?>

تھوڑی دیر بعد میں اس کے اوپر سے ہٹا اور کنڈوم اتارتے ہوئے میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر سرشاری کی کفیت تھی اور وہ آسودہ لگ رہی تھی وہ دو دفعہ فارغ ھو چکی تھیجبکہ میں ابھی ایک ہی دفعہ ، میں اس کا آسودہ چہرہ دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش تھا کہ مجھے نورین کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑااور میں اس کو بغیر کسی میڈیسن کے مطمئین کرنے میں کامیاب رہا ھوںنورین نے اپنے کپڑے پہننے کے لئے اٹھائے تو میں نے نورین سے کہا کہ نورین ابھی تو بہت رات باقی ھے تم ابھی سے جا رہی ھو ؟تو نورین نے کہا کہ میں ذرا شہزاد کو دیکھ آؤں ، وہ کپڑے پہن کر چلی گئیاور میں اس کا انتظار کرنے لگا پہلی چدائی میں میری ٹائمنگ تین سے چار منٹ رہی تھی اسلئے میں سوچ رہا تھا کہ جو ویاگرا کی گولی لے کر آیا ھوں، کھا لوں- لیکن پھر میں نے سوچا کہ نورین بہت گرم لڑکی ھےاور وہ جلد ہی فارغ ھو جاتی ہے اس لئے ضرورت نہیں ہے یہ گولی ملازمہ سے سیکس سے پہلے لوں گا کیونکہ وہ زیادہ عمر کی ہے اسلئے ھو سکتا ہے وہ زیادہ ٹائم بھی لے ،میں کمرے میں ننگی حالت میں ہی اس کا انتظار کر رہا تھا میں نے کپڑے نہیں پہنے تھےتھوڑی دیر بعد نورین واپس آئی اس کے ہاتھ میں ایک جگ تھا اس نے جگ رکھا اور الماری سے دو گلاس نکالے اور اس میں جوس ڈالا ایک خود سنبھال لیا اور دوسرا مجھے تھما دیا،ہم جوس پینے لگے اس دوران نورین کی نظر میرے لن پر پڑی تو اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا لیکن پھر خاموش ھو گئیمیں نے نورین سے پوچھا کہ تم کچھ کہنے لگی تھیں ؟تو نورین نے کہا کہ نہیں ، کچھ نہیں ،میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا اور خاموشی سے جوس پینے لگا-جوس پینے کے بعد نورین نے جگ اور گلاس سائیڈ پر رکھے اور میرے ساتھ آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی-میں نے نورین سے کہا کہ یہ تو زیادتی ہے کہ میں نے کپڑے اتارے ہوئے ہیں اور تم نے پہنے ہوئے تم میرا ایل (لن) دیکھ سکتی ھو اور میں تمہاری پی (پھدی) نہیں دیکھ سکتاتو نورین نے اک ادا سے کہا اتار لو میں نے کونسا تمہیں روکا ہے میں نے اسے کھڑا کیا اور اس کو گلے لگا لیا اور اس کے خوبصورت چہرے اور رسیلے ہونٹوں پر کس KISS کرنے لگااب میں تھوڑا اتھرا ھو کر اس کی چودائی کرنا چاہتا تھا تا کہ اسے پتا چلے کہ رات اس سے کوئی مل کے گیا ہے-میں نے کس KISS کرتے کرتے اس کی قمیض اوپر کی ، اس نے اپنے بازو اوپر کر لئے اور میں نے اس کی قمیض اتار دی ، قمیض اترتے ہی اس کے دلکش اور مخروطی ابھار میرے سامنے تھےاس کی گوری گوری اور تنی ہوئی چھاتیاں دیکھ کر میرے جذبات میرے قابو میں نہیں رہے اور میں نے اس کی چھاتی کو منہ میں لے کر زور زور سے چوسنا شروع کر دیا اس کی نپلز کے اردگرد کے حصے پر میں نے دانتوں سے ہلکی ہلکی کاٹی کاٹی کرنے لگا اس سے اس کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکلنے لگیں میری ہر کاٹی کے جواب میں اس کے منہ سے لمبی سی . . . . یا آہ . . . کی آواز نکلتی میں نے اس کے چھاتی اپنے منہ سے نکالی اور اس کے پیچھے آ کر اس کے بازؤں کے نیچے سے اپنے دونوں ہاتھ گزار کر اس کی دونوں چھاتیاں پکڑ لیں اور انھیں زور زور سے دبانے لگااور ساتھ ہی اس کی گردن کے پچھلے حصے پر زور سے کاٹی کی تو نورین نے درد سے بھرپور آواز میں کہااف . . .گلباز آرام سےمیں نے اپنا کھڑا لن شلوار کے اوپر سے ہی اس کی گانڈ کی دراڑ میں فٹ کیا اور اس کی چھاتیوں کو دباتے ہوئے اس کو اپنی طرف بھینچااور اس کے جسم کا پچھلا حصہ میرے جسم سے چپک گیااور نورین اپنے جسم کو میری طرف جسم کو میری طرف دبانے لگی اور اپنے ہاتھ میری تھائز پر پھیرنے لگینورین کا رسپانس دیکھ کر میں اور بھی پرجوش ھو گیا ، میں نے نورین کی شلوار بھی اتار دی اور اس کو بیڈ پر لٹا لیا اور اس کے جسم کو چومنا چاٹنا شروع کر دیاجب میں اس کے جسم کے کسی حصے پر اپنی زبان پھیرتاتو اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگتا اور اس کے منہ سے سسکاری خارج ہوتی ،اب میں نے نورین کو الٹا کیا اور اس کی بیک پر کسنگ سٹارٹ کر دی جیسے ہی میرے ہونٹ اس کے جسم سے ٹچ ہوتے تو اس کے منہ سے لذت بھری لمبی سی آہ . . . خارج ہوتی وہ اس وقت بہت انجواۓ کر رہی تھی ، میرے ہاتھ میں بھی کافی عرصے بعد ایسی زبردست لڑکی آئی تھی اسلئے میں بھی بہت پرجوش تھا ، میں نے اس کے چوتڑوں پر بھی کسنگ شروع کر دیاس کی گانڈ بہت نرم اور گوشت سے بھرپور تھی میں نے زور سے اس کے چوتڑ پر کاٹی کی تو نورین کے منہ سے کافی زور دار کراہ خارج ہوئی اور وہ سیدھی ھو گئی ، اب میرے جذبات میں بہت شدت آ گئی تھی اسلئے میں سیدھا لیٹ گیا اور نورین سے کہا کہ آپ میرے اوپر آؤ ،نورین میرے کھڑے لن کو پکڑ کر سہلانے لگی اور میرے اوپر آ گئی اس نے اپنی پھدی میرے لن پر ایڈجسٹ کی اور میرے لن کی ٹوپی اپنی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر تھوڑا دباؤ ڈالا اور میرے لن کی ٹوپی اس کی پھدی میں چلی گئیآہ …… کی ہلکی سے آواز اس کے منہ سے نکلی وہ آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی میں نے اس کے ممے پکڑ کر ان کو دبانے اور سہلانے لگا جس سے وہ اور بھی زیادہ مزا لینے لگی میرا لن اس کی پھدی کی دیواروں سے ٹکرا کر اندر باہر ھو رہا تھا اس کی پھدی بہت زیادہ تو نہیں لیکن تنگ ضرور تھی لن کی ٹوپی کا اس کی پھدی کے اندر کے حساس حصوں سے ٹکرا کر اندر باہر ہونا نورین کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بہت مزا دے رہا تھانورین کی سپیڈ میں اب تیزی آ رہی تھی اب میرے ہاتھ اس کی کمر پر تھے اس کے اوپر نیچے ہونے سے اس کے ممے بھی اوپر نیچے ھو رہے تھے یہ نظارہ آج بھی پوری جزئیات سے میں ذھن میں محفوظ ہےجب میں نے دیکھا کہ نورین کی سپیڈ میں تیزی بڑھ رہی ہے اور وہ ڈسچادج ہونے والی ہے تو میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کر کے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور لیٹے لیٹے اس سے جھپی ڈال لی اس کے ممے میرے سینے میں پیوست ھو گئے اور جھپی کی وجہ سے اس کی حرکت آہستہ ھو گئیاس کی سانسیں زور زور سے چل رہی تھیں میں نے سائڈ چینج کی اور وہ میرے نیچے آ گئی اور میں اس کے اوپر- میں نے اس کی ٹانگیں اوپر کی اس کی پھدی میرے لن کے نشانے پہ آ گئی میں نے اپنا لن اس کی پھدی پر رکھا اور اس کی پھدی کے لپس کے ساتھ رگڑنے لگا جب میرا لن اس کی پھدی کے سوراخ کے سامنے آتا تو نورین نیچے سے حرکت کرتی اور لن کو اندر لینے کی کوشش کرتی لیکن میں اس کی یہ کوشش ناکام بنا دیتا – نورین نے جذبات سے بھرپور آواز میں کہا کہ گلباز مزید نہ تڑپاؤ اس کے منہ سے ابھی پورے الفاظ بھی نہ نکلے تھے کہ میں نے اپنا لن ایک ہی جھٹکے میں سارا اس کی پھدی میں داخل کر دیا اف ………. آہ …….. گلباز بہت ظالم ھو تم ، میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا لیکن کوئی جواب نہ دیا اور اپنے بھرپور جھٹکے جاری رکھے ہر جھٹکے کے ساتھ ہی اس کے منہ سے سسکاری خارج ہوتی اب یہ سسکاریاں لذت سے بھرپور تھیں نورین اپنی اس چدائی کو بہت انجواۓ کر رہی تھینورین نے اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد زور سے کس لیں میں بس اب تھوڑی ہی دیر تک فارغ ہونے والا تھا لیکن ابھی نورین کا فارغ ہونے والا ری ایکشن نظر نہیں آ رہا تھامیں نے جھٹکے روک لئے اور لن کو نورین کی پھدی میں ہی رہنے دیا اور نورین کی چھاتی منہ میں لے لی اور ایک ہاتھ سے اس کی دوسری چھاتی کو دبانے لگا لن کو باہر نکالے بغیر ہی اسے اندر کی طرف دبانے لگا ، نورین اپنے جسم کو اوپر اٹھا کر اپنی ساری چھاتی میرے منہ میں دینے کی کوشش کرنے لگی اور نیچے سے اپنی کمر کو ہلا ہلا کر لن کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی اور آدھے منٹ بعد ہی اس کی حرکت تیز ھو گئی اب وہ ڈسچادج ہونے والی تھی اسلئے میں نے دوبارہ سے جھٹکے مارنے شروع کر دئیے اس کی سسکاریوں میں تیزی آ گئی اور اس کی سسکاریاں سن کر میں تیز ھو گیا اور چند ہی سیکنڈ میں اس کے اندر ہی فارغ ھو گیا میری گرم گرم منی جیسے ہی اس کے اندر گری اس کی منہ سے نامانوس قسم کی آوازیں نکلنا شروع ھو گئیں اور اس کا جسم اکڑا اور چند ہی لمحوں میں ڈھیلا ھواس دفعہ میں نے کنڈوم استمال نہیں کیا تھا اور میں نورین کے اندر ہی فارغ ھو گیا تھا جیسے ہی میں نے دیکھا کہ نورین فارغ ھو چکی ہے میں اس کے اوپر سے اتر گیا اور نورین سے کپڑے کا پوچھا تو اس نے کہا کپڑا تو نہیں ہے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل میں ٹشو ہیں وہ نکال لو میں نے ٹشو کا ڈبہ نکالا اور اس میں سے ٹشو لے کر اپنا لن صاف کیا اور کچھ ٹشو نورین کو بھی دئیے میں نے اپنا لن صاف کرنے کے بعد نورین سے کہا نورین اس دفعہ میں نے کنڈوم استمال نہیں کیا تھا کہیں تمہیں حمل ہی نہ ٹھہر جائے تو نورین نے کہا کہ میں وقفہ کر رہی ھوں آپ ٹینشن نہ لو-نورین نے بھی اپنی پھدی صاف کر لی تھی اور بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی میں نے نورین سے کہا“ نورین یو آر سو سوویٹ” u r so sweetنورین نے اپنی حسین نشیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور اپنی پیاری اور دلکش آواز میں کہا” گلباز یو آر مائی سوویٹ ہارٹ”تم پہلے مرد ھو جس نے مجھے میرے خاوند کے بعد چھوا ھے یہ رات میری زندگی کی انمول رات ہے اور میں اس رات کو مرتے دم تک نہیں بھول پاؤں گی نورین بہت جذباتی ھو رہی تھیمیں نے نورین سے پوچھا کہ نورین تم تو شادی شدہ ھو ایسی بہت ساری راتیں تمہاری زندگی میں آئی ھوں گی پھر اس رات میں ایسی کیا بات ھو سکتی ہے ؟گلباز تم نہیں جانتے کہ میں کتنی راتیں اکیلی تڑپی ھوں میرا خاوند اپنا کام نکال کر سو جاتا تھے اور میں جسم کی آگ میں ساری ساری رات جلی ھوں یہ میں ہی جانتی ھوں کہ میرا کیا حال ہوتا ہے ، عورت کبھی بھی مرد سے بیوفائی کا نہیں سوچتی یہ مرد ہی ہے جو ہم عورتوں کو بیوفائی پر اکساتے ہیں آخر میں کب تک انگلی کا استمال کرتی ؟گلباز بھلا کیا انگلی سے جسم کی آگ بجھ سکتی ہے کیا مرد کا حق نہیں کہ وہ عورت کو خوش کرے ، عورت کی یہ محرومی ہی ہے جو عورت کو دوسرے مردوں سے تعلقات استوار کرنے پر مجبور کرتی ہے –میں نے نورین سے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند آپ سے سیکس نہیں کرتا؟ تو اس نے کہا کہ وہ سیکس بھی آفس ورک سمجھ کر ہی کرتا ہے نہ ہی وہ فورپلے کرتا ہے اور نہ ہی مجھے گرم کرتا ہے جب اس کا دل کرتا ہے تو جھپی ڈالی اور اندر کیا اور چند جھٹکوں میں فارغ اور میں اندر کی آگ میں جھلستی رہتی ھوں ،گلباز پچھلے کچھ عرصے سے بہت رانگ نمبر آ رہی تھے لیکن میں کسی کو لفٹ نہیں کروا رہی تھی میں بیوفائی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میرے اندر کی آگ جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے مجھے مسلسل اکسا رہی تھی جس دن آپ کی کال آئی تھی میں اس وقت کسی سے دوستی کا سوچ رہی تھی آپ نے کال کی اور کہا تھا کہ میں نے علی سے بات کرنی ہے پھر آپ خاموش ھو گئے تھے اسوقت میں نے آپ کی آواز سن کر فیصلہ کر لیا تھاکہ میں آپ سے دوستی کروں گی ، بس میں نے آپ کو بیلنس سے آزمایا تھا آپ نے کروا دیا اور پھر آپ سے دوستی ھو گئی اور آج میں جتنی خوش ھوں اس کا تم اندازہ نہیں کر سکتے ،“ گلباز مجھے کبھی بھی مت چھوڑنا” ،“آئی لو یو گلباز”یہ کہتے ہوئے میرے سینے سے لگ گئی اور مجھے چومنے لگی ، نورین کی میں نے دو دفعہ چدائی کر لی تھی اب میرا ذھن ملازمہ کی طرف تھا لیکن نورین کے اس طرح چومنے سے میرے اندر کا حیوان جاگ گیا اور میرا لن دوبارہ سے اکڑنے لگامیں نے بھی نورین کو رسپانس دینا شروع کر دیانورین جیسی حسین لڑکی جس کے جسم کے حصول کے لئے میں کافی دنوں سے تگ و دو کر رہا تھا آخر کامیاب ھو ہی گیا تھا اور آج اس کی پھدی پر اپنے لن سے مہر لگا کر واپس جا رہا تھا اور وہ بھی بغیر کسی پرابلم کے – نورین جیسی جنسی طور پر غیر مطمیئن لڑکی سے سیکس کا اپنا ایک الگ ہی مزا تھا کیونکہ نورین جیسی غیر مطمئین لڑکیاں بہت انجواۓ کرتی اور کرواتی ہیںاب میں نے سوچ لیا تھا کہ اس کے میاں کے آنے تک ہر ہفتے نورین کے ہاں چکر لگایا کروں گا اور ملازمہ نسرین کے ساتھ بھی سیکس ضرور کروں گا کیونکہ وہ بھی جنسی طور پر ایکٹیو اور بہت زیادہ رسپانس دینے والی عورت تھی، میں گھر پہنچ گیا اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ھو گیا –ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *