?>

جٹھ سے شوہر تک۔۔

ہمارے

گھر میں ہر طرح کی آسائشات کی فروانی تھی. دادا جان 4 مربعوں کے مالک تھے ۔ دادا کے بڑے بیٹے شیر خان یعنی میرے ابوآڑھت کرتے تھے اور چھوٹے بیٹے بہادر خانزمینوں کی دیکھ بھال کرتے تھے. گھر میں آسائشات کی فروانی کے باوجود ماحول بہت سخت تھا ۔میں نے ہائی سکول کے بعد کالج جانا چاہا تو دادا جان نے یہ کہ کر منع کردیا کہبیٹیوں کے لئے اتنی ت***م کافی ہے ۔ میرے ارمانوں پر اوس پڑگئی اور میں گھر میں امی اور چاچی کا ہاتھ بٹانے لگےمیرا منگتیر عمیر مجھ سے دو سال بڑآ ٹھا اور شہر کالج میںپڑھتا اور ہاسٹل میں رہتا تھا ۔ میرے دو بڑے بھائی جمال خان اور کمال خان بھی اسی کالج میں پڑھتے اور ہاسٹل میں رہتے تھے ۔اب دادا جان کو میری شادی کی فکر لگ گئی ۔مگر میرے منگتیر کا خیال تھا کہ وہ پہلے ت***م مکمل کرلے ۔ اس لئے اس نے اپنے والدین کے ذریعے 4 سال کا وقت لے لیا اورپڑھائی میں مصروف ہوگیا ۔مگر ہونی کو کون ٹال سکا ہے. ابھی دو سال ہی گزرے تھے کہ دادا جان کا انتقال ہوگیا ۔ اور جائیداد کی تقسیم پر میرے ابو اور چچاجان میں جھگڑااسقدر بڑھا کہ مکانوں کے بیچ دیوار اٹھادی گئی اور بول چال بند ہوگئی . میں اسوقت 22 سال کی ہوچکی تھی۔میرے والدین کو امید تھی کہ کچھ بھی ہوجائے میرے اور عمیرکے متعلق دادا جان کی بات نبھائی جائے گی ۔ اس لیے میں عمیر کی منگتیر ہی رہی ۔ چاچا جان کے گھر والے کیا سوچ رہے تھے ہمیں بلکل معلوم نہیں تھا ۔ میرے والدصاحب سخت طبعیت مگر دل کے نرم اور چچاجان تو بہت ضدی مشہور ہیں ۔خیر عمیر نے جب اپنی ت***م مکمل کی اسوقت میں 24 سال ہوچکی تھی ۔ عمیر یونیورسٹی سے جب ت***م مکمل کرکے واپس گھر آیا تو میرے والدین کو امید تھی کہ اب وہ لوگشادی کی بات کرینگے اس لیے میرے والدین نے شادی کی تیاری شروع کردی مگر ایک دن ہم لوگوں نے سنا کہ عمیر کی تو اگلے ماہ پھپھو کی بیٹی سے شادی ہورہی ہے تو ہملوگوں نے چپ سادھ لی ۔ میرے والد ین نے سوچا کہ ہماری بھانجی بھی تو ہماری ہی بیٹی ہے اب ان سے کیا گلہ کریں ۔ انہوں نے اب میرا رشتہ تلاش کرنا شروع کردیا ۔ اباچاہتے تھے بھلے میری شادی عمیر کی شادی کیساتھ نہ ہوسکے تو کچھ عرصہ کے بعد ہوجائے ۔منڈی میں میرے والد کی آڑھت کیساتھ ایک اور آڑھتی جوکہ اچھے کاروباری تھےکیساتھ ابا نے میرے متعلق بات کی ۔ ان کے دوبیٹے تھے بڑا بیٹا 39 سال کا اور رنڈوا تھا اسکی ایک بیٹی بھی تھی ۔وہ شریف آدمی شیر بہادر اسکا رشتہ لیکر آگیا ۔ میرےوالدین نے اس رشتہ کے لیے انکار کردیا کیونکہ ایک تو وہ عمر میں بڑادوسرا ایک بیٹی کا والد بھی تھا۔ مگر میں انکی وائف کو پسند آگئی تھی اس لیے ایک ہفتہ بعد وہ لوگ دوبارہاپنے چھوٹے بیٹے جو کہ 27 سال کا تھا ور دوبئی میں ہوتا تھا کے لیے رشتہ مانگنے آگئے ۔میرے والدین نے سوچنے کے لئے وقت مانگ لیا ۔ کیونکہ انکی رہائش شہر سے باہرگاؤں میں تھی ۔معلومات حاصل کرنے میں دوہفتہ لگ گئے ۔ انکی ریپوٹیشن اچھی تھی ۔ دو مربعہ زمین کے علاوہ آڑھت کااچھا کاروبار تھا ۔ ایک ہی بیٹی سمیرا جو کہ بیاہی جاچکیتھی ۔بڑے بیٹے سمیر کی ایک بیٹی اریبہ ہے ۔ تین سال پہلے سمیر کی بیوی فوت ہوگئی تھی اور اریبہ اب آتھ سال کی ہے ۔ چھوٹا بیٹا صیغیر 27 سال کا ہے اور دوبئی میںملازم۔ہے ۔میرے والدین کو یہ لوگ کھاتے بیتے اچھا خاندان لگا اور رشتہ کے لیے ہاں کردی دو ماہ بعد میں صغیر حسن سے بیاہ دی گئی۔ اور دوماہ چھٹی گزار کر وہ دوبئی واپس چلے گئےماہ کے بعد میرے شوہر واپس اپنے کام پر دوبئی چلے گئے اور میں ایک ماہ کے لئے اپنے میکے آگئی ۔ایک ماہ گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ ایک ماہ بعد میں اپنی سسرال واپس پہنچ گئی ۔ جہاں پر ساس سسر ،میرےجیٹھ اور اسکی آٹھ سالہ بیٹی اریبہ کیساتھ ہی مجھے رہنا تھا ۔ جب تک میرے شوہر گھر پر تھے اسوقتمصروفیات اور مشاغل اور تھے جن میں دل لگارہتا تھا ۔مگر اب ایک سی روٹین تھی ۔ شکر ہے کہ اریبہ کوگرمیوں کی تعطیلات تھیں جس کی وجہ سے گھر میں کچھ رونق اور مصروفیت تھی اریبہ بہت پیاری اورخوبصورت بچی ہے جس کی ماں نہیں رہی اور اسکو دیکھ کر پیار آجاتا ہے ۔وہ بہت معصومانہ شرارتیںکرتی جن سے بہت مزہ آتا ہے ۔اریبہ مجھ سے بہت گھل مل گئی اور مجھے بھی اس بن ماں کی بچی سےانس ہوگیا ہے . میری کوشش ہوتی کہ اریبہ کو ماں کی کمی محسوس نہ ہو۔ اریبہ کو اپنے ابو سے بہت لگاؤتھا اور وہ بھی اریبہ سے بے انتہا پیار کرتے تھے ۔ دونوں باپ بیٹی یک جان دوقالب والی بات تھے سچپوچھیں تو مجھے دونوں باپ بیٹی کا پیار دیکھ کر ان پر رشک آتا ہے ۔ہمارے گھر کا ماحول بہت سخت تھا ۔میرے ابو نے مجھے کبھی ایسے پیار نہیں کیا تھا جیسے اریبہ کے ابو اس سے کرتے تھے ۔ کبھی کبھی تومجھے اریبہ سے حسد محسوس ہوتا کیونکہ مجھے یاد آجاتا کہ جب میں چھوٹی تھی تو دل کرتا تھا کہ اپنے ابوکی گود میں بیٹھوں انکے سینے پر چڑھ کر کھیلوں ۔ ۔۔۔۔۔اریبہ کا تو روز کا معمول تھا کہ وہ صبح ناشتہ اپنے ابو کی گود میں بیٹھ کر کرتی اور شام کو جب اسکے ابوصحن میں چارپائی پر لیٹے ہوتے تو انکے سینے پر چڑھ کر کھیلنا ۔ گرمیوں کے موسم میں اسکے ابو صحنمیں چارپائی ڈال کرتہمند باندھے اور اوپر کے حصہ میں بغیر کچھ پہنے لیٹے ہوتے تو اریبہ انکے سینے کےبالوں سے کھیلتی کبھی انکی مونچھ پکڑ لیتی تو اس کے ابو کھلکھلا کر ہنستے رہتے ۔ ویسے بھی انکیطبعیت ہنس مکھ تھی. مسکراہٹ ہروقت انکے چہرے پر سجی رہتی. میرے خاوند چھوٹے قد کے سنجیدہ طبعیتکے مالک ہیں جبکہ ان کے بڑے بھائی دراز قد کشادہ پیشانی کشادہ چھاتی اور مضبوط جسم کے مالک ہیںجب میں انکو اپنی بیٹی کیساتھ کھیلتا دیکھتی تو سوچتی کے انکا بھی رشتہ میرے لئے آیا تھا کیا تھا جو ہماریعمروں میں فرق تھا وہ مجھ سے چودہ سال بڑے ہیں تو کیا ؛ رہتے تو پاس ہی ؛ ہم اریبہ سے ملکر بھی کھیلسکتے تھے ۔ مگر میرے شوہر دوسال بڑے تو ہیں اور اپنی جوانی اب امارات میں گنوارہے ہیں اور میں یہاںانکو یاد کرکے ٹھنڈی آہیں بھررہی ہوں. خیر جو ہونا تھا ہوچکا تھا۔۔۔۔۔میری ساس بہت نرم طبعیت کی ہیں اور مجھ سے تو ہمیشہ پیار ہی کیا انہوں نے ۔ سسر ہفتہ میں دوہی راتیںگھر پر گزارتے باقی دن آڑھت پر رہتے ۔ میرے جیٹھ سمیر خان صبح سویرے کھیتوں میں چلے جاتے وہاںمزارعوں سے کام لیتے اور انکے کام کی نگرانی کرتے. دوپہر کا کھانا گھر پر ہی کھاتے ۔ کھانا کھاکربیٹھک میں اہنے دوستوں سے ملکر تاش کھیلنے لگ جاتے ۔اور شام کو ایک چکر پھر زمینوں کا لگاتے اورشام ہوتے ہی گھر آجاتے ۔ گھر میں ایک خادمہ تھی جو کہ صفائی ستھرائی کاکام کرتی اور مجھے صرف کھاناپکانا ہوتا تھا. باقی سارے کام خادمہ سرانجام دیتی ۔ اریبہ کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد جب سکول کھلے تومعمول کچھ تبدیل ہوگیا اب صبح اریبہ کو ناشتہ کرواکر اسکے ابو کیساتھ سکول بھیجنا شام کو اسکی ہوم ورکمیں مدد کرنا شامل ہوگیا ۔ یہ روزانہ کا معمول تھا. دن تو جیسے تیسے گزر جاتا مگر رات کو جب چارپائی پرلیٹتی تو خیالات میں پتہ نہیں کہاں کہاں بھٹک جاتی ۔ صغیر کو گئے ہوئے چارماہ ہوچکے تھے اور اب اسکیکمی محسوس ہونے لگی تھی. گھر میں اب کچھ تبدیلی سی محسوس ہونے لگی تھی یا پھر مجھے محسوس ہوتیتھی جب میں بیاہ کر آئی تھی تو اجنبیت کا احساس تھا ساسو ماں تو شروع سے ہی مہربان تھیں ۔ مگر میرےجیٹھ پہلے مجھ سے بہت کم مخاطب ہوتے تھے کوئی ضروری کام ہوتا تو بات کرتے یا پھر جب اریبہ کوئیضد کررہی ہوتی تو مدد کے لیے کہتے ۔ مگر اب وہ مسکرانےبھی لگے تھے اور میرے پکے پکوان کیتعریف بھی کردیتے تھے ۔ سسر تو ہفتہ میں دودن ہی آتے تھے اور انکا ریویہ مشفقانہ ہی ہوتا. اریبہ سےمیری پکی دوستی ہوچکی ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اب میں خود کو اس گھر کا فرد محسوس کرنے لگی ہوں۔اب بھی میکے کی یاد آتی ہے مگر اس کی شدت میں کمی آچکی ہےگھر میں اریبہ کی وجہ سے کافی رونق تھی ۔ چونکہ وہ سب کی لاڈلی تھی اور اس کی شرارتوں سے سب لطف اندوزہوتے تھے ۔ ابھی وہ آٹھ سال کی تھی اور اس کو زیادہ سمجھ نہیں تھی کہ کیا بات کرنی ہے اور کیا نہیں کرنی. ایکبار وہ اپنے ابو سے ناراض ہوکر میرے کمرے میں آگئی( وہ اکثر اپنے ابو سے روٹھ کر میرے ہی پاس آتی) اور اپنےابو کی شکایت لگانے لگی. میں نے اس کا دل صاف کرنے کی غرض سے اس کے ابو کی تعریف کردی ۔ کہ دیکھوبیٹی وہ تو بہت اچھے ہیں تم سے پیار کرتے ہیں ۔ تم کو اپنی گود میں بٹھاکر اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے ہیں تمہاریہربات مانتے ہیں ۔ ایسے ناز اٹھانے والے ابو توکسی کسی کو ملتے ہیں ۔ تو وہ پوچھنے لگی کہ آنٹی آپ کے ابو کیاآپ کو گود میں نہیں بٹھاتے تھے تو میں نے کہا کہ نہیں وہ ایسا نہیں کرتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد اس کے ابو آئے اوروہ ان کے ساتھ سونے کے لیے چلی گئی ۔ وہ اپنے ابو کے کمرے میں ہی سوتی تھی ۔اگلی صبح جب میں دونوں باپ بیٹی کا ناشتہ لیکر ان کے کمرے میں گئی تو اریبہ اپنے والد کی گود میں بیٹھی سوال وجواب کررہی تھی ۔ مجھے دیکھتے ہی اریبہ کھڑی ہوگئی اور میِں نے ناشتہ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اریبہ مجھ سے پو چھنےلگی آنٹی آپ کے ابو آپ کو گود میں نہیں بٹھاتے تھے ناں۔۔۔ میں نے بات ٹالنے کی کوشش کی اور کہا بیٹی ، آؤ ناشتہکرلو پھر سکول کی بھی تیاری کرنی ہے ۔ مگر اس نے پھر وہی تکرارکی اور کہنے لگی آنٹی آپ آج میرے ابو کیگود میں بیٹھ جاؤ ۔ میں یہ سن کر ہکا بکا ہوگئی اس کے ابو نے جلدی سے کہا اریبہ کیا اول فول بک رہی ہو مگراریبہ کے سرپر یہی دھن سوار تھی اس نے مجھے اپنے ننھے ہاتھوں سے کرسی کی طرف دھکیلنا شروع کردیا مگرمیں اس کو پکڑتی اور ادھر ادھر ہوجاتی ۔ وہ پھر میرے گھٹنوں کو دبادیتی ۔ اس کشمکش میں میرا پاؤں میز کے پایاسے ٹکرا گیا اور میں لڑکھڑا گئی اور سیدھی سمیر بھائی کی آغوش میں جاگری ۔ انہوں مجھے سنبھالا تو انکا ایکہاتھ میری کمر پر ایک میرے ابھاروں پرجا ٹکا۔ میں نے سمیر بھائی کیطرف دیکھا تو انکی نگاہیں مجھ پر جمی ہوئیتھیں ۔ میں جلدی سے اٹھی اور روہانسی ہوکر کمرے سے نکل گئی اور اپنے کمرے میں جاکر چارپائی پر گرگئی۔میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوچکی تھی اور جسم کانپ رہا تھا ۔ سارا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھا ۔ میں کچھ دیر لیٹیرہی کچھ حواس بحال ہوئے تو اٹھ کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیا ہوگیا ۔ اریبہ تو بچی تھی بچے ضد تو کرتےہی ہیں ۔ غلطی کسی کی بھی نہیں تھی. مگر جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا. میں اب اریبہ کے ابو کا کیسے سامناکرونگی. انکا خیال آتے ہی مجھے ان کے ہاتھوں کالمس اپنی کمر اور ممے پر محسوس ہونے لگا ۔ انہوں نے جبمجھے اپنے بازوؤں میں تھاما تھا تو مجھے انکی آنکھوں میں حیرانگی اور ستائشی جذبات نظر آئے تھے. میں یہ سوچکر شرماگئی اتنے میں اریبہ آگئی اسکو سکول کے لیے تیار کیا اور وہ تیار ہوکر اپنے ابو کیساتھ سکول چلی گئی ۔میں نے اپنی ساس جن کو میں اماں کہتی ہوں کو ناشتہ دیا وہ ناشتہ کرکے پھر سوجاتی ہیں اور دوبارہ ظہر سے پہلےاٹھتی ہیں۔اماں کو ناشتہ کروانے کے بعد میں نے اپنے اور اریبہ کے ابو کے لئےچائے کا پانی چولہے پر چڑھادیا ۔کیونکہ وہ اریبہ کو سکول چھوڑنے کے بعد آکر چائے کا کپ لیتے تھے۔ حسب معمول وہ اریبہ کو سکول چھوڑنےکے بعد گھر آکر غسل سے فارغ ہوکر کچن میں آگئے ۔ میں نے جھکی ہوئی نظروں سے انکو چائے کا کپ پکڑایا اورکہا بھائی جان کچن کا سودا سلف بھی منگوانے والاہے ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے مجھے لسٹ بنادو میں شہر جاکر لےآتا ہوں ۔ میں نےلسٹ تیار کی تھوڑی دیر بعد انکو لسٹ پکڑادی اور وہ شہر چلے گئے ۔ شہر جانے کے لئے وہ موٹرسائیکل استعمال کرتے تھے. میں نے سکون کا سانس لیا ایک مشکل مرحلہ تھا جو میں نے عبور کیا. صبح سے یہسوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ اب اریبہ کے ابو کا سامنا کیسے کرونگی مگر اب میں نے ہمت سے کام لیکر انکوکام بھی بول دیا ۔ وہ شہر سے واپسی پر کھتیوں میں نہیں گئے ۔ میں دوپہر کا کھانا بنا چکی تھی ۔ خادمہ کو کہیں کامتھا وہ چھٹی لیکر چلی گئی تھی. میں نے ان سے پوچھا بھائی جان کھانا لے آؤں تو انہوں نے کہا لے آؤ اور اپنےکمرے میں چلے گئے ۔ میں نے کھانا لے جاکر انکی ٹیبل پر رکھ دیا اچانک انہوں نے میرا ہاتھ پکڑلیا . میں نےگھبرا کر انکی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے اپنی طرف کھینچا تو میں ڈگمگا گئی اور انکی آغوشمیں جاگری ۔ مجھے بہت شدید غصہ آیا اور میں نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑایا اور بھائی جان یہ کیسی بےہودگی ہے کہتے ہوئے دوڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اور چارپائی پر اوندھے منہ گر کر رونے لگی ۔۔مجھے بہت غصہ آرہا تھا کہ انہوں مجھے کیا سمجھ کر ایسی گری ہوئی حرکت کی. مجھے رونا بھی آرہا تھا اور غصہبھی ۔ میں اونچا اونچا رونے لگی شکر ہے میری ساس سوئی ہوئی تھی اور خادمہ پہلے سے ہی چلے گئی تھی ورنہانہوں نے میرے رونے کی آواز ضرور ان کو سنائی دیتی ۔۔ پتہ نہیں کتنا ٹائم گزرا ۔ میرا رونا اب سسکیوں میں ڈھلچکا تھا ۔ رونے سے کافی سکون ملا۔دفعتا میں نے اپنے شانوں پر کسی کا ہاتھ ٹکتا محسوس کیا میرا سارا جسم کانپگیا مجھے ایک جھرجھری سیمیں نے اپنے شانوں پر کسی کا ہاتھ ٹکا محسوس کیا اور میرا بدن کانپ گیا ۔ مجھے جھر جھری سی آگئی اسیکے ساتھ وہ ہاتھ میرے شانوں پر سے ہٹ گیا۔انیلہ پلیز مجھے معاف کردو۔ مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ سمیر کی آواز سن کر مجھے اور غصہ اور رونا آگیا ۔غصہ اس لیے کہ جیسا بھی ہو میں اس کے چھوٹے بھائی کی بیوی ہوں ۔ اس کو ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی ۔ میں اسکو بھائی جان کہ کر مخاطب کرتی ہوں ۔اریبہ کیساتھ ملکر ہنسی مزاق کرنا اور بات ہے اور مجھ پراکیلے میں حملہ کرنے کا مجھے بہت رنج والم ہورہا تھاانیلہ دہکھو میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہوں ۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا ۔ میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ ایسانہیں ہوگا ۔ تم ایک بہت اچھی لڑکی ہو میرے دل میںتمہارے لئے بہت احترام ہے ۔ دیکھو پلیز اب تو مجھے معاف کردو یہ کہتے ہوئے ان کے ہاتھوں نے میرےپاؤں پکڑ لئے ۔میں نے تڑپ کر اپنے پاؤں کھینچ لئے اور ان سے کہا پلیز آپ جائیں یہاں سے ۔مجھے تنہا چھوڑ دیں ۔ انہوں نے جواب دیا میں اس وقت تک نہیں جاؤنگاجب تک تم مجھے معاف نہیں کروگی ۔ یہ کہ کر انہوں نےمیرے سر پر ہاتھ رکھا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کردیں ۔میں نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور ان سےجانے کو کہا ساتھ ہی میری سسکیاں اور اونچی ہوگئیں ۔مگر انہوں نے پھر میرے پاؤں پکڑلئے ۔ مجھے ان کا بار بار پاؤں چھونا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ برابر منت کئےجارہے تھے. میں چاہتی تھی کہ وہ جائیں وہاں سے. جوہونا تھا وہ ہوچکا تھا ۔ معافی تلافی سے کیا ہوگا ۔ مگر انہوں نے میرے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیا ۔ میں تواوندھی لیٹی ہوئی تھی ۔ میں تڑپ کر اٹھی اور بھائی جان یہ آپ کیا کررہے ہیں کہ کر انکا سر اٹھایا ۔ وہ چارہائی پر میرے برابر ہی بیٹھ گئے اور ہاتھ جوڑتے ہوئے پھرمعافی کی گردان شروع کردی ۔ انکے اس طرح معافیمانگنےسے مجھے اور بھی رونا آگیا ۔ میں اور اونچا اونچا رونے لگی ۔ مجھے یوں بلکتے دیکھ کر انہوں نےمیرا چہرہ اہنے ہاتھوں میں تھام لیا ۔ میری آنکھیں بند تھیںاور گال آنسوؤں سے تر ہوچکے تھے انہوں نے میری بھیگی اور بند آنکھ پر اپنے لب رکھ دئیے میرے سارےبدن میں بجلی سی کوند گئی ۔ عجیب سا احساس ہونے لگا ۔انہوں نے یہی عمل دوسری آنکھ پر بھی کیا ۔ میں پگھل کر رہ گئی ۔ میں نے محسوس کیا میں ہاررہی ہوںمیرے ہونٹ ادھ کھلے سے ہوگئے جیسے وہ بھی اس کےہونٹوں کے پیاسے ہوں ۔ میں اس طرح کبھی بے بس نہیں ہوئی تھی۔ شکر ہے اس نے میرے ہونٹوں کی طرفدھیان نہیں کیا ورنہ ڈر تھا کہیں میں بھی انہیں جواب میںچومنے لگتی۔ میں نے انہیں دیکھا تو مجھے انکی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی ۔ میں نے روتے ہوئے انکےشانوں پر اہنا سر رکھ دیا اور میری ہچکیاں بندھ گئیں ۔ انکاہاتھ میری کمر پر آیا اور انہوں نے مجھے بھینچ کر اپنے سینے سے لگالیا ۔ میں کتنی ہی دیر بے بے خودہوکر انکے سینے سے لگی رہی ۔ احساس ہونے پر ان سے الگ ہوئی ۔ انہوں نے پھر میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے تو میں نے جلدیسے اپنا چہرہ ان کے ہاتھوں سے چھڑایا اور کہا کھلےہوئے دروازے کطرف دیکھتے ہوئے ان سے کہا بھائی جان اب آپ جائیں کسی نے دیکھ لیا تو طوفان آجائے گا۔تم نے مجھے معاف کروگی تو میں جاؤنگا۔ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کومعاف کیا ۔ اب آئندہ ایسی حرکت نہ ہو تو انہوں نے میرا ہاتھاپنے ہاتھ میں پکڑ کر پرامس کیا کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں ہوگی۔ اور میری پیشانی پر بوسہ دیکر کمرے سےچلے گئے ۔میں پریشان سی ہوکر سوچنے لگی آج صبح سے یہ کیا ہونے لگا ہے ۔۔۔۔ خیر میں اٹھی اور اماں کو ظہر کی**** کے لئے وضوکروایا اورخود بھی وضو کرکے **** اداکی ۔ اریبہ کے سکول سے آنے کا انتظار کرنے لگی. اریبہ کے سکول سے آنے پر کھانا کھایا ۔ کھانے کےبعد اسکو کچھ ٹائم کھیلنے کے لئے دیا ۔ پھر اسکو ہوم ورک پر لگاکر شام کے کھانے کی تیاری میں مشغول ہوگئی ۔ رات کو کھانا کھاکر سونے سے پہلے اپنی ساسو ماںکے پاؤں دبائے اور دعائیں لیتی ہوئی اپنے کمرے میں سونے کے لئے آگئی ۔ رات کو سونے کے لئے میں ہلکا لباس استعمال کرتی ہوں ۔ ایک سوتی ٹراؤزر اور اوپر ایکہاف بازو کرتہ نما شرٹ ۔۔ اپنے آپ کو اس طرح آئینے میں دیکھنا اچھا لگتا ہے اس لئے تو کہتی ہوں مجھے کسی اور سے نہیں خود سے محبت ہے ۔ رات کو برا اورپینٹی نہیں پہنتی ۔ البتہ سوتے ہوئے اوپر کوئی کپڑا اوڈھ لیتیہوں ۔ ۔ بستر پر دراز ہوکر خیالوں میں کھوگئی ۔ آج دن کا آغاز ہی ایسا ہوا تھا کہ ہربات ناقابل یقین لگتیتھی. مگر یہ حقیقت میں واقعات ہوچکے تھے ۔ پہلے اریبہ کی وجہ سے میرا لڑکھڑانا سمیر بھائی کا مجھے سنبھالنا پھر سمیر بھائی کا مجھ بازو سے پکڑ کر اپنی گود میںگرانے کی کوشش کرنا ۔ یہ معمولی واقعات نہیں تھے جن کو نظر انداز کیا جاتا ۔ یہ حقیقت ہے میری کئی کلاس فیلوز ہائی سکول میں ہی محبت کے چکر میں مبتلا ہوچکیتھیں. مگر میں اس بیماری کے وائرس سے محفوظ ہی رہی تھی. حتی کہ شادی کے بعد بھی میرا دل کسی کے لئے نہ دھڑکا تھا۔ شادی فریضہ سمجھ کر والدین کیرضامندی کی خاطر ہوئی جس کا نہ ہی شوق تھا اور ناہی چاہتتھی ۔ سہاگ رات کے بارے بہت کچھ کہاجاتا ہے میں نے اسکو بھی ایک مشکل وقت سمجھ کر برداشت کیاخاوند کیساتھ زیادہ فرینکنس نہ ہوسکی نہ وہ زیادہ دلچسپیدکھاتے ۔ سیکس ہم کرتے تھے مگر مجھے اس میں کوئی خاص چارم محسوس نہ ہوتا ۔ میں سوچتی کہ شایدمیں ٹھنڈی عورتوں میں سے ہوں ۔خاوند بھی جیسے کوئیمجبوری نبھارہے ہوتے محسوس ہوتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ میرا دل آج تک کسی کے نام پر نہ دھڑکا تھا مگر آجصبح گرتے ہوئے جب سمیر بھائی نے مجھے سنبھالنے کی کوشش کی تو انکے ہاتھ لگتے ہی میرے جسم میں ایک کرنٹ ساڈوڑتا محسوس ہوا اور کافی دیر تک مجھےبدن کے ان حصوں پر انکا لمس محسوس ہوتا رہا جہاں جہاںوہ لگے تھے ۔ پھر دوپہر کو جب سمیر بھائی منانے آئے اور جب انہوں نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا تویوں محسوس ہوا جیسے کسی اپنے نے ہمدردی سے مجھے چھو لیا ہو ۔ پھر سمیر بھائی کا باری باری میری آنکھوں کو چومنا اور میرے آنسو پی جانا مجھے بہت خوارکرگیا مجھے محسوس ہوا کہ انیلہ تو ” تو لگی گئی ” میںچاہتی تھی وہ مجھے چومے مجھے گلے سے لگا کر میرا سارا درد ‘ کرب سارا غصہ اپنے اندر منتقل کرلےکرلے ۔میں خود اس کے گلے لگ جاتی دل تو کررہا تھا کہ اپنے آنسوؤں سے گیلے ہوئے اس کے ہونٹ اہنے ہونٹوں میں لیکر انکا ذائقہ چکھوں ۔ مگر میں سمیر کو کمرے سےجانے کا کہ کر اپنا بھرم رکھنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ میں سمجھنے لگی ہوں کہ میرا دل سمیر بھائی پر مائل ہونے لگا ہے اور یہ پہلی بار میرے ساتھ ایسا ہواورنہانیلہ کب کسی کی پروا کرنے والی تھی نیند میں جانے سے پہلے میں نے کئی بار اپنی آنکھوں کو چھوا جن پر سمیر بھائی نے اپنے بوسے ثبت کئے تھے ۔حسب معمول صبح اٹھ کر اماں کو وضوا کرواکر خود بھی **** ادا کی ۔اس کے بعد کچن میں آگئی اور ناشتہتیار کرنے لگی۔ سمیر بھائی صبح کی سیر سے واپس آکرغسل کرنے لگے. اتنے میں اریبہ بھی جاگ گئی میں ناشتہ تیار کرچکی تھی اریبہ کو سکول کے لئے تیارکیااتنے سمیر بھائی غسل سے فارغ ہوگئے میں ناشتہ لیکر انکے کمرے میں گئی تو مجھے کل والی واردت یاد آگئی ۔ میں نے چور نظروں سے سمیر بھائی کی طرفدیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہے تھے ۔ ان کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ ایک دفعہ تو میں ڈگمگاگئی مگر پھر سنبھل کر ناشتہ کی ٹرے میز پر رکھنے کامیاب ہوگئیمگر اریبہ پھر اپنے والد کی گود سے اتر کر کھڑی ہوگئی کہآنٹی کل تو آپ میرے ابو کی گود میں نہیں بٹھیں تھی آج تو آپ کو ضروور بٹھاؤنگی ۔ اف یہ افتاد میں نے بےچارگی سے سمیر بھائی کو دیکھا تو انکو مسکراتے پایااس سے پہلے کہ مجھے غصہ آتا انہوں نے چارپائی سے ایک تکیہ اٹھا کر گود میں رکھ لیا اور کہنے لگے کہانیلہ تم تھوڑی دیر کو اس تکیہ پر بیٹھ جاؤ تاکہ اریبہ کی ضد پوری ہو جائے میں نے بناوٹی غصہ والا چہرہ بنایا اور سمیر بھائی کی گود میں کرسی پر اس طرح بیٹھگئی جیسے عورتیں موٹرسائیکل پر پیچھے ایک طرف ٹانگیں کرکے بیٹھتی ہیں ۔ چونکہ میرے نیچے تکیہ تھا اور میں کرسی کے ہتھے سے کچھ اونچی تھی سمیر بھاٰئیکے ہاتھ میرے کندھوں کو چھو رہے تھے اور انکا منہ میرےابھاروں کے برابر آرہا تھا اور مجھے انکی سانسوں کی گرم ہوا محسوس ہورہی تھی ۔ ایک یا دو منٹ بیٹھ کرمیں اٹھ گئی۔ اور اریبہ کو اپنے ابو کی گود میں بٹھاکرکمرے سے نکل آئی میں پریشان ہونے لگی کہ یہ روز کا گود میں بیٹھنا اچھی بات نہیں اریبہ بچی ہے کبھیکسی سے ذکر کردیا تو پھر کیا عزت رہ جائیگی ۔میں نےسوچا دوپہر کو کھانا دینے جاؤنگی تو سمیر بھائی سے بات کرونگی ۔ کل سمیر بھائی آپ نے پرامس کیا تھا کہکوئی غلط قدم نہیں اٹھائینگے ۔ مگر آج میں چاہتی تھی کہ سمیر بھائی اپنا پرامس پورا نہ کریں ۔ دوپہر کو کھانا دینے گئی تو سمیر بھائی اسی کرسی پر براجمان اخبارپڑھ رہے تھے میں ہولے سے کھانسی تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گئے کل جب سے وہ معافی مانگ کر آئے تھے تو ہم دونوں کی تنہائی میں پہلی ملاقات تھی میں نے کھانا رکھااور کھڑی ہوگئی انہوں نے ٹرے اہنے سامنے کی تو میںنے پوچھا ۔۔ جناب جاؤں یا آپ نے ہاتھ پکڑ کر اپنی آغوش میں بٹھانا ہے یہ سن کر سمیر بھائی حیران ششدرہوگئے ۔ ان کا چہرہ فق ہوگیا اور ہلکلاتے ہوئے بولے. انیلہ میں نے معافی مانگ لی تھی ۔ مگر میں نے تو حضور معاف نہیں کیا. یہ کہتے ہوئے میں اچانک کر انکیگود میں بیٹھ گئی ۔ انکی حالت دیکھنے والی تھی. اور مجھمیں نجانے کہاں سے انکو ستانے کی ہمت آگئی ۔ پھر ان سے فرمائش کی اپنی لاڈلی بھرجائی کو کھانا نہیں کھلاؤگے ۔ تو جلدی سے ایک نوالہ بناکر میرے منہ میں ڈالتے ہوئے کہنے لگے. زہے نصیب. میں نے بھی ایک نوالہ بنایا اور انکے منہ میں ڈال دیا ۔ اب مرد آخر مرد ہوتاہے میری تھوڑی سی حوصلہ افزائی سے وہ مجھے جہاں وہاں ٹچ کرنے لگے ۔ اتنے تک مجھے محسوس ہوا کہ انکا ناگ سر اٹھانے لگا ہے ۔ تو میں جان بوجھ کراچھل کر کھڑی ہوگئی اور انکی شلوار کی اٹھان کی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کہ یہ کیا سمیر بھائی آپکی تو نیت خراب دکھتی ہے وہ شرمندہ سے ہوئے اور میں کمرےسے نکل گئی ۔ پہلے تو خالی برتن خادمہ لےآتی تھی مگرآج میں کچھ دیر بعد برتن اٹھانے گئی تو سمیر بھائی چارپائی پر لیٹے سگریٹ کے کش لگارہے تھے ۔ وہکھانے کے بعد ایک یا دو سگریٹ پیتے ہیں یہ تو مجھے معلومتھا اس لئیے مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوئی ۔ مگر سمیر بھائی مجھے دوبارہ دیکھ کر حیران ہوئے ۔ میں اسیکرسی پر بیٹھ گئی جس کرسی پر بیٹھ کر وہ کھانا کھارہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا سمیر بھائی آپکی گود میں بیٹھ کر آپکی خواہش پوری کردی ۔ یہ اریبہ کے کہنے پرروز آپکی گود میں بیٹھنا مجھے برا نہیں لگے گا مگر یہاریبہ کے لئے غلط مثال بن جائیگا ۔ اریبہ بچی ہے مگر آپکی گود میں میرا بیٹھنا اسکی یاداشتوں میں رہ بھیسکتا ہے ہوسکتا ہے یہ سب کچھ اسکی ضد کا نتیجہ تھا یہ اسکو یاد نہ رہے ۔مگر میرا آپکی گود میں بیٹھنا اسکو یاد رہے گا اور جوان ہوکر وہ پتہ نہیں ہمارے بارے کیاسوچے اس لئے آپ بھی اسے سمجھائیں اور میں بھی اسے سمجھاؤنگی ۔ وہ بولے ٹھیک کہ رہی ہو ہمیں اریبہ کو سمجھانا ہوگا ۔ میں نے کہا کہ میرے خیال میں آپ اپنےکمرے میں ناشتہ کرنے کی بجائے کچن میں ناشتہ کریںوہاں کافی کرسیاں ہیں بیٹھنے کے لئے ۔ ٹھیک ہے انیلہ کل سے ہم کچن میں ہی ناشتہ کرینگے مگر ایکشرط پر جی بولیں کونسی شرط میں نے پوچھا تو کہنے لگے تم ہمارے ساتھ کچن میں ناشتہ کروگی. اٹس اوکے نوپرابلم ڈن میں نے کہا ۔ ٹھیک ہے کل سے ناشتہ کچن میں۔۔ میں اٹھنے لگی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ تو میںنے انہیں اپنا پرامس یاد دلایا تو کہنے لگے کل تمہارا غصہ دیکھ کر ڈرگیا تھا اور آج تو تمہیں دیکھ کر پیارآرہا ہے ۔ اچھا جی یہ پیار سنبھال کر رکھو مجھے ضرورت نہیں یہ کہ کر میں ہاتھ چھڑانے لگی مگر انہوں نے ہاتھ بڑی مضبوطی سے پکڑرکھا تھا میں پورا زور لگانےلگی تو انہوں نے ایک ہی جھٹکے کیساتھ مجھے اپنے اوپر گرالیا اب میں انکے سینے پر گری ہوئی تھی اور میرا نچلا حصہ چارپائی سے نیچے تھا انہوں نے مجھےبھینچ لیا اور میرے گال پر بوسہ دیا تو میں بولی ۔۔ سمیر بھائی مجھے جانے دیں کوئی آجائے گا تو انہوں نے ہاتھ ڈھیلا کیا تو میں نے ہاتھ کھینچا اور تیزی سے کمرے سےنکل آئی ۔ مجھے اپنی سانس بحال کرنے میں کچھ دیر لگی میں اپنی نیم رضامندی دکھا آئی تھی اب آگے سمیر صاحب کا کام تھا کہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں یا گنواتے ہیںاپنے قمیض کی سلوٹیں ٹھیک کرکے کچن میں آئی توخادمہ کھانا کھارہی تھیشام تک روز کے مع****ت میں لگی رہی. رات کو اماں کے پاؤں دباکے سونے سے پہلے میں نے غسل کیا ۔مجھے قوی امید تھی سمیر بھائی رات کو ضرور میرے پاس آئینگے ۔ کیونکہ میں دانہ ڈال چکی تھی ۔ ٹانگوںکے بال دودن پہلے ہی صاف کئے تھے اس لئے میں اس طرف سے مطمئن تھی ۔ یہاں وہاں اپنے خوشبو لگائیاور دروازے کی چٹخنی لگائے بغیر بند کرکے بستر پر لیٹ گئی ۔ دل میں کافی تشویش اور گھبراہٹ سی تھیکیونکہ میں پہلے کبھی اسی طرح سے کسی سے نہیں ملنے گئی اور نہ ہی کو ئی مجھے ملنے آیا تھا ۔ اور آجمیں سمیر بھائی کو خاموش دعوت نامہ دے آئی تھی ۔ وہ آئے نہ آئے کچھ کہ نہیں سکتی تھی ۔ کل سے پہلےاس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ ان کے دل میں میرے لئےکچھ ایسے جزبات ہیں۔ میں جانتی تھی کہ وہ آیا بھی تو کافی دیر بعد ہی آئیگا ۔ اریبہ کے سونے سے پہلے انکا آنا ناممکن تھا ۔ اماںکا کمرہ درمیان میں پڑتا یے. انکو ایک تو سنائی اونچا دیتا ہے اور رات کو وہ کبھی باہر نہیں نکلتیں ۔ انکےکمرے میں زیرو واٹ کا بلب جلتا رہتا ہے۔جس سے انکے سونے یا جاگنے کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔ میں انہیسوچوں میں گم خود سے کہتی وہ آئے گا. وہ نہیں آئے گا وہ آئے گا شاید نہیں آئے گا انہی سوچوں میں مجھےنیند آگئی ۔ رات کا جانے کونسا پہر تھا مجھے اپنے کولہوں پر کسی کا ہاتھ پھرتا محسوس ہوا میں چونک سیگئی پھر فورا سمیر بھائی کا خیال آیا تو سوتی بن گئی ۔ سمیر بھائی میرے کولہے پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔ اورمعلوم ہوتا تھا وہ میرے برابر میں پیٹھ کے پیچھے لیٹا ہوا ہے میں یونہی لیٹی رہی تاکہ دیکھوں وہ کیا کرتا ہے۔ میری پوزیشن ایسی تھی کہ میرے کولہے باہر کی جانب نکلے ہوئے تھے اور کمر اندر کی جانب ۔ سر تکیہسے نیچے اور گھٹنے پیٹ کی طرف سکڑے ہوئے تھے ۔کیونکہ میں اسی طرح سوتی ہوں ۔ سمیر بھائی میرےکولہے کی گولائیوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔جب میری طرف سے انکو کوئی رسپانس نہ ملا تو انکے ہاتھکولہوں سے اوپر کمر پر آگئے اور انہوں نے کمر اور پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ۔ مجھے بہت اچھا لگرہا تھا. انکا چھونا تو نارمل حالات میں بھی مجھے ناپسند نہیں تھا اور آج تو میں سپیشلی چاہتی تھی کہ وہ بےدھڑک ہوکر مجھے چھوئے اور مسلے ۔ میں یونہی سوتی بنی رہی ۔ سمیر نے میرے گال چھوئے اور تھوڑا سااٹھ کر دیکھا کہ میں سوئی ہوئی ہوں یا نہیں ۔ اب اس نے کھینچ کر مجھے اپنے ساتھ لگا لیا اور میرےابھاروں پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔ میرے جسم میں ایک عجیب سنسنی خیز حرارت اٹھنے لگی. جو آج سے پہلےکبھی محسوس نہ کی تھی ۔ اس نے تھوڑی دیر مجھے یونہی لپٹائے رکھا ۔ پھر اپنا ایک ہاتھ میرے نیچے سےگزار کر مجھے بلکل ساتھ چپکالیا ۔ اور دوسرا ہاتھ میرے چوتڑوں کو سہلاتا سہلاتا میری ٹانگوں کے درمیانجانے لگا. میں نے اپنی ایک ٹانگ تھوڑی سی اور موڑ لی جس سے اس کا ہاتھ میرے اندرونی حصے تکآسانی سے جاسکتا تھا. مجھے وہ چپکائے ہوئے تو پہلے ہی تھا ۔ اب اس نے اپنا نچلا دھڑ میرے پچھلے حصہکیساتھ لگایا تو اسکا اکڑا ہوا ہتھیار میرے کولہوں کے بیچ ٹکرایاتو مجھے ایک جھرجھری سی آگئی ۔ اس نےجان لیا کہ میں جاگ رہی ہوں ۔ انیلہ تم جاگ رہی ہو اس نے سرگوشی کی تو میں نے سرگوشی میں ہی جوابدیا جی جاگ رہی ہوں مگر آپ یہ کیا کررہے ہو میں نے اپنا ہاتھ انکے کولہے پر رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔ پیارکررہا ہوں انیلہ سمیر بھائی نے جواب دیا. ایسے پیار کیا جاتا ہے سمیر بھائی میں نے پوچھا تو اور کیسے پیارکیا جاتا ہے سمیر بھائی بولے ۔ میں نے کروٹ لی اور اس کے سینے سے لپٹ گئی اور اسکے قمیض کےاوپر سے کندھے پر بوسہ دیکر کہا ایسا کیا جاتا ہے پیار ۔ تو اس نے زور سے مجھے چمٹالیا اور میری گردنپر اپنے ہونٹ رکھ دئیے وہ گردن کو چومتے رہے اور میں مستی کی فضاؤں میں گم ہونے لگی ۔ سمیر کےہاتھوں میں کوئی جادو سا تھا ۔ میرے انگ انگ میں مستی چھانے لگی ۔ سمیر بھائی ہم جو کررہے ہیں کیاہمیں یہ کرنا چاہیے میں نے پوچھا تو وہ بولے کرنا چاہیے یا نہیں اس کا مجھے نہیں علم مگر جو ہورہا ہےبہت اچھا ہورہا ہے مجھے یقین ہے تمہیں بھی اچھا لگ رہا ہوگا۔۔۔۔ مگر میں نے کہنا چاہا. اگر مگر چھوڈوجان یہ کہتے ہوئے انہوں نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں جکڑ لئے ۔ میں اب اس کے بلمقابل تھی تو اسکاراڈ میری رانوں سے ٹکرا رہا تھا ۔ میں نے تھوڑی سی ٹانگیں کھلی کیں تو وہ بدمعاش جھٹ رانوں کے درمیانگھس گیا اور میں نے رانوں کو بھینچ کر اس کو جکڑلیا ۔ ادھر سمیر کی ہاتھ میرے پورے جسم کی سیر کرنےلگے انہوں نے اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیری تو میں نے اپنے ہونٹ تھوڑے سے کھول دئیے تو اور اپنیزبان اسکی زبان سے ملانے لگی تو وہ میری زبان کو چوسنے لگا ۔ میں مزے لے رہی تھی اس نے اپنے راڈکو میری رانوں کے درمیان رگڑنے کی کوشش کی تو میں نے رانیں ڈھیلی کردیں تو اسکا راڈ میری منی سےٹکرا کر آگے پیچھے ہونے لگا ۔ میں نے اس کے کولہے پر ہاتھ رکھ کر آگے کی طرف دبایا اور خود بھیتھوڑا آگے ہوئی تو اسکا راڈ میری منی پر جاٹکا جو پہلے ہی گیلی ہوچکی تھی میں نے اسکا ازار بند کھول دیا اور اس کے راڈ کو اپنے ہاتھوں آزاد کرلیا اور اسکو اپنے ہاتھ میں لیا تو مجھے اس پر بے تحاشا پیار آیا ۔اس کی لمبائی اور موٹائی کسی بھی عورت کی نیت خراب کرنے کے لئے کافی سے بھی کافی زیادہ تھی ۔سمیرنے ہاتھ بڑھا کر میری شلوار کو کھینچا تو وہ نیچے کھنچتی چلے گئی ۔ کیونکہ میں الاسٹک پہنتی ہوں ۔ میںاب اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی شمیض اتار کر نیچے پھینک دی اب ہم دونوں ننگے تھے ۔دروازے کی کنڈی لگائی تھی یا نہیں میں نے سرگوشی کی تو سمیر اٹھا اور دروازے کا کنڈا لگاکر واپس آیا تواسکے لہراتے لن کو دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا وہ جب چارپائی کے قریب پہنچا تو میں نے اسکے لن کو ہاتھ میں لیکر اچھی طرح جانچ تول کر دیکھا تو وہ ظالم بہت کام کی چیز نکلا ۔ میں اس کے موٹے ٹوپے کو چومنے لگی ساتھ ساتھ اس ہاتھ سے سہلاتی اور مساج بھی کرتی رہی ۔ سمیر اب کھڑا ہی رہا اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا ۔ میں نے اسے قریب کھینچا اور اسکی ناف چومنے لگی ۔۔ اس کا لن میرے مموں سےٹکراتا تو مستی کی ایک لہر اٹھتی جو میری چوت کے گیلے پن میں اور اضافہ کا موجب ہوتی اور رس لیکرسے نکل کر میری رانوں کو بگھونے لگتا ۔ سمیر کے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر اسکو مزید اپنے قریب کیا اور اپنے بوبز کو سمیر کے لن کیساتھ رگڑنے لگی. سمیر سے برداشت نہ ہوسکا تو اس نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس پر بوسوں کی بارش کردی. مجھے لٹا کر ساتھ ہی لیٹ گیا سمیر نے اپنا ہاتھ میری بلی پر رکھاپھر ہاتھ کو انچ انچ کرکے نیچے لے جانے لگا ۔ مجھے عجیب سا محسوس ہوا ۔ سمیر کا ٹچ میرے لئےمقناطیس جیسی تاثیر رکھتا ہے تو جب اسکی انگلی نے میر دانے کو چھوا تو میں تڑپ اٹھی اور اسکا ہاتھسختی سے پکڑ لیا اور اسے سرگوشی کی کہ نہیں سمیر یہ گندی ہے اسے مت ٹچ کرو آپکے ہاتھ گندےہوجائینگے ۔ تو اس نے میرا ہاتھ ہٹا کر سیدھا میری رستی چوت کے دانے پر رکھا اور مساج کرنے لگا ۔اسکی ایک انگلی لیکر کے اوپر پھری تو یوں لگا جانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا ۔ اسکی انگلی اندرگئی تو میں اچھل پڑی میرے چوتڑے اوپر اٹھے اور میری کمر ہچکولے کھانے لگی ۔ جیسے جیسے اسکیانگلی اندر باہر ہوتی ویسے ویسے میرے چوتڑے اوپر اٹھتے اور نیچے گرتے ۔میں بدحال ہونے لگی ۔ اسکی ایک انگلی میری چوت کی لیکر کراس کرکے پوری اندر تھی اور انگوٹھے سے وہ میری چوت کے دانے کو سہلارہا تھا ۔ کمرے میں میری تیز سانسوں کی گونج سنائی دینے لگی سمیر کی دوسری انگلی کاکیساتھ اندر جانا تھا میں برداشت نہ کرسکی اور سمیر کیساتھ بے اختیاری میں چمٹ گئی اور اف ظلمی کہتے ہوئے سمیر کے ہاتھوں میں چھوٹ گئی ۔ اتنا رس پہلے کبھی نہیں بہا تھا جتنا رس میری چوت نے آج بہایا تھا۔ میں نے سمیر کا ہاتھ روکا اور اسکی انگلی کو زبان لگا کرچکھنے لگی ۔ مجھے ٹیسٹ اچھا لگا تو میں اسکی دونوں انگلیوں کو چومنے چاٹنے لگی باری باری ۔ میں ان انگلیوں کی احسان مند تھی جنہوں نے مجھے تڑپا تڑپا کر ڈسچارج کردیا تھا تو میں کیوں نہ ان انگلیوں کو چومتی چاٹتی ۔۔۔۔۔سمیرمیرے مموں کو ہاتھ سے دبانے سہلانے میں لگاہوا تھا ایک مما اس کے منہ میں تھا دوسرے کو وہ ہلکے دباتا اور مسلتا تو میری رگ رگ پر نشہ طاری ہونے لگتا تھا ۔ میں اس کے لن کو ہاتھ میں لیکر مسلنے لگیپیار سے ۔ اس پر تو بہت پیار آرہا تھا ۔ وہ تھا ہی بہت پیارا ۔ میں جانتی تھی کہ اب یہی میری راتوں کو سہارا اور دن کو خیالوں کا مرکز رہیگا ۔ سمیر میرے مموں کو چومتے دباتے کچھ اطاولے(دیوانے)سے ہورہے تھے میں نے انکے لن پر مساج تیز کردیا اور ساتھ ساتھ اسے دبابھی دیتی ۔ سمیر اٹھے اور میری ٹانگوں کےدرمیان بیٹھ گے انکا لن میری چوت کو سلامی دینے لگا تو میں نے پوچھا سمیر کیا کرنے لگے ہو تو کہنے لگے پیاسے کو سیراب کرنے لگا ہوں پیار کی ندیا میں میں غوطے لگائے گا تو اس کی جنم جنم کی پیاس بجھ جائیگی ۔۔۔۔ سمیر چمنی اتنی گرم ہے کہ یہ بےچارہ اندر جل جائے گا کیوں نا آج اسکو کنارے کنارے بھگولواور پھر کسی رات اسے اندر ڈبکی لگانے کا موقع دینا ۔سمیر یہ سن کر مایوس تو ہوا مگر میں نے ٹھانا تھا کہ آج کی رات تو باہر باہر سے ہی مزے کرینگے ۔ سمیر نے کچھ کہے بغیر میری ٹانگیں اپنی کمر کے گرد لیںاور اپنا لن میری چوت کے اوپر عمودا رکھ کر رگڑنے لگا ۔ وہ شاید برداشت نہیں کرپارہا تھا اسکا لاوا باہرنکلنے کوبے تاب تھا کسی بھی وقت سیلاب بند توڑ کر باہر نکل سکتا تھا ۔تو میں نے کہا سمیر آپ لیٹ جاؤاور میں نے پہلو بدل کر اس کی جانب اپنی پیٹھ کرلی اور اسکا لن پکڑ کر اپنی رانوں میں لے لیا ۔ میری رانیں تو گیلی تھیں پھر بھی میں نے لن کو تھوک سے خوب گیلا کیا اور رانوں کے اندر بھینچ لیا ۔ سمیر نے ہلنا اور دھکے لگانا شروع کیا ۔ اسکا لن آتے جاتے میری چوت کو بھی مسل رہا تھا ۔ سمیر نے ایک بازو میریکمرکے نیچے سے گزار کر میرے ایک ممے کو پکڑلیا اور اسے دبانے لگا اور اسکا دوسرا ہاتھ میرےچوتڑے سہلارہا تھا سمیر زور سے رگڑو میری چوت کو مسل ڈالو ۔۔ میں اسے سیکسی آوازوں سے جوشدلارہی تھی سمیر بھی میری رانوں کے درمیان خوب لن رگڑ رہا تھا میں بار بار اپنا تھوک اس کے لن پرلگادیتی جلد ہی سمیر کے سانسوں کی آواز تیز تر ہوگئی تو اس نے میرے چوتڑے پکڑ کر زور زور سےدھکے لگائے تو میری چوت نے پھر کنارے بگھودئے اور میں دوسری بار ڈسچارج ہوگئی اور اسی وقت سمیر کے لن نے ایک فوارہ چھوڈا جو میری رانوں اور بستر کی چادرکو بگھوگیا ۔ اسکی پچکاری میری رانوں کوچیرتی ہوئی نکلی اور فرش پر جاگری سمیر کچھ دیر تک پچکاریاں مارتا رہا اسکا جسم لرزتا اور کانپتا اورلذت سے جو اسکے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں وہ ماحول کو خوابناک بنارہی تھیں ۔ اس نے مجھے سختیسے بھینچ لیا تھا اور میں بے بس ہوگئی تھی اسکی جنونی حالت دیکھ کر ۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں اندرڈلوالیتی تو کتنا سواد آتا ۔۔۔۔ مگر جو بھی ہوا مزہ بہت آیا سمیر نڈھال ہوکر وہیں لیٹے رہے میں نے انکی طرف اپنا رخ کیا اور انہیں چومنے لگی ۔میں خوش تھی کی میرے کہنے کی سمیر نے لاج رکھ لی ۔ اور سامنے پڑی کھانے کی ڈش کو کھانے کی بجائے میری مرضی کے مطابق چکھنے پر ہی اکتفا کیا ۔ تھوڑی دیر انہیں لپٹائے رکھا ۔ اس کی سانسیں بحال ہوئیں تو اٹھ کر اس کے لن کو کپڑے سے صاف کیا پھر اپنی چوت اور رانوں کو بھی خشک کیا ۔ بیڈ شیٹ جو گیلی ہوچکی تھی کو نکال کر نیچے فرش پر پھینک دیا۔ اور سمیر سے چمٹ گئی ۔ تھوڑی دیر بعد اسکی طرف دیکھا تو اسکے چہرے پر بڑی پرسکون مسکراہٹ دیکھ کر میں شاد ہوگئی ۔اسکی آنکھیں بند تھیں اور اسکے چہرے کی طمانیت بتارہی تھی کہ سمیر بہت سکون میں اور خوش ہے ۔یہی تو میں چاہتی تھی ۔۔ میری پہلی محبت سمیر ہی تو ہےسمیر کی آنکھیں بند تھیں مگر اسکے چہرے کی طمانیت بتارہی تھی کہ سمیر بھائی بہت خوش ہیں اور یہی تومیں چاہتی تھی. میری پہلی محبت سمیر ہی تو ہے. مجھے اس پر پیار آرہا تھا سچ تو یہ ہے وہ مجھے بہتاچھے لگنے لگے تھے ۔ اور وہ تھے ہی بہت اچھے دکھنے میں بھی اور عمل میں بھی ۔سمیر بھائی میں ابآپ کو تم کہاکرونگی میں نے انکی چھاتی کے بالوں میں انگلیاں گھماتے ہوئے کہا برا تو نہیں مناؤگے ۔ نہیںجان مجھے تو اچھا لگے گا ویسے بھی میں تو اور تم کہنا اور کہلوانا پسند کرتا ہوں مگر تم بھی مجھے بھائیکہنا چھوڈ دو ۔کہ اب ہمارا رشتہ ان القاب کی اجازت نہیں دیتا ۔انہوں نے میرے نپلز پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا۔تو میرے منہ سے سی ۔۔۔۔ سی نکلی ۔۔ جی یہ تو سہی ہے ۔ میں تو تمہیں جانی یا جانوکہنا چاہونگی مگرڈرتی ہوں کہ عادت بن گئی تو کسی کے سامنے منہ سے نکل گیا تو بڑی سبکی ہوگی. میں تمہیں دوسروں کےسامنے سمیر بھائی ہی کہونگی ہاں مگر تنہائی میں جو بھی بول دوں چلے گا. کیوں کیا خیال ہے ویسے بھیکسی کو بھائی بولنے سے کوئی بہن تو نہیں بن جاتی. سمیر نے مجھے چومتے ہوئے کہا ۔ اور مجھے اہنےسینے کیساتھ بھینچ لیا۔ اسکی چھاتی کے گھنے بال میرے بوبز سے لگے تو میرا لوں لوں کھڑا ہوگیا ۔ معلومنہیں سمیر میں کیا تھا انکی ہر چیز ہی مجھے مزہ دیتی ۔ مجھے یاد آیا شادی کے شروع کے دنوں میں کوئیچیز پکڑاتے وقت انکی انگلیاں میری انگلیوں سے ٹچ ہوئیں تھیں تو میرے پورے جسم میں ایک کرنٹ سا لگااور ایک سنسنی کی لہر سر سے لیکر پاؤں تک سارے بدن میں دوڈ گئی تھی ۔ میں حیران رہ گئی تھی. کیونکہصغیر میرے خاوند کے چھونے کا مجھ پر ایسا اثر نہیں ہوا تھا ۔ پھر جب بھی سمیر بھائی نادانستگی میں مجھسے چھو جاتے تو مجھ میں ایک میٹھی لہر سی پھر جاتی۔سمیر ایک بات پوچھوں اگر سچ بول سکو تو بتانا ورنہ خاموش رہنا میں نے سمیر کے بالوں میں انگلیوں سےکنگھی کرتے ہوئے پوچھا ۔ ہاں جانم پوچھو میں سچ ہی بولتا ہوں ۔ انہوں نے کہا تو میں نے پوچھا ۔ کیا کبھی تم نےسوچا تھا کہ میرے ساتھ لیٹو اور اپنے اسکو میری اس پر رگڑو۔ میں نے اس کے لن کو چھوتے ہوئےکہا جو پھر کھڑا ہوچکا تھا۔ نہیں ایسا تو نہیں سوچا تھا مگر تم شروع سے ہی مجھے اچھی لگیں تھیں ۔دراصل جباریبہ کی ممی فوت ہوئیں تو میری دنیا ہی اندھیر ہوگئی تھی. میں ان سے بہت محبت کرتا تھا اسکی جدائی میرے لئےگہرا صدمہ تھی. میں نے تہیہ کرلیا کہ کسی اور عورت کے پاس نہیں جاؤنگا اور نہ ہی شادیکرونگا۔ مگر اریبہ کا بن ماں ہونا بھی ایک مسلہ تھا امی جان کے لئے اریبہ کو سنبھالنا مشکل کام تھا کیونکہوہ خود پیرانہ سالی کی وجہ سے بیمارہی رہتیں ۔ تو میری بہن سمیرا اریبہ کو سنبھالتی ۔ انہوں مجھے بہتمجبور کیا کہ شادی کرلوں کئی ایک رشتے دیکھے بھی گئے میں ہر بار مسترد کردیتا کیونکہ مجھے اریبہ کے لئےوہ رشتے نامناسب لگتے تھے ۔ پھر تمہاری بات چلی ۔ جس طرح امی جان نے تمہارے گن گائے اورتعریف کی تو میرا دل بھی نرم پڑگیا کہ اتنی پیاری لڑکی کو اپنا لینا چاہیے ۔ مگر حسب توقع تمہارے گھروالوں کی طرف سے انکار ہوگیا ۔ یقین جانو میرا دل ٹوٹ گیا ۔ ایک مدت کے بعد دل دھڑکا وہ بھی تمہارےلئے مگر ۔۔۔۔۔۔ پھر گھر آکر ہم سب نے بحث کی کہ اریبہ کے لئے انیلہ سے بہتر ساتھی ملنا مشکل ہے ۔توصغیر کی منتیں کی گئیں ۔۔۔۔کہ وہ شادی کرلے یوں تم ہمارے گھر آگئیں ۔ تمہیں روز دیکھتا تمہارے بولنے کاطریقہ ۔ چلنے کا انداز کیسے تم مسکراتی اور اریبہ کیساتھ کھیلتے ہوئے بچی بن جاتی سب کچھ میرے سامنے ہی توتھا ۔ میں ڈرتا تھا کہ میں کہیں غلطی سے تمہیں کچھ کہ نا بیٹھوں نادانستگی میں تمہیں دل کا داغ دکھانے لگ جاؤں ۔ تو میں نے کوشش کی کہ تمہارے لئے میرے جزبات تم پر ظاہر نہ ہوں ۔ میرا یہی خیال تھاکہ تمہارا خاموش چاہنے والا بن کر زندگی گزار دونگا۔ اس لئے شروع شروع میں تم سے بےرخی بھی اختیار کی۔اور اپنا رویہ سرد رکھا۔ مگر تم روز بروز میرے خیالوں میں سمانے لگی تو میں نے سوچا تم سے دوستی کرنے میںکیا ہرج ہے ۔۔ مگر جو آج ہم دونوں میں ہوا میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ ایک اتفاقسمجھ لو ۔ شاید یہ ایک فطری پیش رفت ہو اور ہم اس کی زد میں آگئے ۔۔۔۔ جانی تمہارے کہے ایک ایک لفظ پرمجھے اعتبار ہے یہی میرے دل کی آواز تھی مگر ایک بات کی سمجھ نہیں آئی ۔۔ کہ کیا وجہ تھی کہ صغیر کا رشتہپہلے نہیں بھیجا گیا کیونکہ اس پر ہمارے گھر میں کافی حیرت کا اظہار ہوا تھا۔ ۔ انیلہ اس ٹاپک پر پھر بات کرینگےسب باتیں ایک ہی دفعہ تو نہیں کی جاتیں ۔۔ یہ کہتے ہوئے مجھے سینے سے چمٹاکر میرے ہونٹ اپنے لبوں میںلے لئے ۔میں اسکا جواب دینے لگی اور اسکی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگی اور کبھی ایک دو مکے بھی ہلکے سےلگادیتی. اسکا لن پھر مستی میں اکڑا ہوا میری رانوں میں گھسنے کے لئے ٹکریں ماررہاتھا ۔ اور میری پھدی بھی اسکا استقبال کرنے کے لئے کھنلے اور بند ہونے لگی اور میرے پورے بدنشہوت کی لہر سوار ہوگئی میں نے سمیر کو اوپر کھینچا تو وہ میرے اوپر لیٹ گیا اسکا لن میری رانوں کےبیچ پھدی کی لیکر کو کھجانے لگا ۔ میں مستی میں ڈوبنے لگی میرے ہاتھ نے انکا لن پکڑ کر اپنی چوت پرمسلا تو سمیر میری بےچینی بھانپ گیا اس نے لیٹے لیٹے میری ٹانگوں کو کھڑا کیا اور میری چوت پر لن ٹکاکر پوچھا ۔ اجازت ہے میری رانی ۔۔ میں نے شرماتے ہوئے کہا ۔ اہنا ہی گھر سمجھو جانی ۔۔ وہ ہٹ کردھکا لگانے لگا تو میں نےاسکی ناف پر ہاتھ رکھتےہوئے کہا جانی خیال سے تمہارا ٹوپا بہت موٹا ہے ذرادھیرے سے ۔۔ اس نے میرے ہونٹوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا گھبراو نہیں. اور اپنے ہاتھ سے میری پھدیکھولتے ہوئے لن کو ٹکایا ۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے ایک ہی جھٹکے سے اندر ڈال ڈال دو ۔ اس نے ٹوپادھیرے سے اندر کیا اور میری آنکھوں میں دیکھا تو میں نے شرماکر آنکھیں جھکا لیں ۔۔ اس نے واقعی ایکزبردست جھٹکے میں اندر کیا تو میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔۔ظالم لن کا ٹوپا تو موٹا تھاہی لمبائی بھی کم نہ تھییہ تو جب اندر پہنچا تو معلوم ہوا 7 انچ سے زیادہ ہی ہوگا۔ کم نہ تھا ۔سمیر تھوڑی دیر رکا تو میرےسانس ہموار ہوئے اور پھر سمیر نےیولے ہولے مجھے چودنا شروع کیا میں ٹانگیں تھوڑی سی کھولیں تاکہسمیر کھل کھیلے ۔ اس کے ہاتھ کبھی میرے بوبز کو دباتے کبھی میرے چوتڑوں کو مسلتے ۔۔ میں مدہوشہوکر مزے لینے لگی ۔سمیر پہلے ایک بار فارغ ہوچکا تھا اس لیے وہ اپنا ٹائم لے رہا تھا کبھی آہستہ کبھی تیز دھکوںسے مجھے چودتے ہوئے بہت پیارا لگ رہا تھا ۔ ایسا مزہ آج تک مجھے نہیں ملا تھا ۔ نہ ہی چوت اس طرح بھریتھی ۔یوں لگا ان کا لن جیسے میری چوت کے لئے ہی بنا ہو ۔ اسکے دھکوں میں تیزی آئی تو میںنے بھی نیچے سے دھکوں کو جواب دینا شروع کردیا تھوڑیہی دیر کے بعد کمرہ ہم دونوں کی لذت بھریآوازوں سے گونجنے لگا ۔سمیر لمبے سٹروک لگارہا تھا سمیر لن کو چوت کے منہ تک لے آتا پھر زور سےآخر تک لے جاتا جس سے میرا انجر پنجر ہلنے لگتا ۔ میں نے ٹانگیں اسکی پیٹھ پر بھینچ لیں اور اسکی سپیڈکا ساتھ دینے لگی چند ایک زوردار جھٹکوں کے بعد سمیر نے ایک کپکی لی اور عجیب سی آوزیں نکالتاچھوٹنے لگا ۔ اسکے گرم گرم لاوے کی پہلی دھار گرتے ہی میں بھی فارغ ہوگئی ۔ اس کے گرم لاوے نےمیری چوت کو اندر سے بھر دیا تھا ۔ سمیر چھوٹتے چھوٹتے آخری دوچار کرارے دھکے لگا کر مجھ پر ہیگرگیا ۔ اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ۔ میں اسے چومنے لگی اور بانہوں میں دبا کر بھینچنے لگی ۔وہ پسینہ پسینہہورہا تھا میرا سارا جسم اسکے پسینے سے بھیگ گیا ۔ اس کے پسینے کی خوشبو نے مجھے مدہوشکردیا ۔ اور ہم یونہی لیٹے رہے ۔۔۔ کچھ دیر کے بعد ہم **** کی آواز کیساتھ ہی سنبھلے ۔ سمیر اٹھا تو میںنے تولیہ کیساتھ اسکا پسینہ خشک کیا اسے شلوار اور قمیض پہنائی اور وہ مجھے بوسے دیکر کمرے سے نکل گیا۔اور میں چارپائی پر لیٹی ہوئی غنودگی میں چلی تھوڑی دیر بعد میری غنودگی ٹوٹی تو میں نے ایک مستی بھی انگڑائی لیاٹھ کر بیٹھ گئی . مجھے اپنی برہنگی کا احساس ہوا تو فرش پر اپنے اترےہوئے کپڑے اٹھا کر غسل خانے میں داخل ہو گئی . اور گنگناتے ہوے سبکچھ مل مل کر اوپر نیچے سے صاف صفا کر کے خوب نہائی اور دوسراجوڑا پہن کر کچن میں آ کر سب کے لئے ناشتہ تیار کرنے لگی . پھر یادآیا آج سے تو سمیر بھائی اور اریبہ نے بھی کچن میں ہی ناشتہ کرنا ہے جلدیسے سٹور سے ایک رنگین کرسی اٹھا لائی اور اسے جھاڑ پونچھ کردوسری کرسیوں کے ساتھ ٹیبل کے سامنے رکھ دیا . تاکہ اریبہ اس پر بیٹھ کرناشتہ کرے . اتنے میں سمیر صبح کی سیر سے واپس آئے سیدھے کچنمیں ہی چلے آئے . انہیں دیکھ کر گزری رات نظروں کے سامنے آ گئی اورمیں شرما سی گئی . انہوں نے نے آگے بڑھ کر مجھے اپنی باہوں میں قیدکر لیا اور میری گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے . اففففف ان کے گرم ہونٹوںکے لمس نے تو آگ ہی لگا دی ؛ میں تڑپ اٹھی اور ان کی بانہوں میں مچلنےلگی . ان کا نٹ کھٹ میری ٹانگوں سے ٹکرانے لگا اور مجھے میںگیلا کر گیا . ایسے ٹچ بھی کتنا مزہ دیتے اور اثر رکھتے ہیں . کبھی اتفاقنہ ہوا تھا . اب جان گئی سب ٹچ نہیں کوئی کوئی ٹچ مقناطیس کیمانند اپنی جانب کھنچے چلا جاتا ہے . جیسے سمیر کے ہاتھوں میں کوئیجادو سا ہو مجھے چھو بھی لے تو میرے بدن کا لوں لوں کھڑا ہو جاتا ہےاور بدن کے سارے ساز بجنے لگتے ہیں ؛. اب اسکا کارندہ بیتابی دکھانےلگا تو میرا من بھی چاہنے لگا کہ کوئی شرارت ہو جائے . ناشتہ سے قبلہی کچھ سواد لے لیا جائے . مگر جانتی تھی کے ٹائم اریبہ کے اٹھنے کا ہےاس لئے جلدی سے نہ چاہتے ہوے بھی میں سمیر کی بانہوں کے حصار سےنکل آیی ان کو سوری بول کر میں ابلے انڈوں کو چھیلنے لگی . میریانکی طرف پیٹھ تھی میں یہی سمجھی سمیر غسل کے لئے چلا جایئگا ؛ مگروہ میرے پیچھے ان کھڑا ہوا اور ” میری جان تھک گئی ہوگی ” کہتے ہوئےمیرے شانوں کو دبانے لگا ؛ میں کھلکھلا کر ہنس دی . رات کو تم نے کونسیکسر چھوڑی تھی . ارے میں نے کیا کیا وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا ؛ہاں جی تم نے کیا کرنا تھا میری ناف تک تو چوٹیں لگاتے رہے میں نےہاتھ پیچھے کر کے اس کے راڈ کو دباتے ہوئے کہا جو میرے کولہوں پرمشق آزمائی کر رہا تھا . اس نے میری گردن ہونٹ رکھ دئیے . اسکےہاتھوں کی میرے شانوں پر گرفت اور انہیں دبانے کے انز سے مجھےیوں لگا جیسے میری آنکھیں بھاری ہو گئی ہیں اور ان میں خمار سا اترآیا ہے . میں نے اپنی پیٹھ ان کی چھاتی پر ٹکا دی اور جیسے ان کے سہارےکھڑی ہو گئی . وہ مجھے چومنے لگ گئے اور انکا ڈنڈا میرے کولہوں پردباؤ ڈالنے لگ گیا تو میں بہکنے لگی . وقت کی نزاکت نے مجھے احساسدلایا کہ بہکنے اور بہکانے کے لئے ٹائم بلکل مناسب نہیں . میں نےانکے ماسٹر کو پیر سے دبایا اور انہیں بولا کہ اب تشریف لے جایئں پلیز .” دن کے وقت ہمیں محتاط رہنا ہوگا جو کچھ بھی کرنا ہے اسے راتکے لئے رہنے دیں ” یہ کہتے ہوے میں انہیں نرمی سے کچن سے باھرچھوڑ آئ . اب آپ اچھے بچوں کی طرح جا کر غسل کریں اور اریبہ کےساتھ آ کر ناشتہ کریں . وہ اپنی قمیض میں اٹھے ہوے ابھار کی طرف اشارہکرتے ہوئے بولے کہ ” میرا نہیں تو اس غریب کا تو خیال کرو . اس کےجان لیوا اٹھ کو دیکھ کر ایک بار پھر میری طبیعت مچل اٹھی مگر میں نےاسے کہا اس کو رات کو ہی دیکھونگی اور ساری رات آرام بھی نہیں کرنےدونگی . اب تم جاؤ نہ مجھے ستاو نہ آزماؤ پلیز , وہ ہنستے ہوئے چلے گئےتھوڑی دیر بعد اریبہ آ گئی تو اسے اسکول کے لئے تیار کیا اور اسےرنگین کرسی دکھاتے کو بتایا کہ آج سے میری رانی اس پر باتھ کرناشتہ کیا کرے گی . کرسی پر بیل بوٹے بنے ہوے تھے تو اریبہ خوشہو گئی کہ سپیشل کرسی پر بیٹھ کر وہ ناشتہ کیا کرے گی . اور اسپر بیٹھ کر اپنے ابو کا انتظار کرنے لگی . سمیر تیار ہو کر آئے تواریبہ کو پیار کر کے اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے . میں بھیناشتہ ٹیبل پر لگا کر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی . اربا بھی خوش ہوگی کہ آجآنٹی بھی ناشتہ میں شریک ہیں . سمیر کی شوخ نظریں مجھ پر ٹکی ہوئی تھیںاور میں شرما رہی تھی . ان کی بے باکی سے مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیںاریبہ نوٹس ہی نہ لے لے . سوچا انک رات کو سمجھاونگی کہ دن اوردوسروں کے سامنے ہمیں کیسے اور کتنا محتاط رہنا ہوگا .انہوں نے بڑی سویٹ کلون لگائی ہوئی تھی جو مجھے مدہوش کئےجا رہی تھی . موقع نہیں تھا ورنہ انہیں سمیل سمیت اپنے اندر سمو لیتی ناشتہ کر کے سمیر اریبہ کو اسکول ڈراپ کرنے چلے گئے تو میںاماں کو ناشتہ کروایا . ان کا غسل کرنے کا موڈ تھا تو میں نے ان کےلئے پانی گرم کر کے رکھا اور دھلے ہوئے کپڑے نکال کے رکھ دیئےباھر آئی تو خادمہ آ چکی تھی . شکر کیا کہ وہ آ گئی ہے کیونکہ سمیرنے ساری رات جگایے رکھا تھا تو نیند آنکھوں میں اتری جا رہی تھیاریبہ کو چھوڑ کر سمیر اے تو ان کو چاہے کا کپ دے کر بتایا کہ میںسونے جا رہی ہوں . کھیتوں سے واپس آؤگے تو ملاقات ہوگی . ظھر کی**** کے وقت اٹھی . **** ادا کی پھر باقی دن حسب معمول گزر گیا . شامکے ڈھلتے ہی میرا بدن ٹوٹنے لگا . طبیعت مچلنے لگی ایسا میرے ساتھپہلے کبھی نہ ہوا تھا . ایسا لگنے لگا جیسے میرے انگ انگ سے جوانیپھوٹنے لگی ہو . میں انگڑائی پی انگڑائی لیتے ہوئے اپنے محبوب کی طلببے قرار ہونے لگی . آنے والی رات کے تصور ہی سے میں ٹپکنے لگیاور میری رانوں تک گیلی ہو گیں . مگر ابھی تو شام ڈھلی تھی اورپھر رات کو اترنا تھا . پھر اپنے محبوب کی راہ تکنی تھی مجھےاسکے ایک ٹچ کے لئے میرا انگ انگ بیچین ہو رہا تھا . نہ جانے سمیرکے ٹچ میں کیا تھا کہ میں اور میرا جسم اسی کا ہو کر رہ گیا .رات کو سب کام نمٹا کر کمرے میں آ کر میں نے غسل کیا اوراپنا پسندیدہ عطر یہاں وہاں لگایا اور کچھ پہنے بنا ہی بیڈ پر درازہو گئی . میں سمیر کو سرپرائز دینا چاہتی تھی . اس نے کہا تو نہیںکہ وہ آئے گا مگر مجھے یقین تھا کہ وہ ضرورآئیگا ,جذبۂ عشق سلامت ہے تو ——————کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے ؛ کے مصداق ان کے آنےکا یقین تھا . میں نے چادر اوڑھ لی اور لیٹ کر ان کے ہی بارے سوچنےلگی اور نہ جانے کب آنکھ لگ گئی . میری رانوں میں گدگدی ہونے لگی تو میری آنکھ کھل گئی دیکھا تو سمیر نے ے مجھے پیچھے سے اپنے گلے سے لگارکھاتھا اسکے ایک ہاتھ نے میری کمر کے نیچے سے گزر کر میرے ایک ممے کوپکڑ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ نے اوپر سے دوسرا مما پکڑا ہوا تھا. اور انکوہلکے ہلکے دبارہا تھا ۔ میں سمیر کے انتظار میں ننگی ہی سوئی تھی. اور ابسمیر نے پیچھے سے اپنا سب کچھ مجھ سے لگا رکھا تھا اور اسکا نٹ کھٹپیچھے سے میری رانواں میں رینگ رہاتھا جس سے مجھے جلول کا احساسہورہا تھا ۔ میں یونہی کچھ دیر لیٹ کر مزے لیتی رہی ۔ سمیر کبھی میرے شانوںپر بوسے دیتا تو کبھی میری گردن کو دیوانہ وار چومنے لگتا جس سے مجھ پرمدہوشی کی کیفیت طاری ہوریی تھی ۔ میں نے تھوڑی ٹانگیں کھول کر اس کےراڈ کو اندر گھسنے کی جگہ دی تو وہ جان گیا کہ میں بھی جاگ کر مزے کےکھیل میں شریک ہوچکی ہوں ۔ انہوں نے میرے نپل پر ایک چٹکی لی تو میںاف کرتے ہوئے پلٹی اور اسکی چھاتی سے اپنا سینہ چمٹالیا ۔ اس نے مجھےبھینچتے ہوئے میرے لبوں کو اہنے ہونٹوں میں جکڑلیا ۔ میں انے اہنی زبان کینوک سے اسکے ہونٹوں کو چھوا تو اس نے میری زبان کو اپنے منہ میں لیکرچوسنا شروع کردیا ۔ میں اس کی گردن اور شانوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔وہ بڑیشدت کیساتھ میری زبان کو چوس رہے تھے ۔اور میں مست ہوتی جارہی تھیانکا شرارتی منا میری رانوں میں اٹھکیلیاں کرتے ہوئے میری منی کو بھی چھیڑدیتا تو میں اپنے کولہوں کو اس کی طرف دبادیتی ۔ میری چوت تھوڑی گیلیہوچکی تھی اس کے نٹ کھٹ کے لمس نے میری لکیر کو بگھودیا تھا اورمیرے بدن کی طلب شدت اختیار کرچکی تھی ۔میں نے اپنی زبان سمیر کے منہسے نکالی اور اسے چومنے لگی ۔اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نےاہنے ہونٹ اسکی کشادہ پیشانی پر رکھ دئیے اور پھر اسکے گالوں پر بوسےدیتے ہوئے گردن پر آگئی گردن پر بوسے دینے کیساتھ ساتھ اسکی چھاتی کےبالوں میں ہاتھ پھیرتی رہی اور اسکے چھوٹے چھوٹے نپلز کو چھوا باری باری.پھر اسکے گلابی نپلز کو منہ میں لیکر چوسنے لگی باری باری. جب میں نےسمیر کے نپلز کو منہ میں لیا تو وہ تڑپ اٹھا اور اس کے منہ سے لذت بھریسسکاریاں نکلنے لگیں ۔میں چومتے چومتے سمیر کی ناف تک آگئی اور پھراپنی زبان کی نوک سے اسکی ناف کو کھجانے لگی ۔ میرا ایک ہاتھ رینگتا ہوااسکی ناف سے نیچے گیا اور میں نے اسکا لہراتا ہواناگ ہاتھ میں دبوچ لیا. جوبہت بے چین ہورہا تھا۔ اف اسے ہاتھ میں لیکر یوں لگا جیسے کوئی گرم راڈہاتھ میں پکڑلیا ہو۔ میرے ہونٹ ناف کے نیچے ایک ایک انچ کو چومتے ہوئےاسکے راڈ تک جاپہنچے ۔ اب میں بیٹھ گئی اور اس کے راڈ کو ہلانے لگی اسکی اچھی طرح جانچ کرنے لگی اس کو سہلاتے ہوئے مجھے اس پر بے تحاشاپیار آرہا تھا میں نے دیوانگی کیساتھ ٹوپے کو چوم لیا تو سمیر کے منہ سے ایکلزت آمیز سسکاری نکلی تو مجھے اور بھی جوش آگیا اور میں نے سمیر کےراڈ کو اوپر سے نیچے تک بوسے دینے شروع کردئے سمیرکے ہاتھ میرے سرپر آٹکے ۔میں نے سمیر کے شہزادے کو چوم چوم کر تر کردیا ۔ پچھلی راتبھی اس سے مزہ لیا تھا اور آج تو میں بلا جھجھک اپنی سب حسرتیں پورا کرناچاہتی تھی. میں نے اپنی زبان کی نوک سے اسکی اکلوتی آنکھ کو کھجایا توعجیب سا ذائقہ محسوس ہوا ۔ دیکھا تو وہاں لیس دار مادے کا قطرہ چمک رہاتھا انگلی سے مسل دیا تو وہ سارے ٹوپے پر پھیل گیا ۔ میں ٹوپے کو منہ میںلیکر اسکے ارد گرد زبان پھیرنے لگی ۔ سمییر لذت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اسنے میرے سر کو نیچے کی جانب دبایا تو اس کا راڈ آدھا میرے منہ میں آگیااور میں اسکو لالی پاپ کی طرح چوسنے لگی ۔ مجھے یہ اس لیے اچھا لگرہاتھا کیونکہ سمیر کو مزہ آرہا تھا ۔ اور میرے ہر چوپے کیساتھ اس کے منہسے لذت بھری آوازیں نکل رہی تھیں ۔ سمیر میری رانواں پر ہاتھ پھیرتے ہوئےمیری منی کو کھجانے لگا ۔ میں تو کب سے گیلی ہورہی تھی لیکر پر پھرتےپھرتے اسکی انگلی لیکر کے اندر گئی تو میں مزے سے تڑپ اٹھی میں نےاسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے دانے پر رکھا تو سمیر اسکو دو انگلیوں میں لیکرمسلنے لگا. اب میرے لئے برداشت کرنا مشکل تھا ۔ میں نے آج سمیر کوچودنے کی ٹھانی ہوئی تھی ۔ اس لئے میں ایک ٹانگ اس کے اوپر سے گھماکراس کے اوپر آگئی ۔ اس کا لن راڈ کی طرح سختی سے تن کر کھڑا تھا ۔ جسکو میں نے ہاتھ میں لیا اور اپنی ٹپکتی پھدی اس پر ٹکا کر اس کو لیکر پرمسلنے لگی اسکا ٹوپا گیلا ہوگیا تو میں نے چوت کو ٹوپے پر رکھا اور ہولےہولے نیچے اترنے لگی ۔ سمیر کے دونوں ہاتھوں نے مجھے کمر سے تھاما ہواتھا ۔ میں اپنی مستی میں انچ بائے انچ لن کو اپنے اندر سموتی مزے سےسرشار اپنی ہی دھن میں اسکا سات انچ کا پورا لوڑا لیکر بیٹھ گئی ۔ میرے ہاتھسمیر کی چھاتی پر ٹکے یوئے تھے ۔اور سمیر میرے مموں کو اپنے ہاتھوںمیں لیکر ہولے ہولے دبارہا تھامیں سمیر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہولےہولے اوپر نیچے ہونے لگی. اس کی آنکھوں میں شہوت دیکھ کر میں لن پراچھلنے کودنے لگی ۔ لن پھدی میں بڑی آسانی سے جارہا تھا ۔پھسلتے ہوئے اسکی رگڑ سے میری چوت اس کو بھینچنے لگتی تو ہم دونوں کے منہ سےنکلنے والی لذت بھری سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگتیں ۔میری سپیڈ بڑھنےلگی تو سمیر نے بھی نیچے سے دھکے لگانے شروع کردئیے ۔ جس نےمجھے اور پرجوش کردیا اور میں تیزی سے لن کو بھینچتے ہوئے اوپر نیچےہونگے لگی تو مساموں سے پسینہ پھوٹنے لگا ۔ سمیر کی پیشانی پر بھی پسینےکے قطرے چمکنے لگے ۔ میں جھڑنے لگی تو سمیر کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹرکھ دئے ۔ سمیر نے نیچے سے زورا دار جھٹکے دئیے اور میرے ساتھ ہیفارغ ہوگیا ۔ میں اس کے اوپر ہی گرگئی ۔ ہم دونوں کی سانس کی آواز سےکمرے کی فضا مترنم ہوگئی اور ہمارے جنسی مواد اور پسینے کی خوشبونےکمرے کی فضا کو خوابناک بنادیا ۔ میں کافی دیر سمیر کے اوپر لیٹی رہی ۔اسکا لن آہستہ آہستہ چوت سے پھسل کر باہر نکلا تو میں سمیر کے پہلو میںآگئی ۔ اس نے مجھے اپنے مضبوط بازوؤں میں لے لیا اور پیار کرنے لگا ۔مزے سے میری آنکھیں بند ہورہی تھیں مگر مجھے سمیر سے کچھ کہنا تھا ۔ابھی رات کافی پڑی تھی ۔ مگر ہمیں دوبارہ اور سہ بارہ یہ مزہ بھی لینا تھا ۔میرا تو یہی من چارہا تھا ۔ میں نے سمیر کی چھاتی کے بالوں سے کھیلتےہوئے کہا ۔۔ سمیر آج صبح تم جسطرح مجھے دیکھ رہے تھے مجھے بہت اچھالگ رہا تھا ۔ مگر ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔ سمیر۔۔۔۔ کیا کروں تم لگ ہی اتنیپیاری رہیں تھی کہ اہنے آپ کو روکنا مشکل ہورہا تھا ۔ میں ۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے ۔تم بھی مجھے اچھے لگ رہے تھے اور جو تم نے محسور کن کلون لگارکھا تھااس کی وجہ سے میرا بھی موڈ بن گیا تھا. مگر میں نے اپنے آپ قابو رکھا ۔کیونکہ اریبہ ساتھ بیٹھی تھی اور وہ ہماری نظروں کو پڑھ بھی سکتی تھی. پلیزاریبہ ہو یا کوئی اور اپنی نظروں سے مجھے ننگا مت کردیاکرو ۔ بلکہ اپنی چاہت کو ظاہر ہونے سے اور لوگوں کی نظروں میں آنے سےبچاؤ ۔ سمیر ۔۔۔ ٹھیک ہے تمہاری بات میں دم ہے میں احتیاظ کرونگا مگر کبھیبھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا ۔ میں۔۔۔۔ جانو میرا تو کوئی مسلہ نہیں میںتو کردونگی مگر زمانہ اور یہ دنیا ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔سمیر۔۔۔۔ٹھیک ہے جانم میں احتیاط کرونگا۔ میں ۔ گڈ بوائے ۔ مجھے تم سے یہ ہی امیدتھی. ہاں ایک بات اور کل جمعہ ہے۔ ابا جان شام کو آئینگے ۔ ہم یہ دوراتیں نہیں ملینگے. سمیر۔۔ وہ کیوں ۔ وہ تو اپنے کمرے میں ہونگے ۔ اور میںتھوڑا لیٹ آجاؤنگا ۔ ۔ دیکھو انیلہ اب تم سے دور رہنا میرے بس میں نہیں ۔مجھپر کوئی پابندی مت لگانا پلیز۔ میں ۔۔۔ جانی تم سے دور رہنا میرے لئے بھیاتناہی مشکل ہے ۔ میں ہی جانتی ہوں تم سے الگ رہ کر دن کا پل پل کیسےکاٹتی ہوں. یہ تو پوری دو راتوں کی بات ہے ۔۔ تم سے دور ہوں تو چینملتا ؛ تم قریب ہو تو دل نہیں بھرتا . مگر جانی یہ بھی سوچو اس میں ہمدونوں کی ہی بھلائی ہے ابو جان کے یہاں ہونے سے ہروقت ہمارےپکڑے جانے کا خدشہ رہیگا ۔ اور ملنے ملانے میں وہ سواد نہیں آئے گا ۔۔۔سمیر ؛ میں کوشش کرونگا ۔ مگر کوئی پرامس نہیں کرتا ۔ یہ کہتے ہوئےاس نےمجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا اور پیار کرنے لگا. میرے انگ انگخوشی اور شادمانی پھوٹ رہی تھی. اسکا لن پھر سے سر اٹھانے لگا ۔ میں نےاٹھ کر اس کو صاف کیا اور کپڑے سے اپنی پھدی کو بھی خشک کیا. کیونکہسمیر کا لاوہ اس سے ابھی رس رہا تھا ۔ سمیر اٹھا اور مجھے نیچے گرالیا ۔ابچودنے کی اسکی باری تھی. اور اس نے میری وہ دھلائی کی کہ کیا بتاؤںاس نے مجھے خوش کر دیا اس کا ایک ایک دھکا اور جھٹکا مجھے اسکےپیار کا سندیسہ بن کر لگتا .“جیسا میں چاہوں میرا ساجن ویسا پیار دیتا ہےڈال کے اندر وہ میرے دن رات سنوار دیتا ہےجب تک چاہوں میں , رکھتا ہے اندر اپنا قائمجس پر نہ آئے خزاں وہ ایسی بہار دیتا ہے“ہم نے رات کو تین بار سکس کیا اور صبح تک بے حال ہو کر رہ گئےتیسری بار میری مُنی سُوجنے لگتی ہے . اور سمیر ٹائم بھی اچھا خاصالگاتا ہے , مجھے تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے مگر مزہ بھی چوکھا آتاہے . تیسری بار جب بھی سمیر میری ٹانگیں اپنے شانوں پر رکھےمیں انوکھا سواد لینے کو تیار ہو جاتی ہوں ۔ یہ ہمارا معمول بن گیاروز ہی سمیر رات گئے آ جاتے ہم پیار محبت بانٹنے لگتے . کبھی ٢ بارکبھی تین بار روزانہ کرنا روٹین بن گئی مگر ویک اینڈ پر ابا جان گھرہوتےتو ہم احتیاط کرتے ۔ سمیر پھر بھی بے ایمانی کرجاتے اور کبھی اسدوران بھی آجاتے ۔ کئی بار انکو روکا اور ٹوکا بھی ۔مگر جب وہ یہ کہتے کہکیا کروں تمہارے بناء نہیں رہ سکتا اور نہ ہی نیند آتی ہے تو میں خوداسکو اہنا آپ سپرد کرنے پر مجبور ہوجاتی. یہ عورت کی خوش نصیبی ہی توہے کہ اسکا محبوب اس کے بناء نہ رہ پائے ۔ میں خود کو خوش قسمتسمجھتی اور اہنا پیار اسکی جھولی میں ڈال کر خوشی سے پھولی نہ سماتی۔مگر میں کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی سمیر مجھے بہت پیارا تھااور میں اسے کسی اسکینڈل کی بدولت کھونا نہیں چاہتی تھی . ساسو ماںکمرے سے شاذو نادر نکلتی تھیں رات کو تو بلکل نہیں ؛ مگر سسّر ابا کومیں کئی بار رات کو صحن میں تسبیح لئے ٹہلتے دیکھ چکی تھی . یہاس وقت کی بات ہے جب سمیر کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہیں ہوا تھااس لئے ہفتہ اتوار کی راتوں کو میں نے کمرے کا دروازہ اندر سےچٹخنی لگا کر بند کرنا شروع کر دیا . .میں گہری نیند میں تھی کہ میری آنکھ کھل گئی کچھ دیر تو سمجھ ہی نہ آ ئیکہ میری آنکھ کھلنے کا سبب کیا ہے حالانکہ میں نے کوئی ڈرونا خواببھی نہ دیکھا تھا , مجھے دروازے پر ٹک ٹک کی آواز آئی تو سمجھ آئیکہ کوئی ہولے ہولے دروازہ پر تھپک دے رہا ہے . سوچا کون ہو سکتا ہےدروازہ کھولوں یا نہیں . سمیر کو معلوم ہے دروازہ لوک ہوگا کیونکہ آجشام کو میرے سسر ابا گھر آئے تھے . اس لئے سمیر کے آنے کا تو کم ہیچانس تھا . تھوڑی دیر انتظار کرتی رہی مگر دروازے پر مسلسل ٹک ٹکہوتی رہی . میں اٹھ کر دروازے کے قریب ہوئی اور پوچھا کون ہے .میں میں ہوں سمیر . سمیر نے آہستہ سے کہا .میں نے دروازے کا ایک پٹکھول کے پوچھا کیا ہوا ؟ .ارے مجھے اندر تو آنے دو تو بتاتا ہوں . میں دروازے سے ہٹ گئی اوروہ دروازے کے اندر آیا تو میں نے دروازے کے باھر جھانک کر دیکھا کہکہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا . کوئی نہ تھا , میں نے دروازہ بند کیا اور سمیرسے پوچھا , ہاں بولو کیا ہوا ؟ تو اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا .میں نے کہا سمیر ہم بچے تو ہیں نہیں پلیز کچھ خیال کریں ,انیلا میں کیا کروں مجھے یہ سونے نہیں دیتا سمیر نے کہتے ہوئے میرےہاتھ میں اپنا ہتھیار پکڑا دیا . اسے چھوتے ہی مجھے کرنٹ سا لگاوہ اتنا سخت تھا جیسے لوہے کی راڈ اور اتنا گرم جیسے دہکتی چمنی سےنکلا ہوا . میں وہیں دو زانو ہو کر اسے چومنے لگی . سمیر نے کوئی اوربات کئے بنا مجھے بازوؤں میں بھرا اور اٹھا کر چارپائی پر لٹا دیا .اور اپنا پاجامہ اور میری شلوار اتار کر دور پھینک دی . اور ٹانگوں کےدرمیان بیٹھ گیا . میں نے اپنی قمیض اور سمیر کی بنیان اتار پھینکیاور اس کے ہتھیار کو اپنے میں سمونے کے لئے اتاولی ہونے لگیادھر سمیر اپنا گرم ہتھیار میری دہکتی چمنی میں ڈالنےکے لئے مجھ پر چھا گیا . ہم ایک دوسرے پر والہانہ فدا ہونے کے لئےایک دوسرے میں سما گئے . ہم دونوں نے وہ وہ کھیل کھیلے جو کبھینہ کھیلے تھے . آخر تھک ہار کر ہم ایک دوسرے پر گر پڑے اور میںمدہوش سی ہو گئی . کافی دیر بعد میری تھکن اتری تو میں جلدی سےغسل کے بعد ناشتے کی تیاری کے لئے کمرے سے باھر آئ تو ایک سناٹا ساتھا . حالانکہ آج ہفتہ تھا اور رات کو میرے سسر ابو بھی آئے تھے .جن کامعمول مسجد سے آتے ہی ناشتہ کرنے کا تھا اور میرے ناشتہ تیار کرنے تکوہ ایک ٢ چکر تو کچن کے لگا لیتے تھے . آج وہ نظر نہیں آئے حتیٰ کہانکے کمرے کا دروازہ بھی بند تھا , مجھے بھی آج کچھ دیر ہو گئی تھی . راتکو سمیر نے حد ہی کر دی تھی پتا نہیں اسے کیسا جوش چڑھا ہوا تھا کہ ایسیچدائی اس نے آج رات سے پہلے کبھی نہ کی تھی ٣ بار مجھے چودنے کےبعد وہ رات کے آخری پہر جب وہ اپنے کمرے میں گیا تو مجھ میں ہمت ہینہ تھی کہ کپڑے پہن لوں یونہی مستی میں مجھے مدہوش ہو گئی تھی .ناشتہ بنانے میں کچھ دیری ہو گئی تھی . رات کو سمیر کے پیار کرنےاور جتانے کے انداز کا خیال آتے ہی میں مسکرا دیتی اور اپنی خوش قسمتیپر نازاں ہوتی کہ مجھے کیسا پیار کرنے والا محبوب ملا ہے. ناشتہ تیارکرنے کے بعد میں نے اپنے سسّر ابو کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ ناشتہ کےلئے کچن میں آ گئے وہ وہیں بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہیں . لیکن انکا موڈ بہتخراب لگ رہا تھا . وہ ناشتہ کے دوران باتیں کرتے ہیں سٹی میں میرے والدینکا سکھ سندیسہ دیتے ہیں مگر ان کا موڈ بڑا آف لگ رہا تھا کیونکہ آج انہوںنے چپ سادھ رکھی تھی . ان کا موڈ دیکھ کر میں بھی خاموش رہی .کوئی بات کرتی تو وہ ہوں ہاں میں بات ٹال دیتے . میں بھی پریشان ہو گئیکہ معاملہ کیا ہے . کیا بات ہوئی گمان کرنے لگی مگر کچھ سمجھ میں نہیں .آیا وہ ناشتہ کر کے اپنے کمرے میں چلے گئے . تو میں نے اریبہ سمیر اور اپنےلئے ناشتہ تیار کیا . وہ آئے تو میں نے دیکھا سمیر بھی کافی پریشان نظر آیا .ان کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا اور فکرمندی کے اثار صاف دکھائی دےرہے تھے میں بچیں ہو اٹھی اور ان سے پوچھا سمیر بھائی خیریت تو ہےاتنے پریشان کیوں ہو . تو اریبہ کی طرف دیکھ کے بولے بعد میں آ کر بتاتا ہوں. اب مجھے ہول سے اٹھنے لگے .وہ اریبہ کو سکول ڈراپ کرنے گئے تومیں انکا بیچینی سے انتظار کرنے لگی کہ وہ سکول سے واپس آئیں تومعلوم ہو کہ ایسا کیا ہوا کہ پورے گھر کی فضا سوگوار ہے.وہ سیدھے کچن میں ہی آئے , میں آگے بڑھ کر حسب معمول انکے گلےملنے لگی تو وہ تھوڑا سا ایک طرف ہو گئے.کیا ہوا سمیر جو تم اتنا پریشان ہو ؟ میں نے پوچھا .پوچھو کیا نہیں ہوا , انیلا ہم کسی کو منہ دکھانے کے قبل نہیں رہےسمیر کی آواز میں ایک کرب جھلک رہا تھا , جس سے میں اور پریشان ہو گئی.میں نے تڑپ کر انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر پوچھا جان پہیلیاں نہ بجھواؤکیا ہوا جو تم اور ابو بھی اتنے پریشان ہو .؟تو سمیر نے یہ بتا کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکا دی کہ آج فجرسے پہلے جب وہ میرے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف گیا تواس وقت ابو تہجد کے لئے اٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے مجھے دیکھ لیاتھا . میں سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی جیسے میری ٹانگوں میں جان ہی نہ رہیہو . میں نے ہمیشہ سمیر سے بولا کہ ہم ویک اینڈ میں جب سسّر ابو آئےہوئے ہوں نہ رات کو نہ ملا کریں . مگر اس کا یہی جواب ہوتا کہ جب تک ٢بار رات کو مجھے چود نہ لے اسے نیند نہیں آتی . مجھے انکا یہ کہنا اچھالگتا تھا . مگر ڈر بھی رہتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم رنگے ہاتھوں پکڑے جایئںاور آج وہی ہوا گیا جس کا ڈر تھا.تم نے کمرے سے نکلتے ہوے باھر نہیں دیکھا تھا تو سمیر کہنے لگاابو جان وضو کے لئے باھر نکلے تھے اور نلکے سے پانی لے رہے تھےنلکا کمرے کے سامنے ہی تو ہے اور وہ مجھے تمہارے کمرے سےنکلتے دیکھ کر ٹھٹھک گئے .” کون ” انہوں نے پوچھا شاید انہوں نے سمجھا ہو کہ کوئی چور وغیرہ گھرمیں گھس آیا ہے . میں خاموش وہیں کھرے کا کھڑا رہ گیا جیسے میرے پاؤںزمین نے جکڑ لئے ہوں . وہ میری طرف بڑھے اور سختی سے پوچھاکہ تم کون ہو بولتے کیوں نہیں ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو ؟وہ میری طرف ہی آ رہے تھے , میں بمشکل بول سکا ابو میں ہوں سمیر.کچھ لمحے وہ حیرت سے دیکھتے رہے اور پھر بولے سمیر تم , تم اسوقت اپنی بھابھی کے کمرے میں کیا کر رہے تھے . سمیر خاموش ہواتو میں نے پوچھا پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا , تو روہانسا ہو کر بولےمیں کیا کہہ سکتا تھا میری تو بولتی بند ہو گئی تھی انہوں نے رنگے ہاتھوںمجھے پکڑا تھا اور مجھ سے کوئی اور بات بھی نہ بن سکی . تو اب کیا ہوگامیں نے تشویش کا اظہار کیا تو سمیر نے کہا جو ہونا ہے وہ تو ہو کر ہیرہے گا . گر ہم اگر دوسرے کا ساتھ دیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جایئگاجانو , ایک بات کا یقین کر لو میں نے تمہارے ساتھ تعلقات شہوت مٹانےیا اپنی ہوس کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہیں استوار کیے . مجھے تم اچھےلگنے لگے تھے . میں نے اب تک کسی سے پیار نہیں کیا تھا . مگرمیں تم سے پیار کرنے لگی ہوں میں تمہاری محبّت کی اسیر ہوں تم میرا پہلااور آخری پیار ہو . میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دونگی اور کبھی تم سے بیوفائینہ کرونگی . یہ کہہ کر میں اس سے لپٹ گئی . سمیر کچھ کے چہرے پرطمانیت کے اثار دیکھ کر مجھے بھی حوصلہ ملا . سمیر کھیتوں پر چلا گیامیں ساس ماں کے لئے ناشتہ تیار کر کے ان کے کمرے میں گئی اور انکوناشتہ کروایا . انہوں نے بھی رسمی باتیں کیں سسر ابا بھی وہیں تھےانہوں نے کوئی بات نہ کی مگر ایک سرد مہری سی ضرور محسوس ہوئی .میں انہیں ناشتہ کروا کر کچن میں آئی تو خادمہ آئی آ چکی تھی . اسے کچھہدایات دے کر اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی . مجھے کسی پل چین نہ آ رہاتھا اور میں بے کل ہو کر کروٹیں پے کروٹیں لیتی رہی . کچھ ہی دیر بعدخادمہ کمرے میں ائی اور اس نے بتایا کہ میرے والدین آئے ہیں . میں دہلکر رہ گئی انکا سامنا کیسے کر پاونگی اچانک آنے والے برے وقت کیتصویر میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی . میں چکراتے سر کے ساتھاٹھی اور اپنے والدین سے ملنے ساسو ماں کے کمرے میں گئی . ان سےمل کر بیٹھنے لگی تو ساس نے بولا کہ بیٹی تم ساتھ والے کمرے میں بیٹھوہمیں تمہارے والدین سے کچھ باتیں کرنی ہیں . میرے والدین حالاتسے ناواقف تھے . اس لئے وہ حیرانگی سے میری ساس اور سسر کودیکھنے لگے . میں ہولے سے ہولے کر ساتھ والے کمرے میں ائی تو سمیربھی وہیں بیٹھے تھے . ان سے دوسری طرف کرسی پر میں بھی بیٹھ گئی .مجھے معلوم تھا کہ میری قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا . مجھے ڈر تھاکہ آج سے مجھے بدنامی کی دبیز چادر اوڑھا دی جایئگی اور آبرو باختہعورت بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہونگی . میں پریشان تھی کہ میرےوالدین کو میری بدولت کتنی شرمندگی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےسمیر اور میں الگ الگ اپنی اپنی سوچوں کے جال میں بے اب ماہی کیطرح ٹرپ رہے تھے . ہمارے والدین ساتھ والے کمرے میں ایک دوسرےکا حال احوال سن اور بتا رہے تھے . کمرہ ساتھ ہونے کی وجہ سے ان کیگفتگو با آسانی سنائی دے رہی تھی . شاید اسی لئے ہمیں اسس کمرے میںبیٹھنے کوکہا گیا تھا تاکہ ہم ساری کاروائی کو سن سکیں. کاسسر ابو : آپ لوگوں کو بلا بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کچھ ایسا ہوا ہےجس کے متعلق کبھی سوچا تک نہ تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے . ہم معذرتخواہ ہیں کہ آپ دونوں کو بے وقت بلا بھیجا مگر جو کچھ ہوا وہ سبآپکے علم میں لانا ضروری تھا .میرے ابو : جی آپ بتائیں ہم سن رہے ہیں . ہماری جانب سے کوئی غلطی یازیادتی ہوئی ہو تو اس کا مداوا کرنے کو بھی تیار ہیں . آپ کھل کے بات کریں .ساس اماں : آج جو کچھ ہوا اس پر بعد میں بھی بات ہو سکتی ہے . اس سےپہلے کہ اس پر بات کی جاۓ جو کچھ آپ سے ہماری طرف سے چھپایاگیا ہم آپ کو اعتماد میں لے کر وہ آپ کو بتانا چاہتے ہیں آپ کو براتو ضرور محسوس ہوگا مگر یہ ہماری مجبوری تھی کہ آپ سے یہ باتپوشیدہ رکھی جاۓ . اور ہم نے آپ کو لا علم رکھا . آپ اس کو ہماری مجبوریکہ لیں یا خود غرضی کا نام دیں .امی جان : بہن میری جو بات بھی ہے وہ آپ بتا دیں . اب ہم ایک دوسرےسے جڑے ہوئے ہیں تو کچھ پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے اگر کوئی باتہم سے تعلق رکھتی ہے تو آپ بے دھڑک بتا دیں یہ بعد کی بات ہےکہ آپ کہان تک مجبور تھے .ساس اماں : جب آپ لوگوں نے سمیر کے ابو سے انیلا بیٹی کے لئے رشتہڈھونڈنے کا کہا تھا . تو اس وقت ہم لوگ اپنے چھوٹے بیٹے صغیر کے لئےرشتہ کی تلاش میں تھے . تو ہم نے سوچا کیوں نہ ہم ہی صغیر بیٹے کےلئے رشتہ کا پیغام دیں . سمیر کے ابو آڑھت کی بدولت آپ کے خاندانسے واقف تھے پھر بھی ہم نے آپ کے محلے میں اور ارد گرد اور آپملنے والوں سے معلومات کے لئے پوچھ گچھ کی اور انیلا بیٹی کےبارے بھی معلومات لیں تو انیلا بیٹی اس گھر کے لئے پرفیکٹ بہولگی . اسے جب پہلی بار ملی اور دیکھا تو میں فیصلہ کر لیا کہ انیلاکو ہی بہو بنا کر لانا ہے . مگر جب صغیر سے بات کی تو اس نے صاف انکارکر دیا کہ وہ ابھی شادی کے لئے تیار ہی نہیں . در اصل اس کا ایک نرسسے افیئر چل رہا تھا اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا . مگر وہ نرسہمیں ہمیں بلکل پسند نہیں تھی چہ جائیکہ اس کو ہم بہو بناتے . میں انیلاکو ہر حالت میں بہو بنا کر لانا چاہتی تھی . اس میں مجھے اپنا اپ نظر اتا تھااور نظر اتا ہے اور اس نے ثابت بھی کیا اور وہ میری امیدوں پر پورا بھیاتری ہے . یقین رکھیں میں اس سے بہت خوش ہوں .آپ تو جانتے ہیں ہم سمیر کا رشتہ لے کر گئے تھے . ہلکہ یہ بے جوڑرشتہ تھا مگر صغیر کے انکار کے بعد ہم نے کوشش کی کہ ممکنہے مقدار یاوری کر جائیں اور سمیر بھی اس رشتہ کے لئے رضامد تھاحالانکہ اپنی مرحومہ بیوی کی وفات کے بعد وہ شادی کے لئے رضامندنہ ہوتا تھا مگر اریبہ بیٹی کے لئے کوئی دیکھ بھال کرنے والا تو چاہیےہی تھا . جب وہ رضامند ہوا تو 10- ١٥ رشتے اس نے ریجیکٹ کر دئیےمگر جب گھر میں انیلا کی بات ہوئی اور سمیر نے انیلا کی طبیعتاسکی فطرت کے بارے جانا اور اسکی تصویر دیکھی تو وہ تیار ہو گیا .مگر حسب امید آپ لوگوں نے اسکا رشتہ منظور نہ کیا اور معذرت کر لیآپ کا یہ فیصلہ گرچہ ہمارے خلاف تھا مگر یقین جانیں ہمیں افسوس تو ہوامگر آپ لوگوں سے کوئی شکایت نہیں ہوئی . اگر ہم آپکی جگه ہوتے تو ہمارابھی یہی فیصلہ ہوتا . ہمیں اریبہ کو ماں کا پیار دینے اور اسکی تربیت کےلئے ایک مخلص خوش رو بچوں سے پیار کرنے والی بہو چاہیے تھی .جو کہ انیلا ہی ہو سکتی تھی . یہاں ہم نے کچھ خود غرضی سے کام لیا .ہم نے دوبارہ صغیر سے رابطہ کیا . جو کہ دبئی میں تھا اور نرس بھیدبئی ہسپتال میں کام کرتی تھی . صغیر اسی کی وجہ سے دبئی میں کامکر رہا تھا . ہم نے اسے پاکستان بلایا اور میں نے اس کے پاؤں پر اپنا دوپٹہرکھ کر اسکی منت کی تو اس شرط پر شادی پر راضی ہوا کہ میں اس نرسکے ساتھ رہتا رہونگا. کینکہ ہم نے وہیں شادی کر لی ہے . سال میں ایک ماہکے لئے گھر آؤنگا . انیلا کو کبھی دبئی نہیں بلاونگا . اس سے زیادہ مجھسے امید نہ رکھی جاۓ . میں نے سوچا انیلا جیسی پیاری بچی اچھے طوراطوار کی مالک سگیر کو بدل لے گی اور وہ نرس کو چھوڑ چھاڑ دے گا .کیونکہ ہمیں معلوم ہے نرس طلاق یافتہ ہے اور صغیر سے ٧-٨ سال بڑیہی ہوگی اس امید کو لے کر ہی آپ لوگوں سے یہ بات چھپائی گئیجس کےلئے ہم شرمندہ بھی ہیں اور معذرت بھی چاہتے ہیں. میرے ابو: اب معذرت کا کوئی فائدہ نہیں جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکامیری بیٹی کے نصیب اچھے ہوئے تو صغیر ضرور بدل جایئگا .امی جان : آج کیا ہوا وہ بتائیں کیونکہ میں کافی پریشانی محسوس کر رہی ہوںساس اماں : بہن میری انسان خطا کا پتلا ہے اس سے ایسے ایسے کام بھیسرزد ہو جاتے ہیں جو شیطان کے قیاس میں بھی نہ ہوں . انسان کبھی کبھیجذبات کے ہاتھوں مجبور بھی ہو جایا کرتا ہے . اس لئے ہمیں معاملے کوجذباتی ہو کر نہیں لینا چاہیے انسانی مجبوریوں کو مد نظر کر ہی ہم کسینتیجے پر پہنچ سکتے ہیں . اور مسلے کا حل بھی اسی طرح سامنے آئیگا .اب سمیر کے ابو ہی بتائیں کہ انہوں نے کیا دیکھا . میں ساسو ماں کی باتسے بہت متاثر ہوئی کیونکہ اس نے ایک طرح سے ہمری وکالت ہی کی تھیمجھے اس سے کافی ڈھارس بندھی سمیر کو دیکھا تو وہ بھی مطمیننظر آیا .میرے سسر : جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں جمعہ کی شام گھر آتا ہوں اورسوموار کی صبح واپسی ہوتی ہے . کل شام حسب معمول میں گھر آیااور آج جب فجر سے پہلے وضو کے لئے پانی لے رہا تھا تو آدمیانیلا کے کمرے سے نکلا , میں نے اسے للکارتے ہوئے پوچھا کون ہے؟میں سمجھا تھا کوئی چور گھر میں گھس آیا ہے . میں نے دوبارہ پوچھامگر وہ خاموش وہیں کھڑا رہا . اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے پہچاننابھی مشکل تھا . میں اسکی جانب بڑھا اور دوبارہ اس سے پوچھا کہ وہکون ہے اور یہاں کیا کر رہا ہے . ابو میں سمیر ہوں اس نے جواب دیایہ جان کر مجھے دھچکہ سا پہنچا ؛ سمیر تم ؛ تم اس وقتبھابھی کے کمرے میں کیا کر رہے تھے . سمیر نےکوئی جواب نہیں دیا اور سر جھکاۓ کھڑا رہا . میں غصہ میں اندر گیااسکی امی کو بتایا . میں تو غصہ سے کانپ رہا تھا اور سوچ رہا کہ سمیرکے خلاف کوئی قدم اٹھاؤں . مگر سمیر کی امی کبھی بھی جذباتی ہو کر نہیںسوچتی اس نے مجھے کہا کہ جذباتی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں . ابھی تو ہم یہبھی نہیں جانتے کہ ان کے تعلقات کس حد تک ہیں کہیں کوئی زبردستی یازیادتی تو نہیں ہو رہی . سمیر ٣ سال سے رنڈوا ہے اور انیلا بھی 4-٥ ماہسے اپنے خاوند سے الگ ہے . دونو کو مواقع بھی دستیاب ہیں تو ایسےغلطی ہو جاتی ہے . جذباتی ہو کر انہیں سزا دینے کی بجاۓ ہمیں انکے جذبات کو اور مجبوری کو بھی دیکھنا چاہیے . پھر اس نے ہی مجھےکہا کہ آپ لوگوں کو بلا کر اس مسلہ کو ڈسکس کرنا ہوگا . اب آپ ہیراۓ دیں اب یہ مسلہ کھڑا ہو گیا ہے تو اس کا حل تو نکالنا ہی ہوگا .ابو جان : ہم کیا بول سکتے ہیں جو بھی فیصلہ کرنا ہے آپ لوگوں نے ہی کرناہے . ا بیٹی کا نصیب آپ کے فیصلے کے مطابق جو بھی ہوگا ہمارے لئےاسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ کار بھی تو نہیں ہے .ساسو ماں : بھائی صا حب غلطی صرف بچی ہیکی نہیں سمیر کی بھی ہےہو سکتا ہے سمیر کی زیادہ ہو کیونکہ وہمرد ہے انیلا کے کمرے میں سمیرگیا تھا . ایک اور بات انیلا جیسی آپ کی بیٹی ایسی ہی ہماری بیٹی بھی ہےاب مسلہ یہ ہے کہ ان دونو نے اس گھر میں اکٹھا رہنا ہے . ہییہ دوبارہ کوئیایسی غلطی کریں اس کے سد باب کے لئے کیا کیا جاۓ . انسانی نفسیاتکے مطابق وہ ایک ڈر یا خوف ہوتا ہے اس سے تو نکل چکے ہیں . آپ لوگسوچیں کوئی حل نکالیں . میرے پاس ایک مناسب حل ہے مگر پہلے آپ لوگوںکی رہے جاننا چاہونگی . یہ سن کار میں سمیر اور سمیر نے میری طرفدیکھا تو ہم آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکرا دئیے سچ تو یہ ہے کہ ساس ماںکی بات سن کر ہم پر امید ہوگئے . مختلف ارا کے بعد ساس ماں نے جوتجویز دی اسے ہی پذیرائی ملی . اس سے یہ میں اپنی ساس ماں کی دانشمندی اور معاملے کو سلجھانے کی صلاحیت کی معترف ہو گئی .ساس ماں کا خیا ل یا تجویز تھی کہ صغیر کو یہاں بلایا جاۓ گر وہ چاہےتو اپنی وائف نرس کو ساتھ لیتا آئے . اور انکی دوسری شادی کا بھی سبکو معلوم ہو جایئگا . انیلا اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور صغیر انیلاکو طلاق دے دے . پھر عدّت کے بعد سمیر اور انیلا کا نکاح کر دیا جاۓ .آپ بھی بیٹی سے پوچھ لیں ہم بھی سمیر سے مشورہ کر لیں گے . یہ صرفان دونوں کے مسلے کا حل نہیں بلکہ اریبہ بیٹی کے مستقبل کا بھی سوال ہےجس طرح انیلا اریبہ کے قریب ہے اور جس طرح اسکی دیکھ بھال کر رہی ہےاگر اریبہ کی ماں حیات ہوتی تو وہ بھی اس سے زیادہ نہ کر پاتی . اس لئےمیرا مشورہ تو یہی ہے . . یہ سن کر سمیر اٹھ کر میرے قریب آیااور گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر میرے ہاتھ کو پکڑ کے کہنے لگاکہ جانم اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کیا تم مجھ سے شادی کرو گی“نہیں ؛ میں کسی بوڑھے سے شادی نہیں کر سکتی ” کہتے ہوےمیں اس سے لپٹ گئی اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ میرا ہاتھپکڑے میرے ساتھ والی کرسی پر ہی بیٹھ گئے . صاف ظاھر ہے ہمبہت خوش تھے . ہماری دل مراد پوری ہونے جا رہی تھی. ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین تو تب کھسکی جب ہمیں دوسرے کمرےمیں بلایا گیا . ہم دونو مجرموں کی طرح سر جھکاۓ کمرے میں جا کر بیٹھگئے . میں نے کسی کی طرف دیکھا نہ ہی مجھ میں کسی سے نظریں ملانےکی ہمت تھی . میری ساس بولی تم دونو نے ساری بات تو سن ہی لی ہوگیتم دونوں سے ہم کو نہ کوئی صفائی درکار ہے نہ ہی کسی قسم کی وضاحت .کی ضرورت . بالغ ہونے کی بدولت تم دونوں اپنے اچھے برے کی تمیزرکھتے ہو . مگر کچھ باتیں یا عمل ایسے بھی ہوتے جن کے کرنے یا ہونےسے دوسروں کی زندگی متاثر ہوتی ہے جس کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے .ہمیں نہیں معلوم نہ ہی ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ کب شروع ہوا ہاںیہ کلیر ہے کہ جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا . ہم تم دونوں کے والدین ہیںتم دونوں اور دونوں خاندانوں کی بھلائی کے لئے کچھ اقدامات کرنےکی ضرورت محسوس کی اور کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پر پہنچےہیں کہ .انیلا آج اپنے والدین کے ساتھ اپنے میکے چلی جایئگی . اگلے ہفتہ صغیردبئی سے آ جایئگا تو وہ انیلا کو طلاق دے دیگا . اور عدّت کے بعد سمیرانیلا کو بیاہ لیے اور انیلا واپس اپنے گھرلوٹ کر آجائیگی . تم لوگوں کےپاس کوئی اور تجویز ہو تو بتاؤ ورنہ ہمیں تو اس کے علاوہ کوئی راستہنظر نہیں اتا ؛ کہ سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی بچ جاۓ . ہم دونو کےپاس خاموشی ہی ایک بہترین جواب تھا سو ہم خاموش ہی رہے .ظہرانے کے بعد جب اریبہ سکول سے واپس آئ تو اسے مل کرمیں نے اپنی ساس کے کمرے میں جا کر ان کے بہترین فیصلہ کی داددیتے ہوئے انکے پاؤں چھوئے اور ان سے شرمندگی کا اظہار اورمعافی مانگی اور اپنے والدین کے ساتھ میکے آ گئیمیں جب صغیر سے بیاہ کر اپنے سسرال گئی تھی میرے جذبات و احساسات نہہونے کے برابر تھے. میں نے وہ شادی صرف اور صرف اپنے والدین کیخواہش پر کی تھی ۔ میں صغیر حسن سے شادی پر نہ تو خوش تھی اور نہ ہیرنجیدہ میں بچپن سے ہی ایسی تھی یعنی لاپرواہ سی. جوکچھ ہورہا ہو, ہوتارہے میں سنجیدہ نہیں لیتی تھی ۔ نہ کو ئی چاہے جانے کا جذ بہ تھا نہ ہیکو ئی چاہت کا مرکز بن سکا ۔ شادی ہوئی. سہاگ رات گزری اور دوماہ میراشوہر میرے پاس رہا مگر میں یہ سب کچھ ایک ہونی سمجھ کر کرتی رہی. اسمیں میری اپنی خواہش نہ شامل ہوسکی ۔ یہ سب کچھ ایک فرض سمجھ کرخوشدلی سے کرتی رہی ۔ حتی کے صغیر حسن کے واپس جانے کا بھی کوئیاثر نہیں لیا ناہی اس کے لئے رنجیدہ ہوئی اور نہ ہی اسکے جانے پر خوشیہوئی ۔ زندگی یونہی بے حسی میں گزر جاتی اگر میرے جیٹھ سمیر حسن نہہوتے ۔ پتہ ہی نا چلا ان چھ ماہ میں کیسے انکی جانب کھنچتی چلی گئی ۔ابکہہ سکتی ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا اسکی شروعات نادانستگی میں ہوئیں ۔ آجبھی وہ لمحہ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں ٹرے میں انکے لیئے کھانا لیکرگئی تھی. ٹرے میں دو چار ڈشز تھیں اور میں نے ٹرے کو مضبوطی سے پکڑرکھا تھا ۔ ایسے میں سمیر بھائی نے میری مدد کرنا چاہی اورٹرے پکڑنے کیکوشش میں نادانستگی میں انکے ہاتھ میرے ہاتھوں پر آگئے تو انکے لمس سےمیرے بدن میں ایک عجیب سی سنسناہٹ سی ہوئی تھی جو اس سے پہلے میںنے کبھی محسوس نہ کی تھی ۔ ایک کرنٹ سا جسم میں دوڑ گیا ۔ میں نے جلدیسے ٹرے ٹیبل پر رکھنے کی کوشش کی تو انکے ہاتھ میرے ہاتھوں کو چھوڑنہیں رہے تھے میرے خیال میں وہ ڈر رہے تھے کہ کہیں ٹرے گر نہ جائے ۔میں نے انکی طرف دیکھا تو انکی نظریں میرے چہرے پر ہی تھیں تو میں نےکہا بھائی جان اپنے ہاتھ ہٹالیں تو انہوں نے جلدی سے میرے ہاتھ چھوڈ دئیے ۔۔میں ٹرے رکھ کرسیدھی ہوئی اور انکی جانب دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھےجارہے تھے ۔۔ میں جلدی سے کمرے سے نکلی اور اہنے کمرے میں پہنچی توایک نیا احساس جنم لے چکا تھا ۔ یہ پہلی بار ہوا کہ کسی کے چھونے سے میںنے عجیب سا محسوس کیا . ابھی تک میرے ہاتھوں پر انکا لمس ایسےمحسوس ہورہا رھا جیسے میرے ہاتھ ابھی بھی انکے ہاتھوں میں ہوں. میںحیران تھی کیونکہ اس سے پہلے میں نے کبھی بھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا.میں سوچنے لگی وہ مجھے کن نظروں سے دیکھ رہے تھے پہلے تو کبھیانہوں نے مجھے ایسے نہیں دیکھا تھا ۔۔انکا کھانا لے جانے سے پہلے میں نہائیتھی اور میرے گیلے بال میرے شانوں پر کھلے ہوئے تھے مگر میں نے دوپٹہاچھی طرح لیا ہوا تھا ۔ انکے ہاتھوں کا لمس اور انکی نظروں کی تپش ابھیتک محسوس ہورہی تھی کہ مجھے خیال آیا کہ کہیں سمیر بھائی مجھے غلطنظر سے تو نہیں دیکھ رہے تھے. یہ خیال آتے ہی مجھے اپنے چہرے پر انکینظریں ٹکی ہوئی محسوس ہوئیں تو میں بے ساختہ شرماگئی ۔ جیسے وہ اب بھیدیکھ رہے ہوں ۔ اس دن میں نے پہلی بار کسی کے بارے سوچنا شروع کیا تووہ سمیر بھائی ہی تھے ۔ پھر ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے کی وجہ سے روز ہیکوئی نہ کوئی ایسی بات ہوتی رہی کہ میں انکی جانب بڑھتی گئی اور پھر ایکوقت ایسا بھی آیا کہ میں ان کے ایک ٹچ کے لئے انکے قریب سے گزرتی یا.انکے ہاتھوں میں کوئی چیزایسے دیتی کہ انکے ہاتھ کم ازکم میرے ہاتھوں کولازمی ٹچ کریں ۔ انکا لمس مجھے کسی مقنطیسی کشش کی طرح اپنی جانبکھینچتا ۔ اور پھر جس دوپہر میں انکی گود میں بیٹھی تو میں انکی ہوچکی تھیمیرا تن میرا من سب کچھ انکا ہوچکا تھا ۔ میں جان چکی تھی کہ اگ دونوںطرف ہے برابر لگی ہوئی.چاہت کا جب مزہ ہے کہ وہ بھی ہوں بے قراردونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی ۔میں شادی شدہ تھی اس لئے کچھ جھجک تو ریی تھی مگر خود کو بے بس سمجھرہی تھی. اور انکے ایک اشارے کی منتظر تھی. اور جس رات پہلی بار سمیرمیرے کمرے میں آیا تھا تو میں نے ہنسی خوشی رضامندی سے اپنا آپ اس کےسپرد کردیا تھا ۔۔ میں نے صغیر کو اپنی قسمت تو مان لیا تھا مگر وہ میریچاہت نہ تھی ہم دوماہ اکٹھے رہ کر بھی ایک دوسرے کو نا سمجھ سکے تھے.اور میرا خیال ہے ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیںکی ۔ اسکی موجودگی میں بھی خود کو ادھورا سمجھتی اور ایک خلا سامحسوس ہوتا مگر سمجھ نہ سکی کہ میں کیا چاہتی ہوں اس لئے اپنی قسمتکیساتھ سمجھوتہ کرچکی تھی میں. مگر اس ایک ٹچ نے میری زندگی بدل دیاور مجھے ایک انجان راستہ دکھایا جس پر چلتے ہوئے میں لطف و سروور کیپرلطف وادیوں میں بڑھتی چلے گئی ۔ میں سب کچھ بھول کر سمیر کی ہوتیچلی گئی حتی کہ میں خود سے بھی بیگانہ ہوگئی ۔ مجھے اقرار ہے کہ وہ میریچاہت ہے ہاں ہاں وہ میری محبت ہے اور وہ مجھے خود سے بھی پیارا ہے ۔اور اب حالات اس نہج پر مجھے لے آئے ہیں کہ میں اپنی چاہت کو ہمیشہ کےلئے پانے والی ہوں ۔ اس کی ہوکر میں مکمل ہو سکونگی ۔اسے پاکر ہی میںمنزل پر پہنچ سکونگی. مگر اس کی عارضی جدائی بھی میرے لئے سوہان روحبنی ہوئی ہے. چند دن تو ہم ٹیلی فون کرلیتے تھے , ۔ایک ہفتہ بعد صغیر اپنی بیوی شکیلہ (نرس) کو لیکر گھر آگیا تو میرا میکےآنے کا جواز پیدا ہوگیا کہ صغیر تو پہلے سے شادی شدہ ہے اور مجھے طلاقچاہیے ۔ طلاق کے مطالبے کیساتھ ہی اسکا گھر چھوڈدیا ۔ اپنے آنے کے چنددن بعد ہی صغیر نے مجھے طلاق نامہ بھجوادیا جس بعد میری عدت شروعہوگئی ۔ اور میرے والدین نے مجھے سمیر سے فون پر بات کرنے سے بھی منعکردیا. میں اپنے والدین کی ممنون تھی کہ جب وہ مجھے گھر لیکر آئے تومجھے ڈر تھا کہ وہ گھر پہنچ کر میری درگت بنائیں گے. مگر انہوں نے مجھسے کوئی سوال جواب تک نا کیا. میں سمجھتی ہوں کہ میری ساس کی مدبرانہگفتگو اور دلیل سے ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا ہوگئیں تھیں ۔ اب جب میرےوالدین نے مجھے فون سے منع کیا تو میں نے انکی بات کو ترجیع دی مگر میںخود سمیر کے لئے بے چین رہنے لگی. میرا حال کسی بھی ٹین ایجر لڑکیسے مختلف نہ تھا جو اپنی پہلی محبت کے لئے بے چین اور بے قرار رہتی ہےاور سچ تویہی ہے کہ سمیر میری پہلی محبت ہی تو تھا ۔ میں اپنے آپ کوسمجھانے کی کوشش کرتی کہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہی تو ہیں پھر سمیر ہوگااور میں ہونگی ۔ یہ یقین ہوتے ہوئے بھی میرا دل سمیر کے لئے بے قرار رہتا ۔میں اسے خط لکھتی اور پھاڑ دیتی ۔ ٹین ایجر محبت کو پپی لو puppy لووکہتے ہیں مگر میں میچور ہوں محبت نہیں بلکہ عشق کررہی ہوں سچی مجھےسمیر سے عشق ہوگیا تھامئینوں رب دی سوں تیرے نال پیار ہوگیاوے چنا سچی مچیتیری یاد اچ دل بے قرار ہوگیاوے چنا سچی مچی .میں یوں ہی سمیر کی یاد میں گنگناتی اور ٹھنڈ ا آہیں بھرتی رہی .دو ہفتوں کے بعد میرے سسر اریبہ کو ویک اینڈ پر میرے پاس چھوڑ جاتےجس سے میرا دل بھی لگ جاتا اور اریبہ بھی خوش ہوجاتی ۔ یوں پانچ ماہ گزرگئے ۔ عدت ختم ہونے پر ایک اور مصیبت کھڑی یوگئی ۔ میرے چچا لوگوںسے جو تعلقات ختم ہوچکے تھے میری طلاق کے معاملے پر دونوں بھائیوںکے درمیان کشیدہ تعلقات کی برف پگھلی اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے کیطرف آنا جانا شروع ہوگیا ۔ میں جب میکے آئی تھی تو وہ سب ملنے آئے تھےاور جب طلاق ہوئی تو افسوس کے لئے بھی آئے تھے. میرے سابقہ منگتیر کیشادی پھپھو کی بیٹی سے ہوئی تھی انکی آپس میں نا بن سکی یا دونوں کےوالدین نے نا بننے دی. کیونکہ میرے چچا بہت ضدی طبعیت کے اور پھپھو بھیبہت سخت مزاج ہیں ۔ بہر حال پھپھو کی بیٹی روٹھ کر اہنے میکے بیٹھی ہوئیتھی ۔ اب میرے چچا نے میرے ابو پر ڈورے ڈالنے شروع کئے کہ انیلہ کارشتہ انکے بیٹے سے کردیا جائے ۔ مجھ تک بات پہنچی تو میں نے اپنی امیسے صاف صاف کہ دیا کہ شادی کرونگی تو صرف سمیر سے اس کے علاوہکسی کا نام میرے سامنے نہ لیا جائے ۔ ابو نے چچا سے ایک ہفتہ کی مہلتمانگی تھی اور میرے لئے یہ ایک ہفتہ کسی عذاب سے کم نہ تھا ۔ میرا کھاناپینا چھوٹ گیا اور رنگ زرد پڑگیا ۔ میری امی کو اس کا احساس تھا اور انہوںنے ابو کو قائل کرلیا کہ انیلہ کے لئے سمیر ہی بہتر ین رشتہ ہے ۔ میری پھپھوکی بیٹی ابھی تک عمیر کے نکاح میں تھی اور اگر میرے ابو اپنے بھائی کومیرے رشتہ کے لئے ہاں کردیتے تو اپنی بہن سے رشتہ میں میں تعلقات میںخرابی پیدا کرلیتے اس لئیے ابو نے اپنے بھائی کو رشتہ سے جواب دے دیا ۔اور ایک بلا میرے سر سے ٹل گئی ۔ورنہ میں سوچ چکی تھی کہ اگر زبردستیکی گئی تو میں بغاوت کر دونگی اور سمیر سے کہونگی کہ مجھے اپنےساتھ لے جائے ۔ مگر شکر ہے اسکی نوبت نہیں آئی دوسرے ہفتہ سمیر لوگآئے اور انہوں نے شادی کی تاریخ مقرر کی اور چلے گئے ۔ شادی دو ہفتوں بعدہونا قرار پائی تھی. میں بہت خوش تھی اور میرے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتےتھے ۔ مگر دو ہفتے گزارنا محال ہوگیا ۔ سمیر سے ایک ایک پل کی دوریمجھے کھانے کو دوڑتی مگر میں مجبور تھی اور وقت مقررہ تک مجھے اسجدائی کو سہنا تھا ۔ آخر وہ دن آپہنچا اور میرا سمیر بارات لیکر مجھے بیاہنےآپہنچا ۔ میرے بدن میں مسرت و شادمانی کی لہریں دوڑنے لگیں مجھے اسکےساتھ گزارہ ایک ایک پل یاد آنے لگا اور میں مچل مچل اٹھی اور ایسا لگا کہپہلی بار ڈولی میں بیٹھ کر اپنے پیا کے دیس جارہی ہوں ۔ پہلی شادی کے وقتتو میں کسی بھی قسم کے احساسات سے عاری تھی مگر آج تو میں شادی میںدل وجان سے شریک تھی ۔ میرےجذبات و احساسات میرے دھڑکتے دل سے ہمآہنگ تھے والدین اور بھائیوں سے الوداع ہوکر جب میں کار میں بیٹھی تومیرے ایک طرف اریبہ تھی درمیان میں میں بیٹھی تو پھر میرے ساتھ میرا سمیربیٹھا ۔ انکا جسم میرے بدن کیساتھ ٹچ ہوتا گیا تو میں خوابوں میں کھوگئی ۔ سمیرنے میرا ہاتھ اپنے ہاتھو میں لے لیا اور ہولے ہولے دبانے لگے ۔ اریبہ بھیچہک رہی تھی. آج وہ بار بار مجھے امی کہ کر پکارتی تو میں خوشی سےسرشار ہوجاتی ۔ سمیر کا ساتھ اور سب کے سامنے ساتھ ہونے سے مجھےبہت حوصلہ ملا ۔ سارے راستے سمیر میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے سہلاتا رہا۔ اور میرا دل کررہا تھا کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ہو مگر میرے بدن کا تقاضا تھاکہ کب شام ڈھلے اور تنہائی میسر ہو ۔۔۔شام کے وقت ہم گھر پہنچ گئے تھے ۔میں دوسری بار اس گھر میں دلہن بن کرآئی تھی. میری ساس اور نند بہت خوش تھیں ۔ صغیر کی نرس بیوی بھی شادیمیں شرکت کے لئے آئی تھی ۔ لوگوں نے باتیں تو بہت کی ہونگی کہ پہلے ایکبھائی سے بیاہی گئی پھر دوسرے بھائی سے ۔ مگر مجھے کوئی پرواہ نہیںتھی. کہ کوئی ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے ۔میرے خیالوں پر صرف سمیرقابض تھا جس کی بیوی ہونے پر مجھے خواب کا گمان ہورہا تھا کھانے وغیرہسے فارغ ہوکر باراتی اپنے اہنے گھروں کو چلے گئے اور جو دوور کے رشتہدار رہ گئے تھے انکے سونے کا بندوبست کرکے جب سمیر کمرے میں داخلہوئے تو میرے دل کی دھڑکن بے قابو ہونے لگی. میں روائتی دلہنوں کی طرحگھونگھٹ نکالے نا بیٹھی تھی ۔ سمیر آئے اور سلام کرکے میرے پاس بیڈ پربیٹھ کر مجھے دیکھنے لگے ۔ انکی نظروں کی تاب نا لاکر میں نے شرما کرگردن جھکالی تو انہوں نے میری ٹھوڑی کو اپنی انگلیوں سے اوپر اٹھایا میںنے آنکھیں بند کرلیں ۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد میرے لبوں نے انکے ہونٹوں کیگرمی محسوس کی تو میں نے نے بھی ان کے لبوں کو گرم جوشی سے چوم لیا۔ کل میرے لئے جو ممنوعہ شجر تھا آج اس کا پھل میرے لئے جائز ہوچکا تھا ۔یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے آپ کو انکی آغوش میں گرادیا. انہوں نے مجھےاپنے مضبوط بازوؤں میں لیا اور گردن پر بوسے لینے شروع کردئیے ۔ انکےہاتھ میری کمر پر گردش کررہے تھے ۔ اور میں ہولے ہولے انکی شیروانی کےبٹن کھولنے لگی ۔ انیلہ شادی مبارک ہو ۔ سمیر مجھے چومتے ہوئے بولے ۔آپکو بھی مبارک ہو جانی میں نے کہا ۔ تو وہ بولے کیوں نہ جانم ہم چینج کرلیں ۔یہ بھاری ملبوسات اتارہی دیں تو بہتر ہے میں نے انکی طرف دیکھا تو انکیآنکھوں میں شرارت جھلکتی دیکھ کر میں شرماگئی اور اٹھ کر باتھ روم کیطرف جانے لگی تو انہوں نے کہا کہاں جارہی ہو تو میں نے کہا چینج کرنے توانہوں نے میرا بازو پکڑ کر مجھے بیٍڈ پر گرالیا اور میرے کرتی لہنگے کیطرف ہاتھ بڑھادیا ۔ میں نے انہیں منع کرنا مناسب نا سمجھا اور خود بھی انکیشیروانی کے بقایا بٹن کھولنے لگی ۔ انہوں نے میری کرتی اتاردی اور میریگردن اور شانوں کو چومنا شروع کردیا ۔ اتنے میں انکی شیروانی کھل گئی تھیانہوں نے اسے اتارنے میں میری مدد کی اور مجھے کھینچ کر اپنے سینے سےلگالیا ۔ میں نے سکون کا سانس لیا ایسے لگا ناجانے کتنی مدت کی حسرتپوری ہوئی ۔ کافی دیر میں یونہی انکے ساتھ لپٹی رہی ۔ انکے ہاتھ آہستہ آہستہمیرے کمر بند کی طرف بڑھنے لگے ۔ میں نے انکی ہیلپ کی اور انہوں نےمیرا لہنگا اتار دیا ۔ اب میں صرف پاجاما اور برا میں تھی ۔ میں نے انکی قمیضاتار کر انکے پاجامے کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ میرا ہاتھ اتفاقا انکے راڈ سےجاٹکرایا جو کہ اکڑ کر کھڑا ہوا تھا میرے بدن میں چنگارہاں سی لگنے لگیں ۔میں نے انکا ازار بند کھولا اور پاجاما نیچے کھسکایا تو انہوں نے پاجاما ٹانگوںسے اتار کر نیچے پھینک دیا ۔ اب وہ صرف انڈروئیر میں تھے اور انڈر وئیرایک تنبو کی طرح تن کر کھڑا تھا۔میں اسے دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبانپھیرتی بیٍڈ سے اٹھی تو سمیر نے میرا ہاتھ پکڑ لیا تو میں نے انکو اپنی چھوٹیانگلی دکھائی تو وہ مسکراتے ہوئے او کرکے رہ گئے ۔ آج میں انکے کمرےمیں تھی بلکہ اپنے اصل کمرے میں اپنے پریمی شوہر کیساتھ تھی میں باتھ روممیں گئی اور فارغ ہوکر باہر آئی تو دیکھا سمیر انڈوئیر اتار کر میرا انتظارکررہے تھے. انکا ہتھیار سیدھا کھڑا چھت والے پنکھے طرف رخ کئے مجھےاکسانے کا موجب بن رہا تھا ۔ میں نے بیڈ کے پاس جاکر اپنا پاجاما بھی اتار دیااور سمیر کیساتھ ہی ڈراز ہوگئی ۔ سمیر نے مجھے اہنے سے چمٹالیا اورچومنے لگے ۔ میں اسکی پیٹھ اور کولہوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔ ہم دونوں ایکدوسرے کی طرف منہ کئیے پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے ۔ اسکا شرارتی بلامیری ٹانگوں سے ٹکراتا میری بلی کی تلاش میں سرگرداں تھا ۔ میں نے اس کوہاتھ میں پکڑا تو میرے سارے بدن میں ایک شہوت کی لہر دوڑ گئی میں نےاسے تھوڑا سادبایا اور رانوں میں اپنی بلی کے اوپر رکھا تو سمیر آگے پیچھےہلنے لگا ۔ میں نے ابھی پینٹی پہنی ہوئی تھی سمیر نے ہاتھ سے کھینچ کر نیچےکی تو میں نے اسے اتار کر نیچے پھینک دیا ۔ سمیر نے میری برا بھی اتار دیاب میں بھی سمیر کی طرح مادرزاد برینہ ہوگئی سمیر نے تھوڑا اوپر ہوکرمیری پیشانی چومی اور پھر میری آنکھوں اور گال کو چومتے ہوئے ہاتھوںسے میرے یونٹ مسلنے لگے اور پھر گردن پر بوسوں کی بارش کردی ۔ میںنے مستی میں اپنی ٹانگ سمیر کی ٹانگوں کے اوپر رکھی تو بلے کو بلی سےملنے کا موقع مل گیا ۔بلے کی لمس سے بلی گیلی ہوگئی اور اسکے ہونٹ بھیگچکے تھے بلی کے دہن سے لعاب نکلنے لگا تو بلے کو بلی کو رگڑنا آسانہوگیا ۔ سمیر میرے ایک ممے کو منہ لیکر چوسنے لگا اور دوسرے کے نپل کوہاتھ سے مسلنے لگا تو میں مستی میں اسکے اور قریب ہوئی. سمیرنے میرےچوتڑوں کو پیچھے سے دباکر اپنے اور قریب کیا تو ٹوپا بلی کے دانے پر آ لگا۔ میں نے اسکو ہاتھ سے پکڑا اور نیچے سے خود ہل کر اپنے دانے پر رگڑنےلگی ۔ سمیر نے میری ناف پر بوسہ دیا اور ناف میں زبان ڈال کر اسے کھجانےلگا تو میرے بدن نے ایک جھرجھری لی اور میں تڑپ کر رہ گئی اس نے ہاتھبڑھا کر میری چوت کے دانے کو مسلا تو میں تڑپ کررہ گئی اسکی انگلیچوت کی لکیر کو کھجانے لگی۔ وہ ناف سے نیچے چومتے ہوئے میری پھدیکی طرف آنے لگا تو میں نے اسکا سر بالوں سے پکڑ کر اسے روکنا چاہا ۔اسکے گرم ساننس میری چوت سے ٹکرائے تو میں بے کل سی ہوگئی چوتکے دانے پر جب سمیر کی زبان کی نوک لگی تو میرا اوپر کا سانس اوپر اورنیچے کا سانس نیچے رہ گیا. میں تڑپ کر اٹھی اور اسکا سر وہاں سے اٹھاکرکہا ۔آپ یہ کیا کررہے ہو تو وہ کہنے لگے یہ سہاگ رات کو تحفہ ہے تمہارےلئے ۔ میں تمہارا رس پی کر تمیں آج وہ سواد دونگا جو تم کو پہلے کبھی نہیںملا ہوگا۔ اور اس طرح میں چاہتا ہوں ہماری سہاگ رات یادگار بن جائے ۔ لیکنسمیر یہ گندی ہے اور اس سے بدبو آرہی ہوگی. میں نے اسے قائل کرنے کیکوشش کی ۔ مگر وہ تو اسے چاٹنے کی ٹھان چکا تھا ۔ میں لیٹ گئی تو وہ میریٹانگوں کے درمیان آکر بیٹھ گیا اور میرے چوتڑوں کو ہاتھوں سے اوپر اٹھاکرزبان میری چوت پر رکھ دی ۔ مجھے بہت شرمندگی سی محسوس ہوئی مگرچند لمحوں کے بعد میں لذت سے تڑپنے لگی اور میں لذت کی انتہا پر اپنےچوتڑے اس کے ہاتھوں پر پٹخنے لگی اور سمیر میرے بہتے رس کی چسکیاںلیتا رہا میرا برا حال ہوگیا اور میں بن ماہی کی مچھلی کی طرح تڑپنے اورپھڑکنے لگی اس لذت سے میِ نا آشنا تھی آج تک ۔ مگر سمیر نے مجھے لذتوںکی انتہا دکھادی میں سر پٹختے منزل ہونے لگی تو میری پھدی نے اتنا رسچھوڈا کہ اتنا پہلے کبھی نہیں چھوڑا تھا ۔ میں لذت کے خمار سے مدہوش سیہوگئی ۔سمیر میری پھدی کا رس پینے میں لگا ہوا تھا ۔ نا جانے کتنی دیر بعد میںنے محسوس کیا سمیر مجھ پر چھایا میرے لب چوم رہا ہے میں نے اپنے ہونٹکھول دئیے تو اس نے اپنی زبان میرے منہ میں دے دی ۔ اسے چوستے ہوئےمجھے اپنی چوت کے رس کاسواد اچھا لگنے لگا ۔ میں زبان چوستی رہی ادھرسمیر کا لن میری پھدی پر دستک دیتا محسوس ہوا تو میں نے اپنی ٹانگیں اورکھول دیں تاکہ وہ آسانی سے اندر آسکے ۔ سمیر نے ایک تکیہ میرے چوتڑوںکے نیچے رکھا جس سے میری چوت اس کے لن کی ڈائریکشن میں آگئی میںنے ہاتھ میں لن کو پکڑ کر اپنی چوت کی لیکر پر مسلہ تو سمیر نے تھوڑا سادھکا لگاکر ٹوپا چوت کے اندر کردیا ۔ لذت کی ایک لہر ابھری اور میں نےنیچے سے چوتڑوں کو اوپر کی طرف پش کیا تو سمیرنے ایک زوردار جھٹکالگا کر سارا لن جڑوں تک میری پھدی میں اتاردیا ۔ میرے لبوں سے بے اختیارآہ نکلی تو سمیر وہیں رک گیا ۔ میں سمیر کو اپنے اوپر جھکا کر اسکےہونٹوں پر اپنی چوت کا رس چاٹنے لگی ۔ سمیر کے ہاتھ میرے مموں سےکھیلنے لگے ۔ گرم سانسوں اور لذت بھری سسکاریوں میں سمیر نے اپنا چپوچلانا شروع کردیا ۔ میں نیچے سے اسکے ہر جھٹکے کوجواب دیتی اور مزہلیتی میرے منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکلتیں رہیں. سمیر کے جھٹکوں کیشدت اسکی چوت سے دور رہنے اور ترسنے کی گواہ تھی. میں خود اسعرصہ میں اسکے لمس اور لن کے لئے بےتاب تھی ۔ اسکا ہر جھٹکا اور دھکامیری حسرتوں کو پورا کرنے میں معاون بن رہا تھا ۔ سمیر کے کانوں میںسرگوشیاں کرتی اور اسے اور زیادہ چوٹ مارنے کے لئے اکساتی ۔۔ جانی ذرااور ہٹ کے لگا مجھے ۔ ۔ اور زور سے سمیر اور زور سے ۔۔۔۔۔ تمہیں مجھسے پیار ہے تو میرا لحاظ کئے بغیر مجھے چود ڈال ۔۔۔۔۔۔ جانی میری پھدیایسے مار جیسے تمہیں آخری چانس ملا ہو۔۔ نا جانے میں کیا کیا اول فولبکتی رہی اور سمیر جوش میں آکر میری چوت کے بخیے ادھیڑنے لگا ۔اسکاایک ایک دھکا میرا اندر باہر ہلارہا تھا اور میں خوشی اور لذت سے سرشاروہ برداشت کررہی تھی کیونکہ میرا جانی میرا سمیر مجھے چود کر لذت میںڈوبتا جارہا تھا ۔ اسکے سانس بے ترتیب ہونے لگے تھے. اسکے ہاتھوں کیانگلیاں میرے پورے جسم کو سہلانے لگی ہوئی تھیں ۔ اور پھر اس نے میریٹانگیں اپنے شانوں پر رکھ لیں میرے گھٹنے میرے مموں پر آٹکے ۔ سمیرپوری شدت اور زور سے دھکے لگانے لگا میں مزہ لیتے ہوئے اہنے سمیرکے لئے خوش تھی کہ اس سواد آرہا ہے. آج سے پہلے سمیر نے ایسیزبردست چدائی نہ کی تھی مگر آج اس نے کوئی کسر نہ چھوڈی تھی.وہ واقعی سہاگ رات کو یاد گار بناکر رہا ۔ میں بھی یہی چاہتی تھی کہ اسےایسی لذت دوں کہ اسے پھر اسی پھدی کی خواہش شدید تر ہو ۔ ہمارے سانسوںکی بے ترتیب آوازوں ۔ لذت بھری سسکاریوں اور آہوں نے کمرے میں گونجتےہوئے ہمیں اور پرجوش کردیا ۔ میں تو کب کی فارغ ہوچکی تھی اور پھر سےلاوا ابلنے کو تھا ۔ میں سمیر کو چومتی اور اسکی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی رہی ۔ پھرنجانے کیا ہوا سمیر کے دھکوں نے ایک طوفانی صورت اختیار کرلی ایسا لگتاتھا وہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں ۔ اسکی دیوانگی میں آخری جھٹکوں کا سوادمیں کبھی نہیں بھلاسکونگی ۔ انہی جھٹکوں میں سمیر کے لن نے مجھےبھردیا اور وہ ہانپتے ہوئےمجھ پر گرا تو میں تو میں نے بمشکل اس کے شانوںسے اپنی ٹانگیں اتارکر اس کی پیٹھ کے گرد کیں اور اسے بے تحاشا چومنےلگی اسکے پسینہ کی مہک نے پورے کمرے کی فضا کو معطر کردیا تھا ۔ میںسمیر کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی اور باربار اسے اپنے ساتھ بھینچتی رہی تھوڑیدیر یونہی رہنے کے بعد سمیر کا لن میری چوت سے پھسل کر نکل گیا تو سمیرمیرے پہلو میں آکر لیٹ گیا وہ سیدھا لیٹا ہوا مجھے بہت پیارا لگ رہا تھا ۔ میںاسے چومنے لگی اور اسکے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی. اس کا سینہبہت تیزی سے اوپر نیچے ہورہا تھا جس سے اسکے نھنھےنھنھے نپلز اور بھیحسیں لگ رہے تھے ۔سمیر نے میرا سر اپنے بازو پر رکھا اور میرے سر میںانگلیوں سے کنگھی کرنے لگا ۔ میں کچھ دیر کے لئے اس کے ممیں کچھ دیر کے لئے اس کے مضبوط بازوؤںپر اونگھ گئی ۔ جب سمیر نے میری گردن پر ہونٹ رکھے تو میری آنکھ کھلیاور میں سمیر سےلپٹ گئی اور اسکے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا آئی لویو سمیر ۔ ۔۔۔۔ اس نے آئی لو یو ٹو کہتے ہوئے مجھے اپنے ساتھ زور سے لپٹالیا۔۔۔ اور پھر اس رات ہم نے تین 3 بار پیار محبت کا کھیل کھیلا ۔ ہماری پوریرات رتجگے میں گزرگئی ۔ ہم دونوں خوش تھے کہ اب ہم ہمیشہ کے لیے ایکہوچکے ہیں ۔ ہماری دلی مرادیں پوری ہوچکی تھیں ۔اس وقت اریبہ کی عمر 19 سال ہے جبکہ انیلا کے سمیر دو بیٹے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *