گھر ایک نوکر اور اس کی بیٹی صفائی کرنے آتے تھے۔ نوکر اپنی بیٹی کو ہمارے گھر صفائی کے لیے چھوڑ کر کسی اور گھر چلا جاتا تھا۔ اس کا نام اقرا تھا، اس کی عمر 20 سال تھی، گورا رنگ اور اسمارٹ تھی۔۔۔ کیا بتاؤں۔۔۔
اکثر ممی باہر جاتیں تو میں اور وہ اکیلے ہوتے گھر میں اور میں ہمیشہ آتے جاتے اس کی باڈی کو ٹچ کرتا تھا۔ کبھی وہ برتن دھو رہی ہوتی تو میں گلاس پکڑنے کے بہانے اس کی گانڈ کے ساتھ خود کو ٹچ کرتا۔ ایک دن امی نے کسی کے گھر جانا تھا اور گھر کوئی نہیں تھا، میں ٹیوشن گیا۔ جانے سے پہلے امی نے کہا تھا کہ گھر ٹائم پر آ جانا کیونکہ اقرا گھر اکیلی ہو گی، اسے اس دن گھر نہیں جانے دیا تاکہ وہ کھانا بنا سکے۔ ہم گھر کو لاک نہیں کرتے تھے، کوئی نہ کوئی لازمی ہوتا تھا، اس لیے اسے روک لیا گیا۔۔۔
میں ٹیوشن سے جلدی ہی فارغ ہو گیا اور اس دن اسے چودنے کا پورا پلان بنایا تھا میں نے۔ جب گھر آیا تو وہ چاول صاف کر رہی تھی۔ اس نے کھانا پکانے کے لیے چولہے پر رکھنے لگی تو میں نے اسے کہا کہ اوپر آؤ میں تمہیں اچھا میوزک سناتا ہوں، امی کے آنے سے پہلے کھانا بنا لینا۔ بتانا بھول گیا کہ اسے میوزک بہت پسند تھا۔ میں اسے کمپیوٹر روم میں لے گیا۔ وہاں جا کر اس سے ایسی ہی باتیں کرنے لگ گیا۔
باتیں کرتے ہوئے میں نے کمپیوٹر میں سیو ننگی تصویریں اوپن کیں۔ اس نے کہا کہ یہ کیا کھول دیا ہے آپ نے؟ میں نے اسے بازو سے پکڑا اور پاس پڑے بیڈ پر دھکا دے دیا اور اسے پاگلوں کی طرح کس (Kiss) کرنے لگا۔ اس نے مجھے بہت روکا لیکن یہ حقیقت میں روکنا نہیں تھا، وہ بھی اسی کو پسند کر رہی تھی۔ میں نے اسے کس کرتے ہوئے اس کے مموں کو دبانا شروع کر دیا اور اس کا دوپٹہ اتارا اور قمیض اوپر کرنے لگا۔ اس نے ہاتھوں سے قمیض نیچے کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔ پھر اس کی قمیض اتار دی اور اس کے مموں کے اوپر کس کرنے لگا اور اس کی باڈی پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ خاموش ہو گئی تھی اور کچھ نہیں کر رہی تھی۔
میں نے اس کی برا کو ان ہک (Unhook) کیا اور اس کے نپلز کو چوسنے لگا۔ اسے بھی اب مزہ آنے لگا تھا۔ اس کے منہ سے آہستہ آہستہ “آہہہہہہ اوہہہہہہ” کی آواز آ رہی تھی اور اپنے ہاتھ میرے بالوں میں پھیر رہی تھی۔ میں نے اسے اس طرح کس کرتے کرتے اس کی شلوار کو نیچے کھینچنا شروع کر دیا، میں اس وقت اس کے اوپر لیٹا ہوا تھا۔ شلوار تھوڑی سی نیچے کرنے کے بعد میں نے اسے اٹھایا اور شلوار کو مکمل اتار دیا۔ اس نے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا۔ اب وہ میرے سامنے بالکل ننگی تھی۔
پھر اس نے کہا کہ آپ نے مجھے ننگا کر دیا ہے لیکن خود ابھی تک کپڑوں میں ہو۔۔۔ پھر وہ میری شرٹ اتارنے لگی اور میں نے اس کی مدد کی اور پھر ٹراؤزر بھی اتار دیا۔ اب دونوں بالکل ننگے تھے۔ میں اس کے مموں کو چوسنے لگا پاگلوں کی طرح اور ساتھ ہی اس کی چوت پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ کچھ دیر بعد پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑا اور اس کو اپنا لنڈ (جس کو دیکھ کر وہ پہلے ہی ڈری ہوئی تھی) پکڑایا کہ اسے اپنے منہ میں لے۔۔۔
پہلے تو انکار کیا لیکن پھر مان گئی اور اسے منہ میں ڈال کر چوسنے لگی۔ اب میں بیڈ پر بیٹھا تھا اور وہ زمین پر بیٹھی مجھے دنیا کا سب سے زیادہ مزہ دے رہی تھی۔ میں بھی اس کے بال پکڑ کر اس کے سر کو آگے پیچھے کر رہا تھا۔ اس سے پہلے جب میں انگلی سے اس کی چوت کو سہلا رہا تھا وہ دو دفعہ چھوٹ گئی تھی۔ اور جب میرا بھی کلائمکس آیا تو میں نے اس کے سر کو اور زور سے ہلانا شروع کر دیا۔ بیچاری کی آنکھیں باہر آ رہی تھیں اور میری طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر میں اس کے منہ میں ہی چھوٹ گیا۔ اس نے کچھ پانی پیا اور باقی اس کے منہ سے باہر گر گیا۔
اس کے بعد میں زبان سے اس کی چوت کے گرد دائرے بنانے لگا تو وہ کہنے لگی کہ “ظفر پتا نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے میری چوت میں اپنا لنڈ ڈالو۔۔ پلیز”۔ میں نے اس کی بات مان لی کیونکہ اس وقت میرا جانور بھی پوری طرح تیار تھا۔ سو میں نے اس کی چوت پر اس کو رکھا اور اندر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن وہ جانے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس کی چوت بہت ٹائٹ تھی۔ میں بتانا بھول گیا کہ وہ ابھی تک ورجن تھی۔ خیر میں نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لنڈ اندر ڈالنے کی کوشش کی تو اس دفعہ اس کی ٹوپی اندر چلی گئی۔ اس کی آوازیں آ رہی تھیں “اور اندر کرو مجھے اس کی ضرورت اندر ہے، اور ڈالو”۔
میں نے ایک جھٹکے سے اپنا آدھے سے زیادہ لنڈ اس کی چوت میں ڈالا تو وہ ایک دم چیخ اٹھی اور کہنے لگی “اوہہہہہہہ مر گئی، آپ نے مجھے مار ڈالا، بہت درد ہو رہا ہے اسے نکالو باہر، میں مر جاؤں گی، ایسے نہ کرو”۔ لیکن میں جانتا تھا کہ اب اگر باہر نکالا تو پھر اس نے دوبارہ کے لیے راضی نہیں ہونا۔ میں نے اس کی بات نہ مانی اور دوسری اسٹرائیک میں اپنا لنڈ انٹر کر دیا، جتنی چوت اجازت دیتی تھی۔ اور اندر اسے اسٹروکس لگانے لگا۔ اس کی پہلے نکلنے والی چیخیں اب “ہمممم آہہہہہ اوہہہہہ مزہ آ رہا ہے، اور زور سے کرو” میں بدل گئی تھیں۔
اور وہ بھی اب اپنی باڈی کو میرے اسٹروکس کے ساتھ موو کرنے لگی۔ تقریباً 6 منٹ بعد مجھے لگا کہ میں بھی چھوٹنے والا ہوں تو میں نے فوراً لنڈ باہر نکالا اور اس کے سینے پر سارا پانی ڈال دیا۔ وہ اس کو اپنے سینے پر ملنے لگی اور پھر مجھے بھی اپنے ساتھ لٹانے کو کہا۔ میں لیٹا تو پھر ہم نے زور سے ایک دوسرے کو اپنے ساتھ جکڑ لیا اور کچھ دیر اسی حالت میں رہے۔ پھر وہ کہنے لگی کہ “مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ سب کرنے سے اتنا مزہ آتا ہے”۔
بیڈ شیٹ ساری بلڈ (خون) سے بھر گئی تھی سو ہم اب جلدی سے اٹھے اور وہ باتھ روم نہانے گئی اور ساتھ بیڈ شیٹ بھی لے گئی دھونے کے لیے۔ دروازہ کھلا تھا سو میں پہلے دیکھتا رہا اور جب وہ بیڈ شیٹ دھو کر نہانے لگی تو میں نے پیچھے سے جا کر پکڑ لیا اور وہاں بھی اسے کس (Kiss) کیا اور اس کے ہونٹوں پر پڑا پانی اور اس کی مٹھاس کو ٹیسٹ کرنے لگا۔ نہانے کے دوران بھی اسے میں نے بہت تنگ کیا اور پھر وہ کہنے لگی کہ “ظفر اب آپ مجھے جانے دیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی امی آ جائیں اور میں نے جا کر وہ کھانا بھی بنانا ہے”۔
باہر آ کر اس نے نئی بیڈ شیٹ بیڈ پر ڈالی اور نیچے جا کر کھانا بنانے لگ گئی۔ میں بھی پھر اوپر کمپیوٹر پر گانے سننے لگ گیا۔ اس کے بعد بھی ہم نے کئی دفعہ اسے انجوائے کیا۔ اب تو اس کی شادی ہو گئی ہے اور ایک بیٹا ہے اس کا، لیکن اب بھی جب ملنے کے لیے آتی ہے اپنے امی ابو کو، تو ہمارے گھر ضرور آتی ہے۔ آپ مجھے لازمی بتانا کہ یہ اسٹوری کیسی لگی۔
