۔ میرا نام شیراز ہے, عمر ہے 28 سال۔۔
جسمانی طور پر مضبوط اور مناسب وزن کے ساتھ دراز قد بھی ہوں اور رنگت صاف ہے۔۔ سیکس کا تعارف میرے ساتھ بھی اسی طرح ہوا جیسےعموماً ہم سب کا ھوتا ہے… جی ہاں کسی دوست کی وجہ سے.. اب عمر کے اس حصے میں بس سوچ سوراخ
سے شروع ہوتی ہے اور سوراخ پر ہی ختم ہوتی ہے کہ بس کوئی نرم گرم سا سوراخ ھو اور میرا ہتھیار ہو۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی دوست کی۔۔ تو اس وقت میں کوئی آٹھویں کلاس میں ہوں گا۔۔ جب میں نے محسوس کیا کہ میرے کچھ دوست بریک کے وقت اپنا الگ گروپ بنا کر کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔ اور راز و نیاز کی باتیں چل رہی ہوتی ہیں۔۔۔ اور جب میں پاس جاتا ہوں تو سب خاموش ہو جاتے ہیں۔۔۔ پہلے تو میں اپنا وہم سمجھا۔۔۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ وہم یقین میں بدل گیا۔۔۔ شاید میں اس بات کو اتنی اہمیت نہ دیتا
اگر اس گروپ میں میرا بہت قریبی دوست سلیم بھی شامل نہ ہوتا ۔۔۔۔ سلیم میرا ہمسایہ بھی تھا اور
کلاس فیلو بھی تھا۔۔ ہم سکول بھی اکٹھے آتے جاتے تھے۔۔۔ اور سکول کے بعد بھی زیادہ تر ایک دوسرے کے گھر پائے جاتے تھے۔۔۔ کہنے کو وہ مجھ سے بس ایک سال بڑا تھا ۔۔۔۔
لیکن میرے پر رعب ایسے ڈالتا تھا جیسے11 سال کا فرق ھو۔۔۔ مجھے اس بہن چود پر
زیادہ غصہ تھا ۔۔۔۔۔ کہ سارا دن مجھے بہن پیش کرتا ہے ۔۔۔ اور سکول جا کر دوسروں کی گانڈ میں گھس جاتا ہے۔۔ اور جب میں سب پر غصہ کرتا ہوں۔۔۔ کہ مجھ سے چھپ کر باتیں کیوں کرتے ہو۔۔۔ تو سب کو منع بھی یہی بہن چود کرتا ہے۔۔کہ شیراز ابھی چھوٹا ہے اسکو کچھ نہیں بتانا۔۔۔ جب یہ سب میری برداشت سے باہر ہو گیا۔۔۔ تو ایک دن سکول سے واپسی پر میں سلیم سے لڑ پڑا۔۔۔ کہ یہ کیا بہن چودی لگائی ہوئی ہے ۔۔۔ یا تو آج مجھے بات بتا ۔۔۔۔ یا آج سے تیری میری دوستی ختم ۔۔۔ اس نے مجھے پھر سمجھانے کی کوشش کی کہ تھوڑے اور بڑے ہو جاؤ پھر بتا دوں گا۔۔۔ میں نے کہا جا دفع ہو اور آج کے بعد اپنی شکل نہ دیکھانا۔۔۔ سلیم نے جب دیکھا میں زیادہ تپ گیا ہوں۔۔ تو بولا۔۔۔ اچھا یار غصہ نہ کر شام کو گھر پر بات کریں گے۔۔۔ میں نے کہا وعدہ وہ بولا پکا وعدہ ۔۔
اور ہم گھر کی طرف چل پڑے ۔۔۔ شام کو میں وقت سے پہلے اس کے گھر پہنچ گیا ۔۔۔ وہ
لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رھا تھا ۔۔۔ اور اس کی امی لاؤنج کے ساتھ کچن میں تھیں۔۔۔
میں نے آنٹی کو سلام کیا اور سلیم کے پاس جاتے ہی کہا۔۔۔ چل شروع ہوجا اور بتا کیا چکر ہے؟ اس نے مجھے گھورا ۔۔۔ اور بولا۔۔۔ چل چھت پر چلتے ہیں ۔۔۔ تو کیا ادھر امی کے سامنے ہی شروع ہو گیا ہے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ اچھا یار سوری ۔۔ چل چھت پر چلتے ہیں۔۔ اور ہم اوپر آ گئے۔۔۔ سلیم بولا ۔۔۔ اسی لیے میں تجھے نہیں بتانا چاہ رہا تھا۔۔۔ کہ تجھ میں عقل تو ہے نہیں کہ کونسی بات کدھر کرنی ہے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ اچھا یار
سوری ۔۔۔ اب بتا بھی دے ایسی کونسی بات ہے جو کسی کے بھی سامنےنہیں ہو سکتی۔۔۔ ؟؟ سلیم بولا ۔۔۔ پہلے وعدہ کر کسی سے بھی یہ باتیں نہیں کرے گا۔۔۔
میں نے کہا پکا وعدہ ۔۔۔ سلیم سرگوشی میں بولا۔۔۔ تجھے پتہ ہے کہ بچہ کیسے ہوتا ہے؟
میں بولا نہیں مجھے نہیں پتا۔۔۔ وہ اپنی للے کی جگہ پر ہاتھ رکھ کربہت سنجیدہ شکل بناکر بولا۔۔ یہ جدھر ہماری نونو ہوتی ہے ۔۔۔ اس جگہ پر لڑکیوں کا سوراخ ہوتا ہے ۔۔۔
اور شادی کے بعد جب لڑکا اپنی نونو لڑکی کے سوراخ میں ڈالتا ہے تو بچہ ہوتا ہے۔۔۔
میں بولا۔۔۔ چل جھوٹا۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے امی ابو اتنا گندہ کام کیسے کرسکتے ہیں؟ سلیم بولا۔۔ الو ایسا ہی ہوتا ہے۔۔ اور ایسا سب کرتے ہیں۔۔۔ میں نے کہا تم کوکس نے بتایا؟
ظفر نے۔۔۔ سلیم نے بڑی کلاس کے ایک لڑکے کا نام لیا۔۔۔ جس سے سلیم کی دوستی تھی ۔۔۔ پھر سلیم بولا۔۔۔ اصل بات تو سن لے۔۔۔ میں نے کہا وہ کیا؟
سلیم بولا۔۔۔
ظفر کہتا ہے کہ لڑکی کے سوراخ میں ڈالنے کے لیے نونو کو بڑا اور پکا کرنا پڑتاہے۔۔۔ اسکے لیے روزانہ نونو کی تیل سے مالش کرنی ہوتی ہے ۔۔۔ تم اب بڑے ہو رہےہو۔۔۔ ابھی سے مالش نہ شروع کی تو تمہاری نونو کچی رہ جائے گی۔۔۔ اور بچہ نہیں ہوگا۔۔۔
میں نے سلیم سے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔۔ تو تم نے مالش شروع کر دی ہے؟
وہ بولا
ہاں تو اور کیا ۔۔۔۔ میرا تو اب پکا بھی ہونا شروع ہو گیا ہے۔۔۔
میں ناراضگی سے بولا۔۔۔
اور مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔
سلیم بولا۔۔۔ اب بتا تو رہا ہوں ۔۔۔۔ تم بھی شروع کر دو۔۔۔
میں بولا۔۔۔۔
مجھے تو مالش کرنی بھی نہیں آتی ۔۔۔
سلیم بولا ۔۔۔ ٹہرو میں کر کے دیکھاتا ہوں۔۔۔ تم ادھر رکو میں تیل لےکرآیا۔۔۔ اور بھاگتا ہوا نیچے چلا گیا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد واپس آیااور پینٹ کی جیب سے تیل کی بوتل نکالی ۔۔۔ سلیم کا گھر ڈبل سٹوری تھا ۔۔۔ اورارد گرد والے قریبی گھر سنگل سٹوری ۔۔۔ اس لیے سلیم کی چھت پر کسی کی نظر نہیں پڑ سکتی تھی ۔۔۔
بوتل نکال کر ۔۔۔ سلیم نے اپنی پینٹ اتاری ۔۔۔ اسے ننگا دیکھ کر مجھےبڑی شرم آئی ۔۔۔ لیکن مالش سیکھنا بھی ضروری تھا ۔۔۔ تو میں اسکو دیکھنے لگ گیا۔۔۔
سلیم کی نونو لٹک رہی تھی ۔۔۔ اس نے نونو پر تیل ڈاال ۔۔۔ اور مسلنا شروع کیا۔۔ اسکی نونو کھڑی ہو گئی ۔۔۔
سلیم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور بولا ۔۔۔ جب ایسے کھٹراہو جائے ۔۔۔ توہاتھ پر تیل لگا کر۔۔۔ اس کا سوراخ بنا کر۔۔۔ اس میں نونو ایسے آگےپیچھے کرتے ہیں ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ اپنا ہاتھ اپنی نونو پر چلانے لگا ۔۔۔
اس کو ایسا کرتے
دیکھ کر ۔۔۔۔ میرا دل بھی مچلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ اور میری نونو اکڑنے لگ گئی ۔۔۔ یہ
محسوس کرکے میں سلیم کو بڑے جوش سے بولا۔۔۔ اوئے ۔۔۔ میرا بھی کھڑا ہو گیا ہے۔۔۔
سلیم بولا ۔۔۔ جلدی سے تیل ڈال اور مالش شروع کر دے ۔۔۔
میں نے بھی اپنی پینٹ اتاردی۔۔۔ اور اپنی نونو دیکھی جو سخت ہورہی تھی ۔۔۔ میں نے سلیم کی طرح اس پرتیل ڈالا ۔۔۔
اور ہاتھ چلانا شروع کیا ۔۔۔ یہ تھی میری زندگی کی پہلی مٹھ۔ ۔۔ جو میں مزہ لینے کی
بجائے نونو کو بڑا اور پکا کرنے کے لیے لگا رہا تھا۔۔مجھے تب پتہ بھی نہیں تھا کہ اب یہ کبھی نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔۔۔ خیر اب میں دوبارہ اس گروپ کاحصہ بن گیا ۔۔ جس میں روزانہ نونو کو پکا اور بڑا کرنے پر باتیں ہوتی تھیں۔ اور سب اپنے تجربے بتاتے تھے۔۔۔ وقت گزرا۔۔۔۔ میں اور سلیم اپنی اپنی نونو پکی کرتے رہے۔۔۔
اس دوران پہلی دفعہ جب سلیم کی سفید گاڑھی منی نکلی ۔۔۔۔ تو اسے پہلی دفعہ مٹھ مارنے
کا مزا آیا ۔۔۔ اسے ظفر نے پہلے ہی منی کا بتایا ھوا تھا ۔۔۔ کہ جب سفید مادہ نکلنا شروع ہو جائے ۔۔۔ سمجھ تیری نونو پکی ھو کر لن بن گئی ہے۔۔۔۔ اس لیے منی نکلتی دیکھ کر
سلیم بڑا خوش ہوا۔۔۔ اگلی صبح جلدی میرے گھر آیا ۔۔۔ بڑے جوش سے مجھے خبر دی ۔۔۔
کہ اسکی نونو اب سے لن ہے۔۔۔۔۔ سکول میں بریک ٹائم اس خوشی میں سلیم نے سارے
گروپ کو کولڈرنک پلائی۔۔۔ آخر اس گروپ میں سب سے پہلے اسکی نونو پکی ھو کر لن
بنی تھی۔۔۔ مجھ سمیت باقی سب ابھی کچی نونو والے تھے۔۔۔ شام کو سلیم کی چھت پر جا
کر میں اسکے پیچھے پڑ گیا۔۔۔۔ مجھے منی دیکھنی ہے۔۔۔ آپس میں ہمارے شرم تو
تھی ہی نہیں۔۔۔ وہ فورا تیل لے آیا۔۔۔ پینٹ اور انڈر ویر اتارا۔۔۔ لن کو پکڑا۔۔۔ تیل ڈالا۔۔۔ اور
شروع ھو گیا۔۔۔ اسکے اور میرے لن کا سائز برابر ہی تھا۔۔ بلکہ میرا موٹا تھوڑا زیادہ
ہی تھا۔۔۔ سلیم لگا ہوا تھا۔۔۔ آخر کار تھوڑی دیر بعد۔۔۔ وہ چھوٹنے کے قریب ہوا تو۔۔۔ اسکے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکلنے لگیں۔۔۔ رنگ اسکا لال ہو گیا۔۔۔۔ میں اسکی حالت
دیکھ کر ڈر گیا۔۔۔ ادھر وہ چھوٹنا شروع ہوگیا۔۔۔ اور اس کی منی کے فوارے نکلنے لگے
۔۔۔ اور اس حرامی نے اپنے لن کا رخ میری طرف کر دیا۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کی
منی کے کچھ قطرے میرے ہاتھ پر گرے۔۔۔ اور میں نے اس کی ماں بہن ایک کرنی
شروع کر دی ۔۔۔۔ جبکہ وہ بہن چود میری حالت دیکھ کر قہقہے لگاتا رہا۔۔۔ میں غصے
سے بولا۔۔۔ یہ کیا بہن چودی ہے۔۔۔۔ سلیم ہنستے ہوئے بولا۔۔۔ بیٹا بڑا شوق تھا تجھے منی
نکلتی دیکھنے کا ۔۔۔ لے اب غور سے جی بھر کر دیکھ لے۔۔۔۔ میں نے جلدی سے چھت
پر لگی ٹونٹی کی طرف دوڑ لگائی اور رگڑ رگڑ کر اپنے ہاتھ دھوئے۔۔۔۔ اور سلیم کی
طرف دیکھا ۔۔۔ وہ اپنی پینٹ کی جیب میں سے ٹشو پیپر نکال کر اپنا لن صاف کر رہا
تھا۔۔۔۔ میں نے کہا بہن چود تو پورا انتظام کرکے آیا ہے۔۔۔ وہ ہنس کر بولاا۔۔۔ لن رکھنا ہے
تو انتظام بھی سارے ہونے چاہئیں۔۔۔ میں نے سلیم سے پوچھا۔۔۔ اچھا منی نکالتے وقت کیا بہت
درد ہوتا ہے ۔۔؟ اس نے کہا۔۔۔ نہیں بلکل بھی نہیں ہوتا۔۔۔ کیوں ۔۔۔؟ میں نے کہا۔۔ پھر تم وہ
عجیب عجیب آوازیں کیوں نکال رہے تھے؟ اورتمہارا رنگ بھی اتنا لال کیوں ھو رھا
تھا۔۔؟ سلیم بولا۔۔۔ بہن چود ۔۔۔ وہ آوازیں تو مزے کی وجہ سے نکل رہی تھیں اف تجھے کیا بتاؤں جب تیرا وقت آئے گا۔۔۔ تب تجھے پتہ لگےگا۔۔۔۔ اس کے تین چار مہینے بعد
۔۔۔۔ ہی دن رات کی مالش سے۔۔۔ آخر وہ دن آ ہی گیا۔۔۔۔ میں واش روم میں شاور کے نیچے
کھڑا نیم گرم پانی سے نہا رہا تھا۔۔۔۔ پانی لن پر گرنے سے آج عجیب مزہ آ رہا تھا ۔۔۔ ایسا
مزہ پہلے کبھی نہ آیا تھا۔۔۔۔ میں نے شاور فل کر دیا اور مکسر سے گرم پانی زیادہ کرنا
شروع کیا۔۔۔ ادھر تک کہ قابل برداشت رہے۔۔۔ میرا لن فل ٹائٹ ہوا کھڑا تھا۔۔۔ اس پر شاور
سے تیز اور گرم پانی گر رہا تھا۔۔۔ میں نے لن کو پکڑ کر ہلانا شروع کیا۔۔۔ اور ایک نئی دنیا میں پہنچ گیا۔۔۔۔ میں جتنا ہلاتا ۔۔۔ اتنا مزہ آتا۔۔۔ آہستہ آہستہ میں اپنی سپیڈ بڑھاتا ہی
چلا گیا۔۔۔ یہاں تک کہ مجھے لگنے لگا ۔۔۔۔ کہ میری ساری جان میرے لن میں آ گئی
ہے۔۔۔ میری آنکھیں خودبخود مزے سے بند ہو گئیں۔۔۔ اور میرے لن نے پہلی منی کے
فوارے نکل دیے۔۔۔۔۔ اس کے بعد مجھے ایسا سکون ملا۔۔۔ کہ اس کے بعد کی ساری
مٹھیں۔۔۔ وہ سکون ڈھونڈتے ماریں لیکن وہ سرور نہیں ملا ۔۔۔ خیراب میں بھی پکے لن کا
مالک بن چکا تھا۔۔۔۔ وقت گزرا میٹرک میں پہنچ کر مجھے اپنا الگ کمرہ مل چکا تھا۔۔۔
اور پڑھائی کے بہانے کمپیوٹر بھی کمرے میں آ چکا تھا۔۔۔ اب سلیم اور میں مٹھیں
مارنے کے علاوہ کمپیوٹرپر گیمزبھی کھیلتے تھے۔۔۔۔ ان دنوں سلیم کا ایک نیا دوست بنا۔۔۔
جس نے سلیم کو ٹرپل ایکس موویز کا بتایا۔۔۔ اور سلیم نے مجھے۔۔۔۔۔ اس کے بعد ہمارا
مشن شروع ھوا۔۔۔ ٹرپل ایکس موویزکی تلاش کا۔۔۔ اس میں بھی کامیابی سلیم گانڈو کو
ملی۔۔۔ ایک دوپہر وہ دوڑتا ہوا ۔۔۔ میرے کمرے کے دروازے کو روندتا ہوا کمرے میں آیا
۔۔۔ میں نے پوچھا ۔۔۔ اوئے کیا ہو گیا ہے؟؟ گانڈو اتنا بھاگ کس سے رہا ہے؟ سلیم نے
ڈرامائی انداز میں جیب سے ایک سی ڈی نکالی ۔۔۔ اور۔۔۔ میری طرف اچھالی۔۔۔ جومیں
نے کیچ کی اور کہا۔۔ بہن چود پھر کوئی نیو گیم لے آیا ہے۔۔؟ سلیم نے کمرے کا دروازہ
بند کرتے کہا۔۔۔ یہ وہ گیم ہے جو ہماری زندگی بدل دیےگی۔۔۔ میں بولا ۔۔۔ ڈرامے نہ کر
اور بتا یہ کیا ہے۔۔؟ سلیم بولا۔۔۔ باتیں کم اور کام زیادہ ۔۔۔ چپ کر کے سی ڈی لگا۔۔۔۔ میں
نے سی ڈی کمپیوٹر میں ڈالی۔۔۔ اور چلا دی۔۔۔ آگے کوئی فلم چلنا شروع ہوئی۔۔۔ میں بولا
اوئے گانڈو۔۔۔ یہ کونسی فلم ہے؟ سلیم بولا۔۔۔ وہی جس کے لیے تو اپنی بنڈ بھی دینے کو
تیار تھا۔۔۔۔ بلیو فلم۔۔۔۔ میں نے خوشی سے اچھل کر پوچھا ۔۔۔ واقعی ۔۔؟؟؟ سلیم اکڑ کے
بولا۔۔۔ تیری بہن کو لن ۔۔۔ جس کے پیچھے سلیم ہو۔۔۔ اور وہ نہ ملے۔۔۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتامیں نے
سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔ جس پر ابھی کسی نارمل فلم جیسا سین چل رھا تھا۔۔۔
کہا۔۔ یہ تو کوئی سادہ فلم لگ رہی ہے۔۔۔۔ اس کی سکرین بلیو تو نہیں ہے۔۔۔ ) اسوقت تک
ہمارے خیال میں یہی تھا۔۔۔ کہ بلیو فلم میں سارا کچھ ہلکی نیلی لائٹ میں ہوتا ھوگا۔۔۔
بمشکل کچھ نظر آتا ھو گا۔۔۔( سلیم بولا۔۔۔ گانڈو صبر کر لے۔۔۔ جب وہ والا سین شروع
ھوگا سکرین بلیو ہو جائے گی۔۔۔۔ اسی وقت سکرین پر موجود گورے نے گوری کو
پکڑا۔۔۔ اور۔۔۔ کسنگ شروع کی۔۔۔۔ ہم دونوں کی بولتی بند ہو گی۔۔۔۔ کسنگ کرتے گوری
نے گورے کی جینز اتاری۔۔۔ اور۔۔۔ اس کا لن اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔۔ اس
فلم نے تو واقعی میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی ۔۔۔۔ ایک تواس سے پہلے مجھے نہیں
پتہ تھا۔۔۔ کہ ایسے چوپا بھی لگواتے ہیں۔۔
اوپر سے دھندلی نیلی روشنی کے بجائے۔۔۔بلکل صاف ۔۔۔ اور۔۔۔ روشن سکرین۔۔۔۔ اوپر سے کمرے میں چھپ کر۔۔۔ کنڈی لگا کر۔۔۔ بیڈپر لیٹ کر۔۔۔۔ کام ڈالنے کے بجائے۔۔۔ دن کی روشنی میں۔۔۔ کسی سڑک کےکنارے۔۔۔ گاڑیکے ساتھ کھڑے ہو کر۔۔۔۔ چوپا لگواتا یہ گورا۔۔۔۔۔۔ میری اور سلیم کی بولتی بلکل بندادھر۔۔۔ گورا، اورگوری کے کپڑے اتر چکے تھے۔۔۔۔ گورے نے جب گوری کی پھدیچاٹنا شروع کی۔۔۔ میرے منہ سے نکلا۔۔۔ اخ گندہ۔۔۔۔ کدھر منہ ڈال رہا ہے۔۔۔۔ اس وقت سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔ کہ آگے چل کر خود میں نے کتنی پھدیاں چاٹنی ہیں۔۔۔۔ ادھر گورےنے گوری کی ٹانگیں اٹھائیں۔۔۔ اور۔۔۔ اپنا لوڑا اسکی چوت میں ڈالا۔۔۔ ادھر۔۔۔ ہم دونوں کے لوڑے نکل آئے۔۔۔ گورا جتنی سپیڈ سے گوری کوچود رہا تھا۔۔۔ اتنی ہی سپیڈ سےہمارے لوڑے۔۔۔ ہمارے ہاتھوں کو چود رہے تھے۔۔۔ لیکن ہمارے خیالوں میں بس گوریکی چوت تھی۔۔۔۔ یہ فلم دیکھنے سے دو چیزوں کا پتہ لگا۔۔۔۔ پہلی یہ کہ۔۔۔ سیکس کے لیےلڑکی کا بس ایک سوراخ نہیں ھوتا۔۔۔۔ پھدی کے ساتھ ساتھ گانڈ بھی ماری جاتی ہے۔۔۔اور۔۔ چوپے بھی لگوائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ دوسری یہ کہ۔۔۔ صنف نازک کو دیکھنے والیمیری نظر ہی بدل گئی۔۔۔۔ پہلے لڑکی۔۔۔ چاچا زاد ۔۔۔ تایا زاد ۔۔۔ یا خالہ زاد ۔۔۔ بہن تھی۔۔۔اورعورت۔۔۔ آنٹی۔۔۔ خالہ۔۔۔ یا۔۔۔ پھوپھو تھی۔۔۔ جبکہ اب سے میری نظر میں۔۔۔ وہ بس مموں۔۔۔ گانڈ ۔۔۔ اور پھدی ۔۔۔ کا مجموعہ تھی۔۔۔ اور آج سے زندگی کا مقصد تھا۔۔۔ تو بس۔۔۔پھدی کی تلاش۔۔۔ اب خیالی چوت نہیں اصلی چاہیئے تھی۔۔۔۔ میں نے سلیم کو کہا۔۔۔ بہنچود بہت ہو گئیں مٹھیں ۔۔۔ اب یا تو پھدی ڈھونڈ کر دے۔۔۔ یا پھر اپنی بنڈ دے۔۔۔۔ سلیمبولا۔۔۔ گانڈو حالت میری بھی ایسی ہی ہے۔۔۔ صبر کرلے ۔۔۔۔ کرتے ہیں کچھ ۔۔۔۔ لیکن کچھکام اتنے آسان بھی نہیں ہوتے ۔۔۔ اور ۔۔۔ اپنے وقت پر ہونے ہوتے ہیں۔۔۔ اور۔۔۔ وقت کیاچھی بات یہ ہے کہ۔۔۔ وقت ۔۔۔۔ گزر جاتا ہے۔۔۔ ہمارا بھی گزر گیا۔۔۔۔ امی کو اپنی چکوالوالی بہن کی یاد آئی۔۔۔ اور۔۔۔ میرا آیا اچھا وقت۔۔۔ پہلے کبھی امی چکوال جانے کاکہتی۔۔۔۔ تو میرا موڈ خراب ہو جاتا۔۔۔ کیونکہ چکوال والی خالہ سے امی کی دوستی اتنی تھی۔۔۔ کہ امی جاتیں تھیں۔۔۔ تو جلدی واپسی نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔ کم از کم ہفتہ لگ جاتاتھا۔۔۔ اور۔۔۔ میرا ادھر دل نہیں لگتا تھا۔۔۔۔ کہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔۔۔ اور۔۔۔ خالومسقط میں ہوتے تھے۔۔۔ تو مجھے کمپنی دینے۔۔۔ یا ۔۔۔۔ باہر گھمانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ لیکناس دفعہ ۔۔۔ امی سے بھی زیادہ ۔۔۔ چکوال جانے کے لیے میں پرجوش تھا۔۔۔۔ اس کی وجہیہ تھی۔۔۔ کہ ان کا بیٹا نہیں تھا۔۔۔۔ تو کیا ہوا ۔۔۔ بیٹیاں تو تھی ناں۔۔۔ اور۔۔ وہ بھی دو عددجن میں سے بڑی کی شادی ہوئی۔۔۔ اور شادی کے ایک سال بعد ہی ۔۔۔ اس کے شوہر کیکار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہو گئی۔۔۔ اور وہ واپس خالہ کی طرف آ گئی۔۔۔ تو خیر۔۔۔ امی کوبہت حیرانگی تھی۔۔۔ کہ میں اتنے آرام سے چکوال جانے کے لیے کیسے مان گیا ہوں۔۔۔اب ان کو کیا پتہ ۔۔۔ کہ میں چکوال جانے کے لیے پرجوش کیوں نہ ہوتا۔۔۔ آخر دو پھدیوںکی قربت ملنے والی تھی۔۔۔۔ جانے کا فائنل ہوا ۔۔۔ تو سب سے پہلے۔۔۔ میں نے۔۔۔ سلیم کوبتا کر۔۔۔ اس کی گانڈ میں آگ لگائی۔۔۔۔ اگلے دن شام تک ہم خالہ کے گھر پہنچ گئے ۔۔۔ان کی بیٹیوں سے ملاقات میری پہلے بھی تھی۔۔۔ لیکن پہلے میں نے ان کو اس نظر سےنہیں دیکھا تھا۔۔۔ آج دیکھا۔۔۔ تو پتہ لگا۔۔۔ کہ یہ تودونوں کمال کی ہیں۔۔۔ لیکن جو قیامت۔۔۔۔بڑی سعدیہ تھی ویسی۔۔۔ نادیہ نہیں تھی۔۔۔ میرے سےتین سال بڑی تھی۔۔۔ اس وجہ سے۔۔۔ میں ان کو سعدیہ باجی کہتا تھا۔۔۔ باجی سعدیہ کافی شوخ مزاج تھی۔۔۔ اور۔۔۔ تھی بڑی سیکسی سی۔۔۔ چھتیس سائز کے ممے تھے۔۔۔ جو قمیض میں بھی باہر کو نکلے نظر آتے تھے۔۔۔اور موٹی موٹی آنکھیں۔۔۔ پیٹ نہ ھونے کے برابر تھا۔۔۔ اور ۔۔۔ ان کی گانڈ تو کمال کیتھی۔۔۔ بلکل گول ۔۔۔ اور ۔۔۔ باہر کو نکلی ہوئی۔۔۔ انہوں نے کپڑے بھی بڑے فٹنگ والےپہنے تھے۔۔۔ جس سے ان کے ممے ۔۔۔ اور گانڈ ۔۔۔ بلکل نمایاں نظرآ رہی تھی۔۔۔ اور جبوہ چلتی۔۔۔ تو پیچھے سے ہلتی ھوئی گانڈ کا نظارا ھی الگ ھوتا تھا۔۔۔ رنگ تھوڑاگندمی۔۔۔ مگرصاف تھا ۔۔۔ اور رنگ میں کشش تھی۔۔۔ ۔ مجھے تو یہی خیال آیا۔۔۔ کہ ایکسال کی شادی میں ان کے مرحوم شوہر نے ان کو بہت احتیاط سے چودا ہے۔۔۔ سعدیہ کودیکھ دیکھ کر میرا لوڑا بے قابو ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔ نادیہ میرے سے چار سال چھوٹی تھی۔۔۔رنگ گورا تھا۔۔۔ چہرے پر معصومیت تھی۔۔۔ موٹی تو نہیں۔۔۔ لیکن جسم تھوڑا بھرا بھراسا تھا ۔۔۔ قد مناسب سا تھا اور۔۔۔ ممے قمیض میں اتنے نمایاں نہیں تھے۔۔۔ اس وجہ سےگول مٹول سی لگتی تھی۔۔۔ خالہ وغیرہ نے بہت خوشی اور چاہت سے ہمارا استقبال کیا۔۔۔اپنی کزنز سے دوستی میری پہلے بھی تھی۔۔۔ لیکن اب تو میں اور زیادہ گھل مل رہا تھا۔۔۔گپیں لگا رہا تھا۔۔۔ ہنسی مزاق کر رہا تھا۔۔۔ کہ یہ فرینک ہوں گی تو بات بن جائے گی۔۔۔۔خالہ بولی۔۔ شیراز! ہردفعہ تم آتے ہی دوسرے دن واپسی کا شور ڈالتے ہو۔۔۔ لیکن اس دفعہمیں پہلے بتا رہی ہوں۔۔۔ میں نے کم از کم ایک ہفتے سے پہلے تم لوگوں کو نہیں جانےدینا۔۔۔ میں شوخی سے بولا خالہ! بس ایک ہفتہ۔۔۔ میں اور امی تو ایک مہینے کا زہن بناکر آئے تھے۔۔۔ خالہ بڑے جوش سے بولیں۔۔۔ ہائے خالہ صدقے۔۔۔ کاش تم واقعی اتنےاچھے ہو جاؤ کہ مہینہ رہ سکو۔۔۔ تم تو دو دن میں ہم سے تنگ پڑ جاتے ہو۔۔۔ باجی پتہنہیں کتنی منتیں ترلے کر کے تمھیں منا کر لائی ہیں۔۔ یہ سن کر امی بولیں۔۔۔ نہیں اس دفعہتو یہ خود بڑی خوشی سے آیا ہے۔۔۔ خالہ حیران ہو کر بولیں ۔۔۔ یہ معجزہ کیسے ہوگیا۔۔۔میں نے ہنس کرکہا ۔۔۔ خالہ! اب مجھے عقل آ گئی ہے۔۔۔ یہ سن کے سب ہنس پڑے۔۔میں نے کہا ۔۔۔ خالہ! اصل میں۔۔۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں۔۔۔ خود گھوم پھر سکتا ہوں۔۔۔چکوال کا میں نے بہت سنا ہے۔۔۔ ادھر گھومنے پھرنے کی بہت سی جگہیں ہیں۔۔۔ آپبس مجھے جگہوں کا بتاتی جانا۔۔۔ گھوم میں خودہی لوں گا۔۔۔ یہ سن کر نادیہ بولی۔۔۔ساری جگہوں کا میں بتاؤں گی۔۔۔ لیکن آپ اکیلے نہیں جاؤ گے۔۔۔ میں اور باجی بھی آپکے ساتھ جائینگے۔۔۔ امی ہمیں اکیلے جانے نہیں دیتیں۔۔۔ اور۔۔۔ نہ خود ساتھ لیکر جاتیںہیں۔۔۔ خالہ نادیہ کو گھور کر بولیں۔۔۔ ایک تو تمھاری شکایتیں ختم نہیں ہوتیں۔۔۔ امیبولیں۔۔۔ کیوں ڈانٹ رہی ہو بچی کو؟ صحیح تو کہہ رہی ہے۔۔۔ شیراز ہے تو بچیاں بھیگھوم پھر لیں گی۔۔۔ سارا دن گھر بیٹھ کر بور ہوتی ہیں۔۔۔ ویسے بھی آج کل چھٹیاں ہیہیں۔۔ خالہ بولیں۔۔۔ اس نے اس سال میٹرک کے امتحان دینے ہیں۔۔۔ اس کی تیاری کے لیےاس کے سکول میں سمر کیمپ چل رہا ہے۔۔۔ روزانہ صبح چار گھنٹے کے لیے انکو بلاتےہیں۔۔۔ نادیہ بولی۔۔۔ ہاں تو وہ تو صبح چھ سے گیارہ تک ہوتا ہے۔۔۔ اس وقت تک تو باجی بھیسو رہی ہوتی ہیں ۔۔۔ اور شیراز بھائی بھی جلدی کدھر اٹھتے ہوں گے۔۔۔ گھومنے تو شام کوہی جانا ہوگا۔۔۔ خالہ بولی۔۔۔ اتنا دماغ پڑھائی میں لگاو تو آرام سے ڈاکڑ بن جاؤ۔۔۔مجھے تو پہلے ہی انکے قریب رہنے کا بہانہ چاہیے تھا۔۔۔ میں جلدی سے بولا۔۔۔ ہاں خالہمیں نے کونسا اتنی صبح جانا ہے۔۔۔ شام کو ہیجایا کروں گا۔۔۔ تو ان دونوں کو بھیساتھ لیے جاؤں گا ۔۔ میرا بھی ساتھ بن جائے گا۔۔۔ خالہ نادیہ کو بولیں۔۔۔ اچھا دیکھتےہیں۔۔۔ ابھی جا کرکچن میں بہن کی مدد کرو۔۔۔ خالہ اور بھائی کے کھانے پینے کا بندوبستکرو۔۔ نادیہ خوش ہو کر بولی۔۔۔ سب تیار ہے۔۔۔ باجی بس سلاد بنا رہی ہیں۔۔۔ میں جا کرٹیبل سیٹ کرتی ہوں۔۔۔ خالہ کا گھر چھوٹا لیکن کافی صاف ستھرا تھا۔۔۔ اور۔۔ سجاوٹ بھیاچھی ہوئی تھی۔۔۔ دو بیڈ روم ود اٹیچ واش روم تھے۔۔ ٹی وی لاؤنج کے ساتھ کچن اورڈرائینگ روم تھا۔۔ باہر صحن تھا جس میں کافی بڑا نیم کا درخت لگا تھا۔۔ جسکی وجہسے صحن میں چھاؤں رہتی تھی۔۔ اوپر سیڑھیوں کے ساتھ ایک کمرہ تھا۔۔ جس میں فالتواور پرانا سامان پڑا تھا۔۔۔ میں لاؤنج میں بیٹھا سعدیہ کوکچن میں کام کرتا دیکھ رھا تھا۔۔۔اس کے مموں۔۔ اور۔۔ مٹکتی گانڈ کے نظارے لیتا سوچ رہا تھا۔۔۔ کہ گھر میں ایسی کونسیجگہ ہو سکتی ہے جدھر میں اس جوانی کا مزہ لے سکوں گا۔۔۔ پھر سوچا ابھی سعدیہکو سیٹ تو کر لوں باقی بعد میں سوچیں گے۔۔۔ رات کا کھانا کھا کر ہم ٹی وی دیکھناشروع ھو گئے۔۔۔ نادیہ لوڈو لے آئی۔۔۔ میں سعدیہ اور نادیہ کھیلنے لگ پڑے۔۔۔ نو بجےخالہ اٹھ گئیں اور بولیں۔۔ میں تو سونے لگی ہوں۔۔۔ صبح فجرٹائم اٹھنا ہوتا ہے۔۔۔ امی کامجھے پتہ تھا کہ وہ بھی فجر کے لیے اٹھتی ہیں۔۔۔۔ اس لیے وہ بھی رات جلدی سو جائیںگی۔۔۔ اور وہی ہوا خالہ کے اٹھتے ہی وہ بھی اٹھ گئیں۔۔۔۔ خالہ نے سعدیہ سے پوچھا۔۔۔بستر لگا دئے ہیں؟ وہ بولی ہاں جی۔۔۔۔ خالہ نادیہ سے بولیں۔۔۔۔ جلدی گیم ختم کرو اور آکر سو جاؤ۔۔۔ صبح تم سے اٹھا نہیں جاتا۔۔۔۔ وہ بولی ہاں جی بس میں آئی۔۔۔۔ اب امی کیباری تھی۔۔۔ وہ بولی ۔۔۔۔ شیراز تم بھی جلدی سو جانا یہ نہ ہو ساری رات ٹی وی کےدیھان لگے رہو۔۔۔ گرمی بھی بہت ہے۔۔۔۔ میں بولا۔۔۔ اچھا ماں جی۔۔۔ آپ دونوں ماؤں کیکلاس ختم ہو گئ ہو تو ہم گیم پر دھیان دے لیں۔۔۔ یہ سعدیہ باجی ہمیں آپ کی طرف توجہ دیکھ کرچیٹنگ کئے جا رہی ہیں۔۔۔ سعدیہ بولی۔۔۔ جھوٹے میں نے کونسی چیٹنگ کی ہے۔۔۔ میںنے کہا۔۔۔ ابھی آپکی دو گوٹیاں اندر تھی ۔۔۔ اب ایک رہ گئی ہے ۔۔۔۔اور باہر والی گھرکیسے پہنچ گئیں؟؟ وہ بولی ۔۔۔ میرے چھ بھی تو اتنے آئے تھے۔۔۔ نادیہ بولی۔۔۔ ہاں سارےآپکے ہی تو آتے ہیں۔۔۔ گیم کا نتیجہ یہ آیا کہ۔۔۔ تھوڑی دیر میں سعدیہ جیت گئی۔۔۔ میںدوسرے نمبر پر آیا۔۔۔۔ میں بولا باجی آپ چیٹنگ سے جیتی ہو۔۔۔۔ وہ بولی تم ابھی بچےہو۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ چلیں آپ کی یہ غلط فہمی دور کر دیتا ہوں ۔۔۔ ایک اور گیم ہو جائے۔۔۔انہوں نے کہا ۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ دوسری گیم میں جیت گیا ۔۔۔ اب سعدیہ بولی ۔۔۔ تم چیٹنگسے جیتے ہو۔۔۔ چلو بیسٹ آف تھری ہو جائے۔۔۔ میں نے اوکے کہا ۔۔۔ اب نادیہ بولی ۔۔۔میں تو سونے چلی ۔۔۔ آپ دونوں کھیلیں ۔۔ میں ویسے بھی دونوں بار ہاری ہوں ۔۔۔ ہم نےکہا اوکے ۔۔ اور گوٹیں سیٹ کرنی شروع کی ۔۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ آج گرمی بہت ہے ۔۔۔ یہکہہ کر اس نے سینے پر لیا ہوا دوپٹہ اتار کے سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ اب اس کے بڑےبڑےممے میرے سامنے اکڑ کے کھڑے تھے۔۔ آف وائٹ قمیض میں بلیک بریزیر اور اسمیں قید ممے صاف نظر آ رہے تھے ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا ابھی قید توڑ کر باہر آ جائیں گے۔۔۔ ہم دونوں آمنے سامنے نیچے قالین پر بیٹھے تھے ۔۔۔ درمیان میں لوڈو تھی ۔۔۔ سعدیہکی قمیض ڈیپ نیک والی تھی ۔۔۔ اب ہو یہ رہا تھا ۔۔۔ کہ جب سعدیہ باری کرنے یا اپنیگوٹ چالنے جھکتی ۔۔ تو اس کی کیلویج اورہاف کپ برا ۔۔۔۔ جس نے اس کے گندمیمموں کے نپلززتک کے حصے کو بمشکل قید کیا ہوا تھا ۔۔۔ یعنی نپلز سے اوپر والاسارا ننگا حصہ ۔۔۔ سب نظر آتا تھا ۔۔ اب میں نے گیم خاک کھیلنی تھی ۔۔۔ میری نظرمموں سے ہٹتی تو گیم پر جاتی ۔۔۔ نہ میری نظریں میرے قابو میں تھیں ۔۔۔ اور نہ میرالوڑا ۔۔۔ انڈر وئیر نہ پہنا ہوتا اور پینٹ لوز فٹ نہ ہوتی تو اب تک میرا پول کھل چکاہوتا ۔۔۔ گیم کا نتیجہ وہی ہوا جو دھیان نہ ہونے کی وجہ سے ہونا تھا ۔۔۔۔ یعنی میں بریطرح ہار رہا تھا ۔۔۔ ایسے میں سعدیہ مجھے چڑاتے ھوئے ڈبل باری کرنے لگی ۔۔۔ جو وہمجھے اپنے مموں میں الجھا کر۔۔۔ پہلے بھی پتہ نہیں کتنی بار کر چکی تھی ۔۔۔ لیکن اسدفعہ مجھے پتہ لگ گیا ۔۔۔ اور میں نے شور ڈال دیا ۔۔۔ کہ ڈبل ڈبل باریاں کر رہی ہو۔۔۔ساتھ ہی میں نے ڈبی اور دانہ اس کے ہاتھ سے چھیننے کے لیے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔ اسنے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے سر کے پیچھے کیا ۔۔۔میں آگے ہوا ۔۔۔ اور ہماری آپس میں زور آزمائی شروع ہوگئی۔۔۔ دھکم پیل میں سعدیہ لیٹگئی ۔۔۔ اور میں لوڈو کو بچاتے بچاتےسعدیہ کے اوپر گر گیا ۔۔۔ اس کے ممے میرے سینے میںکھب گئے۔۔۔ میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا ۔۔۔ اور اپنے لن سے سعدیہ کی پھدی پر دو تینگھسے لگا دئے۔۔۔۔ کپڑوں کی وجہ سے سعدیہ کو تو محسوس نہ ہوا ۔۔۔ لیکن مجھے بہتمزا آیا ۔۔۔ میرے ہونٹ سعدیہ کے ہونٹوں کے بہت قریب تھے ۔۔ ہم ایک دوسرے کیسانسوں کو اپنے چہروں پر محسوس کر سکتے تھے۔۔۔۔ ہماری نظریں ملیں ۔۔۔ تو سعدیہنے جلدی سے مجھے ڈبی پکڑائی ۔۔۔ اور سائیڈ پر دھکیل دیا ۔۔۔۔ دھکے کی وجہ سے میںلوڈو پر گرا ۔۔۔ اور ساری گیٹیاں اپنی جگہ سے ہل گئیں ۔۔۔ یہ سب اتنی سپیڈ سے ہوا کہسعدیہ کو محسوس بھی نہ ہوا۔۔۔ ہم دونوں اپنی اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئے۔۔۔ سعدیہ بولی۔۔۔ اب بہت رات ہو گئی ہے سونا چاہیئے ۔۔۔ ورنہ صبح امی سے بہت کلاس لگے گی ۔۔۔اور ویسے بھی گیم تومیں جیت ہی چکی تھی ۔۔۔ میری آخری گوٹ تھی ۔۔۔ اور تمھاری دورہتی تھیں۔۔۔ میں نے کہا ۔۔ آپ نے چیٹینگ کی تھی ۔۔ سعدیہ بولی ۔۔۔ کیا چیٹینگ کی میںنے۔۔۔؟ میں بولا ۔۔۔ آپ نے میرا دیھان گیم سے ہٹا دیا تھا۔۔۔ وہ بولی ۔۔۔ وہ کیس طرح ۔۔۔ ؟اب میں اسے کیا بتاتا ۔۔ کہ اپنے ممے دکھا دکھا کر۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ چھوڑیں اور بتائیںمیرا روم کونسا ہے۔۔۔؟ وہ بولی ۔۔۔ بھائی ہم غریبوں کے گھر دو ہی کمرے ہیں ۔۔۔ اورصرف امی والے روم میں اے سی لگا ہوا ہے ۔۔۔ اس لیے سب کے بستر ادھرہی ہیں ۔۔۔میں نے کہا ۔۔۔ آپ دو کمرں کی بات کر کے شرمندہ کر رہی ہیں ۔۔۔۔ اتنا پیارا گھر ہے ۔۔۔اور اس سے بھی پیارے اس میں رہنے والے لوگ ۔۔۔۔ سعدیہ نے میری طرف دیکھا اوربولی ۔۔۔ عمر چھوٹی ہے اور باتیں بڑی بڑی ۔۔۔ میں بولا آپ جو مجھے چھوٹا بچہ سمجھرہی ہیں ۔۔۔ بہت جلد آپ کی یہ غلط فہمی دور کر دوں گا ۔۔۔ سعدیہ ہنس کر بولی ۔۔۔ اچھاجی دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔ ہم دونوں یہی باتیں کرتے خالہ کے کمرے کے داروزے پر پہنچگئے ۔۔۔ سعدیہ نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اور دروازہ کھول کر اندر داخلہوتے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ کمرے کے اندر نائٹ لائٹ کی مدہم سیروشنی تھی ۔۔۔ سامنے ڈبل بیڈ پر امی اور خالہ سورہی تھیں ۔۔۔ بیڈ کے ساتھ نیچے قالینپر بستر بچھا تھا ۔۔۔ جس پر نادیہ سو رہی تھی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ جگہ خالی تھی ۔۔
