Welcome!

Welcome to Urdu Story Club, Best Sex Stories, Full Entertainment Please register if you would like to take part.

Register Now

Announcement

Collapse
No announcement yet.
X
Collapse
Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • کولیگ کی شادی بچائی

    کہانی حقیقت پر مبنی ہے اور اس کے کردار کے نام تبدیل کیے گئے ہیں

  • #2
    where is story ??????????????

    Comment


    • #3
      میں کراچی میں ایک فرم میں کام کر رہا تھا اور اس کے امپورٹ ایکسپورٹ کا انچارج تھا میرے ساتھ تین لڑکیاں اور بھی تھیں جو کہ اس کام میں میری اسسٹنٹ تھیں ان کے نام عظمیٰ حنا اور رابی تھے انہوں نے ڈیپارٹمنٹ میں ایک ہنسی مذاق والا ماحول بنایا ہوا تھا عظمیٰ شادی شدہ تھی اور وه لاڑکانہ سے تعلق رکھتی تھی ایک دن عظمیٰ پرشان نظر ا رہی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ کیا مسلہ ہے وه بولی کہ میرے سسرال والوں نے بچے پیدا کرنے کا کہا ہے مگر میرے میاں کا ایک مسلہ ہے جس کی وجہ سے بچہ پیدا نہیں ہو رہا ہے میں نے اس کی مدد کا فیصلہ کیا اور اس کو بتا دیا عظمیٰ کے سسرال کا تعلق لاڑکانہ سے تھا اور اس کے سسر اور خاوند کی کافی زمینیں تھیں اسکے سسرال میں ایک اسکا خاوند اور اس کی بہن اور اس کے ساس سسر تھے خیر ہم نے جانے کا پلان بنایا اور جب رابی اور حنا کو بتایا کہ ہم لاڑکانہ جا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بھی ساتھ چلتے ہیں ان کو اصل بات کا نہ بتایا یہی بتایا کہ ہم سیر کرنے جا رہے ہیں فرم کافی فائدہ ہوا تھا جس کی وجہ سے مالک نے سب کو ایک ماہ کی چھٹی دی خیر عظمیٰ نے اپنے سسرال اور رابی اور حنا نے اپنے گھر میں بتایا کہ وہ ا رہی ہیں رابی اور حنا لاڑکانہ کے متصل شہروں سے تعلق رکھتی تھیں حنا نواب شاہ اور رابی بھی نواب شاہ کے معزز گھرانے سے تھیں دوسرے دن ہم لاڑکانہ پہنچ گئے اور عظمیٰ کے سسرال والوں نے پرتپاک استقبال کیا عظمیٰ کی ساس اور سسر نے ہمیں اپنی حویلی کے اندر لے گئے اور بڑا شاندار حویلی کی تعمیر کی گئی تھی کمرے کھلے کھلے اور الگ پورشن بنے ہوئے تھے چار پورشن تعمیر شدہ تھے اور اسکے ساتھ کھلا ایریا تھا جس میں اوپن لاؤنج اور گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ تھی ہمیں مہمانوں والے حصے میں ٹھرایا گیا اور اسکے ساتھ عظمیٰ کا پورشن تھا جس میں وه اپنے خاوند کے ساتھ رہتی تھی اور اس کے ساس سسر کا الگ پورشن تھا جس میں وه اپنی بیٹی کے ساتھ رہتے تھے ایک پورشن مہمانوں کے لئے اور ایک پورشن ملازمین کو دیا ہوا تھا ہر پورشن میں چار کمرے تھے دو بیڈروم اور ایک واشروم اور سٹینگ ایریا تھا جب کہ ملازمین کے چار کمرے تھے جن میں وه رہتے تھے کھانے کا کمرہ اور کچن مشترکہ تھا خیر ہم نے اس دن آرام کیا شام کو حویلی کے ساتھ باغ میں سب نے مل کر چائے پی گئی تھی اور گپ شپ چلتی رہی موسم خوشگوار تھا رات کو کھانے کے بعد سب لڑکیاں اپس میں گھل مل کر باتیں کرتی رہی اور چودھری صاحب اور اس کی چودھرین سونے چلے گئے تھے اور میں واک کرنے نکلا تھا کہ مجھے ملازمین کے حصے کے پاس جانے کا موقع مل گیا تھا

      Comment


      • #4
        جب میں نزدیک پہنچا تو مجھے سسکیاں سنائی دینے لگی تھی میں جس سائیڈ پر تھا اس طرف سے ملازمین کے پورشن کی کھڑکی تھی میں کھڑکی میں سے جھانکا تو نوکرانی شبانہ ایک ہاتھ سے اپنی چوت سہلا رہی تھی دوسرے ہاتھ سے اپنے معمے مسل رہی تھی اور اسکی رنگت سانولی تھی جب کہ معمے لائٹ براؤن اور نپل چوکلیٹ کلر کے تھے یہ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور اور میرا لن سر اٹھانے لگا میں نے ٹی شرٹ اور نیکر پہنا ہوا تھا اچاناک لائٹ چلی گئی تھی یہ دیکھ کر مجھے ایک آئیڈیا آیا تھا اور میں نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا میں کراچی سے اتے ہوے ماسک لایا تھا میری جیب میں اتفاق سے موجود تھا میں ماسک پہنا کر شبانہ کے کمرے میں آیا تو اس کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں اور اس کے کپڑے اترے ہوئے تھے اسکے آنکھیں مزے سے بند تھی وه تیزی سے اپنی انگلی اندر باہر کر رہی ہے میں اپنا لن اسکی چوت پر رکھا اور تیل لیکر اسکی گانڈ پر اور چوت پر لگایا ہاتھ پر لگا ہوا تیل لن پر لگا کر پہلے معمے پر رگڑا لگایا اور پھر اسکی گانڈ میں لن آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا اسکی گانڈ کا سوراخ کھل بند ہو رہا تھا وه مزے سے آہیں بھر رہی تھی کافی حد اسکا سوراخ نرم ہو گیا تھا پھر میں اپنا لن اسکی چوت میں ڈال کر دھکے مارنے لگا آخر کار میں اسکے پیٹ اور مموں پر نکلنے والا تھا مگر اس نے اپنے ہاتھ سے لن اپنی چوت میں ڈال دیا اور اندر چھوٹنے کا کہا خیر میں چھوٹ گیا جب لن نکلا تو شبانہ نے اس کو چوس کر صاف کر دیا میں اپنے کمرے میں واپس آیا تو رابی اور حنا نیم برہنہ ہو کر سو رہی تھیں دونوں نے برا اور پینٹی پہن رکھی تھی رابی کی فگر 34۔ 27 35 تھی جب کہ حنا کی فگر 36 26 34 تھی جب کہ عظمیٰ کی فگر 34 27 34 تھی خیر میں فریش ہوکر سونے لگا تھا صبح آنکھ کھلی تو عظمیٰ نائٹ ڈریس میں ملبوس ہو کر میرا لن چوس رہی تھی اسکے ہلتے معمے مجھے شہوت دے رہی تھی اسکے چوسنے کی وجہ سے لن فل ٹائٹ ہوگیا تھا میں اس کو بیڈ کے سائیڈ پر گھوڑی بنایا اسکی نائٹ پجمہ اتار کر اسکی چوت اور گانڈ پر تیل لگا کر اندر باہر پھیلا کر ہاتھ پر لگا تیل اپنے لن پر لگایا ہی تھا کہ باہر سے نوکرانی کی آواز سن کر عظمیٰ نے سیکس سے روک دیا اور کہا کہ تسلی سے اپنا پلان پر عمل کریں گے یہ کہا کہ وه باہر نکل گئی تھی یہ سن کر میں آیندہ کا پلان سوچنے لگا تھا

        جاری ہے

        Comment


        • #5
          ہیں یہ کیا تھا

          Comment


          • #6
            Good job

            Comment


            • #7
              کولیگ کی شادی بچائی پارٹ 3
              اگلے دن میں حویلی کے ماحول کو دیکھ کر پلان تیار کر رہا تھا چودھری ہاشم کی حویلی کے عقب میں جانوروں کا باڑہ تھا جس میں بیل گاۓ اور گھوڑا شامل تھا عظمیٰ کی نند جس کا نام ریشم تھا وه باڑے کی طرف جا رہی تھی
              س کی فگر 36۔30۔38 تھی میں سائے میں میں آرام کر رہا تھا میں سوچ رہا تھا کہ اس کا وہاں کیا کام ہے پھر میں اندر حویلی میں چلا گیا تھا کہ دیکھ کر میلا لوٹ سکوں سامنے شبانہ کام کر رہی تھی اس نے سفید رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے پانی کی وجہ سے اس کے کپڑے بھیگ چکے تھے اور ان میں سے کالی برا نظر ا رہی تھی اسکا سارا جسم بغیر چربی والا تھا حویلی والے افراد شادی پر گے ہوئے تھے میں باہر نکل کر دور راستے پر کھڑا تھا کہ ریشم مویشی خانے سے نکل کر حویلی میں داخل ہو رہی تھی کہ میں مویشی خانے میں پہنچ گیا تھا اور دیکھا کہ گھوڑے کا لن فل ٹائٹ تھا اور بار بار گاۓ کے پیچے سے داخل کرنے کی کوشش کر رہا تھا میں واپس آیا تو ریشم اپنے کمرے میں تھی اور عظمیٰ اپنے کمرے میں تھی شبانہ کہیں نہیں تھی میں عظمیٰ کے کمرے میں پہنچا تو اس نے بتایا کہ رابی اور حنا کو میری ساس اپنی زمینوں پر لے کر گھومنے پھرنے گئ ہیے اور میرا میاں اظہر آج رات کو دبئی جا رہا ہے کراچی سے سال کے لئے تو بس ہم اپنا کام کرتے ہیں میں اسکے ہونٹ چوسنے لگا اور اسکی شلوار میں ہاتھ کی انگلی سے چوت کے دانے کو چھیڑنے لگا تھا میں نے نیکر اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جب کہ اس نے سلیولیس کرتی اور پاجامہ پہن رکھی تھی اسکی کرتی میں سے کالا برا نظر ا رہا تھا یہ دیکھ کر میرا لن کھڑا ہو گیا تھا اسکی گانڈ پر گوشت نہیں تھا بلکہ چھوٹی اور نرم اور سڈول تھی میں اپنے کپڑے اتارے اور عظمیٰ نے اپنے کپڑے اتارے وه برا اور پینٹی میں ملبوس تھی اس نے وه بھی اتار دئے نیچے بیٹھ کر وه میرا لوڑا چوسنے لگی اور ٹٹوں سے کھیلنے لگی ہوئی تھی میں اسکو بیڈ پر لیٹنے کو کہا اور میں اسکی ناف میں زبان گھومانے لگا اسکے معمے مسلنے لگا اتنی دیر میں اسکی چوت نے پانی چھوڑ دیا میں اسکی چوت میں انگلی پھیرنے لگا اور اس کا منہ لال ہوکر دہکنے لگا تھا میں اس کی چوت میں لن اتارا مگر اس کی چوت ٹائٹ تھی میں زور دار دھکا لگا کر لن اندر کیا اور لن کی ٹکر بچے دانی سے ہو گئی اسکی سسکی نے جوش دلایا میں زور زور کے دھکے مارنے لگا اور اسکے معمے مسلنے لگا تھا یس دوران عظمیٰ دو بار چھوٹ چکی تھی میں ابھی دور تھا مزید اضافہ کیا سپیڈ میں اور زور زور سے کرنے لگا تھا آخر کار میں چھوٹ گیا تھا میں مادہ اسکی چوت میں بہا دیا تھا کافی دیر تک بہنے کے بعد جب سکون ہوا تو اس نے اٹھ کر کپڑے سے چوت صاف کی اور میرا لن کو چوس کر اچھے سے صاف کرنے کے بعد کمرے سے نکل گئی میں کچھ دیر تک لیٹ کر چودائی کا مزہ لیتا رہا پھر کپڑے پہن کر باہر نکلا تو بارش ہو رہی تھی اور حنا رابی اور عظمیٰ شبانہ اور اسکی مالکن بانو بھی چھت پر نہا رہی تھی سب کے کپڑے بھیگ کرچپک گئے تھے اور بانو جی نے برا بھی نہیں پہن رکھی تھی ایسا ہوش ربا منظر دیکھ کر میرا گل شفارا پھر سے ہوش میں انے لگا

              Comment

              Working...
              X