Urdu Sex Kahani Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/urdu-sex-kahani/ Unveiling the best Urdu Lusty and passionate stories Mon, 13 Jul 2026 18:09:17 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=7.1.4 https://urdustoryclub.com/wp-content/uploads/2026/07/read-150x150.png Urdu Sex Kahani Archives - Urdu Story Club https://urdustoryclub.com/category/urdu-sex-kahani/ 32 32 اسٹوری فین نے مجھے شوہر سے چدوایا https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%81%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%ac%da%be%db%92-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d8%b3%db%92-%da%86%d8%af%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%a7/ https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%81%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%ac%da%be%db%92-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d8%b3%db%92-%da%86%d8%af%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%a7/#respond Mon, 13 Jul 2026 18:09:16 +0000 https://urdustoryclub.com/?p=1377 ہیلو فرینڈز میرا نام نور العین ہے اور میں یاسر کی بیوی ہوں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہوں۔فرینڈز کچھ دن پہلے میری ایک کہانی پر تہمینہ ارشد نامی عورت نے کمنٹس کیا کہ مجھ سے رابطہ کرو اور مجھے رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ تہمینہ اور اسکا شوہر ارشد […]

The post اسٹوری فین نے مجھے شوہر سے چدوایا appeared first on Urdu Story Club.

]]>
ہیلو فرینڈز میرا نام نور العین ہے اور میں یاسر کی بیوی ہوں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہوں۔فرینڈز کچھ دن پہلے میری ایک کہانی پر تہمینہ ارشد نامی عورت نے کمنٹس کیا کہ مجھ سے رابطہ کرو اور مجھے رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ تہمینہ اور اسکا شوہر ارشد جہلم سے ہیں اور کپل تبدیل کر کہ سیکس کرتے ہیں۔ ہم دونوں میں اچھی دوستی ہو چکی تھی اور تہمینہ مجھے اکثر بولتی تھی نور تیری کہانیاں پڑھنے کے بعد میرا شوہر ارشد میری پھدی تیرا نام لے لے کر چودتا ہے۔تہمینہ کی عمر 31 سال تھی میری عمر کی تھی اور اسکا شوہر ارشد 34 سال کا تھا ۔ایک دن تہمینہ کا مجھے میسج آیا کہ وہ مجھے اپنے شوہر ارشد سے چدوانا چاہتی ہے اور کل وہ راولپنڈی آرہی ہے ۔میں نے کہا کہ یاسر سے پوچھتی ہوں اگر وہ مان گیا تو ٹھیک ہے اور ابھی ہم صحیح سے ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں بس میسج یا کال پر ہی تو بات ہوئی ہے۔تہمینہ بولی نور العین تم کوئی بچی نہیں رہی اور جو مزا شوہر سے چھپ کر پھدی چدوانے کا یے وہ بتا کر نہیں آتا تم ایک بار میرے شوہر ارشد سے پھدی چدوا کر تو دیکھو اور جہاں اتنے چدائی کے تجربے کئے ہیں ایک یہ بھی کر لومیں تہمینہ کی باتیں سن کر گرم ہو رہی تھی اور یاسر نے بھی چار دن سے میری پھدی نہیں ماری تھی۔میں نے سوچا چلو ٹرائی کر لیتی ہوں اور میں نے تہمینہ کو کہا ٹھیک ہے میں کل سکول نہیں جاؤں گی اور تم ایڈریس بتاؤ میں وہاں آجاؤں گئی۔اگلے دن صبح میں نہا کر تیار ہوئی اور پھدی کے بال صاف کئے اور یاسر نے مجھے سکول کے باہر اتار دیا اور میں اندر جاکر پھر باہر آئی اور ٹیکسی میں بیٹھ کر تہمینہ کی بتائی ہوئی جگہ صادق آباد پہنچ گئ۔میں نے تہمینہ کو کال کی اور اسکا شوہر ارشد سڑک پر مجھے لینے آیا اور مجھے اشارہ کیا میں ارشد کے پیچھے چلتی ایک گھر میں داخل ہو گئ جو ارشد کے کسی دوست کا تھا۔تہمینہ نے مجھے گلے لگایا اور بولی نور العین بہت پیاری ہو ماشاءاللہ اور میرا شوہر ارشد کیسا لگا ہے؟میں مسکرانے لگی تو تہمینہ بولی اگر نہیں دل تو زبردستی نہیں ہے ۔میں نے کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یاسر کو بنا بتاۓ نکلی ہوںتہمینہ:- پگلی اسی میں تو مزا ہے شوہر کام پر جائے اور بیوی پرائے مردوں سے پھدی چدوائےمیں تہمینہ کے منہ سے پھدی کا لفظ ارشد کے سامنے سن کر تھوڑی شرمانے لگی تو تہمینہ نے مجھے جوس کا گلاس دیا اور اپنے شوہر ارشد کو گرم دودھ کے ساتھ کوئی گولی دی جو کہ یقیناً ٹائمنگ والی گولی تھی۔ارشد دودھ پی کر کہ صوفے پر بیٹھ گیا اور میں اور تہمنیہ بیڈ پر بیٹھیں تھیں تو تہمینہ اپنے شوہر ارشد سے بولی ادھر بیٹھو میری بہن نور العین کے ساتھ اور جھجھک دور کرو۔ارشد میرے ساتھ بیٹھ گیا اور میری چادر اتار دی اور میرے ہاتھ کو مسلنے لگا اور بولا ڈارلنگ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بہت پیار سے تمہاری پھدی چودوں گا۔تہمینہ:- نور العین میرا شوہر بہت گرم ہے تیری چدائی کی کہانی پڑھ پڑھ کر میری پھدی چودا کرتا تھا تبھی میں نے کہا کسی دن اپنے پیارے شوہر کو تیری چوت دلوانی ہے۔میں:- اچھا کتنا گرم ہے ارشد یہ تو آج پتہ چل جائے گا اور ساتھ ہی میں نے ارشد کی شلوار کے اوپر سے لن پکڑ لیا اور ہلانے لگی۔ارشد نے میرے ہونٹوں اور گالوں کو چوما اور میری قمیض اتار دی اور آب میں بس سکن برا اور شلوار میں تھی۔تہمینہ:- نور العین اچھا جسم ہے تیرا آج میرا شوہر تیرا جسم مزید نکھار دے گا۔ مجھے ڈیٹ آئی ہوئی ہے ورنہ میری پھدی تیرے شوہر یاسر کے لوڑے کے نیچے ہوتی۔ارشد شروع کرارشد نے میری برا اتار دی اور میرے 34 سائز ممے چوسنے لگا اور ساتھ ہی میری شلوار میں ہاتھ ڈال کر میری سنگم میں انگلی گھسا دی۔آف آہ آہ اوہ اف آہ ارشد بہت مزا آ رہا ہے آف آہ آہ اوہ میری پھدیاب میری جھجھک اور شرم اتر چکی تھی ۔تہمنیہ ہم دونوں کا بیٹھ کر کھیل دیکھ رہی تھی ۔ارشد اٹھا اور مجھے بیڈ پر دھکا دے کر گرا دیا اور میری شلوار کھینچ کر اتار کر دور پھینک دی ۔ساتھ ہی ارشد نے اپنی قمیض اتاری اور شلوار اتار کر پھینک دی اور اپنا کالا 9 انچ لمبا لن ہلاتے ہوئے میرے پاس آگیا اور مجھے بالوں سے پکڑ کر میرا منہ اپنے موٹے لن پر رکھ دیا اور نہ میرے ہونٹوں پر اپنا لوڑا رگڑنے لگا۔اف ارشد اتنا بڑا لن میں کیسے چوت میں لوں گئ یہ تو میری پھاڑ کر رکھ دے گاآف تہمینہ تیرے شوہر ارشد کا لوڑا کسی گدھے کے لن جیسا ہے کیسے لیتی ہو پھدی میں تم ، میری تو دیکھ کر جان نکل رہی ہے۔ارشد:- نور العین گشتی تیری پھدی کا آج پھدا بنا کر گھر بھیجوں گا۔میرے لن کا نشہ تیری پھدی میں ہمیشہ چڑھا رہے گا۔چل لوڑا چوسارشد نے لن میرے سامنے کیا تو میں نے بنا ہاتھ لگائے ارشد کا لن منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا اور زور زور سے چوسنے لگیآہ آہ اوہ اف کیا لوڑا ہے آہ آہ آہ آج تک لن دیکھے تھے سچ میں لوڑا آج دیکھا ہے ۔میں ارشد کے لن پر تھوک پھینک پھینک کر لوڑا چوسنے لگی اور اب میں نے ارشد کو بیڈ پر بیٹھا دیا اور زور زور سے فرش پر بیٹھ کر لوڑا چوسنے لگی۔کچھ ہی دیر بعد میرا منہ اور گلا ارشد کی منی سے بھر چکا تھا مگر میں نے لن چوسنا بند نہیں کیا اور سارا لن کی منی نچور کر کھا گئی۔آب ارشد نے میرے ہونٹوں کو چوس کر میرے ہونٹوں کا رس پینا شروع کر دیا اور میری پھدی میں انگلیاں گھسا دی اور اندر باہر کرنے لگا۔تہمینہ:- ارشد میں تیری اور اس گشتی نور کی گرم مصالحہ دیکھ کر گرم ہو گئ ہوں۔اسکا شوہر یاسر سے چدواتی آگر میری ڈیٹ نہ آج آئی ہوتی۔ارشد نے میری ٹانگوں کو کھول کر میری پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا اور زور زور سے کم میری پھدی میں زبان ڈال کر چوسنے لگا میری پھدی دو بار فارغ ہو چکی تھی مگر ارشد پھر بھی نہ میری پھدی چاٹے جا رہا تھا اور بولا کسی کی بیوی کی پھدی چاٹنے چوسنے میں بہت مزا آتا ہے۔تیرا شوہر کام پر ہے اور اسکی بیوی پھدی مروانے میرے پاس چلی آئی ہے۔آف آہ آہ ارشد میری پھدی میں لن ڈال کر چودو مجھے آہ آہ آہ تہمینہ باجی اپنے شوہر کو کہو میری پھدی کو مت ترسائے چود دے پہلے بہنچود یاسر نے چار دن سے میری گرم چوت میں لن نہیں ڈالا ۔تہمینہ:- گشتی فکر نہ کر تیری پھدی کا پھدا بنواؤں گئ اپنے شوہر سےارشد چود اس ٹیکسی کو بڑا شوق ہے اس کو پھدی یوانے کا چودارشد نے فوراً مجھے بیڈ پر لیٹا دیا اور اپنا 9 آنچ لمبا موٹا لنڈ میری گیلی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر گھسا دیا اور زور سے گھسے مارنے لگاآف آہ ارشد آرام سے ڈالو لن آہ آہ آہ اوہ اوئی مر گئی امی جی امی جی آہ امی جی میری پھدی آہ امی جی میری پھدی پھٹ گئیارشد نے زرا ترس نہیں کھایا اور زور زور سے جھٹکے مارتے ہوئے پورا لن میری پھدی میں ڈال کر میری پھدی چودنا شروع کر دیا۔دوسری طرف تہمینہ نے موبائل کیمرے سے میری پھدی چدنے کی ویڈیو بنانے لگی لیکن تہمینہ بس ایسے فلم بنا رہی تھی کہ میری پھدی اور ارشد کا لن بس ویڈیو میں نظر آرہا تھا۔ مجھے اپنی چدائی کی ویڈیو بنتی دیکھ کر مزید مزا آنے لگا اور میں اب درد بھول کر ارشد کے ہر جھٹکے کا جواب پھدی اٹھا کر دے رہی تھی اور تہمینہ میری مسلسل چدائی کی ویڈیو بنا رہی تھی۔کچھ منٹوں میں میری پھدی نے زور سے جھٹکا لیاتہمینہ:- کیوں نور العین پھدی فارغ ہوئی ہے؟میں نے کہا ہاںتہمینہ:- ارشد لن باہر نکال مجھے نور العین کی پھدی چاٹنی ہےارشد نے فوراً لن باہر نکالا اور تہمینہ میری پھدی چوسنے لگی اور پانچ منٹ میں میری پھدی پھر سے تیار تھی۔۔تہمینہ:- نور گشتی تیری پھدی کا پھدا بنا دیا ہے میرے شوہر ارشد نے ابھی تو چار گھنٹے تیری چوت چودنی ہے ۔میں نے آچھا کیا ہے یاسر کے لن سے بڑا لن لے کر مزا آرہا ہے۔اب ارشد کو میں نے نیچے لٹایا اور خود اس کے 9 انچ کے موٹے لن پر پھدی رکھ کر بیٹھ گئ اور زور زور سے ارشد کے لن پر اپنی چوت مارنے لگی ۔میری چوت میں درد ہو رہا تھا اور مگر میں زور زور سے ارشد کے لن پر پھدی مارے جارہی تھی۔مجھے اب اپنی پھدی بہت کھلی محسوس ہورہی تھی اور ارشد کا لوڑا میری پھدی میں آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا۔یکدم میری گرم پھدی نے ایک بار پھر سے پانی چھوڑ دیا مگر ارشد کا لن ابھی فل ٹائٹ تھا۔تہمینہ:- ارشد نور گشتی کو گھوڑی بنا کر چود میں ویڈیو بناتی ہوںارشد نے مجھے گھوڑی بنا دیا اور پورا لن میری پھدی میں ڈال کر میری کمر پکڑ لی اور گھسے مارنے لگا ۔اوہ امی جی آہ امی جی ہائے ہائے آہ میری پھدی چد گئ آہ ارشد بہنچود آرام سے چودو میری پھٹ گئی آہ آہ اوہ اوہ اف آہارشد نے زرا ترس نہیں کھایا اور مجھے کتیا بنا کر چود رہا تھاتہمینہ باجی آہ آہ اوہ اوہ اپنے شوہر کو کہو میری پھدی آرام سے چودے آہ آہ میری چوت میں درد ہو رہا ہےتہمینہ بولی گشتی برداشت کر مزا چاہئے تجھے لوڑے کا اب اصلی مرد کے لوڑے کا مزا لےارشد زور سے میری پھدی چود رہا تھا اور اب ارشد نے میرے چوتڑوں پر تھپڑوں کی بارش کردی اور زور زور سے گھسے مارنے لگا ۔تہمینہ میری پھدی چدتے کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ارشد پاگلوں کی طرح سے میری چدائی کر رہا تھا اور زور زور کے جھٹکوں سے درد سے میرا بستر پر پیشاب نکل گیا مگر ارشد پھر بھی نہیں رک رہا تھا۔اب میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا اور میں پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی اب ارشد کے گھسوں میں شدت آئی اور میری پھدی کے اندر مجھے منی کا سیلاب محسوس ہونے لگا۔ارشد کے لن سے منی کے فوارے میری بچہ دانی میں لگ رہے تھے۔میں جو کچھ دیر پہلے درد سے رو رہی تھی اب سکون محسوس ہو رہا تھا۔میری پھدی کو سکون کا ایسا احساس کبھی نہیں ملا تھا اور میں خود پر فخر کر رہی تھی کہ ارشد سے پھدی چدوا لی ہے۔میں بیڈ پر لیٹ گئی اور ارشد بھی میری پھدی میں لن ڈالے لیٹ گیا ۔تہمینہ:- نور العین ٹھیک تو ہو نا؟تہمینہ باجی زندگی میں پہلی بار کسی نے پھدی میں سکون بھرا ہے ۔ارشد مجھے تیرا لن پھر سے چاہیے اور نے لن باہر نکالا لیا اور چوسنے لگی ۔ارشد:- نور العین تیری پھدی کو مزا آیا؟میں نے کہا ارشد بہت زیادہ مزا ملا ہے ۔جب میں نے ٹانگیں کھول کر اپنی چوت کی طرف دیکھا تو میری چوت کا کھپا بنا ہوا تھا اور ارشد کی منی میرے پھدے سے رس رہی تھی۔میں واشروم پھدی صاف کر کہ واپس آئی اور ارشد نے مجھے پھر مموں سے پکڑ لیا اور میرے ممے چوستے ہوئے میری پھدی میں پھر لن ڈال کر چودنا شروع کر دیا۔میں تو ارشد کی گشتی بن چکی تھی اب اس پر تھا مجھے کیسے بھی چودے اور جیسے مرضی کی میری پھدی مارے۔اس دن میں نے دن دو بجے تک5 بار ارشد سے پھدی چدائی اور بہت مشکل سے لڑکھڑاتی ہوئی گھر پہنچی تو میری ساس میری چال دیکھ کر گھورنے لگی جیسے سمجھ گئ ہو کسی نے پھدی پھاڑ کر بھیجا ہے۔میں گھر داخل ہوتے ہی سو گئ جب آنکھ کھلی تو یاسر میرے ساتھ لیٹا میرے مموں کو سہلا رہا تھا اور یاسر نے میری شلوار اتاری اور میری پھدی میں زبان مارنے لگا اور چاٹنے لگا ۔میں نے پھدی کھول دی تو یاسر بولا میری چڈکر بیوی یہ کس نے تیری پھدی کا پھدا بنا کر گھر بھیجا ہے گشتی تبھی گھر آکر سو رہی ہے دن سے ،میں نے کہا مادر چود میری پھدی چاٹ چار دن سے تو نے میری پھدی کو لن نہیں دیا تو باہر سہیلی کے شوہر نے پکڑ کر چود ڈالا میری پھدی بھی منی سے بھر دی ہے۔یاسر میری چدائی کا سن کر جوش میں آ گیا اور میری پھدی ٹانگیں اٹھا کر چودنے لگا اور بولا گشتی ہاتھی کا لن لے کر آئی ہے جو تیری پھدی کا کھپا کھل گیا ہے۔میں نے کہا ہاں مرد تھا اصلی مرد دیکھا کیسے تیری بیوی کی پھدی چودی اور تیری بیوی کی پھدی کا کیا حال کر دیا ہے اس کو اصلی مرد کہتے ہیں۔ اس کے بعد یاسر میری پھدی چود کر سو گیا اور میں رات بھر ارشد کے لن کو خواب میں دیکھتی رہی ۔تہمینہ صحیح کہتی تھی کہ شوہر سے چھپ کر چدوانے کا اپنا مزا ہے۔فرینڈز کیسی لگی کہانی کمنٹس میں بتائے گا۔

The post اسٹوری فین نے مجھے شوہر سے چدوایا appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%81%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%ac%da%be%db%92-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d8%b3%db%92-%da%86%d8%af%d9%88%d8%a7%db%8c%d8%a7/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-2/feed/ 0
راز محبت جب کھلا قسط 2 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/ https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/#respond Tue, 09 Dec 2025 16:53:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/  

The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 




























The post راز محبت جب کھلا قسط 2 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%ac%d8%a8-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d9%82%d8%b3%d8%b7-2-3/feed/ 0
انمول رشتہ قسط 01 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/ https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/#respond Tue, 04 Nov 2025 18:28:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/   میں جنوبی ہندوستان میں ستر کی دہائی میں پیدا ہوا. میرے والد مل میں کام کرنے والے ایک براہ راست سادھے آدمی تھے. ان میں بس ایک خرابی تھی، وہ بہت شراب پیتے تھے. اکثر رات کو بیہوشی کی حالت میں ان کو اٹھا کر بستر پر لٹانا پڑتا تھا. پر ماں کے تئیں […]

The post انمول رشتہ قسط 01 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں جنوبی ہندوستان میں ستر کی دہائی میں پیدا ہوا. میرے والد مل میں کام کرنے والے ایک براہ راست سادھے آدمی تھے. ان میں بس ایک خرابی تھی، وہ بہت شراب پیتے تھے. اکثر رات کو بیہوشی کی حالت میں ان کو اٹھا کر بستر پر لٹانا پڑتا تھا. پر ماں کے تئیں ان کا رویہ بہت اچھا تھا اور ماں بھی انہیں بہت چاہتی تھی اور ان کا احترام کرتی تھی.میں نے بہت پہلے ماں پر ہمیشہ چھائی اداسی محسوس کر لی تھی پر بچپن میں اس کی اداسی کی وجہ سے میں نہیں جان پایا تھا. میں ماں کی ہمیشہ مدد کرتا تھا. سچ بات تو یہ ہے کہ ماں مجھے بہت اچھی لگتی تھی اور اس لئے میں ہمیشہ اس کے پاس رہنے کی کوشش کرتا تھا. ماں کو میرا بہت بنیاد تھا اور اس کا دل بہلانے کے لیے میں اس سے ہمیشہ طرح طرح کی گپپے لڑایا کرتا تھا. اسے بھی یہ اچھا لگتا تھا کیونکہ اس کی اداسی اور بوریت اس سے کافی کم ہو جاتی تھی.میرے والد صبح جلدی گھر سے نکل جاتے تھے اور دیر رات لوٹتے. فر پینا شروع کرتے اور ڈھیر ہو جاتے. ان کی شادی اب صرف برائے نام کو رہ گئی تھی، ایسا لگتا تھا. بس کام اور شراب میں ہی ان کی زندگی گزر رہی تھی اور ماں کی باقی ضروریات کو وہ نظرانداز کرنے لگے تھے. دونوں ابھی بھی باتیں کرتے ہیں، ہنستی پر ان کی زندگی میں اب محبت کے لیے جیسے کوئی مقام نہیں تھا.

میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام کرتا تھا. اس سے کچھ اور آمدنی ہو جاتی تھی. پر یار دوستوں میں اٹھنے بیٹھنے کا مجھے وقت ہی نہیں ملتا تھا، محبت وار تو دور رہا. جب سب سو جاتے تھے تو میں اور ماں کچن میں ٹیبل کے پاس بیٹھ کر گپپے لڑاتے. ماں کو یہ بہت اچھا لگتا تھا. اسے اب بس میرا ہی سہارا تھا اور اکثر وہ مجھے پیار سے باںہوں میں بھر لیتی اور کہتی کہ میں اس کی زندگی کا چراغ ہوں.بچپن سے میں کافی سمجھدار تھا اور دوسروں سے پہلے ہی جوان ہو گیا تھا. سولہ سال کا ہونے پر میں دھیرے دھیرے ماں کو دوسری نظروں سے دیکھنے لگا. بالغ میں داخل کے ساتھ ہی میں یہ جان گیا تھا کہ ماں بہت کشش اور منشیات ناری تھی. اس کے طویل گھنے بال اس کی کمر تک آتے تھے. اور تین بچے ہونے کے باوجود اس کا جسم بڑا کسا ہوا اور جوان عورتوں سا تھا. اپنی بڑی کالی آنکھوں سے جب وہ مجھے دیکھتی تو میرا دل دھڑکنے لگتا تھا.ہم ہر موضوع پر بات کرتے. یہاں تک کہ انفرادی باتیں بھی ایک دوسرے کو بتاتے. میں اسے اپنی عزیز ابینےتریوں کے بارے میں بتاتا. وہ شادی کے پہلے کے آپ کی زندگی کے بارے میں بات کرتی. وہ کبھی میرے والد کے خلاف نہیں بولتا کیونکہ شادی سے اسے کافی مدھر چیزیں بھی ملی تھیں جیسے کہ اس کے بچے.ماں کے تئیں بڑھتے توجہ کی وجہ سے میں اب اسی انتظار میں رہتا کہ کس طرح اسے خوش کروں تاکہ وہ مجھے باںہوں میں بھر کر لاڑ دلار کرے اور پیار سے چومے. جب وہ ایسا کرتی تو اس کے اعلی درجے سینوں کا دباؤ میری چھاتی پر محسوس کرتے ہوئے مجھے ایک عجیب گدگدی ہونے لگتی تھی. میں اس نے پہنی ہوئی ساڑی کی اور اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا جس سے وہ کئی بار شرما کر لال ہو جاتی. کام سے واپس آتے وقت میں نے اس کے لیے اکثر چاکلیٹ اور فولو کی وےي لے آتا. ہر اتوار کو میں نے اسے سنیما اور فر ہوٹل لے جاتا.

سنیما دیکھتے ہوئے اکثر میں بڑے معصوم انداز میں اس سے چپک کر بیٹھ جاتا اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیتا. جب اس نے کبھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا تو ہمت کر کے میں اکثر اپناہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر اسے پاس کھیںچ لیتا اور وہ بھی میرے کندھے پر اپنا سر رکھ کر پکچر دیکھتی. اب وہ ہمیشہ اتوار کی راہ دیکھتی. خود ہی اپنی پسند کی پکچر بھی منتخب کر لیتی.پکچر کے بعد اکثر ہم ایک باغ میں گپپے مارتے ہوئے بیٹھ جاتے. ایک دوسرے سے مذاق کرتے اور كھلكھلاتے. ایک دن ماں بولی. “خوبصورت اب تو بڑا ہو گیا ہے، جلد ہی شادی کے قابل ہو جائے گا. تیرے لئے اب ایک لڑکی تلاش کرنا شروع کرتی ہوں.”

میں نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے فوری طور جواب دیا. “اماں، مجھے شادی وادی نہیں کرنی، میں تو بس آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں.” میری بات سن کر وہ حیرت حیران ہو گئی اور اپنا ہاتھ کھینچ کر سهسا چپ ہو گئی.

“کیا ہوا اماں؟ میں نے کچھ غلط کہا؟” میں نے گھبرا کر پوچھا.

وہ چپ رہی اور کچھ دیر بعد روكھے سورو میں بولی. “چلو، گھر چلتے ہیں، بہت دیر ہو گئی ہے.”

میں نے من ہی من اپنے آپ کو ایسا کہنے کے لیے كوسا پر اب جب بات نکل ہی چکی تھی تو ہمت کرکے آگے کی بات بھی میں نے کہہ ڈالی. “اماں تمہیں برا لگا تو معاف کرو. پر سچ تو یہی ہے کہ میں تمہیں بہت پیار کرتا ہوں. تمہاری خوشی کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں.”

کافی دیر ماں چپ رہی اور پھر اداسی کے لہجے میں بولی. “غلطی میری ہے بیٹے. یہ سب پہلے ہی مجھے بند کر دینا تھا. لگتا ہے کہ اکیلیپن کے احساس سے بچنے کیلئے میں نے تجھے زیادہ چھوٹ دے دی اس لئے تیرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں.”

میں بولا. “غلط ہو یا صحیح، میں تو یہی جانتا ہوں کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو.”

وہ تھوڑا ناراض ہو کر بولی. “پاگلپن کی باتیں مت کرو. سچ تو یہ ہے کہ تو میرا بیٹا ہے، میری کوکھ سے جنما ہے.”

میں نے ادیر ہوکر کہا. “اماں، جو ہوا سو ہوا، پر مجھ ناراض مت ہو. میں اپنا پیار نہیں دبا سکتا. تم بھی ٹھنڈے دماغ سے سوچو اور پھر بولو.”

ماں بہت دیر چپ رہی اور پھر رونے لگی. میرا بھی دل بھر آیا اور میں نے اسے تسلی دینے کو کھینچ کر اپنی باںہوں میں بھر لیا. وہ چھوٹ کر بولی. “چلو، رات بہت ہو گئی ہے، اب گھر چلتے ہیں.”

اس کے بعد ہمارا گھومنے جانا بند ہو گیا. میرے بہت اصرار کرنے پر بھی وہ میرے ساتھ نہیں آتی تھی اور کہتی تھی کہ میں کسی اپنی عمر کی لڑکی کے ساتھ پکچر دیکھنے جاؤں. مجھ وہ اب بھی دور رہتی تھی اور بولتی کم تھی. پر جیسے میرے دل میں ہلچل تھی ویسی ہی اس کی بھی دل میں ہوتی مجھے صاف نظر آتی تھی.

ایک دو ماہ ایسے ہی گزر گئے. اس درمیان میرا ایک چھوٹا بذنےس تھا، وہ کافی کامیاب ہوا اور میں پیسہ کمانے لگا. ایک کار بھی خرید لی. ماں مجھ سے دور ہی رہتی تھی. میرے والد نے بھی ایک بار اس سے پوچھا کہ اب وہ کیوں میرے ساتھ باہر نہیں جاتی تو وہ ٹال گئی. ایک بار اس نے ان سے کہا کہ وہ کیوں نہیں اسے گھمانے لے جاتے تو کام زیادہ ہونے کا بہانہ کر کے وہ مکر گئے. شراب پینا ان کا ویسے ہی چالو تھا. اس دن ان میں خوب جھگڑا ہوا اور آخر ماں روتے ہوئے اپنے کمرے میں گئی اور دھاڑ سے دروازہ لگا لیا.دوسرے دن بدھ کو جب میرے بھائی بہن باہر گئے تھے، میں نے ایک بار پھر ہمت کرکے اسے اتوار کو پکچر چلنے کو کہا تو وہ خاموشی مان گئی. میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں اس سے لپٹ گیا. اس نے بھی میرے سینے پر سر ٹکاکر آنکھیں بند کر لیں. میں نے اسے کس کر باںہوں میں بھر لیا.یہ بڑا مدھر لمحہ تھا. ہمارا تعلق گہرا ہونے کا اور مکمل بدل جانے کا یہ نشان تھا. میں نے پیار سے اس کی پیٹھ اور کندھے پر ہاتھ فےرے اور آہستہ سے اس کے کولہوں کو سہلایا. وہ کچھ نہ بولی اور مجھ اور کس کر لپٹ گی. میں نے اس کی ٹھڈڈي پکڑ کر اس کا سر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا. “اماں، میں تجھے بہت پیار کرتا ہوں، جو بھی ہو، میں تجھے اکیلا نہیں رہنے دوں گا.”

فر جھک کر میں نے اس کے گال اور آنکھیں چومي اور جرات کر کے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے. ماں بالکل نہیں مشغول ہوئی بلکہ میرے بوسہ کا میٹھا پرتساد اس نے مجھے دیا. میری ماں کا وہ پہلا بوسہ میرے لیے امرت سے زیادہ میٹھا تھا.

The post انمول رشتہ قسط 01 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a7%d9%86%d9%85%d9%88%d9%84-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d9%82%d8%b3%d8%b7-01/feed/ 0
شریف بہن اور بھائی قسط 4 https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/ https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/#respond Sat, 25 Oct 2025 18:26:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/   میں دبے پاؤں چلتا ہوا اپنے کمرے کے دروازے تک آیا اور ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔ میں نے سوچا بالکونی بھی ہے میں وہاں سے جاتا ہو اور سٹڈی روم میں آیا اور اس کی ونڈو سے باہر کی طرف بالکونی پر آ گیا […]

The post شریف بہن اور بھائی قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

میں دبے پاؤں چلتا ہوا اپنے کمرے کے دروازے تک آیا اور ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔ میں نے سوچا بالکونی بھی ہے میں وہاں سے جاتا ہو اور سٹڈی روم میں آیا اور اس کی ونڈو سے باہر کی طرف بالکونی پر آ گیا اور دبے پاؤں ہی جاتا ہوا اپنے روم کی وندو تک جانا کیا اور تیسری وندو کو ہلکا سا دبایا تو لاک کھلا ہوا ہی تھا ہم دونوں بھائی کبھی بھی اس ونڈو کو لاک نہیں کرتے تھے کہ کبھی تو ضرورت پڑ سکتی ہے اور آج ضرورت پڑھ ہی گئی۔۔۔ 

جیسے ہی میں نے اندر دیکھا میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا … آپی روبی اندر کمرے میں موجود تھی اور سامنے چئیر پر بیٹھی تھی جبکہ کمپیوٹر پر رات والی ہی مووی چل رہی تھی آپی نے اپنی قمیض پیٹ تک اٹھائی ہوئی تھی اور ہجاب اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ آپی نے کرسی پر نیم دراز ہو کر اپنی ٹانگیں سائیڈوں پر اٹھا رکھی تھیں اور دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے ساتھ اپنی پھدی کا دانہ زور زور سے مسل رہی تھیں میں نے آپی کو پہلی بار ننگا دیکھا تھا میر لن ایک دم اتنی شدت سے کھڑا ہوا کہ مجبوراً مجھے زپ کھول کر اسے باہر نکالنا پڑا۔۔۔۔

 لیکن میں نے اسے باہر نکال کر ایسے ہی چھوڑ دیا کیو نکہ مجھے پتہ تھا کہ آپی کو اس حالت میں دیکھ کر جتنا میں گرم ہو چکا تھا اگر ایک دفعہ بھی لن کو ٹچ کیا تو وہ منی چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔ آپی کا جسم بہت کمال کا تھا ان کے مے تقریباً چھتیس سائز کے ممے ہوں گے۔۔۔۔ آپی کا بایاں ہاتھ قمیض کے اوپر سے ہی ان کے بائیں مے پر تھا جس کو وہ بڑی بری طرح سے مسل رہی تھیں ان کی ممے تقریباً چھتیس انچ رہے ہونگے اور گانڈ تو یقیناً چالیس کی ہوگی۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے اپنے ممے کو مسل رہی تھیں۔ اور دوسرے ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے سے پھدی کے دانے کو۔۔۔۔   

اب ان کے جسم کو جھٹکے لگنے گئے اور انہوں نے اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ لیے اور ٹیبل کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ لیا اور ان کا جسم کا فوارہ بہنے لگا اور اچانک ان کے جسم نے دو تین زور سے جھٹکے لیئے اور وہ نڈھال سی ہو گئیں میری آپی اپنی منزل تک آ پا چکی تھیں اور اس وقت زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ میرے لن نے بنا چدائی کیے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔۔ پھر میں وہاں سے آہستہ سے کھسک لیا اور جس راستے یہاں تک آیا تھا اسی راستے واپس چلتا ہوا نیچے پہنچ گیا۔۔۔ 

مجھے اندازہ تھا کہ اب آپی سیدھا نیچے ہی آئے گی۔۔ میں گھر کے مین گیٹ کے ساتھ کھڑا ہو گیا کہ آپی سیڑھیاں اترتی نظر آئے تو میں اس کے سامنے گھر میں داخل ہوں ۔۔۔ چند منٹ میں ہی آپی نیچے آتی ہوئی دکھائی دی تو میں جان بوجھ کر ایسے اندر داخل ہوا کہ وہ مجھے صاف دیکھ سکے اور اندر جا کر اس کو بتایا کہ ابھی امی نجمہ خالہ کی طرف گئیں ہیں اور سیدھا اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔

 

کپڑے بدل کر میں باہر نکلا اور سنوکر کلب چلا گیا وقت گزاری کیلئے ۔۔۔۔ سارا دن گھر سے باہر گزارنے کے بعد جب میں گھر میں داخل ہوا تو آٹھ بچھ رہے تھے۔ گھر میں گستے ہی ابو کی آواز نے میرا استقبال کیا۔۔۔ آئیں جناب سارا دن کہاں گزار دیے تمہارے موبائل پر کال بھی کی لیکن نمبر بند جا رہا تھا تو میں نے آئیں بائیں شائیں کر کے ابو کو ٹال دیا اور رات کا کھانا ان کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھایا۔۔ امی کہنے لگیں کہ کھانا کھا لیا ہے تو جلدی سو جانا صبح 5 ہے گاؤں جانا ہے خالہ نجمہ کے ساتھ اور ناظم پہلے ہی خالو کے ساتھ وہاں جا چکا ہے۔۔ 

میں نے سوالیہ نظروں سے ابو کی طرف دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ وہاں ہماری جو زمینیں ہیں ان کا کوئی مسئلہ ہے تم چلے جاؤ دو چار دن تک خالو کے ساتھ مل کر کام پورا کر کے واپس آ جانا اور میں ! اچھا ابو کہ کر اٹھ گیا۔ امی نے کہا تمہارا بیگ روبی تیار کر رہی ہے اپنا جو بھی ضروری سامان ساتھ لے جانا ہے اس کو دے دو وہ ساتھ ہی پیک کر دے گی ۔۔۔ اور روبی آپی کا سن کر ہی میرے لن نے مجھے سلیوٹ کیا۔۔۔ 

میں اوپر اپنے کمرے میں گیا تو روبی وہاں ہی تھی آپی نے ایک آسمانی رنگ کی گھیرے دار چادر کے ساتھ خود کو چھپا رکھا تھا جیسے ہی ہماری نظریں ملیں تو ہم دونوں نے نظریں جھکا لیں آخر کار ان کے دل میں بھی چور تھا۔ میں نے اپنی الماری سے ضروری سامان نکال کر آپی کے سامنے رکھ دیا جو کہ چپ چاپ آپی نے بیگ میں پیک کرنا شروع کر دیا۔۔۔ میں گاؤں چلا گیا اور وہاں کام ختم کر کے پانچ دن بعد واپس لوٹا تھا۔۔۔ راستے میں نجمہ خالہ کو ان کے گھر اتار کر میں ابھی اپنے گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے ڈائٹنگ ٹیل پر امی بیٹی مل گئیں۔۔۔ 

سلام دعا کے بعد امی نے پہلا سوال ناظم کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو میں نے بتایا وہ بھی کل خالو کے ساتھ آ جائے گا۔۔ میرا جواب ختم ہوتے ہی امی نے دوسرا سوال داغ دیا۔۔۔۔ گاؤں جس کام سے گئے تھے وہ ہو گیا۔۔۔۔ تو میں نے جان چھڑانے والے انداز میں بولا سب خیر خیریت سے نپٹ گیا تمام تفصیل نجمہ خالہ کو معلوم ہے اور اوپر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر ابھی رکا تو امی نے سوالوں کا تانتا باندھ دیتا ہے اور فر آخر و آب کے بارے میں پوچھنا ہے، اس لیے میں نے ساری بات نجمہ خالہ پر ڈال دی، 

ابھی میں نے سیڑھیاں چڑھنے کیلئے پہلا قدم اٹھایا ہی تھا کہ امی نے حکم صادر کیا ۔ جاؤ میرا برقع لے کر آؤ ذرا میں ابھی نجمہ کی طرف جاؤں گی۔۔۔ میں نے برقع امی کو پکڑاتے ہوئے ابو کے بارے میں پوچھا تو امی جلدی سے بولیں ۔۔۔ یہ مویا دفتر جان چھوڑے جب نا، آج اتوار ہے چھٹی کا دن ہے تو دختر کے کچھ دوستوں نے پارٹی رکھی ہے جس میں نیلی تھی اور کوئی میجک شو کا انتظام بھی ہے اور وہ کمینی ناز میجک شو کا سن کر مچل گئی اور ساتھ چلی گئی۔ اس سلسلے میں گئے ہیں تھوڑا لیٹ ہی آئیں گے ۔۔۔ 

اور روبی کی تو موئی پڑھائی ہی وبال جان بن چکی ہے اوپر بیٹھی کوئی مضمون لکھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ نقاب اور عورت ۔۔۔۔ اب تو اس نے گھر میں بھی عبایا پیننا شروع کر دیا ہے، صبح آٹھتے ہی اوپر چلی جاتی ہے اور سارا دن وہیں رہتی ہے، اب میں تو گھٹنوں کے درد کی وجہ سے اوپر چڑھ نہیں سکتی تو کھانے کے وقت 1 بچے سے آوازیں دے کہتھک جاتی ہوں لیکن مجال ہے کبھی سن لے، خود ہی اپنی مرضی سے آتی ہے۔۔ ابھی بھی دو منٹ پہلے ہی اوپر گئی ہے۔۔۔ اتنی دیر میں بات کرتے ہوئے امی برقع پہن کر خطاب کر چکی تھیں اور مجھے دروازہ بند کرنے کا اشارہ کر کے باہر نکل گئیں ۔۔۔۔ 

 

امی کی باتوں نے میرے دماغ میں لال بتی جلا دی تھی۔۔۔ میں دبے پاؤ اوپر کی طرف چل پڑا ابھی آخری سیڑھی چڑھنے ہی والا تھا کہ روبی آپی کو سٹڈی روم سے نکتے دیکھا اور وہیں ایک سائیڈ پر رک گیا۔۔۔ جو پہلی چیز میں نے نوٹ کی وہ روبی آپی کا کالے رنگ کا سکسی عبایا تھا جس کی لمبائی اتنی تھی کہ آپی کے پاؤں بھی اس میں چھپے ہوئے تھے۔ آپی کا رخ میرے کمرے کی طرف تھا اور انہوں نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا، چند منٹ بعد میں آگے بڑھا اور سٹڈی روم میں داخل ہو کر اسی پیچھے کے ذریعے اپنے کمرے کی کھڑکی تک پہنچ گیا، 

کمره خالی تھا لیکن اسی وقت روبی آپی واشروم سے باہر آئی اور سیدھا کمپیوٹر کی طرف بڑھی، ان کے چہرے پر بے چینی تھی، مجھے یہاں سے کمپیوٹر صاف نظر آرہا تھا۔ انہوں نے کمپیوٹر آن کیا اور سیدھا ہمارے پورن موویز والے فولڈر پر گئیں اور فائل نمبر 111 کو کلک کیا۔۔۔ اس فولڈر میں ٹوٹل 113 موویز تھیں مطلب آپی نے پچھلے پانچ دنوں میں 110 موویز دیکھ ڈالی تھیں۔۔۔۔ ادھر مودی شروع ہو چکی تھی اور ایک کپل کسنگ میں مصروف تھا، آپی نے نظریں کمپیوٹر پر جما دیں۔۔۔۔۔ جیسے جیسے مووی آگے بڑھتی جا رہی تھی آپی کی سانسیں تیز ہوتی جا رہیں تھی۔۔۔ میں نے اپنے لن کو پینٹ کی قید سے آزاد کروا دیا اور بالکل ہلکے ہاتھ سے اسے سہلانے لگا۔۔۔۔ 

آپی بھی عبایا کے اوپر سے بھی اپنے بائیں مے کو بائیں ہاتھ سے دبوچ چکی تھی اور اور کبھی اس کے نپل کو پکڑ کر مروڑتی اور کبھی زور سے پورا مما دبا دیتی تھی۔۔۔ یہاں میری حالت بھی خراب ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ اور اُدھر آپی نے اب دونوں مموں کو دونوں ہاتھوں میں بہت زور سے دبوچنا اور مسلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔ اذیت اور مکمل تسکین نہ ملنے کا عکس ان کے چہرے پر چھایا ہوا تھا۔۔۔ ان کی حالت عجیب سی ہوتی جارہی تھی اور حرکات میں جیسے جنونیت پیدا ہو رہی تھی۔ 

اچانک آپی نے اپنے دونوں بازو سر سے اوپر کیے ایک مست انگڑائی لی اور سر سے اپنا اسکارف نوچ کر وہیں سائیڈ پر موجود بیڈ پر اچھال دیا ان کے بال کالی گھٹاؤں کی طرح کھل کر ان کی گانڈ تک پھیلتے چلے گئے۔۔۔ اب مووی میں ایک لڑکا سیدھا لیٹا ہوا تھا اور اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے لن کو پکڑ کر سہلا رہا تھا اور دائیں ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کر کے کسی کو اپنی طرف بلا رہا تھا کی اچانک اسکرین پر ایک لڑکی ظاہر ہوئی جو کہ فل ننگی تھی وہ مسلسل کیٹ واک کے انداز میں اپنی بڑی اور سیکسی گانڈ کو مکاتے ہوئے سیدھا لڑکے کے سر کی طرف آئی اور اپنی ایک ٹانگ اس کے اوپر سے گزار کر سیدھی اس کے منہ پر بیٹھ گئی اور لزمڑکا اس کی پھدی چاٹنے لگا۔۔۔

آپی نے اپنا ایک ہاتھ لیجا کر اپنی پھدی کو دبوچ لیا اور زور زور سے مسلنے لگی۔۔۔ ایک ہاتھ میں مما ایک ہاتھ میں پھدی ۔۔۔۔ واہ کیا سین تھا میرے لن نے ایک دم جیسے انگڑائی سی لی اور بلکل اکڑ گیا۔۔۔ اب مووی میں لڑکا لڑکی کی چوت میں لن اندر باہر کر رہا تھا کیمرہ جو پچھلی سائیڈ سے تھا تو پورا لن اندر باہر جاتا نظر آرہا تھا اتنے میں ایک اور لڑکے کی کھڑے اور تیل میں چمکتے لن کے ساتھ انٹری ہوئی اور اس نے آتے ہی پہلے موجود لڑکے کی گانڈ کا نشانہ لیا اور ایک لحمے میں آدھا لن اندر اتار دیا۔۔۔

 اس سین کو دیکھتے ہی آپی کے منہ سے لذت آمیز آواز نکلی اور انہوں نے اپنا پھدی والا ہاتھ اوپر اٹھایا اور دو تین دفعہ اپنی پھدی پر یوں مارا جیسے تھپڑ مار رہی ہوں۔۔۔۔ اور پھر زور زور سے پھدی کو مسلنا شروع کر دیا، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس سین نے آپی پر جادو سا کر دیا ہو، ان کا ہر عمل اس سین کی پسندیدگی کی گواہی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔ اب آپی نے اپنی پھدی پر سے ہاتھ اٹھایا کھڑی ہوئی ایک انگڑائی لی اور جھک کر پاؤں کے بلکل پاس سے اپنا عبایا اٹھانے لگ گئی اور اپنی گانڈ تک عبایا اٹھا دیا میری جیسے سانس رک گئی ہو۔۔۔ ۔ 

آپی نے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری وہ پاکیزہ آپی جس کی پاکیزگی کی خاندان بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں وہ یوں اس حالت میں ہوں گی۔۔۔ آپی نے اپنی ٹانگ اٹھا کر ایسے اینگل سے کمپیوٹر ٹیبل کے کارنر پر رکھی اور نیم دراز ہو گئی کہ ان کا نچلا بدن چھپ گیا بس آپی کے چلتے ہوئے ہاتھ سے اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ اس وقت اپنی پھدی پر ظلم کر رہی ہیں ۔۔۔۔

 اب مجھ سے رہا نہیں گیا میں نے تھوک کا گول بنا کر اپنے لن پر پھینکا اور زور زور سے مٹھ مارنے لگا صرف ایک منٹ بعد ہی میرے لن نے سفید گاڑھا مادہ نکال دیا۔۔۔۔ مزے کی وجہ سے میرے منہ سے ایک آہ بھر آمد ہوئی۔۔۔۔ میری آہ آپی کے کانوں تک بھی پہنچ چکی تھی۔۔۔ آپی ایک دم کرسی سے اچھلی اپنا گاؤن سیدھا کیا اور سیدھا تیزی کی طرح میری طرف آئی۔۔ اس وقت ان کو یہ خیال بھی نہیں رہا کہ سر پر اسکارف اور جسم چھپانے کیلئے بڑی سی چادر بھی نہیں ہے۔

 انہوں نے قریب آ کر کھڑکی پوری کھول کر دیکھا اور چلا کر بولیں ، بےغیرت انسان ، تم نے ثابت کر دیا کہ تم اعلی درجے کے بے غیرت ہو۔۔ پہلے اپنے بھائی کے ساتھ اور اب اپنی سگی بڑھی بہن کو۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے آپی تھوڑا اور آگے ہوئیں تو ان کی نظر میرے ہاتھ میں موجود کھڑے لن اور اس سے باہر نکل کر پھیلے ہوئے منی پر پڑی۔۔۔ تو غصے سے کانپ اٹھیں اور کہا ساگر ، ذلیل انسان کتنے بے حیا ہو اگر تمہیں ایسے کسی نے اس جگہ کھڑے دیکھ لیا تو جانتے ہو کیا ہو گا۔۔۔ آپی کی بات ختم ہوئی تو میں ایک دم جمپ مار کر اندر کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔۔ 

آپی کنفیوز ہو کر دو قدم پیچھے بھی چلی گئی اور بولیں ہی کیا بے ہودگی ہے یہ تم کرنا کیا چاہتے ہو ۔۔۔ میں نے بے پروائی سے مسکراتے ہوئے کہا جیسا کہ آپ نے کہا احتیاط کرو تو احتیاطاً اندر آگیا ہوں کوئی دیکھ نا لے۔ تبھی شاید آپی کی جهاندیدہ نظروں نے میری بے پروائی کو نوٹ کر لیا تھا، وہ انتہا آمیز لہجے میں لن کی طرف اشارہ کر کے بولیں، ساگر کم از کم اپنے جسم کو تو صاف اور کور کر لو ۔۔۔۔۔ 

چھوڑو آپی!

آپ مجھے ایک سے زیادہ بار اس حالت میں دیکھ چکی ہیں تو اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں اپنے لن کو آپ سے چھپاؤں یا کھلا رکھوں۔۔۔۔ وہ میرے منہ سے اس اتنے بے باک انداز میں لفظ لن، سن کر اچھل پڑیں۔۔۔ اور ایک بھر پور نظر میرے لن پر ڈال کر دوسری طرف منہ کر کے کہنے لگیں ساگر یہ میری التجاء ہے کچھ پہن لو پلیز مجھے میری نظروں سے مت گراؤ۔۔ 

میں نے کہا او کے آپی ایک شرط پر آپ کی بات مان لوں گا۔ اب میں لیٹا ہوا تھا اور میرے کھڑے لن کا رخ چھت کی طرف تھا۔۔۔۔

 شرط ۔۔۔۔ ؟انہوں نے حیرت زدہ انداز میں میری بات کو دہرایا اور مڑ کر میری آنکھوں میں دیکھنے لگیں تو میں نے بھی آنکھیں نیچے نہیں کہیں اور ان کو بغور دیکھتا رہا۔ شاید وہ کچھ اندازہ لگانا چاہ رہی تھیں میری آنکھوں میں دیکھ کر کچھ لمحے خاموشی کے گزر گئے پھر وہ بولیں اب بکو بھی کیا شرط ہے تمہاری۔۔۔ 

میں نے اپنے لن کو پکڑا اور آہستگی سے سہلاتے ہوئے بولا کہ مجھے آپ کے دونوں ممے ایک ساتھ کپڑوں کے بنا دیکھنے ہیں کیسے لگتے ہیں۔۔۔۔ شٹ اپ ساگر ، تم ہوش میں تو ہو کچھ بھی سوچے بنا جو منہ میں آئے بکتے جارہے ہو۔۔ آپی مزید کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن میں نے ان کی بات کاٹ دی اور لن کو ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہوا اور سہلاتے ہوئے ان کے چاروں طرف چکر کاٹتے ہوئے کہا میری جانو آپی میں پہلے بھی آپ کو ایک دن اس طرح کرتے دیکھ چکا ہوں اور آج بھی اور ویسے بھی اس چیز کا مجھے اندازہ ہے کہ پچھلے پانچ دنوں سے آپ میرے روم میں کیا دیکھ اور کر رہی ہیں

 تو میری سوہنی آپی جان جب آپ اپنے نپل مسل رہی تھیں، اپنا عبایا اٹھا رہی تھیں، اپنی پھدی کو تھپڑوں سے نواز رہی تھیں تب بھی میں یہیں تھا اور اب آپ زیادہ ہیچر میچر

چھوڑیں اور میری بات مان جائیں کیونکہ میں سب جانتا ہوں کہ آپ کو بھی یہ کام بہت مزہ دیتا ہے۔۔ نہیں نہیں ساگر اس طرح موویز دیکھ لینا اور اپنے ہاتھ سے تسکین لینا اور بات ہے 

لیکن اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ سیکس کرنا نہیں یہ کبھی نہیں ہو سکتا اب تمہیں خدا کا واسطہ ہے کچھ پہن لو اور شدید ذلت اور بے بسی کے احساس سے وہ وہاں بیٹھ کر رونے لگیں۔۔

ان کو روتا دیکھ کر میرا دل پیج گیا جو بھی تھا وہ ہے تو میری سگی بہن نا اور میں اس سے بہت پیار بھی کرتا ہوں تو میں فٹافٹ اٹھا اور اپنی پینٹ پہن کر ان کے پاس آ بیٹھا ان کا اسکارف پکڑا اور ان کے سر پر رکھا اور ان کے پاؤں پکڑ کر بھری ہوئی آواز میں بولا آپی میری آپی مجھے معاف کر دو اور پلیز چپ کر جاؤ رونا بند کر دو آپ جانتی ہیں نا میں آپ کے آنسو کبھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ یہ میرا یعنی آپ کے بھائی کا وعدہ ہے آپ سے آئندہ ایسی کوئی بھی حرکت کم از کم میں نہیں کروں گا۔۔۔ 

اور میں بھی رونے لگا تو وہ تڑپ کر اٹھی اور میرے ماتھے کو چوم کر بولیں، خبر دار ، جو ایک قطرہ آنسو کا بھی نکلا تو ابھی جو کچھ بھی ہوا اس کو ایک برا خواب سمجھ کر بھول جاؤ چاہے اپنے بشری تقاضوں کو پورا کرو لیکن رشتوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔۔۔ اب اٹھو اور نہا کر نیچے آؤ میں بھی نہا کر کھانا لگاتی ہوں یہ کہہ کر آپی چلی گئیں اور میں واش روم میں گھس گیا۔ نہا دھو کر کپڑے پہن کر نیچے آیا تو آپی ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھیں ہم نے چپ چاپ کھانا کھایا اور میں گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔

 پھر رات تک میں سنوکر کلب میں رہا اور رات آٹھ بجے گھر میں داخل ہوا تو سامنے ٹیبل پر ناز، امی، ابو موجود تھے۔۔ ناز اور ابو سے ملنے کے بعد کھانا کھانے لگے تو ابو نے ناز سے پوچھا روبی کہاں ہے بھائی آیا ہے بھائی سے مل لے اسے بلاؤ تو ناز نے بتایا کہ ابو وہ کوئی کتاب پڑھ رہی ہیں اور ویسے بھی بھائی تو دن میں آیا تھا تو مل ہی لیئے ہونگے اور تائید طلب نظروں سے مجھے دیکھا اور میں نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

اور اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر لیٹ گیا اور صبح آپی کے ساتھ گزرے ٹائم کے بارے سوچنے لگا اور جانے کب نیند آگئی۔۔۔ صبح آنکھ کھلی فٹافٹ اٹھا کالج کیلئے تیار ہوا کمرے سے نکلتے وقت کمپیوٹر پر نظر پڑی تو غیر ارادی طور پر بنا کچھ سوچے سمجھے کمپیوٹر کی پاور کیبل نکالی اور اپنی الماری میں لاک کر دی۔۔۔۔ نیچے آیا تو میرا ناشتہ ٹیبل پر تیار تھا پر وہاں نا آپی موجود تھی نا امی، خیر مجھے ویسے بھی دیر ہو رہی تھی تھوڑا سا کھا کر اٹھا اور کالج چلا گیا دو پہر کا کھانا میں عموماً کالج کے دوستوں کے ساتھ باہر ہی کھا لیتا تھا۔۔

شام کے وقت میں دو تین گھنٹے گھر میں گزارتا اور پھر باہر سنوکر کلب میں چلا جاتا تھا جہاں آج کل ایک ٹورنامنٹ چل رہا تھا اور میرا شمار بھی چونکہ وہاں کے پلیئرز میں ہوتا تھا تو اس طرح وہاں ٹائم اچھا گزر جاتا رات کو لیٹ گھر جاتا اور امی ابو کے ساتھ کچھ دیر گپ شپ لگا کر اپنے کمرے میں جا کر سو جاتا اگلے دن پھر یہی روٹین دہرائی جاتی۔۔ آج ابو نے مجھے بتایا کہ ناظم کزنز کے ساتھ ایک مہینے کے ٹور پر شمالی علاقہ جات کی طرف جا رہا ہے ، میں نے ان کی بات سنی اور سونے چلا گیا۔۔۔ 

اسی طرح دن گزرتے گئے اب تو سیکس میں بلکل ہی بھول چکا تھا روٹین وہی تھی صبح ناشتہ ٹیبل پر رکھا ملتا تھا کبھی کبھی ناشتہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا تو میں ایک دو نوالوں کے ساتھ ایک کپ چائے کاپی کر اٹھ جاتا تھا، اس بات کو آپی نے بھی محسوس کر لیا۔۔ آپی کے ساتھ اس دن کے واقعے کا آج ساتواں دن تھا، میں ناشتے کی ٹیبل پر پہنچا تو ٹیبل خالی تھا لیکن کچن سے آتی ہوئی برتن کھڑکنے کی آواز کسی کی موجودگی کا پتہ دے رہی تھی، 

میں چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گیا چند لمحے بعد ہی روبی آپی کچن سے کھانے کا سامان لیکر باہر نکلی اور سارا سامان سجا کر چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ اس دن کے بعد آج میرا آپی سے سامنا ہوا تھا۔ اب روز یہی ہونے لگا میں آکر ناشتے کی میز پر بیٹھ جاتا اور آپی گرما گرم ناشتہ دے کر چلی جاتی۔ اس واقعے کو آج 11واں دن ہو چکا تھا۔ صبح جب آپی ناشتہ لیکر آئیں تو میرے ہاتھ میں ایک پیپر رکھا اور کہنے لگیں اس پر کچھ کتابیں لکھیں ہیں کالج سے واپسی پر لیتے آنا۔ 

میں نے کہا اچھا آپی اور ناشتہ کر کے کالج چلا گیا اب اکثر ہی ایسا ہوتا کہ صبح ناشتے پر کوئی نا کوئی کام کی بات ہو جاتی اور ہمارے درمیان جو جمود قائم ہو گیا تھا وہ اب ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔ اس واقعے کو آج اٹھارواں دن تھا آج آپی جب ناشتہ لیکر آئیں تو انہوں نے ایک پیارا سا سوٹ پہن رکھا تھا عبایا یا چادر آج اتاری ہوئی تھی سر پر صرف اسکارف تھا آج انہوں نے ناشتہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر کیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے خلافِ معمول مسکرا بھی رہیں تھی۔۔ 

میں اس کایا پلٹ پر حیرانگی کے ساتھ خوش بھی بہت تھا کہ چلو آپی اب نارمل روٹین میں واپس آ چکی ہیں۔۔۔۔ آج اس واقعے کو 24 واں دن تھا جب آپی نے صبح مجھے ناشتہ کروایا۔۔ وہ معمول کی طرح اسکارف اور بڑی سی چادر میں ملبوس تھی۔۔۔ میں ناشتہ کر کے اٹھا اور دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ آپی نے مجھے پکارا،، ساگر بات سنو، میں وہیں سے مڑا اور بولا جی آپی۔۔۔۔اس وقت تک وہ میرے قریب آچکی تھی۔۔۔ 

آپی نے بنا کسی ہچکچاہٹ اور شرمندگی کے بڑے نارمل سے انداز میں پوچھا،، پاور کیبل کہاں ہے ،،۔ آپی کا انداز ایسا تھا جیسے وہ کسی عام سی کتاب کے متعلق پوچھ رہی ہوں۔۔۔ میں نے بھی بنا چونکے بلکل میکانکی انداز میں اپنے بیگ کو کھولا اور الماری کی چابی آپی کے ہاتھ میں رکھ کر کہا کہ میری الماری میں پڑی ہے اور گھر سے باہر نکل گیا۔۔

اگلے دن بھی ناشتے کے بعد جب میں گھر سے نکلنے لگا تو آپی نے مجھ سے اسی طرح نارمل انداز میں پوچھا، ساگر تم گھر واپس کتنے بجے آؤ گے ، تو میں نے کچھ نا سمجھنے والے انداز میں جواب دیا کہ دو بجے تک آجاؤں گا کیوں خیریت تو ہے۔ نہیں کچھ خاص نہیں میں بس یہ کہنا چاہتی تھی کہ تم پانچ بجے سے پہلے مت آنا،، میں کچھ زیادہ ٹائم چاہتی ہوں،، او کے میں پانچ بجے سے پہلے نہیں آؤں گا۔ ہمارا بات کرنے کا انداز بلکل نارمل اور سرسری سا تھا۔ آپی بھی جانتی تھی وہ کیا کہہ رہی ہیں اور میں بھی جانتا تھا وہ کس لیے آج زیادہ ٹائم مانگ رہی ہیں۔۔

آپ لوگ بھی سمجھ چکے ہوں کہ آپی یہ جنگ ہار چکی ہے اور اس کی پھدی جیت چکی ہے۔ میں پانچ بج کر بیس منٹ پر گھر میں داخل ہو اتو اتفاقا آپی اسی وقت سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آرہی تھی۔۔۔ آپی نے وہی کالے رنگ کا سلکی عبایا پہنا ہوا تھ پاؤں ننگے تھے اور کھلے بال کو لہوں تک لہرا رہے تھے ۔۔۔ آپی کے کھڑے ہوئے نپلز عبائے سے صاف نظر آ رہے تھے جو کہ اس بات کا مظہر تھے کہ آپی نے عبائے کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا اور بلکل ننگی ہیں۔۔۔ 

جاری ہےشریف بہن اور بھائی

قسط 3

میں دبے پاؤں چلتا ہوا اپنے کمرے کے دروازے تک آیا اور ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔ میں نے سوچا بالکونی بھی ہے میں وہاں سے جاتا ہو اور سٹڈی روم میں آیا اور اس کی ونڈو سے باہر کی طرف بالکونی پر آ گیا اور دبے پاؤں ہی جاتا ہوا اپنے روم کی وندو تک جانا کیا اور تیسری وندو کو ہلکا سا دبایا تو لاک کھلا ہوا ہی تھا ہم دونوں بھائی کبھی بھی اس ونڈو کو لاک نہیں کرتے تھے کہ کبھی تو ضرورت پڑ سکتی ہے اور آج ضرورت پڑھ ہی گئی۔۔۔ 

جیسے ہی میں نے اندر دیکھا میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا … آپی روبی اندر کمرے میں موجود تھی اور سامنے چئیر پر بیٹھی تھی جبکہ کمپیوٹر پر رات والی ہی مووی چل رہی تھی آپی نے اپنی قمیض پیٹ تک اٹھائی ہوئی تھی اور ہجاب اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ آپی نے کرسی پر نیم دراز ہو کر اپنی ٹانگیں سائیڈوں پر اٹھا رکھی تھیں اور دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے ساتھ اپنی پھدی کا دانہ زور زور سے مسل رہی تھیں میں نے آپی کو پہلی بار ننگا دیکھا تھا میر لن ایک دم اتنی شدت سے کھڑا ہوا کہ مجبوراً مجھے زپ کھول کر اسے باہر نکالنا پڑا۔۔۔۔

 لیکن میں نے اسے باہر نکال کر ایسے ہی چھوڑ دیا کیو نکہ مجھے پتہ تھا کہ آپی کو اس حالت میں دیکھ کر جتنا میں گرم ہو چکا تھا اگر ایک دفعہ بھی لن کو ٹچ کیا تو وہ منی چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔ آپی کا جسم بہت کمال کا تھا ان کے مے تقریباً چھتیس سائز کے ممے ہوں گے۔۔۔۔ آپی کا بایاں ہاتھ قمیض کے اوپر سے ہی ان کے بائیں مے پر تھا جس کو وہ بڑی بری طرح سے مسل رہی تھیں ان کی ممے تقریباً چھتیس انچ رہے ہونگے اور گانڈ تو یقیناً چالیس کی ہوگی۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے اپنے ممے کو مسل رہی تھیں۔ اور دوسرے ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے سے پھدی کے دانے کو۔۔۔۔   

اب ان کے جسم کو جھٹکے لگنے گئے اور انہوں نے اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ لیے اور ٹیبل کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ لیا اور ان کا جسم کا فوارہ بہنے لگا اور اچانک ان کے جسم نے دو تین زور سے جھٹکے لیئے اور وہ نڈھال سی ہو گئیں میری آپی اپنی منزل تک آ پا چکی تھیں اور اس وقت زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ میرے لن نے بنا چدائی کیے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔۔ پھر میں وہاں سے آہستہ سے کھسک لیا اور جس راستے یہاں تک آیا تھا اسی راستے واپس چلتا ہوا نیچے پہنچ گیا۔۔۔ 

مجھے اندازہ تھا کہ اب آپی سیدھا نیچے ہی آئے گی۔۔ میں گھر کے مین گیٹ کے ساتھ کھڑا ہو گیا کہ آپی سیڑھیاں اترتی نظر آئے تو میں اس کے سامنے گھر میں داخل ہوں ۔۔۔ چند منٹ میں ہی آپی نیچے آتی ہوئی دکھائی دی تو میں جان بوجھ کر ایسے اندر داخل ہوا کہ وہ مجھے صاف دیکھ سکے اور اندر جا کر اس کو بتایا کہ ابھی امی نجمہ خالہ کی طرف گئیں ہیں اور سیدھا اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔

 

کپڑے بدل کر میں باہر نکلا اور سنوکر کلب چلا گیا وقت گزاری کیلئے ۔۔۔۔ سارا دن گھر سے باہر گزارنے کے بعد جب میں گھر میں داخل ہوا تو آٹھ بچھ رہے تھے۔ گھر میں گستے ہی ابو کی آواز نے میرا استقبال کیا۔۔۔ آئیں جناب سارا دن کہاں گزار دیے تمہارے موبائل پر کال بھی کی لیکن نمبر بند جا رہا تھا تو میں نے آئیں بائیں شائیں کر کے ابو کو ٹال دیا اور رات کا کھانا ان کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھایا۔۔ امی کہنے لگیں کہ کھانا کھا لیا ہے ت

The post شریف بہن اور بھائی قسط 4 appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%81%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7-4/feed/ 0
آپ بیتی https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/#respond Mon, 29 Sep 2025 08:07:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/   آب بیتی 🔥 مکمل بولڈ کہانی ۔۔۔۔۔۔۔ یہ واقعہ دو سال پرانے ایک سفر کی ہے جب میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ناران کاغان گھومنے گیا تھا۔ اس ٹرپ میں میرے باقی دوست کافی سست واقع ہوئے تھے، ان کا شوق بس اتنا تھا کہ جہاں جاتے آرام سے بیٹھ کر لطف اندوز […]

The post آپ بیتی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

آب بیتی 🔥

مکمل بولڈ کہانی

۔۔۔۔۔۔۔

یہ واقعہ دو سال پرانے ایک سفر کی ہے جب میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ناران کاغان گھومنے گیا تھا۔ اس ٹرپ میں میرے باقی دوست کافی سست واقع ہوئے تھے، ان کا شوق بس اتنا تھا کہ جہاں جاتے آرام سے بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے۔

خیر، ہم شام ڈھلتے کیوائی پہنچے اور وہاں سے جیپ کے ذریعے شوگران۔ ہمارا قیام پائن پارک سے ذرا آگے ایک ہوٹل میں تھا۔ سفر کی تھکاوٹ تھی، سب سو گئے۔

اگلے دن ہم سری پائے کے لیے نکلے۔ دن کے 10 بجے ہم وہاں پہنچے تو کافی رونق تھی۔ وہاں موجود جیپوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کوئی بڑا گروپ بھی آیا ہوا ہے۔ خیر، باقی دوستوں نے تھوڑا سا اوپر جا کر ایک ٹینٹ ریستوران میں کرسیاں سنبھال لیں اور مجھے انتہائی بے شرمی سے اکیلے جانے کو کہا۔

میں نے بھی ٹھان لیا کہ اب ان کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گا، جہاں جانا ہے اکیلا ہی جاؤں گا۔

خیر، میں آگے چلتا گیا۔ ذرا سا اوپر گیا تو اندازہ ہوا کہ یہاں رنگ برنگے آنچلوں کی بہار آئی ہوئی ہے۔ کم از کم کوئی تین درجن لڑکیاں ادھر ادھر تتلیوں کی طرح منڈلا رہی تھیں۔ ان کے کچھ گروپس گھاس پر بیٹھ کر کھا پی رہی تھیں، کچھ آنکھ مچولی، بیڈمنٹن وغیرہ جیسے کھیل کھیل رہی تھیں۔ کچھ تصاویر اتار رہی تھیں۔ غرض یہ کہ جنت کا سا سماں تھا۔

میں خاموشی سے ان سے ذرا فاصلے سے گزر گیا۔ مجھے دیکھ کر کچھ نے مسکراہٹ بھی دی مگر میں اس قسم کے کسی ایڈونچر کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ ایک آدمی اور تین درجن لڑکیاں، یہ رسک کوئی دل گردے والا ہی لے سکتا ہے۔ کسی قسم کی پٹائی کی صورت میں ہر ایک کے حصے میں ایک ایک چماٹ بھی آئے تو بہرہ غرق ہو جائے۔

خیر، کوئی دو گھنٹے کی تھکا دینے والی ہائیکنگ کے بعد میں ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں کی آکسیجن مجھ جیسے میدانی انسان کے لیے کم تھی تو میں واپس ہو لیا جو کہ زیادہ محنت والا کام تھا۔

جب میں واپس آیا تو میں نے لڑکیوں کو ادھر ادھر بکھرے ہوئے دیکھا۔ اب میدان ایسا تھا کہ لامحالہ مجھے ان کے بیچ میں سے گزرنا تھا۔ میں سر جھکائے گزرنے لگا۔

اتنے میں آواز آئی: “ایکسکیوز می! کیا آپ ہماری ایک تصویر لے لیں گے؟”

یہ کہنے والی ایک گندمی سی رنگت والی، بھرے ہوئے جسم کی لڑکی تھی، جس کی عمر تقریباً 22-23 سال کے قریب تھی۔ آنکھیں اور ہونٹ بھرے ہوئے اور بھورے رنگ کے بال تھے۔ اس نے ٹائٹ فٹڈ کپڑے پہنے تھے اور ماتھے پر سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔

میں نے اپنے کیمرے کو دیکھا اور کہا: “مگر میں آپ کی تصویر لے کر کیا کروں گا؟”

وہ بولی: “ہیلو، میں اپنے کیمرے سے کہہ رہی ہوں۔”

میں بولا: “اوہ، آئی ایم سوری! میری نظر کیمرے پر گئی ہی نہیں۔ لیجیے۔”

(یہ سچ تھا کیونکہ میں تو اپنی آنکھیں اس کے جسم پر رکھے ہوئے تھا اور وہ بات وہ بھی بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔)

میں نے ان کے گروپ کی کوئی 5-6 تصاویر لیں اور کیمرہ انہیں واپس کر دیا۔ میں ذرا سا آگے ہوا تو اس نے پھر آواز دی: “سنئیں۔”

میں نے کہا: “جی، سنائیے۔”

“شکریہ، آپ نے ہماری مدد کی، یہ لے لیں۔”

اس نے ایک ڈسپوز ایبل گلاس میں مجھے ڈیو دی۔ میں نے شکریہ کہہ کر لے لی اور بولا: “ویسے کاش میں آپ کی ایک تصویر اپنے کیمرے سے لیتا تو شاید اس وادی کی تصاویر میں ایک حسین اضافہ ہوتا۔”

وہ مسکرا دی اور شکریہ کہہ کر چلی گئی۔

جب میں میدان سے گزرا تو اس کے ساتھ کچھ ٹیچرز ٹائپ خواتین مجھے کافی گھور کر دیکھ رہی تھیں۔

جب میں واپس آیا تو میرے دوست کھا پی کر تھک چکے تھے اور اب پھر تھکان اتارنے کے لیے چائے پی رہے تھے۔ اتنے میں وہ سب ہمارے قریب سے گزریں۔

لڑکیوں کو آتا دیکھ کر ان سب کی رال ٹپکنے لگی۔ وہ لڑکیوں کا گروپ بھی ہمارے ساتھ سے گزرا۔ وہ لڑکیاں مجھے دیکھ کر مسکرائیں اور گے چلی گئیں۔ اب میرے دوستوں کو بھی جوش آیا اور وہ ضد کرنے لگے کہ چلو واپس چلیں، یہ سب سری لیک پر ضرور رکیں گی۔

میں نے ان کو جھوٹ بولا کہ نہیں، یہ آتے ہوئے لیک سے ہو کر آئی ہیں۔ مگر وہ بے چین ہی رہے تھے اور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر شوگران پہنچ جائیں۔

ہم کوئی تین بجے کے قریب شوگران پہنچے۔ میں تھک گیا تھا اسی لیے کھانا کھا کر سو گیا۔ شام کو باہر نکلا تو لڑکیاں پورے شوگران میں پھیلی ہوئی تھیں۔ میں بھی ایک ریستوران میں بیٹھ گیا اور چائے منگوائی۔

اس گروپ کی ایک لڑکی وہاں تھی۔ میں نے اسے سر کے اشارے سے وش کیا۔ جواب میں اس نے بھی مجھے مسکرا کر دیکھا۔ دس منٹ کے بعد وہ لڑکی بھی وہاں آ گئی۔ کچھ دیر اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ میرے پاس آ گئی۔

“آپ یہاں بھی؟” وہ بولی۔

“شوگران صرف آدھے کلومیٹر جتنا ہی تو ہے، یہاں ملنا تو ظاہر تھا۔ ویسے آپ کا پلان کیا ہے؟”

وہ بولی: “بس یہاں سے ناران اور وہاں سے مری۔ اور آپ کا؟”

میں نے کہا: “پہلے تو نہیں، اب یہی ہے مس…؟”

“نازش۔” وہ مسکرا کر بولی۔

“فراز خان۔” میں نے اپنا تعارف کروایا۔

مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کام قریب قریب بن گیا ہے۔

ہم نے تھوڑی دیر باتیں کی پھر وہ چلی گئی۔

اگلے دن جب ہم شوگران سے نکلے تو وہ لوگ ناران جا چکے تھے۔

میری اس سے ناران میں دو دن کے قیام کے دوران کئی بار ملاقات ہوئی اور میں نے اسے ڈنر بھی کروایا۔

ان ملاقاتوں میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس کا دماغ تیار ہے اور وہ بھی یہی سب چاہتی ہے۔

پھر وہ مری آ گئی۔ میرے دوست واپس لاہور آ گئے جب میں مری چلا گیا۔

مری میں میں نے کمرہ لیا اور اسے کال کر کے مال پر بلایا۔

وہ سفید کرتے کے ساتھ سیاہ جینز پہن کر آئی۔

ہم نے ساتھ کھانا کھایا پھر میں نے اس سے پوچھا: “نازش، کیا خیال ہے کہیں چل کر باتیں کریں، یہاں بہت رش ہے۔”

اس نے میرے ہوٹل کا نام پوچھا اور اپنی دوستوں کو کال کر کے بتایا کہ وہ میرے ساتھ اس ہوٹل میں اس کمرے میں جا رہی ہے، کوئی مسئلہ ہو یا کوئی اس کا پوچھے تو وہ فوراً اطلاع کریں۔

کمرے میں پہنچ کر وہ تھوڑا کنفیوز ہو گئی مگر زیادہ پریشان نہیں تھی۔

وہ واش روم میں گئی اور کوئی دس منٹ بعد باہر آئی تو مجھے اس کے جسم سے پرفیوم کی خوشبو آئی۔

وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔

میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کے بالوں سے اس کے ہونٹوں تک لایا اور اسے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔

وہ پہلے تو ذرا شرمائی مگر پھر میرا ساتھ دینے لگی۔ میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور اسے لٹا کر اس کے اوپر لیٹ گیا۔

اپنے ہاتھوں سے میں اس کے جسم کے تمام حصوں کو سہلانے لگا۔

اس نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول دیں اور میں بھی آسانی سے اپنا لن اس کی ٹانگوں کے بیچ رگڑنا شروع کر دیا۔ وہ پورے جوش سے میرا ساتھ دے رہی تھی۔

بوسہ کرتے ہم صوفے سے نیچے زمین پر آ گئے۔ میں نے اس کا کرتا اتار دیا۔ اس نے نیچے سیاہ رنگ کا برا اور انڈرویئر پہنا تھا۔

وہ میرے اوپر لیٹ گئی اور مجھے بوسہ دینے لگی۔

اگلا، میں نے اس کا برا بھی اتار دیا۔

اس کے سینوں پر جب میری نظر پڑتی تو آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔

وہ میرے اوپر ہی لیٹ کر بوسہ دیتی رہی۔

کچھ دیر اس کے نپلز کو بوسہ دیتا رہا اور وہ منہ سے آوازیں نکالتی رہی۔ پھر وہ اچانک دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گئی۔ میں نے اس کے ممے اپنے ہاتھوں میں پکڑے اور دبانے لگا۔

اب میں نے اس کی پینٹ بھی اتار دی۔ وہ صرف انڈرگارمنٹس میں ہی رہ گئی۔

میں نے اسے صوفے پر لٹایا اور اس کے جسم پر بوسہ دینے لگا۔

آخر کار میری برداشت ختم ہو گئی، اس کے اور اپنے سارے کپڑے اتار دیے اور میں اسے بیڈ پر لے آیا۔

اسے مضبوطی سے تھام کر اسے بوسہ دینے لگا۔

میں نے اپنی انگلی سے اس کی چوت کو رگڑنا شروع کیا۔ واگینا پہلے ہی کافی گیلی ہو چکی تھی۔ وہ بہت زیادہ لطف اندوز ہو رہی تھی۔ جب میں نے اس کے اندر اپنا لن ڈالنا چاہا تو وہ بولی: “پلیز، تھوڑی دیر رکو، ابھی اسی طرح کرو، مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔”

میں نے مزید 15 منٹ اس کے ساتھ فور پلے کیا۔ اس کے سینوں سے لے کر ناف تک سارے جسم کو خوب بوسہ دیا۔ ساتھ ہی میں نے اس کی چوت کو خوب رگڑا۔ اس کی چوت بالکل شیوڈ اور صاف تھی، جس کا مطلب تھا کہ وہ آج کے لیے تیار ہو کر آئی تھی۔

میں نے کنڈوم نکالا تو وہ بولی: “پلیز یہ نہیں، میرے پاس دوسرا ہے وہ پہنو۔”

میں اس کے پرس سے فلیورڈ کنڈوم لے آیا۔ پورے کمرے میں اسٹرابیری کی خوشبو پھیل گئی۔ جب میں نے کنڈوم پہن لیا تو اس نے پہلے کافی اناڑی پن سے چوپا لگانا شروع کیا۔ مگر آہستہ آہستہ وہ کافی اچھے طریقے سے چوپا لگانے لگی۔ میں لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اسے کہا کہ اب بس کرو۔

میں نے اسے سیدھا لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں کھول اٹھا دیں۔ پہلے ٹوپی کو چوت پر رگڑا، پھر آرام سے ڈال دیا۔ لن بغیر کسی مشکل کے اندر چلا گیا۔

مجھے اندازہ تھا کہ وہ کوئی کنواری لڑکی نہیں ہے، ہاں مگر کوئی خاص تجربہ کار بھی نہیں تھی۔

میں پہلے آرام سے، پھر ذرا زور سے اسے چودنے لگا۔ وہ بھی ہونٹوں سے سسکیاں اور آوازیں نکالتی رہی۔

میں اسی انداز میں کچھ دیر تک اسے چودتا رہا مگر اب مجھے لگنے لگا کہ میں زیادہ دیر ٹک نہیں پاؤں گا تو میں رک گیا۔ 2-3 منٹ بوسہ کرنے کے بعد میں نے دوبارہ اسے چودا مگر اس بار ٹانگیں تھوڑا سا اوپر اٹھا لیں۔

اس طریقے سے اس کے زیادہ اندر جانے لگا اور تھوڑا بھی کافی محسوس ہونے لگا۔ وہ بھی اب پورے جوش سے میرے ہونٹوں کو بوسہ دینے لگی۔ اس کی ٹانگوں کے بیچ سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بھی پوری جوش و خروش میں ہے۔

میں کسی بھی لمحے چھوٹ سکتا تھا، اسی لیے میں اس کے اوپر سے ہٹ کر اس کی ٹانگیں کھول کر چودنے لگا۔ یہ آخری لمحات سب سے زیادہ پرلطف تھے ہم دونوں کے لیے۔

اب وہ زور زور سے آوازیں نکالنے لگی۔ آخر میں چھوٹ گیا اور اسی کے اوپر لیٹ گیا۔

کچھ دیر لیٹنے کے بعد ہم باتیں کرنے لگے۔

اس نے بتایا کہ وہ اور اس کا کزن کافی عرصے سے سیکس کرتے ہیں مگر اس نے ایسا سیکس کبھی انجوائے نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ گھر پر چھپ چھپ کر جلدی جلدی کرتے ہیں مگر یہاں کھل کر سیکس کیا۔

جبکہ فلیورڈ کنڈوم اس کی دوست نے اسے دیا تھا اور یہ اس کا پہلا تجربہ تھا۔

اس نے بغیر نہائے کپڑے پہنے اور جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ کل پھر آنے کا وعدہ کیا۔

میں اسے باہر تک چھوڑ آیا۔(ختم شد)

The post آپ بیتی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c/feed/ 0
نند کی شادی https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/#respond Sun, 28 Sep 2025 14:00:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/   نند کی شادی۔ ہائی دوستوں! میرا نام عروہ ہے عمر 32 سال اور میرے 3 بچے ہیں۔ یہ کہانی جو میں آپ لوگوں کو بتانے جا رہی ہوں یہ 2 سال پرانی ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ میری نند کی شادی تھی اور کیونکہ ان کا کوارٹر علیحدہ تھا تو مجھے شادی کے […]

The post نند کی شادی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

نند کی شادی۔

ہائی دوستوں! میرا نام عروہ ہے عمر 32 سال اور میرے 3 بچے ہیں۔

یہ کہانی جو میں آپ لوگوں کو بتانے جا رہی ہوں یہ 2 سال پرانی ہے۔

بات کچھ یوں ہے کہ میری نند کی شادی تھی اور کیونکہ ان کا کوارٹر علیحدہ تھا تو مجھے شادی کے پہلے 3 دن اسکے ساتھ رہنا تھا ہمارے یہاں یہ مانا جاتا ہے کہ دلہا دلہن کو اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے اس کے گھر میں صرف ایک بیڈ روم اور ایک گیسٹ روم تھا۔

خیر دن تو گزر گیا اور رات 11 بجے کے قریب سب لوگ چلے گئے۔ میں بھی گیسٹ روم میں آگئی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ مجھے ڈر لگنے لگا۔ میں نے اپنی کزن کو کال کی اور آنے کا کہا تو اس نے کہا کہ بچے ابھی سوئے ہیں جاگ جائیں گے لیکن اگر آپ کہو تو میں سلطان کو بھیج دیتی ہوں (سلطان اس کا بھائی اور میرا کزن ہے جو تقریباً میرا ہم عمر ہے).

کیونکہ مجھے ڈر لگ رہا تھا میں نے کہا ٹھیک ہے اور ویسے بھی سونا ہی ہے۔ سلطان نے پہنچ کر کال کی تو میں نے گیسٹ روم کا باہر والا دروازے کھولا اور سلطان اندر داخل ہو گیا۔

کچھ دیر ہم باتیں کرتے رہے اور تقریباً 12 بجے سلطان نے لائٹ آف کرکے کہا کہ اب سو جاؤ اور خود موبائل میں مصروف ہو گیا۔

کچھ دیر میں اسے دیکھتی رہی میں نے دوپٹہ اتار کر سائیڈ میں رکھا اور کروٹ لے کر سونے لگی اور ناجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

ابھی میں کچی نیند میں تھی کہ اپنے کولہوں پر کسی کا ہاتھ محسوس کیا میں سمجھ گئی کہ سلطان بدتمیزی کر رہا ہے

اس نے بڑی صفائی سے میری قمیض پیچھے سے اوپر کر کے شلوار کے اوپر سے اپنا ہاتھ میرے کولہوں پر رکھا ہوا تھا۔ کچھ دیر یوں ہی رہنے کے بعد اس نے کولہوں کو سہلانا شروع کر دیا مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے فوراً کروٹ بدلی اب میں بلکل سیدھی لیٹ گئی۔

اس نے بھی ڈر کر اپنا ہاتھ ہٹا لیا لیکن 

کچھ دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا اور میری طرف سے کوئی حرکت نہ پا کر اپنا ہاتھ پیٹ سے اوپر کی طرف لے جا کر میرے ایک پستان پر رکھ دیا۔ میرے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ ایک بار تو سوچا کہ ابھی اسے گالیاں دے کر یہاں سے نکال دوں لیکن پھر سوچا کہ ایک تو ساتھ ہی نند کا کمرا ہے اسے کیا کہوں گی اور دوسرا اکیلے ڈر بھی لگ رہا ہے تو اگر یہ چلا گیا تو میں کیا کرونگی بس یہی سوچ کر میں نے خاموشی سے بر داشت کرنے کا سوچ لیا۔

 کچھ دیر ایسے رہنے کے بعد وہ پستان کو ہلکے ہلکے دبانے لگا اور مزے لینے لگا کیونکہ میں نے قمیض کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا تو وہ آسانی سے میرے نیپلز کو بھی دبا رہا تھا جس سے میرے نیپلز سخت ہو گئے۔

اس نے اپنا کام جاری رکھا اور دوسرا ہاتھ شلوار کے اوپر سے میری سنگم پر رکھ دیا۔

میں اس کے ہاتھ کا لمس پا کر شدت کی انتہاء کو پہنچ گئی میرے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگا میں اس کی گرمی کو پوری طرح محسوس کر رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ پستانوں کی بھی مالش ہو رہی تھی لیکن اسے یہی لگ رہا تھا کہ میں سوئی ہوئی ہوں جس سے اس کی ہمت بڑھتی گئی اور اس نے میری قمیض کو آہستہ آہستہ اوپر کرنا شروع کر دیا چونکہ پیچھے سے اس نے پہلے ہی قمیض اوپر کر دی تھی تو سامنے سے اب کوئی مسئلہ نہ ہوا اور کچھ ہی دیر میں سلطان نے میرے پستانوں کو قمیض کی قید سے آزاد کردیا اور میرے اوپر جھک کر دونوں پستانوں کو باری باری پیار سے کس کیا اور ہلکے ہلکے زبان بھی پھیری پھر ہاتھ سے کچھ دیر دبانے کے بعد اب اس نے میرا ازاربند کھولنے کا ارادا کیا لیکن شاید ڈر رہا تھا خیر اس نے ہمت کر کے ازاربند پکڑا اور آہستہ آہستہ کھولنے لگا۔

ازاربند کھولنے کے بعد کچھ دیر اس نے کچھ نہ کیا اور پھر شلوار کو پھیلا کر نیچے کر دیا جس سے میری سنگم اور گول گول رانیں ننگی ہو گئی۔

اس نے موبائل کی لائٹ ان کی اور میری سنگم اور پستانوں کے درشن کرنے لگا۔

میرے نیپلز تنے ہوئے، سنگم پر ہلکے ہلکے بال اور گوری گوری رانیں چمک رہی تھی میں اسے چوری آنکھ سے دیکھ رہی تھی وہ پاگل ہو رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ میری رانوں پر پھیرا اور پھر سنگم کو دونوں اطراف اس نے کس کیا اس کے بعد اس نے اپنا ہاتھ میری سنگم پر رکھ دیا اور جب کوئی حرکت نہ ہوئی تو سنگم کو ہلکے ہلکے سہلانے لگا اس کا ہاتھ مزید نیچے جانے کی کوشش کررہا تھا لیکن چونکہ میرے دونوں ٹانگوں کے درمیان فاصلہ کم تھا تو اس کا ہاتھ نیچے نہیں جا پا رہا تھا اسے ڈر تھا کہ کہیں میری آنکھ نہ کھول جائے اس لئے زور بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ آگ تو میرے اندر بھی لگی ہوئی تھی اور دل کر رہا تھا کہ ابھی پاؤں کھول دوں لیکن شرم بھی آرہی تھی۔

سلطان نے دھیرے دھیرے میری ایک ٹانگ کو حرکت دے کر جگہ بنانا چاہی لیکن زیادہ کامیاب نہ ہوسکا خیر اس نے دوبارا اپنا ہاتھ میری سنگم پر رکھ دیا اور دبانے لگاوہ پورے جوش میں تھا اور اب مجھ سے بھی نہیں رہا جا رہا تھا میں بھی پورا مزا لینے کے لئے بے چین تھی جونہی اس نے جوش میں آکر میری سنگم کو دبایا میں نے ہلکی سی سسکاری لی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

وہ ایک دم ڈر گیا میں نے کہا یہ کیا کر رہے ہو تو اس نے کہا شور نہیں کرنا ورنہ تمہاری نند کوہم پر شک ہو جائے گا اور کہا کہ اٹھنا نہیں میں کچھ بتاتا ہوں اس نے موبائل کی لائٹ ان کی اور میرے جسم پر روشنی ڈالتے ہوئے بولا کہ میں سب کچھ دیکھ چکا ہوں اس لئے اب کچھ کہنا بے کار ہے اور یہ کہتے ہی اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا دیئے میں بھی گرم تھی لیکن تھوڑی سی بناوٹی ضد کرنے کے بعد اس کا ساتھ دینے لگی اور اس دوران اس کا ٹراؤزر نیچے کر کے اس کا ہتھیار ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی۔

اس نے مجھے ساتھ دیتا دیکھ کر جلدی جلدی اپنے اور میرے تمام کپڑے اتار دیئے اور پھر کس کیا اس کے بعد پستانوں پر ٹوٹ پڑا میں اس کا سر زور زور سے دبا رہی تھی اور وہ پاگلوں کی طرح چوس رہا تھا اور یوں ہی نیچے جانے لگا پہلے پیٹ پھر رانوں اور پھر سنگم پر ہونٹ رکھ دیئے

میں لذت اور شدت سے پاگل ہو رہی تھی کہ اس نے میری ٹانگیں اٹھائی اور اپنا ہتھیار میری سنگم کے درمیان رگڑنے لگا میں نے اسے کہا اور کتنا تڑپانا ہے جلدی کرو سلطان نے تھوک لگا کر اپنا ہتھیار میری نازک سنگم پر رکھ کر دبایا اور اندر جانے دیا۔ جب پورا اندر داخل ہو گیا تو اس نے جھک کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور ہم پاگلوں کی طرح کس کرنے لگے اور سلطان ساتھ ہی ساتھ جھٹکے بھی مارنے لگا۔

میں نے جوش میں سلطان کے ہونٹ کو کاٹ لیا اور وہ فوراً ہٹ گیا لیکن اس نے اپنا منہ میرے پستانوں پر رکھ دیا اور باری باری دونوں نیپلز کو کاٹنے لگا میں درد سے کرراہ رہی تھی اور وہ زور زور سے جھٹکے مارے جا رہا تھا۔

میں فارغ ہو گئی اور وہ بھی قریب ہی تھا میں نے کہا پانی اندر نا نکالنا تو اس نے کہا کیا ہوتا ہے 3 تو پہلے ہی ہے ایک میرا بھی سہی اور اپنی سپیڈ بڑھا دی کچھ ہی دیر میں سلطان میرے اوپر ڈھیر ہو گیا اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔

میں نے کہا بس تھک گئے تو اس نے کہا کہ ابھی تو ایک ٹریپ اور لگانا ہے میں نے کہا پاگل نا بنو ابھی 2 راتیں اور بھی ہے لیکن وہ میرے جسم کا مزا لے چکا تھا کہاں رہ سکتا تھا۔

ہم نے پھر سے کس کیا اور اس نے میرے پستانوں کو باری باری پیار سے اور زور زور سے چوسا اور پہلے کی طرح پیٹ پر پھر ناف پھر رانیں اور سنگم پر چومنے کے بعد اس نے مجھے الٹا کر دیا اور گردن سے کولہوں تک کوئی ایسی جگہ نہ چھوڑی جہاں کس نہ کیا ہو پھر میرے کولہوں کو کھول کر اپنا ہتھیار سیٹ کرنے لگا تو میں نے پکڑ کر سنگم پر رکھ دیا اور اس نے اندر داخل کر دیا پھر میرے اوپر لیٹ کر کچھ دیر تک جھٹکے لگاتا رہا اور پھر مجھے کھڑا کیا اور صوفے کے ساتھ جھکنے کو کہا میں نے پوزیشن بنائی اور وہ مجھ پر چڑھ گیا کافی دیر ایسے ہی چودائی کی پھر خور صوفے پر بیٹھ گیا اور مجھے پیچھے سے کھینچ کر اپنی گود میں بیٹھا کر اپنا ہتھیار میری سنگم کے آر پار کر دیا اور مجھے کہا کہ جمپ کرو میں ایسے ہی چدنے لگی لیکن مزا نہیں آرہا تھا تو اس نے دوبارا مجھے زمین پر لٹا دیا اور میری ٹانگیں میرے سر کے ساتھ ملا کر چودنے لگا اور اسی پوزیشن میں پانی اندر خارج کر دیا۔

اور میرے اوپر لیٹ گیا میں سلطان سے لپٹ گئی اور اس کے بالوں کو سہلانے لگی ہم دونوں اتنے تھک گئے تھے کہ صبح جب میری نند نے دروازے کھٹکھٹایا تو ہماری آنکھ کھلی اور ہم اسی حالت میں تھے جیسے رات کو سو گئے تھے۔

میں نے نند کو آواز دی کہ میں آتی ہوں اور سلطان کو بھی اٹھایا سلطان نے مجھے ساتھ چمٹا لیا اور کسنگ کرنے لگا۔ میں نے بھی بھر پور کس کیا اور پھر کہا کپڑے پہن لو اور گھر جاؤ کسی کو شک نہ ہو جائے ہم نے کپڑے پہنے اور جاتے ہوئے سلطان نے 2-3 بار زبردست کس کیا اور کولہوں کو دباتے ہوئے کان میں کہا رات کو تیل ضرور رکھ لینا پیچے سے بھی کرینگے

بہت مشکل سے اس کو بھیجا اور باہر گئی تو نند نے حال پوچھا میں نے کہا کہ بس تھک بھی گئی تھی اور رات کو سوئے بھی دیر سے تو اس لئے اور پھر نہا کر تیار ہو گئی اور کام کاج میں لگ گئی لیکن رات کا شدت سے انتظار ہے کہ کب رات ہوگی اور پھر مزا کرینگے گے

The post نند کی شادی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c/feed/ 0
دودھ والا https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/ https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/#respond Sun, 28 Sep 2025 13:56:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/   فاریہ خالہ اور دودھ والا میرا نام منیر ہے پیار سے سب مجھے گوپی کہتے ہیں ۔ میں 23 سال کا ایک دم گورا چٹا، ہٹا کٹا جوان ہوں۔ میرا قد 5 فٹ 10 انچ ہے۔ میرا جسم ورزش سے تراشا ہوا ہے۔ میں باڈی بلڈر تو نہیں ہوں، لیکن مجھے ورزش کرنے کا […]

The post دودھ والا appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

فاریہ خالہ اور دودھ والا

میرا نام منیر ہے پیار سے سب مجھے گوپی کہتے ہیں ۔ میں 23 سال کا ایک دم گورا چٹا، ہٹا کٹا جوان ہوں۔ میرا قد 5 فٹ 10 انچ ہے۔ میرا جسم ورزش سے تراشا ہوا ہے۔ میں باڈی بلڈر تو نہیں ہوں، لیکن مجھے ورزش کرنے کا شوق ہے۔

میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں، لیکن دیکھنے میں سمارٹ اور ہینڈسم ہوں۔ میرے بال گھنگھریالے ہیں، چہرہ گول ہے اور پیشانی چوڑی ہے۔

میں ایک گاؤں میں رہتا ہوں اور دودھ کا کام کرتا ہوں۔ آپ مجھے دودھ والا بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں روز صبح شہر کے گھروں میں دودھ پہنچاتا ہوں۔

میرا گاؤں شہر کے قریب ہی ہے۔

یہ کہانی میرے اور میری سگی خالہ جن کا نام فاریہ ہے کے پیار کی کہانی ہے ۔فاریہ خالہ میری سب سے چھوٹی خالہ ہیں اور مجھ سے صرف پانچ سال بڑی ہیں ۔بچپن سے ہی ہماری بہت دوستی رہی مگر جب سے ان کی شادی ہوئی میں کچھ ٹائم کے لیے سے شرمانے لگاتھا۔ ۔خالہ بہت ہی تیز طرار ہیں اور وہ میرے شرمیلے پن کا بہت مذاق اڑاتی تھیں ۔دھیرے دھیرے ہماری دوستی پھر سے پہلے جیسی ہوگئی مگر اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی آگئی تھی ۔میں خالہ کو کسی اور ہی نظر سے دیکھنے لگاتھا۔

خالہ اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں رہتی ہیں۔ میں ان کے گھر بھی دودھ پہنچاتا ہوں۔

فاریہ خالہ بہت خوبصورت، گوری، سیکسی اور بولڈ ہیں۔ ان کی گانڈ اور ان کے ممے بڑے بڑے ہیں۔ جب میں انہیں دیکھتا ہوں تو نا چاہتے ہوئے بھی میری نظریں ان کے سیکسی مموں اور بہت ہی پیاری گانڈ سے ایک پل کے لیے نہیں ہٹیں ۔

ان کی کمر موٹی، پیٹ پتلا اور بازو بہت دلکش ہیں۔ جب وہ بغیر آستین کے کپڑے پہنتی ہیں تو ان کے کندھوں کی چوڑائی اور گولائی دیکھتے ہی بنتی ہے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ کھل کر باتیں کرتی ہیں اور گندی گندی باتیں کرنے میں بالکل نہیں شرماتیں۔ گالیاں بھی بڑی مستی سے دیتی ہیں۔ ان کی گالیاں سن کر میرا لن کھڑا ہو جاتا ہے۔

جب سے ان کی شادی ہوئی ہے، تب سے وہ اور بھی خوبصورت اور بولڈ ہو گئی ہیں۔

میں بھی خالہ سے کھل کر بات کرتا ہوں، ہنسی مذاق بھی کرتا ہوں۔ خالہ کی مست جوانی دیکھ کر میں انہیں للچائی نگاہوں سے دیکھنے لگا تھا، انہیں ننگی دیکھنا چاہتا ہوں، ان کے خوبصورت بدن سے کھیلنا چاہتاتھا۔ان کے بڑے مموں اور ان کی گانڈ کو چاٹ چاٹ کر پاگل ہوجانا چاہتاتھا۔ میری نیت ان پر بری طرح خراب ہو چکی تھی ۔

خالہ جیسی تیز طرار عورت نے میری نگاہوں کو فوراً پہچان لیاتھا۔میں جتنا گھبرو نکلا تھا اس نے بھی خالہ کو میری طرف مائل کرنے میں اہم کردار اداکیاتھا۔میں محسوس کرنے لگاتھا کہ خالہ بھی مجھے بڑی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی تھیں۔

ایک دن اچانک وہ میرے ساتھ بھی ننگی باتیں کرنے لگیں ۔لن ، چوت اور گانڈ کی باتیں کرنے لگیں۔ میں پہلے تو بہت حیران ہوا کیونکہ ہمارے درمیان جتنی بھی بے تکلفی تھی ہم نے کبھی ایسی ننگی باتیں نہیں کی تھیں ۔مگر مجھے مزہ آنے لگا۔ میں بھی ان کے خوبصورت جسم کی تعریف کرتا ۔ مگر میں اپنی حد میں رہتا۔مجھے ننگے الفاظ استعمال کرنے میں شرم آتی تھی ۔

ایک دن جب میں دودھ لے کر خالہ کے گھر پہنچا۔ خالہ کا گھر کافی بڑا ہے ۔مین گیٹ کے آگے ایک چھوٹا سا لان ہے اور اس کے ساتھ برآمدہ ہے ۔میں برآمدے کے قریب پہنچاتو دیکھا کہ خالہ اپنی ملازمہ نوراں سے اپنی مالش کروا رہی تھیں۔ ان کی موٹی موٹی رانوں کھلی ہوئی تھیں، ان کے اندر سے ان کی پیاری سی چوت جھانک رہی تھی۔

ان کے ممے تو ایک دم ننگے تھے۔ جسم پر صرف شرٹ تھی وہ بھی نیچے کھسکی ہوئی تھی ۔ افف پہلی بار میں خالہ کو ایک دم ننگا دیکھ رہاتھا۔میرا لن جھٹ سے کھڑا ہوگیا۔میں احتیاط سے ایک طرف ہوگیا اور اندر دیکھنے لگا۔

نوراں ان کی کمر میں تیل لگا رہی تھی۔ ان کےمموں پر، ناف پر اور رانوں میں بھی تیل لگا رہی تھی۔

پھر دونوں باتیں کرنے لگیں۔

میں یہ سب دیکھ کر بڑا بے چین ہو گیا۔ میرا لن ٹن گیا، ایک دم آپے سے باہر ہو گیا۔

میں کان لگا کر ان کی باتیں سننے لگا۔

خالہ بولیں، نوراں، تیرے شوہر کا لن کیسا ہے اور کتنا بڑا ہے؟

وہ بولی، لن تو اچھا ہے پر وہ جلدی جھڑ جاتا ہے۔ اچھی طرح چود بھی نہیں پاتا!

خالہ بولیں، تو پھر تم کیا کرتی ہو؟

وہ بولی، پھر میں غیر مرد وں سے چدواتی ہوں، تب مجھے اطمینان ملتا ہے۔

خالہ بولیں، کتنی غیر مردوں سے چدواتی ہے تو؟ ان کے لن کیسے ہیں نوراں؟

وہ بولی، بڑے مستی اور زبردست لن ہیں سب کے! جب وہ میری چوت میں پیلتے ہیں تو میں ایک دم مست ہو جاتی ہوں۔ہائے باجی اتنا مزا آتا ہے کہ میں بتا نہیں سکتی ۔ میں تین چار مردوں سے ادل بدل کر چدواتی ہوں۔

خالہ بولیں، ہائے نوراں ، کتنی بڑی گشتی ہے تو، کبھی بتایا ہی نہیں ۔میرے لیے بھی ایک تگڑے لن کا بندوبست کر ناں ۔

وہ بولی، ارے باجی ،بالکل کردوں گی ۔آپ حکم تو کریں ۔جب بولیں گی لن آپ کے لیےحاضر کردوں گی۔

خالہ بولیں، اچھا میں بتاؤں گی۔

پھر نوراں چلی گئی۔

میں باہر بھاگ گیا اور پھر گیٹ کے پاس کر کھڑا ہوگیا ۔ جیسے کہ میں نے کچھ دیکھا ہی نہیں اور کچھ سنا ہی نہیں۔

نوراں نے مجھے دیکھا اور مسکراتی ہوئی چلی گئی ۔میں اندر آگیا۔

خالہ نے اب شرٹ بھی اتار دی تھی ۔مگر اپنے خوبصورت جسم پر چادر اوڑھ لی تھی ۔تیل مالش کی وجہ سے ان کے ممے چادر سے چپکے ہوئے تھے ۔کیا مست سین تھا۔میرا اکڑا لن اب درد کرنے لگاتھا۔

میں نے کہا، خالہ جی، میں آج نہ نہایا اور نہ کچھ کھایا بس اسی طرح آ گیا۔ مجھے بھوک لگی ہے۔

وہ بولیں، ارے، تو پھر نہا لے۔ میں ناشتہ بنا دیتی ہوں تیرے لیے۔

میں باتھ روم میں نہانے چلا گیا۔ میں نے شاور کھولا اور ننگا نہانے لگا۔

پر میں تولیہ لینا بھول گیا۔ تو میں نے آواز لگائی، ارے خالہ جی، تولیہ دے دو پلیز!

خالہ تولیہ لے کر آئیں۔ اور جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا تو مجھے ایک دم ننگا دیکھ لیا۔ اب میرا لن تو کھڑا ہی تھا۔

وہ میرا لن دیکھ کر بولیں، ہائے دئیا گوپی، تیرا اتنا بڑا لن ؟ اتنا موٹا لن ؟ تو نے مجھے کبھی بتایا ہی نہیں۔ یہ تو بہن چودنے والا چوت پھاڑنے والا لن ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے گھر میں ہی اتنا بڑا لن ہے۔

خالہ نے ہاتھ بڑھا کر میرا لن پکڑ لیا۔ پکڑتے ہی لن کھڑا ہو کر دوگنا ہو گیا۔

خالہ نے اسے بڑے پیار سے چوما، کئی بار چوما۔ پھر وہ بولیں، گوپی، تو بڑا خوش قسمت ہے۔ اوپر والے نے تجھے اتنا بڑا لن دیا ہے۔ تجھے چودنے کے لیے چوت کی کمی کبھی محسوس نہیں ہوگی؟

میں نے کہا، کیا باتیں کرتی ہو خالہ جی؟ میں نے تو ابھی تک کوئی چوت دیکھی ہی نہیں، چودنے کی تو بہت دور کی بات ہے۔

پھر خالہ نے میرے لن پر مستی سے صابن لگایا اور اسے بڑے پیار سے نہلایا۔

مجھے ان کے بڑے بڑے مموں کو دیکھنے میں مزہ آ رہا تھا۔ میں نہا دھو کر باہر آ گیا۔

پھر خالہ نے فٹافٹ ناشتہ بنایا اور ہم دونوں نے ناشتہ کیا۔

میں ننگے بدن تھا، صرف ایک نیکر پہن لی تھی۔

ناشتے کے بعد میں بستر پر لیٹ گیا۔ میرا لن پھر ٹنٹنانے لگا۔

تب تک خالہ میرے بستر پر آ گئیں اور میرے لن پر ہاتھ مار کر کہا، گوپی، کیا کہا تھا تو نے؟ کہ ابھی تک کوئی چوت نہیں دیکھی؟ تو اتنا بڑا ہو گیا ہے، تو نے ابھی تک کوئی ننگی عورت نہیں دیکھی؟ اچھا یہ بتا کہ تجھے کس کس نے ننگا دیکھا۔ کس کس نے دیکھا تیرا لن ؟

میں نے کہا، ارے خالہ جی، میرا لن صرف میری فاریہ خالہ نے دیکھا ہے اور کسی نے نہیں۔

وہ بولیں، تیری ماں کی چوت… تو جوان ہو گیا ہے یار! چوت نہیں دیکھی تو کیا مشت زنی کرتا ہے؟

میں نے کہا، ہاں خالہ جی، اب مشت زنی کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہوں؟

یہ سب باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ خالہ نے میری نیکراتار کر پھینک دی۔

میں ان کے سامنے بالکل ننگا ہو گیا اور وہ میرا لن پکڑ کر ہلانے لگیں۔ تب میں بھی ان کے مموں کو دبانے لگا۔

میں نے پھر بڑی بے شرمی سے ان کا پیٹی کوٹ کھول دیا، ان کے سارے کپڑے اتار ڈالے۔ مجھے انہیں بالکل ننگی دیکھنے میں بڑا مزہ آنے لگا۔

آج میں پہلی بار کسی مستیلی جوان عورت کو ایک دم ننگی دیکھ رہا تھا۔ میرا لن ٹناتا ہی جا رہا تھا۔

وہ بڑے پیار سے بولیں، اچھا، تجھے چوت دیکھنے کی بڑی جلدی ہے گوپی؟

میں نے کہا، ہاں، واقعی مجھے بڑی جلدی ہے چوت دیکھنے کی۔

اور جیسے ہی میں نے ان کی چھوٹی چھوٹی جھانٹوں والی چوت دیکھی تو میں پاگل ہو گیا۔ میرے منہ سے نکلا، بڑی مستیلی اور خوبصورت ہے آپ کی چوت فاریہ خالہ!

وہ بولیں، تیری چوت چودنے والی خالہ کی ماں کا بھوسڑا… میں تیری حرامزادی چدکڑ فاریہ ہوں۔ اول درجے کی چھنال ہوں میں! غیر مردوں کے لن کی دیوانی ہوں میں۔ آج میں تیرے لن کا پورا مزہ لوں گی۔ آج میں تجھے سکھاؤں گی کہ چوت کیسے چودی جاتی ہے؟

ایسا کہہ کر وہ میرا لن منہ میں بھر کر چوسنے لگیں۔

مجھے سچ میں بڑا مزہ آنے لگا۔ میں ایک ہاتھ سے ان کے مموں کو دبانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے ان کی چوت سہلانے لگا۔

وہ میرے لن کا سُپاڑا پورا کا پورا اپنے منہ میں گھسیڑے ہوئے تھیں۔ خالہ اندر ہی اندر اس کے چاروں طرف اپنی زبان گھما رہی تھیں اور مجھے بڑا اچھا لگ رہا تھا۔

میرے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں۔

پھر وہ لن بار بار منہ سے نکالتیں اور پھر اندر گھسیڑ لیتیں۔ وہ آم کی گٹھلی کی طرح سے چوس رہی تھیں میرا لن !

پھر میں نے فاریہ خالہ کو صوفے پر بٹھا دیا اور اس کے سامنے ننگا کھڑا ہو گیا۔ میرا لن سیدھا ان کے منہ کے سامنے آ گیا۔

میں نے کہا، اب میں چودوں گا تیرے بڑے بڑے مموں کو، خالہ جی۔

انہوں نے اپنے دونوں مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیچ میں ایک سرنگ بنا دی اور کہا، لے چود لے تو میرے مموں کو… گوپی۔

میں نے لن دھن سے اس کی سرنگ میں گھسا دیا۔ لن کا سُپاڑا جیسے ہی ان کے منہ کے سامنے آیا تو انہوں نے زبان نکال کر اسے چاٹ لیا۔

مجھے اچھا لگا تو میں نے جلدی جلدی لن پیلنا شروع کیا اور وہ ہر بار میرے لن کا سُپاڑا چاٹنے لگیں۔

وہ بولیں، ہائے ہائے، بڑا مزہ آ رہا ہے یار گوپی!

میں نے پوچھا، کبھی خالو نے تیرے مموں کو اس طرح چودا ہے؟

وہ بولیں، اس کی بات نہ کر یار، اسے چودنا ہی نہیں آتا۔ بڑا چوتیا ہے اولو کا پٹھا تیراخالو۔ اس کا دل بھی چھوٹا ہے اور لن بھی چھوٹا ہے۔ مجھے اس کا لن بالکل پسند نہیں۔ اسی وجہ سے میں غیر مردوں سے چدوانے لگی ہوں۔ تیرا لن تو اس کے لن سے دوگنا لمبا ہے اور دوگنا موٹا۔

میں نے مموں کو چودنے کی رفتار بڑھا دی۔ میں اتنا جوش میں آ گیا کہ ان کے مموں پر ہی جھڑ گیا۔

میرے لن نے سارا منی اگل دیا۔

خالہ نے بڑے پیار سے میرا جھڑتا ہوا لن چاٹا۔ پھر خالہ نے بڑے پیار سے میرا لن دھویا اور پھر تولیے سے پونچھا۔

میں ننگا ہی تھا۔ وہ بھی ننگی ہی تھیں

خالہ ننگی رہ کر ہی کچھ کام کرنے لگیں تو میں پیچھے سے ان سے لپٹ گیا۔

میرا لن ان کے بدن سے ٹکرانے لگا تو وہ پھر کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا، دیکھو نہ خالہ، یہ کیا ہو رہا ہے۔

انہوں نے میرا لن دیکھا اور ہنس کر بولیں، مجھے معلوم تھا کہ لن دوبارہ کھڑا ہو جائے گا۔ اب دیکھ کیسے تن کر کھڑا ہوا ہے تیرا لن ۔

خالہ نے لن پکڑا اور مجھے بستر پر لے گئیں۔ وہ میرا لن ہلانے لگیں تو میں نے اپنی دو انگلیاں ان کی چوت میں گھسیڑ دیں۔

میں نے کہا، باپ رے باپ، آپ کی چوت تو بہت گرم ہے خالہ؟

وہ ترچھی نگاہ سے بولیں، تو پھر پیل نہ اپنا گرم گرم لن میری چوت میں!

میں نے ان کی دونوں ٹانگیں اپنی طرف کھینچیں اور ان کی کمر کے نیچے ایک تکیہ لگا دیا۔

میں پلنگ کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ میرا لن خالہ کی چوت کے سامنے آ گیا۔

میں نے لن چوت پر رکھا اور بھک سے اندر گھسا دیا!

لن ایک ہی دھکے میں پورا گھس گیا۔ خالہ چدی ہوئی تو تھیں ہی… انہیں کوئی درد تو نہیں ہوا لیکن اوف تو ان کے منہ سے نکل ہی گیا۔

وہ بولیں، ہاں، آج معلوم ہوا کہ کسی مرد نے پیلا ہے لن میری چوت میں! ککّو بھی اسی طرح پیلتا ہے لن !

میں نے پوچھا، یہ ککّو کون ہے؟

خالہ بولیں، ارے وہ میرا کالج کا دوست ہے۔ جب میں کالج میں پڑھتی تھی تو اس سے چداتی تھی۔ اس کے ساتھ ایک اور لڑکا تھا رجّو! وہ بھی اسی طرح پیلتا تھا۔ جب سے شادی ہوئی، تب سے میں غیر مرد کے لن کے لیے ترس گئی۔ آج مجھے غیر مرد کا لن ملا ہے تو پرانے دنوں کی یاد آ گئی۔

میں نے خالہ کی دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور دھکا دھک چودنے لگا ان کی چوت اور دیکھنے لگا ان کی اچھلتی ہوئی مستیلی چھاتیاں۔ وہ بھی اپنی کمر اچکا اچکا کر بڑی مستی سے چدوانے لگیں۔

میں بالکل موڈ میں تھا، بولا، فاریہ، تو سچ میں ایک رنڈی ہے۔ آج میں تیری چوت پھاڑ ڈالوں گا۔ تو نے مجھے بہت تڑپایا ہے۔ میں نے جانے کتنی بار تیرے نام کی مشت زنی کی ہے۔ آج میں تیری چوت بھی ماروں گا تیری کمر بھی ماروں گا۔

وہ بولیں، کمینے گوپی، میں بھی تیرے لن کی چٹنی بنا دوں گی۔ بھون ڈالوں گی تیرا لن اپنی چوت کے اندر۔ نہ تو بچے گا نہ تیرا لن ۔ میں چدانے میں بڑی حرامزادی ہوں۔

ہم دونوں اتنا بے چین ہو گئے کہ تقریباً ہم دونوں ایک ہی وقت پر ختم ہو گئے۔

شام کو خالہ کی دیورانی نسرین آ گئی۔

وہ خالہ سے زیادہ خوبصورت تھی۔ اس کے بھی ممے بہت بڑے بڑے تھے۔

میرا دل اس پر آ گیا۔

پر میں سوچنے لگا کہ اب آج رات کو خالہ کی چوت چود نہیں پاؤں گا۔ تو کیوں نہ گاؤں چلا جاؤں؟

خالہ نے مجھے اس سے ملوایا۔ میں نے اسے سلام کیا ،اور کہا آپ تو میری چھوٹی خالہ ہیں۔

وہ مجھے بڑی دیر تک دیکھتی رہی۔

ادھر میرا لن قابو سے باہر ہو رہا تھا۔

کچھ دیر میں میں نے خالہ سے گاؤں واپس جانے کی بات کی۔ تو اس نے میرے کان میں کہا، تو نے میری دیورانی کی چوت نہیں چودنی کیا؟

میری تو جیسے لاٹری کھل گئی۔ میں نے خالہ کے کان میں کہا، رات بھر چودوں گا آپ کی دیورانی کی چوت خالہ جی۔ بولو رہ جاؤں؟

وہ بولیں، ہاں رہ جاؤ۔

میں خوشی خوشی رہ گیا۔

اب میں نسرین کو بھی للچائی نگاہوں سے دیکھنے لگا؛ اس کے بدن کو بڑے غور سے دیکھنے لگا۔

پھر شام کو میں باہر تھوڑا گھومنے کے لیے نکل پڑا۔

جب میں واپس آیا تو دیکھا کہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں.

تو میں ان کی باتیں سننے لگا۔

خالہ بولیں، اچھا یہ بتا نسرین، تو شادی سے پہلے چدی ہوئی تھی نہ؟

نسرین: اب تم سے کیا چھپانا فاریہ باجی، میں شادی سے پہلے خوب چدی ہوئی تھی۔ سچائی تو یہ ہے کہ میں شادی سے ایک دن پہلے شاپنگ کے بہانے گھر سے گئی تھی اور دو لڑکوں سے الگ الگ چد کر آئی تھی۔ مگر شادی کے بعد ابھی تک میں کسی اور سے نہیں چدی۔

خالہ: غیر مرد سے چدنے کا دل ہے یا نہیں؟

نسرین: ارے باجی، کون غیر مرد سے چدنے کے لیے منع کرے گی؟ میں تو تیار ہوں۔

خالہ: تو آج میں پیلوں گی تیری چوت میں لن !

نسرین: ہائے دئیا، جلدی سے پیل دو لن … میں تو بیتاب ہو رہی ہوں۔ مگر لن کس کا ہے باجی؟

خالہ: گوپی کا لن ہے نسرین! بڑا مستی اور زبردست لن ہے اس کا!

نسرین: میری تو چوت اسے دیکھ کر ہی گیلی ہو گئی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ اس کا لن مل جائے تو مزہ آ جائے۔ لڑکا ہینڈسم ہے تو اس کا لن بھی ہینڈسم ہوگا۔

یہ سب سن کر میں بہت بے چین ہو گیا۔ میرا لن کھڑا ہو گیا۔

رات کو جب کھانا وغیرہ ہو گیا اور ہم سب لوگ بستر پر آ گئے۔

وہ دونوں میکسی پہنے ہوئے تھیں۔ میں صرف ایک نیکر… باقی ننگے بدن تھا کیونکہ گرمی کے دن تھے۔

ان دونوں کے ساتھ میں بھی بستر پر لیٹ گیا۔

میں سوچ رہا تھا کہ اگر نسرین میرا لن پکڑ لے تو مزہ آ جائے۔

میں اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا.

میرا دل اس کے مموں کو پکڑنے کا ہو رہا تھا پر ہمت نہیں تھی۔ اس کے آگے فاریہ خالہ کے مموں کو بھی نہیں پکڑ سکتا تھا۔

لن اندر ہی اندر بڑھتا جا رہا تھا۔

میں نے دیکھا کہ نسرین کی نظر میری نیکر پر ہے۔ اسے معلوم ہو گیا کہ میرا لن کھڑا ہے۔ وہ شاید میرے لن کے سائز کا اندازہ لگا رہی تھی۔

اتنے میں نسرین نے کہا، گوپی، تم اتنا ہینڈسم ہو تو لڑکیاں تم پر مرتی ہوں گی؟

میں نے کہا، ارے چھوٹی خالہ، گاؤں میں کہاں لڑکیاں ہیں؟ لڑکیاں تو شہروں میں ملتی ہیں۔

تب تک فاریہ خالہ بولیں، اگر کوئی لڑکی ملے تو اسے چود لو گے تم؟

میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ہاں بالکل چود لوں گا۔

تب نسرین نے کہا، لڑکی نہ ہو، کسی کی بیوی ہو تو کیا کرو گے؟

میں نے کہا، تب تو اور مستی سے چودوں گا۔

بس فاریہ خالہ نے میری نیکر اتار کر پھینک دی اور میں ان دونوں کے آگے ننگا ہو گیا۔

میرا لن کھڑا تھا تو نسرین خالہ نے اسے لپک کر پکڑ لیا اور بولی، واہ، کیا مستیلا لن ہے تیرا گوپی! بڑا موٹا اور شاندار لن ہے تیرا!

اس نے تڑاتڑ لن کی کئی چممیاں لے لیں۔

پھر فاریہ خالہ نے اس کی میکسی اتار دی تو وہ ننگی ہو گئی۔

نسرین کو ننگی دیکھ کر میں تو پاگل ہو گیا۔

پھر خالہ بھی ننگی ہو گئیں۔

میں دونوں کو ننگی دیکھ کر مست ہوتا جا رہا تھا۔

تب میں بستر کے بیچ میں لیٹ گیا اور یہ دونوں مستیلی جوان عورتیں دیورانی جٹھانی ننگی ننگی باری باری سے میرا لن چاٹنے لگیں۔

جٹھانی دیورانی کے منہ میں لن گھسیڑتی تو دیورانی جٹھانی کے منہ میں!

جب جٹھانی لن چوستی تو دیورانی میرے خصیوں کو چوستی اور دیورانی جب لن چوستی تو جٹھانی میرے خصیوں کو۔ مستی ہی مستی تھی… مزہ ہی مزہ تھا۔

میں بھی کبھی دونوں کی چھاتیوں کو دباتا تو کبھی دونوں کی چوت سہلاتا۔ کبھی چوت کے اندر انگلی گھسیڑ دیتا۔

اتنے میں خالہ اٹھیں اور میرا لن پکڑ کر دیورانی کی چوت پر ٹکا دیا۔

پھر اس نے میرے چوتڑ دبائے تو لن اس کی چوت میں فوراً گھس گیا۔

وہ بول پڑی، اُئی ماں… بڑا موٹا ہے لن تیرا! سارا گھس گیا۔

جٹھانی بولیں، اب لے نہ اچھی طرح غیر مرد کے لن کا مزہ!

نسرین سچ میں کمر ہلا ہلا کر چدوانے لگی اور فاریہ ایک ہاتھ سے میرے خصوں کو سہلانے لگی اور دوسرے ہاتھ سے نسرین کی چھاتیوں کو۔

ہم تینوں کو سیکس کا مزہ آنے لگا۔ مجھے نسرین کی چوت بڑا مزہ دے رہی تھی۔

میں نے چدائی کی رفتار بڑھا دی تو نسرین نے کہا، واہ… بڑا مزہ آ رہا ہے یار! مجھے کسی نے اتنی اچھی طرح سے نہیں چودا۔ تو تو بڑا چودو ہے یار گوپی۔ مجھے اپنی بیوی کی طرح چود… او ہو… آ ہہوں اوں اہا ہہ ہہ ہہ ہہ مزہ آ رہا ہے اور چودو، پورا پیل کے چودو۔ یہ میری جٹھانی میری چوت پھڑوا رہی ہے۔ اس کی چوت پھاڑوں گی۔ ہائے رے… کیا مستیلی چدائی ہے۔ میں اسی طرح چدنا چاہتی تھی۔ غیر مرد کا لن سچ میں بڑا پیارا ہوتا ہے۔

میں نے کہا، نسرین، تیری چوت بڑی ٹائٹ ہے! تو بھی اپنی جٹھانی کی طرح بھک بھک چداتی ہے۔ تو بھی رنڈی سے کم نہیں ہے یار!

نسرین نے کہا، تجھے کیا معلوم گوپی، کہ ہر عورت اندر سے رنڈی ہی ہوتی ہے۔ رات کو وہ اور زیادہ رنڈی ہو جاتی ہے۔

اس کی باتوں سے مجھے چدائی میں زیادہ مزہ آنے لگا۔

کچھ دیر بعد وہ اٹھی اور لن اپنی جٹھانی کی چوت میں پیل دیا۔

اب میں دیورانی کے سامنے اس کی جٹھانی کی چوت چودنے لگا۔ نسرین نے کہا، لے جٹھانی، اب میں تیری چوت کی دھجیاں اڑاؤں گی۔ تیری چوت بڑی مستیلی ہے۔

میں دونوں کی چوت باری باری چودنے لگا۔

مجھے کیا معلوم تھا کہ چدائی میں اتنا مزا آتا ہے۔

آخر میں جب میرا لن جھڑنے لگا تو دونوں ننگی گرم عورتوں نے مل کر بڑے مزے سے میرا جھڑتا ہوا لن چاٹا اور انجوائے کیا۔

خالہ نے مجھ سے اپنی دیورانی کی چوت چدوا کر خوب مزہ لیا۔

اس طرح میں نے رات بھر دونوں کی چوت کا مزہ لیا۔

پھر تو دونوں میرے لن کی دیوانی ہو گئیں۔ (ختم شد)

The post دودھ والا appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d8%af%d9%88%d8%af%da%be-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7/feed/ 0
نوکر۔۔سے ۔۔۔چدائی https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%94%db%94%d8%b3%db%92-%db%94%db%94%db%94%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/ https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%94%db%94%d8%b3%db%92-%db%94%db%94%db%94%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/#respond Thu, 25 Sep 2025 15:58:00 +0000 https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%94%db%94%d8%b3%db%92-%db%94%db%94%db%94%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/   صائمہ بنی نوکر کی  نگی رانی صائمہ ایک شادی شدہ خوبصورت لیکن شرمیلی عورت تھی۔ اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ تھی مگر شادی کے بعد اس نے گھر داری ، بچوں کی پرورش اور ایک اچھی بیوی بننے کے دوران خود کو یکسر بھلا دیا تھا۔ تین بچوں کی پیدائش کے باوجود صائمہ ایک […]

The post نوکر۔۔سے ۔۔۔چدائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
 

صائمہ بنی نوکر کی  نگی رانی

صائمہ ایک شادی شدہ خوبصورت لیکن شرمیلی عورت تھی۔ اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ تھی مگر شادی کے بعد اس نے گھر داری ، بچوں کی پرورش اور ایک اچھی بیوی بننے کے دوران خود کو یکسر بھلا دیا تھا۔ تین بچوں کی پیدائش کے باوجود صائمہ ایک بھرپور اور سیکسی جسم کی مالک تھی جبکہ اسکی گوری رنگت صائمہ کے سیکسی خدوخال پر سونے پر سہاگہ کا کام کرتی تھی

شادی کے دس سال بعد جب بچے سکول جانے لگے اور شوہر بھی زیادہ وقت دفتر میں گزارنے لگے تو صائمہ کو اپنی سہیلیوں سے رابطے بحال کرنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں صائمہ نے شوہر اور بچوں کی روانگی کے بعد اپنی دوستوں سے ملنے کا سلسلہ شروع کیا۔

ایک دن گھر کی ملازمہ کو گھریلو کام کاج کی ہدایات دینے کے بعد صائمہ اپنی ایک دوست کو ملنے اس کے گھر چلی گئی تو وہاں کا نوکر صائمہ کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر بولا گھر والے دو ہفتے کیلئے باہر گئے ہیں ۔تو صائمہ اٹھتے ہوئے بولی اچھا؟ تو پھر میں چلتی ہوں۔ صائمہ کو اٹھتے دیکھ کر نوکر گھبرا کر بولا جی! کچھ دیر تو بیٹھیں؟ تو صائمہ نے نوٹ کیا کہ نوکر کی نظریں مسلسل اس کے سینے پر تھیں جبکہ نوکر کا لن پورا کھڑا ہوا تھا اور زور زور سے تھرک رہا تھا۔

یہ دیکھ کر صائمہ سمجھ گئی کہ نوکر کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور وہ تنہائی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ تو صائمہ نے سوچا کیوں نہ آج اس نوکر کو تنہائی کا فائدہ اٹھانے دیا جائے اور دیکھا جائے کہ ایک غیر مرد اس کی خوبصورتی سے کتنا متاثر ہوتا ہے؟ تو یہ سوچ کر صائمہ دل ہی دل میں مسکرا دی اور صوفے پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے بولی ٹھیک ہے! تمہارے لئے کچھ دیر ٹھہر جاتی ہوں۔ صائمہ کو مسکراتے دیکھ کر نوکر کی ہمت بڑھ گئی اور وہ بھی مسکرا کر بولا جی شکریہ میڈم! تو صائمہ مسکرا کر بولی اچھا یہ بتاؤ کہ جب تمہیں پتہ تھا کہ گھر پر کوئی نہیں ہے تو پھر تم مجھے یہاں ڈرائنگ روم میں کیوں لائے؟ صائمہ کی مسکراہٹ دیکھ کر نوکر کی ہمت مزید بڑھ گئی اور وہ دھیرے سے مسکرا کر بولا جی! وہ دراصل آپ بہت خوبصورت ہیں تو آج آپ کو اکیلی دیکھ کر سوچا کہ آج موقع ہے کیوں نا آج تنہائی کا فائدہ اٹھا کر آپ کی خوبصورتی دیکھ لوں! یہ سنکر صائمہ مسکرا کر بولی کیا گھر بالکل خالی ہے؟ تو نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیا اور بولا جی! آپ اور میں یہاں بالکل اکیلے ہیں۔

نوکر کا جواب سنکر صائمہ اپنے سینے سے دوپٹہ ہٹا کر مسکراتے ہوئے بولی اچھا! تمہیں مجھ میں کیا چیز خوبصورت لگتی ہے؟ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور آگے بڑھ کر صائمہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا جی! آپ کے یہ! تو صائمہ آس پاس دیکھ کر شرماتے ہوئے بولی تم نے میرے یہ کب دیکھے؟ یہ سنکر نوکر سمجھ گیا کہ صائمہ اسے تنہائی کا فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہی ہے تو وہ صائمہ کی قمیض کھینچ کر اوپر کرکے صائمہ کے بریزئر میں قید جوان بریسٹز دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا! میڈم! آج موقع ہے آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنے یہ دکھا دیں۔

تو صائمہ شرما کر آس پاس دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی مجھے شرم آتی ہے! یہ سنکر نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیاُاور اس نے مسکراتے ہوئے صائمہ کی بریزئر کے کپس کے نیچے اپنی انگلیاں ڈال کر صائمہ کی بریزئر بھی کھینچ کر اوپر کردی اور صائمہ کے جوان بریسٹز باہر نکال کر بالکل ننگے کرلئے۔ تو صائمہ شرم سے لال ہوگئی اور اس نے شرماتے ہوئےسر جھکا کر اپنی نظریں جھکا لیں۔ صائمہ کو اس حالت میں شرماتے دیکھ کر نوکر مسکرا کر بولا آپ واقعی بہت خوبصورت عورت ہیں۔ تو صائمہ شرماتے ہوئے سر جھکا کر بولی مجھے بھی تمہیں اپنے یہ دکھانا اچھا لگ رہا ہے۔

یہ سنکر نوکر کی ہمت بڑھ گئی اور اس نے مسکراتے ہوئے صائمہ کی قمیض اوپر کرکے اتار لی اور صائمہ کی بریزئر کھینچ کر اوپر کرکے مسکراتے ہوئے صائمہ کے ننگے نپلز چوم کر بولا آج موقع ہے میڈم! آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنی خوبصورتی دکھا دیں۔ تو صائمہ شرما کر سر ہلا کر بولی تم بہت شیطان ہو! ۔ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے صائمہ کے کپڑے اتارنے لگا تو صائمہ بھی شرما کر مسکراتے ہوئے نوکر سے اپنے کپڑے اتروانے لگی۔ جونہی نوکر نے صائمہ کے سارے کپڑے اتار کر صائمہ کو بالکل ننگا کیا ، صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی حالت میں آگے بڑھ کر نوکر کے گلے لگ گئی اور شرما کر بولی مجھے تمہارے سامنے بالکل ننگی ہونا بہت اچھا لگ رہا ہے۔ یہ سنکر نوکر صائمہ کے ننگے ہپس دبا کر مسکرا کر بولا آج موقع ہے! آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنا ننگا ڈانس دکھا دے رانی!

نوکر کی بات سنکر صائمہ مسکرادی اور بولی آج میں تمہاری ہوں جانو! آج تنہائی کا فائدہ اٹھا کر مجھے اپنی بیوی بنا لو! تو نوکر صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر آہستہ سے دبا کر بولا رانی! آج سے تو دو ہفتے کیلئے میری ننگی رانی ہے۔ یہ سنکر صائمہ مسکراتے ہوئے بے اختیار نوکر کے گلے لگ گئی اور نوکر کے گلے میں بانہیں ڈال کر شرماتے ہوئے بولی جانو! مجھے تمہارے سامنے بالکل ننگی ہونا بہت اچھا لگ رہا ہے، آج موقع ہے آج مجھ سے شادی کرکے مجھے اپنی رانی بنا لو۔

نوکر صائمہ کی بات سنکر بےقابو ہوگیا اور صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر زور زور سے دبانے لگا تو صائمہ کے ننگے نپلز سے دودھ کی دھاریں نکلنے لگیں۔ تو نوکر حیران ہو کر بولا رانی! یہ تو دودھ سے بھرے ہوئے ہیں؟ تو صائمہ شرما کر سر جھکا کر بولی جانو! یہ دودھ تمہارے لئے ہی تو ہے۔ اب تو نوکر صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر زور زور سے دبانے لگا اور صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی ہوکر نوکر کے گلے میں بانہیں ڈال کر اپنے ننگے بریسٹز سے اپنا دودھ نکلوانے لگی اور زور زور سے سانس لینے لگی۔ نوکر سمجھ گیا کی صائمہ بھرپور جوش میں آگئی ہے تو اس نے صائمہ کو موڑ کر صوفے پر ڈوگی سٹائل میں جھکا دیا اور خود نیچے بیٹھ کر صائمہ کی خوبصورت گلابی پھدی چاٹنے لگا۔ تو صائمہ مزید جوش میں آگئی اور نوکر کا چہرہ پکڑ کر اپنی ننگی پھدی میں گھسا کرآہیں بھرنے لگی۔

صائمہ کی حالت دیکھ کر نوکر کو شرارت سوجھی اور وہ صائمہ کے ہپس کھول کر صائمہ کی گانڈ کا سوراخ چاٹنے لگا تو صائمہ بالکل بےقابو ہوگئی اور زور زور سے آہیں بھرتے ہوئے جوش سے بولی آہ! میرے جانو! اور زور سے چاٹو! آج تم نے جو مزہ دیا ہے وہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں ملا! آج اپنا لن مجھے دے دو! ۔ یہ سنتے ہی نوکر نے اپنی شلوار کھول کر اپنا تنا ہوا لن باہر نکالا اور صائمہ کی گیلی پھدی میں ڈال دیا اور صائمہ کے ننگے ممے پکڑ کر زور زور سے صائمہ کے ساتھ ڈوگی سٹائل میں بھرپور سیکس کرنے لگا۔ صائمہ بھی کھل کر بےشرمی سے نوکر کا پورا لن اپنے اندر لیکر جوش و خروش سے سیکس کرنے لگی۔

نوکر زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا اور اس نے اپنی منی صائمہ کی پھدی میں ہی نکال دی۔ صائمہ کا جسم بھی پیار کے جذبات میں بےقابو ہو کر کانپنے لگا اور صائمہ بے ساختہ اپنا منہ نوکر کے منہ سے لگا کراسےبےتحاشہ کسنگ کرنے لگی۔ نوکر بھی اپنی زبان صائمہ کے منہ میں ڈال کر اسے زوردار کسنگ کرنے لگا اور اس نے صائمہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنا ننگا لن صائمہ کے ہاتھ میں دے دیا تو صائمہ اس کا مطلب سمجھ گئی۔ اگرچہ صائمہ نے اپنے شوہر کا لن کبھی منہ میں نہیں لیا تھا لیکن آج پیار کے جذبات میں صائمہ نے تمام حدیں پار کرلیں اور بلا جھجک نوکر کا ننگا لن اپنے منہ میں لے کر زور زور سے چوسنے لگی۔ اسے نوکر کے لن سے پیار ہوگیا تھا اور وہ نوکر کا ننگا لن بےتحاشہ چوم رہی تھی۔

صائمہ کے بےتحاشہ چومنے اور چاٹنے سے نوکر کا لن چند ہی لمحوں میں پھر سے تن کر کھڑا ہوگیا اور صائمہ کے خوبصورت چہرے سے ٹکرانے لگا۔ یہ دیکھ کر نوکر نے شرارت بھری نظروں سے صائمہ کی آنکھوں میں جھانکا اور مسکرا کر بولا رانی! اب ایک راؤنڈ پیچھے سے ہو جائے؟ اگرچہ صائمہ نے کبھی اپنے شوہر کا لن پیچھے سے نہیں لیا تھا لیکن نوکر کے پیار میں صائمہ مسکرا کر بولی جانو! آئی لو یو! تم جہاں چاہو اپنا لن ڈال سکتے ہو! آج میں صرف تمہاری ننگی رانی ہوں!

نوکر بھاگ کر اندر سے تیل کی بوتل لے آیا اور صائمہ کی گانڈ میں لگانے لگا۔ پھر اپنے لن پر بھی تیل لگا کر صائمہ کی گانڈ میں اپنا لن ڈالنے لگا۔

صائمہ نوکر کے پیار جذبات سے کپکپا رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔ اسی دوران نوکر نے آہستہ آہستہ اپنا پورا لن صائمہ کی گانڈ میں ڈال دیا اور آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے لگا۔ شروع میں صائمہ کو درد محسوس ہوا لیکن کچھ ہی دیر میں اسے مزہ آنے لگا اور وہ نوکر کا بھرپور ساتھ دینے لگی۔ نوکر صائمہ کی ٹائٹ گانڈ کو زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا اور اس کی منی نکل گئی۔ صائمہ ابھی بھی انجوائے کررہی تھی اور اس نے مڑ کر نوکر کے منہ سے منہ لگا کر اسے زوردار کس کیا اور ساتھ صائمہ کا بھی کلائمکس ہوگیا۔

صائمہ بالکل ننگی حالت میں نوکر کی بانہوں میں صوفے پر لیٹ کر اسے کسنگ کرنے لگی۔ صائمہ کا ننگا پیار نوکر کے لن کو تیسری دفعہ کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اس مرتبہ صائمہ نے خود ہی نوکر کا ننگا لن اپنے منہ میں لے لیا اور زور زور سے چوسنے لگی ۔ نوکر نے بھی جھک کر صائمہ کے ننگے ممے پکڑ لئے اور زور زور سے دبانے لگا۔جلد ہی نوکر نے اپنی منی صائمہ کے منہ میں ہی نکال دی اور صائمہ نے مسکرا کر نوکر کی ساری منی پی لی۔

صائمہ اسی طرح بالکل ننگی ہوکر نوکر کی آغوش میں دوپہر تک ننگا پیار کرتی رہی تو اچانک صائمہ کا موبائل فون بجا ۔ دوسری طرف صائمہ کی ملازمہ تھی جو بتا رہی تھی کہ بچے سکول سے آگئے ہیں۔ صائمہ نے اسےبچوں کو کھانا دینے کی ہدایات دیں اور فون بند کر کے نوکر کا لن چوم کر بولی جانو! تمہاری ننگی رانی بنکر تو میں سب کچھ بھول گئی تھی۔ نوکر اپنا لن صائمہ کے ہونٹوں سے لگا کر بولا رانی! تیری اصل جگہ یہاں میرے پاس ہی ہے تو صائمہ نے مسکرا کر نوکر کا تھرکتا ہوا ننگا لن چوم لیا اور بولی جانو! اب مجھے جانا ہوگا، کل صبح ہی پھر تمہاری ننگی رانی بننے کیلئے آجاؤں گی۔

The post نوکر۔۔سے ۔۔۔چدائی appeared first on Urdu Story Club.

]]>
https://urdustoryclub.com/%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%94%db%94%d8%b3%db%92-%db%94%db%94%db%94%da%86%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/ 0