?>



مرتا ہوا اپنی منزل کے قریب تھا اور ادھر راحیلہ کی سانسیں بھی اکھڑنا شروع ہو گئی تھیں۔ میں نے یک دم اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے زور زور سے دھکے مارے۔ دس بارہ دھکوں میں ہی راحیلہ کی ٹانگیں اکڑ گئیں اور اس نے مجھے باہوں میں بھر لیا۔ اس کی پھوڈی اندر سے بار بار سکڑ کر میرے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ بالکل شانت ہو گئی مگر میرے دھکوں میں آہستہ آہستہ وحشی پن اتر رہا تھا اور اس کی سسکریاں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔ اور پھر دو منٹ بعد میں نے بھی اس کی پھوڈی کو سیراب کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد میری سانسیں ٹھیک ہوئیں اور میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ تمام منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا کہ کیسے میں اس نشے کا عادی ہوا اور آج میں خاندان کی کئی لڑکیوں کو اپنے نیچے لٹا چکا تھا۔

بات آج سے دس سال پہلے کی ہے جب میں اٹھارہ سال کا تھا اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔ تب تک میں ایک شریف سا لڑکا تھا جسے اپنے کام سے کام تھا۔ لیکن پھر ایک دن ایسا واقعہ ہوا جس سے میری زندگی کا پانسہ پلٹ گیا۔

میرا نام تیمور ہے اور میری عمر ستائیس سال ہے۔ میرے ابو سعودی عرب میں ہوتے ہیں جہاں ان کا سٹور ہے اور اچھی خاصی آمدن ہے۔ میری امی نصرت پڑھی لکھی خاتون ہیں لیکن فیملی اور پیسے کی فراوانی کی وجہ سے انہیں کبھی کام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ میں لاہور کے ایک محلے میں رہتا ہوں جہاں سائیڈ پر میرے تایا ابو کا گھر ہے جبکہ دوسری سائیڈ پر گلی ہے۔ ہمارے مکان کے پیچھے خالہ کا گھر ہے اور سائیڈ پر ایک چچا اکرم صاحب رہتے ہیں جو کہ دادا ابو کے بہت دوست ہیں۔ دادا ابو بڑے تایا ابو کے گھر رہتے ہیں اکثر جبکہ دوسرے تایا ابو اسلام آباد شفٹ ہو گئے ہیں۔

بات آج سے گیارہ سال پہلے کی ہے جب میں نیا نیا جنسی دنیا سے واقف ہوا تھا۔ کالج میں دوستوں کے ساتھ رہ کے مجھے کافی باتوں کا پتہ چل چکا تھا اور میں بہت سی فحش ویڈیوز بھی دیکھ چکا تھا۔ اس کے علاوہ میرا ایک دوست تھا شانی جو کہ گاؤں سے آتا تھا اور اس نے مجھے جنسی تعلق کے بارے میں کافی کچھ بتایا تھا۔ میں اس کی باتوں کو بڑے دھیان سے سنتا تھا۔ پھر اس کی ایک گندی عادت تھی کہ وہ اکثر میرا لنڈ پکڑ لیتا تھا اور کبھی کبھی مجھے پیچھے سے پکڑ کے اپنا لنڈ میرے ساتھ لگا دیتا تھا۔ میں نے اسے کئی دفعہ سمجھایا مگر وہ ہمیشہ یہ کہہ کے ہنس دیتا کہ یار تیرا کیا جاتا ہے غریب کا کام ہو جائے گا تھوڑی دیر ساتھ لگنے دے۔ اس کے علاوہ وہ اکثر مجھے کہتا تھا کہ تیرا لنڈ کافی تگڑا ہے اگر تو میرا لایا ہوا تیل اس پر لگائے تو ہر لڑکی تیرے ساتھ سونے کو تیار ہو جائے گی پر میں اکثر اس کی بات ہنس کے ٹال دیتا تھا۔ وہ کبھی کبھی اپنا موبائل بھی لاتا تھا جو کہ اس کے بڑے بھائی کا تھا اور پھر ہم مل کر فحش ویڈیوز دیکھتے تھے۔ فحش ویڈیوز دیکھ کر میرا دماغ اگلے دو دن تک خراب ہو جاتا تھا اور جب تک میں دو دفعہ خود ارضائی نہ کر لیتا میرا جسم گرم رہتا تھا۔

زندگی ایسے ہی چل رہی تھی اور میں میٹرک کے امتحان سے فارغ ہو کے آوارہ گردی میں مصروف تھا۔ میں سارا دن اپنے مکان کے اوپر پتنگ اڑاتا رہتا تھا۔ اکثر میں تایا لوگوں کی چھت پر چلا جاتا جو کہ ہمارے مکان کے ساتھ جڑی تھی اور ذرا زیادہ بڑی تھی اور میں وہاں زیادہ آسانی سے پتنگ اڑا سکتا تھا۔ ایسے ہی ایک دن میری پتنگ کٹ گئی اور میں اداس ہوتے ہوئے اپنی ڈور لپیٹنے لگا تبھی مجھے چچا اکرم تایا کے گھر میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔ میں انہیں دیکھ کے چھت پر سائیڈ پر ہو گیا کیونکہ وہ اکثر پتنگ اڑانے پر ڈانٹتے تھے۔ تبھی میری بڑی کزن اقراء بیگ پکڑ کے باہر کو جاتی ہوئی نظر آئیں اور ان کے پیچھے دادا ابو بھی تھے جو کہ انہیں اکیڈمی چھوڑنے جا رہے تھے۔ دادا ابو نے چچا صاحب کو کہا کہ آپ کچھ دیر بیٹھک میں بیٹھو میں اقراء کو اکیڈمی چھوڑ کے آیا۔ چچا نے ہاں میں سر ہلایا اور اندر بیٹھک کی طرف چل دیے۔ تبھی تائی جن کا نام شبانہ تھا پانی لے کر چچا صاحب کے پاس گئیں۔ میں چپکے سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور میں ایسے بیٹھا تھا کہ مجھے بیٹھک میں سب کچھ نظر آ رہا تھا کیونکہ اندر شاید لائٹ جلی ہوئی تھی۔ میں اب سکون سے اٹھ کے گھر جانا چاہتا تھا کہ تبھی چچا صاحب نے ایسی حرکت کی جس نے میرے قدم جا کر لیے اور یہ وہ وقت تھا جس نے میری آنے والی زندگی کو بدل دیا۔

میں نے ابھی اٹھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ چچا نے شبانہ کا ہاتھ پکڑ کے اسے گود میں بٹھا لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ شبانہ پہلے تو کسمسائی لیکن پھر مجھے حیرت کا جھٹکا تب لگا جب اس نے اپنے ہاتھ چچا کے ارد گرد باندھ لیے اور اس کی چوم کا بھرپور ساتھ دینے لگی۔ چچا نے اسی دوران ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھا اور اسے زور سے دبا دیا۔ شبانہ کو شاید اس سے کافی درد ہوئی تھی کیونکہ اس نے چوم چھوڑ کے برا سا منہ بنایا تھا۔ میں چونکہ کافی دور بیٹھا اس لیے ان کی باتیں نہیں سن سکتا تھا لیکن اب وہ ہلکے ہلکے چچا کی گود میں بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی اور چچا کے ہاتھ اس کے جسم سے کھیل رہے تھے۔ میں آہستہ آہستہ چھت سے نیچے اترا اور دھیمے قدموں سے ان کے کمرے کے پیچھے لگی کھڑکی پاس چلا گیا۔ اب جو میں نے دیکھا تو میرا حیرت سے منہ کھل گیا کیونکہ چچا نے شبانہ کا ایک ماما باہر نکالا ہوا تھا اور وہ اسے زور سے چوس رہا تھا جبکہ شبانہ نے اس کا لنڈ ہاتھ میں لے رکھا تھا۔ میں حیران تھا کہ تائی اپنے سے پندرہ بیس سال بڑے آدمی سے کیسے چپکی ہوئی ہے۔ تبھی چچا نے شبانہ سے کہا بہت دن ہو گئے ہیں اب میرے سے نہیں رہا جاتا۔ میں رات بھر جم کے تجھے چودنا چاہتا ہوں۔ شبانہ نے آگے سے ادا سے ہنس کے کہا کیوں ایسا کیا ہے جو رہا نہیں چاہتا۔ چچا نے شلوار کے اوپر اس کی پھوڈی پر ہاتھ رکھا اور زور سے مٹھی بند کی۔ شبانہ کی سسکاری نکل کے پورے کمرے میں گونج گئی۔ اس نے چچا کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں کس لیے اور لمبی سی چوم کرنے کے بعد بولی کل کے میرے ماہواری ختم ہو گئے ہیں اور تین دن سے نظیر کی بھی رات کی شفٹ ہے۔ چچا یہ سن کر بولا شکر ہے اس گندے نے بھی تمہاری جان چھوڑی۔ شبانہ اس بات پر ہنس دی جبکہ مجھے جھٹکے پر جھٹکا لگ رہا تھا کہ کیسے وہ اپنے شوہر کی بے عزتی پر خوش ہو رہی ہے۔ شبانہ نے چچا کی گود سے اٹھتے ہوئے کہا اچھا نظیر کے آنے کا ٹائم ہو گیا ہے وہ رات کی شفٹ کر کے واپس آ رہے ہیں سو ابھی مجھے جانے دو رات کو میں گھر کا دروازہ کھلا رکھوں گی تم آ جانا پھر ساری رات مزے کریں گے۔ چچا نے جب دیکھا کہ شبانہ کمرے سے جانے کے موڈ میں ہے اس نے پیچھے سے اسے باہوں میں جکڑ لیا اور اپنا لنڈ اس کی گانڈ کی درار میں پھنسا دیا۔ شبانہ نے بھی پیچھے کو ہو کے اس کے لنڈ کا استقبال کیا اور ساتھ ہی بولی تم سے صبر نہیں ہوتا نا ابھی کوئی آ گیا تو۔ چچا یہ سن کے بولا تم چیز ایسی ہو کہ کسی کو صبر کیسے آئے۔ اور دوستو وہ کہہ بھی سہی رہا تھا شبانہ کے چھتیس سائز کے مامے پوری شان سے اکڑے ہوئے تھے جو کہ بیالیس سال گزرنے کے بعد بھی پوری اکڑ کے ساتھ سر اٹھا کے کھڑے تھے اور اس کا جسم بھی کافی کسا ہوا تھا اور اوپر سے اس کی گانڈ بھی کافی باہر کو نکلی تھی۔ ادھر چچا کا لنڈ شبانہ کی رانوں میں مزے کر رہا تھا اور ادھر میرا لنڈ ٹراؤزر میں خیمہ بنا کے کھڑا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ ابھی جاؤں اور شبانہ کی شلوار اتار کے اس کی گہرائیوں میں اپنا لنڈ ڈال دوں۔ آج میرا تائی کو دیکھنے کا زاویہ بدل گیا تھا۔ ابھی وہ لوگ ساتھ جڑے ہوئے مزے لے رہے تھے کہ باہر ہارن کی آواز آئی۔ آواز سن کے وہ دونوں ہڑبڑا گئے اور شبانہ نے جلدی سے اپنے آپ کو سنبھالا اور باہر گیٹ کی طرف بھاگ گئی۔ جبکہ چچا اور میں دونوں اپنے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑتے رہ گئے۔ باہر تایا نظیر آئے تھے اور وہ آتے ہوئے راستے میں دادا جی کو بھی ساتھ لے آئے تھے۔ شبانہ نے دروازہ کھولا جبکہ میں وہیں کھڑکی کے پیچھے بیٹھ گیا اور سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کروں ابھی ویٹ کروں یا اپنے گھر نکل جاؤں۔ تبھی تایا نظیر نے اپنی بائیک اندر لگائی تو ان کی نظر میرے پر پڑی انہوں نے مجھے بلایا اور پوچھا تم یہاں کیا کر رہے ہو۔ میرے سے کچھ جواب نہ بنا۔ اسی دوران شبانہ اندر سے پانی کا گلاس لے کر آئی تو مجھے دیکھ کے بولی تم کب آئے۔ تایا بولے کہ یہ تو یہی پر تھا جب میں آیا۔ شبانہ یہ سن کے تھوڑا گھبرا گئی پر اس نے بات سنبھالتے ہوئے بولا پتہ نہیں میں تو اندر روٹی بنا رہی تھی۔ میں نے دل میں سوچا کہ سالی تو تو اندر لنڈ لے کے پورا جوسر چلانے کے چکر میں تھی اور اب جھوٹ بول رہی ہے۔ تبھی میں بولا تایا جی میں ابھی آیا ہوں اور یہ کہتے ہوئے میں نے اندر جھانکا اور چچا صاحب کی طرف دیکھا جو اندر دادا ابو کے پاس بیٹھ کے بات کر رہے تھے۔ شبانہ کی نظروں نے میری نظروں کا پیچھا کیا اور پھر جب ہماری نظریں ملیں تو میں ہلکے سے مسکرا دیا۔ اب تو شبانہ کی رہ پھٹ گئی اور یہی میں چاہتا تھا کیونکہ اس کے دودھ اور سب دیکھ کے میری نیت بدل گئی تھی اور میں جو چاہتا تھا وہ اسی صورت ممکن تھا جب تائی فل میرے کنٹرول میں ہو۔ سب سوچتے ہوئے میرے ہونٹوں پر کمینی مسکراہٹ آ گئی اور میں چپکے سے تایا ابو کو بتا کے گھر آ گیا۔

گھر آیا تو صدف جو کہ میری خالہ کی بڑی بیٹی تھی اور میرے سے پانچ سال بڑی تھی وہ امی سے بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ میں چپکے سے واش روم میں گھسا اور خود ارضائی کر کے اپنے آپ کو شانت کرنے لگا۔ ابھی میں لنڈ کو ہلا ہی رہا تھا کہ میری نظر واش روم میں پڑے برا پر پڑی اور میں نے کچھ سوچتے ہوئے اسے لنڈ پر رکھا اور اپنا نلکا چلا دیا۔ میں نے واپس برا کو رکھا اور خود کو صاف کرنے کے بعد نڈھال قدموں سے چلتا ہوا اپنے روم میں آیا اور بستر پر گرتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔ میں کافی دیر بعد سو کے اٹھا تو دیکھا کہ شام ہونے والی تھی اور میں پانچ چھ گھنٹے سوتا رہا تھا۔ میں اٹھ کے فریش ہوا اور صحن میں بیٹھ کے امی سے باتیں کرنے لگا۔ اسی دوران صدف مجھے گھور گھور کے دیکھ رہی تھی۔

دوستو یہاں بتاتا چلو کہ صدف ہمارے گھر میں ہی رہتی ہے اور امی کے ساتھ ان کے روم میں سوتی ہے جبکہ میں اپنے روم میں ہوتا ہوں۔ میری خالہ کی دو بیٹیاں ہیں ایک صدف اور ایک ایرم۔ صدف میرے سے پانچ سال بڑی ہے جبکہ ایرم میرے جتنی ہے جبکہ ان کا بھائی عاصم میرے سے تین سال بڑا ہے۔

اسی دوران مجھے صدف کا گھورنا کھٹکا تو لیکن میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں آئی جو کہ اس رویے کی وجہ بن رہی ہو۔ امی سے تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد میں اٹھ کے باہر گراؤنڈ میں چلا گیا لیکن اسی دوران میرے ذہن میں شبانہ کا سراپا گھومتا رہا۔ میں پلان کرنے لگا کہ کیسے آج ان کو دیکھا جائے۔ تھوڑا سوچنے کے بعد میں نے ایک بات فائنل کی کہ آج رات جب امی اور صدف سو جائیں تو میں چپکے سے چھت کے راستے ان کے گھر چلا جاؤں گا۔ یہی سوچتے ہوئے میرے لنڈ نے سر اٹھانا شروع کر دیا اور میں اسے رانوں میں دباتا ہوا گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر جا کے میں نے کھانا کھایا تو امی بولی کہ صدف ساتھ جاؤ اور چھت سے کپڑے اتار لاؤ۔ میں نے ہاتھ دھوئے اور صدف ساتھ چھت پر آ کے کپڑے سمیٹنے لگا۔ تبھی میری نظر برا پر پڑی جس کو صدف اتار کے اپنے کپڑوں میں رکھ رہی تھی۔ میرے ذہن میں جھٹکا ہوا کہ یہ برا اس کی ہے اور اسی لیے یہ مجھے گھور گھور کے دیکھ رہی تھی۔ میں برا پر نظریں جمائے کھڑا تھا کہ تبھی میری نظر صدف پر پڑی اور وہ مجھے برا کی طرف دیکھتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ اس نے غصے سے میری طرف دیکھا اور بولی تمہیں اپنے گندے ذہن سے فرصت مل گئی ہو تو کپڑے لے کر نیچے چلو۔ میں یہ بات سن کے شرمندہ ہو گیا اور معافی کہتا ہوا ان کے پیچھے کپڑے لے کر چل پڑا۔ صدف میرے آگے گانڈ مٹکا مٹکا کے چل رہی تھی اور میرا دل کر رہا تھا اس کی گانڈ پر زور سے تھپڑ ماروں اور اپنا لنڈ نکال کے ان رانوں میں قید کر دوں۔ اب میرا ہر لڑکی کو دیکھنے کا نظریہ بدل چکا تھا۔ مجھے ہر کسی میں ایک عورت نظر آ رہی تھی۔ ایک عورت جس کے پاس مامے، گانڈ اور پھوڈی ہے اور جس سے میری پیاس مٹ سکتی ہے یا حقیقت میں بڑھ سکتی ہے۔

میں اس کی مٹکتی گانڈ کو گھور کر چل رہا تھا کہ وہ پیچھے مڑی اور میری نظروں کے دیکھ کے بولی تیمور تم کچھ زیادہ ہی بڑے نہیں ہو گئے۔ میں نے نہ سمجھی میں ہونقوں کی طرح سر ہلا دیا۔ تبھی میری نظر نیچے ٹراؤزر پر پڑی جہاں خیمہ بنا ہوا تھا۔ صدف بڑے غور سے اس طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے نظریں جھکا کے کپڑے وہیں ٹیبل پر رکھے اور اپنے روم میں بھاگ گیا۔

کمرے میں جا کے میں نے سوچا کہ میں یہ کیا کر رہا ہوں۔ مجھے شبانہ پر بھی غصہ آ رہا تھا جس نے مجھے اس کام کی طرف لگایا تھا۔ ایسے ہی میں بیٹھا نہ جانے کتنی دیر تک ان باتوں کو سوچتا رہا کہ تبھی امی کی آواز آئی کہ دروازے بند کر دینا ہم اپنے روم میں جا رہے ہیں۔ میں نے اچھا کہا اور روز کی طرح گیٹ کو لاک کرنے لگ پڑا۔ اب مجھے ان دونوں کے سونے کا انتظار تھا۔ میں جلدی سے اڑ کر تائی کے کمرے کے پیچھے پہنچنا چاہتا تھا۔ میں نے کچھ دیر ویٹ کیا اور پھر ہلکے ہلکے سیڑھیاں چڑھ کے ان کی چھت پر پہنچ گیا۔ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ رات کے ساڑھے دس ہوئے تھے اور ہر طرف خاموشی سی تھی۔ میں ہولے سے ان کے گھر میں اترا اور پیچھے گلی سے ہوتا ہوا ان کے کمرے کے پیچھے آ گیا اور کھڑکی کے سائیڈ سے دیکھنے لگا۔ اب جو میں نے اندر دیکھا تو میرا سانس جہاں تھا وہیں تھم گیا۔

میں نے جیسے کھڑکی سے اوپر دیکھا تو اندر اکرم بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس دادا جی سلطان بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو اکرم کے ساتھ بیٹھا دیکھ کے میں حیران ہو گیا۔ تبھی دروازہ کھلا اور شبانہ اندر چائے لے کر آئی۔ اس کو دیکھ کے تو میں حیران رہ گیا۔ اس نے اتنی ٹائٹ قمیض پہن رکھی تھی کہ اس کے جسم کا انگ انگ دکھ رہا تھا۔ تبھی انہوں نے کپ ٹیبل پر رکھے اور جیسے ہی مڑنے لگی تو اکرم نے آگے بڑھ کے اسے سوفے پر اپنے اور سلطان کے درمیان گرا لیا۔ یہ دیکھ کے تو مجھے حیرت کا جھٹکا لگا کہ کیا دادا بھی اپنی بہو کے ساتھ جنسی تعلق کرتے ہیں اور وہ بھی کسی غیر کی موجودگی میں۔ اور یہ سب پتہ نہیں کب سے چل رہا تھا۔ میرا لنڈ ٹراؤزر میں اکڑ چکا تھا۔ تبھی شبانہ بولی صبر بھی کرو ابھی باہر سارے دروازے کھلے ہیں اور اقراء بھی ابھی لیٹی ہے۔ اکرم نے اپنے لنڈ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جان اس کو تو صبر نہیں آتا نا کتنے دن ہوئے ہیں اس نے اپنی پیاس نہیں بجھائی۔ ادھر سلطان نے بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کے شبانہ کے ماموں پر رکھ دیا اور بولا دیکھ اس کو بھی کتنی آگ لگی ہے ابھی سے اس کا سارا جسم تاپا ہوا ہے۔ اکرم بولا ہاں تو اس سالی رنڈی کو بھی لنڈ لیے ہوئے کافی دن ہو گئے ہیں۔ پتہ نہیں اس نے کہاں کہاں یار بنا رکھے ہیں ورنہ جتنی یہ چودائی کی شوقین ہے یہ لنڈ بغیر تو نہیں رہ سکتی۔ شبانہ نے یہ سن کر برا منہ بنایا اور بولی جتنی بڑی آپ کی وہ گشتی ہے نا اس سے بڑا کوئی اور نہیں ہو سکتا یہ سن کر اکرم ہنس پڑا اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کس کی بات کر رہی ہے۔ تبھی اکرم نے جلدی جلدی چائے پی لی اور شبانہ کو بولا اب صبر نہیں ہوتا۔ دروازہ بند کرو اور جلدی سے آ جاؤ۔ شبانہ بھی مسکرا دی پر آگے سے بولی اگر نہ کرو تو۔ اکرم خود اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور سارا کچھ بند کرنے کے بعد اس نے روم کا دروازہ بند کیا اور آ کے شبانہ کو پکڑ کے سوفے پر لٹا دیا اور قمیض کے اوپر سے ہی اس کے مامے دبانا شروع کر دیے۔ ادھر دادا جی نے بھی اپنی دھوتی اتار دی اور اپنا لنڈ لے کر شبانہ کے منہ پر پھیرنے لگے۔ ان کا لنڈ کوئی چھ انچ کا تھا اور اس عمر میں بھی اچھا خاصا تنا ہوا تھا۔ انہوں نے آہستہ سے شبانہ کے ہونٹ کھولے اور اس میں اپنا لنڈ رکھ دیا اور اندر باہر کرنے لگے جبکہ دوسری سائیڈ پر چچا نے شبانہ کی قمیض گلے تک کر دی۔ شبانہ نے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا اور اس کے دونوں خربوزے اچھل کر سامنے آ گئے۔ چچا نے انہیں باری باری منہ میں لے کر چوسنے لگ پڑا اور بولا شبانہ تیرا جسم تو روز بروز مزے کا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سن کر دادا بولے یہ ہے ہی سالی رنڈی مزے کی۔ جب میں نے آج سے پینتیس سال پہلے اس کی سیل توڑی تھی تبھی میں نے سوچ لیا تھا کہ ساری زندگی اس کی گرم چوتھ کا مزا لو گا۔ یہ سن کر میرے لنڈ نے جھٹکا کھایا کہ شبانہ کی سیل سلطان نے کھولی تھی۔ اصل میں شبانہ دادا کی بہن کی بیٹی تھی۔ تو مطلب یہ سلسلہ تب سے چل رہا ہے۔

میں اپنی سوچوں میں گم تھا اور ادھر اکرم نے شبانہ کی شلوار اتاری اور اپنا منہ اس کی چوتھ پر رکھ دیا۔ شبانہ کے جسم نے ایک جھرجھری لی۔ کیا سین تھا ایک طرف اس کی چوتھ میں اکرم کی زبان گھسی ہوئی تھی اور ادھر سلطان کا لنڈ اب اس کے گلے تک پہنچا ہوا تھا۔ تبھی چچا اکرم اٹھا اور اس نے اپنی شلوار اتاری اور اپنا لنڈ تائی کی چوتھ پر پھیرنا شروع کر دیا۔ شبانہ نے بھی ٹانگیں اٹھا کے اس کے لنڈ کا سواگت کیا۔ مگر چچا ابھی صرف اوپر سے کر کے شبانہ کو ستا رہا تھا جبکہ شبانہ نیچے جسم اکڑ اکڑ کے اس کے لنڈ پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ سلطان کا لنڈ اس کے منہ میں تھا اس لیے وہ کچھ بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ تبھی یک دم سلطان کا لنڈ اکڑ گیا اور اس نے شبانہ کے منہ میں ہی پچکاری مار دی۔ جیسے ہی دادا جی نے اپنا لنڈ منہ سے باہر نکالا شبانہ زور سے چلائی اکرم کتے خسرہ کیوں بنا ہوا ہے اپنے اس لنڈ کو اندر کیوں نہیں ڈالتا۔ اکرم نے جب یہ سنا تو اس نے ایک ہی دھکے میں سارا لنڈ تائی کی پھوڈی کی گہرائیوں میں اتار دیا اور شبانہ کے چہرے پر سکون کے آثار نظر آئے جیسے دیوانے کو اپنی محبوبہ مل گئی ہو۔ چچا نے دھکے لگانا جاری رکھا جبکہ تائی بھی اپنی کمر اٹھا کے اکرم کی تال کے ساتھ تال ملا رہی تھی۔ ادھر میرا سات انچ کا لنڈ فل عروج پر تھا اور میرا دل کر رہا تھا جا کے چچا کو سائیڈ کرو اور شبانہ کی پھوڈی میں لنڈ ڈال کے کہوں یہ ہے جوان لنڈ جس کی مالکہ تجھے اب بننا چاہیے۔ یہ جوان لنڈ ہی اب تیری اس پیاس کو جام بخش سکتا ہے۔ تبھی چچا نے بھی زور زور سے سانسیں لینا شروع کر دیں اور پھر اس نے اپنا پانی شبانہ کے پیٹ پر نکال دیا۔ تائی ابھی بھی نہیں جھری تھی۔ چچا نے جب دیکھا کہ تائی بھی منزل کے قریب ہے تو اس نے اپنی دو انگلیاں اس کی پھوڈی میں ڈالیں اور اسے زور سے رگڑنا شروع کر دیا۔ دو تین منٹ بعد شبانہ کی ٹانگیں بھی اکڑ گئیں اور باہر کھڑے میرے لنڈ نے بھی اس کی پھوڈی کو دیکھتے ہوئے پچکاری چھوڑ دی۔

فارغ ہونے کے بعد میری ٹانگوں میں جان ختم ہو گئی تھی مگر سامنے شبانہ کا کسا ہوا بدن مجھے جانے سے منع کر رہا تھا۔ تبھی دادا جی اٹھے اور انہوں نے شبانہ کو الٹا کیا اور اپنا منہ ان کی گانڈ پر رکھ دیا۔ شبانہ تھوڑی سی کسمسائی مگر خاموشی سے لیٹی رہی۔ شاید جھڑنے کے بعد اس کی ہمت ختم ہو گئی تھی۔ تبھی سلطان بولا کیوں آج ایک ہی راؤنڈ سے بس ہو گئی ہے۔ شبانہ نے اپنی بند آنکھیں کھولیں اور بولی تم دونوں نے مل کے مجھے پوری رنڈی بنا دیا ہے۔ اب جب تک میں دو تین راؤنڈ نہ لگا لو میرا دل نہیں بھرتا۔ یہ سن کر چچا ہنسا اور بولا تیرا بس چلے تو تو ہمیں نگل ہی جائے۔ تبھی شبانہ غصے سے بولی اور وہ کتیا جو تم نے رکھی ہے وہ کون سی کسی سے کم ہے پورے محلے کو پتہ ہے کہ وہ شیخ صاحب کے گھر کیوں جاتی ہے۔ چچا یہ سن کر بولا اگر وہ جاتی ہے تو اس کے گھر سے بھی کوئی ہمارے گھر آتا ہو گا نا۔ شبانہ یہ سن کر چونک گئی اور بولی تم لوگ کتنے کمینے ہو اب سچ سچ بتاؤ کیا سین ہے یہ سب۔ چچا ہنس کے بولا تجھے کہا تو ہے اس سب کھیل میں شامل ہو جا جس دن تو ان سب کے ساتھ ایک بستر پر چودے گی تو سب کہانی معلوم ہو جائے گی۔ اور تو کیسی رنڈی ہے دو دو مردوں کے ساتھ لیٹتے ہوئے نہیں ڈرتی پر عورت کے ساتھ تجھے ڈر لگتا ہے۔ شبانہ بولی مجھے اچھا نہیں لگتا اور میں۔ اس کی بات درمیان میں ہی رہ گئی کیونکہ سلطان نے اپنا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں اس کی گانڈ میں اتار دیا تھا۔ شبانہ بولی کتے کچھ لگا تو لینا تھا۔ دادا ابو ہنس کے بولے اتنی تو کھل گئی ہے ابھی بھی کچھ لگانے کی ضرورت ہے۔ شبانہ نے کچھ بولنے کی بجائے چچا کو پاس لگایا اور ہاتھ بڑھا کے اس کے لنڈ کی مٹھ مارنے لگی۔ میرا دل کر رہا تھا کہ جا کے دادا ابو کو دھکا دو اور اپنا موٹا لنڈ اس کی گانڈ میں اتار کے اتنے زور سے جھٹکے مارو کہ اس کی چیخیں سارے محلے میں سنائی دیں پر میں صرف ہاتھ میں پکڑتا باہر سے بس نظارہ کرتا رہا۔ کوئی آدھا گھنٹہ چچا اور سلطان نے باری لگائی اور شبانہ پھر ایک دفعہ جھر گئی اس کے بعد دادا اور چچا نے شبانہ کو اپنے درمیان لٹایا اور اٹھ کے لائٹ بھجا دی۔ شاید اب وہ صبح تک آرام کرنا چاہتے تھے۔ میں نے دل میں ان کو گالیاں دیں اور چپکے سے چلتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو مجھے لگا کہ مجھے کوئی ونڈو سے دیکھ رہا ہے۔ میں نے دوبارہ پورے گھر پر نظر دوڑائی پر مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ میں نے اسے اپنا وہم سمجھا اور اپنے کمرے میں آ گیا۔

میرے دماغ میں اندھیریاں چل رہی تھیں۔ آخر یہ چچا اور دادا کن کاموں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور چچا کے گھر میں کون ہے جو اس سارے کام میں مصروف ہے۔ چچا کا ایک ہی بیٹا تھا جو کہ باہر رہتا تھا جبکہ اس کی بیوی بیٹی اور ایک بہو یہاں گھر پر ان کے ساتھ ہوتی تھی۔ تو کیا چچا کی بیوی اس سب میں انوالوڈ ہے یا پھر اس کی بہو۔ پر وہ تو بڑی اچھی عورتیں تھیں اور میں نے ان کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سنا تھا جبکہ چچا کی بیٹی بھی مجھ سے دو سال بڑی تھی۔ میں یہی سب سوچتے ہوئے کب نیند میں چلا گیا مجھے پتہ نہ لگا۔

اگلے روز مجھے امی نے اٹھایا میں جلدی سے اٹھا اور تیار ہو کے کالج چلا گیا۔ میں کالج میں چپ چاپ مختلف باتوں کو سوچ رہا تھا کہ تبھی شانی میرے پاس آیا اور مجھے مکا مارتے ہوئے بولا ہاں لونڈے کہاں کھویا ہے۔ میں کچھ نہ بولا تو اس نے مجھے ایک اور لگائی اور کہا اب تیری کیوں گانڈ پھٹ رہی ہے کچھ بھونکے گا بھی یا نہیں۔ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور بولا بہن چود تو کیا اب بنا بات کے ہی بولتا رہوں۔ اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولا اب بتا کیا بات ہے۔ میں نے تنگ پڑتے ہوئے کہا کچھ نہیں۔ اس بات پر ایموشنل ہو گیا اور بولا ٹھیک ہے نا بتا میں ہی ہوں جو تجھے ہر بات بتا دیتا ہوں۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے اسے کہا شانی ایک بات ہے کسی کو بتائے گا تو نہیں۔ وہ بولا کتے تجھے ذرا بھی یقین نہیں ہے۔ میں ہنسا اور پھر اسے ساری بات بتا دی۔ میری بات سن کے وہ خوش ہوا اور بولا تیمور تیرے لنڈ کے افتتاح کا موقع آ گیا ہے۔ اب تجھے بس صحیح وقت پر یہ لنڈ شبانہ کی پھوڈی میں گھسیرنا ہے۔ میں نے اسے کہا پاگل ہے۔ اس نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے میرے لنڈ کو پکڑ لیا اور بولا یہ سات انچ کا راجا ابھی سے کھڑا ہو گیا اور تو ابھی مجھے پاگل کہہ رہا ہے۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولا آج کالج کے بعد ایک پنساری کے ہاں چلے گئے وہاں سے میں تجھے ایک تیل لے کر دوں گا۔ تو نے روز اس سے مالش کرنی ہے۔ اور کچھ دنوں میں یہ سانڈ جیسا لنڈ اتنا موٹا ہو جائے گا کہ جس کی تو ایک دفعہ لے گا وہ پھر تیرے لنڈ سے چودنے کے لیے پاگل ہو جائے گی۔ میں خوش ہو گیا اور اس کی طرف بولتے ہوئے بولا آج دوپہر کا کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ اس نے مجھے آنکھ ماری اور بولا رشوت دے رہا ہے۔ پھر ہم نے چھٹی کے بعد کھانا کھایا اور وہ تیل لینے چلے گئے۔ واپسی پر شانی نے مجھے بتایا کہ تجھے صبر سے کام لینا ہو گا اور دس پندرہ دن آرام آرام سے شبانہ کو اپروچ کر۔ جو اتنی چوتھ مروانے میں مشغول ہے وہ تجھے آسانی سے دے دے گی پر تجھے ایسے کرنا ہو گا۔ اس نے مجھے پورا پلان بتایا میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور اسے بائی کہتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ میں شبانہ کی پھوڈی سے اپنے لنڈ کا افتتاح کرنا چاہتا تھا پر شاید کوئی اور کالی تھی جس نے میرے ہاتھوں پھول بنانا تھا اور میں انجان تھا کہ وہی میرے لنڈ کا پہلا نشہ بنے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *