?>

سُسر اور بیوہ بہو

میرا بیٹا جوانی میں ہی ایک کار ایکسڈنٹ میں جان بحق ہو گیا تھا ہم شدید صدمے میں تھے اس کی موت کے کچھ ہی عرصے کے بعدمیری بیوی یعنی میرے بیٹے کی ماں صدمہ برداشت نا کر سکیاوراس دنیا سے چلی گئی اپنے بیٹے کے پاس میری بہو جسکا نام تھا فرح جوان وہ پاکستانی خوبصورت زندہ دل لڑکی تھی لیکن اببجھی بجھی رہنے لگی تھی سیکس کے لیئے بہت ہی خوبصورت تھیاسکا ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا اور میرے بیٹے کو فوت ہوئے ایک سال ہو گیا تھا ہمارے گھر کئی رشتہ دار آتے رہتے تھے دل لگا رہتاتھا ان دنوں اتفاق سے کوئی نہیں آ رہا تھا ایک دن میں نے دیکھاکہ بہو چھت پہ ساتھ والے جوان لڑکے میں دلچسپی لے رہی ہے میری غیرت گوارا نا کی لیکن میں سمجھ گیا کہ اب ا سنے سیکس ہرصورت کرنا ہے اس کی مجبوری ہےلیکن بچہ چھوٹا ہے ا سلیئے ابھی شادی بھی نہٰں کرنا چاہتی میں پریشان ہو گیا کیا کروں ایک دن کیا ہوا میں اور میری بہو گھر پراکیلے تھے رات کے بارہ بجے ہونگےمیں اپنے کمرے سے نکل کرنیچے واشروم کی طرف جارہا تھا میرے ساتھ والا کمرہ میری بہو کا تھا ہوا یوں کہ میں اسکے کمرے کےپاس سے گزر رہا تھا کے اچانک میری نظر فرح کے روم میں پڑی تو وہ سورہی تھیوہ اپنے بچے کو اپنا دودھ پلاتے پلاتے شاید سوگئی تھی اور اپنے بوبزکو اندر کرنا بھول گئی تھی اسکے پاکستانی سیکس والے مستممے نظر آرہے تھے گورے گورے نہائیت خوبصورت مجھے اپنی جوانی والی بیوی کی طرح نظر آنے لگیلیکن وہ میری بہو تھی میں نا چاہتے ہوئے بھی اس کو دیکھ رہا تھا مجھے وہ چھت والی حرکت ذہن میں آئی اور میں کچھ اور ہیطرح سے سوچنے لگا تھایار میری تو نیت خراب ہونے لگی تھی اسکے گورے ممے اور اسکے اور گلابی نیپل میرا دل کر رہا تھا کہ جاکردودھ کو چوسنے لگ جاؤپھر میں نے سوچا کہ اگر وہ اٹھ گئی اور وہ برا مان گئی تو میں نے سوچا کوشش کرنے میں کیا ہرج ہے میں دھیرے سے کمرے میں گیااور بستر کے پاس جاکر کھڑا ہوگیاوہ سوتے ہوے بہت خوبصورت لگ رہی تھی میں نے دھیرے سے اسکے بچے کو اٹھایا اور صوفے پر لٹادیا میری قسمت اچھی تھی کہاسکا بچہ اٹھا نہیں تھامیں بیڈ پر بیٹھا اس کو پاکستانی سیکس کرنے کے لیئے اسکے ساتھ لیٹ گیااسکے بوبزکو پاکستانی سیکس کرنے کے لیئے ٹھرکی کیطرح چوسنے لگ پڑامجھے اپنی جوانی کے دن یاد آگئے جب میں اپنی کے ساتھ اسی طرح دوران نیند کئی بار سیکس کرتا تھابڑا مزہ آرہا تھا اسے یہ لگرہا تھا کے اسکا بچہ ہی ہے جو ممے لے رہا ہے میں سافٹ طریقے سے ممے لے رہا تھامیں نے تھوڑی دیر کے بعد اپنا ہاتھ اسکے دوسرے بوبز پر رکھا اور آرام آرام سے مسلنے لگا اسے مزہ تو آرہا تھا پھر اچانک اسکیآنکھ کھلی وہ مجھے دیکھ کر ڈر گئیاور بولی کے یہ آپ کیا کر رہے ہے میں نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسکے ممے کو پکڑ کر چوسنے لگا تھوڑی دیر کےبعد وہ گرمہوگئی پھر میں اسکے ممے کو دبانے لگامیرا کمزور ہو چکا لن بھی توانائی محسوس کرنے لگا تھا اور میرا دل کر رہا تھا کہ ایک دم سے اس کی جوان گرم ترستی چوت میں لنڈال دوں دونوں کو سکون مل جائےکیا مزہ آرہا تھا اسکے نرم نرم ممے کو دبا کر میں تھوڑی دیر تک دباتا رہا پھر بہو کو بستر پر لٹایا اور اسے کس کرنا شروع ہوگیا وہبھی مجھے چومنے لگیاور میں دس پندرہ منٹ تک اسکو چومتا رہا پھر اسکی قمیض اتاری کیا ممے تھے جیسے کبھی کسی نے استعمال ہی نہیں کیا تھامیں تو اسکے خوار بڑے ممے کو پاگلوں کی طرح پاکستانی سیکس کرتا ہوا اس کو چوسنے لگاوہ گرم ہوچکی تھی جب میں اسکے ممے کو دبا رہا تھا تو اسکی آوازیں نکل رہی تھی اور وہ بھی سیکس کرنے کی خواہش مند ہوچکی تھیں پھر میں کھڑا ہوا اپنی پینٹ اتاری وہ اٹھ کر نیچے جھکی میں نے پاکستانی سیکس کرنے کے لیئے لوڑا نکالا اسکے منہ میںڈال د یاوہ چوسنے لگی کیا مزہ مل رہا تھاجب وہ لوڑا کو چوس رہی تھی تو میتا لورا اور بھی توانا ہونا شروع ہو گیا تھا اور فل کھڑا ہو چکا تھا کئی منٹ تک مجھے پاکستانیسیکس کرنے کے لیئے لوڑا کو چوستی رہیپھر اسکی چدائی کا وقت ہو گیا تھااور مجھے ا سکو چود کے ا سکی جوانی کی پیاس کو ختم کرنا تھاپھر وہ بستر پر سیدھی لیٹگئی میں نے اسکی شلوار اتاری لوڑا اسکی پھدی پر رکھا اور آرام سے اندر باہر کرنے اسکو لگا پھر ایک زبردست دھکے سے اندر ڈالدیا اسکی زور دار چیخ نکلیمیں اپنی گانڈ کو زور زور سے آگے پیچھے کرنے لگا اسکی چیخیں نکلتی رہی شائد اس نے چوت دوبارہ سے کنواری کی طرح ہو گئیتھی ایک سال سے چدائی نہیں ہوئی تھیمیں اسے ایک گھنٹے تک چودتا رہا پھر اسکے نکیلے نپلز والے ممے کو دبانے لگا پھر پاکستانی سیکس کرنے کے دوران لوڑا نکالا اوراسےسے چسے لگوانے لگابڑا مزہ آرہا تھا اسے چود کر پھر جب مجھے محسوس ہوا کہ میری مٹھ نکلنے لگی ہے تو میں لوڑا کو ہاتھ میں پکڑا اور خوب ہلاتےہوے منی اسکے ممے پر نکال دیمیں نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بہو کو حاملہ کروں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *