی آیا اور پھر خاموشی
ہن آوی جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کی آواز آئی اور پھرچند سیکنڈ کی خاموشی
خیر اے نہی اٹھدا اگر اٹھ وی جاوے تے پرواہ نہ کریں توں کم چالو رکھیں ۔۔۔۔۔۔راشد ہ کی آواز آئی
پہلوں تھوڑا آہستہ کریں فیر بھاویں جینویں مرضی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی میری لتاں اجے ایتھے ای رہن دے۔۔۔۔ٹھیک اے آہ ہ ہ ہ ہ تھوڑا آہستہ دھیان ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے میں مر گئی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہولی مرجانیاں ہولی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مینوں مارنا ای ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیچے سے آوازیں آنے لگیں اور میں نے مٹھ لگانا شروع کردی شادی کے بعد میں آج پہلی بار مٹھ لگا رہا تھا میرا دل کررہا تھا کہ میں اٹھ کر نیچے اتر کر دونوں کو دیکھوں لیکن میں نے ایسا نہ کیانیچے سے
ہائے ئے ئے ئے ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تکلیف تو نہیں ہورہی ۔۔۔۔۔۔۔۔نہی توں لگا رے ے ے ے ے۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔میں مر ررر گئی ۔۔۔۔۔۔زیادہ تکلیف تو نہیں ہورہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی تو لگا رے ے ے ے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوںںںںںںںںںں۔۔۔۔۔۔گاڑی کے ہارن کی آواز میں سب کچھ دب گیا پھر آہو ہور زور نال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لتاں اوتے کرلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو ایتھے ای ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سٹ زور دی مار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہور زور نال ۔۔۔۔۔۔۔۔ان آوازوں کے ساتھ ہی میری مٹھ مارنے کی رفتار بھی تیز ہوگئی میں فارغ ہوگیا لیکن نیچے سے ابھی بھی آوازیں آرہی تھی چند منٹ تک ایسے ہی چلتا رہا
میں آنے لگا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں دو وار آگئی آں توں وی آجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی کپڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی کرنا ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آنے والا ہوں منی صاف کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی توں اندر ای آجا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا لن پھر سے حرکت میں آنے لگا میں نے اس کو پکڑ کر پھر سہلانا شروع کردیا
آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کے گہری سانس لینے کی آواز آئی اور پھر خاموشی میں مٹھ مارتا مارتا رک گیا میرا ہاتھ تھک چکا تھا
گڈی پتہ نئی کتھے اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ نوں دل کرریا اے گڈی رکے تے لے آویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کپڑے پہن لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کی کرنے نے کپڑے پا کے گڈی رکے گی تے پا لویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایڈا وڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توں تے مینوں مار دین لگا سیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری بڈی تے پہلی رات مرجاوے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر خاموشی چند سیکنڈ بعد پھر کسنگ
گاڑی کی رفتار آہستہ ہونے لگی اور ساتھ ہی پوووووووں ہارن کی آواز آئی
گڈی کتھے کھلون لگی اے توں کپڑے پا لے تے چاہ لے کے آہ بڑا جی کردا اے اور پھر مجھے راحیل کا سر نظرآیا
آپ بھی پہن لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیر لانے پین گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہن لیں پھر اتار لینا
نہی میں اینج ای ٹھیک آں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے لئے لانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی ستا مریا رہن دے اینوں ہور نویں مسیبت کیوں گل پائےے۔۔۔۔۔
لے آتا ہوں ان کے لئے بھی پی لیں گے
چل لے آ ۔۔۔۔۔۔۔تن کپ لے آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
 تھوڑی دیر بعد گاڑی کھڑی ہوگئی اور کیبن کا دروازہ کھلا اور پھر ٹھک۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ پینی جے ۔۔۔۔۔ راشدہ نے مجھے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا
ہووووں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
ایویں ڈرامے نہ کرو تے دسوں چاہ پینی جے یا نئی راحیل لین گیا اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوووووں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تے تسی ستے ہووے اوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تے فیر ایے کی اے۔۔۔۔۔راشدہ نے میرا کھڑا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہااس نے میری چوری پکڑ لی تھی میں اٹھ کر بیٹھ گیا
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ پینی جے کے نہی۔۔۔۔۔۔
کتھے اے چاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل لین گیا اے ۔۔۔۔۔تن کپ منگوائے نیں پینی جے تے اٹھ جاﺅ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اٹھ کر نیچے آگیا جس بیڈ پر دونوں تھوڑی دیر پہلے مصروف تھے اس پر مردانہ بنیان انڈویئر اور راشدہ کا بلیک کلر کا بریزئیر پڑا ہواتھا اوروہ اس پر تھوڑ ی سی جگہ گیلی بھی ہوچکی تھی جبکہ دوسرے بیڈ پر جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پڑی تھی جو راحیل نے گاڑی میں سوار ہوتے وقت پہنی ہوئی تھی اچانک ٹھک سے دروازہ کھلا اور راحیلٹرے پکڑے اندرداخل ہوگیا جس بیڈ پر دونوں بیٹھے تھے میں اس کے سامنے والے بیڈ پر بیٹھ گیا راحیل میرے ساتھ آن بیٹھا اس نے اس وقت ٹراﺅزراور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا
“یہ کپڑے کس کے ہیں” میں نے سامنے والے بیڈ پر پڑی بنیان‘ انڈروئیر اور بریزئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
”اوہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔میں کپڑے بدلے سن“راشدہ نے پہلے راحیل اور پھر میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر کہا
تے بنیان کدی اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ راحیل نے وی کپڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راشدہ کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی راحیل کی طرف دیکھ کر اس کی بات کاٹ دی راحیل تھوڑا سا شرمندہ ہوگیا
یہ چائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیجئے ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایک کپ میری طرف اور دوسرا راشدہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہامیں نے اور راشدہ نے اس کے ہاتھ سے کپ پکڑ لئے اور چسکیاں لینے لگے
گاڑی کہاں پہنچی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راحیل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ابھی رحیم یار خان رکی تھی میں چائے لے کر آیا ہوں راحیل نے جواب دیا
ابھی تو پنجاب بھی کراس نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں سو سو کر تھک گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایک نظر راشدہ کی طرف ڈالتے ہوئے کہا
پھر ہم تینوں چائے پیتے باتیں کرتے رہے چائے پینے کے بعد راشدہ نے مجھے کہا
تسی سونا ا ے تے اتے چڑ جاﺅ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی میں نیند پوری کرلئی اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک اے میں تے کیندی سی تسی کل فیر کراچی کم تے نکل جانا اے تھکاوٹ نہ ہوجاوے۔۔۔۔۔۔
نہی ہوندی ۔۔۔۔۔۔۔توں سونا اے تے سوں جا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی مینوں تے نیند نہی آرہی ۔۔۔راشدہ نے جواب دیا
تم نے سونا ہے تو اوپر جاکر سوجاﺅ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راحیل سے کہا جس پر وہ اٹھ کر اوپر والے بیڈ پر جالیٹا اور میں راشدہ کے پاس اس کے ساتھ جا بیٹھا
تھوڑی دیر بعد میں نے راشدہ کو چھیڑنا شروع کردیا اور اس کو گلے لگا لیا پھر کسنگ شروع کردی ۔
چھڈدیو مینوں ۔۔۔۔۔۔۔۔فیر تسی نس جاناں اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی نسدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینوں پتہ اے نہی نسدا ااااا۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ نے مجھے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہامگر میں نے پھر اس کو گلے لگا لیا اور زبردستی کرنا شروع کردی جس پر وہ میرا ساتھ دینے لگی اور پھر میری طرف سے کم اور راشدہ کی طرف سے زیادہ گرم جوشی ہوگئی میں نے اس کے کپڑے اتار دئیے اور پھر اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا کر اس کو چودنے لگا اس دوران میں نے اوپر دیکھا تو راحیل نیچے کو دیکھ رہا تھا میں رکا تو راشدہ نے بھی اسے دیکھ لیا
تووں وی تھلے آجا ویکھنا اے تے کول آکے ویکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل بھی نیچے آگیا اور سامنے والے بیڈ پر بیٹھ گیا اس نے اپنا ہاتھ ٹراﺅزر پر رکھ لیا میں نے چدائی شروع کردی میں نے راحیل کی طرف ذرہ بھی دھیان نہیں دیا کہ وہ کیا کررہا ہے جبکہ راشدہ بھی آنکھیں بند کئے لیٹی آہءہ ہ ہ ہاف ف ف ف ہور زور نال ہور زور نال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہ ہ ہ ہ کررہی تھی چدائی کے دوران راشدہ دو بار پہلے اور ایک بار میرے ساتھ فارغ ہوئی میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور ہم دونوں گہرے سانس لینے لگے جب میرا دھیان راحیل کی طرف پڑا تو وہ مٹھ لگا رہا تھا اور چند سیکنڈ بعد وہ بھی چھوٹ گیا اس کی منی فرش پر گر رہی تھی اس نے اپنا ٹراﺅزر اوپر کیا اور وہیں پر بیڈ پر ٹیک لگا کر لیٹ گیا رات کے تین بجے تک ہم لوگ اسی حالت میں رہے پھر مجھے نیند آنے لگی میں نے دیکھا کہ راحیل بھی سوچکا ہے میں اٹھا اور اوپر جاکر سو گیا میری آنکھ کھلی تو نیچے سے راشدہ کی آہ ہ ہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف کی آواز آرہی تھی میں نے نیچے دیکھا تو راشدہ گھوڑی بنی ہوئی تھی اور راحیل پیچھے سے جھٹکے دے رہا تھا چند سیکنڈ بعد ہی وہ راشدہ کے اندر ہی فارغ ہوگیا اور پھر اس کا دھیان میری طرف پڑا
آپ کب اٹھے
جب سے آپ لگے ہوئے ہو۔۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جس پر وہ بھی اور راشدہ بھی ہنسنے لگی اس کے بعد تینوں نے کپڑے پہن لئے اس وقت دوپہر صبح کے دس بج رہے تھے اور گاڑی حیدرآبد پہنچنے والی تھی حیدرآباد گاڑی رکی تو راحیل چائے اور بسکٹس وغیرہ لے آیا ہم نے ناشتہ کیا اور پھر کراچی تک ہم تینوں باتیں کرتے رہے اترتے ہوئے راحیل نے راشدہ کا اور میرا نمبر لیا اور پھر اپنا نمبر دے کر چلاگیا ہم لوگ پلیٹ فارم پر اترے تو سامنے راشدہ کا بہنوئی کھڑا تھا وہ ہمیں لے کر گھر چلا گیا اگلے تین روز تک میں بزی رہا اور چوتھے روز ہم لوگ ہوائی جہاز سے واپس لاہور آگئے گھر پہنچ کر رات کو میں نے بستر پر راشدہ کو چھیڑ خانی کی اس نے پھرمنع کیا لیکن میں باز نہ آیا اور ہم نے بھرپور سیکس کیا جب فارغ ہوگئے تو راشدہ کہنے لگی
پیلوں تہانوں کی ہوگیا سی ۔۔۔۔۔۔اے کھڑا ای نہی ہوندا سی ‘ راشدہ نے میرے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جے اے پیلو کھڑا ہوجاندا تے فیر انگریزی ٹائپ دا سیکس کینویں ہوندا‘ میں نے اس کومسکراتے ہوئے جواب دیا اور وہ میری چھاتی پر مکا مارتے ہوئے میری چھاتی سے لگ گئی اس کے بعد ہم لوگ پھر سے پرانی روٹین پر آگئے اور بھرپور طریقے سے سیکس کرنے لگے
پندرہ دن گزرنے کے بعد ایک دن رات کے وقت جب ہم لوگ ہم بستری سے فارغ ہوکر لیٹے ہوئے تھے راشدہ کے موبائل پر راحیل کا فون آگیا اس نے ملنے کے لئے کہا راشدہ نے اس کو منع کردیا میں نے اس سے کہا کہ اس کوبلا لیتی تو کہنے لگی
جدوں دیسی ٹائپ دا سیکس ای دل راضی کردیو تے انگریزی ٹائپ دے سیکس نوں کی کرناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The post دیہاتی بیوی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-4/feed/ 0
دیہاتی بیوی https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-2/#respond Mon, 22 Dec 2025 13:52:43 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-2/    میرا نام فاروق ہے اور میں پاکستان کے شہرگجرات کا رہنے والا ہوں میں ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہوں اور بہت اچھی تنخواہ لیتا ہوں میری عمر 33 سال ہے اور میری شادی 7 سال پہلے میری کزن راشدہ سے ہوئی تھی جو مجھ سے عمر میں 6 سال […]

The post دیہاتی بیوی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
  



میرا نام فاروق ہے اور میں پاکستان کے شہرگجرات کا رہنے والا ہوں میں ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہوں اور بہت اچھی تنخواہ لیتا ہوں میری عمر 33 سال ہے اور میری شادی 7 سال پہلے میری کزن راشدہ سے ہوئی تھی جو مجھ سے عمر میں 6 سال چھوٹی ہے اس کا قد 5 فٹ 4 انچ ہے اور دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ بہت سمارٹ اور سلم ہے اس کے بال لمبے اور گھنے سیاہ ہیں پیٹ نہ ہونے کے برابر اور آنکھیں براﺅن ہیں مموں کا سائز 36 ہے جو کہ کسی کنواری لڑکی کی طرح ابھی تک ٹائٹ ہیں میری ایجوکیشن ایم اے ہے جبکہ میری بیوی صرف آٹھویں تک تعلیم حاصل کرسکی ہمارے دو بچے ہیں شادی شدہ لائف میں مجموعی طورپر ہمارے ازواجی تعلقات بہت اچھے رہے ہیں ایک بات اورجو میں آپ کو بتانا ضروری سمجھوں گا وہ یہ ہے کہ میں حقیقی معنوں میں اپنی بیوی کے ”نیچے لگا ہوا ہوں“ جس کی چند ذاتی وجوہات ہے اور ان کا اس واقعہ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے میں بیان نہیں کررہا اس کے نیچے لگے ہونے کی وجہ سے وہ بعض اوقات میری بے عزتی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی اور بعض اوقات ایسی بات بھی کہہ دیتی ہے جو براہ راست میری ذاتی پر حملہ ہوتی ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بدتمیز ہے لیکن میں خاندانی دباﺅ کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہہ پاتا پہلے پہل تو میں اس سے کافی بے زار رہتا تھا لیکن اب مجھے اس کی عادت سی ہوگئی ہے میں عرصہ گذشتہ تین چار سال سے نیٹ پر سیکس سٹوریاں پڑھ رہا ہوں یہ سیکس سٹوریاں پڑھنے کے بعد میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد سے چدائی کراتے ہوئے دیکھوں اس حوالے سے پہلے میں اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے کافی جھجکتا رہا لیکن پھر میں نے اس حوالے سے اپنی بیوی سے بات کی لیکن وہ راضی نہ ہوئی لیکن میں نے اس سے اس موضوع پر بحث جاری رکھی تاہم نتیجہ میرے حق میں نہ نکلا اکثر اوقات میں ٹی وی پر انڈین گانے سنتا اور تصور کرتا کہ ہیرو شاہ رخ خان‘ سنجے دت‘ اجے دیوگن‘ سنی دیول‘ عمران خان اور دیگر کے ساتھ راشدہ گانوں پر ڈانس کررہی ہے اس دوران وہ ان کے ساتھ کسنگ کررہی ہے اور انکے گلے لگ رہی ہے راشدہ کی طرف سے ناں میں جواب سن سن کر آخر کار میں نے اس موضوع پر راشدہ سے بات کرنا چھوڑ دی لیکن میرے دل میں خواہش ختم نہ ہوئی اور میں مسلسل اس بارے میں سوچتا رہتا گذشتہ کچھ عرصہ سے کچھ دفتری معاملات کی وجہ سے میں کافی ڈسٹرب رہا اور میری ازواجی زندگی بھی متاثر ہوئی جب سے دفتری معاملات کی وجہ سے پریشانی شروع ہوئی میں مہینہ میں کبھی کبھار ہی راشدہ کے ساتھ سیکس کرسکا تھاحالانکہ اس سے پہلے ہر ہفتہ ہم تین یا چار بار ضرور سیکس کرتے تھے ایک دو بار اس نے بستر پر لیٹے ہوئے میرے ساتھ چھیڑ خوانی کی لیکن میں نے اس کو چھاڑ پلا دی اس نے اس حوالے سے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی لیکن ان واقعات پر وہ کافی پریشان دکھائی دی کئی بار ایسا بھی ہوا کہ سیکس کے دوران جب ہم لوگ کسنگ کررہے ہوتے تھے یا میں راشدہ کے ساتھ پینی ٹریشن کی حالت میں ہوتا تھا میرے ذہن میں اچانک دفتر کے معاملات کے حوالے سے کچھ خیالات آئے اورمیری شہوت ختم ہوگئی اور میں نے راشدہ کو سیکس میں ادھورا چھوڑ دیا جس پر وہ کافی ڈسٹرب ہوگئی اس نے اس بارے میں مجھ سے کھلے لفظوں میں شکوہ بھی کیا لیکن میں چپ رہا اور پھر اس نے بھی بستر پر دوسری طرف منہ کرکے سونا شروع کردیا
ایک بار جب سیکس کے دوران پینی ٹریشن کی حالت میںحسب معمول میری شہوت ختم ہوگئی اور میں نے راشدہ کو ادھورا چھوڑ دیا تو وہ بہت غصے میں آگئی
”کی ہوگیا اے تہانوں‘ اک تے تسی کدی کدی میرے کول آندے او‘ میں تہاڈے کول آن دی کوشش کراں تے تہاڈا کھلوندا نئی‘ جے تسی آپ آندے او تے تسی چھیتی نال ڈس ہوجاندے او“ راشدہ نے مجھے کوسنا شروع کردیا
میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا
”میں تے کیندی آں تسی کسے حکیم کول جاﺅ ایستراں تے زندگی نئی لنگنی“ اس نے پھر سے کہا لیکن میں شرمندگی کے مارے خاموش رہا اور سو گیا
”اج تسی کسے حکیم دے کول ضرور جاناں“ صبح ناشتہ کرتے ہوئے پھر راشدہ نے بات شروع کردی جس پر میں شرمندہ ہوگیا اورخاموش رہا
”بولدے نئی جے جاناں اے نئی جاناں‘ نئی جاناں تے مینوں دسو میں کسے حکیم نال گل کراں“راشدہ نے میری خاموشی دیکھ کر کہا
”اچھا بابا چلا جاواں گا ہن ناشتہ تے کرن دے“میں نے اس کی بات ان سنی کی اور پھر ناشتہ کرکے آفس چلا گیا
دوپہر کو راشدہ نے مجھے فون کرکے یاد کرایا کہ آج حکیم صاحب کے پاس جانا ہے میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور پھر کام کرنے لگا رات کو بستر پر لیٹا تو راشدہ نے پوچھ لیا کہ کسی حکیم کے پاس گئے تھے میں چپ رہا اور دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا اب میں شرمندگی کے مارے اس کے ساتھ سیکس کے حوالے سے بات بھی نہیں کرتا تھا یہ تقریباً دو ماہ پہلے کی بات ہے جب ایک رات راشدہ بیڈ پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹی ہوئی تھی جبکہ میں ٹی وی دیکھ رہا تھا میں نے ٹی وی آف کیااور اس کا منہ اپنی طرف کرکے اسے گلے لگانے کی کوشش کی
”تسی تے ہن جپھی پان جوگے ای رہ گئے او‘ لگدا اے مینوں ہن اپنے واستے کوئی ہور ای بندوبست کرنا پے گا“ راشدہ نے میری طرف منہ کیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
”نہی جانو! ایسی کوئی گل نہیں توں ایوں پریشان نہ ہویاکر“میں فوری طورپر اس کی بات سمجھ نہ پایا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے میں نے اس کو منانے والے انداز میں جواب دیا
”نہی ایہو جئی گل اے‘ کنے دن ہوگئے نیں تسی میرے ول ویکھدے وی نئی جے‘ ‘ اس نے شکوہ کرنے والے انداز میں کہا
”جانو تینوں پتا اے میں کافی پریشان آں ایس لئی تھوڑی جئی لاپروائی ہوگئی اے چل ہن چھڈ ایناں گلاں نوں‘ ‘ میں نے اس کو گلے لگاتے ہوئے کہا
وہ مان گئی اور ہم نے اس رات ایک بھرپور سیکس کیا اگلے روز آفس جاتے ہوئے میرے ذہن میں راشدہ کی رات والی بات آگئی کہ اس نے کیا کہا ہے پہلے تو مجھے بہت غصہ آیا لیکن پھر مجھے اس میں اپنی پرانی خواہش پوری ہوتی نظر آئی جس پر میں نے اپنے ذہن میں ایک پلان تیار کرلیا کہ راشدہ کو ہر روز سیکس کے لئے تیار کروں اور جان بوجھ کر اس کو ادھورا چھوڑ دیا کروں جس کو سوچ کر ہی میرا لن کھڑا ہونے لگا خیر میں نے اس پلان پر عمل شروع کردیا پہلے دن ہی میں نے بستر پر لیٹتے ہی راشدہ کے ساتھ چھیڑ خوانی شروع کردی
”رہن دیو تسی فیر مینوں وچ کار چھڈ دیو گے“راشدہ نے مجھے طعنہ دینے والے انداز میں کہا
”نئی رہن دیندا“ میں نے اس کو کہا اور پھر چھیڑ خوانی شروع کردی اور پھر جب وہ مکمل طورپر تیار ہوگئی اور میں نے اس کو کہا کہ باتھ روم جانا ہے میں باتھ روم گیا اور پھر واپس آکر بستر پر دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا حالانکہ اس وقت میرا عضو بیٹھنے کا نام بھی نہیں لے رہا تھا لیکن میں نے اپنے دل پر جبر کرلیا راشدہ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کی طرف منہ ہی نہ کیا
”بس ہوگئی اے ناں مینوں پیلوں ای پتہ سی ‘ چلو خیر ہن سہی ہن کدی میرے کول آن دی کوشش وی نا کرنا“ اس نے مجھے جلی بھنی سنائیں اورپھر وہ بھی لیٹ گئی
دو چار دن بعد پھر میں نے ایسا ہی کیا اس روز تو مجھے اس کام کے لئے راضی کرنے پر کم از کم ایک گھنٹہ لگا اور اس نے اس شرط پر حامی بھری کہ اگر آج اس کو ادھورا رہنا پڑا تو وہ پوری زندگی یہ کام نہیں کرے گی لیکن حسب پلان میں نے اس کو بیچ راہ میں چھوڑ دیا اس واقعہ کے بعد راشدہ کی میرے ساتھ بول چال بھی بہت کم ہوگئی اور وہ صرف مجھے کام کی حد تک ہی بلاتی تھی اس دوران میں نے نوٹ کیا کہ وہ جب بھی کسی کام سے یا کچھ خریدنے کے لئے باہر جاتی ہے تو بہت سج سنور کر جاتی ہے اس نے بریزئیر بھی اپنے سائز سے ایک نمبر کم پہننا شروع کردیا تھا اور کپڑے بھی چست پہننے لگی تھی وہ ہر وقت سجی سنوری رہتی لبوں پر ہلکی سی لپ سٹک‘ ناخنوں پر نیل پالش لگائے رکھتی تھی چند روز بعد مجھے ایک دفتری کام کے سلسلہ میں اپنے دو سینئرز کے ساتھ ایک ہفتہ کے لئے کراچی جانا پڑا جس کے لئے ایڈوانس میں ریلوے کی اے سی سلیپر(اے سی کی بوگی ہوتی ہے جس میں مختلف کمرہ نما کیبنبنے ہوتے ہیں ایککیبن میں زیادہ سے زیادہ چار لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کیبن میں سونے کے لئے بیڈ بھی بنا ہوتا ہے اس کیبن میں اٹیچ باتھ ہوتا ہے پاکستان میں چند لمبے روٹوں کی ٹرینوں میں یہ کیبن ہیں) میں تین سیٹیں بک کرائی گئیں لیکن ٹرین کی روانگی سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جب میں گھر میں جانے کے لئے تیار ہورہا تھا مجھے میرے ایک سینئرکا فون آیا کہ وہ دونوں نہیں جاسکیں گے اس لئے کراچی میں قیام کے لئے چونکہ ہوٹل بھی بک تھا اور ٹرین کی سیٹیں بھی بک تھیں اس لئے میرے سینئر نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنی بیوی کو ساتھ میں لے جاﺅں میں نے راشدہ سے بات کی کہ کراچی چلنا ہے تو وہ مان گئی کیوں کہ کراچی میں راشدہ کی بڑی بہن رہتی ہے میں نے اس سے کہا کہ وہ اسی بہانے اس سے بھی مل لے گی جبکہ بچوں کو اپنے میکے چھوڑ دیتے ہیں راشدہ نے فوری طور پر اپنے بھائی کو فون کیا جو آکر بچوں کو لے گیا جبکہ وہ فوراً تیار ہوگئی اس نے ایسے کپڑے پہنے کہ اس کے جسم کا انگ انگ واضح ہورہا تھا اور ہم لوگ ریلوے سٹیشن پر آگئے ٹرین آئی اور ہم لوگ اپنے کیبن میں پہنچ گئے جہاں چاروں سیٹیں خالی تھیںہم دونوں یہاں بیٹھ گئے اس کیبن میں دو نیچے آمنے سامنے بیڈ لگے ہوئے تھے اور دو اوپر آمنے سامنے بیڈ تھے میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیبن مردانہ ہے اور چوتھا شخص بھی یقینا مرد ہی ہوگا اور اگلے کسی سٹیشن پر کیبن میں آجائے گا میں نے یہ سوچ کر کیبن میں گھستے ہی اندر سے اس کو لاک کیا اور راشدہ کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کردی کہ اگر چوتھا مسافر جوان مرد ہوا تو آج میری خواہش پوری ہوسکتی ہے راشدہ نے پھر سے مجھے کوسنا شروع کردیا لیکن میں نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی جاری رکھی لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی رکی تو کیبن کے دروازے پر کسی نے دستک دی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک ہینڈ سم لڑکا جس کی عمر بیس بائیس سال کے قریب تھی پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سفری بیگ پکڑے کھڑا تھا
”میری یہاں سیٹ بک ہے“اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا
”جی آئیے آئیے“ میں نے اس کو راستہ دیتے ہوئے کہا
وہ کیبن میں داخل ہوا اور میری بیوی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ”سوری آپ میری وجہ سے تنگ ہوں گے ابھی ٹکٹ چیکر آتا ہے تو میں اس سے کہہ کر کیبن چینج کروا لیتا ہوں
نہیں نہیں ہم لوگ ڈسٹرب نہیں ہوں گےتم آرام سے بیٹھو ہمیں تم سے کوئی پریشانی نہیں بلکہ تم سے گپ شپ ہوتی جائے گی میں نے اس کو کہا جس پر وہ میری بیوی کے سامنے بیٹھ گیا جبکہ میں راشدہ کے ساتھ بیٹھ گیا اور ہم لوگوں نے آپس میں باتیں شروع کردیں پہلے تعارف ہوا پھر باہمی دلچسپی کی باتیں ہونے لگی اور سیاست تک آگئی جس میں گرما گرم بحث ہونے لگی میں نے نوٹ کیا کہ راشدہ اس لڑکے جس نے اپنا نام راحیل بتایا تھا کو بہت دلچسپی سے دیکھ رہی ہے بحث کے دوران بھی وہ اسی کی سائیڈ لے رہی تھی اس نوجوان کا قد تقریباً چھ فٹ کے قریب ہوگا اور جسم کافی فٹ چہرہ کلین شیوہ اور بات چیت میں سلجھا ہوا تھا
راشدہ اس میں کافی دلچسپی لے رہی تھی اور میں سمجھ گیا کہ وہ کیا چاہتی ہے جس پر میں بھی خوش ہوگیا کہ آج میری عرصہ پرانی خواہش پوری ہونے جارہی ہے تھوڑی دیر بعد میں اٹھ کر باتھ روم چلا گیا واپس آیا تو دونوں کسی بات پر آپس میں ہنس رہے تھے میں ان کے پاس آکر اخبار لے کر بیٹھ گیا اور ان کو گفتگو کا موقع فراہم کردیا وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے وہ دونوں ایک دوسرے کی کمپنی سے کافی محظوظ ہورہے تھے میں نے نوٹ کیا کہ راحیل بھی راشدہ میں کافی دلچسپی لینے لگا ہے گاڑی ساہیوال پہنچی تو رات کے نو بج چکے تھے میں اٹھ کھڑا ہوا اور اوپر والا بیڈ سیدھا کرکے اس کے اوپر چڑھ کر لیٹ گیا میں نے ان دونوں سے کہا کہ میں سونے لگا ہوں آپ لوگ باتیں کرو جب سونا ہولائٹ آف کردیجئے گا مجھے نیند کہاں آرہی تھی میں تو ان دونوں کو تنہائی کے لئے موقع فراہم کررہا تھاراشدہ اس کے ساتھ اردو اور پنجابی کو مکس کرکے باتیں کررہی تھی جس کو راحیل انجوائے کررہا تھا
 تم گانے شانے پسند کرتے ہو“راشدہ نے اچانک باتیں کرتے کرتے اپنے بیگ سے اپنا بلیک بیری فون اور ہینڈ فری نکالتے ہوئے اس سے پوچھا
جی ہاں میوزک تو مجھے بہت پسند ہے ‘ اس نے جواب دیا
کون سے گانے پسند ہیں ‘ راشدہ نے اس سے پوچھا
پرانے گانے اور پاپ میوزک زیادہ سنتا ہوں‘ اس نے جواب دیا
چلو پھر تم ہی اس میں سے کوئی گانا نکال کے اس کو چلا لو مجھے تو اس میں سے گانا نکالنا نہیں آتا اور دونوں سنتے ہیں‘ راشدہ نے موبائل راحیل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
راحیل نے ابرار الحق کا گانا ”اساں تے جاناں اے بلو دے گھر“ لگا دیا
یار تھوڑی سی آوازکم کردو یا ہینڈ فری لگا لو میں سورہا ہوں‘ میں نے بے زاری سے اوپر سے آوازدی
چلو تہانوں کی ہوگیا اے تسی چپ کرکے لیٹے رہو تہانوں تے ایویں ای ہر گل توں چڑ چڑدی رہندی اے‘ راشدہ نے اوپر منہ کرکے مجھے کہا جواب دیا
یار کسے دے آرام دا خیال وی کرلئی دا اے توں ہینڈ فری نال گانے سن لے‘ میں نے جان بوجھ کر ہینڈ فری کا نام لیا تاکہ راشدہ اور راحیل ایک ہی بیڈ پر بیٹھ جائیں
لو جی اسیں ہینڈ فری لا لینے آں تسی آرام نال ستے رہو‘ راشدہ نے ہینڈ فری لگاتے ہوئے کہا
راحیل میں ادھر بیٹھتی ہوں اک ٹوٹی میں لگا لیتی ہوں اور دوجی تم اپنے کانوں کو لگا لو‘ راشدہ فوری طورپر اپنی جگہ سے اٹھی اور راحیل کے ساتھ بیٹھ کر ہینڈ فری کی ایک تار راحیل کے کان میں لگاتے ہوئے بولی
اب میں اوپر لیٹے لیٹے ان دونوں بیٹھے دیکھ سکتا تھا پہلے راشدہ اس جگہ بیٹھی تھی جہاں میں اوپر لیٹا ہوا تھا
یہ گانا نہی ٹھیک کوئی ہور گانا لگاﺅ ناں‘ راشدہ نے اپنے کان سے ہینڈ فری نکالتے ہوئے راحیل کی طرف کی اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ اس کی ٹانگ پر دے مارا
آپ کون سا گانا سننا پسند کروگی‘ راحیل نے اس سے پوچھا
میرے موبائل میں تو صرف گانے ہیں فلم نہیں چلتی تمہارے پاس موبائل میں ایسے گانے ہیں جن میں ساتھ میں فلم بھی چلتی ہو‘ راشدہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا فون پکڑ کر دوسری طرف رکھتے ہوئے کہا
ہاں ہیں ناں آپ بتاﺅ کون سا گان سنو گی‘ راحیل نے اپنی جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا
کوئی اچھا سا ہو جس میں ڈانس بھی ہو‘ راشدہ نے اس سے کہا
راحیل نے اپنے موبائل پر کوئی گانا لگایا اور اپنے موبائل کی ایک ہینڈ فری راشدہ کو دی جس نے اسے اپنے کان میں لگا لیا اور اس کے ساتھ ہوکر بیٹھ گئی اور موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنے اور اس کے درمیان میں کرلیا جیسے ہی راشدہ اس کے ساتھ لگی راحیل نے ایک بار راشدہ کی طرف غور سے دیکھا جو موبائل میں مگن تھی پھر اس نے بھی اپنی نظریں موبائل کی طرف لگادیں
میں اوپر سے دیکھ رہا تھا کہ گانا سنتے سنتے راشدہ گھسک گھسک کر راحیل کے مزید پاس ہونے کی کوشش کررہی تھی گانا ختم ہوا تو راشدہ نے موبائل اس کو دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے موبائل میں کوئی فلم نہیں ہے
کون سی فلم‘ راحیل نے اس سے پوچھا
کوئی انگریزی ٹائپ کی ‘ راشدہ نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا
ہے دیکھو گی آپ ‘ راحیل شائد اس کا مطلب سمجھ چکا تھا کہ وہ کون سی انگریزی ٹائپ کی فلم دیکھنا چاہتی ہے اس لئے وہ تھوڑا سا مسکرایا اور اس سے پوچھا
ہاں ہاں لگاﺅ ناں ‘ راشدہ نے بھی اس کی آنکھوں میں جھانکا اور جواب دیا
راحیل نے اپنا موبائل پکڑا اور پھر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگا چند لمحے بعد اس نے ”مطلوبہ فلم“ ڈھونڈ لی اور اس کو پلے کرکے موبائل راشدہ کی طرف بڑھا دیا
ہائے میں مر جاواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تے تیرے کول ایہو جئیاں فلماں وی ہیں‘ راشد نے موبائل اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہااب وہ پیور پنجابی میں بات کرنے لگی تھی
راحیل نے فوراً اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور کہنے لگا سوری میں نے غلطی سے لگا دی میں کوئی اور لگاتا ہوں ۔
نئی ایہو ای رہن دے بڑی چنگی لگدی اے مینوں ‘ راشدہ نے موبائل راحیل سے چھینتے ہوئے کہااور پھر اس فلم میں مگن ہوگئی پہلے اس نے موبائل اپنے سامنے رکھا تھا پھر اس نے موبائل اپنے اور راشد کے درمیان میں کرکے اس سے کہا ”توں وی تے ویکھ ناں میں ایویں کلی کلی ویکھی جارہی آں“
راحیل بھی فلم دیکھنے لگا میں نوٹ کررہا تھا کہ فلم دیکھتے ہوئے راشدہ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دکھائی دے رہی تھی جبکہ راحیل کی پینٹ کے درمیان میں کوئی چیز ابھر کر واضح ہوچکی تھی اس دوران راحیل نے اپنا ایک ہاتھ راشدہ کی ٹانگ پر رکھ دیا راشدہ نے ایک نظر اس کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے پھر سے فلم دیکھنے لگی اب راحیل نے اپنا ہاتھ راشدہ کی ٹانگ پرپھیرنا شروع کردیا اب راشدہ نے موبائل اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اپنا ایک ہاتھ راحیل کے گلے میں ڈال لیا اور اس کو اپنے مزید قریب کرلیاراحیل نے اس کے ہاتھ سے موبائل لیااور اس کو سائیڈ پر رکھ کر ایک نظر میری طرف دیکھا میں نے اپنی آنکھیں اس طرح موند لیں جیسے کہ میں سویا ہوا ہوں پھر اس نے راشدہ کو بیٹھے بیٹھے ایک بڑی سی جپھی ڈالی
فلم ویکھن دے ناں کنی چنگی فلم اے‘ راشدہ نے اس کی گود میں تقریباً لیٹ کر دوسری طرف پڑا موبائل پکڑنے کی کوشش کی اور پھر سے موبائل پکڑ کر فلم دیکھنے لگی کچھ دیر بعد فلم ختم ہوگئی تو راشدہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کوئی ہور فلم نئی ایس توں وی چنگی ہووے‘
نہیں ایک یہی تھی ‘ راحیل نے اسے جواب دیا اس کے ہات سے موبائل پکڑا اور دوسری طرف رکھ کر اس کو ایک بار پھر گلے لگا لیا اب کی بار راشدہ نے بھی اسے گرم جوشی سے جواب دیا تھوڑی دیر بعد راشدہ نے پیچھے ہوکر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے پھر راحیل نے بھی اسے کسنگ شروع کردی اور وہ دونوں دس پندرہ منٹ تک ایک دوسرے کے منہ میں منہ ڈالے ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رہے
ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔دروازے پر کسی نے دستک دی
دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے راحیل نے اٹھ کر دروازہ کھولا
ٹکٹ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے ٹکٹ چیکر کھڑا تھا راحیل نے اپنی جیب سے ٹکٹ نکال کر اس کو دکھایا اور پھر راشدہ کی طرف دیکھنے لگا راشدہ نے اٹھ کر مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا
ٹکٹ کتھے جے ‘ سونا ای سی تے ٹکٹ مینو دے دیندے ایویں آپے وی پریشان ہوندے جے تے دوجیاں نوں وی پریشان کررہے جے‘
میں نے اس کو اپنی جیب سے ٹکٹ نکال کر دیئے ٹکٹ چیکر نے ٹکٹ چیک کئے اور چلا گیا راحیل نے دروازہ لاک کیا اور میرے نیچے والے بیڈ پر بیٹھ گیا جبکہ راشدہ دوسری طرف والے بیڈ پر بیٹھی تھی دس پندرہ منٹ تک دونوں خاموش رہے پھر راشدہ اٹھ کر اس کے پاس اسی بیڈ پر آگئی جس پر راحیل بیٹھا تھا
پلیز آپ کے شوہر جاگ رہے ہیں وہ دیکھ لیں گے‘ راحیل نے سرگوشی سے کہا
اب میں ان دونوں کو نہیں دیکھ پا رہا تھا کہ دونوں کیا کررہے ہیں چند منٹ تک پھر خاموشی رہی
چم م م م م۔۔۔ام م م م۔۔۔ اب شائد دونوں کسنگ کررہے تھے
ہائے میں مر جاواں ایڈاا وڈا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے راشدہ کی آواز آئی اور پھر خاموشی ہوگئی چند منٹ تک خاموشی رہی
چل اینو ڈیڈ گھٹنی(پینٹ) نوں لا دے ‘ راشدہ نے کہا
آپ کے خاوند ابھی جاگ رہے ہوں گے وہ دیکھ لیں گے
ویکھے گا تے آپے شرم نال اکھاں بند کرلے گا اوناں دا تے ایس نالوں چھوٹا اے ‘ راشدہ کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تو میرا لن پوری طرح کھڑا ہوگیا اس کا مطلب تھا کہ راحیل کالن میرے لن سے زیادہ لمبا ہے میں اس کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن میں نہ اٹھا تاکہ وہ دونوں ڈسٹرب نہ ہوں
اور پھر چند منٹ تک خاموشی رہی اور مجھے پینٹ اترنے کی آواز آئی پھر راشدہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور اس نے اپنی شلوار اورقمیض اور پھر بریزئیر اتار دیا اورپھر وہ نیچے بیڈ گئی اب میںپھر کچھ نہیں دیکھ پا رہا تھا
اینو وی لا دے ‘ راشدہ نے کہا
پھر کسنگ کی آواز آنے لگی
ایڈا وڈا کوئی کڑی لے سکدی اے‘ راشدہ کی آواز آئی
میں نے کبھی کسی کو دیا نہیں ‘ راحیل نے آہستہ آواز میں کہا
تمہارے شوہر کا اس کے مقابلے میں کتنا ہے‘ چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد راحیل کی آہستہ سے آواز آئی
ایدا ادھا وی نئی اے‘راشدہ کی آواز آئی اور پھر خاموشی ہوگئی پھر چند سیکنڈ کے بعد کسنگ کی آواز آنے لگی تھوڑی دیر بعد” غووں غوووووں غووں “راشدہ کے ناک سے نکلنے والی آواز مجھے سنائی دی
آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ونڈر فل یو آر ڈوئنگ ویری ویل میم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راشد کی آواز آئی
چند سیکنڈ غوووں غووووں اور آہ ہ ہ ہ ہ کے بعد یک دم جیسے کوئی سیٹ سے اٹھا ہوایسے آواز آئی
اوہ بیڑا ترجے ای میرے منہ وچ ایک چھٹ گیا ایں مینوں دس تے دیندا‘ راشدہ کی آواز آئی اور ساتھ ہی مجھے راشدہ کی کمر نظر آئی جو بیڈ سے اٹھ کر گھوڑی سٹائل میں کھڑی ہوئی اس نے اپنے بیگ سے کچھ نکالا اور پھر نیچے بیٹھ گئی
ہاں ہن توں آجا۔۔۔۔۔راشدہ نے کہا
 اج انگریزی ٹائپ دا ای کجھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں اینج ای ہاں ہاں اینج ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا جیا ہور اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔۔۔انگلیاں نال تھوڑا جیا کھول لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہاں اف ف ف ف ف ف ف ف ف ف میں گئی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ساتھ میں شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اف ف ف ف ف ۔۔۔۔۔۔شڑپ شڑپ۔۔۔۔ہور تھوڑا جیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینج ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہو ایسے طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیزی نال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی جیب تھوڑی ہور اگے لے جا۔۔۔شڑپ شڑپ ۔۔۔۔۔۔۔آہ بس بس س س س س ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں چلی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔شڑپ۔۔۔۔۔۔۔میں گئی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہووووووووو ۔۔۔۔ساتھ ہی راشدہ کا والیم کم ہوگیااور پھر مکمل خاموشی ہوگئی میں اس وقت اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑے ایک سائیڈ کومنہ کرکے لیٹا ہوا تھا میرا لن اب فل موڈ میں تھا تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر سے کسنگ کی آواز آنے لگی
توں میرے اتے اینج آجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی توں اپنا منہ اودھر کرلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ہن ٹھیک اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کی آواز آئی اور پھر چند سیکنڈ بعد راشدہ نے ہی بس س س س کہا اور پھر خاموشی
مزہ آیا۔۔۔۔۔راحیل نے پوچھا
کوئی تھوڑا بہت اینج دا ساری زندگی نئی آیا اور پھر خاموشی
ہن آوی جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کی آواز آئی اور پھرچند سیکنڈ کی خاموشی
خیر اے نہی اٹھدا اگر اٹھ وی جاوے تے پرواہ نہ کریں توں کم چالو رکھیں ۔۔۔۔۔۔راشد ہ کی آواز آئی
پہلوں تھوڑا آہستہ کریں فیر بھاویں جینویں مرضی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی میری لتاں اجے ایتھے ای رہن دے۔۔۔۔ٹھیک اے آہ ہ ہ ہ ہ تھوڑا آہستہ دھیان ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے میں مر گئی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہولی مرجانیاں ہولی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مینوں مارنا ای ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیچے سے آوازیں آنے لگیں اور میں نے مٹھ لگانا شروع کردی شادی کے بعد میں آج پہلی بار مٹھ لگا رہا تھا میرا دل کررہا تھا کہ میں اٹھ کر نیچے اتر کر دونوں کو دیکھوں لیکن میں نے ایسا نہ کیانیچے سے
ہائے ئے ئے ئے ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تکلیف تو نہیں ہورہی ۔۔۔۔۔۔۔۔نہی توں لگا رے ے ے ے ے۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔میں مر ررر گئی ۔۔۔۔۔۔زیادہ تکلیف تو نہیں ہورہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی تو لگا رے ے ے ے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوںںںںںںںںںں۔۔۔۔۔۔گاڑی کے ہارن کی آواز میں سب کچھ دب گیا پھر آہو ہور زور نال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لتاں اوتے کرلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو ایتھے ای ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سٹ زور دی مار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہور زور نال ۔۔۔۔۔۔۔۔ان آوازوں کے ساتھ ہی میری مٹھ مارنے کی رفتار بھی تیز ہوگئی میں فارغ ہوگیا لیکن نیچے سے ابھی بھی آوازیں آرہی تھی چند منٹ تک ایسے ہی چلتا رہا
میں آنے لگا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں دو وار آگئی آں توں وی آجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی کپڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی کرنا ای۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آنے والا ہوں منی صاف کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی توں اندر ای آجا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا لن پھر سے حرکت میں آنے لگا میں نے اس کو پکڑ کر پھر سہلانا شروع کردیا
آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ کے گہری سانس لینے کی آواز آئی اور پھر خاموشی میں مٹھ مارتا مارتا رک گیا میرا ہاتھ تھک چکا تھا
گڈی پتہ نئی کتھے اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ نوں دل کرریا اے گڈی رکے تے لے آویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کپڑے پہن لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کی کرنے نے کپڑے پا کے گڈی رکے گی تے پا لویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایڈا وڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توں تے مینوں مار دین لگا سیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری بڈی تے پہلی رات مرجاوے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر خاموشی چند سیکنڈ بعد پھر کسنگ
گاڑی کی رفتار آہستہ ہونے لگی اور ساتھ ہی پوووووووں ہارن کی آواز آئی
گڈی کتھے کھلون لگی اے توں کپڑے پا لے تے چاہ لے کے آہ بڑا جی کردا اے اور پھر مجھے راحیل کا سر نظرآیا
آپ بھی پہن لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیر لانے پین گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہن لیں پھر اتار لینا
نہی میں اینج ای ٹھیک آں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے لئے لانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی ستا مریا رہن دے اینوں ہور نویں مسیبت کیوں گل پائےے۔۔۔۔۔
لے آتا ہوں ان کے لئے بھی پی لیں گے
چل لے آ ۔۔۔۔۔۔۔تن کپ لے آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
 تھوڑی دیر بعد گاڑی کھڑی ہوگئی اور کیبن کا دروازہ کھلا اور پھر ٹھک۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ پینی جے ۔۔۔۔۔ راشدہ نے مجھے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا
ہووووں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
ایویں ڈرامے نہ کرو تے دسوں چاہ پینی جے یا نئی راحیل لین گیا اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوووووں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تے تسی ستے ہووے اوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تے فیر ایے کی اے۔۔۔۔۔راشدہ نے میرا کھڑا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہااس نے میری چوری پکڑ لی تھی میں اٹھ کر بیٹھ گیا
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ پینی جے کے نہی۔۔۔۔۔۔
کتھے اے چاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل لین گیا اے ۔۔۔۔۔تن کپ منگوائے نیں پینی جے تے اٹھ جاﺅ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اٹھ کر نیچے آگیا جس بیڈ پر دونوں تھوڑی دیر پہلے مصروف تھے اس پر مردانہ بنیان انڈویئر اور راشدہ کا بلیک کلر کا بریزئیر پڑا ہواتھا اوروہ اس پر تھوڑ ی سی جگہ گیلی بھی ہوچکی تھی جبکہ دوسرے بیڈ پر جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پڑی تھی جو راحیل نے گاڑی میں سوار ہوتے وقت پہنی ہوئی تھی اچانک ٹھک سے دروازہ کھلا اور راحیلٹرے پکڑے اندرداخل ہوگیا جس بیڈ پر دونوں بیٹھے تھے میں اس کے سامنے والے بیڈ پر بیٹھ گیا راحیل میرے ساتھ آن بیٹھا اس نے اس وقت ٹراﺅزراور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا
“یہ کپڑے کس کے ہیں” میں نے سامنے والے بیڈ پر پڑی بنیان‘ انڈروئیر اور بریزئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
”اوہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔میں کپڑے بدلے سن“راشدہ نے پہلے راحیل اور پھر میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر کہا
تے بنیان کدی اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ راحیل نے وی کپڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راشدہ کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی راحیل کی طرف دیکھ کر اس کی بات کاٹ دی راحیل تھوڑا سا شرمندہ ہوگیا
یہ چائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیجئے ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایک کپ میری طرف اور دوسرا راشدہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہامیں نے اور راشدہ نے اس کے ہاتھ سے کپ پکڑ لئے اور چسکیاں لینے لگے
گاڑی کہاں پہنچی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راحیل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ابھی رحیم یار خان رکی تھی میں چائے لے کر آیا ہوں راحیل نے جواب دیا
ابھی تو پنجاب بھی کراس نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں سو سو کر تھک گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایک نظر راشدہ کی طرف ڈالتے ہوئے کہا
پھر ہم تینوں چائے پیتے باتیں کرتے رہے چائے پینے کے بعد راشدہ نے مجھے کہا
تسی سونا ا ے تے اتے چڑ جاﺅ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی میں نیند پوری کرلئی اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک اے میں تے کیندی سی تسی کل فیر کراچی کم تے نکل جانا اے تھکاوٹ نہ ہوجاوے۔۔۔۔۔۔
نہی ہوندی ۔۔۔۔۔۔۔توں سونا اے تے سوں جا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی مینوں تے نیند نہی آرہی ۔۔۔راشدہ نے جواب دیا
تم نے سونا ہے تو اوپر جاکر سوجاﺅ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے راحیل سے کہا جس پر وہ اٹھ کر اوپر والے بیڈ پر جالیٹا اور میں راشدہ کے پاس اس کے ساتھ جا بیٹھا
تھوڑی دیر بعد میں نے راشدہ کو چھیڑنا شروع کردیا اور اس کو گلے لگا لیا پھر کسنگ شروع کردی ۔
چھڈدیو مینوں ۔۔۔۔۔۔۔۔فیر تسی نس جاناں اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہی نسدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینوں پتہ اے نہی نسدا ااااا۔۔۔۔۔۔۔۔راشدہ نے مجھے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہامگر میں نے پھر اس کو گلے لگا لیا اور زبردستی کرنا شروع کردی جس پر وہ میرا ساتھ دینے لگی اور پھر میری طرف سے کم اور راشدہ کی طرف سے زیادہ گرم جوشی ہوگئی میں نے اس کے کپڑے اتار دئیے اور پھر اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا کر اس کو چودنے لگا اس دوران میں نے اوپر دیکھا تو راحیل نیچے کو دیکھ رہا تھا میں رکا تو راشدہ نے بھی اسے دیکھ لیا
تووں وی تھلے آجا ویکھنا اے تے کول آکے ویکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل بھی نیچے آگیا اور سامنے والے بیڈ پر بیٹھ گیا اس نے اپنا ہاتھ ٹراﺅزر پر رکھ لیا میں نے چدائی شروع کردی میں نے راحیل کی طرف ذرہ بھی دھیان نہیں دیا کہ وہ کیا کررہا ہے جبکہ راشدہ بھی آنکھیں بند کئے لیٹی آہءہ ہ ہ ہاف ف ف ف ہور زور نال ہور زور نال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہ ہ ہ ہ کررہی تھی چدائی کے دوران راشدہ دو بار پہلے اور ایک بار میرے ساتھ فارغ ہوئی میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور ہم دونوں گہرے سانس لینے لگے جب میرا دھیان راحیل کی طرف پڑا تو وہ مٹھ لگا رہا تھا اور چند سیکنڈ بعد وہ بھی چھوٹ گیا اس کی منی فرش پر گر رہی تھی اس نے اپنا ٹراﺅزر اوپر کیا اور وہیں پر بیڈ پر ٹیک لگا کر لیٹ گیا رات کے تین بجے تک ہم لوگ اسی حالت میں رہے پھر مجھے نیند آنے لگی میں نے دیکھا کہ راحیل بھی سوچکا ہے میں اٹھا اور اوپر جاکر سو گیا میری آنکھ کھلی تو نیچے سے راشدہ کی آہ ہ ہ ہ ہ ہ اف ف ف ف ف کی آواز آرہی تھی میں نے نیچے دیکھا تو راشدہ گھوڑی بنی ہوئی تھی اور راحیل پیچھے سے جھٹکے دے رہا تھا چند سیکنڈ بعد ہی وہ راشدہ کے اندر ہی فارغ ہوگیا اور پھر اس کا دھیان میری طرف پڑا
آپ کب اٹھے
جب سے آپ لگے ہوئے ہو۔۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جس پر وہ بھی اور راشدہ بھی ہنسنے لگی اس کے بعد تینوں نے کپڑے پہن لئے اس وقت دوپہر صبح کے دس بج رہے تھے اور گاڑی حیدرآبد پہنچنے والی تھی حیدرآباد گاڑی رکی تو راحیل چائے اور بسکٹس وغیرہ لے آیا ہم نے ناشتہ کیا اور پھر کراچی تک ہم تینوں باتیں کرتے رہے اترتے ہوئے راحیل نے راشدہ کا اور میرا نمبر لیا اور پھر اپنا نمبر دے کر چلاگیا ہم لوگ پلیٹ فارم پر اترے تو سامنے راشدہ کا بہنوئی کھڑا تھا وہ ہمیں لے کر گھر چلا گیا اگلے تین روز تک میں بزی رہا اور چوتھے روز ہم لوگ ہوائی جہاز سے واپس لاہور آگئے گھر پہنچ کر رات کو میں نے بستر پر راشدہ کو چھیڑ خانی کی اس نے پھرمنع کیا لیکن میں باز نہ آیا اور ہم نے بھرپور سیکس کیا جب فارغ ہوگئے تو راشدہ کہنے لگی
پیلوں تہانوں کی ہوگیا سی ۔۔۔۔۔۔اے کھڑا ای نہی ہوندا سی ‘ راشدہ نے میرے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جے اے پیلو کھڑا ہوجاندا تے فیر انگریزی ٹائپ دا سیکس کینویں ہوندا‘ میں نے اس کومسکراتے ہوئے جواب دیا اور وہ میری چھاتی پر مکا مارتے ہوئے میری چھاتی سے لگ گئی اس کے بعد ہم لوگ پھر سے پرانی روٹین پر آگئے اور بھرپور طریقے سے سیکس کرنے لگے
پندرہ دن گزرنے کے بعد ایک دن رات کے وقت جب ہم لوگ ہم بستری سے فارغ ہوکر لیٹے ہوئے تھے راشدہ کے موبائل پر راحیل کا فون آگیا اس نے ملنے کے لئے کہا راشدہ نے اس کو منع کردیا میں نے اس سے کہا کہ اس کوبلا لیتی تو کہنے لگی
جدوں دیسی ٹائپ دا سیکس ای دل راضی کردیو تے انگریزی ٹائپ دے سیکس نوں کی کرناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The post دیہاتی بیوی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-2/feed/ 0
تڑپتی پھڑکتی جوانیاں 3 https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-3/#respond Thu, 18 Dec 2025 06:49:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-3/   میں سو کر اٹھا تو میرے ذہن پر ندامت چھائی ہوئی تھی میں نے کتنا غلط کیا تھا۔ نصرت کا مان توڑ دیا تھا یہ مجھ سے بہت غلط ہوا تھا پر جو ہونا تھا ہو گیا اب کیا کیا جا سکتا تھا اگلے دو دن میں اس سب سے نکل نا پایا پھر […]

The post تڑپتی پھڑکتی جوانیاں 3 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں سو کر اٹھا تو میرے ذہن پر ندامت چھائی ہوئی تھی میں نے کتنا غلط کیا تھا۔ نصرت کا مان توڑ دیا تھا یہ مجھ سے بہت غلط ہوا تھا پر جو ہونا تھا ہو گیا اب کیا کیا جا سکتا تھا اگلے دو دن میں اس سب سے نکل نا پایا پھر آہستہ آہستہ ٹھیک ہونے لگا مجھے افسوس تھا کہ ایک اچھا تعلق بگڑ گیا تھا مجھ سے اب نصرت کی طرف جانے کی ہمت نہیں تھی میں اگلا پورا ہفتہ گاؤں نہیں گیا اگر جانا ہوا بھی تو اپنا کام نمٹا کر واپس آگیا مجھے لگا کہ سب کچھ ہی اب تو ختم ہوگیا تھا کیونکہ ان کی طرف سے بھی کوئی رابطہ نہیں کر رہا تھا میں پریشان تھا میں بھی اب سب کچھ بھلانا شروع کردیا پریشان رہ رہ کر اب کوفت ہونے لگی تھی لیکن میری ہمت نہیں تھی اب واپس ان کی طرف جانے کی ایک دن حسب معمول گاؤں گیا میں گاؤں میں اپنا کام کرکے کسی سے ملنے پیدل ہی جا رہا تھا میں نے ایک بازار سے دوسرے میں جیسے ہی مڑا تو سامنے آنٹی کے ساتھ دو لڑکیاں نقب میں میرے سامنے تھیں میں تینوں کو دیکھ کر چونک کر رک گیا۔ میری نظر آنٹی پر پڑی میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آنٹی کے ساتھ چلتی دونوں نصرت اور مدثرہ تھیں میں نے ان کو دیکھا تو دونوں گہری مدہوش آنکھوں سے مجھے ہی غور رہی تھیں ان کے یوں غورنے سے میں گھبرا سا گیا آنٹی بولی میرا پتر کی حال اے میں بولا ٹھیک مٹی تسی سناؤ وہ بولی اسی تے ٹھیک آن توں سنا غائب ہی ہویا ودا ایں بڑے دن ہو گئے آیا ہی نہیں میں نے نظر اٹھا کر نصرت کی طرف دیکھا تو نصرت آنکھیں پھاڑے مجھے کھا جانی والی نظروں سے غور رہی تھی میں یہ دیکھ کر تھوڑا گھبرایا نصرت کے چہرے پر نقاب تھا لیکن اس کی آنکھیں میں عجیب سی وحشت تھی میں گھبرا رہا تھا مدثرہ بھی آنکھیں پھاڑے مجھے ہی غور رہی تھی میں بولا بس تھوڑا مصروف ہاں اس تو نہیں آ پایا۔ مدثرہ بولی افی آگے وی توں مصروف ہوندا ہائیں چکر ضرور لیندا ہائیں ایسی کی گل ہوئی کہ توں واپس آی ہی نہیں یہ بات کہ کر مدثرہ نصرت کی طرف آنکھ گھما کر دیکھا اور ہنس دی نصرت بھی ترچھی آنکھ سے مدثرہ کو غورا اور مسکرا دی میرا دل تو دھک دھک کر رہا تھا کہ نصرت بہت ناراض ہوگی پر اس کے چہرے پر کچھ تاثر نہیں تھا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جو ہوا اگنور کر گئی تھی پھر بھی مجھے خیال آیا کہ شاید اس نے کسی کو بتایا نہیں اور اب یہاں پر بھی میرا راز رکھ رہی ہے مدثرہ نے نصرت کو مسکرا کر کہا کیوں نصرت اور ہلکی سی کہنی نصرت کو مار دی میں نصرت اور مدثرہ کی شرارتوں سے پریشان بھی ہو رہا تھا کہ پتا نہیں کیا کچھڑی پک رہی ہے۔ نصرت نے مسکرا کر مدثرہ کو ترچھی نگاہوں سے دیکھا اور بولی اس نوں آکھیا تے کسے کجھ نہیں ہے۔ اے اپنے کولو ہی رزلٹ کڈھی ودا اے یہ کہ کر دونوں بہنوں نے آنکھیں بھر کر مجھے غورا تو دونوں کی آنکھوں میں عجیب مستی بھری تھی جسے دیکھ کر میں شرما سا گیا نصرت نے مجھے شرماتا دیکھ کر مدثرہ کو کہنی ماری اور دونوں مسکرا دی میں ان کو دیکھ کر تھوڑا پزل سا ہوا آنٹی بولی وے دس تے سہی کی ہویا ہے میں بولا آنٹی کجھ نہیں ہویا وت آندا کیوں نہیں میں بولا میں بولا آساں گیا نصرت مجھے غورتی ہوئی بولی جی نہیں آساں نہیں گیا ہنڑ چل سادے نال گھر میں چونک کر بولا ہن تے میں کسے کم جاؤ آں مدثرہ بولی کم فر کر لئیں ہنڑ چل سادے نال میں کشمکش میں تھا آنٹی بھی بولی چل کجھ کھا پی لئے وت کم کر پئیں نصرت اور مدثرہ دونوں نے مجھے غورا میں بھی سوچا کہ آنٹی ساتھ ہے اگر کوئی ایسی ویسی بات ہے بھی تو نصرت کچھ نہیں کہے گی میں یہ سوچ کر ساتھ چل پڑا وہ بھی کہیں ہمسائی کی طرف سے آ رہی تھی ہم جیسے ہی گھر پہنچے تو سامنے مجھے زرناب پر نظر پڑی میں تو چونک گیا مجھے اس دن زرناب کے ساتھ گزرے لمحات یاد آگئے میں اسے ایک نظر بھر کر دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرا گئی نصرت اور مدثرہ میرے آگے تھیں نصرت نے منہ پھیر کر مجھے دیکھا میں نے آنکھیں نصرت کی طرف گھمائیں تو نصرت گہری آنکھوں سے مجھے غور رہی تھی میں شرمندہ ہو ہر منہ نیچے کر گیا اتنے میں ہلکی سی نصرت اور مدثرہ کی ہنسی سنائی دی میں نے اوپر دیکھا تو وہ آپس میں دیکھ کر کچھ پھس پھسا کر ہنس دیں میں شرمندہ ہوگیا وہ دونوں اندر چلی گئیں میں آنٹی کے پاس ہی صحن میں بیٹھ گیا آنٹی بولی اگلے دن توں نوشی دے کاغذ بنانے دا آکھیا ہا وت کی بنیا میں بولا آنٹی او مینوں ملے میں اسدا کم کر دیساں گیا آنٹی نے اونچی آواز میں نصرت اور مدثرہ کو چائے کا کہا اتنے میں اندر سے مدثرہ نکلی تو میں اسے ہی دیکھتا رہ گیا مدثرہ نے نیچے جینز کی پینٹ ڈال رکھی تھی جس میں اس کی ٹانگیں اور گانڈ پھسی ہوئی صاف دکھ رہی تھیں میں تو اس کو ہی غورنے لگا مدثرہ نے اوپر ایک وائٹ شرٹ ڈالی ہوئی تھی جس پر ریڈ پھول کے ڈیزائن بنے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہے تھے مدثرہ کی شرٹ رانوں سے اوپر تک تھی مدثرہ دوپٹہ کے بغیر تھی مدثرہ نے چوٹی پر بالوں کو پونی لگا کر بال کھلے چھوڑ رکھے تھے جس سے مدثرہ بہت ہی سیکسی لگ رہی تھی مدثرہ کیچن ہے دروازے پر پہنچی اور گھوم کر مجھے دیکھا مدثرہ کی مدہوش آنکھوں سے مستی چھلک رہی تھی مدثرہ نے غور کر مجھے دیکھا اور اپنی بالوں کی چوٹی کو ہاتھ سے اٹھا کر اپنے آگے بڑے بڑے مموں پر رکھا اور مسکرا کر مجھے دیکھتی ہوئی کیچن میں گھس گئی میں تو یہ نظارہ دیکھ کر مست ہی ہو چکا تھا ساتھ ہی میں چوکنا بھی ہوا کہ آنٹی بیٹھی تھی میں نے آنٹی کو دیکھا تو وہ اپنے دھیان میں تھی میرا دل مطمئن سا ہوا آنٹی نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو آنٹی کی آنکھوں میں عجیب سی کشمکش تھی اور چہرے پر اضطراب تھا میں سب سمجھ گیا کہ آنٹی نے مجھے مدثرہ کو غورتے دیکھ لیا ہے میرا دل دھک دھک کرتا بند ہونے لگا میں نے گھونٹ بھر کر آنٹی کو دیکھا انٹی اور میری نظریں ملیں تو آنٹی مجھ سے نظر ملا نا پائی اور آنکھیں چرا لیں میں سب سمجھ گیا میں دل ہی دل میں بولا کہ اففف کیا بلنڈر پہ بلنڈر ہورہا ہے۔ لگتا ہے اس گھر سے پکے پکے برتن اٹھیں گے میرے میں سوچنے لگا کہ کیا کروں میرا منہ نیچے ہی تھا کہ اتنے میں اندر سے نصرت آئی میں اپنے آپ میں گم تھا مجھے اس کے آنے کا پتا نہیں چلا نصرت آتے ہی بولی جناب کہڑی سوچاں وچ گم بیٹھے ہو میں نصرت کی بات سن کر چونک سا گیا اور آنکھ اٹھا کر دیکھا تو سامنے نصرت کھڑی تھی نصرت وائٹ شلوار قمیض میں تھی ہلکا سا کسا لباس نصرت کے بدن کو واضع کر رہا تھا نصرت کے انگ انگ کا پتا چل رہا تھا نصرت نے اپنا اٹھا ہوا سینہ اپنے دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا نصرت نے نصرت کا سر ننگا تھا اور گت نظر آرہی تھی میں نے ایک نظر نصرت کے بدن پر گھما کر نصرت کے چہرے کی طرف دیکھا تو میری نظر وہیں رک گئی نصرت مجھے مدہوش نظروں سے غورتی ہوئی مسکرا رہی تھی میں نصرت کے چہرے کو دیکھ کر مچل گیا نصرت نے ہلکا سا میک اپ کرکے لال سرخی لگا رکھی تھی جبکہ نصرت کے میں وہی کوکا چمک رہا تھا جو میں نے نصرت کو گفٹ کیا تھا میں ہکا بکا نصرت کو دیکھتا ہی رہ گیا نصرت بھی میری آنکھوں میں ایک لمحے کےلئے مستی سے غورتی رہی اور پھر دوسری چارپائی پر بیٹھ کر مسکرا کر اپنی ماں کو دیکھا جو چپ بیٹھی تھی میں تو نصرت کے حسن کی تاب نا لا پا رہا تھا لال سرخی پر گورا چہرہ ناک میں کوکا قیامت ڈھا رہا تھا میں تو مر سا گیا تھا میرا دل مچل کر باہر نکلنے کو بے تاب تھا میں نصرت کو ہی دیکھنا چاہتا تھا پر آنٹی کا لحاظ کیے خود کو قابو کرکے بیٹھا رہا نصرت بولی ہن دسو جناب اتنے دن کتھے غائب رہے ہو میں مسکرا دیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا گہری کاجل سے بھری نصرت کی آنکھیں مسکرا کر مجھے ہی دیکھ رہی تھیں نصرت کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا جیسے کوئی انجانی سی خوشی نصرت کو تھی میں کچھ سمجھ نا پا رہا تھا کہ یہ کیا ہے آنٹی بولی افی فر نوشی دا کجھ بنیا نصرت بولی اماں نوشی نوں ہنڑ افی باہر بھیجی گیا ہور کی بننا یہ کہ کر نصرت نے میری آنکھوں میں غور کر دیکھا اور ہلکی سی مسکرا گئی میں مسکرا کر منہ نیچے کر گیا آنٹی بولی نوشی روز تیرا پچھدا اے میں بولا آنٹی بس کجھ ایسا مصروف ہویا کہ ٹائم نہیں ملیا نصرت نے میری بات سن کر مجھے غورا اور مسکرا دی نصرت کے ناک میں کوکا اور ہونٹوں کی لال سرخی بہت حسین لگ رہی تھی میں چپ سا ہوگیا اتنے میں نوشی گیٹ سے اندر آیا اور مجھے دیکھ کر مسکرا دیا اس کے چہرے پر بھی خوشی اتر آئی تھی وہ چلتا ہوا میرے پاس آیا اور بولا افی بھائی کدے غائب ہو نظر ہی نہیں آئے میں بولا بس کجھ مصروف ہاس ہنڑ میں آگیا ہاں ہنڑ تیرا کم ہو جاسی اتنے میں مدثرہ چائے بھی لے کر آگئی اس نے مجھے چائے پکڑائی چائے کے ساتھ بسکٹ بھی تھے میں چائے پکڑ کر پینے لگا نوشی بولا بھائی میں پاسپورٹ اور دوسرے کاغذ بنوا لئے ہینڑ میں بولا اے تے چنگا کیتا ہئی نصرت نے مجھے غور کر دیکھا اور بولی افی ہنڑ میرے بھرا نوں کینیڈا لئے جاسیں گیا میں نے نصرت کی بات سنی اور اور چونک کر اسے دیکھا اس کے منہ پر ہلکی سی لالی اتر آئی تھی جبکہ اس کی آنکھوں میں گلابی ڈورے صاف چمک رہے تھے میں سمجھ گیا تھا پر حیران بھی ہوا کہ یہ تبدیلی کیسے اور کیوں آئی نصرت تیار کیسے ہوگئی اس سب کےلیے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا مجھے غورتا دیکھ کر ایک ادا سے بولی کی بنیا شانی کینیڈا نہیں جا سگدا میں چونک کر نظر چرا لی اور بولا نہیں نہیں جا سگدا اے شانی خود مسکرا دیا اور نصرت سے بولا سچی باجی نصرت نے ہاں میں سر ہلایا مدثرہ بولی باجی کی گل اے ایڈا چینج نصرت بولی کیوں کی ہویا مدثرہ بولی باجی اگلے دن توں منع کر رہی ہائیں آج آپ آکھ رہی ہیں باجی ہنس دی اور بولی بس ایویں میں آکھیا میرے بھرا دا جے دل ہے نصرت کے بھری ہوئی نرم گالیں مسکرا کر گلابی ہورہی تھیں نصرت کے دل کی بات میں سمجھ چکا تھا میں حیران تھا کہ اسے کیا ہوا ہے میں مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا نصرت نے مجھے دیکھا اور مسکرا کر نظر نیچے کر لی مجھے آنٹی کا خیال آیا میں نے آنٹی کو دیکھا تو وہ مسکرا کر نصرت کو دیکھ رہی تھی نصرت نے آنٹی کو آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو آنٹی کے چہرے پر نصرت کےلیے پیار پھیل سا گیا میں آنٹی کے یوں مسکرانے سے بھی حیران تھا کہ نصرت اور آنٹی کے درمیان بھی کوئی بات ہے۔ مدثرہ بولی مبارک نوشی ہنڑ تیاری کر کینیڈا دی وت توں سانوں وی لئے جانا اے یہ سن کر سب ہنس دئیے نصرت ہنس کر مجھے دیکھ کر اپنی انگلیاں دبا رہی تھی اسے ہلکی ہلکی شرک بھی آ رہی تھی میں نصرت ہو دیکھ کر مچل رہا تھا شانی آٹھ کر اندر گیا مدثرہ بھی برتن ہے کر چلی گئی آنٹی بولی افی کے کے تیری کوشش نال نصرت دا گھر بچ جاوے تے اے ہک ہور احسان وی سادے تے ہوسی میں یہ سن کر چونک کر آنٹی کو دیکھا میرا دل تیزی سے دھڑک گیا آنٹی نے مجھے دیکھا اور بولی نصرت آکھ رہی ہا کہ توں اگر گلشیر نال گل کریں تے او میرے نال رسائی کر لوے تیری اس من وی لینی سے میں حیرانی سے آنٹی کو دیکھ رہا تھا آنٹی وہی باتیں کر رہی تھی جو نصرت سے میں نے کیں تھیں اس کا مطلب تھا کہ ساری باتیں نصرت نے اپنی ماں سے کی ہیں میں نے نصرت کو سوالیہ انداز میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں مستی سے لال ڈورے چھلکنے لگے تھے اور وہ مسلسل مجھے غورنے لگی تھی اس کی آنکھیں میں عجیب سی شہوت تھی نصرت کی یہ دیکھنے کا انداز بہت ظالم تھا آنٹی بولی افی توں کوشش کرکے اہناں میاں بیوی نوں آپس اچ ملا دے میں نصرت کو دیکھ کر بولا آنٹی میں کوشش کردا اں۔ آنٹی مسکرا دی اور بولی اسی تینوں دے تے کجھ نہیں سگدے توں اپنا سمجھ کے ہی ساڈے تے اے وی احسان کردے میں بولا انٹی میرا اپنا گھر اے مینوں کی چاہی دا تسی فکر نا کرو میں کجھ کردا آں مجھے اسوقت کال آگئی میں پھر آنے کا کہ کر نکل آیا اور جس سے ملنا تھا اس سے ملا ایک دو اور کام نمٹائے اور گاڑی ہے کر چل دیا شام ہونے ہو تھی میں فری ہو کر نصرت ہے بارے میں سوچنے لگا میرا دل دھک دھک کرتا نصرت نصرت کرنے لگا میں مچل گیا میرے ذہن میں آج جو کچھ ہوا سب دوڑنے لگا میرا دل کیا کہ ایک چکر لگاتا جاؤں پر شام ہورہی تھی اگر ادھر جاتا تو دیر ہوجانی تھی صبح ہی جاؤں گا یہ سوچ کر میں گھر کی طرف چل پڑا میرے زہن میں بار بار یہ سوال دوڑ رہا تھا کہ نصرت میں اچانک یہ تبدیلی کیسے آئی پہلے تو وہ مجھے قریب بھی نہیں آنے دے گی پر اب وہ خود ہی سارا میدان بنا رہی تھی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا پر میرا دل بہت خوش تھا اس سب سے میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سب میرے ساتھ نصرت خود کرے گی میں مچل کر سوچ رہا تھا کہ ایسی کیا بات ہے جس سے نصرت یہ سب کر رہی ہے مجھے زرناب کا خیال آیا کہ کہیں نصرت مجھے اس کے ساتھ دیکھ کر نا تیار ہو گئی ہو ظاہری سی بات تھی نصرت خود بھی بھر پور جوان تھی ابھی تک اور اوپر سے اسے ایسا مرد ملا بھی نہیں تھا جو وہ چاہتی تھی اس کا اپنا مرد اسے مطمئن نہیں کر پاتا تھا ہو سکتا ہے وہ زرناب کے ساتھ مجھے دیکھ کر قابو نا رکھ پائی ہو۔ میں نصرت کی اداؤں کا سوچ سوچ کر مچل رہا تھا آنٹی اور نصرت کا رویہ بھی کچھ عجیب تھا نصرت بار بار اس کی طرف جو دیکھ رہی تھی یقیناً دال میں کچھ کالا تھا کہیں نصرت نے آنٹی کو سب باتیں بتا نا دی ہوں میں یہ سب سوچ سوچ کر مچل رہا تھا مجھے کام بنتا دکھائی دیا تھا میں گھر آیا اور نوشی کےلیے کینیڈا میں اپنے سیکرٹری کو کچھ ہدایات دیں میں چاہتا تھا اسے کوئی اچھا کام دوں ظاہر ہے اب اس کی بہن کے ساتھ رنگ رلیاں منانا تھی اسے آرام تو دینا تھا میں نے کچھ اور کام نمٹائے اور سو گیا صبح تھوڑا لیٹ اٹھا کھانا کھا کر سیدھا نصرت کی طرف چلا آیا میں نے گاڑی سامنے کھڑی کی اور دروازہ کھٹکھٹایا تو زرناب نے دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر زرناب بھی چونک گئی اور ہنس کر مجھے دیکھا اور بولی آئے ہو جناب میں تھوڑا جھجھکا وہ ہنس دی اور اپنے بازو پیٹ پر باندھ کر اپنی گت آگے پھینکی اور بولی جناب اپنا کم کرکے فر مڑ کے ساڈی خبر ہی نہیں لئی تسی تے بڑے بے وفا نکلے میں شرمندہ سا ہوگیا وہ سچی ہی تھی کہ پتا نہیں نصرت نے اسے کچھ کہا ہو گا میں بولا ہلا سوری جناب اے دسو کہ کسے کجھ آکھیا تے نہیں وہ اپنی گت کو پیچھے پھینک کر بولی کسے دی مجال ہی نہیں ویسے امی بس جھڑکاں ہی دریاں ہانڑ آکھیا کجھ نہیں۔ اور ہنس کر مجھے دیکھنے لگی میں اس کے انداز سے مسکرا دیا میں بولا ہلا امی گھر ہی ہئی وہ بولی کیچن اچ ہے میں نے مسکرا کر اسے دیکھا وہ بولی جناب یک فرنچ کس ہی کر دیو میں بولا زرناب نصرت ویکھ لیسی گئی وہ بولی چھڈ امی تینوں کجھ نہیں آکھدی میں ہنس دیا وہ بولی سچی میں بولا کیوں ایڈا تینوں کنج یقین وہ بولی بس ہے نا میں نے کیچن کی طرف دیکھا اور زرناب کی گردن میں ہاتھ ڈال کر سر کو اوپر کی طرف مروڑ کر زرناب کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں دبا کر چوسنے لگا زرناب کی کچی جوانی کی مٹھاس بھری تھوک میرے اندر جا کر مجھے بے حال کر گئی زرناب نے میرا سر اپنے ہاتھ سے دبا کر میری زبان کھینچ کر دبا کر چوس لی زرناب کا چھوٹا سا گرم منہ مجھے نڈھال کرگیا میں ہانپ گیا چھوٹی سی عمر میں زرناب پوری ماہر کی طرح میری فرنچ کس کرتی مجھے چوس رہی تھی میں زرناب کی پھڑکتی جوانی کا رس پی کر نڈھال ہوکر بے قابو ہوا رہا تھا میرا لن تن رہا تھا زبان میری ساری زبان کھینچ کر اپنے ہونٹوں میں دبا کر سختی سے چوس کر مجھے بے حال کر رہی تھی میں مزے سے مچل کر بے قابو ہو رہا تھا دو سے تین منٹ تک میں زرناب کی کچی جوانی کا رس کھینچ کر چوستا ہوا پچ کی آواز سے چھوڑ دیا زرناب میری زبان چھوڑ کر ہانپتی ہوئی کرلا گئی مزے سے زرناب کے سینے سے تیز سانس کے ساتھ زرناب کی ہلکی سی بکاٹی نکل گئی میں زرناب کی آگ دیکھ کر مچل رہا تھا اتنی چھوٹی سی عمر میں زرناب کے اندر آگ لگی تھی زرناب ہانپتی ہوئی بولی افففف اماں توں تے جان ہی کڈھ لیندا ایں پتا نہیں او دن کدو اسی جدو اسی وی تیرے وچ سمو جڈاں گئے میں ہنس کر زرناب کے نرم ہونٹوں کو چوما زرناب نے بھی مجھے ایک بار پھر فرنچ کس کر کے میرے ناک سے ناک ملا کر بولی افی میرا کجھ کر نہیں تے مر جاساں گئی میں ہنڑ مسیں ودی آں تیرے بغیر رہ نہیں سگدی میں پیچھے ہوکر بولا زرناب حوصلہ کر تیرے نالو وڈیاں اس گھر اچ صدیاں ہینڑ تینوں ڈھیر آگ لگی اے وہ مسکرا کر بولی میں اوہناں نوں وی جانڑدی آں او وی بڑیاں اکھیاں ودیاں ہینڑ۔ اوہناں دی وی تیرے تے نظر اے بس تھوڑے دن ہینڑ توں قابو اجاسیں اوہناں دے میں بولا مثلاً کون کون اے۔ وہ ہنس دی اور بولی خالہ مدثرہ تے ماہم نوں تے میں سنیا اے تیرے بارے پلان بنادیاں میں چونک کر بولا کیویں دے پلان زرناب بولی تینوں پھساوںڑ دے میں مسکرا دیا اور بولا پر میں تے تیرا عشق آں وہ ہنس دی اور بولی وے مینوں اپنی بنا لئے نا میں بولا بنا لیساں کوئی ٹائم تے آوے وہ بولی کدو ٹائم آسی میں بولا آ جاسی گیا فکر نا کر میں پچھے ہٹ کر کھڑا تھا کہ اتنے میں اندر کیچن سے نصرت نکلی اور دروازے پر کھڑی ہوکر زرناب کو پکارا زرناب نے چونک کر مڑ کر نصرت کو دیکھا اور مڑ گئی نصرت کل والے سفید لباس میں تھی جو نصرت کے جسم کو کس کر واضح کر رہا تھا نصرت ہے تنے ہوئے ممے ہوا میں اکڑے نظر آرہے تھے نصرت نے ایک نظر مجھے غور کر دیکھا زرناب اپنی ماں کی طرف چلی گئی میری نظر نصرت کے سارے جسم سے ہوتی ہوئی زرناب کی لہراتی گانڈ پر پڑی لہرا رہی تھی زرناب کی چھوٹی سی گانڈ اور اوپر پتلی کمر دیکھ کر میں مچل سا گیا میں بڑے انہماک سے زرناب کو غور رہا تھا نصرت بولی زرناب جا نال آلی باجی آل جہڑا کم تینوں آکھیا جا کے او کر یہ سن کر وہ رک گئی میں نے نظر اٹھا کر نصرت کو دیکھا تو وہ گہری مدہوش آنکھوں سے مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اس کی آنکھوں میں عجیب سی مستی تھی زرناب بولی اچھا امی نصرت مجھے دیکھتی ہوئی اندر چلی گئی میں مچل سا گیا تھا دونوں ماں بیٹی کی اداؤں میں قیامت تھی نصرت کے اندر جانے پر میں ایک لمحے کےلئے رکا اور پھر کیچن کی طرف بڑھ گیا میں جیسے ہی کیچن کے دروازے پر پہنچا سامنے نصرت سنک پر کھڑی کام کر رہی تھی نصرت ایک ادا سے مجھے مست آنکھوں سے دیکھا نصرت کے ناک میں کوکا قیامت ڈھا رہا تھا میں مچل سا گیا نصرت کے ہوا میں تن کر کھڑے ممے قیامت ڈھا رہے تھے نصرت بولی سرکار آئے ہو میں بولا جناب آ گئے آں تھواڈے در توں خیر کینٹ نصرت میری اس بات پر ہنس دی اور نظر اٹھا کر مجھے مستی سے دیکھا نصرت کے سفید دانت چمک رہے تھے نصرت کے مسکرانے سے نصرت کی گالیں بھر سی جاتیں جنہیں دیکھ کر دل کرتا بندہ منہ بھر کر دبوچ کر چوس چوس کر کھا جائے میں نے ایک نظر نصرت کے کسے ہوئے بدن پر ڈالی تو میں مچل گیا کیا خوبصورت جسم تھا نصرت کا باہر کو نکلے تن کر کھڑے ممے کمان کی طرح تنی کمر باہر کو نکلے پھولے ہوئے چتڑ قیامت ڈھا رہے تھے کسے ہوئے قمیض میں نصرت کا بدن ہلکا ہلکا دکھ رہا تھا میں نصرت کے بدن کی خوبصورت شیپ دیکھ کر مچل رہا تھا نصرت نے مجھے دیکھا اور مجھے اپنا بدن دیکھتا ہوا دیکھ کر مسکرا دی میں بھی مسکرا دیا اور نادر چلا آیا نصرت کے منہ پر ہلکی سی لالی پھیل گئی نصرت بولی تینوں آگے وی آکھیا ہا میریاں دھیاں توں ولا جا او ہلے نکیاں ہین میں چونک گیا مجھے سمجھ آگئی کہ زرناب ہو چومتا دیکھ لیا تھا نصرت نے میں نصرت کے پیچھے سے گزر تو نصرت کی لمبی گت نیچے گانڈ پر پڑی قیامت ڈھا رہی تھی نصرت کی گوری گردن کو دیکھ کر میں مچل رہا تھا میں گزر کر دوسری طرف آیا اور بولا تیرے بھرا نوں کینیڈا نہیں بھیجنا اور دوسری طرف آکر سنک پر نصرت کے سامنے کھڑا ہوگیا نصرت نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دی نصرت کی بھری ہوئی گالیں لال ہونے لگی تھیں میں مچل سا گیا نصرت کا گلہ اب کافی کلا سا تھا جس سے نصرت کا گورا سینہ چمک رہا تھا جبکہ نصرت کے تنے مموں کی ہلکی سی لکیر بھی نظر آ رہی تھی میں مچل سا گیا مجھے یاد آیا جب نصرت کیچن سے باہر نکلی تھی تب اس کی لکیر نظر نہیں آرہی تھی نصرت نے مجھے دکھانے کے لیے اپنے مموں کی لکیر واضع کر رکھی تھی میں یہ دیکھ کر مچل گیا کہ نصرت کا اپنا بھی من ہے میرے ساتھ رنگ رلیاں منانے کا میرا لن فل تن کر کھڑا تھا میں کپڑوں میں تھا جس سے میرے سامنے ٹینٹ بن رہا تھا میں نصرت کو دیکھ کر بولا تینوں کی اعتراض اے تیریاں دھیاں تے آپے مینوں پھسا رہیاں ہین نصرت نے مجھے غورا اور مسکرا کر بولی ہلا اے دس گلشیر نوں ہنڑ وقت پتر دیسیں کہ نہیں یہ کہ کر نصرت نے مستی سے مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی نصرت کی آنکھوں میں شہوت بھر رہی تھی میں نے مسکرا کر اپنے تنے لن کی طرف اشارہ کیا اور بولا میری جان اسی تے فل تیار آں نصرت نے میری نظر کا پیچھا کیا اور میری شلوار کا ٹینٹ بنا دیکھا تو شرما گئی اور بولی ہا وے کیڈا بے شرم ہیں توں تے ایتھے ہی شروع ہو گیا ایں ذرا وی صبر نہوں میں ہنس دیا اور ہاتھ آگے کرکے نصرت کا بازو پکڑ لیا نصرت کانپ کر سسک گئی اور مجھے گہری مست آنکھوں سے دیکھ کر بولی وے چھڈ مینوں نا تنگ کر اور اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑوا لیا میں نصرت کے بالکل قریب ہوگیا اتنا قریب کہ کہ ہمارے درمیان بہت کم فاصلے رہ گیا نصرت کے بدن سے نکلتی گرم مہک میرے ناک کو چڑھنے لگی میں مدہوش سا ہونے لگا تھا میں نصرت کے بالکل قریب ہوکر بولا میری جان آپ ہی مینوں بلاندی وی ہیں وت آپ ہی نخرے کردی ایں نصرت مسکرا کر نظر اٹھا میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی افی ایتھے کوئی اجاسی وت میں بولا وت اندر چلدے آں نصرت کسمسا سی گئی مجھے سے رہا نہیں جا رہا تھا میں نصرت کے قریب ہوکر اپنے بازو اٹھا کر نصرت کو باہوں میں بھرنا چاہا تو نصرت نے میرا آگے والا بازو پکڑ لیا میں نصرت کے بالکل قریب ہوچکا تھا نصرت نے سسک کر مجھے دیکھا اور میری آنکھوں میں دیکھ کر سرگوشی میں سسک کر بولی افییییی نااااںکررررر نا۔ میں نصرت کے بالکل قریب ہوکر رک سا گیا میں نصرت کی سائیڈ پر کھڑا ہوکر نصرت کو باہوں میں لینے کو آگے بڑھا تھا اس لیے میں اتنا قریب آگیا تھا کہ میرا تنا ہوا لن نصرت کے نرم پٹ سے ٹکرا کر چھبنے لگا تھا جس سے نصرت اور میری اکھٹی سسکی نکل گئی نصرت کا گرم جسم مجھے نڈھال کر گیا نصرت نے میری آنکھوں میں دیکھ کر مجھے روکا میرا ناک نصرت کے ناک کے بالکل قریب آکر رک گیا میں اور نصرت ایک لمحے کےلئے ایک دوسرے کی آنکھوں میں مستی سے دیکھتے رہے نصرت کی آنکھوں سے بے پناہی شہوت اور پیار نکل کر میرے اندر اتر رہا تھا نصرت میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روکے ہوئی تھی نصرت کا سانس بہت تیزی سے چل کر میری سانس ے مل کر میرے اندر اتر کر مجھے مدہوش کر رہا تھا میرا لن جھٹکے مارتا نصرت کے پٹ کو چومنے لگا تھا میں نے سسکار کر کہا کیوں نصرت۔۔۔ میری جاااااان کیوں روک رہی ہیں نصرت کچھ نا بولی اور میری آنکھوں میں دیکھتی رہی میں نصرت کی آنکھوں میں ڈوب سا گیا تھا نصرت کے ہانپتے ناک میں کوکا اچھل کر مجھے بے حال کر رہا تھا میں نے بے اختیار منہ آگے کیا اور نصرت کے بڑے بڑے گلابی ہونٹ چوم لیے نصرت کی سسکی نکلی اور اس کی آنکھیں بند ہوگئی میں نے نصرت کے ہونٹوں کو چوم کر اپنے ہونٹ نصرت کے ہونٹوں سے ملا کر چوس لیے نصرت کی سسکی نکلی اور اس نے بھی اپنی ہونٹوں کو کھول کر میرے ہونٹ چوستی ہوئی میرا ہاتھ خود ہی چھوڑ دیا میں نے ہاتھ اٹھا کر نصرت کو باہوں میں بھر کر اپنے سینے سے لگا لیا جس سے میر لن نصرت کے پٹ میں دب گیا گیا نصرت کا ایک تنا ہوا مما بھی میرے سینے میں چبھ گیا میں سسک کر کرا گیا نصرت میرے سینے سے لگتے ہی سسک کر کرلا سی گئی میں نصرت کے ہونٹوں کو دبا کر چوستا ہوا اپنا لن نصرت کے پٹ پر ہلکا ہلکا رگڑنے لگا نصرت کا جسم مزے سے تھر تھر کانپنے لگا نصرت کی آنکھیں بند ہوگئی نصرت میرا ساتھ دیتی ہوئی میری زبان کھینچ کر چوسنے لگی میں نے نصرت کو دبا کر باہوں میں بھر کر سینے سے لگا لیا نصرت میری جپھی میں دب کر میرے سینے سے لگ کر میری زبان چوس کر سسکتی ہوئی ہانپنے لگی میں کراہ کر مچل کر نصرت کو چوس رہا تھا نصرت میری زبان اپنے ہونٹوں میں دبا کر کس کر چوس رہی تھی نصرت میرا بھر پور ساتھ دینے لگی تھی میں نصرت کو اپنے سینے سے دبا کر چوس رہا تھا اتنے میں گیٹ کھڑکا میں اور نصرت چونک کر الگ ہوگئے میرا دل دھڑکنے لگا تھا میں سسک کر کراہ کر پیچھے ہوا اور جلدی سے اپنا لن اپنے چڈوں میں دبا لیا تا کہ آنے والا دیکھ نا سکے نصرت نے خود کو بھی سنبھالا اور مجھے اپنا لن چڈوں میں دباتا دیکھ کر مسکرا کر مجھے دیکھ کر کام میں مگن ہوگئی اتنے میں زرناب اندر آئی تو نصرت بولی کی ہویا زرناب بولی امی آنٹی کوئی نہیں نصرت نے ایک لمحے تک زرناب ہو دیکھا پھر کچھ نا بولی نصرت کچھ سوچنے لگی شاید وہ زرناب کے آنے سے تھوڑی مایوس سی ہوئی تھی وہ میرے ساتھ فل انجوائے کرنا چاہ رہی تھی لیکن زرناب ہے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں تھا وہ کچھ سوچ کر بولی زرناب ہک کم کر او کل جہڑی باجی دو سوٹ بھیجے ہین سلائی واسطے او باجی آپ لئے جا تے کٹوا لیا اس نوں آکھ امی آکھ رہی میرے کول ٹائم نہیں کٹن دا کٹ کے دے چا سی میں لیساں زرناب اچھا کہ کر مڑ گئی میں نصرت کو دیکھ کر مسکرا دیا میں سمجھ گیا کہ نصرت زرناب کو گھر سے نکالنا چا رہی ہے کیونکہ تسلی سے میرے ساتھ وقت گزار سکے میں نصرت کو دیکھ کر ہنس دیا نصرت مسکرا کر شرما کر نظر نیچے کرکے مجھے دیکھنے لگی میں بولا سہی طریقہ اے نصرت نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اور مسکرا کر بولی بھائی نوں کینیڈا وی بھیجنا اے تے اہناں دے پیو دے نوں پتر وی نہیں دینا میں یہ سن کر ہنس دیا اور نصرت کے قریب ہوگیا نصرت بھی اب کھل سی رہی تھی نصرت کی بھری ہوئی گوری گال گلابی ہوکر مجھے بے حال کر رہی تھی میں نصرت کو دیکھ کر مچل رہا تھا اتنے میں دروازہ کھٹکا میں سمجھ گیا زرناب نکل گئی ہے میں نے نصرت کو باہوں میں بھر کر دبوچ لیا جس سے نصرت بھی سیدھی ہوکر میرے سینے سے لگ کر مجھے باہوں میں بھر کر دبوچ لیا نصرت کے موٹے موٹے ممے میرے سینے میں دب کر میری جان ہی نکالنے لگے میں تڑپ کر نصرت کو دبا کر ہونٹ نصرت کے ہونٹوں سے ملا کر کس کر دبا کر چوسنے لگا نصرت بھی مجھے چوستی ہوئی میرا ساتھ دینے لگی نصرت کا جسم آگ سے تپ رہا تھا میں کرا کر سسکتا ہوا مچل کر نڈھال ہو چکا تھا میرا تنا ہوا لن نصرت کے چڈوں میں جا گھسا جسے نصرت نے چڈوں میں دبا لیا نصرت کے چڈوں میں آگ لگی تھی جس سے میری کراہیں نکل کر نصرت کے منہ میں دبنے لگیں نصرت میری زبان کھینچ کر چوستی ہوئی میرا لن چڈوں میں دبا کر خود ہی ہلکے ہلکے جھٹکے مارتی میرا لن اپنے چڈوں میں رگڑ ے لگی میں تو پہلے ہی مزے سے نڈھال تھا نصرت کی گرمی نے میری جان ہی کھینچ لی نصرت بھی بےقرار تھی آگ اس کے اندر بھی برابر لگی تھی نصرت میری زبان کھینچ کر چوستی ہوئی تیز تیز جھٹکے مارتی میرا تیزی سے رگڑتی ہوئی کراہنے لگی نصرت کی کرلاٹیں میرے منہ دب کر ارڑاٹوں میں بدل رہی تھیں نصرت اتنی جنونی ہو کر میری زبان کھینچ کر چتھ کر چوستی ہوئی جھٹکے مارتی ہوئی کرلا رہی تھی جیسے شیرنی دھاڑ رہی نصرت کی دھاڑیں کیچن میں گونج رہی تھیں میں مزے سے مر رہا تھا مسلسل دو منٹ کے دھکوں نے میری جان کھینچ لی میں کرلا سا گیا اس پہلے نصرت کا جسم زور سے دھڑکا اور وہ ہانپتی ہوئی بکا کر تڑپی اور اور مجھے باہوں میں کس لیا ساتھ ہی اس کا جسم جھٹکے کھانے لگا نصرت تھر تھر کانپتی پانی چھوڑنے لگی مجھے لگا نصرت کے چڈوں میں آگ محسوس ہوئی ساتھ ہی میں نصرت ہو دبوچ کر دبا کر چوستا ہوا فارغ ہوگیا میرا جسم بھی تھرکنے لگا تھا نصرت کے چڈوں کی گرمی نے میری جان ہی نکال ہے رکھ دی تھی میں اور نصرت ایک دوسرے کو باہوں میں دبوچ کر سینے سے سینہ ملائے ہانپ ہر فارغ ہو چکے تھے نصرت کی آنکھیں بند تھیں اور سانس چکی کی طرح چل رہا تھا نصرت ہانپتی ہوئی کراہ کر میرے ہونٹ دبا کر چوم رہی تھی ہم ایک دوسرے میں اتنے مگن تھے کہ ہمیں پتا ہی نا چلا تھا کہ آنٹی کب کی کیچن میں آ کر ہمیں پیار کرتا دیکھ رہی تھی اپنی بیٹی ہو میرے سینے سے لگا فارغ ہوتا دیکھ کر وہ مسکرا رہی تھی ہم فارغ ہو کر نڈھال ہوچکے تھے نصرت میرے ہونٹ چھوڑ کر پیچھے ہوئی اور منہ کھول کر تیز تیز سانس لیتی ہانپنے لگی میں نصرت کی گلابی گالوں کا دیوانہ ہو رہا تھا میں نے منہ کھول کر نصرت کی گال منہ میں بھر کر دبا کر چوس لی نصرت اپنا سر اوپر کر کے آنکھیں بند کرکے اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر اپنی گال مزے سے میرے منہ میں دبانے لگی نصرت کو بھی مزہ آ رہا تھا نصرت نے مجھے اپنی باہوں سے الگ نہیں کیا تھا میں نصرت کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا نصرت مزے سے مجھے اپنے سینے سے لگا کر اپنی گال چسوا رہی تھی کہ پیچھے سے آنٹی کی آواز آئی لیلی مجنوں کوئی آس پاس دا وی دھیان رکھو یہ سن کر نصرت چونک کر پیچھے ہوئی نصرت کو لگا کہ پکڑے گئے ہیں اس لیے وہ ڈر کے مارے تیزی سے پیچھے ہوئی اور میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھ مجھے پیچھے دبا کر خود کو چھڑوانے کے انداز میں مجھے دھکیل کر بولی اوئے ہالنی اماں میں مر گئی یہ کہ کر نصرت مڑی تو سامنے اسکی اپنی ماں کھڑی تھی جسے دیکھ کر وہ رک گئی میں نصرت نے مجھے چھوڑ دیا تھا پر میں نے اسے ابھی تک اپنی باہوں میں بھر رکھا تھا نصرت اپنی ماں کو دیکھ کر رک گئی اور بولی ہالنی اماں ڈرا ہی دتا اور آگے منہ کرکے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ کر بولی اماں آج تے تراہ کڈھ دتا ہئی آنٹی مسکرا کر بولی تسی وی تے انج بے فکر ہوکے لگے ہوئے ہو ایو جہیا کم لک ہے کریندا تسی سرعام ہی شروع ہو میں ہنس دیا نصرت مسکرا کر بولی امی پتا ہی نہیں لگا دس کی کردی آنٹی مسکرا کر بولی میری کملی دھی ہنڑ جو وی کرنا اندر جا کے کر میں برتن دھو لیساں تسی اندر جاؤ نصرت پیچھے ہوئی اور مجھے چھوڑ دیا میں نے بھی چھوڑ دیا نصرت گھوم گئی اور باہر نکل گئی آنٹی بولی افی کی گل اے پتر ہی ہوسی میں آنٹی کی بات سن کر ہنس دیا اور مسکرا کر بولا آنٹی فکر نا کر پتر ہی جنسی نصرت آنٹی ہنس دی میں باہر نکل آیا اور واشروم سے ہو کر اندر چلا گیا تو نصرت پلنگ پر بیٹھی تھی میں نصرت کے پاس جا کر بیٹھ گیا نصرت پلنگ سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی میں نصرت کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا نصرت میری طرف چلی آئی اور میری باہوں میں چلی آئی میں نصرت کی گال کو دبا کر چوس کر چاٹ لیا نصرت کی نرم گال بڑا مزہ دے رہی تھی نصرت کو بھی مزہ آنے لگا تھا میں نے ایک موٹا مما ہاتھ میں بھر کر دبا کر مسل دیا نصرت کی کراہ نکل گئی نصرت سسکتی ہوئی میرا ساتھ دینے لگی اور میرے ہونٹ بار چوسنے لگی میں نصرت کے دونوں ممے بار بار دبا کر مسل رہا تھا نصرت سسک کر بولی افی ہک گل تے دس میں بولا حکم کر میری جان نصرت بولی نوشی کتنے اچ کینیڈا پہنچسی میں ہنس کر بولا میری جان پچھ کے کہ کرسیں نصرت مسکرا کر بولی پتا تے ہووے میری قیمت کی لگی میں ہنس دیا اور بولا 45 لکھ اچ نصرت میری بات سن کر سہم سی گئی اور حیرانی سے بولی 45 لکھ۔۔ اتنے پیسے۔۔۔ میں بولا میری جان جانا وی تے کینیڈا اے۔ نصرت میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی اتنے پیسے میرے تے بھرے نی میں مسکرا کر بولا میری جان 45 لکھ اچ تیرے جئی آگ دی بھری جوانی لبھ جائے ہور کی لینا نصرت میری بات سن کر مسکرا دی اور بولی افی اے تے بہوں ڈھیر ہین اس اچ تے تینوں مدثرہ تے ماہم وی مل سگدی اے میں نصرت کے منہ سے یہ سن کر گھونٹ بھر کر رہ گیا اور نصرت کو حیرت سے دیکھنے لگا نصرت نے مسکرا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور بولی کی بنیا۔ لگدا منہ اچ پانی آگیا سن ہے میں ہنس کر بولا نہیں۔ او میرے نیڑے کدے آندیاں نصرت ہنس کر بولی میری جان مدثرہ تے فل تیار اے میں بولا تے ماہم نصرت بولی اس کدے جانا اس وچ وی بڑی آگ اے مزے دی گل اے دوویں ایک پیک ہین اور مسکرا کر مجھے دیکھا میں بولا پکی گل اے نصرت بولی میریاں بھیناں ہین مینوں پتا اے نصرت میرے ہونٹ چومنے لگی میں نصرت کو باہوں میں بھر کر دبا کر چوستا ہوا نصرت کے قمیض کو ہاتھ ڈالا تو نصرت نے اپنا قمیض اتار دیا نصرت کے گورے جسم پر بلیک برا چمک رہی تھی میں نے اپنا قمیض بھی کھینچ کر اتار دیا اور نصرت کو باہوں میں بھر کر چوسنے لگا نصرت کے موٹے تنے ہوئے ممے برا میں قید تھے میں نے۔ پیچھے ہاتھ ڈال کر نصرت کی برس کا ہک کھول دیا جس سے نصرت کی برا کھل گئی نصرت کے تنے ممے برا کی قید سے آزاد ہوکر تھرکنے لگے نصرت کے تن کر کھڑے موٹے مموں کے گلابی نپلز قیامت ڈھا رہے تھے میں نصرت کے ممے ہاتھ میں پکڑ کر دبا کر مسلتا ہوا نصرت کے نپلز کو مسلنے لگا نصرت کرلا کر کانپنے لگی نصرت کے نپلز کو مسلنے سے نصرت مزے سے تھر تھر کانپنے لگی نصرت کا۔جسم کانپنے لگا میں نے ہاتھ میں مما دبا کر نصرت کا نپل منہ میں بھر کر دبا کر چوس لیا جس سے نصرت تڑپ کر کراہ گئی اور مجھے پکڑ کر پیچھے لیٹ گئی میں نصرت کے اوپر چڑھ گیا اور نصرت کو دبا کر نصرت کے مموں کو چوسنے لگا نصرت نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر کے گرد لپیٹ لیں ہم بالکل چدائی والی پوزیشن میں آگئے نصرت سسکتی ہوئی کراہنے لگی میں نصرت کے اوپر جھک کر نصرت کے مموں کو چوسنے لگا میرا لن تن کر کھڑا ہوچکا تھا جو سیدھا نصرت کی پھدی سے ٹکرا گیا نصرت کرا کر کانپ گئی نصرت کی پھدی سے نکلتی گرمی مجھے محسوس ہوکر نڈھال کر رہی تھی نصرت میرا سر دبا کر اپنا مما چسوا رہی تھی نصرت کا جسم دھڑکنے لگا تھا نصرت کراہتی ہوئی کرلانے لگی تھی نصرت کی آہوں سے کمرہ گونج رہا تھا نصرت میرے لن کا لمس برداشت نا کر پا رہی تھی میں سمجھ گیا تھا میں پیچھے ہاتھ نصرت کی ٹانگوں میں ڈالا اور نصرت کی ٹانگیں پکڑ کر اپنے کاندھوں پر رکھ کر اپنا وزن نصرت کی ٹانگوں پر ڈالا جس سے نصرت کی ٹانگیں دبا کر نصرت کے کاندھوں سے جا لگیں نصرت بکا کر کرلا گئی اور تڑپ کر آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا میرا لن نصرت کی پھدی پر دب گیا تھا نصرت کی ٹانگیں نصرت کے کاندھوں سے جا لگیں تھیں جبکہ نصرت دوہری ہوکر ہانپتی ہوئی تھر تھر کانپنے لگی تھی نصرت نے کرلا کر مجھے دیکھا میں نے اوپر ہوکر نصرت کی شلوار کھینچ کر نصرت کی پھدی ننگی کر دی اور خود بھی اوپر ہو کر اپنا کہنی جتنا لن نکال کر نصرت کی پھدی کے دہانے سے ٹچ کیا لن نصرت کی پھدی سے ٹچ ہوتے ہی میں کرلا گیا جبکہ نصرت جھٹکا کھا کر زور سے تڑپی اور کرلا کر سر ادھر ادھر مارتی کانپنے لگی میں نے نصرت کی ٹانگوں پر سارا واش ڈال کر نصرت کو دبا رکھا تھا نصرت کا جسم بری طرح سے کانپنے لگا میں آہستہ آہستہ لن نصرت کی گرم پھدی پر رگڑنے لگا جس سے نصرت کرلانے لگی اور کانپتی ہوئی سر ادھر ادھر مارنے لگی نصرت کی کراہیں نکل کر گونج رہی تھیں نصرت کا کوکا ہانپتے ناک میں اچھل کر مجھے نڈھال کر رہا تھا مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے لن نصرت کی پھدی کے دہانے سے سیٹ کیا تو نصرت نے ہانپتے ہوئے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا میں نے نصرت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے آہستہ سا لن دبایا جس سے لن کا ٹوپہ ہلکا سا ہی اندر گھسا تھا کہ نصرت کی  زوردار کراہ نکلی اور ساتھ ہی دروازہ کھلا جہاں نصرت کا بھائی رافع اندر داخل ہوا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی وہ ہڑبڑا کر سامنے اپنی بہن کو ننگا میرے نیچے پڑا دیکھ کر رک سا گیا میرے نیچے اپنی بہن کی کاندھوں سے لگی کانپتی ٹانگیں اور ننگی پھدی میں ہلکا سا چبھا میرے لن کا ٹوپہ دیکھ کر رافع وہیں منہ کھولے کھڑا ہوکر آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا نصرت اپنے بھائی رافع کو اندر آتا دیکھ کر ہڑبڑاائی اور میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنی ٹانگوں اور ہاتھوں کا زور لگا کر مجھے پیچھے دھکیل کر چیخی اور تیزی سے اوپر ہوکر اپنی شلوار اوپر کرکے بولی ہالنی اماں میں مر گئی اور جلدی سے اپنا قمیض اٹھا کر اپنے موٹے مموں کو ڈھانپ لیا نصرت کے یوں زور لگانے پر رافع نے اپنی سیدھی ہوتی بہن کی پھدی میں اترا میرے لن کا ٹوپہ پچ کی آووز سے نکلتے دیکھ لیا تھا میں نصرت کی اس حرکت سے گڑبڑا سا گیا مجھے سمجھ نا آئی کہ کیا ہوا ہے  میں نے حیرانی سے دروازے کی طرف دیکھا تو میں بھی بوکھلا گیا سامنے نصرت کا بھائی رافع کھڑا آنکھیں پھاڑ کر ہکا بکا ہمیں دیکھ رہا تھا اس کی نظر مجھ سے ملی میں جلدی سے اپنا لن اپنی شلوار میں ڈال کر چھپا لیا رافع بھی سمجھ گیا کہ ابھی اس کی بہن چدنے والی تھی رافع نے ایک نظر اپنی بہن کو دیکھا اور مڑ کر نکل گیا  اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا اس کے نکلتے ہی نصرت گھبرا کر پریشانی کی حالت میں بولی ہالنی اماں میں تے مر گئی آج کجھ نہیں بچنا میں بولا نصرت کجھ نہیں ہوندا نصرت تو گھبراہٹ سے مری جا رہی تھی اس کا جسم تھر تھر کانپنے لگا تھا میرے بھی سانس سوکھ چکے تھے نصرت منہ نیچے دبائے پڑی تھی اسے کچھ نہیں سوجھ رہا تھا ہم اسی کشمکش میں تھے کہ اتنے میں آنٹی اندر آئی اور بولی رافع تھوانوں ویکھ لیا اے میں بولا آنٹی کجھ آکھیا تے نہیں اس آنٹی مسکرا دی اور بولی کجھ نہیں آکھدا او تے اس پچھیا کی ہو رہیا اے میں آکھیا تھواڈا مستقبل بن رہیا اے وت اس نوں ساری گل سمجھائی ہے سمجھ گیا اے نصرت نے منہ اٹھا کر دیکھا اور بولی امی بھائی کدے گیا آنٹی بولی او وگ گیا اے تسی اپنا کم کرو۔ نصرت بولی ناں امی اتنا کافی اے آنٹی بولی نصرت کجھ نہیں ہوندا کر کئے ہک واری میں جاندی پئی آں باہر دس دھیان رکھساں تسی کرو یہ کہ کر آنٹی نکل گئی میں نصرت کی ٹانگوں کے بیچ آیا اور نصرت کا قمیض کھینچ کر نصرت کو ننگا کرکے نصرت کے اوپر لیٹ کر نصرت کو چوسنے لگا نصرت سسکتی ہوئی میرا ساتھ دینے لگی میں دو منٹ تک نصرت کو چوستا رہا نصرت بولی افی ہک گل تے دس میں پچھ میری جان نصرت بولی افی تینوں تسلی اے پتر ہی ہوسی میں مسکرا دیا اور نصرت کے ہونٹوں کو چوم کر بولا میری جان یقین رکھ پتر ہی جمسی گیا نصرت مسکرا کر بولی میرا تیرے تے یقین ہی ہے توں ہی تے تیرے ہیٹھ پئی آں میں پیچھے ہوا اور نصرت کی شلوار پکڑ کر کھینچ دی نصرت نے اپنے گھٹنے اٹھا کر سینے سے لگا لیے جس سے نصرت کی پچ پچ کرتی بند کھلتی پھدی سامنے آگئی نصرت کی پھدی کے ہونٹ ہلکے ریڈ براؤن کلر کے تھے جو تھوڑے موٹے تھے پھدی کا دہانہ بھی زیادہ کھلا نہیں تھا نصرت ہانپتی ہوئی مجھے دیکھ رہی تھی میں پیچھے ہوا اور اپنی شلوار اتار کر نصرت کے چڈوں میں آکر نصرت کی ٹانگیں پکڑ کر اوپر ہوا میں کھڑی ہیں نصرت میرا کہنی جتنا تنا لن دیکھ کر بولی افففف افی اتنا وڈا لن آج تک نہیں لیا میں میں بولا جان اے آج توں تیری پھدی اچ ہی جاسی نصرت مسکرا دی میں نے نصرت کی ٹانگیں پکڑ کر دبا کر نصرت کے کاندھوں سے ملا دیں نصرت کی پھدی کھل کر میرے سامنے آگئی میں نے اپنا نصرت کی پھدی کے دہانے سے سیٹ کرکے پش کیا پچ کی آواز سے ٹوپہ نصرت کی پھدی میں اتر گیا جس سے نصرت کرلا سی گئی میں نصرت کی پھدی میں ٹوپہ اتار کر مچل گیا اندر تو آگ لگی تھی میں نے گانڈ کھینچ کر دھکا مارا اور اپنا کہنی جتنا لن یک لخت پورا جڑ تک نصرت کی پھدی کے پار کردیا جس سے نصرت تڑپ کر اچھلی اور کانپتی ہوئی کرلا کر بولی اوئے ہالیوئے اماں میں مر گئی ااااااہہہہہہہ ااااہہہہہہہ ااااہہہہہہہ امااااااں میری پھدی وے لعنتیا قسمیں مار دتا ہئی میرے اچانک دھکے سے لن نصرت کی پھدی کو چیرتا ہوا جڑ تک نصرت کی بچہ دانی میں اتر گیا جس سے نصرت کی حال حال نکل گئی میں نیچے ہوکر نصرت کو چومنے لگا نصرت کا جسم بری طرح سے کانپنے لگا نصرت آہیں بھرتی کرلانے لگی تھی میرا لن نصرت کی پھدی نے دبوچ رکھا تھا اندر تو آگ لگی تھی جو میری جان نکال رہی تھی میں نصرت کے اوپر جھکا اور لن کھینچ کر آہستہ آہستہ دھکے مارتا لن اندر باہر کرنے لگا جس سے نصرت کرلا کرا کراہتی ہوئی آہیں بھرنے لگی میرا لن نصرت کی پھدی میں اندر باہر ہوکر راستہ بنانے لگا نصرت مزے سے کراہنے لگی نصرت کی ٹانگیں کانپنے لگی میں مزے سے بے حال ہونے لگا تھا نصرت کی پھدی کی آگ نڈھال کر رہی تھی میں نے لن کھینچا اور تیزی سے دھکے مارتا ہوا لن نصرت کی پھدی کے اندر باہر کرتا نصرت کو چودنے لگا نصرت کراہتی ہوئی بکانے لگی میرا کہنی جتنا لن یک لخت تیزی سے نصرت کی پھدی کے آر پار ہونا لگا جس سے نصرت کانپ کر ایک بار بکا کر کرلا گئی میں رکے بغیر لن کھینچ کھینچ کر نصرت کی پھدی میں تیزی سے اندر باہر کرتا نصرت کو چودنے لگا تھا جس سے میرا لن نصرت کی پھدی کے ہونٹ بری طرح سے مسل کر نصرت کو نڈھال کرنے لگا نصرت کی پھدی کے ہونٹ میرے لن کو رگڑ کر مجھے بے حال کرنے لگے جس سے میں بے اختیار مچل کر بے قابو سا ہوکر اپنی سپیڈ تیز کرنے لگا ہر دھکے کے ساتھ میری سپیڈ بڑھنے لگی اور ہر دھکا نصرت کی پھدی کی آخری حد کو چھو کر نصرت کی جان لینے لگا مسلسل پھدی ہے ہونٹ کی رگڑ میری جان نکالنے لگی تھی میں ہر دھکے کے ساتھ منزل کی جانب بڑھنے لگا نصرت کی پھدی نے آخر میری جان کھینچ لی میں نے لن کھینچ کر پوری شدت سے دھکا  مار کر لن یک لخت جڑ تک اتار کر تیزی سے نصرت کو چودنے لگا میرا کہنی جتنا لن ٹپ تک نکل کر یک لخت جڑ تک پورا اتر کر نصرت کی پھدی کے ہونٹ رگڑ کر نصرت کی پھدی کو چیرتا ہوا تیزی سے نصرت کی پھدی کو چودنے لگا میرے لن کے تین چار دھکوں نے نصرت کی پھدی چیر کر رکھ دی میرے لن کھردری چمڑی نے نصرت کی پھدی ہے ہونٹ مسل کر رگڑ کر جلا کر رکھ دیے جس سے نصرت کی برداشت جواب دے گئی اور نصرت ہڑبڑا کر اچھلی اور بکا کر زور سے چیخ مار کر پوری شدت سے ارڑا کر بکائی نصرت کی بکاٹ کی آواز کمرے سے باہر بھی کسی نے سن لی تھی میں نصرت کی بکاٹ سن کر پھر لن کھینچ کر کرلا کر پوری شدت سے دھکا مار کر لن پوری طاقت سے نصرت کی پھدی میں تیزی سے گھماتا ہوا نصرت کو بری چود چود کر نڈھال کرنے لگا نصرت میرے لن کے دھکوں کے سامنے ہمت ہار گئی اور میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکیل کر ہٹانے کی کوشش کرتی تھر تھر کانپتی ارڑا کر بکانے لگی نصرت کے بکاٹ اتنے بلند تھے کہ باہر تک سنائی دئیے نصرت کی پھدی نے میری بھی جان کھینچ لی تھی میں کرلا کر تڑپا نصرت کی پھدی نے میری ہمت توڑ دی میں بکا کر آچکا اور لن جڑ تک نصرت کی پھدی میں اتار کر ہڑبڑا کر تڑپا اور ہینگ کر ایک لمبی منی کی دھار نصرت کی پھدی میں مار کر کرلا گیا ساتھ ہی نصرت زور سے تڑپی اور ہینگ کر میرے لن منی کی دھار مار کر کرا کر میرے لن کو دبوچ کر نچوڑنے لگی نصرت کی پھدی کے دبوچنے سے میرے لن کی سانس بند ہوگئی اور میں نے جھٹکا مار کر کرلاٹ ماری اور ایک اور منی کی لمبی دھار نصرت کی بچی دانی میں انڈیل دی نصرت میرے نیچے پڑی تھر تھر کانپتی چھوٹ رہی تھی اسی لمحے باہر سے نصرت کا بھائی نوشی جو کہ نصرت کے بکاٹ سن کر کمرے کی طرف آیا تھا دروازہ کھول کر اندر آگیا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹھک سا گیا سامنے میں اس کی بہن نصرت کو دوہرا کرکے اس کی ٹانگیں کاندھوں سے لگا کر اس کی بہن پر چڑھا ہوا تھا میرا کہنی جتنا لن اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بہن نصرت کی پھدی میں جڑ تک اترا جھٹکے مارتا اس کی بہن کی پھدی میں فارغ ہورہا تھا وہ اپنی بہن کی پھدی کو میرے لن کو دبوچتا دیکھ کر وہیں جم سا گیا تھا اس کی کانوں میں اسی بہن کی اور میری مزے سے نکلتی کرلاہیں اور بکاٹیں نکل کر گونج رہی تھیں وہ اپنی بہن کو میرے نیچے پڑا اپنی پھدی میں جڑ تک میرا لن لیے دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے میرے ٹٹے اچھل اچھل کر منی اس کی بہن نصرت کی پھدی میں پھینک رہے تھے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بہن کی پھدی میرا لن دبوچ کر نچوڑ رہی تھی نوشی ہکا بکا اپنی بہن کی پھدی میں جھٹکے مار کر فارغ ہوتا میرا لن دیکھ رہا تھا ہم دونوں مزے میں اتنے مست تھے کہ ہمیں نوشی کے آنے کی کوئی خبر نا تھی میں نیچے ہوکر نصرت ہے ہونٹوں کو دبا کر چوسنے گا نصرت کی پھدی اپنے بھائی کے سامنے میرے لن کو دبوچ کر نچوڑتی ہوئی اپنی بچہ دانی بھرتی اپنی منی سے مکس کر رہی تھی اپنی بہن نصرت کی دوہری ہوئی ہانپتی ٹانگیں وہ دیکھ رہا تھا اپنی بہن کو میرے ساتھ مزے کرتے دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ اس کی بہن کی مرضی سے سب ہوا ہے یہ دیکھ کر وہ مڑا اور نکل گیا جبکہ میں نصرت ہے اوپر نڈھال ہوکر گر کر ہانپتا ہوا نصرت کو چومنے لگا نصرت بھی میرا ساتھ دیتی ہوئی مجھے چومنے لگی 

The post تڑپتی پھڑکتی جوانیاں 3 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-3/feed/ 0
تڑپتی پھڑکتی جوانیاں 2 https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-2/#respond Thu, 18 Dec 2025 06:47:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-2/   مدثرہ نے مجھے چائے پکڑائی اور اپنی بہن نصرت کے پاس ہی بیٹھ کر اسے بھی چائے دی اور خود بھی پینے لگی ایک لمحے کےلئے خاموشی چھائی رہی پھر مدثرہ مسکرا کر بولی بھائی کی بنیا کیویں منہ پٹکا کے بیٹھے ہو میں اس بات پر ہنس دیا اور بولا کجھ نہیں بس […]

The post تڑپتی پھڑکتی جوانیاں 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

مدثرہ نے مجھے چائے پکڑائی اور اپنی بہن نصرت کے پاس ہی بیٹھ کر اسے بھی چائے دی اور خود بھی پینے لگی ایک لمحے کےلئے خاموشی چھائی رہی پھر مدثرہ مسکرا کر بولی بھائی کی بنیا کیویں منہ پٹکا کے بیٹھے ہو میں اس بات پر ہنس دیا اور بولا کجھ نہیں بس ایویں ہی نصرت نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور چائے کی چسکیاں لینے لگی اتنے میں نوشی اور رافع دونوں بھائی اگئے وہ کسی کام سے گئے تھے اج اتوار کے دن انہیں بھی چھٹی تھی مجھے دیکھ کر وہ مسکرائے نوشی سیدھا میرے پاس ایا میں کھڑا ہوکر اسے ملا رافع سے جان پہچان نہیں تھی نوشی نے بتایا تو اسے بھی میرا یاد اگیا وہ تب بہت چھوٹا تھا جب میں گیا تھا اب کافی بڑا ہوچکا تھا وہ بھی پاس ہی بیٹھ گئے اتنے میں انٹی بھی اگئی مجھے دیکھ کر خوش ہوئی مدثرہ ایک اور چارپائی لے ائی ہم باتیں کرنے لگے میں نے نوشی سے کام کا پوچھا تو نوشی بولا کہ بس گزارہ ہے بھائی میں بولا کی خیال اے تینوں کنیڈا ناں لئے جاواں میری بقت پر وہ چونک گیا اور اس کا چہرہ دمک سا گیا وہ مایوسی سے بولا بھائی جی سادی قسمت اچ کدو آیا کینیڈا اوتھے جانڑ دے تے بڑے پیسے لگدے میں ہنس دیا اور بولا میری جان میرے ہوندیاں پیسیاں دی ٹینشن نا لئے وہ ہنس کر مجھے دیکھ کر بولا بھائی جے اے ہوجاوے تے بڑی گل اے میں مسکرا دیا نصرت اسے ٹوک کر بولی جی نہیں بھائی صاحب کوئی کنیڈا شنیڈا نہیں جانا افی تے ایویں لگا رہندا اساں اودے جا کے کی کرنا اور ترچھی نظر سے مجھے دیکھا یہ سن کر نوشی کے تیور بگڑے پر وہ بہن کو کہ کچھ نا سکا صرف اتنا ہی کہ پایا باجی کی ہوندا اے جے میں کینیڈا وگ جاواں نصرت منہ نیچے کرکے بیٹھی تھی اس کا چہرہ ہلکی سی لالی سے بھر گیا تھا وہ کچھ لمحے ٹھہر کے اپنے کام میں مگن بولی بس مینوں نہیں پتا میں اکھ دتا تے نہیں جانا ساڈے اچ ایڈی ہمت نہیں یہ کہ کر اس نے مجھے عجیب نظروں سے غورا میں اسے دیکھ رہا تھا اس کی نظر مجھ سے ملی تو ااس نے آنکھیں چرا لیں اس کا چہرہ شرم سے بھر گیا۔ نصرت جانتی تھی کہ نوشی کے کنیڈا جانے کی قیمت اس نے میرے نیچے سو کر ادا کرنی تھی اس کےلیے یہ بہت بڑی قیمت تھی ایک لڑکی کے طاس اس کی عزت کے سوا ہوتا ہی کیا ہے نصرت کے پاس بھی عزت کے سوا کچھ نا تھا جسے اس نے ساری زندگی بچا کے رکھا تھا شاید اسے سب سے زیادہ اپنی عزت پیاری تھی ساری زندگی اس نے اپنی چادر کو میلا نہیں ہونے دیا حالنکہ وہ اپنی منہ زور جوانی کو کیش کروا سکتی تھی لیکن اسنے اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو داغ نہیں لگنے دیا تو وہ اب کیوں لگنے دے گی میں اس کے رنگ بدلتے چہرے اور بے بسی کو دیکھ کر شرمندہ سا ہوگیا میں نے سوچا کہ میں نے ساری زندگی کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھایا نصرت کو پھر میں نے بہن بنا رکھا تھا۔ میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑ دیا کہ میں نے یہ سوچ بھی کیسے لیا۔ نصرت جیسی پاک دامن لڑکی بھلا کیسے یہ سب میرے ساتھ کرے گی۔ مجھے لگا کہ میں نے خود ہی اپنے آپ کو اپنی نظروں میں گرا لیا ہے میرا دل دھڑک رہا تھا اور شرمندگی سے میں کچھ بول نا سکا تھا نصرت منہ جھکائے اپنے کام میں مگن تھی ایک لمحے کےلئے خاموشی سی چھا گئی نوشی بھی ناامید ہوکر اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا مدثرہ یہ بات سن کر چہک کر نوشی سے بولی واہ بھائی کینیڈا وت سانوں وی لئے جاویں میرا وی بڑا دل اے توں کینیڈا جا۔ نصرت نے رک کر اسے غورا تو مدثرہ بولی باجی کجھ نہیں ہوندا۔ بھائی کینیڈا جا کے افی دے پیسے واپس کر دیسی اوتھے کما کے اس اچ کی مسئلہ اے۔ ویسے وی سادے حالات ٹھیک ہو جاسن گے توں وی سارا دن مشین گیڑ گیڑ کے تھک جاندی اے تینوں وی سکھ ملسی۔ تیرے گوار میاں صاحب نوں تے تیری پرواہ ہے نہیں توں تے اپنی پرواہ کر لئے۔ نصرت نے رک ہر مدثرہ ہو دیکھا اور بولی سادے حالت ٹھیک ہین سانوں ککھ وی نہیں میاں نوں پرواہ نا ہووے میں کہڑا اس دی منتاں کر رہی ہاں تھوڑی بہت اپنی کما کے کھا رہی آں۔ آنٹی وی بولی نصرت تینوں کی اعتراض اے اے دوواں بھراواں دی آپس دی گل اے۔ مجھ سے بولی بیٹا کینیڈا دے تے بڑے پیسے لگ جانے کوئی نکے ملک اچ بھیج دے میں نے مسکرا کر آنٹی ہو دیکھا میں نصرت کی طرف دیکھا تو وہ منہ جھکا کے بیٹھی تھی مجھے اس کی بے بسی پر افسوس ہوا میرا دل بجھ سا گیا مجھے لگا کہ میں نے نصرت کے ساتھ زیادتی کی ہے یہ سوچ کر میں شرمندہ سا ہوگیا۔ مدثرہ بولی نہیں امی افی بھائی نوں کینیڈا لے جاوے نوشی اوتھے جا کے کما کے واپس کر دیسی مجھے مدثرہ کی بات اچھی لگی میں بولا ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں تسی فیصلہ کر لئو کس ملک جانا اوتھے پہنچا دیساں سال اچ کما کے واپس کر دیسی میری اس بات پر نصرت نے چونک کر نظر اٹھا کر مجھے دیکھا میں نے نصرت کو دیکھ کر شرمندگی سے نظر چرا لی اور مجھے اب اپنی بات پر افسوس ہو رہا تھا میں نوشی سے بولا کہ تم اپنا پاسپورٹ بنوا کر مجھے بتانا اور اسے کچھ ضروری ٹپس دے کر نکل آیا میں گاڑی میں بیٹھ کر اپنے کسی کام جانے لگا میرا دماغ ہی ماؤف ہوچکا تھا میں نے اپنے اتنے پرانے تعلق کو داؤ پر لگا دیا تھا میں بڑا شرمندہ تھا میں یہی سوچتا اپنے کام پر چلا گیا شام ہو گھر گیا اور سوچنے لگا کہ نصرت کے ساتھ اچھا نہیں کیا وہ تو مجھے اپنا بھائی سمجھتی اور میں اسے کس کام پر مجبور کر رہا ہوں یہ سوچ کر میں نے اپنے اپ کو برا بھلا کہا اور سوچا کہ صبح جا کر نصرت سے صلح صفائی کروں گا اور نصرت سے معافی مانگوں گا وہ بڑے دل والی ہے معاف کردے گی جس سے میرے دل کو تسلی ہوئی اور میں سو گیا میں صبح جاگا نہا دھو کر ناشتہ کیا کچھ کام نمٹا ہر گاؤں کی طرف چل دیا گاؤں پہنچ کر میں سیدھا ہی نصرت کے گھر گیا میں نصرت سے معافی مانگ کر اپنی شرمندگی مٹانا چاہتا تھا میرا دل تھا کہ میں نصرت کو مطمئن کردوں کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں وہ میری طرف سے اپنا دل صاف کر لے میں نے گاڑی کھڑی کی اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کچھ دیر بعد دروازہ کھلا سامنے نصرت کی چھوٹی بیٹی زرناب کھڑی تھی اس نے مجھے ایک نظر نیچے سے اوپر دیکھا وہ دوپٹے کے بغیر ہی تھی اس کا قد ٹھیک تھا پر وہ بالکل پتلی سنگلی پسلی باریک سی تھی میں نے اسے ایک نظر دیکھا تو اس کے سینے کی چھوٹی چھوٹی چھاتیاں تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھیں اس کا چہرہ بھی کچھ بتا رہا تھا مجھے اس کی تیز سانسیں کچھ بتا رہی تھیں میں سمجھ گیا کہ کچھ گڑ بڑ ہے مجھے لگا کہ نصرت گھر پر ہوگی اس نے کیا کرنا ہے کھیل رہی ہوگی اس لیے سانس چڑھا ہوگا میں اندر داخل ہوگیا تو وہ مجھے دیکھتی ہوئی پیچھے ہٹ سی گئی میری نظر اسی کی اوپر نیچے ہوتی چھاتیوں پر تھی زرناب نئی نئی جوان ہو رہی تھی اس میں اگ کوٹ کوٹ کر بھری تھی اس کے جسم کی شیپ سے لگ رہا تھا جب جوانی پیک پر ائے گی تو جان نکال لے گی۔ ابھی سے ہی اس کا انگ انگ قیامت ڈھا رہا تھا میں نے اندر آکر اسی کی انکھوں میں دیکھا تو زرناب مجھے گہری نظروں سے غور رہی تھی اس کی انکھوں میں بلا کی شہوت اتری تھی میں چونک سا گیا کہ اتنی سی عمر کی لڑکی میں اتنی آگ میں زرناب کی نظروں کو غورا تو زرناب نے ایک ادا سے مجھے دیکھ کر اپنی کوٹی گہری آنکھیں میری انکھوں سے لاک کر لیں میرا دل دھڑک سا گیا اور میں کانپ گیا زرناب کی شہوت مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی میرے اندر ہلچل ہونے لگی تھی میں حیران تھا کہ اتنی چھوٹی سی عمر کی لڑکی میں اتنا جادو کہاں سے آگیا میں اسے دیکھ رہا تھا اور زرناب بھی بغیر چونکے میری انکھوں میں بے جھجھک دیکھ رہی تھی میں نے اندر گھر میں آ کر اس سے نظریں چرا لیں اس کی انکھوں میں عجیب گرمی تھی جو میں مزید برداشت نا کر پایا میں نے ادھر ادھر کا جائزہ لیا اور بولا نصرت کدے ہے زرناب بولی امی باہر گئی اے وجیہ نوں درزائن ال چھوڑن۔ میں چونکا اور میں سمجھ گیا کہ زرناب کا سانس کیوں پھول رہا تھا۔ میں نے زرناب کو دیکھا تو اس نے اپنے بالوں کی چٹکی اٹھا کر اپنے سینے پر رکھ کر ایک ادا سے مجھے دیکھا اور ہلکا سا مسکرا گئی میں اس کی ادا سے سمجھ گیا میں بولا توں گھر اچ ہکلی اس نے مسکرا کر کاندھے اچکائے اور بولی مڑ کی مینوں گھر اچ کی ہونا میں مسکرا دیا اور اگے چل کر صحن میں چارپائی پر بیٹھ کر بولا ضروری نہیں کہ لکھ ہونا ہوندا۔ چھوریں نوں گھر اچ ہکلا نہیں رہنا چاہی دا وہ مسکرا کر مجھے ایک ادا سے دیکھ کر بولی افی صاحب جدو لڑکی دا دل ہووے اس نوں 7 پردیاں اچ رکھ لئو تے او وت وی نہیں قابو اندی۔ میں اس کی بات پر چونک گیا اور اسے دیکھ کر بولا زرناب توں تے وڈی ہو گئی ایں زرناب ہنس دی اور میرے پاس اکر بیٹھ گئی اور بولی جناب تھوانوں کی لگدا ناں ہوواں وڈی میں مسکرا کر بولا نہیں ہو وڈی پر کجھ قابو اچ وی رہو میں نے ڈایریکٹ فائر کیا زرناب مسکرا دی اور ایک مست نظر مجھ پر ڈال کر بولی میں کتھے حد اچو باہر ہوئی ہاں میں چونک گیا میرے پاس کوئی جواب نا تھا میں اسے اب کیا جواب دیتا۔ میں ایک لمحے تک چپ سا ہوگیا پھر میں نے اپنی بات بدلی اور بولا پڑھدی کس کلاس اچ ایں وہ بولی 9تھ کلاس اچ پڑھدی آں میں مسکرا کر بولا کتنی عمر اے تیری وہ میری انکھوں میں انکھیں ڈال کر بولی پندرہ سال ہو گئی ہن سولہویں اچ ہاں۔ میں مسکرا کر بولا عمر ویکھ تے گلاں ویکھ زرناب مجھے مست نظروں سے دیکھے ہی جا رہی تھی میں نظر چرا لی زرناب بولی جناب گلاں نال پتا نہیں لگدا وڈے نکے دا میں چونک گیا اور اسے غور کر دیکھا وہ میری آنکھوں میں مستی سے ابھی تک دیکھ رہی تھی میں بولا وت کیویں پتا لگدا تسی دس دیو اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا زرناب کا گورا چہرہ گلابی رنگ سے چمک رہا تھا زرناب کی گالوں پر گلابی لالی اتر کر اسے خوبی کی طرح بنارہی تھی میں اس پر مر سا گیا تھا اس کے پاس بیٹھنے سے زرناب کی مہک میرے اندر اتر کر مجھے مدہوش بنا رہی تھی مجھ سے رہا نہیں جا رہا تھا زرناب تھی تو چھوٹی سی لڑکی پر وہ بڑی بڑی جوان لڑکیوں سے بھی ظالم اداؤں کی مالک تھی جو مجھے نڈھال کر چکی تھی اس نے مسکراتی انکھوں سے مجھے دیکھا اور بولی جناب تسی آپ چیک کر لئو ہتھ لا کے کہ میں وڈی اں کے نکی میں اس کی اس بات پر چونک سا گیا اور زرناب جو دیکھا زرناب نے گلابی انکھیں میری انکھوں گاڑ کر مجھے مست نظروں سے دیکھ کر تسخیر کرلیا میں زرناب کے اس حملے سے بوکھلا سا گیا اور کچھ بول نا سکا زرناب مجھے دیکھتی ہوئی مسکرا رہی تھی میرا دل پھڑک رہا تھا میں بولا اے توں کی اکھ رہی ہیں۔ زرناب مسکرا کر بولی کیوں میں کجھ غلط اکھیا میں بولا زرناب اے غلط ہی ہے۔ وہ تھوڑی سخت لہجے میں بولی اے ہے وا جی وا۔ وجیہ نال سہی اے تے میرے نال غلط وا جناب میں چونک گیا اور زرناب کو دیکھ کر بولا زرناب اے ٹھیک نہیں اے زرناب بولی کیوں ٹھیک نہیں وجیہ نال وت کیویں ٹھیک ہے۔ اس نال وی غلط اے یا اور میرے نالو ڈھیر سوہنی اے اس بات سے مجھے جلن سی محسوس ہوئی میں سمجھ گیا کہ زرناب مجھے اس کے ساتھ دیکھ کر جل رہی تھی اب یہ بھی حساب برابر کرنا چاہتی اے میں بولا ایسی گل نہیں زرناب توں نکلی ہیں ہلے یہ سن ہر زرناب تیزی سے بولی توں رہن دے میں نکی کوئی ناں توں مینوں ازما تے سہی میں تینوں مایوس کراں تے توں مینوں جو مرضی سزا دے لئے میں زرناب کے اس رویے سے حیران بھی تھا اور مچل بھی رہا تھا کہ اسے کیا ہوگیا اس کے اندر اتنی اگ کہاں سے بھر ائی یہ کہ کر وہ اٹھ کر میرے قریب آ کر کھڑی ہوگئی اور بولی افی ہک واری مینوں چکھ تے سہی مزہ ناں دیواں تے اکھیں میں حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا وہ میرے اتنے قریب ا کی تھی کہ اس کے جسم سے نکلتی آگ مجھے محسوس ہورہی تھی اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور دبا کر مجھے دیکھ کر پھر خود ہی میری ران پر آکر بیٹھ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا کر دبا کر چوسنے لگی میں زرناب کے چھوٹے سے منہ کے موٹے نرم ہونٹوں کو منہ پر محسوس کرکے مچل گیا زندگی میں پہلی بار زرناب جیسی جوان لڑکی کا لمس پا کر میں بے قابو سا ہوگیا زرناب میرے ہونٹوں کو دبا کر چوس رہی تھی میں کراہ کت مچل سا گیا اور بے اختیار ہاتھ اٹھا کر زرناب کے چھوٹے سے تنے ہوئے ممے پر رکھ کر دبا کر فل منہ کھولا کر زرناب کا منہ اپنے منہ میں بھر کر چوس لیا جس سے زرناب کا چھوٹا سا مما میرے ہاتھ میں دب گیا جس سے زرناب کرا کر غراتی ہوئی کانپ زرناب کا جسم تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی غراہٹیں میرے منہ میں دبنے لگیں زرناب کی مزے سے بکاٹیاں نکلنے لگیں زرناب اپنا منہ میرے منہ خود ہی دبا کر بکانے لگی تھی اس کا جسم مزے سے تھر تھر کانپنے لگا میں نے زرناب کو کمر سے پکڑا اور کھنچ کر اپنی جھولی میں بیٹھا کیا زرناب خودبخود ہی میری جھولی میں چلی آئی اور جلدی سے میری جھولی میں بیٹھ کر اپنی ٹانگیں میری کمر سے لیٹ کر مجھے اپنے چڈوں میں دبوچ کر کراہ گئی میں نے زرناب کی قمیض کو ہاتھ ڈالا تو زرناب نے جھٹ سے خود ہی اپنا قمیض کھینچ کر اتار دیا جس سے زرناب کی باریک پتلا سا دودھ کی طرح گورا بدن میری آنکھوں کے سامنے چمکنے ہگا زرناب کی نئی نئی ابھرتی چھاتیاں تن کر کانپ رہی تھی زرناب کی چھاتیوں پر گلابی نپلز قیامت ڈھا رہی تھے میں نے دونوں ہاتھوں سے زرناب کی چھاتیاں دبا لیں زرناب کی چھاتیاں ابھی بڑی ہو رہی تھی وہ ابھی نئی نئی جوان ہو رہی تھی فل پکنے ہے قریب ہی تھی میرے ہاتھوں میں زرناب کی چھاتیاں بھر گئی جس سے زرناب نے کرلا کر بکاٹ بھری جو صحن میں گونج گئی میں نے نیچے یوکر زرناب کی چھوٹی چھوٹی چھاتیاں اپنے ہونٹوں میں بھر ہر دبا کر چوس لیں زرناب کراہ کر کانپنے لگی زرناب کا جسم تھر تھر کانپنے لگا میں نے زور لگا کر زرناب کی ایک چھاتی دبا کر چوسکر منہ میں کھینچ ہر دبا لی جس سے پوری چھاتی میرے منہ میں بھر گئی زرناب کی چھاتی کی گلٹیاں مجھے محسوس ہونے لگی میں نے نپل پر زبان پھیری جس سے زرناب کرلا کر بکا گئی اور مچھلی کی طرح کانپتی ہوئی ہلکی سے چیخی ساتھ ہی زرناب کا جسم تھر تھر کانپتا ہوا میرے ہاتھ سے چھوٹنے لگا جس سے میں چونک سا گیا کہ اسے کیا ہوا اور پیچھے ہوا تو سا تھ ہی زرناب کی بکاٹی نکلی اور زرناب کی پھدی سے لمبی پانی کی دھار نکل کر زرناب کی شلوار گیلی کر گئی جس سے میں سمجھ گیا کہ زرناب میری ایک چوس برداشت نہیں کر پائی زرناب نے تڑپتے ہوئے کراہ کر اگے میری گردن میں باہیں ڈال کر اپنے ہونٹ دبا کر میرے ہونٹوں پر رکھ کر چوستی ہوئی پانی کی دھاریں مرتی چھوٹتی ہوئی پرسکون ہوکر مجھے چوسنے لگی زرناب کا جسم ابھی تک کانپ رہا تھا میں زرناب کی پک کر ابلتی جوانی کی تھوک نگل کر مزے سے پاگل ہو تہا تھا زرناب سرگوشی سے بولی میری جان ہن پتا لگا کہ نہیں میرے وڈیاں ہوونڑ دا میں ہنس کر بولا زرناب توں تے بہوں وڈی ہو گئی ایں زرناب بولی وت کی خیال اے میں چونک کر بولا کس دا وہ بولی اندر چل دسدی اں میں زرناب کر اٹھا کر اندر لایا اور زرناب کو بیڈ پر لٹا کر زرناب کے اوپر لیٹ کر زرناب کو چومنے لگا زرناب ہانپتی ہوئی میرے ساتھ مجھے چومتی ہوئی سسک رہی تھی میں بولا زرناب اے کتھو سکھیا ہئی زرناب مسکرا دی اور میری انکھوں میں دیکھ کر بولی زمانا بڑا خراب ہے سب کجھ سکھا دیندا میں ہنس دیا زرناب بولی تینوں مزہ ایا کہ نہیں میں بولا ایڈی جلدی وہ بولی کیوں میں بولا سارا مزہ توں ہی لیا ہے مینوں تے دتا ہی نہیں زرناب مسکرا دی اور بولی وت مزہ لئے نا رک کیوں گیا ایں میں بولا نصرت کس ٹائم انا زرناب بولی اوہ تے آنڑ الی ہونی میں بولا فر انج تے مزہ نہیں آنا وہ بولی کیوں میں بولا ٹائم لگ جانا زرناب بے قراری سی بولی وت ہک واری پھدی تے ویکھ لئے میری یہ سن کر میں پیچھے ہوا زرناب کی شلوار کھینچ دی شلوار نے خود ہی اپنی پتلی ٹانگیں اٹھا لیں جس سے زرناب کی ٹانگوں کے درمیان چھپی چھوٹی سی بند ہونٹوں والی پھدی کھل کر سامنے اگئی جو پانی سے بھری تھی میں نے زرناب کی پتلی ٹانگیں پکڑ کر اوپر کیں دبا کر زرناب کی ٹانگیں اس کے کاندھوں سے ملا دیں جس سے زرناب کی چھوٹی سی بند ہونٹوں والی پھدی کھل کر میرے سامنے اگئی زرناب کے چھوٹے چھوٹے چتڑ بھی فل کھل کر کانپنے لگی ٹانگیں دبانے سے زرناب دوہری ہو کر کراہ کر بکا سی گئی اور تھر تھر کانپنے لگی زرناب کی کمر دوہری ہو چکی تھی زرناب کی پھدی کے ہونٹ کھل رہے تھے اور زرناب اپنی جوانی میں قدم رکھ رہی تھی میں پھدی کے قریب ہوا تو پھدی پچ پچ کرتی کھل کر بند ہوتی ہلکا ہلکا پانی چھوڑتی پھدی کا گلابی دہانہ پچ پچ کر رہا تھا پھدی کا نکلتا دانہ بھی لال گلابی تھا زرناب کی پھدی فل پک چکی تھی اور لن مانگ رہی تھی پر زرناب کی جسامت بہت پتلی اور چھوٹی تھی لگتی وہ بالکل بچی تھی پر زرناب پوری جوانی میں داخل ہو چکی تھی وہ کھانے کے لائق تھی میں نے کراہ کر زبان نکالی اور پھدی کے دہانے پر رکھ کر زرناب کی ھدی نیچے سے اوپر کر کس کر چاٹ لی میرہ زبان پھدی پر محسوس کرکے زرناب کرلا کر کراہ کر تڑپ کر مچھلی کی طرح تڑپ اور ہانپتی ہوئی کراہ ے لگی زرناب کی پھدی کا نمکین ذائقہ مجھے نڈھال کرگیا میں ہانپ کر بے اختیار منہ کھولا اور زرناب کی پھدی پر رکھ کر دبا کر چوس لیا زرناب کی پھدی اتنی چھوٹی تھی کہ ساری پھدی میرے کھلے منہ میں بھر ائی جسے میں دبا کر چوستا ہوا چاٹتا اس پر دانت رگڑنے کگا جس سے زرناب کی بکاٹی نکل کر گونج گئی اور زرناب جھٹکے مار کر تڑپتی ہوئی اچھلی اور کوکتی ہوئی کرلا کر جھٹکا مار کر ایک لمبی پانی کی دھار میرے منہ میں مار کر فارغ ہوگئی زرناب کی پھدی سے نکلنے والی منی کی دھار اتنی لمبی تھی کہ میرا منہ بھرر گیا اور میرا سانس بند ہونے لگا جس سے میں پیچھے کر کرا گیا زرناب تڑپتی ہوئی بکا کر پانی کی دھاریں مارتی فارغ ہوکر پر سکون ہو گئی زرناب کا جسم تھر تھر کانپنے لگا اور زرناب کراہنے لگی میں زرناب کے اوپر ہوا تو زرناب ہینگ رہی تھی میں اوپر ہو کر زرناب کا منہ کھولا اور اسکی ساری منی اس کے منہ میں انڈیل دی جس منہ میں کے کر وہ کراہ کر انکھیں کھول کر مجھے دیکھا اس کی انکھوں میں لال ڈورے ابھر ائے تھے اس کا منہ لال ٹماٹر کی طرح ہوگیا زرناب نے گھونٹ بھر کر کانپتی آواز میں اففففف جانی میں تے مر گئی تو تے بہوں سواد دیندا ایں۔ میں زرناب کے ہونٹ چوسنے لگا زرناب بولی جانی میری منی تے بڑی سواد ہا توں نہیں پیتی میں ہنس دیا اور اسے چومنے کگا زرناب بولی توں مینوں دو واری مزہ دتا توں اپ لیا کے نہیں میں بولا کیویں لواں۔ لے تینوں تے رجا لواں وہ بولی تے تے لئے نا مزے میں بوکی دے نا۔ اس نے میری انکھوں میں نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا میں ہنس دیا اور بولا کدی چوپا ماریا ہئی وہ ہنس کر بولی ماریا تے نہیں پر ویڈیو اچ ویکھیا اے میں بولی ویڈیو کتھو ویکھی ہئی وہ بولی سانوں ہک استاد ٹیوشن پڑھانڑ اندا سکول اچ او ویڈییو وکھاندا اے میں بولا اس آکھیا تے کجھ نہیں وہ بولی نہیں میری سہلیاں اس دے چوپے ماردیاں ہین پر میں اس دی صرف مٹھ ماردی ہاں۔ میں بڑا حیران ہوا کہ یہ سب اس نے وہیں سے سیکھا ہے۔ زرناب دیکھ دیکھ کر جلدی جوان ہو گئی میں بولا توں کیوں نہیں ماردی زرناب بولی اسدا لن ہک تگ نکا جیا ہے تے میریاں سہیلیاں چوپے مار کے جھوٹا کردتا میرا دل نہیں کردا اس دے چوپے مارن تے میں زرناب کے نخروں پر ہنسدیا اور بولا تینوں لمبا لن چاہی دا اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور ہاں میں سر ہلا کر بولی میں تے اس پن دا چوپا مارساں جو صرف میرا ہووے تے لما ہووے میں بولا وت اسدا مطلب توں سادے لن نوں تے چوپے نا مارسیں زرناب چونک کر بولی کیوں تیرا وی نکا اے میں ہنس کر بولا اپ ویکھ کئے یہ کہ کر میں اس کے ساتھ لیٹ گیا وہ اوپر اٹھ کر بیٹھ گئی اس کا ننگا جسم کپڑوں سے الگ ہوکر اور زیادہ چھوٹا ہوگیا تھا وہ اتنی چھوٹی تھی کہ بالکل گڑیا سی لگ رہی تھی پر وہ تھی پوری جوان وہ بھی گرمی سے فل میں اس کا پتلا بارک جسم دیکھ کر مچل رہا تھا میرا لن تن کر کھڑا تھا زرناب نے اوپر اکر میری پینٹ کھولی اورمیری زپ کھول کر میرا لن باہر کھینچ لیا میرا کہنی جتنا لمبا موٹا کالا لن نکل کر زرناب کے سامنے لہرانے لگا جسے دیکھ کر زرناب ڈر کر پیچھے ہو گئی زرناب کی گھٹی سی چیخ نکلی اور وہ جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی نی اماں میں مر جاواں ایڈا وڈا لن افی میں مرجاواں قسمیں ایڈا لن اج تک نہیں ویکھیا وہ مست نظروں سے مسلسل میرے لن ہو غور رہی تھی وہ ٹکٹی باندھے لن کو ہی دیکھ رہی تھی جیسے اس کی پسندیدہ چیز سامنے اگئی ہو میں ہنس جر بولا سنا ہن چوپا مارسیں ہے نہیں زرناب مچل کر بولی میں مرجاواں چوپا کی تو آکھ تے اپنے اندر لل لواں سارا میں ہنس کر بولا فل حال چوپا مار کے فارغ کر یہ سن کر زرناب اگے ہوئی اور میرے لن کو اپنی چھوٹے سے نرم ہاتھوں میں پکڑ کر مسلا میں زرناب جے نرم ہاتھوں کا لمس محسوس کرکے کانپ کر تھوڑا اٹھ سا گیا جس سے میری گانڈ اوپر ہو گئی زرناب نے ہانپتے ہوئے منہ نیچے کیا اور میرے لن کا ٹوپہ چوم لیا جس سے میری اور زرناب کی اکھٹی سسکی نکلی اور زرناب کراہ کر ہانپ گئی زرناب نے پھر میرے لن کو چوما اور اپنا ناک میرے لن کے ساتھ لگا کر میرے لن کو سونگھ کر بولی افففففف میری جان میرے شہزادے دی خوشبو کتنی مزیدار ہے یہ کہ کر زرناب نے زبان نکالی اور میرے لن کو سائیڈ سے چاٹ کر زبان منہ میں لے جا کر بولی اففف افی ذائقہ وی بڑا شاندار اے اور منہ کھول کر میرے لن ہے ٹوپے کو ہونٹوں میں بھر کر دبا کر چوس لیا میں سسک کر کراہ سا گیا زرناب کے نرم ہونٹوں کی رگڑ میری جان ہے گئی اور میں کراہ کر کرلا سا گیا زرناب نے لن کو چوپا مار کر چھوڑ کر ہانپتی ہوئی سسکنے لگی میں زرناب کے ہونٹ کا لمس لن پر محسوس کرکے تڑپ گیا زرناب نے تک کر منہ کھولا اور میرے لن کا ٹوپہ منہ میں دبا کر چوس لیا جس سے میں تڑپ کر کرلا گیا زرناب کے منہ کا دہانہ چھوٹا تھا جس سے میرے لن کے ٹوپے کو ہی صرف منہ میں بھر کر چوس سکی میں زرناب کی گرمی سے پہلے ہی نڈھال تھا زرناب کے منہ کے چوپے نے میری جان کھینچ لی جس سے میں بیڈ سے اوپر ہو کر تڑپ کر بکا کر جھٹکا مارا اور ایک لمبی منی کی دھار سیدھی زرناب کے گلے میں ماری جو زرناب کے منہ سے زیادہ تھی جسے زرناب نے منہ میں دبا لیا زرناب میری منی کو منہ میں محسوس کر کے کراہ کر کانپ سی گئی اور گھٹی گھٹی چیخ مار کر میری منی پینے لگی میری منی زرناب کے منہ سے زیادہ تھی جو بہنے لگی میں جھٹکے مارتا زرناب کے منہ میں فارغ ہونے لگا جو مزہ آج زرناب نے دیا تھا وہ زندگی میں کبھی نا مل سکا تھا میں کراہ کر تڑپ کر زرناب کے منہ میں فارغ ہورہا تھا زرناب کچھ منی تو پی رہی تھی کچھ اس کے منہ سے بہ رہی تھی میں زرناب کے منہ میں فارغ ہو چکا تھا آخری دو تین جھٹکے ہی تھے کہ اتنے میں دروازہ کھلا اور نصرت اندر آگئی سامنے اپنی بیٹی زرناب کو ننگا دیکھ کر نصرت کی چیخ نکل گئی اور وہ بولی اوئے ہالنی اماں میں مر جاواں نی رڑا ہووی اے کی گند کیتی پئی ایں ہم بھی اس کے آنے سے بوکھلا گئے میں ہڑبڑا کر جلدی سے اٹھ گیا زرناب بھی اچھل کر پیچھے جا پڑی اور ہانپتی ہوئی اپنی ماں کو دیکھنے لگی نصرت کی نظر میرے کہنی جتنے لن پر پڑی اس نے ایک لمحے میرے لن کو دیکھا اور مجھے غور کر گہری آنکھوں سے دیکھ کر بغیر کچھ کہے پلٹ گئی میری تو ساری گرمی ہوا ہو گئی میرا لن بیٹھ چکا تھا زرناب بت بنی بیٹھی تھی میں نے نصرت کے پلٹنے پر سر پر ہاتھ رکھ کر بولا اففففف زرناب توں اے کروا دتا میرے کولو میں خود کو ملامت کرتا اوپر ہوا اور خود کو ٹھیک کیا میں نے بیڈ پر بیٹھ کر نصرت کا انتظار کرنے لگا کہ وہ اب واپس آکر میری بجائے گی میں سوچتا خود کو برا بھلا کہتا رہا مجھے زرناب کی کوئی فکر نہیں تھی مجھے اب اپنی فکر تھی میں چاہ کر بھی کچھ نا کر پایا مجھے کچھ سمجھ نا آیا میرا دل کیا نصرت کے آنے سے پہلے بھاگ جاؤں میں اٹھا اور باہر دیکھا تو کوئی نا تھا میرا رنگ اڑا ہوا تھا اور میں پسینے سے شرابور بھا گتا ہوا نصرت کے گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ گیا میں تھر تھر کانپتا سوچ رہا تھا کہ کتنی بڑی چول ماردی ہے۔ وہ تو بچی تھی تو تو سمجھدار تھا سارا مدعا مجھ پر گرنا تھا کہ میں اس پر زبردستی کر رہا تھا۔ نصرت پتا نہیں کیا کرے گی میں سوچ رہا تھا کہ اب وہ نہیں چھوڑے گی میرے ذہن میں عجیب سے وسوسے آکر گھوم رہے تھے میرے اندر سے جان ہی ختم ہو چکی تھی بڑی مشکل سے گاڑی کھینچ کر گھر آیا میرا سر پھٹ رہا تھا اتنا بڑا بلنڈر کرکے ا رہا تھا میں سوچ رہا تھا کہ میری ایک چول کی وجہ سے میرا نصرت کے ساتھ سالوں کا رشتہ میں نے اپنے ہاتھوں سے دفن کردیا تھا میں سر ہاتھ مارتا خود کو کوستا سو گیا 

The post تڑپتی پھڑکتی جوانیاں 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%aa%da%91%d9%be%d8%aa%db%8c-%d9%be%da%be%da%91%da%a9%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-2/feed/ 0
راز محبت 6 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6/#respond Mon, 15 Dec 2025 15:02:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6/  

The post راز محبت 6 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

The post راز محبت 6 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6/feed/ 0
راز محبت 6 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6-2/#respond Mon, 15 Dec 2025 15:02:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6-2/  

The post راز محبت 6 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

The post راز محبت 6 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-6-2/feed/ 0
گھر کا پیار صفہ#1 https://urdustoryclub.com/%da%af%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d8%b5%d9%81%db%811/ https://urdustoryclub.com/%da%af%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d8%b5%d9%81%db%811/#respond Mon, 15 Dec 2025 14:37:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%da%af%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d8%b5%d9%81%db%811/   ابو-ریاض عمر-55سال امی-شبنم عمر-40سال بہن۔ نازنین بہن-ثنا اب آپ کو اپنی کہانی سناتا ھوں امی ابو بینک میں جاب کر تے ہیں اور میرا اپنا الیکڑانکس کا بزنس ھے میری ھوم الیکڑانکس کی دوکان ھے میری دونوں بہنں کالج میں پڑھتی ہیں ھمارے گھر کا ماحول بھی دوسرے گھروں کی طرح تھا سب لوگ […]

The post گھر کا پیار صفہ#1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

ابو-ریاض عمر-55سال

امی-شبنم عمر-40سال

بہن۔ نازنین

بہن-ثنا

اب آپ کو اپنی کہانی سناتا ھوں امی ابو بینک میں جاب کر تے ہیں اور میرا اپنا الیکڑانکس کا بزنس ھے میری ھوم الیکڑانکس کی دوکان ھے میری دونوں بہنں کالج میں پڑھتی ہیں ھمارے گھر کا ماحول بھی دوسرے گھروں کی طرح تھا سب لوگ اپنے کاموں میں مصروف امی ابو اپنی جاب پر بہنں اپنی پڑھای میں اور میں اپنے بزنس میں سب کچھ نارمل چل رھا تھا میں گھر میں بڑا ھوں اسکے بعد میری بہن نازنین ھے جسکو پیار سے سب نازی کہتے ہیں پھرثنا ھے اسکو بھی پیار سے ثانی کہتے ھیں ابو ٹھورے سیرس اور سخت مزاج کے ھیں ھم لوگوں کا ماھول فرینڈلی ھے امی اور بہنوں کے ساتھ ہلکا پھلکا ہنسی مزاق چلتا رہتا ھے

سیکس کیس طرح شروع ھوا اور پھر میری دنیا ہی بدل گی دونوں بہنوں کے ساتھ ساتھ امی کے ساتھ بھی سیکس لایف شروع ھوگی

ھم لوگ رات کا کھا نا سب ساتھ کھاتے ہیں

مِیں دوکان سے گھر آیا اور فریش ھو کر سب کے ساتھ کھا نا کھا یا

کھانا کھا کر میں باھر فرینڈ کے پاس چلا گیا میں روز کھانا کھانے کے بعد کچھ ٹائم کے لیے فرینڈ کے ساتھ ٹائم پاس کرتا تھا

رات کو واپس گھر آیا تو سب لوگ سونے کے لیے اپنے روم میں چلے گے تھے امی ابو اور بہنوں کا روم نیچے ھے اور میرا روم اوپر ھے

جب میں گھر آیا تو ٹی وی لاونج میں نازی ٹی وی دیکھ رھی تھی

نازی کیا ھوا تم سوی نی نازی بولی بھای نیند نہی آرھی اور صبح کالج بھی آف ھے اس لیے جاگ رھی ھوں ثانی سوگی بور ھو رھی تھی تو ٹی وی دیکھ رھی ھوں میں بھی ٹی وی لاونج میں نازی کے پاس بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا نازی نے ٹراوز اور لوز سی ٹی شرٹ پہنی ھوی تھی نازی اور میں ٹی وی دیکھ رھے تھے میں نے کہا نازی ایک کپ چاے بنادو نازی بولی اچھا بھائ بناتی ھوں میں بولا میں جب تک چینج کر کے آتا ھوں میں اوپر آیا اور ٹراوزر اور بنیان میں نیچے آگیا نیچے آیا تو نازی کیچن کے باھر کھڑی تھی میں بولا کیا ھوا باھر کیوں کھڑی ھو نازی بو لی بھای کیچن میں چھپکلی آگی ھے میں بولا یار تم بھی بہت ڈرپوک ھو چلو دیکھاو کہاں ھے

میں نازی کے ساتھ کیچن میں گیا تو سامنے کیبنٹ کے پاس ایک چھپکلی تھی اسکو وھاں سے بھگا دیا لو نازی اب چلی گی اب تم چاے بنا لو نازی بولی بھای آپ یہں رکیں میں چاے بنا لوں میں بولا اب نہی آے گی نازی بولی نی بھای میجھے ڈر لگتا ھے آپ نے چاے پینی ھے تو مرے ساتھ رہیں میں بولا ٹھیک ھے میں کیچن میں ھی ھوں تم چاے بناو نازی نے چاے کا پانی چولھے پر رکھا کر بولی بھای کیبنٹ سے میجھے پتی اور چینی نیکال کر دیں نازی میرے آگے کھڑی تھی میں نازی کے پیچھے کھڑا ھو کر کیبنٹ سے پتی اور چینی نیکال رھا تھا نازی کے پیچھے کھڑا ھو کر میں نے چاے کا جار نیکال کر نازی کو دیا جب جار نیکال کر نازی کو دیا تو میرا لن نازی کی گانڈ سے ٹچ ھو گیا نرم نرم چوٹر سے لن ٹیچ ھوتے ھی ھوشیار ھو گیا اور لن نازی کی نرم نرم گانڈ کو اپنے ھونے کا احساس دلانے لگا نازی کو جب لن فیل ھوا تو وہ ایکدم ساکت ھو گی میں نے جار نیکال کر اس کو دیا تو لن اسکی گانڈ کو پوری طرح فیل کروا چکا تھا نازی نے پتی کا جار لیا اور بولی بھای آپ لاونج میں بھٹیں میں چاے لے کر آتی ھوں یہ ھم دونوں کے ساتھ فرسٹ ٹا یم ھوا تھا اور مجھے بھی عجیب لگا کے یے اچانک کا ھوگیا میں کچھ نہں بولا اور لاونج میں آکر بیٹھ گیا نازی چاے لے کر لاونج میں آگی اس نے مجھے چاے دی اور اپنے کمرے میں جانے لگی میں بولا نازی کیا ھوا بیٹھو نازی بولی نہں بھای آپ دیکھیں میجھے نیند آ رھی ھے مجھے اب شرمندگی ھو رھی تھی کے نازی میرے بارے میں کیا سوچے گی کے اس کے سگے بھائ نے بہن کی گانڈ سے لن ٹچ کیا اسی بات کو سوچتے ھوے میں نے چاے ختم کی ٹی وی آف کیا اور اپنے روم میں آکر سو گیا صبح میرے روم کا دروازہ کھلا نازی نے میجھے آواز دی بھای دس بج گے ھیں میں نے آنکھں کھولیں تو نازی مرے روم کے باہر کھڑی میجھے آواز دے رھی تھی میں نے اسکو دیکھا تو وہ رات والے کپڑوں میں تھی اسکو دیکھتے ھی میجھے رات والی بات یاد آگی اس کو دیکھتے ھوے میں بولا تم کالج نی گیں وہ بولی بھای آج میرا آف ھے میں بولا اور ثانی نازی بولی ثانی کالج چلیگی میں بولا تم چلو میں فریش ھو کر آتا ھوں میں باتھ روم گیا فریش ھو کر نیچے آیا تو نازی کیچن میں تھی امی ابو بینک چلے گے تھے میں کیچن میں گیا تو نازی ناشتہ بنا رھی تھی میں نے نازی سے پوچھا چھپکلی چھپکلی تو نی آی نازی بولی نی بھای ابھی تو نی ھے میں نے نازی سے کہا نازی گلاس دو نازی نے میجھے گلاس دیا اور میں فریج سے پانی نیکال کر پینے لگا اور اچانک مری نظر نازی کی گانڈ پر جا کر رک گی آج میں

نے اپنی بہن کو سیکس کی نظر سے دیکھا نازی کی گانڈ تھوڑی باھر کو نکلی ھوی بہت پیاری لگ رھی تھی میں پانی پیتے ھوے اپنی بہن کا گانڈ کا نزارہ کر رھا تھا ٹراوزر میں اس کی گانڈ بہت سیکسی لگ رھی تھی دل کر رھا تھا کے لن پھر ٹیچ کر دوں لیکن ہمت نہی ھو رھی تھی لن بہی گانڈ کو ہلتا دیکھ کر کھڑا ھو رھا تھا کے نازی نے میجھے مڑ کر دیکھا اور بولی بھائ کیا ھوا میں بولا نی کھچ نی میں بولا میں تو اس لے کھڑا ھوں کو ی کام تو نی ھے نازی بولی بھای نہں ابہی نی جب ھو گا تو میں آپ کو آواز دے دوں گی

میں نے ٹی وی آن کیا اور ٹی وی دیکھنے لگا تھوڑی دیر کے بعد نازی نے آواز دی بھائ ادھر آین میں کیچن میں گیا تو نازی چاے نیکال رہی تھی اسکی بیک میری طرف تھی نازی بولی باھئ یہ پراٹھے ٹیبل پر رکھیں میں آگے بھڑا اور پھراٹھے اٹھاتے ھوے لن نازی کی گانڈ سے ٹچ کیا اور پراٹھے لاکر ٹیبل پر رکھے تو پھر نازی نے آواز دی بھائ انڈ ے بی لےجایں میں پھر کیچن میں گیا اور انڈے کی پلیٹ اٹھاتے ھوے لن کو پھر گانڈ سے ٹچ کیا اور اس دفہ پھر لن کو جھٹکا لگا میں انڈے کی پلیٹ لے کر کیچن سے باھر آگیا اور پھر نازی بہی چاے لے کر باھر آگی نازی اور میں نے ناشتہ کیا نازی کیچھ بول نی رھی تھی میں بولا نازی کیا ھوا چپ کیوں ھو نازی بولی نی بھای کیچھ نی میں بولا کچھ تو ھے نازی بولی نہں بھائ کوی بات نی ھے میں چپ ھو گیا ناشتہ کرنے کے بعد نازی نے برتن اٹھاے اور کیچن میں رکھنے لگی میں نے بہی اسکی مدد کی اور اسی دوران لن کو ٹچ کرنے کا موقع ملا اب مزا آنے لگا تھا میں کیچن سے باھر آگیا اور ٹی وی دیکھنے لگا میں دوکان پر 2بجے جاتا ھوں کیونکہ کراچی میں مارکیٹ 1بجے تک کھلتی ھے ابھی 11بجے تھے میں ٹی وی دیکھتے ھوے نازی کے بارے میں ھی سوچ رھا تھا کہ نازی بہی آگی نازی باھی دوپھر کاکھانا کھا کر جایں گے میں نے اسکی طرف دیکھا تو میری نظریں اسکے مموں پر رک گی برتن دھوتے ھوے نازی کے شرٹ سامنے سے گیلی ھو گی تھی جسکی وجہ سے نازی کی پینک کلر کی برا نظر آ رھی تھی اس سے پھلے میں نے کبھی ایسے نی دیکھا تھا کیونکہ امی اور دونو بہنں کبھی مرے سامنے ڈوبٹہ نہں لےتی تھیں جب ابو آتے جب ڈوبٹہ لےتی تھیں پھلی دفہ نازی کہ مموں کو دیکھ رھا تھا گیلی شرٹ میں سے نظر آتی پینک برا میں مموں کو دیکھ کر لن سلامی دے رھا تھا بھائ کیا ھوا کیا سوچ رھے ھیں وہ میرے سامنے کھڑی تھی میں بولا ہاں کیا کہ رھی ھو نازی بولی بھئ میں پوچھ رھی ھوں آپ کھانا کھا کر جایں نگے میں بولا ہاں کچھ بنا لو نازی میرے سامنے بیٹھ گی بولی اچھا بتایں کیا بناوں میں بولا کیچھ بہی بنا لو

بھائ ے کو ن سی ڈش ھے میں بولا نازی جو آسان لگے بنا لو اچھا دیکھتی ھوں فریج میں کیا رکھا ھے ے بات کرکے نازی فرئج کے پاس چلی گی اور فرئج کھول کر بولی بھای آلو قیمہ بنا لیتی ھوں آپ کو پسند ھے میں بولا ھاں یے بنا لو نازی فریزر سے قیمہ نیکالنے کی کوشش کرتے ھوے بولی بھای میری ھلپ کریں قیمہ فریزر میں فریز ھے میں اٹھا نازی کے پاس گیا اور بولا ھٹو میں نیکالتا ھوں نازی بولی بھای آپ بس فریزر کا دروازہ پکڑیں میں نکال لوں نگی اب میں نازی کے پیچہے فریزر کا دروازہ پکڑ کر کہڑا تہا اور نازی قیمہ کا پیکٹ نیکالنے کی کو شش کر رھی تھی جو فریزر میں برف کی وجہ سے جمع ھوا تھا اور اسکی اس کوشش میں نازی کی گانڈ میرے لن سے ٹچ ھو رھی تھی میرا لن ٹراوزر مے کھڑا ھو گیا تھا جسکا میجھے بھی مزا آرھا تھا نازی کبی آگے ھو تی کبہی پیچھے میں نے اپنا لن کو اور اسکی گانڈ پر دبادیا اور آگے ھو کر قیمہ کا پیکٹ نکالنے میں اسکی مدد کی لن بی نازی کے نرم نرم چوٹر کے ساتھ لگا ھوا تھا ایسا لگ رھا تھا کہ کسی نرم فوم کے اندر ھو پیکٹ باھر نیکالتے ھی میں پیچھے ھوا اور نازی بولی بھای شکر یہ اب آپ ٹی وی دیکھں میں کھا نا بنا تی ھوں نازی کیچن میں چلی گی میں نے نازی کو کہا کہ میں نھا کر آتا ھوں اب میرا دل مٹھ مارنے کا کر رھا تھا میں اپنے کمرے میں آیا اور کپڑے اوتار کر باتھ روم میں گھس گیا اور پہلی دفہ نازی کی گانڈ کے نام کی مٹھ ماری ابھی میں لن کا پانی نیکلنے والا تھا کہ نازی کی آواز آی بھای جلدی آیں اسکی آواز سن کر میں نے جلدی سے ٹاول لپیٹا اور روم سے باھر آیا تو نازی میرے روم کے پاس کہڑی تھی میں بولا کیا ھوا نازی بھای کیچن میں چہپکلی پہر آگی ھے مرا لن کھڑا تھا اور ٹاول میں سے صاف پتہ چل رھا تھا نازی نے مجھے دیکھا اور کیچن کی طرف گی اور بولی بھای وہ دیکھں کیبنٹ پر ھے میں کیچن میں گیا تو چھپکلی کیبنٹ پر تھی میں نازی سے بولا جھاڑو لا کر دو نازی نے جھاڑو لا کر دی میں چھپکلی کو مارنے کے لیے جاھڑو ماری تو وہ آگے جلی گی اور چھپکلی کو مارنے کے چکر میں مرا ٹاول کھل گیا اور میں نازی کے سامنے ننگا ھو گیا نازی نے جب میجھے ننگا دیکھا تو شرما کر منہ دوسری طرف

کرکے نازی بولی بھای ٹاول میں نے جلدی سے ٹاول اٹھا کر باندھ لیا اور بولا نازی اب چھپکلی کیچن سے باھر چلی گی ھے اب تم کام کرو نازی بولی بھای آپ مرے ساتھ کیچن میں رہیں میں بولا مینے کہا نازی میجھے نہانا ھے نازی بولی بس ٹھو ری دیر پھر آپ نہالینا میں نے کہا اچھا جلدی کرو نازی بھای جلدی کیا ھے بس کر رھی ھوں اچھا بھای میجھے کیبنٹ سے مصالہوں کے جار نیکال دیں پھر آپ نہانے چلیں جایں میں نازی کے پیچھے کھڑا ھو کر کیبنٹ سے مصالہوں کے جار نیکال لر دے رھا تھا اور لن کو نازی کی گانڈ سے لگا دیا نازی کو بھی اس میں مزا آرھا تھا اور وہ بھی گانڈ کو لن کے ساتھ لگا کر کھڑی تھی اب میرے دماغ پر منی چھڑگی تھی اور لن کو نازی کی گانڈ میں اور اندر کی طرف دبا دیا اور لن کو نازی کی گانڈ سے رگڑنے لگا اور ٹاول کھول کر لن باھر نیکال کر نازی کی گانڈ پر لگا کر گھسے مارنے لگا نازی کو بہی لن گانڈ پر مہسوس کرکے مزے میں گم تھی اُف بھای یہ کیا کر رھے ہیں مینے اپنا ٹاول اوتار دیا اور نازی کے ساتھ چیپک گیا اور نازی کی گردن پر پیار کرنے لگا نازی بولی بھای نہ کریں میں آپ کی بہن ھوں میں بولا نازی love you تم بہت سیکسی ھو یہ سنتے ہی نازی میری طرگھومی اور میرا لن نازی کی چوت کے ساتھ لگ گیا میں نے اپنے ہونٹ نازی کے ہونٹوں پر رکھ دے نازی کے ممے میرے سینے سے دبے ہوے تھے اور میں نازی کے ہونٹ چوس رھا تھا نازی بہی گرم ھو گی تھی نازی نے اپنے ہونٹ مرے ہونٹوں سے ہٹاے اور بولی بھای یہ غلط ھے میجھے چھوڑ دیں میں بولا جان کیچھ غلط نہں ھے بس تم سیکس کا مزا لو اور لائف کو انجواے کرو اور نازی کو اٹھا کر لاونج میں لے آیا اور نازی کو اپنے ساتھ لیپٹا کر پیار کرنے لگا میں بولا جان تم بی شرٹ اور ٹراوزر اوتار دو نازی بولی باھی میجھے شرم آرھی ھے میں بولا دیکھو میں بہی تو تمہارے سامنے ننگا ھوں

The post گھر کا پیار صفہ#1 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%da%af%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d8%b5%d9%81%db%811/feed/ 0
انمول رشتہ قسط 05 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-05/ https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-05/#respond Sun, 14 Dec 2025 18:39:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-05/   آخری قسط دوسرے ہی دن میں نے ایک سراف کے یہاں سے ایک مریخ فارمولا لے آیا. سب سے چھپا کر رکھا اور ساتھ ہی ایک اچھی ریشم کی ساڑی بھی لے آیا. موقع دیکھ کر ایک دن ہم پاس کے دوسرے شہر میں شاپنگ کا بہانہ بنا کر گئے. ماں نے وہی نئی […]

The post انمول رشتہ قسط 05 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

آخری قسط

دوسرے ہی دن میں نے ایک سراف کے یہاں سے ایک مریخ فارمولا لے آیا. سب سے چھپا کر رکھا اور ساتھ ہی ایک اچھی ریشم کی ساڑی بھی لے آیا. موقع دیکھ کر ایک دن ہم پاس کے دوسرے شہر میں شاپنگ کا بہانہ بنا کر گئے. ماں نے وہی نئی ساڑی پہنی تھی.

وہاں ایک چھوٹے مندر میں جا کر میں نے پادری سے کہا کہ ہماری شادی کر دے. پجاری کو کچھ غیر نہیں لگا کیونکہ اماں اتنی خوبصورت اور جوان لگ رہی تھی کہ کسی کو یہ یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ میری ماں ہے. ماں شرما کر میرے سامنے کھڑی تھی جب میں نے ہار اس کے گلے میں ڈالا. فر میںنے اپنے نام کا مریخ فارمولا اسے پہنا دیا. ایک اچھے ہوٹل میں کھانا کھا کر ہم گھر آ گئے.رات کو سب سو جانے کے بعد اماں وہی ساڑی پہنے میرے کمرے میں آئی. آج وہ دلہن جیسی شرما رہی تھی. مجھے لپٹ کر بولی. “خوبصورت، آج یہ میرے لیے بڑی سہانی رات ہے، ایسا محبت کر بیٹے کہ مجھے ہمیشہ یاد رہے. آخر آج سے میں تیری بیوی بھی ہوں.”

میں نے اس کے طور پر آنکھیں بھر کر دیکھتے ہوئے کہا. “اماں، آج سے میں تمہیں تمہارے نام سے بلانا چاہتا ہوں، کملا. اکیلے میں میں یہی کہوں گا. سب کے سامنے ماں کہوں گا.” ماں نے شرم سے سرخ ہوئے اپنے مكھڑے کو ڈلاكر منظوری دے دی.

فر میں ماں کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا. “کملا رانی، آج میں تمہیں اتنا بھوگوگا کہ جیسا ایک شوہر کو سہاگرات میں کرنا چاہیے. آج میں تمہیں اپنے بچے کی ماں بنا کر رہوں گا. تو فکر مت کر، اگلے ماہ تک ہم دوسری جگہ چلے جائیں گے.”

امم نے اپنا سر میرے سینے میں چھپاتے ہوئے کہا. “اوہ خوبصورت، ہر بیوی کی یہی چاہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے حاملہ ہو. آج میرا ٹھیک درمیان کا دن ہے. میری کوکھ تیار ہے تیرے بیج کے لیے میرے بادشاہ.”

اس رات میں نے اماں کو من بھر کر بھوگا. اس کے کپڑے آہستہ آہستہ نکالے اور اس کے پل پل ہوتے ننگے جسم کو من بھر کر دیکھا اور محبت کیا. پہلے گھنٹے بھر اس کے چوت کے رس کا پان کیا اور فر اس پر چڑھ بیٹھا.

اس رات ماں کو میں نے چار بار چودا. ایک لمحہ بھی اپنا لںڈ اسکی چوت سے باہر نہیں نکالا. سونے میں ہمیں صبح کے تین بج گئے. اتنا ویرے میں نے اس کے پیٹ میں چھوڑا کہ اس کا حاملہ ہونا طے تھا.اس کے بعد میں اسی تاک میں رہتا کہ کب گھر میں کوئی نہ ہو اور میں اماں پر چڑھ جاؤں. ماں بھی ہمیشہ جماع کی شوقین رہتی تھی. پہل ہمیشہ وہی کرتی تھی. وہ اتنی اتیجیت رہتی تھی کہ جب بھی میں اس کا پیٹیکوٹ اتارتا، اس کی چوت کو گیلا پاتا. جب اس نے ایک دن چدتے ہوئے مجھے تھوڑی لجا کر یہ بتایا کہ صرف میری یاد سے ہی اس کی اندام نہانی میں سے پانی ٹپکنے لگتا تھا، مجھے اپنی جوانی پر بڑا فخر محسوس ہوا.

کبھی کبھی ہم ایسے گرما جاتے کہ احتیاط بھی طاق پر رکھ دیتے. ایک دن جب سب نیچے بیٹھ کر گپپے مار رہے تھے، میں نے دیکھا کہ اماں اوپر والے باتھ روم میں گئی. میں بھی چپ چاپ پیچھے ہو لیا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا. ماں سٹكني لگانا بھول گئی تھی. میں جب اندر گیا تو وہ برتن پر بیٹھ کر موت رہی تھی. مجھے دیکھ کر اس کی کالی آنکھیں حیرت سے فیل گئیں.

اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں نے اسے اٹھایا، گھما کر اسے جھکنے کو کہا اور ساڑی و پیٹیکوٹ اوپر کرکے پیچھے سے اسکی چوت میں لںڈ ڈال دیا. “بیٹے کوئی آ جائے گا” وہ کہتی رہ گئی پر میں نے اس کی ایک نہ سنی اور ویسے ہی پیچھے سے اسے چودنے لگا. پانچ منٹ میں میں ہی جھڑ گیا پر وہ اتنے میٹھے پانچ منٹ تھے کہ گھنٹے بھر کے جماع کے برابر تھے. میرے طاقتور دھکوں سے اس کا جھکا جسم ہل جاتا اور اس کا لٹکتا مگلسوتر پینڈلم جیسا ہلنے لگتا. جھڑ کر میں نے اس کے پیٹیکوٹ ہی ویرے ساف کیا اور ہم باہر آ گئے. ماں پیٹیکوٹ تبدیل کرنا چاہتا تھا پر میں نے انکار کر دیا. دن بھر مجھے اس خیال سے بہت اشتعال ہوئی کہ ماں کے پیٹیکوٹ پر میرا ویرے لگا ہے اور اس کی چوت سے بھی میرا ویرے ٹپک رہا ہے.ہمارا جماع اسی طرح چلتا رہا. ایک بار دو دن تک ہمیں میتھن کا موقع نہیں ملا تو اس رات ہوس سے پریشان ہو کر آخر میں ماں اور باپو کے کمرے میں دھیرے سے گیا. باپو نشے میں دھت سو رہے تھے اور ماں بھی وہیں بازو میں سو رہی تھی.

سوتے وقت اس کی ساڑی اس وكشستھل سے ہٹ گئی تھی اور اس کے اعلی درجے اروجوں کا پورا ابھار دکھ رہا تھا. سانس کے ساتھ وہ اوپر نیچے ہو رہے تھے. میں تو گویا محبت اور چاہت سے پاگل ہو گیا. ماں کو نیند میں سے اٹھایا اور جب وہ گھبرا کر اٹھی تو اسے خاموش رہنے کا اشارہ کر کے اپنے کمرے میں آنے کو کہہ کر میں واپس آ گیا.

دو منت بعد ہی وہ میرے کمرے میں تھی. میں نے اس کے کپڑے اتارنے لگا اور وہ بیچاری تنگ ہو کر مجھے ڈاٹنے لگی. “خوبصورت، میں جانتی ہوں کہ میں تمہاری بیوی ہوں اور جب بھی تم کال، آنا میرا فرض ہے، پر ایسی خطرے مت اٹھا بیٹے، کسی نے دیکھ لیا تو گڑبڑ ہو جائے گا.”

میں نے اپنے منہ سے اس کا منہ بند کر دیا اور ساڑی اتارنا چھوڑ صرف اسے اوپر کر کے اس کے سامنے بیٹھ کر اسکی چوت چوسنے لگا. لمحہ بھر میں اس کا غصہ اتر گیا اور وہ میرے سر کو اپنی رانوں میں جکڑ کر كراهتے ہوئے اپنی یون میں پیوست ہوئی میری جیب سے لطف اٹھانے لگی. اس کے بعد میں نے اسے بستر پر لٹا کر اسے چود ڈالا.

من بھر کر چدنے کے بعد ماں جب اپنے کمرے میں واپس جا رہی تھی تو بہت خوش تھی. مجھے بولی. “خوبصورت، جب بھی تو چاہے، ایسے ہی بلا لیا کر، میں آ جاؤں گی.”

اگلی رات کو تو ماں کھلے عام اپنا تکیہ لے کر میرے کمرے میں آ گئی. میں نے پوچھا تو ہنستے ہوئے اس نے بتایا “سندر، تیرے باپو کو میں نے آج بتا دیا کہ ان کی شراب کی بدبو کی وجہ سے مجھے نیند نہیں آتی اس لئے آج سے میں تمہارے کمرے میں سویا کروں گی. انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے. اس لئے میرے بادشاہ، میرے سرخ، آج سے میں کھلے عام تیرے پاس سو سکتی ہوں. “

میں نے اسے بھینچ کر اسپر چبنو کی برسات کرتے اے کہا. “سچ اماں؟ آج سے تو فر ہم بالکل شوہر بیوی جیسے ایک ساتھ سو سکیں گے.” اس رات کے میتھن میں کچھ اور ہی مدھرتا تھی کیونکہ ماں کو اٹھ کر واپس جانے کی ضرورت نہیں تھی اور دماغ بھر کر آپس میں جھیلنے کے بعد ہم ایک دوسرے کی باںہوں میں ہی سو گئے. اب صبح اٹھ کر میں ماں کو چود لیتا تھا اور پھر ہی وہ اٹھ کر نیچے جاتی تھی.

کچھ ہی دن بعد ایک رات جماع کے بعد جب ماں میری باںہوں میں لپٹی پڑی تھی تب اس نے شرماتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ حاملہ ہے. میں خوشی سے اچھل پڑا. آج ماں کا روپ کچھ اور ہی تھا. شرم سے گلابی ہوئے چہرے پر ایک نكھار سا آ گیا تھا.

مجھے خوشی کے ساتھ کچھ فکر ہی ہوئی. دور کہیں جا کر گھر بسانا اب ضروری تھا. ساتھ ہی باپو اور بھائی بہن کے عمل کا بھی انتظام کرنا تھا.شاید کامدیو کی ہی مجھ مہربانی ہو گی. ایک یہ کہ اچانک باپو ایک کیس جیت گئے جو تیس سال سے چل رہا تھا. اتنی بڑی پراپرٹي آخر ہمارے نام ہو گئی. آدھی بیچ کر میں نے بینک میں رکھ دی کہ صرف سود ہی گھر آرام سے چلتا. ساتھ ہی گھر کی دیکھ بھال کو ایک بیوہ پھوپھی کو بلا لیا. اس طرف سے اب میں مطمئن تھا.

دوسرے یہ کہ مجھے اچانک آسام میں دور پر ایک کام ملی. میں نے جھٹ سے اپنا اور ماں کا ٹکٹ نکالا اور جانے کی تاریخ طے کر لی. ماں نے بھی سب کو بتا دیا کہ وہ نہیں سہ سکتی کہ اس کا بڑا بیٹا اتنی دور جا کر اکیلا رہے. یہاں تو پھوپھی تھی کہیں سب کی دیکھ بھال کرنے کے لیے. اس سب کے درمیان ماں کا روپ دن بہ دن نكھر رہا تھا. خاص کر اس روح سے اس کے پیٹ میں اسی کے بیٹے کا بیج پل رہا ہے، ماں بہت بھاو وبھور تھی

ختم شد

The post انمول رشتہ قسط 05 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-05/feed/ 0
دکان مالک کی بیویاں 3 https://urdustoryclub.com/%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c%d8%a7%da%ba-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c%d8%a7%da%ba-3/#respond Sun, 14 Dec 2025 18:38:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c%d8%a7%da%ba-3/   Part 5,6 اس بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ اور پِھر سَررررر  كی تیز آواز سے اسکی چوتسے پیشاب كی دھار نکلنے لگی ۔۔۔۔ جسے سن کر سونو کا اوربھی برا حال ہو گیا ۔۔۔۔۔بیلا کا دِل بھی زور زور سے  دھڑک رہا تھا وہ من ہی من سوچ رہی تھی کاش کہ سونو ابھی اسے یہیںپٹک کر […]

The post دکان مالک کی بیویاں 3 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

Part 5,6

اس بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ اور پِھر سَررررر 

كی تیز آواز سے اسکی چوتسے

پیشاب كی دھار نکلنے لگی

۔۔۔۔ جسے سن کر سونو کا اوربھی برا حال ہو گیا ۔۔۔۔۔بیلا کا دِل بھی زور زور سے

 دھڑک رہا تھا

وہ من ہی من سوچ رہی تھی

کاش کہ سونو ابھی اسے یہیںپٹک کر چود دے ۔۔۔۔ پر ابوہ یہ سب وہ اپنے منہ سے تو نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔۔۔سونو کا ہاتھ خود بخود اسکےپجامے کے اُوپر سے اس کے لنڈپر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔اور وہ بیلا

كی گانڈ کو

دیکھتے ہوئے اپنے لنڈ کو مسلرہا تھا ۔۔۔۔

بیلا پیشاب کرنے كے بَعْد اٹھی اور اپنی

ٹانگوں کو تھوڑا سا پھیلا کراپنی چوت کو اپنی انگلیوں

سے رگڑ کر صاف کرنے لگی ۔۔۔۔اسے کوئی جلدی نہیں تھی 

اپنا لہنگا اوپر کرنے كی بھلےہی اس کی بیٹی كی عمر کالڑکا پیچھے کھڑا اس کی 

 جاندار گانڈ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔بیلا كی بھری بھری

چوت کا کچھ حصہ سونو کوبھی دکھائی دینے لگا ۔۔۔۔ یہدیکھ کر سونو کا لنڈ تو بے

قابو ہوگیا تھا کیونکہ سونونے اپنی زندگی میں پہلی بارچوت دیکھی تھی ۔۔۔۔ سونوکا لوڑا

اس کے پجامے میں ایسے جھٹکے مار رہا تھا جیسے

ابھی اسکا پجاما پھاڑ کر باہرآ جائیگا ۔

بیلا نے اپنا منہ گھما کرپیچھے دیکھا تو

سونو كے نظریں بیلا كی گانڈپر ہی

ٹکی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔ اور اسکاہاتھ اپنے 8 انچ كے لنڈ کو

پجامے كے اُوپر سے مسل رہا

تھا جب بیلا نے یہ سب دیکھاتو اس کے ہونٹوں پر مسکانپھیل گئی ۔۔۔۔اس نے اپنا لہنگانیچے کیا ، اور سونو كےطرف مڑ گئی ۔۔۔۔جیسے ہی بیلا كی گانڈ پر لہنگا

دیکھا ، سونو جیسے سپنوںكی حَسِین دنیا سے باہر نکل

آیا ، اور بیلا كی طرف دیکھابیلا اسکی طرف ہی دیکھتے

 ہوئے مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔سونو نے اپنا دھیان

دوسری طرف کر لیا ۔۔۔۔۔جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی

 نا ہو ۔۔۔۔۔۔

بیلا اپنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئےسونو كے پاس آئی اور بولی

“تو نے نہیں موتنا کیا ” بیلاكی بات سن کر سونو نےجلدی سے جواب دیا “جینہیں “ بیلا كے ہونٹوں پرمسکان پھیلگئی سونو كی حالت دیکھ کر

“ اچھا ٹھیک ہے چلو . راتبہت ہو گئی ہے صبح سیٹھ كےگھر واپس بھی جانا ہے” یہ

کہہ کر بیلا اپنے گھر كے طرفجانے لگی ۔۔۔

سونو بے چارہ اپنے لنڈ کو

چھپاتے ہوئے بیلا كے پیچھے

 چل پڑا ۔۔۔بیلا نے اپنے

گھر كے سامنے جا کر لکڑی

سے بنے دروازے کو بجایا ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بَعْد بیلا كی بیٹی

. بندیا نے دروازہ کھولا

وہ اپنی نیند سے بھریآنکھوں کو ملتے ہوئے بولی 

“کیا ماں اتنی دیر لگا دی ۔میں تو سو گئی تھی ” جب

اس نے اپنی آنکھوں کو کھولکر بیلا كی طرف دیکھا تو بیلا كے

پیچھے کھڑے سونو كو دیکھکر تھوڑا حیران ہوکر بولی ۔۔“یہ کون ہے ماں” بیلا نے سونوكی طرف دیکھا اور بولی “یہسونو ہے ۔۔۔ یہ سیٹھ جی كےگھر میں رہے گا ۔۔۔۔ انکا نوکرہے ۔۔۔۔ آج ہی شہر سے آیا ہے 

“ بیلا اور سونو اندر آ گئے

۔۔۔۔۔بیلا کا گھر زیادہ بڑا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ اسکےگھر میں آگے كی طرف ایککمرہ تھا اور پیچھے كی

طرف ایک اور کمرہ تھا جسمیں بیلا اور اس کی بیٹیسوتی تھی ۔۔۔۔ پچھلے کمرےكے آگے ایک چھوٹا سا کچنتھا ۔۔۔۔

پُورا گھر کچا تھا نیچے زمینبھی کچی تھی بیلا سونو کولے کر پچھلے روم میں آ گئی 

پچھلے روم میں ایک چارپائیدیوار كے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔

شاید غریب بیلا كے گھر وہ ہیایک چارپائی تھی ۔۔۔۔ اورنیچے ٹاٹ كے اُوپر دوبستر لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔

بیلا نے اندر آتے ہی اپنی بیٹیبندیا کو ساتھ میں ایک اور

 بستر لگانے كے لیے کہاسونو اک دیوار كے ساتھ کھڑاتھا ۔۔۔ لالٹین كے روشنی میں

اب اسے بیلا اور اس کی بیٹیصاف دکھائی دے رہی تھی

بیلا كی بیٹی کا بدن بیلا سےبھی زیادہ بھرا بھرا تھا ۔۔بندیا کا قد 5 ، 4 انچ كےقریب تھا ۔۔۔۔

بدن ابھی سے بھر چکا تھا 

۔۔۔۔ اس کی چوچیاںاسکی جوانی کو بیان کر رہیںتھیں ۔۔۔۔۔۔ 32 سائز كی

چوچیاں ایک دم کسی ہوئیلگ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔

 

بیلا نے اپنی بیٹی كے ساتھ

مل کر بستر لگاتے ہوئے سونوكی طرف دیکھا ۔۔۔

سونو کے لنڈ نے اس کے

پجامے میں بڑا سا تمبو بنایاہوا تھا ۔۔۔ بیلا كے ہونٹوں پرمسکان پھیلگئی اور اگلے ہی پل وہ سونوكے پجامے میں آئے ہ ئے ابھارکو دیکھ کر اسکے لنڈ كے سائز

 کا اندازہ لگانے لگیآج سردی بہت ہے” بیلا نے”سونو كی طرف دیکھتے

ہوئے کہا ۔۔۔ ” بیلا كی بات سنکر بندیا بھی بولی ۔۔” ہاںماں آج تو کچھ زیادہہی سردی ہے ، مجھے تو بہت

 ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔۔۔

بیلا : ۔ ( مسکراتے ہوئے ) ہاںٹھنڈ تو لگ رہی ہے پر ٹھنڈ کااپنا ہی مزہ ہے ۔۔

یہ کہتے ہوئے وہ مسلسل سونوكی طرف ہی دیکھ رہی تھی

۔۔۔

بستر لگانے كے بَعْد بندیا اپنےبستر میں گھس گی ۔۔۔۔۔۔اسے گھر میں سون جیسےانجان لڑکے کے ہونے سے کوئیفرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔شایدنیند كی وجہ سے بندیا بسترپر

پیٹ كے بل لیٹ گئی جسکے کارن پیچھے سے اس کی

بھری ہوئی گانڈ باہر كی طرفنکل آئی تھی وہ اس سمےشلوار قمیض پہنے ہوئے تھی…اس کی شلوار اسکےچوتڑوں پر اک دم کسی ہوئی

، تھی

جسے دیکھے بغیر سونو سےرہا نہیں گیا ۔۔۔۔۔اپنی بیٹی كی گانڈ کو یوں

گھورتا دیکھ بیلا نے سونو كیطرف تیکھی آنکھ ں سے

دیکھا ، اور پِھر بندیا كے اُوپر

رضائی اڑھا دی اور بستر پرلیٹ گئی ۔۔۔

سونو وہاں تھکا ہوا سا کھڑاتھا ۔۔۔جب بیلا نے اپنے اُوپررضائی دیتے ہوئے سونو كی

طرف دیکھا تو وہ ابھی بھیبندیا كے طرف دیکھ رہا تھا .

“اب تُو کیوں وہاں

 

کھڑا ہے…چل لیٹ جا صبحسیٹھ كے گھر جا کر بہت کامکرنے ہیں ” بیلا نے تیکھی آواز

 میں کہا ۔۔۔۔

 سونو : ۔ جی اچھا ۔۔۔۔اور سونو بیلا كے ساتھ والے

بستر پر لیٹ گیا ، اسکے لنڈ پرآج بہت ظلم ہو رہا تھا ابھیبھی اسکا لنڈ ایک دم تنا ہواتھا اس نے اپنے اُوپر رجائی لےلی ، اوراپنے پجامے کا ناڑا

کھول کر اپنا ہاتھ اندرسرکاکر اپنے لنڈ کو پکڑ کرہلانا شروع کر دیا…رجائی كےاندر چلتے ہاتھ سے تھوڑی

سرسراہٹ ہونے لگی بیلا پیٹھكے بل لیٹی ہوئی تھی جباس نے وہ آواز سنی تو ، اسنے کن انکھیوں سے سونو

كی طرف دیکھا اسکی رجائیکمر والے حصے سے تھوڑا ہلرہی تھی بیلا سمجھ گئیکہ ، چھورا اپنے لنڈ کو ہلاتے

ہوئے مٹھ مار رہا ہے ۔۔۔ یہ باتدماغ میں آتے ہی ، اسکے دِلكی دھڑکن بڑھ گی ۔۔۔۔

اس کی چوت گیلی ہونے لگییہ سوچ کر کہ اسکی بغل

میں جوان لڑکا لیٹا ہوا اپنا لنڈہلا کر مٹھ مار رہا ہے ۔۔۔۔۔

یہ سب بیلا كی برداشت سے

باہر تھا ۔۔۔ لیٹے لیٹے بیلا كےدماغ میں پتہ نہیں کیا آیا 

اس نے اپنی کروٹ بدلی اورسونو كی طرف اپنی پیٹھ کرلی آواز سن کر سونو اک پلكے لیے رک گیا جب اس نےدیکھا كہ بیلا نے دوسری طرفمنہ کر لیاہے تو اس نے پِھر سےاپنے لنڈ کو ہلانا چالو کر دیا

۔۔۔۔ اسکا لنڈ اب پوری طرح 

 اکڑا ہوا تھا اور وہ تیزی سےاپنے لنڈ کو ہلائے جا رہا تھامستی كے کارن اس کی

آنکھیں بند ہو رہی تھیں کچھدیر بَعْد پِھر سے کچھ آہٹ

ہوئی اب سونو جھڑنے كے بے

حد قریب تھا ۔۔۔۔ آہٹ سن کر سونو ایکدم سے گھبرا گیا ،اور اس نے اپنے لنڈ کو ہلانابند کر دیا پِھر اپنی بندآنکھوں کو کھول کر بیلا كیطرف دیکھا بیلا ابھی بھیکروٹ كے بل لیٹی ہوئی تھی

۔۔۔۔جب سونو نے اپنی نظر کوتھوڑا سا نیچے کیا ،تو اسکا

منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔بیلاكی پیٹھ ابھی بھی اس کیطرف تھی بیلا كی کمر پر اُوپر

 والا حصه رجائی میں تھااور کمر سے نیچے والا حصهرجائی سے باہر تھا اور اس نےاپنے گھٹنوں کو موڑ کر اپنے

پیٹ سے لگا رکھا تھا ۔۔۔۔ اوربیلا کا لہنگا اس کی کمر كےاُوپر تک چڑھا ہوا تھا آگے كیطرف کا پُورا بدن ڈھکا ہوا

تھا تاکہ بندیا اگر جاگ بھیجائے تو ، بیلا کو اِس حالت

میں نا دیکھ سکے مگر پیچھےسے بالکل ننگی گانڈ باہر كےطرف نکلی ہوئی تھی جسےدیکھتے ہی سونو کا لنڈ پِھرسے جھٹکے کھانے لگا جس

پوزیشن میں سونو لیٹا ہوا تھااس پوزیشن میں اسے بیلا کیگانڈ کا اُوپری حصه ہی

دکھائی دیر رہا تھا ۔۔ پر اتنادیکھنے سے ہی اسکا لنڈ میںجو جوش آیا ، وہ اس کیبرداشت سے باہر تھا ۔۔۔۔

سونو دھڑکتے ہوئے دِل كےساتھ دھیرے سے اٹھا اور

جس طرف بیلا كے پیر تھے اس طرف سرک کر لیٹ گیا

 ۔۔۔

بھلے ہی بیلا کا منہ دوسریطرف تھا پر اسے پتہ تھا کہ ،اس کی پیٹھ كے پیچھے سونوکیا کر رہا ہے جیسے ہی سونواس کے پیروں كی طرف لیٹابیلا نے اپنے گھٹنوں کو اور

موڑ کر پیٹ کے ساتھ لگا لیاجس کی وجہ سے بیلا كی

گانڈ کھل گئی واہ کیا نظارہتھا سونو كی آنکھوں كےسامنے بیلا كی چوت باہر کیطرف نکلی ہوئی دکھائی دے

رہی تھی گہرے گلابی رنگ كیپھدی کو دیکھ کر سونو کا

ہاتھ اک بار پِھر سے اس کے

لنڈ پر اپنے آپ چلنے لگا بیلادوسری طرف منہ کیے لیٹیہوئی تھی اور سونو كی تیزچل رہی سانسوں کو صاف

 سن پا رہی تھی ۔۔۔۔۔

سونو اب پوری 

رفتار سے بیلا کی چوت کو

دیکھتے ہوئے اپنے لنڈ کو ہلانےلگا اس کے لنڈ اور بیلا كی

1 چوت كے بیچ مشکل سے

فٹ کا فاصلہ تھا ۔۔۔۔۔ اسکےلنڈ كی ٹوپی اب پوری طرح

سے پھول چکی تھی اور اگلےہی پل سونو كی آنکھیں بند ہوگئیں اور اس کے لنڈ سے ایک

كے بَعْد ایک منی كی پچکاریاںچھوٹنے لگی . جو سیدھا جاکر سامنے لیٹی بیلا كی چوتاور چوتڑوں پر گرنے لگی انسب سے انجان سونو اپنی

آنکھیں بند کیے جنت كی سیر

. کر رہا تھا

جیسے ہی سونو کے گرم  

لاوے كی دھار بیلا كے چوت

كے منہ اور چوتڑوں پر گری بیلا كے پورے بدن میں گرمی

دور پڑی اور اسکی چوت كیپھانکیں گرم منی کو

محسوس کرتے ہی جوش میںآگئی ۔۔۔۔ بیلا كے اُوپر عجیبسا نشہ چھا گیا تھا ۔۔۔ اسکیآنکھیں مستی میں بند ہوئی

جا رہیں تھیں اور وہ آنکھیںبند کیے سونو كے لاوے کو

اپنی چوت اور گانڈ كے منہ کوبھیگتا ہوا محسوس کرنے لگیتھوڑی دیر بَعْد جب سونو كیآنکھیں کھلیں ، تو بیلا كی

چوت پر اپنی منی کو دیکھکر ایک دم سے گھبرا گیا…اسے کچھ سمجھ میں نہیںآیا اس نے دوسری طرف

کروٹ بدلی ، اور رجائی اوڑھکر لیٹ گیا اور یہ سوچا کہ بیلا کو پتہ نہیں چلے گا ۔۔۔جیسے ہی سونو نے دوسری

طرف اپنا منہ کیا بیلا نے اپنےآپ کو اچھے سے رجائی سےڈھک لیا اور اپنا ایک ہاتھپیچھے لے جا کر سونوكے لنڈ سے نکلنے والے جوس سے 

جاري ہے

The post دکان مالک کی بیویاں 3 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c%d8%a7%da%ba-3/feed/ 0