?>

باجی اور بادشاہ۔

میرے نام کاشف ہے میرے گھر میں میری ماں میرے والد ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹی بہن ہے ویسے تو میرے والد ایک گاؤں میں رہتے ہیں زمین جائیداد بہت ہے اور بہت بڑا کاروبار ہے پر پھر بھی ہم گاؤں میں ہی رہتے ہیں میرے والد کو گاؤں کا ماحول بہت پسند ہے وہ یہیں وہ اسی گاؤں میں پیدا ہوئے پلے بڑھے شادی بھی اسی گاؤں میں کی اسی وجہ سے انہوں نے کبھی شہر میں رہنے کا نہیں سوچا اب آتے ہیں حقیقی کہانی پر میں عمر سات سال ہے اور پچھلے ایک سال سے میں جیل میں ہوں میرا دماغ بہت تیز ہے چیزوں کو جلدی ہی سمجھ جاتا ہوں جیسے کوئی بالغ انسان اب سوال یہ کہ میں جیل میں کیوں ہوں تو اس کی وجہ ہے میرا بھائی ایک سال پہلے میں میرا بھائی اور ہمارے کچھ دوست گاؤں کے ایک میدان میں کرکٹ کھیل رہے تھے کسی بات پر میرے بھائی کا ایک لڑکے سے جھگڑا ہو گیا اور غصے میں بھائی نے اسے بیٹ مار دیا جس سے اس کی موت ہو گئی پر بھائی نے جب اسے مارا تو اس کے فوراً بعد وہ بیٹ میرے ہاتھ میں پکڑا دیا جب باقی لڑکوں نے دیکھا تو ان کو لگا کہ میں نے اسے مارا ہے بس اسی وجہ سے مجھے سات سال کی سزا سنائی گئی اور آج اسی وجہ سے پچھلے ایک سال سے میں جیل میں ہوں

جب گھر والوں کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ بہت غصہ ہوئے میری بات بھی نہیں سنی اور میرے والد نے کہہ دیا کہ میں ان کے لیے مر گیا ہوں بات ہی ایسی تھی پر مجھے افسوس ہوا کہ کم سے کم ان کو ایک بار مجھے میری صفائی کا موقع تو دینا چاہیے تھا اور میری ماں نے بھی میری بات نہیں سنی اس وقت میری چھوٹی بہن ماں کے پیٹ میں تھی میں جیل میں ہی تھا جب چھوٹی پیدا ہوئی

خیر شروع میں تو مجھے مسئلہ ہوا پھر میں نے خود کو سنبھال لیا اس ایک سال میں میرے گھر سے کوئی بھی مجھے ملنے نہیں آیا میں نے بھی اس زندگی کو قبول کر لیا تھا پھر بھی گھر والوں کی بہت یاد آتی تھی پر کچھ کر نہیں سکتا تھا پر شکر ہے کہ یہاں کا جیلر اچھا انسان تھا جو یہاں پر آنے والوں بچوں کو پڑھاتا ان کو بہت پیار سے رکھتا تھا میں بھی وہیں رہ کر پڑھنے لگا تھا میں وہاں کسی سے کوئی بات نہیں کرتا تھا یا پھر کوئی مجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ میں وہاں اکیلا تھا جو خون کے الزام میں آیا تھا اسی لیے سبھی مجھ سے شاید ڈرتے تھے اور مجھے بھی فکر نہیں تھی کسی کی خیر ایسے ہی چلتا رہا اور مزید ایک سال اور گزر گیا نہ مجھ سے کوئی ملنے آیا نہ کسی نے بات کی

پر دو سال بعد میرے ساتھ ایک حادثہ ہوا جس سے میری زندگی بدل گئی ہوا کچھ ایسے کہ ہم کچھ لڑکے صفائی کر رہے تھے جلد بازی میں ایک لڑکے کا پاؤں پھسل گیا اور وہ مجھ پر آ گرا اس کے مجھ پر اچانک گرنے سے میں سنبھل نہ سکا اور پیچھے کی طرف گرا جس سے میرے سر کے پیچھے بہت چوٹ لگی میرے سر سے بہت خون بہنے لگا اور میں بے ہوش ہو گیا

جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھا جب میں نے آس پاس دیکھا تو کوئی نہ تھا تھوڑی دیر بعد ایک نرس اندر آئی مجھے ہوش میں دیکھ کر فوراً ڈاکٹر کو بلایا ڈاکٹر نے میرا چیک اپ کیا تو نرس سے کچھ بات کر کے مجھے ایک انجکشن لگایا اور چلا گیا

تھوڑی دیر بعد جب میں پھر سے اٹھا تو جیلر میرے پاس بیٹھا تھا جیلر اب کیسے ہو بیٹا میں ٹھیک ہوں مجھے کیا ہوا تھا جیلر تم کو چوٹ لگی تھی اور تم بے ہوش ہو گئے تھے میں اٹھنے لگا تو جسم میں کمزوری محسوس ہوئی جیلر لیٹے رہو تم ابھی کمزور ہو میں میں کتنے دن سے بے ہوش ہوں جیلر چھ مہینے ہو گئے ہیں میں کیا جیلر ہاں تم پچھلے چھ مہینے سے بے ہوش ہو میں واپس کب تک جا سکتا ہوں جیلر کم سے کم سات دن ایک بات پوچھوں میں جی جیلر تمہارے گھر سے آج تک کوئی نہیں آیا تم سے ملنے جب سے تم ہسپتال میں ہو میں پتہ نہیں میں نہیں جانتا میں جب سے جیل میں ہوں تب سے کوئی نہیں آیا جیلر تم سے ملنے آج تک کوئی کیوں نہیں آیا میں پتہ نہیں

اس کے بعد میں نے اس سے تھوڑی دیر بات کی پھر وہ چلا گیا سات دن میں ہسپتال میں ہی رہا پھر واپس جیل میں آ گیا واپس آ کر مجھے بہت سے نئے لڑکے دکھے جن میں سے ایک تھوڑا عجیب لگا مجھے وہ سب سے الگ بیٹھا تھا نہ وہ کسی سے بات کر رہا تھا نہ ہی کوئی اس کی طرف دیکھ رہا تھا باقی سب کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کے ساتھ بیٹھا تھا دو دن میں اسے ہی دیکھتا رہا نہ کسی نے اس پر غور کیا نہ کسی نے بات کی وہ بہت اداس دکھ رہا تھا دو دن بعد میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا میں کیا نام ہے تمہارا میری اس بات پر وہ مجھے ایسے گھور کر دیکھنے لگا جیسے میں کوئی بھوت ہوں پھر وہ اسی طرح خاموش بیٹھا رہا میں تم سے جی پوچھ رہا ہوں کیا تم بول سکتے ہو میری اس بات پر وہ پھر مجھے گھور کر دیکھنے لگا مجھے لگا کہ شاید وہ بول نہیں سکتا اسی لیے اس سے پوچھا کیا تم بول سکتے ہو میں کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو جیسے میں کوئی بھوت ہوں لڑکا کیا تم مجھ سے بات کر رہے ہو میں میرا خیال ہے مجھ سے بات کرنے کے لیے یہاں لائن لگی ہے نہیں نا تو ظاہر ہے تم سے ہی بات کر رہا ہوں لڑکا کیا تم سچ میں مجھ سے بات کر رہے ہو میں ارے بھائی تیرے ساتھ بیٹھا ہوں تو تجھ سے ہی بات کروں گا کوئی جن تو ہے نہیں جس سے میں بات کروں لڑکا اگر میں کہوں کہ میں بھوت ہوں تو اس کی اس بات پر میں ہنسنے لگا اور میرے آس پاس کے لڑکے مجھے دیکھنے لگے جب میں نے ان سب کی طرف دیکھا تو مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے میں کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہو سب جاؤ اپنا کام کرو لڑکا چلو میرے ساتھ کہیں اور جا کر بات کرتے ہیں جہاں کوئی نہ ہو میں ہاں چلو ویسے بھی یہ سب مجھے عجیب طرح سے دیکھ رہے ہیں لڑکا ہاں چلو

اس کے بعد ہم ان سب سے الگ جا کر بیٹھ گئے میں اب بتاؤ تمہارا نام کیا ہے لڑکا میرا نام فہد ہے میں اچھا نام ہے یہاں کس جرم میں آئے ہو فہد چوری اور تم میں مایوسی سے قتل فہد کیا میں ہاں اب اگر تم چاہو تو تم بھی جا سکتے ہو فہد میں کیوں جاؤں اور کہاں میں جس کو بھی پتہ چلتا ہے کہ میں نے قتل کیا ہے وہ بھاگ جاتا ہے کوئی بات نہیں کرتا فہد فکر نہ کرو میں ہوں نا اسی طرح ہماری دوستی ہو گئی اور چھ مہینے گزر گئے ایک دن مجھے ایک بات پتہ چلی جسے سن کر مجھے بہت ڈر لگا

ایک دن فہد اور میں بات کر رہے تھے کہ جیلر آ گیا جیلر کاشف بیٹا کس سے بات کر رہے ہو میں ارے انکل یہ ہے نا فہد اس سے بات کر رہا ہوں جیلر کون فہد بیٹا یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے میں ارے یہیں تو بیٹھا ہے میرے ساتھ میں نے فہد کو دیکھا جو مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا جیلر پر یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے تم کس فہد کی بات کر رہے ہو میں ارے آپ کو نظر نہیں آ رہا یہیں تو بیٹھا ہے بارہ نمبر شرٹ پہن کر جیلر ایک منٹ ایک منٹ کیا نمبر بتایا میں بارہ نمبر جیلر میرے ساتھ آؤ ایک منٹ میں اس کے ساتھ چل پڑا وہ اپنے دفتر میں جا کر کچھ فائلیں دیکھنے لگا تھوڑی دیر تلاش کے بعد اس نے ایک فائل نکالی اور اس میں ایک تصویر نکال کر مجھے دکھائی جیلر کیا یہی ہے وہ لڑکا میں نے دیکھا وہ فہد کی ہی تصویر تھی میں جی یہی تو ہے فہد جیلر کیا تم سچ میں اسی سے بات کر رہے تھے میں آپ ایسے کیوں پوچھ رہے ہو جیسے آپ اسے جانتے ہی نہیں جیلر کیا تم سچ میں اسی کے ساتھ بیٹھے تھے میں جی ہاں اور پچھلے چھ مہینے سے یہ میرا دوست ہے جیلر کیا یہ کیسے ہو سکتا ہے میں کیا نہیں ہو سکتا جیلر یہ لڑکا ایک سال پہلے مر چکا ہے میں کیا جیلر ہاں میں سچ کہہ رہا ہوں یہ ایک سال پہلے ہی مر چکا ہے تم کسی سے بات نہیں کرتے تھے اسی لیے تم نہیں جانتے پر یہ سچ ہے میں یہ کیسے ہو سکتا ہے انکل میں تو چھ مہینے سے اس سے بات کر رہا ہوں جیلر یہی تو میری سمجھ نہیں آ رہا کہ تم اس سے کیسے بات کر سکتے ہو جب کہ وہ ایک سال پہلے ہی مر گیا تھا میں نہیں یہ نہیں ہو سکتا فہد وہ سچ بول رہے ہیں میں نے دروازے کے پاس دیکھا تو فہد وہیں کھڑا تھا میں اب تو بھی بکواس کرنے لگا جیلر کس سے بات کر رہے ہو میں فہد سے جیلر کیا کہاں ہے وہ میں یہیں دروازے کے پاس کھڑا ہے جیلر یہ سن کر ڈر گیا فہد نہیں یہ بکواس نہیں سچ ہے دکھاؤں میں ہاں دکھا میرے دیکھتے ہی دیکھتے فہد دیوار کے پار چلا گیا اور پھر فوراً ہی واپس آ گیا یہ سب دیکھ کر مجھے بہت ڈر لگا اور اسی ڈر کی وجہ سے میں بے ہوش ہو گیا اور مجھے بہت تیز بخار ہو گیا ڈر کی وجہ سے

جب میری آنکھ کھلی تو میں ایک بار پھر ہسپتال میں تھا اور اس بار جیلر میرے پاس بیٹھا تھا جیلر اب کیسا لگ رہا ہے میں اب میں ٹھیک ہوں جیلر تم کو ہوا کیا تھا میں کچھ نہیں بس فہد کا سچ جان کر میں ڈر گیا تھا اور بے ہوش ہو گیا جیلر اچھا تم بیٹھو میں ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں یہ کہہ کر وہ چلا گیا فہد مجھ سے کیوں ڈرتا ہے میں دوسری طرف دیکھا تو فہد بیٹھا تھا اسے دیکھ کر میں پھر ڈر گیا پر اس بار بے ہوش نہیں ہوا اور ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا میں میں تم کو کیسے دیکھ پا رہا ہوں فہد پہلی بات مجھ سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور رہی بات یہ کہ تو مجھے کیسے دیکھ سکتا ہے میں نہیں جانتا مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ اب صرف تو ہی ہے جو میری مدد کر سکتا ہے میں ڈرتے ہوئے کیسی مدد فہد پہلے تو تو ڈرنا بند کر اگر میں نے تجھے کوئی نقصان پہنچانا ہوتا تو کب کا کر چکا ہوتا میں تو مجھ سے چاہتا کیا ہے فہد مدد میں کیسی مدد فہد وقت آنے پر بتا دوں گا یاد ہے پہلے دن جب تو نے مجھ سے بات کی تھی میں تجھے دیکھ کر حیران تھا میں ہاں یاد ہے فہد میں اسی بات سے حیران تھا کہ میں تو مر چکا ہوں پھر تو کیسے مجھ سے بات کر رہا ہے میں تو اب کیا کروں فہد جو تیرا دل کرے جب تک تو دل سے راضی نہیں ہو جاتا تب تک تو میری کوئی مدد نہیں کر سکتا اور مجھ سے تجھے کوئی خطرہ نہیں ہے باقی تیری مرضی میں مجھے کیا کرنا ہو گا تیرے لیے فہد بس یہ سمجھ لے کہ میری آخری خواہش ہے جو پوری کرنی ہے اس کے بعد میں آزاد ہو جاؤں گا میری روح جو اب تک اس دنیا میں بھٹک رہی ہے آزادی مل جائے گی

اس کے بعد جیلر وہاں آ گیا اور اس نے بتایا کہ آج شام تک چھٹی مل جائے گی اس کے بعد میں شام کو جیلر کے ساتھ واپس چلا گیا مجھے کچھ دن لگے خود کو سنبھالنے میں پر پھر سب ٹھیک ہو گیا ایک مہینہ ایسے ہی گزر گیا ایک دن میں بیٹھا خود میں ہی سوچ رہا تھا کہ میں کیا کروں کافی سوچتا رہا پر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا رات کو سوتے وقت بھی یہی خیال آ رہا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اس بیچ فہد مجھے نظر تو آیا پر اس نے مجھ سے بات نہیں کی اس کو دیکھ کر ہی لگتا تھا کہ وہ بہت مایوس ہے سوچتے سوچتے میں نے ایک فیصلہ کیا

میں خود سے اوپر والے نے مجھے اگر یہ سب دیا ہے تو اس کا کوئی مقصد تو ہو گا ہی مجھے فہد کی مدد کرنی ہو گی ورنہ وہ ایسے ہی رہے گا اور جو بھی ہو وہ میرا دوست ہے مجھے اس کی مدد کرنی ہی ہو گی میں اس کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا میں نے خود سے فیصلہ کیا اور صبح فہد سے بات کرنے کا سوچ کر سو گیا

اگلے دن میں صبح جلدی اٹھا تازہ ہو کر میں باہر آ گیا فہد بھی مجھے مل گیا میں اس کے پاس چلا گیا میں ہاں بھائی اب بتا کیا ہو رہا ہے آج کل فہد کیا ہونا ہے تو سنا میں اچھا چھوڑ اب اپنی پرابلم بتا فہد اب تو تجھے ڈر نہیں لگ رہا مجھ سے میں سچ کہوں تو تھوڑا ڈر تو لگ رہا ہے پر اب عادت بھی بنتی جا رہی ہے اس سب کی فہد ایک بات بتا تو مجھے دیکھ کیسے رہا ہے مطلب جہاں تک مجھے پتہ ہے عام انسان ہم جیسے کو نہیں دیکھ سکتا میں پتہ نہیں اس کا تو مجھے بھی نہیں پتہ کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے فہد ویسے تیری عمر کے حساب سے تو کچھ زیادہ بڑا نہیں ہے میں کیا مطلب فہد مطلب تو عام بچوں کی طرح نہیں ہے چیزوں کو جلدی سمجھ جاتا ہے میں ہاں یہ تو ہے میرا دماغ تیز ہے بچپن سے یہی سنا آیا ہوں شاید اسی لیے فہد ہاں یہ بھی ہے شاید اسی وجہ سے ہو یا کوئی اور وجہ میں وہ سب چھوڑ یہ بتا تیری کیا مسئلہ ہے میں کیسے تیری مدد کر سکتا ہوں فہد اس کے لیے تجھے یہاں سے نکلنا ہو گا اس کے بعد ہی تو میری مدد کر سکتا ہے میں وہ تو ٹھیک ہے پر یہ تو بتا کہ کرنا کیا ہے فہد مجھ پر چوری کا الزام لگا تھا میں ہاں تو فہد ابے پوری بات تو سن میں ہاں بتا فہد جیسے کہ میں نے بتایا کہ میں چوری کے جرم میں یہاں آیا تھا پر وہ چوری میں نے نہیں کی تھی میں پھر کس نے کی اور تم یہاں کیسے آ گئے فہد چوری کس نے کی یہ تو پتہ نہیں اور نہ مجھے پتہ کرنا ہے مجھے بس اپنی ماں کو یہ بتانا ہے کہ میں بے گناہ ہوں میں نے کوئی چوری نہیں کی میں اور تو اصلی چور کو نہیں پکڑے گا فہد یار چور اس بات کو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چوری کس نے کی اور کیوں کی جب میری ماں کو پتہ چلا تو وہ ٹوٹ گئیں اور انہوں نے بھی مجھے ہی چور سمجھا میں بس ان کو یہی بتانا چاہتا ہوں کہ میں بے گناہ ہوں میں چل ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی میں تیری مدد کروں گا پر ظاہر ہے یہاں سے نکلنے کے بعد ہی یہ سب ہو سکتا ہے فہد مجھے پتہ ہے اسی لیے تو میں نے کہا ہے یہاں سے نکل کر ہی تو میری مدد کر سکتا ہے

اس کے بعد میں نے اس سے بہت دیر بات کی پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا جیسے پڑھائی اور صفائی اور بھی چھوٹے موٹے کام اسی طرح میرا وقت گزرتا رہا فہد سے بات ہوتی رہتی میں نے اور بھی دو سے تین لوگوں کو دیکھا اور فہد نے بھی مجھے بتایا کہ وہ بھی مر چکے ہیں پر میں نے اس سے بات نہیں کی وقت اپنی رفتار سے گزر گیا اور میری سزا کا وقت بھی ختم ہو گیا

اپنی سزا پوری کر کے جب میں باہر نکلا تو بہت خوش تھا کہ آج اتنے سالوں بعد میں اپنے گھر جاؤں گا اپنی ماں اپنے والد اور بھائی سے ملوں گا اور ساتھ ہی میرا جو چھوٹا بھائی یا بہن ہو گی اس سے خوب کھیلوں گا جب میں باہر آیا تو اس وقت تک مجھے لینے کوئی نہیں آیا تھا پر میں پھر بھی خوش تھا گھر جانے کے لیے کہ فہد آ گیا فہد آج بہت خوش ہے میں ہاں بہت خوش ہوں فہد چل ٹھیک ہے میں بھی اب تیرے ساتھ رہوں گا میں تو میرے ساتھ کیسے رہے گا فہد لگتا ہے خوشی میں تو پاگل ہو گیا ہے مجھے تیرے علاوہ دیکھ کون سکتا ہے میں ہاں یار سچ میں آج بہت خوش ہوں اسی لیے بھول گیا

ہم بات کر ہی رہے تھے کہ مجھے لینے میرے چچا آئے میں چچا گھر سے کوئی نہیں آیا چچا نہیں میں آ گیا یہ بھی شکر کر ورنہ تو نے جو کیا ہے ہم میں سے کوئی تیری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا چچا کی بات سن کر مجھے بہت دکھ ہوا جتنا میں خوش تھا اب اتنا ہی دکھ ہو رہا تھا کہ میرے گھر والے مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتے میں چچا کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا اور فہد بھی بیٹھ گیا اس کو کوئی دیکھ تو نہیں سکتا تھا پر وہ مجھے پھر بھی تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا فہد پریشان نہ ہو دیکھنا جب تو گھر جائے گا تیرے گھر والے تجھے دیکھ کر بہت خوش ہوں گے میں چپ کر کے بیٹھا رہا تقریباً دو گھنٹے بعد ہم گھر آ گئے میں جب گھر کے اندر گیا تو دل کو سکون سا ملا آج اتنے سالوں بعد اپنے گھر واپس آیا تھا جب اندر گیا تو میری ماں کچھ عورتوں کے ساتھ بیٹھی تھیں اس سے پہلے کہ میں ان کو ملتا ایک عورت بہن یہ کون ہے پہلے کبھی نہیں دیکھا اسے ماں یہ یہ ہاں یہ ہمارا نیا نوکر ہے آج ہی آیا ہے اسی لیے عورت دو نوکر ہے ماں جی ہاں آج ہی آیا ہے عورت ایک جو بھی ہو بہت پیارا بچہ ہے ماں چھوڑو بہن نوکروں کو کیا منہ لگانا لڑکے یہاں کیا کر رہے ہو جاؤ جا کر اپنا کام کرو میں جی کہتا ہوا آنکھ میں آنسو لیے وہاں سے باہر آ گیا اور رونے لگا فہد خود کو مضبوط کر کاشف تو ایسے کمزور نہیں ہو سکتا میں کیا کروں یار آج سب کچھ ختم ہو گیا بچہ ہی کیا ہے میری اپنی ماں نے مجھے پرایا کر دیا فہد ایک بات کہوں میں ہاں بول فہد میں نہیں جانتا کہ انہوں نے یہ سب کیوں کیا کیا وجہ تھی پر تو کیسے کہہ سکتا ہے کہ سب ختم ہو گیا ابھی تو اپنے والد سے نہیں ملا اپنے بھائی سے نہیں ملا اور اپنی چھوٹی بہن سے بھی نہیں ملا ان سے ملنے سے پہلے تو کیسے کہہ سکتا ہے کہ سب ختم ہو گیا میں یار تجھے کیا لگتا ہے انہوں نے ایسا کیوں کہا جب چچا نے مجھے کہا کہ ان میں سے کوئی مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتا مجھے اسی وقت سمجھ جانا چاہیے تھا فہد پھر بھی ابھی کوئی بھی فیصلہ نہ کر میں چل تو کہتا ہے تو یہ بھی کر کے دیکھ لیتا ہوں پر مجھے اتنا تو پتہ چل ہی گیا ہے کہ اب یہاں میرے لیے کچھ بھی نہیں بچا پھر بھی دیکھتے ہیں

میں فہد سے بات کر کے تازہ ہوا اور اتنے میں وہ عورتیں بھی چلی گئیں ان کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی میرے والد بھائی اور چھوٹی بہن بھی آ گئے اور وہ سیدھے اندر چلے گئے میں بھی ان کے پیچھے چلا گیا پاپا مجھے دیکھ کر یہ منحوس یہاں کیا کر رہا ہے بہن پاپا یہ کون ہے پاپا کے بولنے سے پہلے ہی ماں بولی ماں بیٹا گھر کے کاموں کے لیے نیا نوکر رکھا ہے وہی ہے پاپا جا پانی لے کر آ میں جی مالک ابھی لایا میں وہاں سے کچن میں آ گیا چار گلاس میں پانی ڈال ڈالنے لگا کاکا نوکر ارے چھوٹے بابا آپ کب آئے مجھے کہہ دیتے میں پانی دے دیتا میں کاکا میں اب آپ کا چھوٹا بابا نہیں ہوں میں بھی اس گھر کا نوکر ہی ہوں تو آپ کے برابر ہوں کاکا یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا میں یہ سچ ہے آپ کے مالک اور مالکن نے سب کے سامنے ہی کہا ہے تو مجھے عزت دینا بند کیجیے میں نے پانی بھر کر ایک ٹرے میں چاروں گلاس رکھ کر اندر چلا گیا اور ان کو پانی دیا ایسے ہی کام کرتے کرتے رات ہو گئی

اب مسئلہ یہ تھا کہ میں نے سونا کہاں ہے اور نہ مجھے پتہ تھا بھوک بھی لگی تھی کھانا بھی نہیں کھایا تھا خیر رات کو میں ایک چادر اور ایک کمبل لے کر کچن میں آ گیا اور سونے کی تیاری کرنے لگا اتنے میں فہد آ گیا میں میں نے غلط تو نہیں کہا تھا فہد ہاں یار اب میرے پاس تیرے جتنا دماغ تو ہے نہیں کہ میں سمجھ پاؤں میں چل چھوڑ مجھے اب فرق بھی نہیں پڑتا تو بتا کہاں تھا اب تک فہد یار بس ایسے ہی گھوم رہا تھا اس سے بات کرتے کرتے میں سو گیا صبح ماں جلدی اٹھ کر کچن میں آئی اور مجھے سوتا دیکھ کر مجھے اٹھایا ماں اوے لڑکے اٹھ چل جلدی اٹھ میں اٹھتا ہوا ماں آپ کیوں میرے ساتھ ایسے کر رہی ہو ماں تھپڑ مار کر کل کیا بولا تھا میں تیری ماں نہیں ہوں نوکر ہے نوکر ہی رہ اور تو نے جو کیا ہے اس کے بعد تو میری نفرت کے قابل بھی نہیں ہے پتہ نہیں صبح صبح کہاں سے اس کی منحوس شکل نظر آ گئی آج سارا دن ہی خراب جائے گا ان کی بات سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے پر میں نے جلدی ہی خود پر قابو پا لیا اور تازہ ہو کر ناشتہ بنانے کی تیاری کرنے میں مصروف ہو گیا اتنے میں کاکا بھی آ گئے کاکا بیٹا پریشان نہ ہو میں نے دیکھا ابھی جو ہوا میں کوئی بات نہیں کاکا اب تو یہی میری زندگی ہے کیا کر سکتا ہوں یہ بول کر میں مسکرا دیا مجھے مسکراتا دیکھ کاکا آج تک میں نے تم جیسا نہیں دیکھا میں کیا مطلب کاکا کاکا اتنا سب ہونے کے بعد بھی تم مسکرا رہے ہو میں کاکا سیدھی سی بات ہے میرے دکھی ہونے سے یا پریشان ہونے سے نہ تو کچھ ٹھیک ہو گا نہ ہی کچھ بدلے گا تو خود کو پریشان کرنے اور دکھی ہونے کا فائدہ کاکا ہاں یہ بھی ہے چلو اچھا لگا کہ تم سمجھدار ہو رہے ہو میں کاکا حالات سب سکھا دیتے ہیں

سب کے ناشتہ کرنے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے پاپا دفتر بھائی اسکول اور چھوٹی بھی اسکول چلی گئی اس کے بعد میں نے اور کاکا نے بھی ناشتہ کیا اتنے میں فہد آ گیا میں یار تو کہاں گم رہتا ہے فہد میں نے کہا جانا ہے میں اچھا چھوڑ یہ بتا کہ اب کیا کرنا ہے فہد کس بارے میں میں ابے تیری جو مدد کرنی ہے فہد وہ بھی ہو جائے گی پہلے یہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں کوئی بات نہیں میں یار یہاں کے حالات تو اب بدلنے سے رہے تو یہ بتا کہ تیرا گھر کس شہر میں ہے فہد میرا گھر تو فلاں شہر میں ہے پر اب جو حالات ہیں تو ایسے تو جا نہیں سکتا میں ہاں یہ بھی ہے چل بعد میں دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے یار میں نے ایک فیصلہ کیا ہے فہد کیا فیصلہ میں یار اب یہ لوگ جب مجھے اتنی نفرت کرتے ہیں اور جو مجھے سمجھتے ہیں میں بھی وہی کروں گا فہد کیا مطلب میں دیکھ سیدھی سی بات ہے میری ماں باپ بھائی یہ تینوں جس طرح سے میرے ساتھ کر رہے ہیں اس کا جواب بھی اسی طرح دوں گا ہاں چھوٹی کا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ وہ مجھے جانتی ہی نہیں ہے اور ایک بات فہد یہاں گاؤں میں ایک ہوٹل کھلا ہے میں وہاں نوکری کروں گا ان کے ٹکڑوں پر نہیں جی سکتا فہد یار جذباتی نہ ہو یہ تیرا گھر ہے میں ابے کون سا گھر جب گھر والے ہی مجھے اپنا نہیں مانتے تو کون سا گھر میرا بھائی جس کے جرم کی میں نے سزا کاٹی کم سے کم وہ تو مجھ سے ٹھیک سے پیش آ سکتا تھا پر جب سے آیا ہوں اس نے بات تک نہیں کی مجھ سے فہد تیری جو مرضی میں کیا کہہ سکتا ہوں اس کے بعد میں نے فہد سے کچھ دیر بات کی اور وہ کہیں گم ہو گیا مطلب چلا گیا دوپہر کو بھائی اور چھوٹی اسکول سے واپس آ گئے

بھائی اوے لڑکے میرے کمرے میں پانی لے کر آ جلدی میں ایک گلاس میں پانی ڈال کر ان کے کمرے میں چلا گیا ان کو پانی دیا پھر واپس آ گیا اسی طرح وقت گزرتا رہا اور چھ مہینے نکل گئے میں گاؤں کے ہوٹل میں نوکری کرنا چاہتا تھا پر نہیں کر پایا ایک دن میں کچن میں تھا کہ چھوٹی وہاں آئی مجھے تھوڑا بخار تھا اور سب کو پتہ تھا میں جی چھوٹی بی بی چھوٹی بھائی پانی پینا تھا میں مجھے کہہ دیا ہوتا چھوٹی بی بی میں دے دیتا چھوٹی بھائی آپ مجھے چھوٹی بی بی کیوں کہتے ہو میں کیونکہ آپ میری مالکن ہو میں یہاں کام کرتا ہوں اور مجھے آج تک آپ کا نام بھی نہیں پتہ اسی لیے اور آپ مجھے بھائی نہ کہا کرو چھوٹی میرا نام فاطمہ ہے اور آپ کو بھائی کیوں نہ کہوں میں اگر کسی نے سن لیا کہ آپ مجھے بھائی کہتی ہو تو آپ کا تو پتہ نہیں میری شامت آ جائے گی فاطمہ کیوں میں آپ نہیں سمجھو گی اس کے بعد میں نے اسے پانی دیا وہ پانی پی کر چلی گئی اتنے میں بھائی کابارڈر آیا جوس کے لیے میں جوس لے کر ان کے کمرے میں گیا میں چھوٹے مالک آپ کا جوس بھائی چھوٹے طبیعت کیسی ہے میں ٹھیک ہوں چھوٹے مالک آپ میری فکر نہ کریں بھائی چھوٹے ایسا کیوں کہہ رہا ہے بھائی ہے تو میرا میں ہاہاہاہا بھائی آپ مذاق اچھا کرتے ہو چھوٹے مالک بھائی کیا مطلب میں چھوٹے مالک گھر کا نوکر ہوں اتنی عزت کے قابل نہیں ہوں اور آپ کا بھائی تو بالکل نہیں بھائی ایسا کیوں کہتا ہے میں کیونکہ ایسا ہی ہے اسی لیے کہتا ہوں بھائی تیرے کچھ بھی کہنے سے سچ نہیں بدلے گا میں صحیح کہا آپ نے چھوٹے مالک سچ ہاں سچ یہ بھی ہے کہ میں نے سزا کاٹی اس جرم کی جو میں نے کبھی کیا ہی نہیں تھا پھر بھی جب واپس آیا تو لگا کہ اپنے گھر میں آیا ہوں پر یہاں آ کر پتہ چلا کہ میں تو ایک نوکر ہوں یہ بھی تو سچ ہی ہے کہ واپس آنے کے بعد سے آج تک نہ کسی نے پیار سے بات کی نہ کبھی اپنا مانا بھائی میں آج ہی ماں پاپا کو بتا دوں گا کہ کیا ہوا تھا میں ہاہاہاہاہا اس سے کیا ہو گا جو میں نے سزا کاٹی ہے بے جرم وہ وقت واپس آئے گا یا جو واپس آنے کے بعد سے اب تک جو نفرت ملی ہے کیا وہ بدل جائے گا اور سب سے ضروری بات اگر آپ نے بتانا ہی ہوتا تو جب یہ سب ہوا آپ اسی وقت بتا دیتے چلو مانتا ہوں آپ ڈر گئے تھے ضرور آپ کو ڈر لگا ہو گا میرے جیل جانے کے بعد بتا سکتے تھے چلو پھر بھی نہیں بتایا کوئی بات نہیں جب آپ کی ماں میری مالکن نے آپ سب کے سامنے مجھے نوکر کہا تب بتا سکتے تھے پر ایسا تو کچھ نہیں ہوا بھائی مجھے معاف کر دے چھوٹے میں نا چھوٹے مالک آپ معافی نہ مانگو اچھا نہیں لگتا کہ ایک مالک نوکر سے معافی مانگے مجھے لگا تھا شاید سب کی نفرت وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی پر خیر چھوڑو اور کوئی کام ہو تو بلا لینا چھوٹے مالک آپ کا یہ نوکر حاضر ہو جائے گا میرے باہر نکلتے ہی مجھے بہت بڑا جھٹکا لگا جو میں نے سوچا بھی نہیں تھا اسے دیکھ کر پتہ چل رہا تھا کہ اس نے اندر کی ساری بات سن لی ہے جس وجہ سے اس کی آنکھ میں آنسو تھے میں نے خود کو سنبھالا اور بغیر کسی کی پرواہ کیے وہاں سے چلا گیا

جب میں باہر نکلا تو باہر میری چچی تھیں جنہوں نے سب سن لیا تھا اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے میں ان کی پرواہ کیے بغیر وہاں سے چلا گیا میرے پیچھے پیچھے وہ بھی کچن میں آ گئیں میں جی مالکن حکم چچی بیٹا مجھے معاف کر دو اتنے عرصے میں چچا چچی اور ان کی فیملی نے بھی مجھے نفرت ہی دی تھی میں مالکن میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں بس معمولی نوکر ہوں اور وہی رہنا چاہتا ہوں تو مہربانی ہو گی آپ کی مجھے میری اوقات میں رہنے دیں چچی ایسے تو نہ کہو میں جو سچ ہے وہی تو کہہ رہا ہوں کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے چچی کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتے میں کس بات کی معافی مالکن اتنے میں ماں آ گئیں ماں کیا ہوا چھوٹی اور تو اس دو ٹکے کے نوکر سے معافی کیوں مانگ رہی ہے چچی باجی آپ کا بیٹا ہے وہ ماں نہیں میرا ایک ہی بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے بس چچی باجی جب آپ کو سچ پتہ چلے گا آپ کو سن کر افسوس ہو گا ماں مجھے کوئی افسوس نہیں ہو گا اور کون سا سچ چچی پورا تو مجھے بھی پتہ نہیں پر اتنا ضرور پتہ ہے کہ جو بھی ہوا ٹھیک نہیں ہوا اور نہ ہی اس میں کاشف کی کوئی غلطی تھی ماں اس کی کوئی غلطی نہیں تھی اس نے قتل کیا ہماری عزت دو کڑی کی نہیں رہی صرف اس منحوس کی وجہ سے سارے گاؤں میں ایک باپ کا سر جھک گیا صرف اس کی وجہ سے وہ انسان جو کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکتا تھا سارے گاؤں میں شرمندہ ہوا کیوں اس کی وجہ سے اور تو کہتی ہے کہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں ہے چچی ہاں میں یہی کہہ رہی ہوں ماں بس مجھے اور کچھ نہیں سننا ان کے جانے کے بعد میں کوئی فائدہ نہیں کسی کو کچھ بتانے کا نہ تو ان کی نفرت ختم ہو گی اور نہ مجھے اب کسی کے پیار کی ضرورت ہے نفرتوں کا عادی ہوں خوش ہوں چچی ایک دن جب سب کو پتہ چلے گا تب سبھی تم سے پیار کریں گے میں پر مجھے اب کسی کے پیار کی ضرورت نہیں ہے اس کے بعد میں وہیں بیٹھ کر رونے لگا اور خود سے ہی نفرت کرنے لگا

میں خود سے کیوں آخر کیوں ایک بار بھی ان لوگوں نے سچ پتہ کرنے کی کوشش نہیں کی نہ مجھ سے کبھی کچھ پوچھا ایک بار پوچھ تو لیتے پر نہیں اپنی انا ہی پیاری تھی نا کیا کرتے خیر میں کیوں رو رہا ہوں ان لوگوں کی وجہ سے اب مجھے بس یہاں سے نکلنا ہے اس کے بعد ایک مہینہ مزید گزر گیا میں نے فہد سے مل کر فائنل کر لیا کہ اب یہاں نہیں رہنا ایک مہینہ بعد میں نے اپنی تنخواہ لی جو میں وہاں کام کرنے کی لیتا تھا وہ لے کر بغیر کسی کو بتائے چلا گیا اور فہد کی شہر میں گیا وہاں پہنچ کر میں ہاں بھائی اب بتا یہاں تو آ گئے اب آگے کیا کرنا ہے فہد کیا تو نے وہاں سے آ کر ٹھیک کیا میں دیکھ یار سیدھی بات ہے وہاں اب میرا دم گھٹتا تھا اور تیری بھی مدد کرنی تھی ظاہر ہے وہاں رہ کر تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا وہاں سے نکلنا ہی تھا فہد ہاں یہ بھی ٹھیک ہے میں اچھا اب بتا اب کیا کرنا ہے فہد ابھی سیدھا تو تو میرے گھر جا نہیں سکتا تو پہلے اپنا بندوبست تو کر سوچا ہے کہاں رہے گا میں ہاں یار چل کہیں سے کام کا پتہ کرتے ہیں ابھی تو دن شروع ہوا ہے اس کے بعد میں سارا دن کام کا پتہ کرتا رہا پر کچھ نہیں ہو سکا اب رات بھی ہو رہی تھی اور سونے کا بھی کچھ کرنا تھا تو سوچ رہا تھا کہ کیا کروں کچھ سمجھ نہ آیا پیسے تو تھے پر زیادہ نہ تھے اسی لیے ایک پارک میں جا کر سو گیا اگلی صبح ناشتہ کر کے پھر سے کام کی تلاش میں نکل گیا شام کو جا کر ایک پیزا شاپ میں ویٹر کی نوکری ملی جو میں نے قبول کر لی اور کل سے جوائن بھی کرنا تھا نوکری کا وقت شام چار سے رات ایک کا تھا

میں یار فہد کام کا تو ہو گیا اب رہنے کا بھی کچھ کرنا ہو گا فہد ہاں یار میری تو خیر ہے پر کب تک پارکوں میں سوئے گا میں ہاں یار چل کچھ پتہ کرتے ہیں کہیں سے اس کے بعد میں اور فہد شام تک گھر کا پتہ کرتے رہے پر کچھ نہیں ہو سکا اس رات بھی میں پارک میں ہی سو گیا صبح اٹھ کر ناشتہ کر کے پھر گھر کی تلاش میں نکل گیا پر کچھ نہیں ہو سکا اسی طرح شام کے چار بج گئے اور میں تیار ہو کر نوکری پر نکل گیا آج پہلا دن تھا تو سب کچھ سمجھایا گیا کہ کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے سب کچھ رات کو ایک بجے فری ہو کر پھر کسی پارک میں جا کر سو گیا صبح پھر وہی گھر کی تلاش اسی طرح چھ دن نکل گئے پر کچھ نہیں ہو سکا ایک دن ایسے ہی تلاش کر رہا تھا کہ ایک اسکول کی چھٹی ہوئی اس وقت میرے ساتھ شاپ پر کام کرنے والا ایک لڑکا بھی ساتھ تھا ہم مل کر پتہ کر رہے تھے کہ ہم کو ایک آواز آئی آواز سنو بھائی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون تھی جس نے برقعہ پہن رکھا تھا میں جی باجی خاتون بھائی تھوڑی مدد کرو گے میں جی باجی حکم کرو خاتون بھائی میری بچی کی طبیعت خراب ہے کیا آپ مجھے میرے گھر تک چھوڑ دو گے میں جی باجی ضرور کیوں نہیں کہاں ہے آپ کی بچی پھر وہ مجھے اسکول کے اندر لے گئی جہاں ایک بچی بینچ پر لیٹی ہوئی تھی میں نے اسے اٹھا لیا اسے اٹھاتے ہی صاف پتہ چل رہا تھا کہ بچی کو بہت تیز بخار ہے میں نے اسے اٹھا لیا اور اس خاتون کے پیچھے چلنے لگا تقریباً دس منٹ چلنے کے بعد وہ ایک دروازے کے سامنے رکی دروازے کو تالا لگا ہوا تھا اس نے اپنے پرس سے چابی نکال کر دروازہ کھولا اور اندر چلی گئی میں وہیں کھڑا رہا پر اس نے مجھے اندر بلا لیا اور میرے ساتھ جو لڑکا تھا اس کو میں نے وہیں رکنے کا بولا اور اندر چلا گیا

خاتون بھائی اسے اس کمرے میں سلا دو اس نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا مجھے تھوڑا عجیب لگا کہ میں ان کے لیے اجنبی تھا اور وہ میرے ساتھ ایسے بات کر رہی تھی جیسے مجھے سالوں سے جانتی ہو خیر میں نے اسے کمرے میں سلا دیا اور باہر آ گیا میں اچھا باجی اب میں چلتا ہوں خاتون ارے ایسے کیسے آپ بیٹھک کا دروازہ کھول کر بیٹھو اور اپنے دوست کو بھی اندر بلا لو میں چائے بناتی ہوں چائے پی کر جانا میں نہیں باجی مجھے کہیں کام جانا ہے خاتون اچھا کوئی بات نہیں چائے پی کر چلے جانا میں نے بہت کوشش کی پر وہ نہ مانی پھر میں نے بیٹھک کا دروازہ کھول دیا اور لڑکے کو بھی اندر بلا لیا ہم بیٹھے بات کر رہے تھے لڑکا یار ایک بات کہوں میں ہاں بول لڑکا یار لڑکی تو مست ہے پتہ لے تیرے کو لفٹ بھی دے رہی ہے میں اس کی بات پر غصہ ہو گیا میں دیکھ بھائی ہر جگہ کتا پن نہیں کرتے وہ بیچاری پریشان تھی اور ہم سے مدد مانگ لی تو تو ذرا حد میں رہ لڑکا تیری مرضی اگر مجھے موقع ملتا تو میں تو پتہ لیتا میں اچھا ایک بات بتا لڑکا ہاں پوچھ میں تیری کتنی بہنیں ہیں لڑکا تین میں چل میں ان میں سے کسی کو پتہ لیتا ہوں لڑکا تمیز سے بات کر تو میری بہن کی بات کر رہا ہے میں کیوں کیا ہوا تیری گھر کی عزت ہے اور تو جس کی بات کر رہا ہے ذرا سوچ وہ بھی کسی کی بہن ہے کسی کی بیٹی ہے کسی کی ماں کسی کی بیوی ہے خود پر بات آئی تو عزت یاد آ گئی میں آگے کچھ بولتا کہ اندر سے اس خاتون کی آواز آئی چائے دینے آئی تھی میں دروازے کے پاس آیا اور چائے اس سے لے کر ایک کپ خود لیا اور ایک اسے دے دیا ہم ابھی چائے پی ہی رہے تھے کہ ایک آدمی اندر آیا آدمی جی کس سے ملنا ہے میرے کچھ جواب دینے سے پہلے ہی اندر سے آواز آئی اسی خاتون کی خاتون فرید یہ میرے ساتھ آئے ہیں وہ باہر چلا گیا پھر اس خاتون نے اسے ساری بات بتائی اس کے بعد ہم نے چائے پی اور اجازت لے کر نکل گئے اسی رات شاپ پر کام کرنے والے ایک لڑکے نے مجھے پریشان دیکھا لڑکا کیا بھائی پریشان لگ رہا ہے میں یار بس گھر کو لے کر پریشان ہوں لڑکا کیا مطلب میں یار رہنے کے لیے کوئی گھر نہیں مل رہا لڑکا تو رات کو کہاں سوتا ہے میں پارک میں لڑکا یار ایک گھر ہے تو سہی پر پتہ نہیں وہ کرایہ پر ملے گا کہ نہیں میں یار بتا پتہ کرنے میں کیا جاتا ہے ہو سکتا ہے مل جائے پھر اس نے مجھے ایک پتہ لکھ کر دیا جو میں نے اپنی جیب میں رکھ لیا اگلے دن صبح میں اس پتے پر گیا میں اس گھر کو دیکھ کر چونک گیا

یہ وہی گھر تھا جہاں میں کل اس خاتون کے ساتھ آیا تھا آج بھی تالا لگا ہوا تھا میرے پاس انتظار کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا وہیں قریب کے پارک میں جا کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا کل والے وقت پر میں اس گھر میں گیا تب تک دروازہ کھل چکا تھا میں نے گھنٹی بجائی تو اسی خاتون نے دروازہ کھولا میں باجی کیا آپ سے دو منٹ بات ہو سکتی ہے خاتون جی آپ کون شاید اس نے پہچانا نہیں تھا میں باجی وہ کل میں آپ کے ساتھ آیا تھا آپ کی بچی کو لے کر خاتون اچھا آپ ایک منٹ میں دوسرا دروازہ کھولتی ہوں آپ اندر آ جاؤ پھر اس نے دوسرا دروازہ کھولا اور میں اندر جا کر بیٹھ گیا اور دروازہ بند کر دیا خاتون جی کہو کیا بات کرنی تھی میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی گھنٹی بجی اور وہ اٹھ کر باہر چلی گئیں جب واپس آئیں تو اس کے ساتھ کل والا آدمی بھی تھا جس کا نام فرید تھا فرید جی حکم کیا کام تھا میں جی وہ مجھے ایک دوست نے بتایا تھا کہ آپ کا اوپر والا کمرہ خالی ہے خاتون جی ہاں خالی ہے میں جی کیا وہ آپ کرایہ پر دینا چاہو گے فرید معافی بیٹا پر ہم وہ نہیں دے سکتے میں مایوسی سے ٹھیک ہے سر جیسے آپ کی مرضی خاتون مل تو سکتا پر تمہارا گھر فرید لیکن عرفہ ہم تو اسے جانتے بھی نہیں پھر کیسے اس خاتون کا نام عرفہ ہے میں کوئی بات نہیں سر میں کہیں اور تلاش کر لیتا ہوں فرید تم کرتے کیا ہو میں جی میں فلاں پیزا شاپ پر نوکری کرتا ہوں عرفہ کیا تم پڑھائی نہیں کرتے اتنے چھوٹے ہو تو کام کیوں کرتے ہو میں جی باجی پڑھائی بھی کروں گا پر ابھی تو رہنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے جب کوئی انتظام ہو جائے گا تو پڑھائی بھی شروع کر دوں گا فرید کیا تمہارے گھر والے تم کو کام کرنے سے منع نہیں کرتے ان کے اس سوال سے میں خاموش ہو گیا کہتا بھی تو کیا مجھے خاموش دیکھ کر فرید دیکھو اگر تم سچ بتاؤ تو میں سوچوں گا تم کو کمرہ دینا ہے کہ نہیں میں سر میرا سچ جان کر ہی اگر آپ فیصلہ لو گے تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے کمرہ نہیں دو گے عرفہ تم اتنے یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہو میں کیونکہ میں سات سال جیل کاٹ چکا ہوں خون کے الزام میں اور کوئی بھی شریف انسان کسی خونی کو اپنے گھر میں نہیں رکھتا فرید کیا میں جی بالکل یہ سچ ہے خیر کوئی بات نہیں میں چلتا ہوں عرفہ کیا میں کچھ پوچھ سکتی ہوں میں کیا پوچھنا ہے آپ نے عرفہ تم اب کہاں رہتے ہو میں جی شام چار سے رات ایک بجے تک تو نوکری پر ہوتا ہوں اس کے بعد کسی پارک میں سو جاتا ہوں فرید تم کس شہر سے ہو میں جی میں فلاں گاؤں سے ہوں فرید یہاں کتنے دن سے ہو میں قریب دس دن عرفہ اور دس دن سے تم پارک میں سو رہے ہو میں جی ہاں فرید کیا تم بتانا چاہو گے کہ تم نے خون کیوں کیا پھر میں نے بڑی مشکل سے ان دونوں کو اپنی زندگی کا سچ بتایا جسے سن کر ان کی بھی آنکھوں میں آنسو تھے میں ٹھیک ہے سر میں چلتا ہوں شکریہ آپ کا میں وہاں سے نکل آیا پیچھے ان کی آپس میں کیا بات ہوئی پتہ نہیں اسی شام کو فرید اور عرفہ اپنی بچی کے ساتھ شاپ پر آئے کیونکہ میں نے ان کو بتایا تھا کہ کہاں کام کرتا ہوں میں نے ان کا آرڈر لیا اور ان کو دے دیا وہ آپس میں کچھ بات کرتے رہے پھر میں ان کا بل لے کر ان کے پاس گیا اتنے میں مینیجر وہاں آ گیا مینیجر یہاں کیا کر رہے ہو میں جی سر وہ بل دینے آیا تھا مینیجر ٹھیک ہے بل دو اور جاؤ اور ہاں ابھی ایک مہمان آنے والے ہیں وہ خاص ہیں ان کا خاص خیال رکھنا میں جی سر فرید کاشف آج رات کو فری ہو کر گھر آ جانا اور اپنا جو بھی سامان ہو لیتے آنا مینیجر سر کیا آپ اسے جانتے ہیں فرید جی ہاں مینیجر اور کس سامان کی بات کر رہے ہیں فرید وہ ہم اپنا کمرہ اسے کرایہ پر دے رہے ہیں تو اسی لیے مینیجر سر میری مانو تو رہنے دو میں جانتا ہوں ان جیسے لڑکوں کو پہلے گھر سے بھاگ کر آ جاتے ہیں پھر لوگوں کو لوٹتے ہیں ان کے گھروں میں جا کر عرفہ زبان سنبھالو مسٹر یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے آپ کو کوئی حق نہیں بنتا میرے بھائی کے بارے میں ایسا کہنے کا مینیجر معافی میم اس کے بعد میں اپنے کام میں مصروف ہو گیا رات کو فری ہو کر میں سر فرید کے گھر جانے کی بجائے پارک میں جا کر سو گیا مجھے مینیجر کی بات بہت بری لگی پر کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا خیر سو گیا کسی طرح صبح اٹھ کر ناشتہ کیا اور وہیں بیٹھا رہا سوچتا رہا کہ کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا خیر سارا دن وہیں بیٹھا رہا وقت پر شاپ جا پہنچا میرے وہاں جانے کے ایک گھنٹے بعد فرید اور عرفہ وہاں آ گئے عرفہ کل آئے کیوں نہیں جب کہا تھا کہ آ جانا میں باجی بس دل نہیں کیا میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا عرفہ کس نے کہا کہ تم ہم کو پریشان کرو گے اور تمہارے نہ آنے سے پریشانی ضرور ہوئی ہے فرید یہ صحیح کہہ رہی ہے ساری رات ہم تمہارا انتظار کرتے رہے ہیں اور آج رات لازمی آ جانا میں جی اچھا وہ چلے گئے میں اپنے کام میں مصروف ہو گیا پر میں نے ان کو تنگ نہ کرنے کا سوچا اور یہی سوچا کہ آج بھی نہیں جاؤں گا پر میری قسمت جب میں کام سے فری ہو کر نکلا تو فرید اور عرفہ باہر ہی کھڑے تھے مجبوری مجھے ان کے ساتھ جانا پڑا ان کے گھر جا کر باجی عرفہ نے مجھے کھانا دیا سر فرید اور باجی عرفہ وہیں میرے پاس بیٹھے تھے میں آخر آپ کیوں ایسا کر رہے ہیں جب کہ آپ کو پتہ ہے کہ میں ایک خونی ہوں فرید تم جو بھی ہو ہم کو فرق نہیں پڑتا ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ تم ایک اچھے انسان ہو میں پھر بھی میرے اپنوں نے مجھے سہارا نہیں دیا انہوں نے مجھے ٹھکرا دیا ہے پھر آپ مجھ پر اتنا یقین کیوں کرتے ہو عرفہ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تم غلط نہیں ہو جو انسان خود بے گناہ ہو کر بھی اپنا سچ بتا دے وہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا اب کھانا کھاؤ ٹھنڈا ہو رہا ہے ان کا اتنا پیار اور مجھ پر یقین دیکھ کر میں رونے لگا پھر انہوں نے مجھے چپ کروایا اور اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا کھانا کھا کر میں سو گیا آج بڑی سکون کی نیند آئی اور صبح بھی دیر سے اٹھا جب اٹھا تو ٹیبل پر ایک خط پڑا تھا جو کہ باجی عرفہ نے لکھا تھا عرفہ خط میں اور فرید اسکول جا رہے ہیں تمہارا ناشتہ میں نے بنا دیا ہے کھا لینا اور تم کو اٹھانے آئی تھی تم سوتے ہوئے بہت پیارے لگ رہے تھے اسی لیے تم کو تنگ نہیں کیا کھانا لازمی کھا لینا خط پڑھ کر میرے ہونٹوں پر مسکان آ گئی پھر میں اٹھا تازہ ہو کر ناشتہ کیا اور نیچے آ گیا نیچے کچھ کتابیں پڑی تھیں ان کو اٹھا کر پڑھنے لگا وقت کب نکل گیا پتہ ہی نہیں چلا جب باجی عرفہ نے مجھے ہلایا تب مجھے ہوش آیا میں جی باجی آپ کب آئیں عرفہ میں تو کافی دیر سے آ گئی تھی تم کہاں گم ہو میں جی وہ میں کتابیں پڑھ رہا تھا پتہ نہیں چلا معافی عرفہ معافی کی کیا بات ہے تم پڑھائی کرنا چاہتے ہو میں جی ہاں مجھے پڑھائی کا بہت شوق ہے عرفہ ٹھیک ہے تم کو میں پڑھائی کرواؤں گی میں جی ٹھیک ہے باجی پھر میں ان کے پاس پڑھائی بھی کرنے لگا اسی طرح مجھے ایک سال گزر گئے میں نوکری پر بھی جاتا اور سر فرید اور باجی عرفہ سے پڑھائی بھی کرتا ایک سال بعد میں نے دسویں کے پرچے دیے جن میں میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا اس کے بعد میں نے فہد کو یاد کیا میرے یاد کرتے ہی وہ فوراً میرے پاس آ گیا اتنے عرصے میں فہد سے بھی بات ہوتی رہتی تھی وہ گم ہی رہتا تھا پر اس نے کہا تھا جب بھی میں اسے یاد کروں گا وہ فوراً میرے پاس آ جائے گا فہد آ گئی میری یاد میں ہاں آ گئی اچھا اب بتا کہ تیرے گھر کس دن جائیں فہد خوش ہو کر جب تیرا دل کرے میں چل پھر کل چلتے ہیں فہد ٹھیک ہے وہ دن سر فرید باجی عرفہ اور ان کی بیٹی کے ساتھ مستی کرتے ہوئے گزر گیا اگلے دن میں نے باجی عرفہ سے کہا میں باجی مجھے ذرا کام جانا ہے اب سے عرفہ کو باجی لکھوں گا باجی کہاں جانا ہے باجی وہ فلاں علاقے میں جانا ہے باجی کیوں وہاں کون ہے میں باجی وہ ایک دوست سے ملنے جانا ہے آپ بھی چلو ساتھ باجی نہیں میں جا کر کیا کروں گی تم جاؤ مل آؤ میں پلیز باجی آپ ساتھ چلو باجی کیوں کیا بات ہے تم کچھ پریشان لگ رہے ہو میں جی باجی وہ دوست مجھے جیل میں ملا تھا تو تھوڑا ڈر لگ رہا ہے آپ ساتھ ہو گی تو تھوڑی ہمت ملے گی باجی میں وہاں کسی کو جانتی بھی نہیں فرید چلی جاؤ ساتھ جب وہ کہہ رہا ہے تو باجی فرید میں وہاں کسی کو جانتی نہیں کیا کروں گی وہاں جا کر فرید یار سادہ بات ہے وہ بتا چکا ہے کہ وہ دوست جیل میں ملا تھا باجی ہاں تو فرید ہاں تو جب ان کو پتہ چلے گا کہ یہ بھی جیل میں تھا تو وہ کیا سوچیں گے تم ساتھ ہو گی تو کوئی فکر کی بات نہیں ہو گی باجی اچھا ٹھیک ہے میں چلی جاؤں گی

اگلے دن میں اور باجی عرفہ فہد کے گھر گئے فہد بھی ساتھ ہی تھا میں نے گھنٹی بجائی تو ایک خاتون نے دروازہ کھولا فہد یہ میری ماں ہیں فہد ماں جی بیٹا کس سے ملنا ہے میں جی آنٹی وہ میں فہد کا دوست ہوں فہد ماں وہ اب یہاں نہیں رہتا تم جا سکتے ہو میں جی مجھے پتہ ہے وہ یہاں نہیں رہتا میں بس آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں کچھ ضروری فہد ماں آؤ اندر آؤ ہم اندر آ گئے میں جی آنٹی فہد سے میری ملاقات جیل میں ہوئی تھی فہد ماں تم بھی جیل میں تھے باجی جی فہد ماں اور آپ اس کی کیا لگتی ہو باجی یہ میرا بھائی ہے فہد ماں کیسی بہن ہو تم ایک بھائی جرم کرتا ہے اور تم اسی کے ساتھ گھوم رہی ہو لوگ کچھ نہیں کہتے میں کبھی کبھی انسان وہ کر دیتا ہے جس کا اسے پتہ نہیں ہوتا فہد ماں کیا مطلب میں آپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ آپ فہد سے نفرت کرتی ہو فہد ماں ہاں کرتی ہوں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا اس نے ہم کو میں فہد سے لے بھائی یہاں بھی وہی قصہ ہے جو میرے گھر تھا آج میں نے سوچ لیا تھا کہ آج جو بھی ہو فہد کی ماں کے دل سے نفرت ختم کر کے ہی جاؤں گا فہد ماں کس سے بات کر رہے ہو میں وہ چھوڑو آنٹی کیا آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں فہد ماں میں جانتی ہوں تم یہی پوچھو گے کہ فہد کہاں ہے میں نہیں مجھے پتہ ہے کہ وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گا فہد ماں حیرت سے کیا مطلب میں مجھے تو وہ بھی پتہ ہے جو آپ نہیں جانتی باجی کیا مطلب تم کو پتہ ہے کہ فہد کہاں ہے پھر یہاں کس سے ملنے آئے ہو فہد ماں فہد اب اس دنیا میں نہیں ہے وہ مر چکا ہے یہ بول کر وہ رونے لگیں میں میں جانتا ہوں کہ وہ مر چکا ہے پر ابھی بھی وہ آزاد نہیں ہے فہد ماں کیا مطلب میں اس کی روح ابھی بھی بھٹک رہی ہے صرف آپ کی وجہ سے فہد ماں میری وجہ سے میں جی آپ کی وجہ سے کیونکہ آپ نے اپنے بیٹے پر یقین نہیں کیا آپ نے بھی اسے ہی گناہگار چور سمجھا مرنے کے بعد بھی وہ آزاد نہیں ہے آپ نے بھی وہی غلطی کی جو کسی اور نے کی ایک ماں اپنے بیٹے سے الگ ہو گئی پر اس کا بیٹا آج بھی آزاد نہیں ہوا آپ نے ابھی مجھ سے پوچھا تھا کہ میں کس سے بات کر رہا ہوں تو میں فہد سے ہی بات کر رہا تھا میں اسے آج بھی دیکھ سکتا ہوں بات کرتا ہوں میری یہ بات سن کر دونوں تھوڑا ڈر گئیں میں کیا ہوا میری بات کا یقین نہیں ہے نا فہد ماں ہاں میں کیسے مان لوں میں فہد کی موت کب ہوئی تھی فہد ماں نو سال پہلے میں اور میں تقریباً دس مہینے پہلے وہاں سے نکلا ہوں میں نے دیکھا فہد رو رہا تھا میں اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا میں کیا ہوا تو کیوں رو رہا ہے دیکھ سب ٹھیک ہو جائے گا پریشان نہ ہو میں ہوں نا میں نے اسے گلے لگا لیا اور وہ دونوں یہ دیکھ کر اور بھی ڈر گئیں میں آپ کو پتہ ہے آپ کے رویے سے اسے کتنی تکلیف ہو رہی ہے میں جانتا ہوں آپ کو یقین نہیں ہو گا پر فہد نے کوئی چوری نہیں کی وہ بے گناہ تھا قانون نے تو اسے سزا دی کیونکہ ان کو ثبوت کی بنیاد پر سب کرنا ہوتا ہے پر آپ تو اس کی ماں ہو کیا آپ کو اپنے بیٹے پر یقین نہیں تھا آپ کوئی ایسی بات پوچھو جو صرف آپ کو اور فہد کو پتہ ہو میں جانتا ہوں کہ آپ کو میری ان باتوں کا یقین نہیں ہے کہ میں فہد کو دیکھ اور اس سے بات کر سکتا ہوں فہد ماں روتے ہوئے فہد کی سب سے عزیز چیز میں اس کا لاکٹ جو آپ نے گفٹ دیا تھا فہد ماں سب سے زیادہ پیار وہ کس سے کرتا ہے میں آپ سے اور اپنے بھائی سے اور بھی کئی سوال انہوں نے مجھ سے پوچھے جن کا جواب فہد مجھے دیتا رہا اور میں بتاتا رہا پھر بھی ان کو یقین نہیں تھا فہد ماں میں کیسے مان لوں فہد یہیں ہے اور تم اس سے بات کرتے ہو باجی آپ کے سب سوالوں کے جواب اس نے دیے ہیں پھر بھی آپ کو یقین نہیں ہے فہد ماں ہو سکتا ہے جب یہ فہد سے ملا تھا تب اس نے بتایا ہو اسے میں ہاں آپ ٹھیک کہہ رہی ہو پھر کیسے یقین دلواؤں آپ کو فہد ماں تم رکو میں ابھی آئی اس کے بعد وہ کچن میں گئیں اور تھوڑی دیر بعد واپس آ گئیں ان کے ہاتھ میں کچھ تھا ان کے ہاتھ دیکھ کر فہد نے مجھے کچھ بتایا جسے سن کر مجھے ہنسی آ گئی

جب وہ کچن سے واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں ایک چاقو تھا جس سے وہ مجھے مارنا چاہتی تھیں ان کو لگا میں ان کو لوٹنے آیا ہوں میں ہاہاہا آپ اپنی دل کی پوری کر لو آنٹی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے فہد ماں کیا مطلب میں ان کے قریب جا کر لو آنٹی میں حاضر ہوں اپنا ہاتھ آگے کرو اور چلا دو چاقو مجھ پر فہد ماں تم کو کیسے پتہ کہ میرے پاس چاقو ہے میں فہد آپ کے پیچھے کھڑا ہے اسی نے بتایا ان کو میری بات سن کر جھٹکا لگا اور ان کے ہاتھ سے چاقو گر گیا میں آپ ڈرو نہیں میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا پر ہاں آپ کچھ ایسا کرو جو مجھے پتہ نہ ہو وہ میں آپ کو بتاؤں گا پھر شاید آپ یقین کر لو کہ فہد یہیں ہے اس کے بعد انہوں نے اندر جا کر کچھ ایسے کام کیے جن کے بارے میں صرف وہی جانتی تھیں جب وہ باہر آئیں تو میں نے ان کو سب بتا دیا جو انہوں نے اندر کیا جسے سن کر ان کو یقین نہیں ہو رہا تھا وہ صدمے میں تھیں میں کیا ہوا آنٹی آپ چپ کیوں ہو انہوں نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا میں نے ان کو ہلایا تو وہ سوفے پر گر گئیں وہ بے ہوش ہو چکی تھیں میں نے ان کے پانی ڈال کر ہوش میں لایا میں کیا آپ بے ہوش کیوں ہو گئی تھیں فہد ماں کیا سچ میں فہد یہاں ہے میں کیا آپ کو اب بھی یقین نہیں فہد ماں نہیں مجھے یقین ہے جو تم نے بتایا اس کے بعد مجھے یقین ہے میں آپ اب کیا سوچتی ہو کیا اب بھی آپ کو لگتا ہے کہ فہد قصوروار تھا وہ رونے لگیں اتنا وہ آج تک نہیں روئی ہوں گی جتنا اس وقت رو رہی تھیں اچانک میری نظر فہد پر گئی اس کے قریب ایک روشنی سی چمک رہی تھی میں کیا ہوا فہد شکریہ دوست میرا وقت ہو چکا ہے میں کیا مطلب فہد میری ماں نے دل سے یقین کر لیا ہے کہ میں نے چوری نہیں کی تھی اس لیے اب مجھے آزادی مل گئی ہے میں تو کیا تو مجھے چھوڑ کر چلا جائے گا فہد کیا کروں دوست مجبوری ہے پر یقین کر تیرا یہ احسان میں کبھی نہیں بھول سکوں گا میرا ایک آخری کام کرے گا میں روتے ہوئے بول یار تیرے لیے تو جان بھی حاضر ہے فہد میری ماں کا خیال رکھے گا ان کو خوش رکھے گا میں ٹھیک ہے اگر تو نہ بھی کہتا تو بھی میں یہ کرتا فہد ٹھیک ہے دوست میری ماں کو کہنا کہ میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں اس کے بعد روشنی تیز ہو گئی اور وہ چلا گیا باجی اور فہد ماں مجھے غور سے دیکھ رہی تھیں اور صرف میری ہی بات سن رہی تھیں فہد ماں کیا ہوا بیٹا کیا کہہ رہا ہے فہد میں آنٹی آپ نے اسے دل سے معاف کر دیا تو وہ چلا گیا اسے آزادی مل گئی اب وہ جا چکا ہے میری بات سن کر وہ اور زور سے رونے لگیں میں نے ان کو تھوڑی دیر رونے دیا میں بس آنٹی چپ ہو جاؤ آپ کے ایسا کرنے سے اسے تکلیف ہو گی اور میں نے اسے وعدہ کیا ہے کہ میں آپ کا خیال رکھوں گا کیا آپ چاہتی ہو کہ اسے تکلیف ہو فہد ماں نہیں بیٹا میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے اسے کوئی تکلیف ہو بس افسوس ہو رہا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا میں آنٹی چھوڑ تو وہ نو سال پہلے گیا تھا آج تو اسے آزادی ملی ہے اور آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کا بیٹا بے گناہ تھا فہد ماں کیا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اصلی چور پکڑا جائے میں میں نے بھی اسے کہا تھا پر اس نے کہا کہ وہ بس یہی چاہتا ہے کہ آپ اسے بے گناہ سمجھو اس کے علاوہ اسے کچھ نہیں چاہیے اس کے بعد ہم نے بہت دیر ان کے ساتھ بات کی شام کے وقت ہم واپس آئے واپس آ کر باجی ڈرتے ہوئے کاشف کیا تم سچ میں مرے ہوئے لوگوں کو دیکھ سکتے ہو میں جی ہاں باجی تم کو ڈر نہیں لگتا میں سچ کہوں تو شروع میں بہت ڈر لگا تھا اسی وجہ سے مجھے سات دن تک میرا بخار نہیں اترا تھا پر اب عادت ہو گئی ہے اچھا باجی ایک بات پوچھوں باجی ہاں پوچھو میں باجی جب سے میں یہاں آیا ہوں میں نے آپ کے یا سر فرید کے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا وہ میری بات سن کر رونے لگیں میں کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہو باجی میں نے بھاگ کر شادی کی تھی فرید سے اور میں فرید کی دوسری بیوی ہوں اس لیے ان کے گھر والوں نے مجھے قبول نہیں کیا اور نہ ہی میرے گھر والوں نے کبھی مجھے معاف کیا میں کوئی بات نہیں باجی سب ٹھیک ہو جائے گا آپ پریشان نہ ہوں اس کے بعد ہم سو گئے اگلے دن سے پھر میری وہی روٹین کام اور پڑھائی ایسے ہی چھ مہینے نکل گئے اس وقت میں نے اپنے گھر والوں کا پتہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے مجھے تلاش کرنے کی کوئی کوشش کی چھ مہینے میں میں فہد ماں سے بھی ملتا رہتا تھا وہ بھی کہتی تھیں کہ اوپر والے نے فہد کے بدلے میں مجھے ان کو دیا ہے وہ بھی مجھے اپنا بیٹا مانتی تھیں چھ مہینے بعد ایک رات میں کام سے واپس آ رہا تھا تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا مجھے ایک آدمی دکھایا میں بھائی وقت کیا ہوا ہے وہ آدمی مجھے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کسی اور دنیا کی مخلوق ہوں میں میں بھائی جی وقت بتا سکتے ہو کہ نہیں وہ مجھے اسی طرح گھور رہا تھا مجھے اس کا ایسے گھورنا عجیب لگا اس کو نظر انداز کر کے میں جانے لگا تو آدمی ساڑھے ایک ہو گئی ہے میں شکریہ اس کے بعد میں گھر کے لیے چل پڑا آدمی میرا نام عاطف ہے میں میرا نام کاشف ہے عاطف تم جانتے ہو میں کون ہوں میں مجھے کیا پتہ آپ کون ہو عاطف تم کو ڈر نہیں لگتا اتنی رات کو میں ڈرنے والی کون سی بات ہے عاطف میں نے سنا ہے رات کو بھوت گھومتے ہیں میں آپ بھی تو اتنی رات کو اکیلے گھوم رہے ہو آپ کو ڈر نہیں لگتا عاطف نہیں میری بات الگ ہے تم کو بھوتوں سے ڈر نہیں لگتا میں نہیں میں ان سے نہیں ڈرتا عاطف کیوں میں بھائی جی آپ یہ بتاؤ آپ بھی بھوت ہو کیا عاطف مسکراتے ہوئے ہاں میں کتنا عرصہ پہلے مرے تھے میری اس بات سے وہ تھوڑا پریشان ہو گیا میں کیا ہوا عاطف ایک سال پہلے میں اب تک بھٹک کیوں رہے ہو میرے اس طرح نارمل بات کرنے پر اسے عجیب لگا اس کی باتوں سے اور مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے پر میں نے اندازہ لگایا کہ یہ بھی مر چکا ہے عاطف مجھے دھوکے سے مارا گیا میں مجھ سے کیا چاہتے ہو عاطف تم کو ایسے کیوں لگتا ہے کہ مجھے تم سے کچھ چاہیے میں ظاہر ہے میں نے صرف وقت پوچھا تھا پر آپ میرے ساتھ ہی چل رہے ہو اور بات کر رہے ہو تو کچھ امید سے ہی چل رہے ہو میرے ساتھ عاطف تو کیا تم سچ میں مرے ہوئے لوگوں کو دیکھ سکتے ہو میں آپ کے ساتھ بات کر رہا ہوں اب تک آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے تھا عاطف میری مدد کرو بدلے میں میں تم جو مانگو میں تم کو دوں گا میں آپ مجھے کیا دے سکتے ہو آپ خود تو مر چکے ہو اتنے میں گھر آ گیا اور میں دروازہ کھول کر اندر چلا گیا اور وہ بھی ساتھ آ گیا باجی میرا ہی انتظار کر رہی تھیں کھانے کے لیے میں باجی آپ میرا انتظار نہ کیا کرو آپ سو جایا کرو آپ نے صبح اسکول بھی جانا ہوتا ہے باجی اچھا تم جاؤ تازہ ہو جاؤ میں کھانا لاتی ہوں میں اپنے کمرے میں آ کر تازہ ہوا تب تک باجی کھانا لے آئیں میں ہاں بھائی بتاؤ تم مجھے کیا دے سکتے ہو باجی کس سے بات کر رہے ہو میں ہے کوئی باجی پھر کوئی مل گیا میں جی باجی آپ جاؤ جا کر سو جاؤ وہ چلی گئیں عاطف کیا یہ بھی جانتی ہیں میں ہاں وہ چھوڑو اپنا مسئلہ بتاؤ عاطف میں تم کو بہت سی دولت دے سکتا ہوں کیا تم کو نہیں چاہیے میں اگر کہوں کہ نہیں تو غلط کہوں گا دولت آج سب کی ضرورت ہے مجھے بھی پر تم کیسے دو گے عاطف میرے پاس بہت دولت ہے جو میں تم کو دلوا سکتا ہوں بدلے میں مجھے آزادی چاہیے میں ٹھیک ہے مجھے منظور ہے بتاؤ کیا کرنا ہو گا اور تم کو مارا کس نے عاطف میرا پارٹنر اسی نے مجھے مارا ہے میری دولت کے لیے اس تک تم ایسے نہیں جا سکتے تم کو بہت کچھ سیکھنا ہو گا میں مطلب عاطف مطلب تم کو لڑنا آنا چاہیے میں وہ کیوں عاطف کیونکہ اس وقت وہ بہت طاقتور ہے تم بغیر لڑے اس کو نہیں ہرا سکتے اس کا مرنا ہی میری آزادی ہے میں تم اسے مارنا ہی کیوں چاہتے ہو قانون کے حوالے بھی کر سکتے ہو عاطف نہیں قانون کو وہ اپنی جیب میں رکھتا ہے پولیس کچھ نہیں کرے گی اس کے خلاف میں اور مجھے لڑنا کون سکھائے گا عاطف میں مجھے ہر طرح کی فائٹنگ آتی ہے جیسے مارشل آرٹ کراٹے اور بہت کچھ میں جب تم کو اتنا کچھ آتا ہے تو تم کو مارا کیسے اس نے عاطف دھوکے سے پیچھے سے وار کیا تھا اس نے میں ہممم ٹھیک ہے پر مجھے کچھ وقت چاہیے عاطف ٹھیک ہے اس کے بعد کچھ دن تک کچھ خاص نہیں ہوا ایک دن میں عاطف سے ملا میں ٹھیک میں تیار ہوں عاطف ٹھیک کب شروع کرنا چاہو گے میں جب تم کہو عاطف ٹھیک کل سے شروع کرتے ہیں میں ٹھیک اس کے بعد میری ٹریننگ شروع کی اس نے جو کہ ایک سال چلی ایک سال میں اس نے مجھے وہ سب سکھا دیا جو اسے آتا تھا میری زندگی کی فل بند باجی ایک سال میں صبح پانچ بجے سے سات بجے تک ٹریننگ پھر کالج پھر وہاں سے واپسی پر نوکری پر جانا ایک سال بعد میں تیار تھا عاطف اب تم تیار ہو تو کیا خیال ہے میں جیسے تم کہو جانا کہاں ہے عاطف فلاں شہر میں ٹھیک پر ایک بات تو بتاؤ عاطف کیا میں وہاں جا کر میں رہوں گا کہاں کھاؤں گا کہاں سے اور یہاں میری نوکری ہے اس کا کیا ہو گا عاطف یار نوکری تو چھوڑ ہی دو اب رہی بات کھانے کی اس کا تم کو مسئلہ نہیں ہو گا اب اتنے پیسے تو ہیں تمہارے پاس رہی بات رہنے کی تو اس کا بھی کچھ ہو جائے گا میں پھر بھی میرے پاس جو پیسے ہیں وہ کتنا چلیں گے عاطف یار ایک کام ہو سکتا ہے میں کیا عاطف میری شہر میں ایک شو چلتا ہے جس میں بہت سے انعام دیے جاتے ہیں میں تو عاطف اس میں جا کر تم انعام جیت سکتے ہو میری مدد سے میں اس سے کیا ہو گا عاطف ان میں سے کچھ انعام کو بیچ دینا اور رہنے کے لیے ایک کمرہ لے لینا جو آسانی سے وہاں مل جاتا ہے اور سستا بھی ہوتا ہے میں ہاں یہ ہو سکتا ہے ٹھیک ہے میں باجی سے بات کر کے تم کو بتا دوں گا کہ کب جانا ہے اس سے بات کر کے میں نے باجی سے بات کی تو انہوں نے جانے سے منع کر دیا پر میرے سمجھانے پر مان گئیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ بھی اسی شہر سے ہیں مطلب ان کے والدین بھی اسی شہر میں رہتے ہیں میں نے ان کے والدین کا پتہ لے لیا ان سے وہ دے تو نہیں رہی تھیں پر میرے ضد کرنے پر دے دیا میں نے ان سے کہا کہ میں پوری کوشش کروں گا کہ ان کے گھر والے مان جائیں اور اس میں عاطف نے بھی میری مدد کرنے کا کہا میں نے نوکری سے بھی استعفیٰ دے دیا اور اپنے پیسے لے کر چل پڑا عاطف کی شہر وہاں جا کر میں ہاں بھائی اب بتا کیا کرنا ہے رات ہو رہی ہے عاطف یار آج کی رات کسی ہوٹل میں رہ لے کل شو میں جائیں گے ابھی تو کچھ نہیں ہو سکتا مجھے بھی اس کی بات ٹھیک لگی ابھی رات ہو رہی تھی میں نے ایک ہوٹل میں کمرہ بک کیا اور جا کر سو گیا تھک گیا تھا اتنا لمبا سفر کیا تھا چوبیس گھنٹے لگ گئے ہم کو شہر تک آنے میں اگلے دن صبح اٹھ کر تازہ ہوا ناشتہ کیا اور کمرہ خالی کر کے نکل گیا شو کی طرف جو کہ دوپہر دو بجے شروع ہوتا تھا اور جہاں میں تھا وہاں سے جانے میں وقت بھی لگنے والا تھا تو تھوڑی دیر ایسے ہی عاطف کے ساتھ گھومتا رہا پھر شو کی طرف نکل گیا وہاں جا کر بہت مشکل سے شو کا ٹکٹ لیا اور اندر چلا گیا

شو میزبان آپ سب کا خیرمقدم ہے آج کے ہمارے شو میں امید کرتا ہوں کہ آپ سب آج یہاں سے کچھ لے کر جائیں گے آج کا ہمارا شو تھوڑا الگ ہو گا میزبان تو میں آپ کو گیم کے اصول بتا دوں جو کہ بہت سادہ ہیں آپ لوگ آٹھ ہیں جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے سامنے چالیس باکس ہیں جو کہ ایک بورڈ میں بنے ہیں آپ سب کو پانچ پانچ باکس دیے جائیں گے ان سب میں ایک کارڈ ہے میزبان آپ سب پانچ پانچ باکس اپنی مرضی کے منتخب کر سکتے ہیں ایک ایک کر کے ہم آپ سب کے باکس کی آپشن دیں گے جن میں آپ کو بتانا ہو گا کہ آپ کے باکس میں کیا ہے اگر آپ نے صحیح بتایا تو وہ انعام آپ کو ملے گا اگر آپ نہ بتا پائے تو کسی اور کو آپ کے باکس کھولنے کا موقع دیا جائے گا اس کے بعد سب کا تعارف ہوا اور سب نے اپنے اپنے باکس منتخب کر لیے سب باکس پر نمبر لکھے تھے میں آخر میں تھا تو سب نے اپنی مرضی کے نمبر لیے جو آخر میں بچ گئے وہ میرے حصے میں آئے جو کہ یہ تھے گیارہ بارہ پندرہ انیس اور اکیس اس کے بعد اس میزبان نے ہم کو پانچ کارڈ دیے جن پر ہمارے باکس کے نمبر لکھے تھے اور ان پر انعام بھی لکھے تھے اب یہ ہم کو بتانا تھا کہ کس نمبر میں کون سی چیز ہے میں نے عاطف کی طرف دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا میں بھی اسے دیکھ کر مسکرا دیا جو میزبان نے دیکھ لیا میزبان ہاں تو مسٹر کاشف لگتا ہے آپ کچھ زیادہ ہی پرجوش ہیں تو آپ سے ہی شروع کرتے ہیں تو آپ کے پاس نمبر ہیں گیارہ بارہ پندرہ انیس اور اکیس تو آپ بتاؤ کہ آپ کے باکس نمبر انیس میں کیا ہے میں عاطف کی طرف دیکھا یہاں جو بھی میں بتاؤں گا وہ عاطف کے بتانے کے بعد ہی ہو گا تو پریشان نہ ہوں میں تھوڑا سوچنے کا ڈرامہ کیا انیس میں ایک جوسر ہے میزبان ٹھیک تو ہم انیس نمبر کھولتے ہیں اسے کھولنے کے بعد وہی نکلا جو میں نے بتایا تھا میزبان مبارک ہو اب دیکھتے ہیں آپ کے پاس باقی چار میں کیا ہے تو اکیس نمبر میں سوچ کر بائیک اس میں بائیک ہی نکلی پھر باری آئی گیارہ میں گیارہ میں سونا وہی نکلا میزبان اب نمبر پندرہ میں شاپنگ واؤچر وہی تھا میزبان ٹھیک آپ کے چار ٹھیک نکلے اب آخری بچا ہے میں اب آخری بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے پر پھر بھی بتا دیتا ہوں اس میں کار ہے میزبان بالکل آپ نے ٹھیک کہا مبارک ہو آپ کو آپ نے سب ٹھیک بتایا ہے اب دیکھتے ہیں کہ آپ کے باقی ساتھی کیا صحیح اندازہ کرتے ہیں اس کے بعد سب سے پوچھا گیا ان سات میں سے سب نے کچھ صحیح بتائے کچھ غلط اور جنہوں نے غلط بتائے تھے ان کے باکس کو نہیں کھولا گیا کیونکہ میزبان باکس کو سب کو دکھانے سے پہلے خود دیکھتا تھا اگر صحیح ہوتا تو کھول دیا جاتا اگر غلط ہوتا تو نہیں کھولتا اس کے بعد ان باکس کے انعام کی جگہ کو بدل دیا گیا پھر پوچھا گیا اور سب سے زیادہ صحیح میں نے ہی بتائے تھے اور سب سے پہلے بھی تو سب سے پہلے مجھ سے پوچھا گیا اب کل سات باکس تھے جن کے انعام کھلنے تھے جس میں سے چار میں نے صحیح بتا دیے باقی تین چھوڑ دیے خود ہی ان میں بھی اچھے انعام تھے چار میں سے ایک میں ایک اور کار ایک بائیک ایک واشنگ مشین اور ایک میں سے پنکھہ نکلا جو میں نے عاطف کی مدد سے انعام کو دیکھنے کے بعد ہی باکس منتخب کیا تھا شو کے آخر میں میزبان تو مسٹر کاشف آپ نے آج بہت کچھ حاصل کیا ہے اس کے لیے آپ کو مبارک ہو میں جی شکریہ میزبان تو آپ اپنے انعام کے ساتھ کیا کرنا چاہو گے میں جی اگر سچ کہوں تو میں شہر میں نیا ہوں کام کی تلاش میں آیا تھا اس شو کا سنا تو سوچا قسمت آزما لیتا ہوں اور میں خوش قسمت ہوں کہ میں جیت گیا میزبان ہاں آپ خوش قسمت تو ہو تو اب آپ ان انعام کا کیا کرو گے جیسا آپ نے بتایا کہ آپ نئے ہو میں جی آپ سے ایک درخواست ہے میزبان جی کہو میں اگر آپ میرے کچھ انعام کو نقد میں تبدیل کر سکو تو میں ایک چھوٹا سا کمرہ خرید لوں گا رہنے کے لیے اب ان انعام کو میں کیا کروں گا ہاں ان میں سے بس ایک بائیک مشین اور جوسر میں رکھ لیتا ہوں باقی دو کاریں ایک بائیک پنکھہ سونا اور شاپنگ واؤچر کے بدلے آپ نقد دے سکو تو بہت مدد ہو گی میزبان ٹھیک میں پروڈیوسر سے بات کرتا ہوں اس کے بعد اس نے بات کی اور پروڈیوسر بھی مان گیا اور مجھے قریب سولہ لاکھ ملا جسے لے کر میں نکل گیا ایک علاقے میں پتہ چلا کہ ایک کمرہ فروخت کے لیے ہے جسے میں نے لے لیا وہ قریب نو لاکھ کا ملا میرے پاس ابھی بھی سات لاکھ باقی تھے جو میں نے بینک میں رکھوا دیا

مقام گھر میرے گھر سے نکلنے کے بعد کسی کو کوئی افسوس نہیں تھا پر میری کمی سب نے محسوس کی مجھے گھر سے نکلے تقریباً دو سال ہو گئے تھے بھائی بھی اب کالج میں تھا اور اسے ایک لڑکی سے پیار ہو گیا اتفاقاً وہ پاپا کے دوست کی بیٹی تھی اور ان کو بھی لڑکی پسند تھی تو رشتہ پکا ہو گیا اسی لیے جلدی ہی دونوں کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا گیا سب نے یہی کہا کہ شادی کے بعد بھی دونوں پڑھائی کرتے رہیں گے اسی لیے دونوں کی شادی ہو گئی شادی کے کچھ دن بعد چچی بھائی کے پاس گئیں اس وقت بھابھی اپنی ماں کے گھر گئی تھیں چچی سلمان مجھے سچ جاننا ہے بھائی کون سا سچ چچی آپ کیا بات کر رہی ہو چچی وہی سچ جو کاشف کا ہے بھائی یہ سن کر پریشان ہو گیا بھائی ڈرتے ہوئے کوئی بھی سچ نہیں ہے چچی جو بھی ہے آپ کو پتہ ہے چچی غصے میں سلمان مجھے بتاؤ دو سال سے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے مجھے اس کی فکر ہو رہی ہے بھائی چچی آپ کیا بات کر رہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا چچی چاٹک اب یاد آیا کس سچ کی بات کر رہی ہوں بھائی جی جی چچی چچی اب بتاؤ کیا ہوا تھا اس وقت بھائی اس وقت وہ گناہ مجھ سے ہوا تھا اور میں بہت ڈر گیا تھا چچی مجھے پوری بات بتاؤ بھائی ہم سب کھیل رہے تھے میرا اس لڑکے سے جھگڑا ہو گیا اس نے مجھے گالی دی تو مجھے بہت غصہ آ گیا اور غصے میں میں نے بیٹ اس کے سر پر مار دیا باقی سب ہم سے دور تھے اس وقت کسی کو پتہ نہیں تھا بس کاشف ہی میرے ساتھ تھا چچی پھر بھائی میرے اسے مارنے کے بعد وہ گر گیا اور اس کے سر سے خون نکلنے لگا خون دیکھ کر میں بہت ڈر گیا میری کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں چچی پھر بھائی میرے ہاتھ میں وہ بیٹ تھا جس سے میں نے اسے مارا تھا جب مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے وہ بیٹ کاشف کو پکڑا دیا اور وہاں سے آگے جانے لگا اسی وقت باقی کے لڑکے بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے کاشف کے ہاتھ میں بیٹ دیکھا اور اس لڑکے کو بھی جو مر چکا تھا اور اس بیٹ پر بھی خون لگا تھا اسی لیے سب کو لگا کہ کاشف نے اسے مارا ہے چچی پھر بھائی پھر ان میں سے ایک لڑکا وہاں سے بھاگ گیا اور جا کر اس کے باپ کو بلا لایا جو مر چکا تھا اس نے آتے ہی اپنے بیٹے کی لاش دیکھی اور اس سے لپٹ کر رونے لگا جب اس کی نظر کاشف پر گئی جس کے ہاتھ میں بیٹ تھا تو وہ غصے میں آ گیا غصے میں اس نے کاشف کو بہت مارا اور پھر پولیس کو فون کر کے سب بتا دیا چچی اور تم وہاں کھڑے تماشا دیکھتے رہے یہ بھی نہیں کہ اپنے چھوٹے بھائی کی مدد کر دو بھائی میں بہت ڈر گیا تھا چچی مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں چچی اور کاشف اس نے کچھ نہیں بولا بھائی اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ ہو کیا رہا ہے اسے تو بس یہی پتہ تھا کہ اسے اس لڑکے کے باپ نے مارا ہے اور پولیس اسے لینے آئی ہے چچی پھر بھی جب اسے عدالت میں پیش کیا تب بھی وہ کچھ نہیں بولا ایسا کیوں بھائی جب اسے پولیس وہاں لے کر آئی تو باہر ہی وہ مجھے ملا تھا اس وقت ماں پاپا اتنے غصے میں تھے کہ میں ڈر گیا اسی لیے میں نے اسے کہا تھا کچھ بھی نہ بتانے کو چچی کیا تم نے اسے منع کیا تھا کچھ نہ بتانے کے لیے بھائی جی چچی میں بہت ڈر گیا تھا کہ اگر ماں پاپا کو پتہ چلا تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے چچی اور اس کے واپس آنے کے بعد بھائی اس کے واپس آنے کے بعد میں نے بھی اس کے ساتھ وہی کیا جو باقی سب کرتے تھے پر کچھ وقت کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلط کیا ہے چچی پر بعد میں تو تم اپنے ماں باپ کو بتا سکتے تھے بھائی مجھے آج بھی ماں پاپا سے بہت ڈر لگتا ہے کئی بار سوچتا ہوں کہ ان کو سچ بتا دوں پر میری ہمت نہیں ہوتی یہی سوچ کر چپ کر جاتا ہوں کہ سچ جان لینے کے بعد وہ میرا ساتھ کیا کریں گے اسی لیے آج تک چپ رہا چچی واپس آنے کے بعد کاشف تو سچ بتا سکتا تھا بھائی پتہ نہیں چچی ہاں بتاتا بھی تو کیا کہ اسی کے بھائی نے اس کے ساتھ ایسا کیا سچ پتہ ہونے کے بعد بھی جب تم نے ہی اس ساتھ وہی سلوک کیا جو باقی کرتے تھے تو کسی کو بتا کر بھی کیا مل جاتا ایک بات یاد رکھنا سلمان نفرت کرنا بہت آسان ہے جیسے آج سبھی اس سے نفرت کرتے ہیں پر اس کا بھی کیا حاصل جس پیار اور اپنوں کے ساتھ کی اسے امید تھی جب وہی اسے نہیں ملا تو وہ سچ بتاتا بھی تو کسے اور جسے پتہ تھا جب اسی نے کچھ نہیں کیا تو وہ خود کیا کرتا بھائی مجھے معاف کر دو چچی مجھ سے معافی مانگنے سے کیا ملے گا جس سے معافی مانگنی تھی اس سے تو مانگی نہیں خیر تم کو بھی کچھ کہہ کر کیا فائدہ گزرا وقت واپس تو نہیں آئے گا ایسے کہ پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتے ان کو باہر کچھ گرنے کی آواز آئی جو وہ باہر آئے تو کوئی بے ہوش پڑا تھا ان دونوں نے ان کو اٹھا کر بھائی کے کمرے میں لایا

جب دونوں کمرے سے باہر آئے تو ماں کو بے ہوش دیکھا دونوں ان کو اپنے کمرے میں لے گئے بھائی نے فوراً جا کر پاپا کو ماں کے بے ہوش ہونے کا بتایا تو وہ بھی بھائی کے کمرے کی طرف بھاگے پھر ماں کے چہرے پر پانی ڈال کر ان کو ہوش میں لایا گیا پاپا اور بھائی کے واپس آنے کے بعد چچی وہاں سے چلی گئیں بھائی ماں کیا ہوا آپ کو ماں چاٹک بھائی ماں مجھے معاف کر دو مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی پلیز ماں اور وہ رونے لگے پاپا کیا ہوا بیٹا کس بات کی معافی مانگ رہے ہو ماں تجھ سے غلطی نہیں گناہ ہوا ہے اور تو نے اس میں ہم سب کو گناہگار بنا دیا بھائی میں جانتا ہوں ماں مجھ سے گناہ ہوا ہے پر میں بہت ڈر گیا تھا ماں کیا کرتا اس وقت کہاں اتنی سمجھ تھی مجھے پاپا ہوا کیا ہے کوئی کچھ بتائے گا پھر ماں نے ان کو سب کچھ بتا دیا جو اب تک انہوں نے سنا تھا سب سن لینے کے بعد پاپا یہ ہم سے کیا ہو گیا ہم تو اس کی معافی کے قابل بھی نہیں رہے یہ تم نے کیا کر دیا بیٹا بھائی معافی پاپا ماں آپ جو سزا دو گے مجھے منظور ہے پلیز مجھے معاف کر دو پاپا تجھے سزا دے کر بھی کیا مل جائے گا بیٹا تجھے سزا دینے سے کیا حاصل ہو گا ہم سے جو گناہ ہوا وہ تو نہیں دھل جائے گا ماں پاپا سے مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے آپ کچھ بھی کرو کیسے بھی کرو مجھے نہیں پتہ پاپا میں کیا کروں کیا پتہ وہ اب کہاں ہو گا کچھ پتہ بھی نہیں ہے دو سال ہو گئے ہیں کہاں سے تلاش کروں اسے پتہ نہیں کس حال میں ہو گا وہ اس وقت ماں مجھے کچھ نہیں پتہ مجھے میرا بیٹا لا کر دو کچھ بھی کرو پاپا اچھا کچھ کرتا ہوں اب پریشان نہ ہو بس دعا کرو کہ وہ جہاں بھی ہو ٹھیک ہو ادھر میں

میں اپنے گھر سے سکون سے سو رہا تھا اگلی صبح عاطف میرے پاس آیا میں اب کیا کرنا ہے عاطف کوئی پلان بنانا پڑے گا میں جیسے کہ تم نے بتایا کہ وہ اس وقت طاقتور ہے تو ہم اس کو ایسے کچھ نہیں کر سکتے ان کو اندر سے کاٹنا ہو گا عاطف کیا مطلب میں مطلب ہم کو کوئی ایسا بندہ چاہیے جو اس کے اندر رہ کر ہم کو ساری معلومات دے اس کی اس کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے بعد اسے مارنا آسان ہو گا عاطف ہاں صحیح کہہ رہے ہو میں کیا تم کسی ایسے کو جانتے ہو جو اس کے لیے کام کرتا ہو اور ہماری مدد کر سکے عاطف کچھ سوچنے کے بعد ہاں ایک ہے جو ہماری مدد کر سکتا ہے میں تو بتاؤ کون ہے وہ عاطف علی میں یہ علی کون ہے عاطف علی اس کی سیکیورٹی کا ہیڈ ہے میں وہ ہماری کیسے مدد کرے گا اور کیوں جب کہ وہ اس کے لیے وفادار ہو گا اس کی سیکیورٹی جو کرتا ہے عاطف اس کے لیے کام کرنا علی کی مجبوری ہے میں کیا مجبوری ہے عاطف علی کا ایک چھوٹا بھائی ہے جو اس وقت عمران عاطف کا پارٹنر کے قبضے میں ہے اگر علی اس کے لیے کام نہیں کرے گا تو عمران اسے مار دے گا میں ہممم تو یہ بات ہے عاطف ہاں اور آج تک علی اپنے بھائی کی تلاش کر رہا ہے پر اسے کہاں چھپا کر رکھا ہے کوئی نہیں جانتا علی کی ٹیم اب بھی اس کی تلاش کر رہی ہے اور مزے کی بات ہے کہ عمران کو علی کی ٹیم کے باقی چار لوگوں کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہے میں کیا تم بھی نہیں جانتے اور یہ تو اچھی بات ہے کہ عمران کو علی کی ٹیم کا نہیں پتہ عاطف نہیں مجھے بھی نہیں پتہ میں کیا تم پتہ لگا سکتے ہو کہ اس کو کہاں رکھا گیا ہے عاطف پتہ نہیں میں میں نے تو سنا تھا کہ روحوں کے پاس کچھ طاقتیں ہوتی ہیں کیا تمہارے پاس کوئی طاقت نہیں ہے جس سے تم پتہ لگا سکو اس کے بارے میں عاطف ہاں میں کوشش کرتا ہوں اس کا پتہ کرنے کی پر اس سے تم کو کیا ملے گا میں ہونٹوں پر مسکان لیے علی عاطف کیا مطلب میں سادہ میں علی کے بھائی کو بچا کر علی کو واپس کر دوں گا تو جہاں تک میرا خیال ہے اس کو ہمارے ساتھ ملانے کے لیے یہ ایک ہی راستہ ہے عاطف کیسے میں سادہ سی بات ہے اگر اب ہم نے اسے اپنے لیے کام کرنے کا کہا تو وہ ہم کو اپنا دشمن بھی سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ یہ عمران کی کوئی چال ہے ہاں اگر میں نے اسے اس کا بھائی لا کر دے دیا تو وہ آسانی سے ہمارے لیے کام کرے گا عاطف ہاں یار یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں اس طرح سے علی کو تم پر یقین بھی ہو جائے گا کہ تم عمران کو ختم کرنا چاہتے ہو اسی لیے یہ سب کر رہے ہو میں تو اب تم لگ جاؤ کام پر اور جلدی سے جلدی مجھے اس کے بھائی کا پتہ دو جس سے ہم اپنا اگلا قدم لیں عاطف ٹھیک میں جتنی جلدی ہو پتہ کر کے دیتا ہوں

اس کے بعد ماں پاپا اپنے کمرے میں آ گئے اور سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا ہے اور ان کو اپنے کیے پر افسوس بھی تھا وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ وہ مجھے کیسے فیس کریں گے اس رات کوئی بھی ٹھیک سے نہیں سو سکا سبھی اپنی اپنی سوچ میں گم تھے اگلی صبح کسی کا بھی کھانے کا دل نہیں تھا پر سب نے تھوڑا بہت کھا لیا کھانے کے بعد پاپا اپنے دفتر نکل گئے اور بھائی بھابھی کو ان کی ماں کے گھر سے لے کر کالج اور چھوٹی اسکول ماں اپنے کمرے میں تھی چچی وہاں آ گئیں چچی باجی کیا ہوا آپ پریشان لگ رہی ہو ماں کچھ نہیں میں کہاں پریشان ہوں چچی سچ بتاؤ باجی آپ کے چہرے سے پتہ چل رہا ہے آپ پریشان ہو ماں کچھ نہیں چھوٹی چچی کے بار بار پوچھنے پر ماں نے ان کو سب بتا دیا اور رونے لگیں چچی اب آپ رو کیوں رہی ہو ماں چھوٹی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے کیا وہ مجھے معاف کرے گا چچی کون سا بیٹا ماں حیرانی سے کیا مطلب چچی ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں کون سا بیٹا ماں میرا بیٹا کاشف چچی اچھا اچھا وہ دو ٹکے کا نوکر وہ آپ کا بیٹا کب سے ہو گیا ماں غصے میں چھوٹی چچی ہاہاہا یاد ہے باجی آج سے دو سال پہلے جب میں اس سے معافی مانگ رہی تھی تب آپ ہی تھیں نا جنہوں نے کہا تھا کہ کاشف دو ٹکے کا نوکر ہے میں نے کہا تھا آپ سے کہ آپ کو افسوس ہو گا تب آپ نے ہی کہا تھا کہ آپ کو کوئی افسوس نہیں ہو گا میں نے کہا تھا وہ آپ کا بیٹا ہے آپ نے جواب دیا کہ آپ کا صرف ایک ہی بیٹا ہے اور ایک بیٹی اب یہ دوسرا بیٹا کہاں سے آ گیا اس دن میں بھی اسی بات کے لیے اس سے معافی مانگ رہی تھی کہ میں نے سلمان بھائی اور کاشف کی بات سن لی تھی ماں تو اسی وقت سچ بتا دیتی چچی کیا بتاتی آپ کو میں نے جو سنا اس سے مجھے یہ تو پتہ چلا کہ کاشف بے گناہ ہے میں نے آپ کو کہا بھی تھا میرے اور کچھ بتانے سے پہلے ہی آپ غصے میں وہاں سے چلی گئیں تب آپ کچھ سننا ہی نہیں چاہتی تھیں تو کیا بتاتی آپ کو چلو مان بھی لو اگر اگر اس نے وہ سب کیا بھی تھا کیا اس وقت اس کو اتنی سمجھ تھی کہ وہ کچھ سوچ سکتا پھر ہم سب میں سے کسی نے اس سے ایک بار پوچھا تک نہیں کہ ہوا کیا تھا کیا کسی نے پوچھا ماں نہیں چچی نہیں پوچھا جب وہ واپس آیا سات سال بعد تو کیا اس وقت کسی نے اس سے ایک بار صرف ایک بار بھی کبھی پیار سے بات کی نہیں کی یہاں تک کہ گھر کے بیٹے کو اسی کے گھر میں نوکر کہا گیا اور اسے کیا ملا صرف نفرت اس نے مار کھائی پھر بھی چپ رہا بھوکا رہا پھر بھی خاموش رہا ہر بار اسے ذلیل کیا گیا پھر بھی اس نے کچھ نہ کہا پتہ اس نے کیا کہا تھا ماں کیا کہا تھا چچی اس نے کہا تھا کوئی فائدہ نہیں کسی کو کچھ بتانے کا نہ تو ان کی نفرت ختم ہو گی اور نہ مجھے اب کسی کے پیار کی ضرورت ہے نفرتوں کا عادی ہوں خوش ہوں اور اس نے کہا تھا بس معمولی نوکر ہوں اور وہی رہنا چاہتا ہوں تو مہربانی ہو گی آپ کی مجھے میری اوقات میں رہنے دیں یہ سب سن کر ماں رونے لگیں چچی اب رونے کا کیا فائدہ جب اسے پیار کی امید تھی تب اسے نفرت ملی اب جب آپ اسے پیار دینا چاہتی ہو تو اسے ضرورت نہیں وہ تو دو سال پہلے ہی اس نے کہہ دیا تھا اور اسے امید بھی نہیں تھی اور اب جب وہ یہاں نہیں ہے تو میں پکی طور پر کہہ سکتی ہوں کہ اسے ہم سب کے پیار اور سہارے کی نہ تو ضرورت ہو گی نہ امید باقی آپ کو جو ٹھیک لگے اگر کوئی بات بری لگی ہو تو معافی چاہتی ہوں یہ بول کر وہ وہاں سے چلی گئیں اور ماں رونے لگیں

پاپا جب دفتر گئے تو انہوں نے ایک اپنے سیکیورٹی ہیڈ کو بلایا اور اسے میرے بارے میں پتہ کرنے کو کہہ دیا اور وہ بھی جلدی سے جلدی عاطف کو گئے ہوئے دو دن ہو گئے پر اس کا کچھ پتہ نہیں تھا اور میں نے بھی فری بیٹھنے کی بجائے باجی عرفہ کے گھر کی تلاش شروع کر دی جو کہ جہاں میں رہتا تھا اس کے نزدیک ہی تھا دو دن بعد عاطف واپس آیا میں ہاں کچھ پتہ چلا علی کے بھائی کا عاطف ہاں پتہ چل گیا ہے میں کہاں ہے وہ عاطف اپنے گھر میں کیا مطلب عاطف علی کے گھر کے پیچھے ایک تہ خانہ ہے اسی میں چھپا کر رکھا ہے میں ہممم سچ میں عمران کافی چالاک ہے اسے پتہ تھا کہ علی ہر جگہ اپنے بھائی کی تلاش کرے گا پر اپنے گھر کبھی نہیں اسی لیے اس نے اسے وہیں رکھا ہے عاطف ہاں اور اس کے پاس بس دو لوگ ہی ہوتے ہیں جن میں سے ایک کھانا لینے باہر جائے تو دوسرا اس پر نظر رکھتا ہے میں ہمم ٹھیک ہے اب یہ بتاؤ کہ علی اکیلا کب مل سکتا ہے عاطف رات کو نو بجے کے بعد وہ ایک ہوٹل جاتا ہے کھانا کھانے وہیں ملے گا میں ٹھیک آج رات علی سے ملتے ہیں پھر کیا خیال ہے عاطف علی سے ابھی کیوں ملنا ہے میں وہ رات کو پتہ چلے گا اس کے بعد کچھ خاص نہیں ہوا رات کو نو بجے میں اسی ہوٹل میں آ گیا جہاں مجھے علی سے ملنا تھا میں وہاں جا کر بیٹھ گیا اور اس کا انتظار کرنے لگا تقریباً بیس منٹ بعد وہ آیا تو عاطف نے مجھے اس کی میز کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہی علی ہے میں نے اس کی طرف دیکھا تو ایک بندہ بیٹھا تھا کافی اچھی باڈی بنائی تھی اس نے اور وہ بیٹھا بھی اکیلا تھا میں اپنی میز سے اٹھ کر اس کی میز پر بیٹھ گیا علی جی آپ کون کیا چاہیے میں جی میرا نام کاشف ہے علی تو میں کیا کروں جاؤ یہاں سے میں کیا تم علی ہو علی ہاں میں ہی ہوں تم کو ہو اور مجھے کیسے جانتے ہو میں وہ سب بعد کی بات ہے مجھے کچھ چاہیے علی کیا چاہیے تم کو میں تم اور تمہاری ٹیم بدلے میں تم کو میں وہ دے سکتا ہوں جس کے لیے تم اتنے سال سے کوشش کر رہے ہو علی بچے تم جانتے نہیں میں کون ہوں ابھی کے ابھی تم کو یہیں ختم کر سکتا ہوں اور کوئی پوچھے گا بھی نہیں مجھے میں جانتا ہوں پر مجھے جو لینا ہے وہ تو تم ضرور دے دو بدلے میں تم کو وہ ملے گا جو تم کو چاہیے علی مجھے کچھ نہیں چاہیے بچے میں سوچ لو تم کو کچھ نہیں چاہیے علی بچے چلا جا یہاں سے اور مجھے کچھ نہیں چاہیے میں کچھ بھی نہیں علی کچھ بھی نہیں میں تمہارا بھائی بھی نہیں میری اس بات سے وہ مجھے گھور کر دیکھنے لگا میں مجھے پتہ ہے تمہارا بھائی کہاں ہے یقین نہیں آ رہا نا چلو ایک ڈیل کرتے ہیں میں تم کو تمہارا بھائی لا کر دے دیتا ہوں بدلے میں تم مجھے وہ دینا جو میں چاہتا ہوں بولو منظور ہے میری بات سن کر اس نے بندوق نکال کر مجھ پر تان دی میں ٹھیک مجھے گولی مارو پر ساری زندگی بھول جانا اپنے بھائی کو اونچی آواز میں چلاؤ گولی میری آواز سن کر سب مجھے دیکھنے لگے پر سامنے علی کو دیکھ کر کسی نے کچھ نہیں کیا میرے اس طرح کرنے سے وہ تھوڑا ٹھنڈا ہو گیا علی میں کیسے مان لوں کہ تم مجھے میرا بھائی لا دو گے میں دو دن صرف دو دن میں تمہارا بھائی تمہارے پاس ہو گا علی اگر تم نے مجھے میرا بھائی لا دیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ساری زندگی تمہاری غلامی کرنے کو تیار ہوں اور اگر تم نے کوئی گیم کھیلنے کی کوشش کی تو میں ٹھیک پھر بیشک تم مجھے مار دینا ٹھیک اس نے مجھے ایک کاغذ پر ایک نمبر لکھ کر دیا علی یہ میرا ذاتی نمبر ہے جس کا پتہ صرف چند لوگوں کو ہے مجھے اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہو میں نے اسے سے وہ نمبر لیا اور باہر آ گیا اور اپنے گھر آ کر سو گیا اگلے دن صبح اٹھ کر تازہ ہو کر میں سوچنے لگا کہ اب کہہ تو دیا کہ دو دن میں کر لوں گا پر کروں کیسے یہی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عاطف آ گیا عاطف کیا ہوا کچھ پریشان ہو میں ہاں یار اسے کہہ تو دیا کہ دو دن میں اسے اس کا بھائی مل جائے گا پر کیسے سمجھ نہیں آ رہی عاطف سادہ ہے اس کے پاس جو دو لوگ ہیں ان کو مار کر آزاد کروا لو اور کیا میں اور تم کو لگتا ہے یہ آسان ہے وہاں صرف وہی دو ہوں گے اس بات کی کیا گارنٹی ہے جہاں تک میں نے عمران جو سمجھا ہے وہ اتنا پاگل نہیں ہے کہ صرف دو بندوں کے بھروسے اسے رکھا ہو ضرور اس دو نوں پر کسی کی نظر ہو گی عاطف ہاں یار یہ ہو سکتا ہے میں چل آج ایک گیم کھیلتے ہیں عاطف تو پاگل ہے کیا علی کے بھائی کو آزاد کروانے کے بجائے تجھے گیم کھیلنی ہے میں ابے سن تو سہی آج کے دن ہم اس گھر پر نظر رکھتے ہیں کسی کو پتہ چلے بغیر دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے عاطف چل پھر کب چلنا ہے میں بس دس منٹ میں نکلتے ہیں اس کے بعد میں عاطف کے ساتھ اس علاقے میں آ گیا جہاں علی کا گھر تھا پاس ہی ایک چائے کی دکان تھی میں اس دکان کے پر جا کر بیٹھ گیا لڑکا کیا دوں بھائی میں بھائی ایک کپ چائے پلا دو میں علی کے گھر کو ہی دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی آس پاس بھی نظر تھی کہ کوئی ایسا مجھے دیکھ جائے شاید جو اس گھر پر نظر رکھتا ہو دکان والے نے مجھے چائے لا کر دی چائے پینے کے بعد میں وہیں بیٹھا رہا کافی دیر کسی نے کچھ نہیں کہا لڑکا کیا بات ہے بھائی کوئی مسئلہ ہے کیا میں ارے نہیں بھائی کوئی مسئلہ نہیں ہے لڑکا کافی دیر سے بیٹھے ہو کوئی تو وجہ ہو گی میں جی بھائی وہ میں اس شہر میں نیا ہوں اور مجھے میرے دوست نے یہاں ملنے کے لیے بلایا تھا اسی کا انتظار کر رہا ہوں لڑکا اچھا اچھا مجھے لگا تم بھی میں میں بھی کیا لڑکا بھائی سامنے جو گھر دیکھ رہے ہو میں ہاں لڑکا اس گھر میں دو لوگ رہتے ہیں پر ہمیشہ ایک ہی باہر آتا ہے اور دوسرا اندر رہتا ہے جب دوسرا باہر آتا ہے تو پہلے والا اندر ہی رہتا ہے اور اس کے ساتھ والے گھر کی چھت پر ہمیشہ ایک آدمی بار بار آ کر اس گھر کی طرف دیکھتا ہے مجھے لگا تم بھی انہی میں سے ہو میں اچھا پر اس سے میرا کیا لینا دینا میں ان میں سے نہیں لڑکا اکثر وہ چھت والا آدمی آ کر مجھ سے پوچھتا ہے کہ کوئی آیا تو نہیں یا کسی نے اس گھر کے بارے میں پوچھا تو نہیں میں ارے نہیں بھائی مجھے کسی سے کیا لینا دینا میں تو اپنے کام سے آیا ہوں اگر آپ کو پریشانی ہو رہی ہے تو میں چلا جاتا ہوں لڑکا ارے نہیں بھائی مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے میں تو بس ایسے ہی میں اچھا ٹھیک ہے مہربانی ایک کپ چائے اور پلا دو مزیدار سی لڑکا ابھی لو بھائی اس کے بعد میں کافی دیر وہاں بیٹھا رہا مجھے وہ چھت والا آدمی بھی دکھایا میں نے سب کچھ نوٹ کیا کہ کب کون کس وقت کیا کرتا ہے مجھے ان کی ٹائمنگ اور روٹین پتہ چل گئی اب مجھے وہاں سے نکلنا تھا اور میں خود کو کسی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا اسی لیے جیب سے موبائل نکال کر کان پر لگا دیا یہاں آتے وقت نیا موبائل لے لیا تھا اور بات کرنے لگا میں ہاں بھائی کہاں ہے کب سے تیرا انتظار کر رہا ہوں اچھا آج نہیں آؤ گے چلو میں پھر بعد میں ملتا ہوں یہ سب ڈرامہ کر کے چائے والے کو پیسے دے کر وہاں سے نکل گیا

اگلے دن اب مجھے ایکشن کرنا تھا پر شروع کہاں سے کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عاطف آ گیا عاطف کیا سوچ رہا ہے میں تم کچھ مدد کر سکتے ہو عاطف کس معاملے میں میں وہ تین لوگ جو اس گھر پر نظر رکھتے ہیں عاطف معافی میں جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی میں ٹھیک میں کچھ کرتا ہوں بس آج کا ہی دن ہے میرے پاس عاطف اب کیا کرو گے میں کچھ تو کروں گا ہی ابھی پہلے اس چھت والے کو ٹھکانے لگانا ہو گا اس کے بعد ہی کچھ ہو سکتا ہے اس کے بعد میں اور عاطف وہاں سے نکل پڑے علی کے گھر وہاں جا کر میں نے غور سے دیکھا تو اس چھت کے قریب ہی ایک اور بلڈنگ تھی اور اس کی چھت بھی اس کے ساتھ تھی مطلب ایک بلڈنگ سے دوسری پر آرام سے جا سکتے تھے میں اس دوسری بلڈنگ کے اندر آ گیا اس وہاں سے چپکے اس کے ساتھ والی پر آ گیا جب وہاں دیکھا تو وہاں دو لوگ تھے میں چپکے ان کی بات سننے لگا دوسرا آدمی ان دونوں میں سے ایک تھا جو گھر کے اندر رہتے تھے چھت والا یار اور کتنا اس کا خیال رکھنا ہے گھر والا بس آج رات تک کل صبح ہوتے ہی اس کا کام ختم باس نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے چھت والا چلو ٹھیک ہے جان چھٹے گی اس حرام سے گھر والا ہاں یار میں خود پریشان ہو گیا ہوں اس سے چھت والا ویسے تو اب جا کہاں رہا تھا گھر والا کھانا لینے اس کی زندگی کا آخری کھانا یہ سب بات کر کے وہ دونوں ہنسنے لگے وہ اپنی ہی مستی میں تھے مجھے یہی وقت ٹھیک لگا وہ کچھ سمجھ پاتے اس سے پہلے میں نے اس پر حملہ کر دیا اور سب سے پہلے اس آدمی کی گردن پر لات ماری جو اوپر سے حفاظت کرتا تھا کیونکہ اس کے پاس بندوق تھی اگر وہ پہلے نہ گرتا تو کچھ بھی ہو سکتا تھا میری لات لگتے ہی وہ گر گیا اور میں نے فوراً ہی دوسرے کو بھی مکا مارا اس کی ناک ٹوٹ گئی اور وہ بھی گر گیا تب تک پہلے والا اٹھ چکا تھا اور اس نے بندوق نکال لی تھی پر اس کے فائر کرنے سے پہلے ہی میں نے اس کے ہاتھ پر ماری بندوق اس کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گری اب وہ دونوں سنبھل چکے تھے اب ہماری فائٹ شروع ہو چکی تھی کبھی وہ مجھ پر بھاری پڑتے کبھی میں ان پر بہت مشکل سے ایک کی گردن کے پیچھے میں نے وار کیا جس سے وہ بے ہوش ہو گیا اسی طرح دوسرے کو بھی میں نے بے ہوش کر دیا اور وہیں بیٹھ کر اپنی سانسیں بھالنے لگا کہ عاطف نے کہا عاطف یار ان دونوں کو ختم کر دے میں ویسے سوچ میں بھی یہی رہا ہوں عاطف ہاں یار یہ نہ ہو کہ ان کو ہوش آ جائے اور یہ مزید مسئلہ کریں میں ہاں اسی لیے میں بھی سوچ رہا ہوں کہ ان کو ختم کر دوں ویسے بھی یہ مجرم ہی ہوں گے جو برے کام ہی کرتے ہیں پھر میں نے ان دونوں کی گردن توڑ دی اور وہاں سے نیچے آ گیا اب بس ایک ہی تھی جس کو ٹھکانے لگانا تھا وہاں سے نکل کر میں اس کی طرف چل پڑا گھر کے پیچھے تہ خانے تک آنے کے بعد میں نے وہاں کا دروازہ کھولا اور اندر آ گیا اندر دو کمرے تھے اب مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اسی لیے میں وہاں دروازے پر کان لگا کر سننے لگا شاید کچھ پتہ چل جائے اندر سے مجھے کسی کی آواز آئی میں نے دروازے پر دستک دی اور وہیں ایک پلر کے پیچھے چھپ گیا اور اس کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا جب اس نے باہر آ کر دیکھا تو اسے کوئی نظر نہ آیا وہ پھر سے اندر چلا گیا کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے پھر اسی طرح کیا اب جب وہ باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں بندوق تھی اور وہ چپکے دیکھنے لگا کہ کون ہے جب وہ پلر کے پاس آیا تو میں نے پیچھے سے اسے پکڑ کر جلدی سے اس کی گردن موڑ دی جس سے وہ وہیں مر گیا اب میرا راستہ صاف تھا پھر بھی مجھے جلدی کرنا تھا کوئی بھی یہاں آ سکتا تھا جب میں اندر گیا تو ایک لڑکا کرسی کے ساتھ باندھا ہوا تھا مجھے دیکھتے ہی لڑکا پلیز مجھے مت مارو دیکھو میں کچھ نہیں کروں گا پلیز مجھے چھوڑ دو میں کوئی شور بھی نہیں کروں گا اس کی باتوں سے مجھے لگا کہ وہ دماغی مریض ہے وہ دیکھنے میں سولہ یا سترہ کا لگ رہا تھا پر اس کا دماغ کسی پانچ سال کے بچے جتنا ہی تھا میں چپ ہو جاؤ میں تم کو کچھ نہیں کروں گا لڑکا سچ میں آپ مجھے کچھ نہیں کرو گے میں نہیں میں تو تم کو لینے آیا ہوں لڑکا آپ بہت اچھے انکل ہو آپ مجھے میرے بھائی کے پاس لے چلو نا دیکھو یہ لوگ مجھے بہت مارتے ہیں میں ہاں بیٹا چلو میں آپ کو آپ کے بھائی کے پاس لے چلتا ہوں اب آپ بالکل بھی نہیں بولنا ٹھیک اسے وہاں سے لے کر میں باہر آ گیا چپکے سے ایک ٹیکسی کی اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑا راستے میں ہی میں نے علی کو کال کی علی ہیلو کون میں کاشف علی ہاں بولو کس لیے فون کیا ہے میں تمہارا کام ہو گیا ہے علی خوشی سے کیا سچ میں میں بولو کہاں ملنا ہے علی تم فلاں آ جاؤ میں نہیں تم ایک کام کرو اپنی ٹیم کے ساتھ میرے پاس آ جاؤ میں پتہ تم کو میسج کر دیتا ہوں علی کیوں تم میرے پاس آ جاؤ میں تم میرے پاس آؤ پھر بتاتا ہوں ابھی وقت نہیں ہے میں نے اس کی بات سنے بغیر ہی کال ختم کر دی اور اسے اپنے گھر کا پتہ میسج کر دیا

تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی وہ آ گیا اس کے ساتھ چار اور لوگ تھے جن میں تین لڑکے اور ایک لڑکی تھی علی کہاں ہے وہ میں نے اسے اندر کمرے کی طرف اشارہ کر دیا وہ جلدی سے اندر بھاگ گیا ہم سب بھی اس کے پیچھے گئے اندر وہ دونوں گلے ملے ہوئے تھے اور علی کی آنکھ میں آنسو تھے لڑکا مجھ دیکھ کر بھائی یہ انکل نا بہت اچھے ہیں انہوں نے مجھے بچایا علی نے مجھے گلے لگایا اور شکریہ کہا میں نے اسے بتایا کہ میں نے اس کا بھائی کیسے بچایا اور اب مجھے اس کی ٹیم چاہیے علی نے وعدہ پورا کیا اور اپنی پوری ٹیم میرے ساتھ لگا دی

اس کے بعد کہانی آگے بڑھتی رہی کاشف نے اپنی طاقتوں اور ٹیم کی مدد سے دشمنوں کا خاتمہ کیا خاندان کے ساتھ صلح ہوئی شادی ہوئی اولاد ہوئی اور آخر میں سب خوشی خوشی رہنے لگے

ختم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *