?>

1جو انسان نیچے گرتا ہے اس کی”اوپر اٹھنے کی بھی گوشش ہوتیہے۔ نیوٹن کا تیسرا قانون بھییہی کہتا ہے ’ہر عمل کے لیے ہمیشہیکساں اور مخالف ردعمل ہوتاہے‘۔ یہ اور بات ہے کہ ہرکوئی اوپرنہیں اٹھ پاتا لیکن اٹھنے کیکوشش سے انکار نہیں کیا جا– “سکتاچھوٹی سی بھول سے جڑی ہمایسی ہی سمبھاونا کو تالشکرنے کی کوشش کرینگےزندگی بھی ہمارے ساتھ کھبیکبھی عجیب کھیل کھیلتی ہے۔میرے ساتھ زندگی نے ایکگھناؤنا مذاق کیا ہے لیکن ایکدکھ ہے تو بس اس سب کے لئےکہیں نہ کہیں میں بھی ذمہ دارہوں ۔یہ سب میری ایک چھوٹیسی بھول کا نتیجہ ہےمیں نے سوچا بھی نہیں تھا کہمیری ایک چھوٹی سی بھولمیری زندگی میں ایک طوفان لیآئےگی۔یہ 20 اپریل 2008 کی بات ہے۔میں قریب 2 بجے کچن میں کھانابنا رہی تھی۔ گرمی بہت تھیاسلیے میں تھوڑی ٹھنڈی ہوا لینےکھڑکی کے پاس آگئی۔باہر سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکاُمجھے ترو تازہ کر گیا۔ تبھیُمجھے خیال آیا کہ اکرم )میرےشوہر( آنے والے ہیں اور میںواپس چولہے کی طرف مڑ گئی۔اکرم سی میری شادی 2003 میںہوئی تھی اور انھوں مجھے دنیاکا ہر سکھ دیا تھا۔ اکرم ایکڈاکٹر ہے اور انکا اپنا ایک کلینکہے۔ ہمارا 5 سال کا بیٹا ہے۔ جسکا نام احمد تھا اور پیار سےجسکو ہم چنٹو کہہ کر پکارتےہیں۔خیر میں اس دن پھر سے ٹھنڈیہوا لینے کے لئے کھڑکی کی طرفگئی تو باہر دیکھ کر حیران رہگئی۔ہماری کھڑکی کے بالکل سامنےایک 18 یا 19 سال کا لڑکا کھڑاتھا۔ اس سے پہلے کہ میں مڑ پاتیاس لڑکے نے مجھے گھور کردیکھا اور میں اسی لمحے وہاںسے پلٹ گئی۔ میرا دل دھک دھککرنے لگا ، میں تھوڑا ڈر گئی۔پھرکیونکہ مجھے لنچ تیار کرنا تھااس لئے سب کچھ بھول کر اپنےکام میں لگ گئیاکرم کسی بھی وقت آسکتے تھے۔تبھی دروازے کی گھنٹی بجی اورمیں نے دروازہ کھوال تو سامنےاکرم کھڑے تھے۔ انھون نے اندرآکر جھٹ سے مجھے بانہوں میںبھر لیا۔اور کہا کہ آج شام ہمشادی میں جا رہے ہیں۔پھر ہم تینوں نے کھانا کھایا۔ میںکھڑکی والی بات بالکل بھولچکی تھی۔اکرم واپس کلینک چلے گئے اورمیں چنٹو کو سال کر نہانے چلیگئی۔ شام کو ہم شادی میں گئےاور ہم نے خوب انجوائے کیا۔آتے ہوئے اکرم نے کہا کشف ، تمکل میرے لئے لنچ مت بنانا کیونکہکل میں نے ایک ایمپورٹینٹسرجری کرنی ہے۔“میں نے کہا ، “ٹھیک ہےاگلے دن میں روز کی طرح دوپہرکا کھانا بنا رہی تھی۔ میں ٹھنڈیہوا لینے کو کھڑکی کے پاس گیااور اپنا پسینہ پونچھنے لگی۔تبھی نہ جانے کہاں سے ایک لڑکا آگیا اور پیشاب کرنےلگا۔ میںوہاں سے واپس پلٹ گئی ۔میں نےکچھ نہیں دیکھا ۔تبھی ُمجھے خیال آیا ہے کہ یہ تووہی کل واال لڑکا ہے ، اسنے کیایہاں ٹوائلیٹ بنا لیا ہے۔ ھمارےگھر پیچھے تھوڑا سنسان تھا اورپچھلی طرف کوئی گھر نہیں تھا، تبھی شاید لوگ وہاں پیشابکرنے لگ گئے ، لیکن میں نے ابتک کسی اور کو نہ دیکھا تھا۔ھمارا کچن گھر کےپچھلی طرفھونے وجہ سے آج یہ سمسیا آنکھڑی ھوئی تھی۔ خیر میں نےسوچا آگے سے میں دھیانرکھونگی اور کھڑکی کی طرفنہیں جاؤنگی۔اگلے دن اکرم کو لنچ پر آنا تھااسلیے میں کچھ زیادہ ہی محنتکر رہ تھی۔ گرمی سے پریشان ہوکر میں کھڑکی کی طرف گئی اورباہر دیکھا تو چین مال کہ باہرکوئی نہیں ہے اور میں ٹھنڈی ہواکا آنند لینے لگی ۔ پھر اچانک وہیلڑکا نہ جانے کہاں سے آگیا اورجھٹ سے اپنی زپ کھول کر کھڑاہو گیا۔یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ نہچاہتے ہوے بھی مجھے سب کچھدیکھائی دے گیا۔ میں جھٹ سےوہاں سے پلٹی اور بھاگ کر اپنےبیڈروم میں آ گئی۔لیکن جانے کیوں نہ چاہتے ہوئےبھی میری آنکھوں میں کھڑکیکے باہر کا نظارہ گھوم رہا تھا پتہنہیں کیا بات تھی اس لڑکے میںکہ رہ رہ کر مجھے اسی کا خیالآرہا تھا۔میں پسینہ پونچ کر پانی پیا ہیتھا کہ اچانک پریشر ککر کیسیٹی بجی اور میں ہوش میںآئی کہ اکرم آنے والے ہیں۔ میںکچن میں واپس آکر اپنے کام میلگ گئی۔ اکرم 3 بجے آئے اور 4بجے کھانا کھا کرچلے گئے۔ میںچنٹو کو سال کر سونے کے لئےبیڈروم میں چلی گئی۔ لیکنمجھے نیند نہیں آئی۔میں سوچ رہی تھی آخر وہ لڑکاکون ہے اور اکثر یہیں کیوں آتاہے ، کیا کوئی اتفاق ہے یا پھر وہجان بوجھ کر ایساکر رہا ہے۔میں نے فیصلہ کیا کہ میں رات کواکرم سے بات کرونگی۔ مگر راتکو میں اس بارے میں بات نہ کرسکی کیونکہ اکرم سیکس کے موڈمیں تھا اور ہم سیکس کرنے کےبعد سو گئے ۔خیر اگلے دن مجھے چنٹو کےسکول جانا تھا اسلئے میں اکرمکے جانے کے بعد کوئی 11 بجےسکول کے لئےنکلی۔ سکول میںچنٹو کی میڈم نے بتایا کہ چنٹوریاضی میں کمزور ہے اس لئے اسپر دھیان دیجیے۔ سکول کے بعدمیں بازار گئی اور کچھ خریداریکی۔ 2 کب بجے پتہ ہی نہیں چال۔جاری۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *